لکھنؤ کے مشہور کتھک رقص کرنے والے
لکھنؤ کے مشہور کتھک رقص کرنے والے
رقص کرنا انسانی فطرت میں داخل ہے۔ بچوں پر جب خاص جذبے خوشی، رنج غصہ وغیرہ طاری ہوتے ہیں تو ان سے بے اختیار خاص قسم کے حرکات سرزد ہوتے ہیں۔ صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور بھی خاص جذبات کے ماتحت عجیب قسم کے حرکات کرتے ہیں۔ چناں چہ مور کا ناچ تو مشہور ہے ہی ہاتھی باوجود اس قد جسیم ہونے کے رقص کرتا ہے۔
جب تک رقص بیش تر قدرتی حالت میں رہتا ہے اور اس میں ساز اور تعلیم و تہذیب کا زیادہ دخل نہیں ہوتا تو وہ Folk رقص کہلاتا ہے جس کو قدیمی رقص کہہ سکتے ہیں۔ سماج کی ترقی کے ساتھ فنونِ لطیفہ کی بھی ترقی ہوتی جاتی ہے۔ شاعری، مصوری، موسیقی، رقص سب پر ترقی کا اثر ہوتا ہے لیکن اس ترقی کے ساتھ تصنع کا دخل بھی زیادہ ہوتاجاتا ہے۔ رقص پر سازوں کی کثرت، لباس کی نفاست، میک اپ یعنی آراستگی کا زیادہ سے زیادہ اثر ہوتا جاتا ہے۔ ہندوستان چوں کہ دنیا کے قدیم ترین ملکوں میں سے ہے اس لئے رقص بھی بہت قدیم ہے لیکن یہاں آب و ہوا کا تنوع اور ماحول کا اختلاف اس قدر ہے کہ اکثر ہندوستان کو ایک براعظم تصور کیا جاتا ہے۔ چناں چہ اس ملک کے مختلف حصوں میں رقص نے مختلف طریقے سے ترقی کی۔ ترقی شدہ رقص کو کلاسیکی رقص کہتے ہیں۔ بنگال میں ٹیگور، شمالی ہندوستان میں اودے شنکر ایسے صاحبِ طرز ہیں کہ انہوں نے خاص اسکول قائم کر دئیے ہیں۔ آسام اور اس کے آس پاس منی پور کا رقص زیادہ مقبول ہے اور دکن میں کتھا کلی رقص کا رواج زیادہ ہے۔ مدارس اور اس کے آس پاس بھرت ناٹیم، بہت بلند پایہ رقص ہے۔ شمالی ہندوستان میں بالعموم اور اُتر پردیش اور راجستھان میں کتھک رقص خاص و عام کو کلاسیکی رقصوں میں سب سے زیادہ پسند ہے۔
کتھک رقص کے ماہر شمالی ہندوستان کی اکثر ریاستوں کے ساتھ وابستہ تھے لیکن بڑے بڑے شہروں میں آزادانہ طور پر بھی فن کار اپنے فنِ رقص کا مظاہرہ کرتے تھے۔ لکھنؤ مدت تک شاہانِ اودھ کا دارالسلطنت رہا۔ اودھ کے نواب اپنی رواداری کے سبب آج بھی ضرب المثال ہیں۔ ایسی صورت میں ہندو مسلم اتحاد لازمی تھا۔ اس اتحاد کا اثر زندگی کے ہر شعبے پر پڑا۔ رقص پر بھی اس کا اثر لازمی تھا۔ ایسی فضا میں کتھک رقص سب سے زیادہ پروان چڑھا۔
'ڈانس آف انڈیا' نامی کتاب میں پروجیش ہنر جی نے کتھک رقص کو ہندو اور مغل کاماجُلا رقص قرار دیا ہے۔ لکھنؤ کی فضا اس کے لئے ساز گار تھی۔ مالی خوش حالی اور نوابانِ اودھ کی فنونِ لطیفہ سے دل چسپی نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ چناں چہ کتھک رقص کے بہترین ماہر لکھنو میں گزرے۔ سلطانِ عالم واجد علی شاہ آخری تاجدارِ اودھ کا زمانہ لکھنؤ میں رقص و سرور کی انتہائی ترقی کا زمانہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ خود جانِ عالم واجد علی شاہ کو رقص سے عملی دل چسپی تھی۔
کتھک رقص دوطریقے پر ہے ایک وہ جس میں مذہبی رنگ زیادہ ہے اور سوسرا وہ جس میں عوام کو خوش کرنے کی زیادہ کوشش کی جاتی ہے۔ جہاں تک گتوں کا تعلق ہے یہ دونوں طریقوں میں کم و بیش مشترک ہیں۔ زیادہ فرق بھاؤ بتانے میں ہے۔ مذہبی رنگ کے بھاؤ بتانے میں کرشن جی کی ابتدائی زندگی کے رنگین واقعات مثلاً ماکھن چھیننا، مٹکیاں پھوڑنا، رہس لیلا کرنا، ناگ پر سواری، موسلادھار بارش سے بچانے کے لئے اُنگلی پر پہاڑ کا اُٹھانا فنی رنگ میں دکھائے جاتے ہیں۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جو شادی بیاہ وغیرہ کی محفلوں میں رائج ہے۔ اس میں عام طور سے غزل، داورہ وغیرہ کے عشقیہ مضامین کو حرکات کے ذریعے سے نمایاں کیا جاتا ہے۔ لکھنؤ میں دو خاندان خاص طور پر فن رقص کے ماہر گزرے ہیں ایک بندادین مہاراج کا خاندان خاص طور پر فنِ رقص کے ماہر گزرے ہیں ایک بندا دین مہاراج کا خاندان، دوسرا فضل حسین کا خاندان۔
بندا دین مہاراج فنِ رقص کے اتنے بڑے ماہر تھے کہ ان کے ساتھ علاوہ مہارتِ فن کے کچھ فوق العادات کمال بھی وابستہ کئے جاتے ہیں۔ بہت لوگوں کا خیال تھا کہ ان کو کوئی دیوتا یا اپسرا سدھ ہے۔ جس وقت وہ بچے ہی تھے اس وقت کے متعلق بھی ایک دل چسپ واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ بندا دین مہاراج کے والد شری بیروں مہاراج بندا دین مہاراج کو رقص سکھاتے تھے۔ ان کی انتہائی کوشش کے باوجود بھی بندا دین مہاراج کو کچھ نہ آتا تھا۔ ہر توڑا فوراً بھول جاتے تھے۔ اس بات سے خفا ہو کر ایک بار اُن کے والد نے سخت زدو کوب شروع کی۔ جب وہ سزا دے ہی رہے تھے ایک سادھو اِدھر آنکلے اور انہوں نے پوچھا کہ بچے کو اتنی سخت سزا کیوں دی جا رہی ہے؟ بھیروں مہاراج نے جواب دیا کہ میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ یہ لڑکاکچھ سیکھ جائے اور خاندان کو بدنام نہ کرے۔ سادھو نے کہا۔ بچے پر سختی نہ کرو ایشور نے چاہا تو یہ لڑکا ایسا کلا کار بنے گا کہ دنیا میں نام روشن کرے گا۔ اسی روز سے بندا دین مہاراج میں غیر معمولی ذہانت، حافظہ اور چُستی ظاہر ہونے لگی اور تھوڑے ہی عرصے میں اپنے والد کے فن کے خزانے کو خالی کر دیا۔ باوجود اس کے کہ علمیت کچھ زیادہ نہ تھی۔ ہندی میں ایسی ٹھمریاں تصنیف کیں جو رقص اور بتانے کے لئے نہایت موزوں ہیں۔ راگوں میں بھی ایسی مہارت پیدا کی کہ بہت سے راگوں میں بھجن اور ٹھمریاں تصنیف کیں۔
بندا دین مہاراج میانہ قد اور چھریرے بدن کے جامعہ زیب شخص تھے۔ جس وقت رقص کرتے تھے اس وقت اسٹیج کا حسن قابل دید ہوتا تھا۔ حرکات جسمانی پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ مشق اتنی زبردست تھی کہ کئی گھنٹے متواتر رقصکرنے کے بعد بھی چہرے پر تھکاوٹ کے آثار نمایاں نہ ہوتے تھے۔ کتھک رقص میں طبلے کی سنگت بہت اہمیت رکھتی ہے۔ بغیر سنگت کے توڑے ٹکڑے بے کار ہوجاتے ہیں۔ چناں چہ اُن کے بھائی کا لکا دین مہاراج طبلہ بجاتے تھے۔ چوں کہ وہ خود بھی فنِ رقص کے زبردست ماہر تھے اس لئے سنگت کا لطف دوبالا ہو جاتا تھا۔
بندا دین مہاراج کے شاگردوں کی تعداد کا صحیح اندازہ مشکل ہے۔ شاگردوں میں ہندو مسلمان، مرد عورت بغیر امتیاز کے داخل تھے۔ بہت سی طوائفیں بھی ان کی شاگرد تھیں۔ سال میں ایک جلسہ ہوتا تھا جس میں بہت سے شاگرد شامل ہوتے تھے۔ باوجود اس کے کہ اُن کے شاگردوں میں صنفِ نازک کے فن کار بھی شریک ہوتے تھے۔ بندا دین مہاراج کا رکھ رکھاؤ ایسا تھا کہ کوئی اخلاقی ناخوش گواری نہ ہونے پاتی تھی اور خود اُن پر کسی کو انگشت نمائی کا موقع نہیں ملا۔ اگرچہ ان کو ہمیشہ معزز اور باوقار حضرات کے یہاں جانا پڑتا تھا مگر وہ اپنی وضع کے پابند رہتے تھے اور اپنی مذہبی پابندیوں کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے چناں چہ محفل کسی ہی گرم کیوں نہ ہو وہ پُوجا کے وقت فوراً گھنگھرو کھول دیتے تھے اور چار بجے صبح عبادت کے لئے چلے جاتے تھے۔ پوجا کی پابندی کی وجہ سے لوگوں کا یہ خیال اور بھی پختہ ہو گیا تھا کہ ان کو کسی دیوتا کی سدھی حاصل ہے۔
بیشتر اپنے ہی تصنیف کئے ہوئے بھجن اور ٹھمریاں گاتے اور بتاتے تھے۔ گانے کا ایک ایک ٹکڑا گاتے جاتے تھے اور بتاتے جاتے تھے۔ البتہ پہلے پورا بھجن یا ٹھمری گا کر سُنا دیتے تھے اس کے بعد بتانا شروع کرتے تھے۔ مثلاً اگر یہ ٹھمری بتائی ہوتی۔
اُٹھی ہے گھنگھور، گھٹا یہ برسن لاگی۔ کیسی کروں جیا نہیں مانے۔ اُٹھی۔۔۔۔۔۔۔
ایک تو اکیلی پیا بن ڈر لاگے۔ سونی سیج جیا تڑپے کا سے کہوں اے ری سکھی
بیتی سگری رین دیکھو۔ بندا گھر شیام نہیں آئے۔ اُٹھی ہے گھنگھور
تو گھٹا کا اُٹھنا، بجلی کا چمکنا، بارش کا ہونا اس طرھ حرکات سے ادا کرتے تھے کہ بارش کا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا تھا۔ بعض اوقات کچھ قدرت کی مدد بھی شاملِ حال ہو جاتی تھی۔ ایک مرتبہ یہی ٹھمری بتا رہے تھے کہ دفعتاً گھٹا گھر آئی اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ اہلِ محفل پروجد کی کیفیت طاری ہو گئی۔ ایسا سماں بندھا کہ لوگوں کی نگاہیں بندا دین مہاراج پر جمی ہوئی تھیں اور بے اختیار داد کے الفاظ لب پر آتے تھے۔
محفل میں ہر مذاق کے لوگ ہوتے ہیں اس نے کبھی کبھی وہ غزلیں اور وادرے بھی بتاتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایک غزل بتا رہے تھے جس کا مطلع تھا:
تو تو مشہور دل آزار یہ کیا تجھ پہ آتا ہے مجھے پیار یہ کیا
اس مطلع کے بنانے میں ایسی طباعی سے کام لیا کہ شاعر کے مطلب کے علاوہ دوسرے معنی نپھاوئے۔ ہاتھوں کی حرکت سے تلوار کھنچنے کی حالت ظاہر کی اور پھر اس فرضی تلوار سے مخاطب ہو کر کہا
تو تو مشہور دل آزار یہ کیا تجھ پہ آتا ہے مجھے پیار یہ کیا
1قریب 90برس کی عمر پائی اور اب سے قریب 40سال قبل انتقال کیا۔ زندگی کا آخری حصہ بیشتر پوجا پاٹ میں صرف کرتے تھے اور کتھا سُنا کرتے تھے۔
بندا دین مہاراج سے قبل رقص کرنے والوں کو داد تو ملا کرتی تھی اور انعام و اکرام کی بھی کمی نہ رہتی تھی لیکن رقص کرنے والے کو سماج میں زیادہ عزت کی نظر سے نہ دیکھا جاتا تھا۔ جس طرح موسیقی کی عزت کو پنڈت وشنو دیگر اور پنڈت بھات کھانڈ ے صاحب نے بڑھایا اور ماہر موسیقی کو سماج میں وہی جگہ دلائی جو شاعر یا مصور کو حاصل تھی۔ اس طرح بند ا دین مہاراج کی بدولت رقص کرنے والوں کو بھی سماج میں عزت کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ راقم الحروف نے خود دیکھا ہے کہ جب پنڈت بندا دین مہاراج فن کا مظاہترہ ترک کر چکے تھے اور ایک کدا پرست گوشہ نشین کی زندگی بسر کر رہتے تھے اس وقت جہاں کہئں وہ جاتے تھے کتھا کہنے والے پنڈت بھی ہمیشہ انہیں اپنے پاس کوئی اونچا ہی مقام دیتے تھے۔ ان کی عزت کا سبب صرف مہارت ہی نہ تھی بلکہ ان کی بلند پایہ اخلاقی اور مذہبی زندگی بھی تھی۔
ہندوستان میں بیشتر ماہرین فن کے ساتھ بد دماغی کے واقعات وابستہ کئے جاتے ہیں۔ چناں چہ میر تقی میر اور مرزا غالب کے واقعات مشہور ہیں۔ لکھنؤ کے ایک ماہر فن حیدر ی خاں نے حاکمِ وقت کے مُنہ پر کہہ دیا کہ بادشاہ کے مرنے کے بعد دوسرا حیدری خاں دنیا کو میسر نہیں آ سکتا۔ لیکن اور خوبیوں کے ساتھ خدا نے بندا دین مہاراج کو خاکساری اور خوش اخلاقی کی دولت بھی عطا کی تھی۔ بات کرنے میں منہ سے پھول جھڑتے تھے۔ ان کی زبان کو ہندوستانی کہا جا سکتا ہے یعنی نہ تو وہ خالص ہندی بولتے تھے نہ فارسی آمیز اُردو۔ چوں کہ وہ ہندو اور مسلمان دونوں ہی کی محفلوں میں جاتے تھے اس لئے اُن کی زبان بھی ایک مِلی جُلی زبان بن گئی تھی۔ چناں چہ ایک پنڈت جی کی کتھا کی داد دیتے ہوئے فرماتے تھے۔ 'پنڈت جی! خدا کی قسم ایسے ارتھ نہیں سُنے۔'
بندا دین مہاراج کے بھائی پنڈت کا لکا دین بھی رقص اور تال کے خاص ماہر تھے لیکن رقص نہیں کرتے تھے صرف طبلہ بجاتے تھے اور طبلے کے بہت بلند پایہ ماہر تھے۔ کہتے ہیں کہ کسی حادثے کی وجہ سے پاؤں میں کچھ شکایت ہو جانے کی وجہ سے رقص کرنا ترک کر دیا تھا۔ یہاں ان کے طبلے کی مہارت پر زیادہ روشنی ڈالنے کی گنجائش نہیں البتہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ان کی طبلہ نوازی کی بدولت بندا دین مہاراج کے رقص کو چار چاند لگ جاتے تھے۔ جس طرح فنِ رقص میں بندا دین مہاراج کے بے شمار شاگرد تھے اسی طرح کا لکا دین مہاراج کے شاگرد بھی بہت تھے۔ ان کی خوش اخلاقی اور مہارتِ فن اور بلند اخلاقی زندگی کی بدولت شرفاء میں طبلہ نوازی بہت مقبول ہوئی اور بہت سے غیر پیشہ ور حضرات بھی طبلے کے اچھے ماہر ہو گئے ان کے غیر پیشہ ور شاگردوں میں راقم الحروف کے استاد جناب رگھوناتھ پرشاد صاحب خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
بندا دین اور کالکا دین مہاراج کے بعد خاندانی عظمت اور فن کو قائم رکھنے میں اچھن مہاراج نے سِی بلیغ کی اور اس میں شک نہیں کہ بزرگوں کی عظمت پر حرف نہیں آنے دیا۔ بھیروں ناتھ والی گلی میں اپنے خاندانی مکان میں رہا کرتے تھے جس میں ایک ہال رقص کے لئے مخصوص تھا۔ اس میں بہت سے وہ انعامات بھی سجے ہوئے تھے جو بندا دین مہاراج کو یا خود اُن کو مختلف رہاستوں سے ملے تھے۔ عرصہ دراز تک اچھن مہاراج رام پور دربار کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔ رقص اور طبلہ نوازی دونوں میں کمال حاصل تھا۔ رقص اتنا فن کارانہ ہوتا تھا کہ سوا خاص طبلہ بجانے والوں کے کوئی ان کی سنگت نہ کر سکتا تھا۔ کبھی کبھی رقص شروع کرنے سے قبل وہ معلوم کر لیتے تھے کہ کوئی خاص طبلہ بجانے والا منگت کے لئے ہے یا نہیں۔ لکھنؤ میں استاد عابد حسین مرحوم اکثر ان کے ساتھ طبلہ میں سنگت کرتے تھے۔
انہوں نے بھی اپنے بہت شاگرد چھوڑے اور کچھ شرفاء کو بھی طبلہ اور رقص سکھایا۔ افسوس ہے کہ زندگی نے زیادہ وفا نہ کی ۔ چند سال ہوئے راہئیِ ملک ِ بقا ہوئے اگرچہ بدن بھاری تھا اور رنگ بھی گورا نہ تھا لیکن رقص کرتے وقت بہت ہی چُستی اور پھرتی کا اظہار کرتے تھے۔ بتانے میں بھی خاندانی ذہانت کو ہاتھ سے نہ جانے دیا اگر ایک معمولی سا دادرہ بھی بتاتے تھے تو ایک کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ بڑی بڑی کانفرنسوں میں شریک ہوتے اور داد حاصل کرتے تھے۔
اگرچہ ناچ گانے کے لئے رات کا وقت زیادہ سوزوں ہے اور خاص کر رقص کا لطف زیادہ تر رات ہی کو آتا ہے مگر اچھن مہاراج کے رقص کی محفلیں دن میں بھی نہایت کامیاب رہتی تھیں۔ لکھنؤ میں ہارمونیم بجانے میں ایک نواب اغن صاحب تھے۔ ان کے شاگرد اکثر مِل کر ان کے مکان پر ایک سالانہ جلسہ کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ دن کو جلسے میں اچھن مہاراج کو بھی مدعو کیا گیا۔ آتے ہی اچھن مہاراج نے پوچھا کہ طبلہ کون بجائے گا جب معلوم ہوا کہ استاد عابد حسین طبلہ پر سنگت کریں گے تو اظہارِ اطمینان کیا۔
گت ناچتے وقت آگے بڑھ جانے کے بعد پیچھے لوٹتے ہوئے دہرے گھنگھرؤں کی ضربیں ان کے خاندانی رقص کی خصوصیت میں داخل ہیں۔ پاؤں میں بندھے ہوئے کچھ گھنگھرؤں کا حسب ارادہ بجنا اور کچھ کا نہ بجنا بار ہا دیکھا گیا ہے۔ مذکور الصدر محفل میں لوگوں کی فرمائش پر ایک دادرہ بتانا شروع کیا۔ دادرہ کے بولی۔ مہاراجہ نجریا لگ جائے گی۔۔۔'اگرچہ دادرہ بہت معمولی قسم کا ہے اور بولوں میں کوئ جاذبیت نہیں ہے لیکن اچھن مہاراج نے ایک ایک لفظ کو اس طرح بتایا کہ محفل میں جان پڑ گئی اور سامعین داد دئے بغیر نہ رہ سکے۔
اس وقت اس خاندان میں تین ہستیاں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ایک شمبھو مہاراج۔۔۔۔دوسرے لچھو مہاراج اور تیسرے برجو مہاراج۔
شمبھو مہاراج عرصہ دراز تک لکھنؤ میں اپنے آبائی مکان ہی پر رہے اور پرائیوٹ طریقے پر لوگوں کو سکھاتے رہے۔ سَیرس کالج آف ہندوستانی میوزک لکھنؤ میں رقص سکھانے کے لئے مقرر ہوئے لیکن ان کی آزاد طبیعت نے نوکری کے بارگراں کو قبول نہ کیا اگرچہ مالی دقتوں سے دو چار رہے مگر کہیں جم کر کام نہ کیا اکثر روسائی بچوں کو رقص سکھانے کے لئے بُلاتے تھے لیکن غصہ طبیعت میں اتنا زیادہ ہے کہ کہیں زیادہ عرصہ قیام نہ کر سکے۔ کبھی کبھی نا مناسب الفاظ بھی زبان پر آ جاتے ہیں۔ چوں کہ خود نہایت ذہین ہیں اس لئے شاگردوں کی معمولی فرد گداشتوں کو بھی برداشت نہیں کر سکتے۔
شمبھو جی مہاراج استاد زاد ے ہیں اور بزرگوں کی دی ہوئی فن کی دولت اتنی ہے کہ اس کا اندازہ مشکل ہے۔ ایک دفعہ راقم الحروف نے دریافت کیا کہ کیا آپ نئے توڑے ٹکڑے وغیرہ بھی بناتے ہیں تو جواب دیا کہ گھر ہی کا ملا ہوا اتنا ہے کہ سنبحالے نہیں سنبھلتا۔ میں اس میں کیا اضافہ کروں گا۔
شمبھو مہاراج نے رقص اور طبلہ دونوں اچھن مہاراج سے سیکھے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ اچھے اچھے طبلیوں کا ہاتھ پھنستا ہے۔ بعض اوقات اتنی تیز لَے میں رقص کرتے ہیں کہ سنگت شکل ہو جاتی ہے۔
بارہ سال قبل لکھنؤ کا واقعہ ہے۔ سفید بارہ دری میں موسیقی کا جلسہ ہو رہا تھا۔ قیصر باغ میں سفید بارہ دری وہ مشہور عمارت ہے۔ جہاں سلطان عالم واجد علی شاہ بادشاہ اودھ موسیقی کی محفلیں برپا کیا کرتے تھے۔ جب محفل گرمی پر آئی تو اعلان ہوا کہ شمبھو مہاراج اسٹیج پر تشریف لا رہے ہیں۔ طبلے کے نئے اُستاد احمد جان تھر کوا تشریف لائے۔ ایک بجے کا وقت تھا کہ شمبھو مہاراج نے رقص شروع کیا۔ شروع کرنے سے پہلے اعلان کر دیا کہ آپ کے سامنے کوئی معمولی طبلہ بجانے والا طبلہ نہیں بجا رہا ہے یہ مانے ہوئے اُستاد ہیں اس لئے میں بھی کوئی معمولی کام نہیں دکھاؤں گا۔ رقص اتنی تیار لَے پر شروع کیا کہ ٹھیکہ دینا بھی مشکل تھا لیکن اُستاد احمد جان نے بھی کمال دکھا دیا۔ ایسا لطف آیا کہ احاطہ بیان سے باہر ہے۔
شمبھو مہاراج کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کو پیسے کا لالچ نہیں الابحالت ضرورت کبھی روپے پیسے کی پروا نہیں کرتے۔ ایک دفعہ ایک صاحب کے مکان پر مجھے شمبھو مہاراج سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ شام کا وقت تھا شمبھو مہاراج کی طبیعت موزوں تھی۔ میں نے التماس کی کہ اگر ناگوار خاطر نہ ہو تو کچھ عنایت ہو جائے۔ نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ ہارمونیم منگوایا اور ایک دادرہ بتانا شروع کیا۔ دادرے کے بول ہیں:۔
باری عمر لڑکیاں۔ نہ چھیڑو سیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف پہلا جزو یعنی باری عمر لڑکیاں تادیر بتاتے رہے۔ میرے پاس الفاظ کہاں کہ اس لطف کو بیان کر سکوں۔ صرف ایک گھنٹے تک یہ سلسلہ جاری رہا اس واقعہ کو چھ سال گذ ر چکے مگر آج بھی اس کی یاد تازہ ہے۔ آنکھوں کے مختلف اشاروں پر شمبھو مہاراج کو جو قدرت حاصل ہے شاید ہی کسی بھاؤ بتانے والے کو حاصل ہو آج کل شمبھو مہاراج کا قیام دہلی میں ہے اور سنگیت اکاڈمی فیروز پور ڈ رود کے پاس ہی قیام ہے۔
لچھو مہاراج اس خاندان کے ایک دوسرے صاحب کمال ہیں۔ ان کا بیشتر قیام بمبئی میں رہتا ہے۔ ان کا شمار بھی باکمال کلا کاروں میں ہے۔ بہت سی فلموں میں ان کا رقص آ چکا ہے۔ انہوں نے زمانہ حال پر نظر رکھتے ہوئے کلاسیکی رقص کے ساتھ جدید رقص کو بھی ملخوط رکھا ہے۔ چناں چہ ان کے رقص میں مغربی بَیلے کی ہلکی سی آمیزش بھی نظر آتی ہے اور لوک ناچ سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کا رقص بہت مقبول عوام ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کلاسیکی معلومات میں وہ کسی سے پیچھے ہیں۔ اپنا خاندانی کام تو ان کے پاس ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ جدید طریقہ رقص کو بھی فلمی ضرورت سے ملا دیتے ہیں۔
برجو مہاراج اچھن مہاراج کے صاحبزادے ہیں اور بیشتر دہلی میں قیام رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی بمبئی بھی چلے جاتے ہیں۔ اچھے ماہرِ فن ہیں۔ ابھی نو عمر ہیں اور ان کے ساتھ بہت اُمیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں۔ رقص میں تمام خاندانی روایات کو برقرار رکھتے ہیں اور طبلہ میں بھی ہاتھ بہت خوبصورت ہے اور معلومات بھی خوب ہیں۔
رقص میں دوسرا نامی خاندان میاں فضل حسین کا ہے۔ یہ بھی خاندانی رقاص اور ماہرِ موسیقی تھے۔ گت بھی خوب جانتے تھے اور بتاتے بھی خوب تھے۔ لکھنؤ میں یہی خاندان ہے جو بندا دین مہاراج کے گھرانے کا شاگرد نہیں۔ میاں فضل حسین کے ساتھ نقال بھی رہتے تھے جو علاوہ مزاح سے اہل محفل کو خوش کرنے کے ناچ کی اداؤں کو سمجھاتے بھی جاتے تھے۔ مثلاً اگر وہ بتاتے تھے۔
پیا سے سند یسا مورا کہیو جائے۔ کا گارے جارے جارے۔۔۔۔۔۔
میاں فیضل حسین کوے سے التجا کرتے تھے کہ وہ محبوب تک ان کا پیغام پہنچا دے۔ ہاتھ جوڑنا، خوشامد کرنا، فرضی ڈھیلا پھینک کر کوے کو اڑانا وغیرہ سب باتوں کو نقال سمجھاتے جاتے تھے۔ اس سے عوام کو بھاو سمجھنے میں آسانی ہوتی تھی اور انہیں زیادہ لُطف آتا تھا۔
میاں فضل حسین کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے میاں مصطفےٰ حسین گاتے بجاتے رہے انہوں نے بھی خاندانی روایات کو برقرار رکھا بہت خلیق اور منکسر مزاج تھے۔ علاوہ رقص کے بتانے میں بھی کمال رکھتے تھے۔ آخر عمر میں ضعف سماعت کی شکایت ہو گئی تھی۔ طبلہ اور سارنگی دونوں ساز خوب بجاتے تھے۔ ہارمونیم کی آواز کو پسند نہ کرتے تھے۔ قریب ساٹھ برس کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا۔
میاں مصطفےٰ حسین کے بعد ان کے صاحبزادے سے سخاوت حسین کچھ دن زندہ رہے۔ باوجود میاں مصطفےٰ حسین کی بے انتہاء کوشش کے سخاوت حسین نے فن میں کوئی خاص کمال حاصل نہ کیا۔ علاوہ ازیں زمانہ کروٹ بدل چکا تھا۔ کچھ اخلاقی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ تعصب کی بناء پر لوگوں نے طائفوں اور طوائفوں کی مخالفت شروع کی جس کی وجہ سے ان کا رواج بہت کم ہو گیا۔ علاوہ ازیں آزادی ہند کے بعد سے علوم اور فنون میں ایک نئی زندگی آئی چناں چہ شرفاء اکتسابِ فن موسیقی میں حصہ لینے لگے۔ شریف گھروں کی لڑکیوں نے رقص میں مہارت پیدا کرنی شروع کی۔ ان سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف کمال رکھنے والوں کے لئے جگہ رہ گئی۔ عوام کی واقفیت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ مذاق بھی بلند ہوا۔ ان سب باتوں سے بہت سے معمولی پیشہ ور ختم ہو گئے۔ میاں سخاوت حسین نے گُمنامی میں بسر کر کے عالمِ شباب میں وفات پائی۔
میاں فضل حسین کے پوتے سخاوت حسین کے ساتھ اس خاندان میں رقص و سرور کا خاتمہ ہو گیا۔ اب صرف شرافت حسین باقی ہیں جو طبلہ بجاتے ہیں اور بیشتر بمبئی میں قیام رکھتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اج کل لکھنؤ کے اربابِ کمال منتشر ہو گئے ہیں۔