شریمتی ٹیگور

شریمتی ٹیگور

منی پوری رقص

    منی پوری رقص

    آسام کا یہ ناچ منی پورہ کے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ گویہ ناچ ایک مشغلہ ہے مگر اس کو مذہبی اہمیت بھی حاصل ہے۔ پورن ماشی کے موقع پر یہ ناچ ضرور ناچا جاتا ہے۔ اس ناچ سے ایک دل چسپ کہانی بھی تعلق رکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کئی سو سال پہلے منی پور کے راجہ کارت کو اپنے ایک دشمن سے ہار کر آسام کے ایک، دوسرے راجہ کے یہاں پناہ لینا پڑی۔ آسام کے اس راجہ کی اس شرط پر کہ راجہ کارت ہاتھی سے لڑے اور اس کو شکست دی تا کہ اس کے شاہی خاندان سے ہونے کا چبوت ملے۔ راجہ کا رت اس آزمائش سے ڈرا مگر اُسی رات خواب میں راجہ کارت کو گرشن نے درشن دئے اور ایک مالا بھی دی اور کہا کہ وہ یہ مالا لے کر ہاتھی کا مقابلہ کرے۔ ہاتھی بھاگ جائے گا مگر کامیاب ہونے پر اس کو اپنے راجیہ میں کرشن کے نام پر ایک مندربنوانا پڑے گا۔ چناں چہ  دوسرے دن راجہ کارت نے کرشن کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ہاتھی کو شکست دی اور اسی بہادری سے خوش ہو کر آسام کے راجہ نے راجہ کا رت کو فوجی امدادی اور نتیجہ میں اس نے اپنا راجیہ دشمن سے واپس لے لیا۔ وعدہ کے مطابق راجہ کارت نے امپحال میں ایک مندر بنوایا جس میں کرشن کی مورتی نصب کرا دی گئی اور آج کل وہ سندر گوندجی کا سندر کہلاتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد کرشن پھر راجہ کارت کے خواب میں آئے اور اس کو اپنا راس ناچ سکھا گئے۔ راجہ کارت کی لڑکی لائی مالا روبی ہی وہ پہلی رقاصہ تھی جس نے اپنے باپ کے بنوائے ہوئے اس مندر میں، رادھا ناچ، پیش کیا۔ منی پوری ناچ ایک ہی رقاص پر منحصر نہیں بلکہ اس میں پورا گاؤں شریک ہو جاتا ہے۔ راس لیلا کو اس ناچ میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ رادھا اور کرشن کی محبت، چھیڑ چھاڑ اور ناز نخرے بڑی خوبی سے دکھائے جاتے ہیں۔ اس ناچ کے سازوں میں ایک چھوٹے سے منہ کے ڈھول کو بڑی اہمیت حاصل ہے جس کو 'خول ' کہا جاتا ہے۔ 'خول' بجانے والا جو کچھ بجاتا ہے ناچنے والا اسے اپنے پیروں سے کر کے دکھتا ہے۔ منی پوری ناچ میں کلائی میکس جلد آتا ہے یعنی جلد ہی اچھل کود اور اُٹھک بیٹھک کا دُور شروع ہو جاتا ہے۔ اس ناچ کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ رقاص یا رقاصہ کے اشاروں یا کنایوں میں جسمانی لذت کا شائبہ تک نہیں ا ٓپاتا۔ منی پور ناچ کی بنیاد بہت سی تالوں پر ہوتی ہے جن کو 'پارنگ' بھی کہا جاتا ہے۔ برندا بن تال میں کرشن کے مردانہ حُسن کو پیش کیا جاتا ہے۔ دَھرم تال، میں رادھا اور کرشن سے عقیدت دکھائی جاتی ہے اور بھانگی تال، میں راس ناچوں کی تمام، تالیں، ملی جلی ہوتی ہیں۔ منی پوری رقص کے کلاکار عموماً بڑے بھڑکیلے کپڑے زیبا تن کرتے ہیں، رادھا اور اس کی سکھیوں کا لباس بھی بڑا ہی عجیب اور حسین ہوتا ہے۔ منی پوری ناچ میں بھی کئی علاقائی قسمیں پائی جاتی ہیں۔ بعض ناچ ایسے ہوتے ہیں جن میں عورتیں بھی شریک ہوتی ہیں اور بعض ایسے ناچ ہیں جن میں صرف غیر شادی شدہ لڑکے اور لڑکیاں ہی شرکت کرتے ہیں۔