مرنالنی سارا بھائی

مرنالنی سارا بھائی

نئے رُجحانات

    نئے رُجحانات

    ہندوستان میں فنونِ لطیفہ کا مقصد صرف سامانِ تفریح مہیا کرنا نہیں رہا بلکہ ان سے تعلیم و تربیت کا بھی کام لیا جاتا رہا ہے۔ برہما نے "ناٹیہ وید" کے شروع میں ڈرامائی آرٹ کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے۔

    ڈراماتینوں دُنیاؤں کی صورتِ حال پیش کرتا ہے۔ کبھی فرائض بنائے جاتے ہیں تو کبھی کریڑا" بعض اوقات دولت کا حصول اس کا موضوع ہوتا ہے تو کبھی امن و صلامتی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ کہیں ہنسی مذاق ہوتا ہے تو کہیں جنگ و جدال۔

    ڈراما ان لوگوں کو دھرم کی تعلیم دیتا ہے۔ جو دھرم والے ہیں انہیں محبت کا سبق سکھاتا ہے جو اس کے جویا ہیں، جو بھٹکے ہوئے ہیں انہیں راستہ دکھاتا ہے۔ جو ضبطِ نفس رکھتے ہیں اُن کی مدد کرتا ہے۔ بزدلوںکو ہمت، بہادروں کو اور دلیری، بے وقوفوں کو عقل اور عقل مندروں کو ذہانت عطا کرتا ہے۔ جو لوگ غم کے مارے ہوئے ہیں انہیں صبر و شکر کی تعلیم دیتا ہے۔ جنہیں دولت کی تلاش ہے انہیں دولت ملتی ہے۔ جو حیران و پریشان ہیں انہیں سکونِ قلب حاصل ہوتا ہے۔"

    کلاسیکی روایات

    آج کل کلاسیکی روایات کے حامل رقاص رقص کے مختلف اصول و قواعد کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ روایات ان گھرانوں کی معرفت ہم تک پہنچی ہیں جو اس فن میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان گھرانوں میں بھی بہت سے مکاتیب قائم ہو گئے ہیں۔ لیکن ان سب کی بنیادی خصوصیات مشترک ہیں۔

    یہیں سے ہمارا موضوعِ بحث شروع ہوتا ہے۔ یعنی ہندوستانی فن رقص کے نئے رجحانات کیا ہیں۔

    اس ملک میں ہمیشہ ہماری یہ خصوصیت رہی کہ ہم نے ترقی کے ابتدائی پہلو ؤں سے گریز کیا اور ہم اپنی قدیم روایات کی طرف رجوع کرتے آئے ہیں ہمارے ملک میں باہر سے لوگ آئے۔ انہوں نے ہمارے دیس پر قبضہ کیا۔ ہم سے نفرت بھی کی اور ہماری خوبیوں کو سراہا بھی۔یہی وجہ ہے کہ آج جب ہم پھر اپنی قدیم روایات کی طرف رجوع کر رہے ہیں اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ ثقافتی احیاء کے لئے کوشاں ہیں تو ہمیں اپنی قارین غلط سلط دکھائی دیتی ہیں۔ اصلی قدروں کی صاف شکل نظر نہیں آتی۔ اُن پر بے شمار ردے پڑے ہوئے ہیں۔ اس وقت ہمارے سامنے یہی مسئلہ ہے کہ ہم کیسے اپنی قدیم روایات کی عجیب و غریب ہم آہنگی کو پہنچانیں۔

    صدیوں کے تجربے کے بعد ہمارے یہاں رقص کی ایک ایسی تکنیک پیدا ہوئی جس میں جسم کی نہایت موزوں حرکات اور اشارات کے ذریعہ روحانی اتحاد کی تصویر پیش کی جا سکتی ہے۔ سینکڑوں سال کے بعد یہ تکنیک مکمل ہو جاتی ہے۔ ا سکے لئے ایک تخلیقی فن کار کو شدید ریاضت کرنا پڑتی ہے۔

    تقریباً سات آٹھ سال کی عمر سے رقاص کی تربیت شروع ہوتی ہے بلاشبہ ایک حقیقی فن کار اس عمر میں بلکہ اس سے بھی پہلے اپنی زندگی کے مشن سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ کوئی رقاص رقص کی تکنیک پر پوری طرح عبور حاصل کئے بغیر ترقی نہیں کر سکتا اور اس کے لئے انتہائی نظم و ضبط کی ضرورت ہوتی ہے۔

    بھرت ناٹیم اور کتھا کلی میں نہ صرف جسم اور چہرے کے تمام اعصاب کو قابو میں رکھا جاتا ہے بلکہ دماغ کی بھی تربیت کی جاتی ہے۔ اس کے بعد ہی رقاص کی اپنی جُداگانہ شخصیت اُبھرتی ہے اور وہ تکنیک پر بھی اپنی شخصیت کی چھا پ ڈال سکتا ہے۔

    یہیں سے نئی صدی کے رجحانات کی ابتداء ہوتی ہے۔ ہر دور غیر شعوری طور پر گذشتہ دور کی روایات کو آگے بڑھاتا ہے۔ بھرت ناٹیم کا موجودہ پروگرام بالکل نئی چیز تھی۔ جیسے جیسے کتھا کلی نے ترقی کی اس میں نئے نئے ڈرامائی موضوعات شامل ہوتے گئے۔ اور مُدرا میں بھی انقلاب آیا۔ یہ ساری تبدیلیاں کچھ اس طرح دھیرے دھیرے ہوئیں کہ ہمیں محسوس نہیں ہو پائیں۔

    انسان اپنے جمالیاتی ذوق کی تکمیل کے لئے برابر کوشاں رہتا ہے۔ اور نئے نئے تجربے کرتا رہتا ہے۔ لیکن کسی بھی تجربے کے بارے میں صحیح اندازہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب کوئی فن روائتی تہذیب کی خوبیوں کو اپنا کُران سے کام لیتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرتا کہ انسانی خیالات برابر ترقی پذیر ہیں۔

    پچھلے چند سالوں سے ہندوستان میں فنونِ لطیفہ کے احیاء سے عام دل چسپی پیدا ہو گئی ہے اور بہت سے فن کاراور ناقدین فن ایسے ہیں جو موسیقی اور رقص کی دُنیا میں کسی نئی چیز کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ کچھ ایسے فن کار بھی ہیں جو شاید اس بات سے واقف نہیں کہ ہر دور میں فنی تجربہ اور ترقی لازمی ہے۔

     

     

     

     

    فن میں جدیدیت

    جدید رجحانات   کی ابتداء کیا ہے؟ برسوں اسٹیج کے رقص کی تکنیک کا مطالعہ کرنے۔ تمام شرائط کو پورا کرنے اور ہر کردار کی خصوصیات کو سمجھنے کے بعد ایک تخلیقی فن کار کے دل میں ایک نہ ایک دن یہ خواہش ضرور پیدا ہوتی ہے کہ وہ بھی چھ تخلیق کرے۔ یہاں میں اپنا تجربہ بیان کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے سب سے پہلے جو رقص ڈراما بیلے Bellet   تیار کیا۔ اسی کا موضوع بڑا سیدھا سادا ہوا تھا یعنی کس طرح بچہ اپنے اعضاء کی قوت کو پہنچانتا ہے۔ میرے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ انسان کی زندگی کو رقص کا موضوع بنایا جائے۔ فرد کی زندگی، تجربہ کے لئے اس کی جدو جہد، اس کی کشمکش، خوف اور شبہات۔ اس سےز یادہ دل چسپ کہانی کیا ہو سکتی ہے۔ لیکن خیال کو عمل کی صورت دینے میں سخت جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے موسیقی میں کوئی نیا تجربہ کرنا پسند نہیں کیا۔ کیوں کہ آہنگ کا روائتی طریقہ ہی میر ی ضرورت کے مطابق تھا۔ لیکن مجھے ایسے گیتوں کی ضرورت تھی جو عالمِ انسانیت کے ترجمان بن سکیں۔ چانچہ "منشیہ" بیلے تیار ہوا۔ اس کے ذریعہ جس باتوں کی ترجمانی کی گئی، وہ کچھ نئی نہ تھیں۔ صدیوں سے ہندوستان میں انہی باتوں کی ترجمانی ہوتی رہی ہے۔ یہ کسی خاص فرد نہیں بلکہ تمام انسانیت کی کہانی تھی۔ اس بیلے کے تیسرے سین میں جب انسان غلامی اور غریبی سے دو چار ہوتا ہے اور اپنی آزادی کا طلب گار ہوتا ہے تو یہ ہر ایک فرد ی پکار ہے۔

    مچھلیوں کی شہزادی

    انسان کےخیالات اور اس کی جدوجہد سے متعلق اسی رقص ڈراما کے تجربے کے بعد میں نے ایک دوسرا تجربہ کیا۔ یہ تھا "مستیہ کنیا" یعنی مچھلیوں کی شہزادی اس میں خاص کرشرنگار رس سے کام لیا گیا۔ مرد رقاصوں نے پابندی کے ساتھ کتھا کلی کی پیروی کی۔ اور زنانہ رقاصاؤں نے بھرت ناٹیم کے طرز پر رقص کیا۔ اس کے ایک سین میں شہزادوں اور شہزادیوں کو پانی کے نیچے کھیلتے دکھایا گیا۔ اس کے لئے ہندوستانی رقص کی اُچھل کود سے کام لیا گیا۔ یہاں بھی سنگیت کی موسیقی کے معاملے میں دقت در پیش ہوئی۔ ہندوستان میں مشکل سے ہی موسیقی کا کوئی بلند پایہ مرتب ایسا ہو گا جو فنِ رقص کو پوری طرح سمجھتا ہو۔ رقص کے لئے موسیقی مرتب کرنے کے لئے نہ صرف کلاسیکی موسیقی کی پوری تربیت بلکہ فنِ رقص کا تفصیلی علم بھی ضروری ہے اور وہ اس طرح گویا مرتبِ موسیقی خود رقص میں حصہ لے رہا ہے۔

    ایک ایسے غیر پیشہ ور موسیقار نے "متسیہ کنیا" کی موسیقی مرتب کی جو رقص ڈراما کی غنائی خصوصیات کو سمجھتا تھا۔ اس ڈرامے میں جب مچھلیاں اسٹیج پر آئین تو ان کے ساتھ ایک خاص قسم کی موسیقی ہوتی۔ اور اس طرح ہر ایک کردار کے ساتھ ایک خاص کیفیت قائم رکھی جاتی۔

     

    اسٹیج کا سازو سامان

    اس وقت کلاسیکی فن کار کے لئے ایک اور دقت یہ ہے کہ وہ رقص ڈراما کے لئے کِس قسم کی موسیقی رکھے۔ اس کے علاوہ اب رقص مندروں سے نکل کر اسٹیج پر آ گیا ہے اور اسٹیج کے لئے کچھ نہ کچھ سازو سامان کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ اس کی آب و تاب قائم رہے۔ بہت سے رقاص لفظ'جدید' کے غلط معنی سمجھتے ہیں۔ 'جدید' کا مطلب ہے'عصری'

    اب میں چند ایسے رقص ڈراموں کا ذکر کروں گی۔ جن میں بہترین سامان تفریح مہیا کیا گیا ہے اور جنہیں ایسی کمپنیوں نے پیش کیا ہے جو نیم کلاسیکی اور غیر کلاسیکی رقص کے مظاہرے کرتی رہتی ہیں۔

    بعض جدید فن کار

    سب سے پہلے اودے شنکر نے رقص کے ذریعہ جدید موضوعات کو پیش کیا۔ ان کا رقص ڈراما "محنت اور مشین" اور دیگر "بیلے" کامیاب کوششیں ہیں۔

    رابندر ناتھ ٹیگور کے رقص ڈراموں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سب سے پہلے رقص مین موسیقی کی اہمیت کو سمجھا۔ اگرچہ ان کے ڈرامے اسکول کے بچوں نے پیش کئے، پھر بھی "چترانگدا" ، چُنڈالیکا" اور دوسرے ڈراموں کی اعلیٰ موسیقی یاد گار رہے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی موسیقی بنیادی طور پر رقص کے لئے مرتب کی گئی تھی۔

    خالص کلاسیکی قسم کے رقص ڈراموں میں رُکمنی دیوی کا "کمار سمبھوم" خاص کر قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے ایک قدیم کلاسیکی ڈراما کو جدید رنگ میں پیش کیا اس طرح رقص کی تکنیک سے پوری طرح کام لے کر کالی داس کے شاہکار کی خوبصورتی کو اُجاگر کیا گیا ہے۔

    آج ہمارے سامنے جو مسائل زندگی ہیں وہ ایک صدی پہلے کے مسائل سے جُدا گانہ ہیں۔ چناں چہ  ایک تخلیقی فن کار کو اپنے فن کے زریعہ اردگرد کے ماحول کی ترجمانی کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ رقاص اور موسیقار کے درمیان مکمل ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

    نشاہِ ثانیہ کے اس دَور میں یہ ضروری ہے کہ فن کے نئے سانچے Form   بنائے جائیں۔ اس کے لئے روایات سے پوری واقفیت ہونا ضروری ہے کیوں کہ اس کے بغیر نئے ڈھانچے کسی مستقل قدروقیمت کے حامل نہیں ہو سکتے۔ اس کے ساتھ ہی عوام کی طرف سے فن کی سچی قدر افزائی بھی لازم ہے۔

    اس عبوری دور میں فنِ رقص کو مخلص فن کاروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ جدید رجحانات تمام فنون کو نئے ڈھنگ سے استوار کر سکتے ہیں بشرطیکہ ان کی جڑیں کلاسیکی روایات میں پیوست ہوں۔ اس طرح فن کے ہر پہلو کو تقویت پہنچ سکتی ہے اور ایک مرتبہ پھر ہماری فنی زندگی کے تمام پہلوؤں کو ناقابلِ بیان عظمت اور روحانی بصیرت حاصل ہو سکتی ہے۔