شہباز حسین

شہباز حسین

ہندوستان کے لوک ناچ

           ہندوستان کے لوک ناچ(مترجم : شہباز حسین)

    ہندوستان مختلف قوموں، تہذیبوں اور مذہبوں کا دیس ہے۔ یہ رنگارنگی اور تنوع اس کی دل کشی اور حُسن میں اضافہ کرتا ہے۔ ہر علاقے اور ہر قوم کی اپنی ایک الگ خصوصیت اور اپنا ایک تہذیبی سرمایہ ہے جس کا اظہار مختلف شکلوں میں ہوتا ہے اور اس میں لوک ناچ بھی شامل ہیں۔ ہر علاقے کا اپنا ایک خاص قسم کا ناچ ہے جو اس کے مذہبی، معاشرتی اور جغرافیائی حالات کی وجہ سے ایک مخصوص ڈھانچے میں ڈھل گیا ہے۔ اس طرح ان مختلف قسموں نے ہندوستان کو تہذیبی قدرون کا ایک حسین و جمیل مرقع بنا دیا ہے۔

    ہمارے کلاسیکی رقص لوک ناچ کی ایک ترقی یافتہ شکل ہیں۔ لوک ناچ میں کلاسیکی رقص کی سی صناعی، نازکی اور فن کاری تو نہیں ہے مگر اس کی وجہ سے انہیں کسی قدر ادنیٰ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ کیوں کہ لوک ناچ اجتماعی خوشی، کامیابی اور مذہبی عقیدت کا فطری اظہار ہیں اور یہی سادگی اور بے ساختہ پن ان کا اصلی جوہر ہے۔ عوامی ناچ کو برقرار رکھنے اور مقبول بنانے کی کوشش اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ گاؤں والوں کی تفریح اور دل بستگی کا ذریعہ ہیں اور چوں کہ  زیادہ تر ناچ ٹولیوں کی شکل میں پیش کئے جاتے ہیں جس میں گاؤں کے بچے، جوان بوڑھے اور عورتیں سبھی شامل ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ نہ صرف اجتماعی زندگی کے مظہر ہیں بلکہ اسے تقویت بھی   پہنچاتے ہیں۔

    حصولِ آزادی کے بعد حکومت نے جہاں اقتصادی اور تعلیمی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے وہاں تہذیبی قدروں کے احیاء سے بھی غفلت نہیں برتی۔ کیوں کہ یہ سرمایہ بڑا قیمتی ہے۔ ا س مقصد کے لئے حکومت نے بہت سے اقدام کئے ہیں جن میں سنگیت ناٹک اکادمی کا قیام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ ہر سال یومِ جمہوریہ کے موقع پر لوک ناچ کا ایک جشن بھی منعقد کیا جاتا ہے۔ اس جشن میں ہندوستان کے ہر گوشے سے ٹولیاں شریک ہوتی ہیں اور بہترین ٹولی کو انعام دیا جاتا ہے۔ حکومت کی ہمت افزائی اور عوام کی روز افزوں دل چسپی اور سر پرستی نے اس فن کو ایک نئی زندگی بخش دی ہے اور اس میں ایک نکھار پیدا کر دیا ہے۔ توقع ہے کہ نئے حالات اور نئے اقدامات اس فن کو اُبھرنے کا پورا موقع دیں گے اور صدیوں کی عدم توجہی کی وجہ سے جو انحطاط پیدا ہو گیا ہے وہ رفتہ رفتہ دُور ہو جائے گا۔

    لوک ناچ کی لاتعداد قسمیں ہیں۔ ملک کے ایک ایک خطے میں کئی کئی طرح کے لوک ناچ رائج ہیں۔ مگر ہر ایک کا تذکرہ نہ ضروری ہے اور نہ ممکن۔ اس لئے صرف انہیں کا تذکرہ کیا جائے گا جو زیادہ مشہور اور معروف ہیں۔ چوں کہ  تقریباً ہر علاقے کا اپنا ایک علیحدہ فن ہے اس لئے ہر ریاست کے لوک ناچ کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا۔

    آسام

    گانا اور ناچنا آسامیوں کا محبوب مشغلہ ہے۔ یہ کام روپ ویش لوک ناچ سے مالا مال ہے۔ یہاں کے رقص اپنے حُسن اور دل کشی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ پانچ سو سال گزرے سری شنکر دیو نے آسام میں وشنو کی تعلیمات پر مبنی مذہبی اورسماجی اصلاح کی زبردست تحریک چلائی تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ رقص و موسیقی عوام کی زندگی میں بہت دخیل ہیں۔ اس لئے انہوں نے کامروپ کے مختلف اصنافِ رقص اور لوک گیتوں کا مطالعہ کیا اور مروجہ ناچوں کی آمیزش سے ستریا طریقہ ایجاد کیا جو اب تک وشنو کی تعلیم دینے والے سادھوؤں میں باقی ہے۔ اس رقص کا مقصد دیوتا کو خوش کرنا اور کرشن جی کی غیر مری طاقتوں کا مظاہرہ کرنا تھا۔

    کیلی گوپال(کرشن لیلا) مستہریا رقص ہے۔ جس میں کرشن جی کی زندگی کے مختلف واقعات پیش کئے جاتے ہیں۔ پہلے کرشن جی کا بچپن دکھایا جاتا ہے۔ جس میں وہ گوالوں کے ساتھ گائے چراتے نظر آتے ہیں۔ اس وقت بکسر راکشس داخل ہوتا ہے اور انہیں نگل جانے کی دھمکی دیتا ہے۔ کرشن جی اُس سے لڑتے ہیں اور اسے مار ڈالتے ہیں۔ اس خوشی میں کرشن جی اور اُن کے ساتھی ناچتے ہیں۔ گوپیاں بھی اس ٹولی میں شامل ہو کر رقص کرنے لگتی ہیں۔ اس موقع پر ایک دوسرا راکشس آتا ہے۔ کرشن جی اُسے بھی مار ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد ہارس نرتیہ ہوتا ہے جس میں کرشن بھگوان کے دس اوتاروں کو دکھایا جاتا ہے۔

    "بیہو" ایک غیر مذہبی رقص ہے۔ فصل کی کٹائی کے بعد چیت کے مہینے کے آخری دن (تقریباً12۔اپریل) ایک دوسرے کو تحفے تحائف دئیے جاتے ہیں اور خوب ناچ گانا ہوتا ہے۔ لڑکے اور لڑکیوں کو اس دن کافی آزادی ہوتی ہے اور وہ رات گئے تک کھیتوں میں ناچتے رہتے ہیں۔

    آسام اور شمالی برماکی حد پر رہنے والے ناگاؤں کا رقص بڑا پُر جوش اور دیدہ زیب ہوتا ہے۔ یہ ناگا کئی قبیلوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ہر قبیلے کا رقص اپنی الگ خصوصیت رکھتا ہے اس میں سب سے مشہور جنگ کا رقص ہے جو اپنی ابتدائی شکل میں اب تک محفوظ ہے۔ اس رقص میں رقاص اپنی شکلوں کو مختلف طریقوں سے خونخوار اور ہیبت ناک بناتے ہیں۔ مختلف رنگوں سے رنگا ہوا چہرہ پوں اور سینگوں کی ٹوپی، پتھروں یا سینگوں کا بنا ہوا نیکلس اور پیتل کا چمکتا ہوا بازو بند بڑا مرعوب کن نظارہ پیش کرتا ہے۔

    نیزہ رقص سارے ناگاؤں میں مروج ہے۔ لمبے لمبے بھالے ہوا میں لہرائے جاتے ہیں اور نظر نہ آنے والے دشمن پر ان سے حملہ کیا جاتا ہے۔ پھر یہ رقاص اپنے جسم کو خود نشانہ بناتے ہیں۔ مگر بڑی چابک دستی سے اپنے اس وار کو خالی دے جاتے ہیں۔

    کمبوئی ناگاؤں کی عورتوں کا رقص ذرا پچیدہ ہوتا ہے۔ یہ بیٹھ کر رقص شروع کرتی ہیں۔ ان کے ہاتھ اور بازو مشین کی طرح چلتے ہیں اور اقلیدس کی شکلیں بناتے ہیں۔ پھر وہ اُٹھ کھڑی ہوتی ہیں اس طرح اٹھتے ہوئے وہ ایک پیرا ہ پراٹھاتی ہیں اور اسے دوسرے پیر کی ران پر مارتی ہیں جس سے تیزی سے بجتے ہوئے ڈھول کی آواز پیدا ہوتی ہے۔

    کچھار کی شمالی پہاڑیوں میں ناگاؤں کا زیمی قبیلہ آباد ہے۔ مگر یہ لوگ دوسرے ناگاوں سے مختلف ہیں۔ ان کے ناچ کئی قسم کے ہیں جس میں کھمبالم اور نروارالم مشہور ہیں۔ کھمبا لم میں مردوں اور عورتوں کے دو گروہ ہوتے ہیں۔ یہ دو قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔ رقص کے دوران میں یہ اپنی جگہ سے اِدھر اُدھر ہٹ جاتے ہیں۔ مگر قطار کبھی نہیں ٹوٹی۔ نرورالم یا مرغوں کی لڑائی میں لڑکوں اور لڑکیوں کے دو گروہ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور مصنوعی لڑائی لڑتےہیں۔ اس کا مقصد محض دل بستگی ہے۔

    آسام کے بوڑ قبائل کا پیشہ زراعت ہے۔ اس لئے ان کے رقص کا کھیتی باڑی سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ مبا جنائی، بیسا کھو، نٹ ٹوجا اور بیہوان کے مشہور ناچ ہیں۔ سبا جنائی شادی بیاہ کے موقعوں پر ایک بیساکھو اور بیہو اس نام کے تہوار کے موقع پر پیش کیا جاتا ہے۔ نٹ پوجا ناچ دونوں ہاتھوں میں تلوار لے کر پیش کیا جاتا ہے جس کا مقصد شیو جی کو خوش کرنا ہوتا ہے تا کہ لڑائی میں وثمن پر فتح یابی ہو۔

    کُوکی ناگاؤں کے رقص میں چار، بانسوں کو آڑا اورترچھارکھا جاتا ہے۔ بانس کے آخری سرے پر ایک ایک آدمی ہوتا ہے۔ ڈھول کے تال پر یہ بیٹھے ہوئے شخص بانسوں سے بنی ہوئی اس مربع نما جگہ کو پسند کرتے اور کھولتے ہیں جب یہ جگہ کھل جاتی ہے تو رقاص اُچھلتے ہوئے اس میں اپنا پیر رکھ دیتا ہے اور جب بند ہونے لگتی ہے تو نکال لیتا ہے۔ خصوصاً اس وقت جب دو یا اس سے زیادہ آدمی اس  رقص میں مصروف ہوں اور ڈھول کی آواز تیز ہو جاتی ہے تو یہ رقص بڑا مشکل ہو جاتا ہے کیوں کہ ایک خاص سرعت سے پیر رکھنے اور باہر نکالنے میں بڑی مہارت کی ضرورت ہے۔

    منی پور

    منی پور، مشہور رقص منی پوری کا گھر ہے۔ یہاں رقص سے وابستگی اور دل چسپی عام ہے۔ یہاں ہر عورت کے لئے ناچ سے واقف ہونا گویا ضروری ہے۔ مرد بھی اس میں پیچھے نہیں گویا رقص ان کی زندگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ مشہور منی پوری رقص نے یہاں کے لوک ناچ ہی سے جنم لیا ہے۔

    کہاوت ہے کہ شیو اور پاروتی ہمالیہ کی گپھاؤں سے ایک ایسی جگہ کی تلاش میں نکلے جہاں رقص کر سکیں۔ منی پور کے پہاڑ کی ایک وادی انہیں پسند آئی جو پانی میں غرقاب تھی۔ شیو نے اپنا ترسول مارا پانی بہہ گیا اور اسٹیج نام ایک وسیع و خوبصورت جگہ نکل آئی۔ جہاں آج کل منی پور آباد ہے۔ یہاں انہوں نے جو رقص کیا ہے وہ لئی ہروبا کے نام سے مشہور ہے۔

    لئی ہر و بارقص کچھ حد تک مزہبی اور کچھ حد تک تفریحی ہے اور یہ گاؤں کے دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لئے ناچا جاتا ہے جن کی منی پور ومیں کوئی کمی نہیں۔ اس رقص میں مختلف علاقوں کے ذریعے دُنیا اور انسان کی تخلیق کا منظر پیش کیا جاتا ہے۔

    یہ رقص بہت زمانے سے عوام میں مقبول ہے اور منی پور کا سب سے پُرانا رقص ہے۔ منی پور کے تمام رقص بالواسطہ یا بلاواسطہ اسی سے نکلے ہیں۔

    منی پور کے رہنے والے نہ صرف اچھے رقاص ہیں بلکہ اچھے گویے بھی ہیں۔ کیرتن گانے کی سب سے مقبول شکل ہے۔ کیرتن میں جیسے جیسے گانے کی لَے تیز ہوتی ہے۔ گانے اور بجانے والے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور جھوم جھوم کر رقص شروع کرنے لگتے ہیں۔ کیرتن سے منی پور کے دو مشہور رقص نکلے ہیں۔ پنگ چولوں اور کرتل چولوں، چولوں کے لفظی معنی تیز حرکت کے ہیں۔ چوں کہ  ان دونوں رقصوں میں ڈھول اور مجیرا بجانے والے اپنے جسموں کو بہت تیزی سے حرکت میں لاتے ہیں گویا اپنی موسیقی کے شراب کے نشے سے خود ہی مخمور ہو جاتے ہیں اس نئے اس کو یہ نام دیا گیا ہے۔

    تھیل چونگبی ایک دل چسپ تفریحی ناچ ہے جو ہولی کے موقع پر ہوتا ہے۔ تھیل چونگبی کا مطلب ہے چاندنی میں اچھلنا اور کودنا۔ گویا چاندنی میں رقص و سرود کی محفلیں دل بستگی و دل چسپی کے لئے ہوتی ہیں۔

    مختلف قسم کی راس لیلائیں بھی رائج ہیں ان کی ابتدا تو حال میں(1700) ہوئی ہے مگر ان میں ایک صناعی اور فنی التزام پیدا کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ کلاسیکی رقص کے درجے تک پہنچ گئی ہیں۔ بسنت رس، کنج رس اور مہارس میں رادھا اور کرشن کے عشق و محبت کے مختلف وا قعات پیش کئے جاتے ہیں۔

    منی پوریوں کو ناچ پیش کرنے کا صلیقہ آتا ہے۔ رنگ برنگے لباس مناسب زیورات اور رقاصوں اور رقاصاؤں کی فنی مہارت ان کے ناچ کو بے حد دل کش بنا دیتی ہے۔

     

     

    بنگال

    گرودیو رابندرناتھ ٹیگور کی کوششوں سے بنگال میں لوک ناچ کی تجدید ہوئی۔ ان کے ادارے شانتی نکسین نے اس سلسلے میں بڑا کام کیا ہے۔ انہوں نے سنتحالی اور منی پوری لوک ناچ دریافت کیا۔ دوسرے رقصوں کی ہمت افزائی کی۔ اور بنگالیوں کے اس عقیدے کو جھٹلایا کہ بنگال کا اپنا کوئی لوک ناچ نہیں گرو مہائے دت نے برتا چاری تحریک چلائی جس نے بنگال کے لوک ناچ کو نوجوانوں میں مقبول بنایا۔ کیرتن کو بنگال کا تھیول ترین لوک ناچ کہہ سکتے ہیں۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سری چیتنہ اپنے وشنو یائی عقائد کا پرچار کرتے تھے۔ کیرتن بنیادی طور پر ایک اجتماعی رقص ہے۔ جس میں ہر فرقے، ذات اور عمر کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ یہ رقص بہت ہی سادہ ہے۔ اور کھول (ڈھول) کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ چوں کہ  کیرتن میں مذہبی جذبات اور شاعرانہ حسن ہوتا ہے اس لئے موسیقی بھی اس کے حسبِ حال رکھی گئی ہے۔ گانے والوں کی آواز بتدریج تیز ہوتی جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ رقص میں بھی تیزی اور تندہی آتی جاتی ہے۔ دیہات کے لوگوں میں گانے بجانے کا شوق ہے۔ باؤل گانے بڑے پیارے ہوتے ہیں۔ اس گانے کے ساتھ ساتھ رقص بھی کیا جاتا ہے۔ اکٹارہ کے ذریعے موسیقی دی جاتی ہے۔ یہ رقص کسی تہوار یا تقریب کے لئے مخصوص نہیں۔ کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ اس کا مظاہرہ ہو سکتا ہے۔

    بنگال میں جاترانامی تمثیلی رقص بھی تقریباً 4 سو سال سے رائج ہے۔ جاترا رقص پیش کرنے والوں کی ٹولیاں اِدھر اُدھر گومتی پھرتی ہیں۔ اس رقص کے ساتھ گانا بھی گایا جاتا ہے۔ جاتراہ کھانے والوں کی ٹولی پیشہ ورانہ ڈھنگ پر تیار کی جاتی ہے۔ عام طور پر اس میں کرشن لیلا دکھائی جاتی ہے۔ مگر سیاسی اور معاشرتی موضوعات بھی پیش کئے جاتے ہیں۔

    مالدہ ضلع میں ناچ اور گانے کا ایک خاص طریقہ ہے جسے گمبھیرا کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ رقص بھی کیا جاتا ہے۔ اس میں سیاسی اور معاشرتی مسائل اور مذہبی جذبات سبھوں کی عکاسی ملتی ہے۔

    بردوان اور بیربھوم ضلع کے بوریوں اور ڈوموں کا رقص "رائے بنشیے"کہلاتا ہے۔ اس کے ساتھ کنسی اور ڈھول بجوایا جاتا ہے۔ رقاص داہنے پیر میں گھنگھرو باندھتے ہیں اور منہ سے وحشیانہ چیخیں نکالتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا جنگی رقص ہے جس میں اشاروں سے تیرو کمان اور بحالے وغیرہ دشمنوں پر چلائے جاتے ہیں۔

    کتھی ناچ میں رقاص دونوں ہاتھوں میں لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ڈنڈوں کو آپس میں ٹکر آکر ایک خاص آواز پیدا کرتے ہیں۔ ناچتے ہوئے الگ الگ ہو کر مختلف شکلیں بناتے ہیں مگر لکڑی ٹکرانے یا قدموں کی موزونیت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ ایک رقاص اس دائرے کے اندر آ جاتا ہے اور ناچتا ہوا چاروں طرف گھومتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص گویا حراست سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈھتا ہے۔

    بہار

    پہاڑوں اور جنگلوں سے بھرا ہوا چھوٹا ناگ پور سنتحالیوں کا وطن ہے۔ ان کی آبادی مغربی بنگال اور اڑیسہ کے سرحدی اضلاع تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان کے رقص زیادہ تر دیہاتی زندگی کے کسی نہ کسی پہلو کی عکاسی کرتے ہیں جیسے نیل چنتا، فصل کاٹنا یا شکار کی تیاری کرنا ان کے بعدض رقص ہلکے پھلکے اور مزاحیہ بھی ہوتے ہیں جیسے سوکنوں کی لڑائی وغیرہ۔

    پورے چاند کی رات میں نوجوان ایک بڑا ڈھول بجاتے ہیں جس کا مقصد لڑکیوں کو رقص کی دعوت دینا ہوتا ہے۔ لڑکیاں موسم بہار میں اپنے کو پھولوں سے اور سرما میں پروں سے سجائے ہوئے جمع ہوتی ہیں۔ مرد ڈھول بجاتے اور گاتے ہیں۔ لڑکیاں ایک دوسرے کی باہوں میں باہیں ڈال کر ایک لمبی قطار بنا لیتی ہیں اور ڈھول کی تال پر ایک قدم آگے بڑھاتی اور پیچھے ہٹاتی ہیں سرا ور جسم کو تال پر جھٹکتی رہتی ہیں۔

    سرائے کیلا کے سنتحالی شہزادے کمار و جئے پرتاپ نے بعض لوک ناچوں کو ایک خاص ڈھنگ سے ترقی دی ہے۔ یہ چھاؤ (نقلی چہرے لگانا) رقص کہلاتے ہیں۔ بعضوں کے زدیک یہ رقص ہندوستان کا پانچواں بڑا رقص ہے۔ پہلے چار بھرت ناٹیم، کتھا کلی، منی پوری اور کتھک ہیں۔

    عام طور پر چھاؤ ناچ موسم بہار میں پیش کیا   جاتا ہے۔ نقلی چہرے بنانے کا فن کافی مہارت چاہتا ہے۔ جو سینہ بہ سینہ باپ سے بیٹے کو منتقل ہوتا ہے۔

    نقلی چہرے کے خطوط اور مختلف رنگ دیکھنے والوں کے دل میں وہی جذبات اور احساسات پیدا کر دیتے ہیں جو ان کا مقصد ہوتا ہے۔ چوں کہ  ان سے چہرہ چھُپ جاتا ہے ا س لئے چہرے یا آنکھوں سے کوئی کام نہیں لیا جا سکتا۔ اور اس رقص میں کامیابی کا انحصار رقاص کی مہارت پر ہوتا ہے جسمانی دل کشی پر نہیں۔ اس رقص میں صرف مذہبی قصے کہانیاں نہیں ہوتیں۔ بلکہ روزمرہ کی زندگی کے واقعات بھی پیش کئے جاتے ہیں۔

    جتا جتن متھیلی عورتوں کا رقص ہے۔ برسات کی چاندنی راتوں میں لڑکیاں اور نئی بیا ہتا عورتیں مکان کے آنگن میں جمع ہوتی ہیں۔ ڈھول بجایا جاتا ہے اور آدھی رات سے صبح تک یہ رقص جاری رہتا ہے۔ ناچ میں جتا اور جتن کی داستانِ محبت اشاروں و کنایوں کے ذریعے پیش کی جاتی ہے۔ اس رقص میں نقطہ عروج وہ ہوتا ہے جب ایک ظالم کشتی والا ناچنے والیوں کے اس حلقے کو توڑ کر خوبصورت جتنی کو اغوا کر لے جاتا ہے۔ محبت کرنے والے بچھڑ جاتےہیں اور طرح طرح کی مصیبتیں جھیلتے ہیں۔ مگر عام لوک کہانیوں کی طرح بچھڑے ہوؤں کا ملاپ ہو جاتا ہے اور قہقہوں کی گونج میں اس رقص کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

    چھوٹا ناگ پور کے ایک حصے میں ہو قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ کھیتی باڑی ان کا پیشہ ہے۔ زبان اور کلچر کے لحاظ سے یہ منڈا قبیلے سے بہت ملتے جلتے ہیں خوشی کے موقعوں پر خوب گاتے اور ناچتے ہیں۔ اس قبیلے کے نزدیک سال کا درخت بڑا متبرک ہوتا ہے اس لئے وہ اپنی آبادیوں کے نزدیک یہ درخت لگاتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ درخت ان کے دیوتاوسولی کا مسکن ہیں۔ وہ ناگے ایر، ہنڈی اپرا اور منگس دیوتاؤں کی بھی پوجا کرتے ہیں اور اُن کو خوش کرنے کے لئے ناچتے ہیں۔ تا کہ جان و مال محفوظ ہے۔

    موسم بہار میں اپنا ایک تہوار مناتے ہیں جس کا نام "با" ہے۔ اس موقع پر اپنے گھروں کو پھولوں سے سجاتے ہیں اور کئی طرح کے رقص کرتے ہیں۔

    اوراؤں قبیلے کا ناچ مختلف موسموں کے مطابق ہوتا ہے۔ موسم بہار میں جاور ناچ کرتے ہیں۔ اس رقص میں ڈھول بجانے والے ایسی آواز پیدا کرتے ہیں جو سمندر کی پُرشور آواز سے مشابہ ہوتی ہے۔ ناچنے والے اپنے پیروں کو اس طرح حرکت دیتے ہیں کہ سمندر کی موجوں کے لہریں مارنے کا سمان پیدا ہوتا ہے۔ لڑکیاں دونوں ہاتھ پھنسائے ایک قطار میں کھڑی رہتی ہیں اور اُچھلتے ہوئے دو قدم آگے بڑھتی ہیں اور پھر اپنے جسموں کو آگے کی طرف جھکائے اپنی جگہ واپس آ جاتی ہیں۔ پھر وہ بائیں طرف مڑتی ہیں۔ مرد ڈھول پیٹتے ہوئے اور زور زور سے چیختے ہوئے عورتوں کی طرف بڑھتے ہیں۔ جب عورتیں آگے بڑھتی ہیں تو وہ اس طرح واپس آ جاتے ہیں۔ جادر ناچ اوراؤں قبائل کا بڑا ناچ ہے۔

    موسم گرما کے رقص کا نام سرہل ہے۔ مرد اور عورتیں دویا اس سے زیادہ قطاروں میں کھڑے ہو کر ساتھ ساتھ ناچتی اور گاتی ہیں۔ اس کے ساتھ کوئی باجا نہیں بجایا جاتا۔ہو۔ہو۔ہو۔ کی آواز کے ساتھ رقص شروع ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ آواز بلند ہوتی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ رقص میں بھی تیزی آ جاتی ہے۔ سرہل ایک طرح کا رزمیہ رقص ہے۔ رقص فتح و مسرت کی پُرشور اور گونج دارآواز پر ختم ہوتا ہے۔

    برسات میں "کرم" رقص کیا جاتا ہے۔ لڑکے لڑکیوں کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہوتے ہیں اور دوسرا گروہ باجا بجاتا ہے۔ کرم کی فضا اور اس اور غمناک ہوتی ہے۔ جسم کی حرکتیں سُست ہوتی ہیں اور ڈھول بھی رُک رُک کر بجایا جاتا ہے۔ لڑکیاں ہر ایک اور آدھے قدم کے بعد آگے کو جُھکی ہوئی چڑیوں کی طرح پُھدکتی ہیں اور ایک پیر اوپر اٹھائے ہوئے دوسرے پیر سے اپنی جگہ واپس آ جاتی ہیں۔ جو لوگ باجا بجاتے ہیں وہ لڑکیوں کی طرف بڑھتے ہیں اور پھر سر جھکائے ہوئے خاموشی سے اپنی جگہ واپس آ جاتے ہیں۔ رقص کے دوران میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں اپنے کندھوں پر لکڑی کی چھڑی رکھے ہوتے ہیں۔

    برسات کے بعد متھا مجھری اور جُھمر رقص پیش کئے جاتے ہیں۔

    اُتر پردیش

    ہندوستان کے مشہور کلاسیکی رقص کتھک نے اس بھومی میں جنم لیا ہے۔ اس کا ثبوت موجود ہے کہ ایک زمانے میں یہ علاقہ لوک ناچوں کا گہوارہ تھا مگر جاگیردارانہ اثرات نے رفتہ رفتہ اس فن کو تقریباً ختم کر دیا۔ اب یہ فن بہت محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

    قدیم برج کے علاقے نے (جس میں ستھرا اور برندابن شامل ہے) کرشن کی بنسری کی تانیں اور رادھا کے محبت بھرے گیت سُنے ہیں۔ رادھا اور کرشن کی محبت کی داستان ہندوستان کے تقریباً تمام لوک ناچوں میں پیش کی جاتی ہے۔ قدرتی طور پر اس علاقے کا سب سے مقبول رقص کرشن لیلا ہے جس میں کرشن کے بچپن، جوانی، گوپیوں سے چھیڑ چھاڑ اور رادھا سے والہانہ عشق کے واقعات پیش کئے جاتے ہیں۔

    برج کے اضلاع میں ہولی کے موقع پر عورتیں خوب رقص کرتی ہیں۔ یہ رقص ہلکے پھلکے قسم کے ہوتے ہیں کیوں کہ یہ تہوار ہی سرمستی و سرخوشی کا ہوتا ہے ۔پوری فضا مختلف رنگوں اور عبیر و گلال سے   رنگین ہو جاتی ہے اور ایسی صورت میں اپنے آپ پر قابو نہیں رہتا اور انسان بےاختیار ہو کر تھر کنے لگتے ہیں۔

    اس علاقے میں ٹوٹنکی اب تک کافی مقبول ہے۔ اس میں گانا ، اداکاری اور ناچ سبھی کچھ ہوتا ہے۔ اس میں پیش کئے جانے والے کھیلوں کا موضوع عام طور پر مذہبی یا تاریخی ہوتا ہے۔ اکثر روزمرہ کی زندگی کے واقعات یا بعض سیاسی مسائل جیسے بھگت سنگھ کی شہادت وغیرہ بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ نُوٹنکی دکھانے والی پیشہ ورٹولیاں اب بھی اپنا تماشہ دکھاتی پھرتی ہیں۔ مگر ان کا معیار اب بہت پست ہو گیا ہے او ر پہلے کے مقابلے میں ان کی کوئی فن کارانہ حیثیت نہیں رہ گئی ہے۔ عام طور پر یہ غریبوں کی تفریح کا ذریعہ ہے مگر اب ان سے صرف برائی کی ترغیب ملتی ہے۔

    برسات کے آتے ہی کجری کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے۔ پانی کے چھینٹے گرمی سے نجات دلاتے ہیں۔ دیہات کی عورتیں باغوں میں جھولا ڈالتی ہیں۔ اور خوشی و مسرت کے گیت گاتی ہیں۔ ایک گروہ اُونچی اُونچی پینگ لگاتا ہے اور دوسرا تازہ بھیگی ہوئی زمین پر رقص کرتا ہے۔

    مسلم اثرات اور کٹر برہمنیت کی وجہ سے رقص کو ناپسندیدہ اور غیرشریفانہ فعل تصور کیا جانے لگا۔ اس کی وجہ سے اس ناچ کی ہر دل عزیزی محدود ہو کر رہ گئی۔ صرف پسماندہ ذاتوں میں اس کا شوق باقی رہا اور تقریباً ہر ذات نے اپنا ایک خاص ناچ اپنا لیا اور ان رقصوں کا نام بھی اُن کی ذات پر پڑ گیا۔

    اُتر پردیش کے ہیروں میں رقص کی روایت بڑی پُرانی ہے کیوں کہ روایت کے مطابق کرشن جی کا تعلق بھی اس ذات سے تھا۔ بچے کی پیدائش کی خوشی ہا یا شادی بیاہ کا موقعہ ڈھول اور مجیرے کے ساتھ ان کا ناچ شروع ہو جاتا ہے۔ ان کا لباس چُست جانگیہ ہوتا ہے جس میں گھنگرو تکے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ اپنے کمر کے گرد بھی گھنگرو باندھتے ہیں۔ جسم کا اوپری حصہ بازو یند اور نکلس وغیرہ سے مزین ہوتا ہے۔ ہرتال پر قدموں کو بڑی خوبصورتی سے اٹھاتے ہیں اور گھنگھرو سے بڑی دل کش آواز پیدا کرتے ہیں۔

    کہاروں کا مستی بھرا رقص"کہروا" بھی خوب ہوتا ہے۔ سب ساتھ مل کر گاتے بھی ہیں۔ اس رقص کے ساتھ ڈھول اور کرتال بجایا جاتا ہے۔ کہاروں کا رقص بڑا جوشیلا اور علاماتی ہوتا ہے۔ رقص کے نقطہ عروج پر رقاص بڑی تیزی سے   گھومنا شروع کر دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ناظرین کے تضننِ طبن کے لئے بعض فحش اور گندے اشارے بھی کر دئیے جاتے ہیں۔

    چماروں کا رقص نیم مزاحیہ ہوتا ہے لیکن اکثر مذہبی اور اساطیری قصے بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ اس میں دل لگی، مذاق اور مسخرے پن کا کافی مظاہرہ ہوتا ہے۔

    گو اُتر پردیش کے میدانی علاقوں میں یہ فن پوری طرح پپ نہ سکا لیکن ہمالیہ کے پہاڑی اضلاع میں اس کی نشو نما ہوتی رہی۔ 'جھورا' کمایوں کا رقص ہے جس میں ہر ذات کے مرد و عورت شریک ہوتے ہیں۔ باہوں میں باہیں ڈال کر ایک دائرہ بنا لیتے ہیں اور سادہ قدموں سے ناچتے ہیں۔ اس میں بہت سے لوگ شامل رہتے ہیں۔ کبھی آگے جھکتے، کبھی بیٹھتے اور کبھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔

    'چھپیلی' عاشقوں کا رقص ہے۔ مرد اور عورت کا ایک جوڑا ناچتاہے۔ عورت کے ایک ہاتھ میں رنگین رومال اور دوسرے میں آئینہ ہوتا ہے۔

    گڑھوال اور ہما چل پردیش کے سرحدی اضلاع میں رہنے والی قوم کئی طرح کا ناچ کرتی ہے۔ تحالی ان کی عورتوں کا رقص ہے۔ جڈا اور جھینٹا ناچ تہوار کے موقع کے ناچ ہیں اور اس میں مرد و عورت دونوں شامل ہوتے ہیں۔ 'تھورا" رقص کے ساتھ بڑے بڑے نقارے بجائے جاتے ہیں۔ اور ناچنے والوں کے ہاتھوں میں تلوار ہوتی ہے۔

     

    پنجاب

    بھنگڑہ اپنے جوش و سر مستی، زورو شور اور چستی و جانداری کی وجہ سے پنجاب کے کسانوں میں بہت مقبول ہے۔ اس لئے تمام خوشی کے موقعوں پر اس کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اس اجتماعی رقص میں کوئی بھی شخص شامل ہو سکتا ہے۔ رقاص ایک دائرے کی شکل میں گھومتے ہیں تا کہ جتنے لوگ چاہیں شامل ہوتے جائیں۔ ڈھول بجانے والا اپنے گلے میں ڈھول ڈالے ان کے بیچ میں کھڑا رہتا ہے اور کبھی کبھی زور و شور سے ناچ شروع کرنے کا اشارہ بھی کرتا جاتا ہے۔ بھنگڑہ کا کوئی بندھ ڈِکا اصول اور قاعدہ نہیں ہے۔ رقاص چکر لگاتے ہیں۔ اور ڈھول کی تال پر قدم اٹھاتے، تالیاں بجاتے اور اپنی لاٹھیاں ہوا میں اچھالتے ہیں۔ منہ سے ہوئے، ہوئے، ہوئے کی آوازیں نکالتے ہیں۔ اس رقص کا لباس خوب شوخ رنگ کی ریشمی پگڑی اور اس کے رنگ کی مناسبت سے رنگین لنگی، لمبا پنجابی کُرتہ اور سیاہ واسکٹ ہے جس میں سفید چمکتے ہوئے بٹن ٹکے ہوتے ہیں۔ پیروں میں گھنگھرو بھی بندھے ہوتے ہیں۔

    بھنگڑہ کی طرح گِدھا پنجابی عورتوں کا رقص ہے۔ یہ پُرانا مگر سادہ اور دل کش ناچ ہے۔ اس میں عورتیں دائرہ بنا کر رقص کرتی ہیں۔

    کلو کی وادی بھی مختلف قسم کے عوامی ناچوں کا گہوارہ ہے۔ اس وادی میں وسط مئی سے وسط اکتوبر تک برابر میلے لگتے رہتے ہیں جس کا مقصد مقامی دیوتاؤں کو کوش کرنا ہوتا ہے۔ پجاریوں کی دعوتیں ہوتی ہیں اور خوب ناچ گانا ہوتا ہے۔

    مٹی کے وسط میں جب گیہوں اور رجُو کی فصلیں پک کر تیار ہو جاتی ہیں تو ایک تہوار منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر دیوتا کی سجائی ہوئی مورتی باجےکے ساتھ مندر سے نکال کر باہر میدان میں لائی جاتی ہے۔ آس پاس کے گاؤں کے لوگ اپنی بہترین پوشاک پہنے اور پھولوں سے سجے شرکت کے لئے آتے ہیں۔ وہ اس مورتی کے گرد ایک دائرہ بنا کر رقص کرتے ہیں۔ ایک تازہ دم گروہ ہر وقت تیار رہتا ہے تا کہ جو تھک جائیں ان کی جگہ لے لے بعض دیہاتوں میں عورتیں اپنا الگ حلقہ بنا کر ناچتی ہیں۔

    دسہرے کے موقع پر اس وادی کے سب سے بڑے دیوتا رگھوناتھ کے ماننے والوں کا جلوس پُرانی راجدھانی سلطان پور میں نکلتا ہے۔ اس موقع پر آئے ہوئے لوگ تین دن تک مسلسل ناچتے رہتے ہیں اور مختلف ناچ پیش کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ناچتے ناچتے تھک کر زمین پر گر پڑتے ہیں۔

    ہما چل پردیش

    دسہرے کے موقع پر بہت سے لوگوں کا اکٹھے ناچنا ہما چل پر دیش میں عام ہے۔ بہرحال رقص صرف مذہبی تہواروں تک محدود نہیں ہے۔ یہاں کے رقص دیہاتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ یہ تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ یہاں کی گڈرنیوں کی ایک ٹولی نے 1954ء کے لوک ناچ کے تہوار کے موقع پر اکلوی انعام جیتا۔ ان عورتوں کا یہ رقص قدموں کی موزونیت، دلکشی اور فن کاری کا بہترین نمونہ تھا اور بےشک یہ اعزازان کے شایان شان تھا۔

    رجاستھان

    جھومر یا گھمر اس علاقے کا بہت ہی مقبول ناچ ہے۔ دیوالی اور ہولی وغیرہ کے موقعوں پر یہاں کی عورتیں یہ رقص پیش کرتی ہیں۔ یہ رقص سادہ مگر پُر کیف اور جاذب نظر ہوتا ہے۔

    مشرقی راجستھان کے سکھاوتی علاقے مین "گن داد" ناچ ہوتا ہے۔ ہولی سے پندرہ دن پہلے تمام ذات اور فرقوں کے لوگ اکٹھے جمع ہو کر ناچتے ہیں۔ ہر محلے میں ایک بڑا پلیٹ فارم بنایا جاتا ہے جس پر ڈھول بجانے والے کھڑے ہوتے ہیں اور لوگ رنگین پوشاکوں میں ملبوس اور ہاتھوں میں چھڑی لئے رقص کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ یہ ٹولی ایک محلے سے دوسرے محلے میں رقص کے لئے جاتی رہتی ہے۔

    رجستھان میں ایک تمثیلی رقص بھی چار سو سال سے رائج ہے جسے "خیال" کہتے ہیں۔ یہ رقص پیشہ وروں کی ٹولی پیش کرتی ہے اور دُور دُور تک جا کر لوگوں کا دل بہلاتی ہے۔ دورِ متوسط میں جاگیر دارانہ اثرات کی وجد سے لوک ناچ کو گھٹیا قسم کی چیز سمجھا جاتا تھا اس کی وجہ سے بہت سے فن کاروں کو اپنی ذات برادری سے الگ ہونا پڑا۔ ان لوگون کا ایک خاص فرقہ بن گیا جو بھاؤلی کہلاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چار سو سال پہلے ایک بڑے فن کار ناگوجی جاٹ نے اس فرقے کی بنیاد رکھی۔ بھاؤلی رقص کی نمایاں خصوصیت اس کی تیز رفتاری اور حرکات کا تنوع ہے۔ بھاوئیوں کو بچپن سے رقص کی تعلیم دی جاتی ہے اور وہ جلد ہی پیشہ ورانہ مہارت حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کی عورتیں رقص نہیں کرتیں بلکہ لڑکے زنانہ رول ادا کرتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایک عوامی رقص ہے۔ ان کے تمثیلی رقص میں مذہبی موضوعات ہی نہیں بلکہ روزمرہ کے واقعات بھی پیش کئے جاتے ہیں یا ڈھولا اور ماروکی داستانِ عشق دہرائی جاتی ہے۔ بعض اوقات اس میں ابتذال آ جاتا ہے تا ہم اس میں ہنسی اور مذاق کا عنصر کافی ہوتا ہے۔

    مارواڑ اپنے کٹھ پتلی ناچ کے لئے مشہور ہے۔ کٹھ پتلی والا اپنی کٹھ پتلیوں کو نچاتا ہے اور اس کی بیوی ڈھولک بجاتی اور گانا گاتی ہے جس میں کوئی کہانی بیان کی جاتی ہے۔ یہ تماشہ رات کو دکھایا جاتا ہے اور تقریبا2گھنٹے تک ہوتا ہے۔

    تھار کے ریگستانی علاقے میں تندرست و توانا سدھ جاٹ بستے ہیں۔ گرو گورکھ ناتھ کے یہ چیلے اپنے   جسمانی کرتبوں کے لئے مشہور ہیں۔ کافی آگ روشن کی جاتی ہے۔ بڑے بڑے ڈھول اور لمبے لمبے قرنے بجائے جاتے ہیں۔ گانا بھی گایا جاتا ہے۔ ان لوازم کے ساتھ رقص شروع ہوتا ہے۔ رقاصوں کی ایک ٹولی اس آگ میں کُود جاتی ہے اور تقریباً ایک گھنٹہ تک ناچتی رہتی ہے آگ کی حدت اور تپش کا ان پر کوئی ناخوشگوار اثر نہیں پڑتا۔

    پہاڑی اضلاع میں رہنے والے بھیل کئی طرح کے گروپ ڈانس پیش کرتے ہیں ان میں کُچھ پُرانے جنگی رقصوں کی یاد گار ہیں۔ شادی اور تہواروں کے موقع پر گُھمر رقص ہوتا ہے جس میں عورت اور مرد دائرہ بنا کر ناچتے ہیں۔ ہولی کے موقع پر گُھمر رقص ہوتا ہے جس مین عورت اور مرد دائرہ بنا کر ناچتے ہیں۔ ہولی کے موقع پر مرد ہاتھ میں لاٹھیاں لئے "گیر" رقص کرتے ہیں۔ یہ رقص بڑا زور دار اور جوشیلا ہے۔ گھمرا میں گھمر اور گیردونوں کی خصوصیتیں ہوتی ہیں۔ بھیلوں کا یہ رقص ان کے تمام رقصوں میں سب سے زیادہ دل کش ہے۔

    مدھیہ پردیش

    جنوبی مشرقی و ندھیہ پردیش، شمالی مشرقی مدھیہ پردیش، اریسہ اور آندھرا کے سرحدی اضلاع میں گونڈ آباد ہیں۔ 'کرم' ان کا خاص ناچ ہے۔ عورتیں باہوں میں باہیں پھنسائے سیدھی ناچتی ہوئی مستطیل کی شکل بناتی ہیں۔ جسم کو ایک خاص ڈھنگ سے جھٹکے دیتی ہیں۔ مرد الگ ایک دائرہ نما حلقہ بناتے ہیں اور جوش و خروش سے ناچتے ہوئے اپنی مردانگی کا اظہار کرتے ہیں۔ ناچتے ناچتے کچھ رقاص اپنے ساتھیوں کے کندھوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ مگر اس سے رقص کی موزونیت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ قدم ٹھیک ٹھیک اٹھتے ہیں۔ ڈھول کی تال عورتوں کی تالیوں اور جسم کی متناسب حرکتوں میں مکمل ہم آہنگی باقی رہتی ہے۔ بعد کو یہ رقاص کندھوں سے اُتر کر ناچنے والوں کے حلقے کے اندر چلے جاتے ہیں اور پھر اس حلقے کے اندر جانے اور باہر آنے کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں گویا آنکھ مچولی کھیل رہے ہوں۔ دھول زور زور سے بجنے لگتاہے۔ اور یہ حلقہ کافی ہنگامے اور شور کے درمیان ٹوٹ جاتا ہے اور رقص ختم ہو جاتا ہے۔

    گونڈوں کا ایک رقص پا بانسا بھی ہے۔ لمبے لمبے بانسوں میں پاؤں رکھنے کی جگہ ہوتی ہے۔ رقاص بانس کے اوپر ی سرے کو پکڑے ہوئے اُچھلتے اور ناچتے ہیں۔ توازن کس طرح برقار رہتا ہے۔ یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی ہے۔

    بستار کے قبائل بھی کئی طرح کا ناچ دکھاتے ہیں۔ پورے چاند کی رات کو "نورانی" ماگھ اور چیت میں دیواری اور "چسیت ڈنڈا" رقص کرتے ہیں جب کھیتوں میں بیج بوتے ہیں تو 'بیج پھوٹانی' اور ساون میں'گوڈو' رقص کرتے ہیں۔ پانی برسانے والی دیوی کو خوش کرنے کے لئے گھونجا ناچ کیا جاتا ہے۔

    اس قبیلے نوجان 'لکشمی جاگر' ناچ پیش کرتے ہیں۔ دیوی لکشمی کا ایک بُت سیملی کے درخت کے نیچے لا کر رکھا جاتا ہے۔ دور دور دیہات سے لڑکے اور لڑکیاں آتی ہیں اور ساری رات رقص ہوتا ہے۔ صبح یہ ٹولی اپنے گھروں کو واپس چلی جاتی ہے اور شام کو جمع ہو کر پھر رقص کرتی ہے اس طرھ ایک مہینے تک یہ ناچ ہوتا رہتا ہے۔

    اڑیسہ

    اس ریاست میں کئی طرح کے قبائل آباد ہیں۔ اس لئے آسام کی طرح یہاں لوک ناچ کی بہتات ہے۔ سوریا، گدایہ، جوانگ، کھونڈ، گونڈ، ئیے گا اور موریا قبائل کا اپنا الگ الگ ناچ ہے۔ شادی کے موقعوں پر موریا قبیلے کے لوگ اَرنَا بھینسا کے سینگ لگا کر رقص کرتے ہیں۔ ان کا یہ رقص بلاشبہ ہندوستان کے دل کش رنگین اور خوبصورت لوک ناچوں میں شمار ہو سکتا ہے۔

    میور بھنج کے حکمرانوں نے چھاؤ ناچ کی ایک خاص قسم کی سر پرستی کر کے اسے بہتر بنایا ہے۔ مگر یہ چھاؤ ناچ سرائے کیلا کے اسی نام کے رقص س مختلف ہے۔ پُرانا چھاؤ رقص اڑیسہ کے چھری بہادروں(پئے گاؤں) کا جنگی رقص ہے۔ مایا شواری گروپ ڈانس ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ست یگ میں وشنو جی نے ساگر منتھن کرتے وقت ایک حسین سا حرہ موہنی کی شکل اختیار کی اور مہادیو جی کو لُبھا لیا۔ پاروتی کو بہت غصہ آیا اور انہوں نے بھی اپنا بھیس بدلا اور شواری کی شکل اختیار کر کے اپنی سہیلیوں کے ساتھ کرشن جی رجھانے چلیں۔ کرشن پر ان کے حُسن کا جادو چل گیا اور وہ ان کے پیچھے پیچھے کیلاش پربت تک آئے۔ ٹھیک اسی وقت مہادیو نمودار ہوئے اور کرشن کو قتل کرنا چاہا۔ مگر پاروتی نے بیچ بچاؤ کیا اور بتایا کہ اس طرح انہوں نے اپنے شوہر کی بے عزتی کا بدلہ لیا ہے۔ کرشن شرمندہ ہوئے اور جان کی امان مانگی۔ اس رقص میں بڑے بڑے دیوی دیوتا معمولی انسانوں کی طرح پیش کئے جاتے ہیں۔

    میور بھنج کے بھومیا بھی کئی طرح کے ناچ کرتے ہیں۔ اکاوشی کے دن کرم رقص پیش کرتے ہیں۔ کرم کے معنی قسمت کے ہیں۔ یہ رقص شیو جی کو خوش کرنے کے لئے کیا جاتا ہے تا کہ خوب اچھی فصل پیدا ہو۔ عمر لمبی ہو اور زندگی خوشحالی میں گذرے ۔ جنگل سے ایک درخت کاٹ کر گاؤں میں لگا دیا جاتا ہے۔ ایک مٹی کے برتن میں کچھ مٹی بھر کر اس کے نیچے رکھ دیا جاتا ہے۔ دھان اور دوسرے محلے کا بیج (جنہیں خوش قسمتی کا بیج سمجھا جاتا ہے) اس برتن میں پھینکا جاتا ہے۔ جو لوگ اس رقص میں حصہ لیتے ہیں وہ اس دن برت رکھتے اور ساری رات رقص کرتے ہیں۔

    بھومیا اپنے ایک دیوتا بورو بوگنا کو خوش کرنے کے لئے جادر رقص کرتے ہیں۔ یہ تہوار کسی نزدیکی پہاڑ پر منایا جاتا ہے۔ جہاں سبھی جمع ہوتے ہیں اور چاول کی مقامی طور پر تیار کی ہوئی شراب پیتے ہیں واپسی میں پہاڑ سے ناچتے ہوئے اُترتے ہیں۔

    مدھیہ بھارت

    مدھیہ بھارت کے بھیل اور بنجارے کئی قسم کا رقص کرتے ہیں۔ بھیلوں کا ڈاگلہ رقص مردوں کے تفننِ طبع کا ذریعہ۔ 'پالی' رقص میں عورت مرد دونوں شامل ہوتے ہیں۔

    بنجارے راکھی پورنیما اور کالی آماوس اور ساون کے مہینے میں لنگی ناچ پیش کرتے ہیں۔ ناچ کے ساتھ گانا بھی ہوتا ہے جس میں پرتھوی راج چوہان کے بہادری کے قصے ہوتے ہیں۔" گھیرو رقص" میں مرد ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ناچتے ہیں۔ کمچھینو ناچ میں 6یا8آدمی ایک دائرے کی شکل میں ناچتے ہیں۔ ہر رقاص کے کندے پر ایک آدمی سوار ہوتا ہے۔ ہولی کے دن رنگ کھیلنے کے بعد یہ لوگ ہاتھ میں تلوار لے کر "پھگ" ناچ کرتے ہیں۔

    قاعدے کی رو سے عورتیں مردوں کے ساتھ شامل نہیں ہوتیں مگر الگ رقص کر سکتی ہیں۔ ان عورتوں میں "لوٹا" اور "سوندریہ" رقص بہت مقبول ہے۔ لوٹا ناچ میں عورتیں اپنے سروں پر پانی سے بھرا گھڑا رکھ کر ناچتی ہیں۔ ایسا توازن پیدا کرنا کہ گھرے گر نہ جائیں بڑی مہارت چاہتا ہے۔ اور اس لئے یہ ناچ بہت دل چسپ ہوتا ہے۔ سوندریہ رقص میں ان کی دو قطاریں آمنے سامنے کھڑی ہوتی ہیں۔ یہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اپنے جسم کو آگے اور پیچھے جھٹکتی ہوئی رقص کرتی ہیں ساتھ ساتھ گانا بھی گاتی جاتی ہیں۔

    گجرات

    گربا گجرات کا مشہور رقص ہے۔ اور اسی نام کے گیت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ نور اتری کے تہوار کے موقع پر ایک برتن(جسے گربی کہتے ہیں) ہر گھر میں ر کھا جاتا ہے۔ اس برتن کے اوپر طرح طرح کے نقش و نگار بنائے جاتے ہیں اور اس کے اندر ایک دیا جلا دیا جاتا ہے۔ دیہات کی لڑکیاں سروں پر اپنی اپنی گربی رکھے ایک گھر سے دوسرے گھر جاتی ہیں۔ اور اس گھر مین اکٹھی ہو کر گُربی کے چارون طرف رقص کرتی ہیں جس میں گھر کی مالکن بھی شریک ہوتی ہے۔ رقص کے بعد ان میں مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ اس ٹولی کی ایک لڑی گانے کا پہلا مصرع گاتی ہے۔ اور باقی سب مل کر اس بول کو دہراتی ہیں اور ساتھ ساتھ تالیاں بجا کر تال دیتی جاتی ہیں۔ ہر قدم پر وہ بڑے حسین انداز سے اِدھر اُدھر جپھک جاتی ہے۔ ہاتھ اوپر اور نیچے لے جا کر تالیاں بجائی جاتی ہیں۔

    حالاں کہ گجرات لسانی اور تہذیبی طور پر سوراشٹر کا ایک حصہ ہے لیکن جاگیر دارانہ اثرات کی وجہ سے پسماندہ رہ گیا۔ مگر اس پسماندگی اور جدید اثرات کے زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے قبائلی اور پچھڑے ہوئے طبقوں کا لوک ناچ اپنے اصلی رنگ میں محفوظ بھی رہ گیا۔ سورا شٹر میں بعض بڑے اچھے رقص ہیں جن کا تعلق مزدوروں کی زندگی سے ہے۔ جس کی ایک مثال ٹپانی رقص ہے۔ کولی عورتیں اس کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ پُرانے طرز کے مکانوں کی تعمیر میں چھت کوٹنے کے لئے ان عورتوں کو رکھا جاتا تھا۔ یہ عورتیں تپانی(لکڑی) کا ایک موٹا ڈنڈا، جس کا نچلا حصہ چپٹا ہوتا ہے اور فرش کوٹنے کے کام میں آتا ہے) ہاتھوں میں لئے رقص کرتی ہیں۔ ڈنڈے کے اوپر ہی سرے پر گھنگھرو بندھے ہوتے ہیں۔ دائرہ یا نصف دائرہ بنائے یہ عورتیں بڑی صفائی اور فن کاری سے رقص کرتی ہیں۔ اس دوران میں ٹپانی کو زمین پر مارتی ہیں اس کے دھماکوں اور گھنگھرو کے چھنا کوں سے بڑی دل کش صدا پیدا ہوتی ہے اور یہ آواز گویا رقص کے تال کا کام دیتی ہے۔ اس رقص میں بڑی حقیقت نگاری اور فن کاری ہوتی ہے۔

    گریا، سٹائل میں کرشن لیلا بھی پیش کی جاتی ہے۔ اس میں مرد بھی شامل ہوتے ہیں۔ گربا گیت بہت پُرانے ہیں۔ اس میں رادھا کرشن کی محبت کی داستان ہوتی ہے۔ اب گربا میں جدید موضوعات بھی پیش کئے جا رہے ہیں۔

    کہا جاتا ہے کہ کرشن جی نے سورا شٹر پر تقریباً سو سال تک حکومت کی ہے۔ اس لئے رقص کی بہت سی روایات کی ابتدا انہیں کے وقت سے ہوئی ہے۔ یہاں کا کون سا آرٹ ہے جس پر کرشن کی متنوع شخصیت کی چھاپ نہیں ہے۔ کرشن جی کی بہو اُوشا آسام کی رہنے والی تھیں انہوں نے سوراشٹر میں لسیہ نرتیہ(گربا) کو مقبول بنایا۔ خود کرشن جی کواس نرتیہ کا بانی کہا جاتا ہے۔

    مہاراشٹر

    موگری رقص کو بجا طور پر مہاراشٹر کا سب سے اہم عوامی رقص قرار دیا جاتا ہے۔ اس رقص کے لئے ٹولیوں کی ترتیب اور تقسیم کئی طرح سے کی جاتی ہے۔ مہاراشٹر کا کون سا ایسا ناچ ہے جس کی تکنیک اس رقص میں استعمال نہیں کی جاتی۔

    اس رقص میں اچھلنا، کُودنا، جھکنا اور دوزا نو بیٹھنا سبھی کچھ شامل ہوتا ہے۔ موگری کو چاریا آٹھ بار پھیرا جاتا ہے۔ موگری کے ہر پھیر کے ساتھ رقص کی ایک جنبش یا حرکت ادا کی جاتی ہے۔ اس طرح رقص میں تناسب اور موزونیت آ جاتی ہے۔ موگری رقص جسم و صحت کے لئے بہت مفید ہے۔ اس لئے بہت سے اسکولوں میں یہ رقص ورزش کے طور پر کرایا جاتا ہے۔

    دہی کلا یا دہی ہنڈار قص عوام میں بہت مقبول ہے۔ یہ رقص گوکل اشٹمی کے موقع پر کیا جاتا ہے۔ کرشن جی نے اپنے بچپن میں دہی چُرایا تھا۔ یہ رقص اسی کی یادگارہے۔ اس تہوار کے موقع پر گاؤں کے مندر اور ہر گھر کے دروازے پر ایک ہانڈی لٹکائی جاتی ہے جو دہی سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ رقاصوں کی ٹولی سب سے پہلے مندر کے دروازے پر لٹکی ہوئی ہانڈی پھوڑتی ہے اور "جے گوندا" کے نعرے لگاتی ہوئی گھروں کی طرف رُخ کرتی ہے۔ پانچ سات آدمی لوگوں کے کندھے پر چڑھ کر کھڑ ہو جاتےہیں اور پھر ایک چھوٹا لڑکا کرشن جی کا روپ بھرے ہوئے ان کے کاندھے پر سوار ہو جاتا ہے۔ اور ہانڈی کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ جونہی ہانڈی پھوٹتی ہے دہی حاصل کرنے کے لئے شورو ہنگامہ مچ جاتا ہے۔ اس طرح یہ گروہ ناچتے گاتے ہوئے ایک گھر سے دوسرے گھر کا رُخ کرتا ہے۔

    نکٹارقص کافی مزاحیہ ہوتا ہے۔ اس مین گولی، گولن اور نکٹا تین افراد حصہ لیتے ہیں۔ نکٹا نقاب لگائے اور ایک خاص لباس پہنے ہوئے ہوتا ہے۔ باجے کی آواز پر رقص ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گانا بھی گایا جاتا ہے جسے مختلف حرکات و سکنات کے ذریعے اس رقص میں پیش کیا جاتا ہے۔ نکٹاکی ہر حرکت بڑی مضحکہ ہوتی ہے۔ جس سے خوب ہنسی آتی ہے۔ وہ یک بیک منہ سے ڈراونی آواز نکال کر بچوں کو ڈرا دیتا ہے۔ بچوں کو تیر کا نشانہ بھی بناتا ہے۔ جس سے وہ خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ تیر کمان سے بندھا ہونے کے باعث نکلتا نہیں ہے۔ اس پر خوب ہنسی   ہوتی ہے۔

    گولیا چھا ناچ ملاحوں کا رقص ہے۔   چھوٹے چھوٹے پتوار ہاتھوں میں لے کر یہ دو قطاروں میں کھڑ ے ہو جاتے ہیں اور اس طرح ہاتھ چلاتے ہیں گو یاناؤ کھے رہے ہیں۔ ان کا جسم آگے اور پیچھے جُھکتا ہے۔ مختلف حرکات و سکنات کے ذریعے وہ دریا کی موجوں میں کشتی کے ہچکولے کھانے کا منظر پیش کرتے ہیں۔

    "تماشا" مہاراشٹر کا عوامی اوپرا ہے۔ اس کا مقصد فوجیوں کی تفریح و دل بستگی اور ان میں بہادری اور مردانگی پیدا کرنا ہے۔ برطانوی حکمت کے دور میں یہ رقص گھٹیا پن اور فحاشی کی وجہ سے لوگوں میں غیر متبول ہو گیا تھا اس کو آلائشوں سے پاک و صاف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تا کہ عوامی تفریح کا ایک معقول ذریعہ بن جائے۔

    "پُھنگڑی" مہاراشٹری لڑکیوں کا دل پسند ناچ ہے۔ یہ ایک طرح کا کھیل ہے۔ اس میں عموماً دو لڑکیاں شریک ہوتی ہیں۔ لڑکیاں آمنے سامنے کھڑی ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے کے ہاتھوں کو آڑی گرفت(کیکلی) میں لے لیتی ہیں۔ دونوں کے پیر ایک جگہ، جسم پیچھے کو جُھکا ہوا اور بازو پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ چکر کھانا شروع کر دیتی ہیں اور اس وقت تک گھومتی رہتی ہیں جب تک کہ تھک کر چور نہ ہو جائیں۔

    پُھنگڑی کی اور بھی کئی قسمیں رائج ہیں۔ یہ خوشی و مسرت کا رقص ہے۔ اس سے کافی جسمانی ورزش بھی ہو جاتی ہے۔ اس لئے لڑکیوں کے بہت سے اسکولوں میں اسے جسمانی ورزش کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔

    دکن

    دکن میں بھی عوامی انچ کی کوئی کمی نہیں ۔ نیم خانہ بدوش بنجاروں کا رقص آنکھوں کو دعوتِ نظارہ دیتا ہے۔ بنجاروں کی تقریباً ہر عورت ناچ اور گانےسے واقف ہوتی ہے۔ کیوں کہ رقص نہ جاننے کی صورت میں شادی مشکل سے ہوتی ہے۔ ان کے اس سادہ مگر دل کش رقص میں ان کی روزمرہ زندگی کی جھلک ملتی ہے۔ جیسے فصل بونا، کاٹنا اور پود لگانا وغیرہ ۔ چمکتی ہوئی ٹکلیوں اور کانچ کے موتیوں سے ٹکا ہوا ان کا لباس بڑا دل فریب ہوتا ہے۔ کافی زیورات بھی پہنچے جاتے ہیں۔

    شمالی حیدر آباد کے گونڈ قبائل و سہرہ کے تقریباً دو ہفتے کے بعد اپنا تمام کام بند کر کے تہوار مناتے ہیں۔ رقاصوں کا گروہ اپنا بہترین لباس پہنے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں ملنے جاتا ہے۔ نوجوان تیز تیز چلتے ہوئے آگے ہوتے ہیں۔ ان کے پیچھے باجا بجانے والے ہوتے ہیں۔ بوڑھے سب سے آخیر میں ہوتے ہیں۔ پھر سبھی ساتھ مل کر ناچتے ہیں۔ ہاتھوں میں چھڑیاں ہوتی ہیں جسے وہ ایک دوسرے سے ٹکرا کے تال دیتے ہیں۔ یہ دائدریا رقاص کہلاتے ہیں۔

    کیرل اور تامل ناڈوکی جوان لڑکیاں کوٹم(چھڑیوں) رقص کرتی ہیں۔ کیرل اور جنوبی علاقے کی عورتوں میں کمی ناچ بھی مقبول ہے۔ عورتیں دائرہ بنا کر ناچتی ہیں اور ہاتھ کے اشاروں سے فصل بونے اور کاٹنے ما سماں پیدا کرتی ہیں۔

    کیرل کا موہنی اَٹم بڑا دل فریب رقص ہے۔ وشنو جی ایک خوبصورت لڑکی موہنی کے بھیس میں مہا دیو کو لبھانے نکلے تھے۔ یہ رقص اس کہانی پر مبنی ہے پسماندہ ذاتوں میں پۃلایان رقص مقبول ہے۔ یہ رقص اس طرح کیا جاتا ہے گویا کُشتی لڑی جا رہی ہو۔

    مشہور کلاسیکی رقص کتھا کلی ایکشن گان اور اُتم تلل سے نکلا ہے۔ یہ دونوں رقص اب تک موجود ہیں۔ کلیش گان کا مظاہرہ کرتاٹک کے علاقے میں ہوتا ہے۔ یہ گاؤں والوں کی تفریح کے لئے ایک سیدھا سادہ تمثیلی ناچ ہے۔ موسم گرما کی فصلوں کی کٹائی کے بعد یہ رقص کھلے میدانوں میں پیش کیا جات اہے۔ رقاصوں کا لباس کتھا کلی سے ملتا جُلتا ہوتا ہے مگر اتنا رنگا رنگ اور پچیدہ نہیں ہوتا۔ اس میں صرف دو کردار سومیہ (غیر) رودرا (شر) ہوتے ہیں۔ قصے عام طور پر رامائن اور مہا بھارت سے لئے جاتے ہیں۔ کھیل کے بیچ بیچ میں یا خاص سین کے اختتام کے بعد گانا بھی ہوتا ہے جسے یہ اداکار خود گاتے ہیں۔

    اُتم تلل کو کیرل میں "غریبوں کی کتھا کلی" کہا جاتا ہے۔ کتھا کلی کے مقابلے میں یہ رقص ذرا ہلکا اور مختصر ہوتا ہے۔ اس کے لفظی معنی "اُچھلنا اور دوڑنا" ہیں۔ کتھا کلی رقص کا لباس پہنے ایک اکیلا رقاص اس کا مظاہرہ کرتا ہے۔

    تامل تاڈ کا لوک ناچ کُرونجی کہلاتا ہے۔ مشہور کلاسیکی رقص بھرت ناٹیم اسی سے نکلا ہے۔ کوراتی خانہ بدوش یہ رقص پیش کرتے ہیں۔ ان کے گذراوقات کا ذریعہ قسمت کا حال بتایا ہے۔ خوبصورت کوراتی لڑکیاں دیہاتوں میں گھومتی رہتی ہیں۔ تھوڑی سی رقم دے کر ان کا رقص بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ قسمت کا حال بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس کی تکنیک بھرت ناٹیم کے مقابلے میں بالکل سادہ ہے مگر یہ ناچ اپنی سادگی کے باوجود بڑا بھلا لگتا ہے۔ زمانہ جدید کے کلاکاروں نے ابھی حال میں مدراس میں کئی کُرونجی بلے ترتیب دئیے اور پیش کئے ہیں۔ اس سے اُمید بندھئی ہے کہ یہ عوامی رقص زندہ رہے گا۔

    ہمارے لوک ناچ ہماری تہذیبی زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ انہیں محفوط رکھنے اور ترقی دینے کی ضرورت ہے تا کہ عوامی تفریح کا یہ ذریعہ باقی رہے۔