ہندوستان میں رقص کی تربیت گاہیں
ہندوستان میں رقص کی تربیت گاہیں
گذشتہ پچیس تیس برسوں سے ہندوستان میں ایک نئی فنی بیداری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس مدت کو ہندوستانی آرٹ کی نشاۃ ثانیہ کہا جا سکتا ہے۔ گوڑ دیوار ابندر ناتھ ٹیگور نے نہ صرف اس تجدیدی تحریک کی بنیاد رکھی بلکہ ہندوستانی آرٹ کی روایات کو نئے معنی و مفہوم سے آشنا کرنے کی ضرورت کو بھی محسوس کیا۔ انہوں نے بدلتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا اور ہندوستانی آرٹ کو صحیح اور تخلیقی راستوں پر لگایا۔ جو لوگ فنونِ لطیفہ کے احیاء کی کوششوں میں پیش پیش تھے۔ گرو دیوان کے لئے روشنی کا مینار تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سب سے پہلے آرٹ کی تعلیم کو بدلتی ہوئی تہذیبی، سماجی اور سیاسی قدروں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت محسوس کی۔
آرٹ کی تعلیم کا صدیوں پُرانا اُستادی شاگردی کا طریقہ (گردشِش پرمپرا) اور دوسری روایتیں تیزی سے ملتی اور اپنی سابقہ اہمیت سے محروم ہوتی جا رہی تھیں۔ اسی وقت آرٹ کی سرپرستی کے میدان میں بہت بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ فونونِ لطیفہ کے سرپرست امراء شرفاء اور زمیندار ہی سمجھے جاتے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ اب عامیوں کا ایک ایسا طبقہ پیدا ہوتا جا رہا تھا جو اُن کی جگہ لے رہا تھا۔ ان بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر آرٹ کی تعلیم کو ایک نئی بنیاد، ایک نئی تنظیم اور ایک نئے نقطہ نظر کی ضرورت تھی۔
بنگال میں آرٹ کی تعلیم کے لئے ایک ادارہ شانتی نکیتن قائم کر کے جواب عالمگیر شہرت کا مالک ہے، ٹیگور نے ایک نہایت اہم تاریخی ضرورت کو پورا کیا ہے۔ یہ امر ہمارے ملک کی ذہانت و فطانت کا ایک بین ثبوت بھی ہے کہ یہ پُرانی روایات اور قدروں کو مجروح کئے بغیر اپنے آپ کو حالات کے اقتضاء کے مطابق نئے سانچے میں ڈھال لیتا ہے اور نئی باتوں سے مفاہمت پیدا کر لیتا ہے۔ اپنے ۔۔۔۔۔میں ٹیگور نے پُرانی مگر بہترین روایات کو بھی برقرار رکھا اور نئی قدروں کو بھی اپنایا۔ اس طرح دونوں کے امتزاج نے ایک نیا حسن پیدا کیا۔ مناسب ہو گا کہ آرٹ کی تعلیم کے میدان میں شانتی نکیتن کی کارگذاریوں کا جائزہ لیا جائے۔ اس لحاظ سے نہیں کہ آرٹ کی تعلیم میں اس کا کیا حصہ رہا ہے۔ بلکہ اس نقطہ نظر سے کہ یہ ادارہ آرٹ کی تعلیم کا پیش رو تھا۔ اس نے اپنی مثال سے ہندوستان میں آرٹ کی تعلیم کے مستقبل کو کسی حد تک متاثر کیا اور ہندوستانی آرٹ کو کون سی شکل و صورت اختیار کرنے میں مدد دی۔
شانتی نکیتن میں ٹیگور نے نہ صرف آرٹ کی تعلیم سے متعلق نئے خیالات کو آزمایا بلکہ رقص و موسیقی کے ایک اسکول کی بنیاد رکھی۔ جو ان ہی کے نام سے موسوم ہے۔ آرٹ اور اس کی تعلیم کی دُنیا میں ٹیگور کے ان تجربات سے سارا ملک گونج اٹھا۔ اور یہ آرٹ کی سرگرمیوں کو تیز تر کر دینے کا باعث ہو گئے۔
مشہور رقاص اودے شنکر نے ہندوستان میں رقص کے تجدید کی بڑی قابل قدر کوششیں کی ہیں۔ یہ ٹیگور کے ابتدائی اثرات و مساعی سے بہت حد تک متاثر ہوئے اور غالباً ان اثرات کی پیدا کردہ سب سے ممتاز شخصیت ہیں۔ الموڑہ میں اودے شنکر کلچر سنٹر(تہذیبی مرکز) قائم کرنے کے لئے ہم ان کے احسان مند ہیں کیوں کہ اس ادارے نے رقاصوں کی پوری ایک نسل کو ترتیب دی تھی۔ جدید اصناف رقص کا بیج بھی یہیں بویا گیا تھا۔
اس مرکز کے تربیت یافتہ طلباء کی ایک ٹولی کے ساتھ اودے شنکر نے پوری دنیا کا سفر کیا اور لوگوں کو ہندوستانی رقص سے روشناس کرایا۔ ان ہی کے ذریعے مغربی دُنیا پہلی بار ہندوستانی رقص سے واقف اور اس کے فنی حسن کی معترف ہوئی۔
ملک کے تقریباً تمام حصوں سے طلبا اس مرکز میں تربیت حاصل کرنے آتے تھے۔ اس وقت جدید رقص کی دُنیا میں جس کا بھی کوئی نام یا مقام ہے ہو یا تو اس مرکز کا تربیت یافتہ ہے یا اسے اس مرکز سے تحریک او ر ترغیب ملی ہے۔
یہ ملک کی انتہائی بدقسمتی ہے کہ اس ادارے کو اس وقت بند کر دینا پڑا جب یہ اپنی عظمت و شہرت کی انتہائی بلندیوں پر تھا۔ ہندوستانی رقص کو اس ادارے کے ختم ہو جانے کی وجہ سے غیر معمولی نقصان پہنچا ہے۔ کیوں کہ اس وقت یہی ایک ایسا ادارہ تھا جو جدید اصناف رقص کو نئے معنی و مفہوم، نئی وسعتیں اور بلندیاں دے رہا تھا۔
ہندوستانی کلاسیکی رقص کے چاروں اصناف کتھا کلی، بھرت نائیم، منی پوری اور کتھک کی تعلیم کے لئے مشہور فن کاروں کے ایماء پر ادارے قائم کئے گئے۔ یہ ادارے ان علاقوں میں قائم ہوئے جہاں یہ قبول تھے۔ مندرجہ ذیل سطور میں چند مشہور و معروف تربیت گاہوں کی سرگرمیوں کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔
کلاکشینز
1936ء میں شرمیتی رکنی دیوی نے آویار د(ریاست مدراس) میں ایک تہذیبی مرکز(کلچرل سنٹر) قائم کیا تھا جو اب ساری دنیا میں مشہور ہے۔ یہ ادارہ ملک میں رقص کی چند بہترین تربیت گاہوں میں سے ہے۔ حسین ماحول اور خوبصورت گرد و پیش کے درمیان یہ مرکز بڑے خلوص سے اپنے کام میں لگا ہوا ہے۔ یہاں سبھوں نے اس فن کو سیکھنے و سکھانے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں کیوں کہ ان کا مقصد آرٹ کی خدمت کرنا ہے سستی تفریح کا ذریعہ فراہم کرنا نہیں۔ اس ادارے میں رقص کی تقدیس و عظمت کا پورا لحاظ رکھا جاتا ہے اور کلاسیکی روایات کی بڑی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ جب کبھی کسی نئے قسم کے رقص کا تجربہ کیا جاتا ہے تو بھی طلبا کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ کلاسیکی رقص کے لوازم سے انحراف نہ کریں تا کہ اس رقص کا خالص پن باقی رہے اور کسی ملاوٹ کا شکار نہ ہو جائے۔ کلاسیکی رقص کو اپنی اصلی اور خالص شکل میں محفوظ اور برقرار رکھنے کی غرض سے کلاکشیتر نے بھرت ناٹیم اور کتھا کلی کے چند بہترین رقاصوں کو استاد کی حیثیت سے مقرر کیا ہے۔
بہرحال آرٹ میں کلاسیکی روایات کی اس حد تک پیروی نہیں کرنی چاہیے کہ آرٹ بے روح ہو کر رہ جائے۔ لوک ناچ کی بعض لچک دار قسموں اور کلاسیکی طرزوں کی آمیزش سے رقص کی نئی نئی شکلیں پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ اسی طرح کلاکشیتر قدامت کی خشکی اور بے رنگی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ ابھی حال میں اس مرکز نے، کٹ رالا کورونجی، بیلے ڈانس سیمنار کے موقع پر پیش کیا تھا۔ یہ بیلے تامل ناڈکے روائتی تمثیلی رقص کو رودنجی پر مبنی تھا۔ اس بیلے کو دیکھ کر کلاکشیتر سے بڑی امیدیں بندھتی ہیں۔ ہندوستانی رقص کو ادارے سے بہت فائدہ پہنچا ہے۔
کلاکشیتر کا تعلیمی نصاب ایسا نہیں رکھا گیا ہے جو صرف کسی آرٹ کی ٹیکنیکل باریکیوں سے واقف کرا دے بلک اس کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ فرد کو اپنی شخصیت کو پوری طرح اُبھارنے کا موقع ملے۔
کلاکشیتر نے اپنی زندگی کے تقریباً پچیس سال پورے کر لئے ہیں۔ روز بروز یہ ادارہ بڑھتا ہی جا رہا ہے اور آج یہ صرف رقص کی تربیت گاہ ہی نہیں ہے بلکہ تعلیم و علم حاصل کرنے کا ایک بہت بڑا مرکز بن گیا ہے۔ اس کے نصاب میں مختلف نوعیتوں کے مضامین شامل ہیں جیسے عام تعلیم، آرٹ و دستکاری کی ٹریننگ، تحقیقات و مطبوعات اور اساتذہ کی ٹریننگ وغیرہ۔ ہندوستان بھر سے اور بعض بیرونی ممالک کے طلباء یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ ملک کی مختلف تربیت گاہوں میں یہیں کے فارغ التحصیل طلباء رقص کا درس دے رہے ہیں۔
آج کلاکشیتر اپنے بانی اور صدر شرمیت رکمنی دیوی کی رہنمائی میں ہندوستانی تہذیب و علم کے حصول کا ایک بہت بڑا مرکز بن گیا ہے۔
بھارتیہ کلاکیندر
تقسیم کے بعد دہلی میں بہت سے ادارے قائم ہوئے۔ اس کی وجہ کچھ حد تک تو سرکاری سر پرستی اور ہمت افزائی تھی اور کچھ حد تک سارے ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی تہذیبی سرگرمیاں تھیں۔
ان اداروں میں بھارتیہ کلاگیندر نے بڑی تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کر لیں۔ یہ ادارہ بنیادی طور پر رقص و موسیقی کی علیٰ تعلیم دینے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ رقص و موسیقی کی اعلیٰ اور ماہرانہ تعلیم کی راہ میں مختلف گھرانوں کی چشمکیں اور استادوں اور گوروؤں کی کامیابی سب سے بڑی رکاوٹ تھی جس کسی نہ کسی راج دربار سے متعلق تھے۔ شمالی ہندوستان کے رقص و موسیقی کے بہترین استادوں اور ماہرین کو مقرر کر کے کلاکیندر نے ان مشکلات پر قابوپانے کی کوشش کی ہے یہاں جو فن کار اساتذہ کی حیثیت سے مقرر ہیں وہ اپنی فن کاری اور استادی میں بے مثل ہیں اور شمالی ہندوستان کا کوئی ادارہ اس لحاظ سے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پم سری شمبھو مہاراج، سندر پرشاد (جنہیں بہترین کتھک رقاص کی حیثیت سے اکادمی اعزاد دیا گیا) اور با صلاحیت نوجوان فن کار جو مہاراج بھارتیہ کلا کیندر کی زینت ہیں۔ ان سارے کا علانِ فن کا یکجا جی ہو جانا یقیناً کتھک کے مستقبل کو روشن اور تابناک بنانے کا باعث ہو گا۔
کتھک سکھانے والے اداروں میں بھارت کلاکیندر کو قبالِ فخر مقام حاصل ہے۔ یہاں کتھک کی ٹریننگ کو دو خاص حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ ایک طرف کتھک کی اصلی اور خالص تعلیم دی جاتی ہے، دوسری طرف اس روایتی فن کو ماہرین کی نگرانی میں نئے طریقے سے برتا جاتا ہے۔ اس کیندر کے بیلے سیکشن نے جو بیلے پیش کئے تھے خوب تھے۔
رقص کے جدید اصناف کی ترقی کے لئے اس کیندر میں ایک بیلے نسٹر بھی ہے۔ اس مرکز کی پہلی پیش کش، رام لیلا، دو سال کے عرصے میں دلی دو بار پیش کی گئی۔ اس کامیابی پر خوشی اور اعتماد دونوں کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ ایک سوفٹ چوڑا اسٹیج بنایا گیا تھا جس میں 60 اداکاروں اور موسیقاروں نے حصہ لیا۔ اس رزمیہ داستان (ایپک) کو جس ڈھنگ سے پیش کیا گیا اور تین گھنٹوں تک ہزاروں ناظرین کو سبہوت و مسحور رکھا گیا وہ یقیناً قابلِ تعریف ہے۔
اس کی سرگرمیوں میں رقص کے مختلف پروگرام بھی شامل ہیں۔ اس ادارے نے 1900ء میں رقص کا پہلا قومی جشن منعقد کیا تھا۔ ہندوستانی رقص کی تاریخ میں یہ اقدام بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ کیندر 1952ء میں قائم ہو کر ارتقاء کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ اس تھوڑے سے عرصے میں اس ادارے نے جو کار ہائے نمایاں کئے ہیں اسے دیکھتے ہوئے اس کے شاندار مستقبل کی پیشن گوئی کی جا سکتی ہے۔
درپن
رقص، ڈراما اور موسیقی کی اچھی تعلیم دینے کی غرض سے احمد آباد میں 1948ء میں ایک ادارہ 'درپن' کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔ یہ تربیت گاہ ایک عوامی اور خیراتی وقف کرنکشیتر ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے ذریعے چلائی جاتی ہے ا سکی ڈائریکٹر شریمی مرنالنی سارا بھائی نے ساری دنیا کا سفر کیا ہے۔ یہ بہت اچھی کلاکار ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی کلاسیکی بیلے کو ترقی دینے میں بڑا اہم حصہ لیا۔
اس تربیت گاہ میں بھرت ناٹیم، کتھا کلی، موہنی آتم اور بھگوتاسیلہ کی اعلیٰ تعلیم ماہرین کے ذریعے دی جاتی ہے کلاسیکی روایات پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔
اس ادارے کی طرف سے کئی تمثیلی رقص پیش کئے گئے ہیں۔ جن میں مُنشیہ راماین، اور گیت گووند ہندوستان اور اس سے باہر دونوں جگہ نہایت کامیاب رہے ہیں درپن کے طالب علموں کی ٹولی انےایشیا، یورپ اور امریکہ کا دورہ کیا اور غالباً یہ پہلی ہندوستانی ٹولی تھی جس نے مغربی دنیا کے سامنے روایتی بھرت ناتیم اور کتھا کلی کو اپنی اصلی اور خالص شکل میں پیش کیا۔ اس کی ایک ٹولی ہندوستانی کلچرل وفد کے ساتھ 1956ء میں جنوبی ایشاء کے دورے پر بھی گئی تھی۔
تحقیقات کرنا، کتابیں شائع کرنا، فلم بنانا، ریکارڈ تیار کرنا اور ایک آرٹ میوزیم کی تعمیر اس ادارے کی مختلف سر گرمیوں میں سے چند ہیں۔
درپن کا جغرافیائی محلِ وقوع ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اُس جگہ جنوبی اور شمالی ہندوستان کی تہذیبی قدروں کا اتصال ہوتا ہے جو ملک، کو تہذیبی طور پر ایک دوسرے کے نزدیک لانے کا باعث ہو گا۔
کیرالا کلا منڈلم
کیرالا کے مرحوم شاور سری ولا تھول نے کتھا کلی کو ازسر نو زندہ کرنے میں بڑا نمایاں حصہ لیا ہے۔ بلکہ یہ کہنا بے محل نہ ہو گا کہ اس رقص کی موجودہ زندگی اُن کی ان تھک اور جان توڑ کوششوں ہی کی مرہون منت ہے اور یہ آرٹ نحطاط و زوال کی پستیوں سے ترقی کی بلندیوں تک ان ہی کی بدولت پہنچا ہے۔ اپنی خواہشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انہوں نے 1930ء میں کلامنڈلم قائم کیا۔ یہ ادارہ گذشتہ تیس سال سے اس رقص کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے کے سلسلے میں بڑی مفید خدمت انجام دے رہا ہے۔
کلامنڈلم کا ایک وسیع کورس ہے جو تین سے آٹھ سال کی مدت تک کا ہے۔ اس ادارے میں کتھا کلی، اوٹن تھلل، موہنی آتم، ترتھم اور دوسرے متعلقہ مضامین کی تعلیم ماہرین کے ذریعے دی جاتی ہے۔ اس تربیت گاہ میں نہ صرف ہندوستان کے مختلف حصوں بلکہ بیرونی ملکوں کے طلباء بھی زیر تربیت ہیں۔ یہاں کے تربیت پائے ہوئے طلبا ملک کی سینکڑوں رقص گاہوں میں مدرس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
مرحوم ریونی پانیکر، گورو کنچھو کُرپ اور گورو گُوپی ناتھ جیسے ماہرین فن اس ادارے سے وابستہ تھے اور ان استادوں نے جو اونچے معیار قائم کئے تھے وہ موجودہ اساتذہ کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔
کیرالا کلا منڈلم کتھا کلی سکھانے کا ہندوستان میں سب سے ممتاز ادارہ ہے اور آج کی دنیا میں کتھا کلی کو ایک بہت ہی حسین اور ترقی یافتہ فن سمجھا جانے لگا ہے۔ اس طرح اس درس گاہ کی تیس سالہ کوششیں بار آور ثابت ہو رہی ہیں۔
منی پوری رقص کالج، منی پور
سنگیت ناٹک اکادی کے قیام کا ایک مقصد آرٹ کی تعلیم کے لئے درسگاہیں کھولنا یا موجودہ تربیت گاہوں کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لینا بھی تھا۔ اس مقصد کے پیش نظر اکادمی نے منی پوری رقص سکھانے والے کالج کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ یہ کالج 1954ء میں قائم کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم شری نہرو نے بھی اس کے لئے عطیہ دیا تھا۔ اکادمی اس ادارے کو برابر مالی امداد دیتی تھی۔ 1957ء میں اس نے باضابطہ اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا تا کہ سنی پوری اور اس علاقے کے قبائلی رقص کی اصلی اور خالص شکل میں تعلیم دی جا سکے۔
اپنی چار سالہ زندگی میں اس کالج نے ہر طرح سے ترقی کی ہے۔ طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد جو اب 155تک پہنچ گئی ہے، اس کی مقبولیت کی مظہر ہے۔ کالج کے اسٹاف میں 11۔ اشخاص ہیں جن میں گورو اموبی سنگھ، گورو اٹومبا سنگھ اور گورو آمودن شرما جیسے استاد بھی شامل ہیں۔ اول الذکر وہ اس رقص میں اپنی غیر معمولی مہارت کی بناء پر اکادمی اعزز بھی پا چکے ہیں۔ اس کالج میں ذہین طلباء کو وظیفے بھی دئیے جاتے ہیں۔ اس کالج کی ایک ٹولی نے ہندوستان کے مختلف حصوں کا دُورہ کیا تھا اور اپنے فن کا مظاہرہ کر کے شہرت حاصل کی تھی۔
کلاسیکی رقص کی تعلیم وتربیت میں مصروف اداروں اور افراد کے ماسوا کچھ ایسے بھی فن کار ہیں جنہوں نے انفرادی یا اجتماعی طور پر کلاسیکی اور لوک ناچوں میں مختلف تجربے کئے ہیں تا کہ ملک کی معاشرتی اور سیاسی زندگی کے متعلق مختلف موضوعات کو 'جونئے ڈھنگ اور آہنگ کے طالب ہیں' پیش کیا جا سکے۔ روایتی راستے سے الگ ہو کر نئی راہیں ڈھونڈنے ک یہ ہمت کئی وجوہ کی بنا پر پیدا ہوئی۔ ایک طرف ملک کے معاشرتی و سیاسی حالات نے متاثر کیا اور دوسری طرف مغربی دنیا کے تھیٹر اور بیلے کی تکنیک اثر انداز ہوئی جس سے ہندوستانی آرٹسٹ نئے معنی و مفہوم سے آشنا ہوئے۔
ٹیگور ہندوستانی رقص و موسیقی کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے تھے اس مقصد کے لئے انہوں نے کئی کامیاب تجربے کئے۔ اس سلسلے میں اودے شنکر کی کوششیں بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان عظیم فن کاروں کے تجربوں نے نوجوان آرٹسٹوں کی ہمت بندھائی ہے اور یہ بھی ان راستوں پر آگے بڑھ رہے ہیں۔
جنگِ آزادی کی جدو جہد کے زمانے میں حب الوطنی اور جذبہ آزادی کے اظہار کے لئے مختلف شکلیں ڈھونڈھی گئیں۔ نئے نئے تجربوں سے تحریک ملی اور انڈین پیپلز تھہڑایسوسی ایشن قائم ہوا۔
اپٹا I P T A کو شروع میں کامیابی نصیب ہوئی مگر بعد میں جو ڈرامے اسٹیج کئے گئے وہ نا کام رہے۔ یہ ادارہ کوشش کے باوجود اب تک اپنی عظمتِ دیرینہ حاصل نہیں کر سکا ہے۔ اس کے دوسرے معاصرین انڈین نیشنل تھیئٹر اور مِثل بیلے ٹروپ ترقی کی منزلیں طے کر کے ایک مقام حاصل کر چکے ہیں۔
انڈین نیشنل تھیٹر
1942ء کے سیاسی حالات نے سارے ملک جو جھنجھوڑ ڈالا۔ ملک کی آزادی کے شیدائی مختلف ذریعوں سے لوگوں کے دلوں میں آزادی حاصل کرنے کی لگن پیدا کر رہے تھے۔ چند نوجوانوں نے اپنی مقصد براری کا ذریعہ تھیٹر قرار دیا اور بمبئی میں انڈین نیشنل تھیٹر کی بنیاد ڈالی۔ اپنی 19صلاہ زندگی میں اس تھیٹر نے بعض یادگار بیلے پیش کئے ہیں۔ اس کے بعض تمثیلی رقص جیسے 'ڈسکو ری آف انڈیا' Rhythm of Culture اور اوشا کو بیلے کا نہایت کامیاب نمونہ قرار دیا گیا ہے۔
ڈانس سیمینار 1958ء کے موقع پر اس تھیٹر نے اپنا کھیل 'ویکھ تری بمبئی' پیش کیا تھا۔ نقادوں نے اسے فنی طور پر کامیاب اور ایک جرات امیز قدم قرار دیا۔ پیرس کے 'تھیٹر دے نیشن' کی دعوت پر نیشنل تھیٹر کا ایک گروپ یورپ روانہ ہو چکا ہے۔ یہ گروپ پیرس اور دیگر یوروپی شہروں میں 'دیکھ تری بمبئی' اور 'کرشن لیلا' پیش کرے گا۔
انڈین نیشنل تھیٹر کے زیرِ اہتمام بیلے سکھانے کا ایک اسکول بھی قائم ہے۔ اس میں کلاسیکیکی اور جدید رقص کی ٹریننگ دی جاتی ہے، لباس، سرپر پہننے کی مختلف چیزوں اور زیورات کے متعلق ایک تحقیقاتی شعبہ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ڈراما اور موسیقی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔
لِٹل بیلے ٹروپ
سورگیا مشی سری شانتی بردھان کے زیرِ سرپرستی بمبئی میں'لِٹل بیلے ٹروپ' کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ادارہ ملک کے رقص سکھانے والے اداروں میں بہت ہی ممتاز جگہ رکھتا ہے۔ سری شانتی بردھان کی بے وقت موت نے ایک بہت ہی ذہیں اور طباع رقاص کو ہم سے چھین لیا۔ انہیں جدید رقص میں کمال حاصل تھا۔ آپ ہی اس ادارے کے روحِ رواں تھے۔ ان کی نگرانی اور نگہبانی میں یہ ادارہ فروغ پاتا رہا اور ان کی زندگی مین 'رامائن' اور پنچ تنتر' دو نہایت ہی عمدہ بیلے پیش کئے گئے تھے۔ اس ادارے کے کچھ ممبروں نے ہندوستانی کلچرل ڈیلی گیشن کے ساتھ 1955ء میں چین کا بھی کامیاب دورہ کیا تھا۔ اس کا مرکز بمبئی میں ہے اور اس کے فن کار اکثر سارے ملک کا دورہ کرتے رہتے ہیں۔ سری شانتی بردھان کی موت کے بعد ان کی دھرم پتنی شرمیتی گپل بردھان اس ادارے کو نہایت کامیابی سے چلا رہی ہیں۔ ابھی حال میں اس ٹروپ نے 'میگھ دوت' بیلے پیش کیا تھا جو کالی داس کے اسی نام کے غیر فانی ڈرامے پر مبنی تھا۔ یہ بیلے ،دلی اور دوسرے اہم مقامات پر دکھایا گیا تھا اور بہت کامیاب رہا۔
لٹل بیلے ٹروپ ایک منظور شدہ ادارہ ہے اور اسے سنگیت ناٹک اکادمی سے مالی امداد ملتی ہے۔
مندرجہ بالا ادارون یا تربیت گاہوں کا تذکرہ اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ ادارے کافی عرصے سے رقص و موسیقی کے میدان میں ممتاز ہیں اور اپنے مخصوص فن کے نمایندہ ہیں۔ ایسے بہت سے دوسرے ادارے بھی ہیں جن کا ذکر کیا جا سکتا تھا مگر طوالت کا خوف مانع ہے۔
ہندوستان میں تربیت گاہوں اور ااداروں کے ذریعے رقص کی تعلیم ایک نئی چیز ہے۔ اس لئے اس کی طرف کافی دھیان دینے اور اس طریقہ و تعلیم کی ہمت افزائی کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اس راہ میں کئی مشکلیں حائل ہیں جیسے سرکاری امداد کا محدود ہونا۔ کام کی مکمل آزادی جس میں حکومت کی طرف سے کوئی مُداخلت نہ ہو، سرمائے اور اچھے اساتذہ کی کمی، نصاب تعلیم تیار کرنے کی دقتیں، امتحانوں کا یکساں معیار اور پھر سب سے بڑھ کر صحیح روایات و اقدار کی تعمیر وغیرہ۔ یہ سارے مسائل ایسے ہیں جنہیں کُل ہند طور پر حل کرنا ہو گا۔
یہ مسئلہ پُرانے طریقے کو چھوڑ کر نئے طریقوں کو اپنانے کا مسئلہ ہے۔ ہمارے سامنے صرف یہی مسئلہ نہیں ہے کہ ہزاروں افراد رقص سیکھ جائیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ان فنون کی اعلیٰ اقدار اور روایات برقرار رہیں۔