سعید نقوی

سعید نقوی

درخت

    درخت

    پتوں کے ملبوس کی اب صرف افسردہ مہک ہی باقی تھی۔ ورنہ پت جھڑ کے بعد برہنہ درخت سردی سے کانپ رہا تھا۔ آسمان سے اترتی سفید روئی سردی میں اضافے کا باعث بن رہی تھی۔ جو چیز سینکڑوں کے لیے تسکین و تفریح کا باعث بنتی، اس کا اثر ہر ایک پر یکساں نہیں ہوتا تھا۔ وہ درخت اپنا سر بلند کیے، اپنے تن کی کپکپاہٹ چھپائے مضبوطی سے ایستادہ تھا۔ اگر جڑیں گہرائی میں پیوست ہوں تو سر بلندی دشوار نہیں ہوتی ۔ کچھ ایسا ہی معاملہ یہاں بھی تھا۔ برف سے فرار اس کے بس میں نہیں تھا۔ یہ آسمان کی کارستانی تھی۔ اور آسمان کی کارستانی کا علاج صرف آسمان کے پاس ہی ہے۔ اگر کوئی اس کے تنے پر ہاتھ رکھتا تو یقیناً تنے کی خفیف سی سرسراہٹ ضرور محسوس کر لیتا۔ یہ سرسراہٹ شاید صرف خارجی برف کی وجہ سے ہی نہیں تھی ، یہ اندر سے اٹھتی خنکی تھی ۔ بخار کی تپش بھی وہی کپکپی طاری کر سکتی ہے جو برف کی خنکی۔ وہ اس کی نچلی شاخیں کاٹ کر لے گئے تھے۔ سردی جو اتنی زیادہ تھی۔ وہ جانتے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ برف گرنے کے بعد شاخیں کاٹیں تو گیلی ہوں گی ، دھواں دیں گی ، شعلے پیدا نہیں کر سکیں گی۔ اس لیے انہوں نے برف گرنے سے پہلے ہی سردی سے بچاؤ کا انتظام کر لیا تھا۔ اپنی گرمی کے لیے اسے برہنہ کر دیا تھا۔ یوں یہ کپکپاہٹ صرف سردی ہی سے نہیں تھی، یہ اس کے اندر سے کہیں اٹھتی مایوسی تھی۔ وہ اس کی نچلی شاخیں کاٹ کر لے گئے تھے۔ وہ سردی برداشت بھی کر سکتے تھے ، بند گھر میں رہتے تھے۔ انہیں یہ خیال کیوں نہ آیا کہ یہ شاخیں اس کے تن سے کسی وجہ سے لگی ہوئی ہیں۔ یہ درخت پھل دار نہیں تھا، ان کے لیے بیکار تھا۔ شکر ہے ان کی پہنچ اور ضرورت صرف نچلی شاخوں سے ہی پوری ہو گئی تھی۔ کیا معلوم یہ ختم ہونے پر وہ اونچی شاخوں کی طرف .....اور پھر ان کے ہاتھ اس کی گردن تک پہنچ جاتے ۔ ضرورت اشد ہو توپہنچ کے دست بھی دراز ہو جاتے ہیں۔

    یہ درخت بہت پرانا نہیں تھا۔ لوگوں کو یاد ہے کہ ابھی دو، تین سال پہلے ہی کی بات تھی جب کریم بابو کی نوکری کی معیاد ختم ہوئی تھی۔ جہاں تک لوگ یاد کرتے یہ درخت اس کے بعدہی نمودار ہوا تھا۔ ساٹھ برس کی عمر میں ریلوے کے سپاہی کی ملازمت کی مدت پوری ہوگئی ۔ مٹھی بھر تنخواہ ایک ہفتہ چلتی، مہینے کے باقی تین ہفتوں کے لیے اوپر کی آمدنی کام آتی۔ کریم بابو ہمیشہ رات کی ڈیوٹی لگواتے۔ مال گاڑیوں میں رات کی حفاظتی نوکری ان کے خاندان کے تحفظ کے امکانات پیدا کرتی ۔ گھر سے نکلتے تو نیک بخت ایک تھیلے میں دو چپاتیاں اور کچھ سالن ایک ٹفن میں رکھ کر ان کے ساتھ کر دیتی۔ محلے سے نکل کر بڑی سڑک تک آتے ، راہ میں بچے بڑے سب ہی سلام کرتے۔ کریم بابو اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ سب سے اچھی طرح ملتے تھے۔ کسی طرح انہوں نے سفید پوشی کا بھرم رکھا ہوا تھا۔ بڑی سڑک سے ایک بس انہیں ریلوے اسٹیشن تک لے جاتی۔ ایک چھوٹے ٹفن کے لیے بھلا اتنے بڑے تھیلے کی کیا ضرورت تھی ۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھالیکن کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا۔ اس محلے میں تقریباً سب ہی بڑے تھیلوں میں چھوٹے ٹفن کے ضرورت مند تھے۔ تھیلے کی ہیئت بدل جاتی لیکن فلسفہ وہی رہتا، تو کوئی کیا پوچھتا۔ جس بات کا علم ہوا سے دریافت کرنا محض مخاطب کو شرمندہ کرنے کا امکان پیدا کرتا ہے۔ واپسی میں کریم با بو کا تھیلا ز یادہ بھرا ہوتا۔ ان کی ڈیوٹی ہفتے کے پانچ دن ہوتی۔ یوں ہفتے کے پانچوں دن اس تھیلے میں کچھ نہ کچھ بھرا رہتا۔ اناج، غلہ ، ضروریات زندگی کا دوسرا سامان جو مال گاڑی کے ڈبے میں ایک قصبے  سے دوسرے میں منتقل ہورہا ہوتا۔ ورنہ کبھی تو تھیلے کی جگہ ان کی خاکی وردی کی جیب پھولی ہوتی۔ ضرورت مند تھے، لالچی نہیں، بس اتنا کہ گھر میں چولہا جلتا رہے اور بچے پڑھتے رہیں۔ کبھی گھر میں شادی غمی کا موقع بھی آجاتا۔ اوپر تلے کے پانچ بچے تھے، تین لڑکے اور دو بیٹیاں۔ جب وہ نیک بخت پورے پیٹ سے ہسپتال جاتی تو ان دنوں کریم بابو کے تھیلے کا وزن اور بڑھ جاتا۔ خدا کا شکر ہے کہ ایک بیٹا اب میٹر ریڈ رتھا، اور دوسرا انجینئر نگ کا ڈپلومہ کر رہا تھا۔ بیٹیوں کے ہاتھ پیلے ہو چکے تھے۔ سب سے چھوٹا بیٹا مرگی کا مریض کسی کام کا نہیں تھا۔ ان کے ٹفن کے تھیلے کا وزن اتنا بھی نہیں تھا کہ مرگی کے کسی ماہر ڈاکٹر سے با قاعدہ علاج کراتے۔ ایک بار دکھایا بھی تو اس نے اتنی مہنگی دوائیں لکھ دیں جو ان کے ٹفن کے پیٹ سے زیادہ تھیں۔ سواب یہ لڑکا کبھی گھر میں اور کبھی باہر اماں کہہ کر چیختا ، اپنی گدی پکڑ لیتا، پورے بدن سے زمین پر گرتا اور تشنج کی کیفیت طاری ہو جاتی ۔ گھر والے تو کیا اب محلے والے بھی عادی ہو گئے تھے۔ اگر وہ باہر ہوتا تو کوئی بھاگ کر کریم بابو کے گھر پر اطلاع کر دیتا، کوئی چپل لے کر اس کی ناک کی جانب لپکتا۔ کوئی آدھے گھنٹے کی غشی کے بعد ، بیٹا بیدار ہو کے کپڑے جھاڑتا اور زندگی پھر اپنے ڈگر پر چل نکلتی۔

     میٹر ریڈر بیٹا ٹفن تو نہ لے جاتا۔ اس کے کام میں اناج کے بجائے نقد کا زیادہ دخل تھا۔ نہ اس نے کبھی باپ سے پوچھا کہ سپاہی کی تنخواہ میں سات افراد کا اپنا کنبہ کیسے پال لیا، اور نہ ہی کریم بابو نے اس سے کبھی میٹر ریڈر کی نوکری کے بارے میں سوال کیا۔ ناگزیر ضروریات معاشرے کی پابندیوں کی خلاف ورزی کا معقول عذر تھیں۔ گھر ایک خاموش سمجھوتے کے تحت چل رہا تھا۔ جس میں مالیات کے علاوہ ہر بات موضوع گفتگوبنتی سیاست، مذہب، سماجیات، حکومت، تعلقات، لیکن آمدنی اور اخراجات کے بارے میں ایک سوچی سمجھی خاموشی اختیار کی جاتی ۔ بھئی سب ہی یہ کرتے ہیں کہہ کر ہر فرد خودکو سمجھا لیتا۔ یہ ایک خوش و خرم گھرانا تھا جو جرم زندگی کی سزا ہنس کر جھیل رہا تھا۔

     ریٹائر منٹ کی عمر ہونے تک بڑا بیٹا باقاعدگی سے کمانے لگا تھا، درمیانہ بیٹا بھی انجینئرنگ ڈپلومہ کے درمیان جز وقتی ملازمت کر رہا تھا۔ بیٹیوں کی شادی سے دومنہ گھر میں کم ہوئے اور بڑی بہو گھر آگئی۔ میٹر ریڈر کی اگر صنعتی علاقوں میں تعیناتی ہوتی، تو وہ شاید اپنا ایک الگ گھر لے لیتا، لیکن شہری صارفین کی تجاوزات میں محض بغیر کنکشن کا ایر کنڈیشنر، یا آہستہ چلتا میٹرہی شامل ہوتا، جس سے اتنی آمدنی نہ ہو پاتی کہ وہ الگ گھر لے سکے۔ لہٰذا بیٹا بہو فی الحال کریم با بو کے ساتھ ہی رہ رہے تھے۔

     ریٹائر منٹ پر سب ہی عزیز و اقارب نے مبارک باد دی کہ چلیے عزت سے ایک دور ختم ہوا۔ کریم با بونے دل لگا کر محنت سے نوکری کی، کبھی بلاضرورت چھٹی نہیں کی ، اور ایمانداری سے مدت ملازمت مکمل کی۔ یہ بات ان کے ادر اک سے اوجھل نہیں تھی کہ جس دن چھٹی لیتے اس دن ٹفن کا خالی تھیلا باورچی خانے کے کونے میں ایک دیوار سے ٹنگا نیک بخت کا منہ چڑا رہا ہوتا۔ سب کو معلوم ہو جاتا کہ آج غالباً گھر میں دال یا سبزی پکے گی۔ کئی دن کی متواتر تعطیل سے گھر کے اقتصادی نظام میں ایک بھونچال آجاتا۔ نئے پرانے ٹوٹکے اور نسخے آزمائے جاتے۔ اس بات کو یقینی بنایا جاتا کہ کریم با بو واقعی ملازمت پر جانے کے لائق نہیں، اور محض کسل مندی یا تھکاوٹ ہی

    انہیں نہیں روک رہی۔ کیا عجب ہے کہ کئی بار کریم با بو ہلکے بخار میں بھی ملازمت پر حاضر ہوئے۔

     ریٹائرمنٹ کے بعد بھی زندگی کی رفتار وہی رہی، صرف رخ بدل گیا۔ جیسے کسی بیل کو رہٹ کی مشقت سے نکال کر ہل یا بیل گاڑی کے سامنے جوت دیا جائے۔ کریم با بو گھر کے کاموں میں دفتری کاموں سے زیادہ مصروف ہو گئے۔ اب وہ گویا ان کاموں کے لیے مہیا تھے۔ گھر میں بلا وجہ کام نکلنے لگے۔ بابو یہ کر لیجیے گا، بابو وہ لے آئیے گا۔ ابھی تک بڑے بیٹے کے ہاں اولاد نہیں ہوئی تھی، لہٰذا پوتے پوتیوں کی خدمت کی ذمہ داری سے آزاد تھے۔ گھر کے کچھ کام جو پہلے دوسرے کرتے وہ اب ان کی ذمہ داری ہو گئے۔ اب غیر محسوس طریقے سے گھر میں حاکمیت بھی بدل رہی تھی۔ بیٹوں کے لہجے میں زیادہ بے باکی آگئی تھی۔ آئینی طور پر وہ اب بھی گھر کے سربراہ تھے، لیکن اب آئین کے نفاذ میں اتنی سختی نہ برتی جاتی۔ انہیں لگتا اب وہ کسی شاہی جمہوریت میں نام کے بادشاہ ہیں۔ تقریبات میں معزز نظر آنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں سے ایک تھا۔ نیک بخت انہیں دیکھتی تو انہیں لگتا جیسے اس کی نگاہوں میں کچھ تھا۔ انہیں وہ کچھ پسند نہیں آتا تھا ،کیا یہ ترحم تھا؟ جو بھی تھا انہیں نا منظور تھا۔ نیک بخت کے روز وشب میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی تھی ۔ ان کے درمیان بھی اب نئے اصول وضع ہو گئے تھے، نئے خاموش معاہدے۔ یہ زندگی اپنے اطراف میں لوگوں سے خاموش معاہدوں ہی سے تو گزرتی ہے۔ یہ معاہدے خود بخود ہی مرتب ہو جاتے ہیں، سرحدیں متعین ہو جاتی ہیں، کس کو کہاں تک جانے کی اجازت ہے، کون سے فقرے منع ہیں اور کون سے ادا کیے جاسکتے ہیں۔ کبھی بیٹا کوئی ایسا فقرہ کہہ دیتا جس کی گونج کئی دنوں تک گھر میں سنائی دیتی۔ بڑھتی عمر اور گھٹتے اقتدار کے ساتھ ان تعلقات کی روز نئی حدود متعین ہو رہی تھیں، جن میں کریم بابو کی زمین تنگ اور باقی افراد کا رقبہ بڑھ رہا تھا۔ جیسے کوئی ہمسایہ غیر محسوس طریقے سے آپ کے علاقے میں تجاوز کرنے لگے، ایک اینٹ یہاں ایک پودا و ہاں۔

    گھر میں تین کمرے تھے۔ سب سے بڑے اور زیادہ آرام دہ کمرے میں کریم بابو اور ان کی نیک بخت رہتے۔ یہ بھی ایسی باتوں کی مانند ہوتا ہے جو خود بخود تسلیم کی جاتی ہیں۔ ویسے بھی اس وقت وہ گھر میں واحد شادی شدہ جوڑا تھے۔ ایک کمرے میں لڑکے اور تیسرے میں دونوں بیٹیاں ۔ پھر بیٹیاں بیاہ کر اپنے سسرال میں خود اپنے نئے کمروں میں چلی گئیں تو بڑے بیٹے کوشادی کے بعد ان کا کمرہ مل گیا اور باقی دونوں بیٹے سب سے چھوٹے کمرے میں رہتے رہے۔

     وہ بھی ایسا ہی خنک دن تھا، سرد، بے رحم ۔ شاید کریم بابو کے ریٹائر ہونے کے ایک سال بعد کی بات ہوگی جب بڑے بیٹے نے انہیں یاد دلایا کہ اس کے کمرے میں سردی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

    ’’ حیرت ہے، بیٹیوں نے کبھی بتایا بھی نہیں؟‘‘ کریم با بو خالی الذہنی سے بولے۔ یہ ایک فطری رد عمل تھا۔ بہو جو بہت کم گو اور خاموش طبع تھی، اس نے یاد دلایا کہ خود بابوجی کے کمرے میں تو شدید سردیوں میں بھی اتنی خنکی نہیں ہوتی۔ اگر وہ کبھی کسی کام سے ان کے کمرے میں جاتی تھی ، توسردی اسے اذیت نہ دیتی۔

    ’’ کیا ہوسکتا ہے؟‘‘ بڑے بیٹے نے تاسف سے کہا۔ یہ کیا ہوسکتا ہے جیسے فضا میں ٹھہر گیا، ایک لحظہ اس نے انتظار کیا کہ کوئی اس کا جواب دے پھر یہ تبصرہ تیرتا ہوا زمین پر اتر گیا۔ جو موجود ہے اس میں گزارا کرو، بیٹے نے اپنی بیوی کو سمجھایا۔ اس رات واقعی بہت سردی تھی، کریم با بو کو بھی اپنے کمرے میں بجلی  کا ہیٹر جلانا پڑا تھا۔

     ”میرے خیال میں کسی طرح بیٹے کے کمرے کے لیے بھی ایک اضافی ہیٹر لے لیا جائے ۔‘‘ کریم بابو نے کمرے کی تنہائی میں نیک بخت سے کہا۔

    ’’ہمیں اپنا یہ کمرہ بیٹے بہو کو دے کر چھوٹے کمرے میں منتقل ہو جانا چاہیے ۔‘‘ یہ مشورہ دیتے ہوئے نیک بخت کی آواز سرگوشی میں بدل گئی تھی۔

    ’’ارے ہم اپنا کمرہ کیوں تبدیل کریں؟‘‘ کریم بابو بولے۔’’ کچھ جوڑ کر ان کے لیے بھی بجلی کا ایک اور ہیٹر منگوالو، اس کے ہوتے ہوئے بجلی کے بل میں اضافہ تو ہونے سے رہا۔‘‘ انہوں نے بات میں مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی۔

    ہیٹر لگانے سے تو صرف کمرے کا درجہ حرارت ہی بڑھ سکے گا، نیک بخت کو بعض اوقات کریم بابو پر بہت غصہ آتا۔ یہ یقیناً ان ہی لمحات میں سے ایک تھا۔ وہ مضطرب تھی ، شوہر کا مزاج سمجھتی تھی۔ وہ کسی آنے والے طوفان سے پہلے فضا میں تعطل دیکھ رہی تھی، جیسے فضا خود بے یقین ہو کہ کس کا ساتھ دے۔ کریم با بو شاید یہ نہیں دیکھ رہے تھے۔ انہیں یہ احساس ضرور ہورہا تھا کہ کچھ بدل رہا ہے۔ اس رات وہ دیر سے سوئے۔ انہوں نے خواب میں خود کو ایک صحرا میں بھٹکتے پایا۔ ان کا قطب نما کھو چکا تھا، اور راستہ نہیں مل رہا تھا۔ وہ بس منہ اٹھائے صحرا میں کبھی اس طرف چل دیتے کبھی اس طرف۔ سمت کے تعین کے بغیر صحرا کا یہ سفر انہیں جان لیوا لگ رہا تھا۔ اچانک ان کا پاؤں ریت کے ایک بھنور میں پڑا، پھر وہ اس سے نکل نہ سکے۔ اس نے ان کے دونوں پاؤں جکڑ لیے۔ ان کے پاؤں سے جڑیں نیچے کی جانب بڑھنے لگیں۔ ان کا بدن ایک تناور درخت بن گیا۔ اب وہ اپنی جگہ بدلنے سے قاصر تھے۔ شب گزرگئی لیکن  ان کا خواب ختم نہ ہوا۔ اب وہ گھر میں صبح سے منسوب آواز یں سن رہے تھے۔ پتیلی میں چائے ابلنے کی آواز، توے پر چپڑی پلٹے جانے کی آواز،  انڈا تلے جانے کی خوشبو ۔ انہوں نے آواز دے کر نیک بخت کو پکارنا چاہا، مگر نا کام رہے۔ وہ اپنے ہاتھ پاؤں، کچھ بھی تو نہیں ہلا پارہے تھے۔ وہ محض خواب ہی نہیں تھا، جاگنے پر وہ اس کی تعبیر بن گئے تھے، ایک اندوہ ناک بات ہوگئی تھی ، خواب میں بھٹکتے جانے کس وقت وہ کمرے سے باہر آگئے تھے، وہ ایک درخت بن گئے تھے۔ اگر سوچو تو اس میں بہت زیادہ حیرت کی کوئی بات ہے بھی نہیں۔ حیوانات و نباتات دونوں ہی جاندار ہیں۔ سانس لیتے ہیں، بڑھتے ہیں، لباس بدلتے ہیں، غذا استعمال کرتے ہیں، بڑھاپا آتا ہے اور مر بھی جاتے ہیں۔ تو یہاں حیات نے محض اپنا روپ بدل لیا تھا۔ کریم با بود رخت بن گئے تھے۔ تصویر کا فریم اسی دیوار پر ٹنگا تھا لیکن اس میں لگی تصویر بدل گئی تھی۔

    نیک بخت نے اپنے کمرے کی کھڑکی کے باہر یہ نیا قد آور درخت دیکھا، پھر کریم بابو کی غیر موجودگی، درخت سے بہت مانوس خوش بو آرہی تھی، جس سے صرف وہ ہی واقف تھی ۔ ہر آدمی کی اپنی مخصوص بو ہوتی ہے، لیکن یہ اس سے مختلف ہوتی ہے جو صرف اس کے ہم سفر کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔ یہ اتنی خفیف ہوتی ہے کہ صرف لپٹنے والے کے مشام جاں کو ہی معطر کر سکے، ایک دوسرے کو شناخت کرنے کی خوشبو۔ اس درخت سے وہی مانوس خوش بو اٹھ رہی تھی ۔ بات اس کی سمجھ میں آگئی۔ گھر میں ہونے والی کوئی تبدیلی اس سے پوشیدہ نہیں رہتی تھی۔ وہ یک بارگی بے ساختہ درخت سے لپٹ گئی ، پھر چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھا کہ کسی نے دیکھا تو نہیں۔

     اگر کسی نے محسوس بھی کیا کہ کل تک تو یہ درخت موجود نہیں تھا، اب اچانک یہ کہاں سے نمودار ہو گیا تو وہ بولا نہیں۔ ایسا اکثر ہو جاتا ہے۔ ہم مانوس منظر میں نئی چیز دیکھیں تو بے یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کوئی پودا ہوتا تو شاید سوال اٹھتا۔ مگر پورا درخت، یہ کیسے ممکن ہے، یقینا ًیہ یہیں موجود رہا ہوگا، میں نے کبھی غور نہیں کیا۔ اگر کسی کو الجھن ہوئی بھی تب بھی وہ نہیں بولا کہ کہیں اس کا مذاق ہی نہ اڑایا جائے۔ بہت ہاہا کار مچی ، اخباروں میں اشتہار دیئے گئے۔ سب سے چھوٹے بیٹے نے سب سے زیادہ اثر لیا۔ دور دراز محلوں اور علاقوں میں نکل جاتا۔ جیسے اسے امید ہو کہ باپ کسی فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوامل جائے گا۔ رفتہ رفتہ اس سرگرمی میں کمی آگئی، لوگوں نے صبر کر لیا، اب بھی نجی گفتگو میں حیرت سے سر ہلاتے ؛ اتنا بڑا آدمی کیسے اچانک غائب ہو گیا ؟

    سردیوں کے دنوں میں کھڑ کی عموما ًبند رہتی، درخت تنہا باہر کھڑا رہتا، گھر کے انتظامی دائرے سے باہر ۔ وہ سب سن سکتا تھا، دیکھ سکتا تھا، اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ کہ سوچ بھی سکتا تھا۔ مگر نہ ہی وہ بول سکتا تھا اور نہ ہی اپنی مرضی سے جگہ بدل لینا اس کے بس میں تھا۔

     جب نیک بخت نے دانت میں درد کی شکایت کی تو بہو نے تجویز کیا کہ درخت کی ایک چھوٹی ٹہنی  تو ڑ کر اس سے مسواک کیا کریں، خود اس کی خالہ کو یہی بیماری تھی، جو دن میں دو بار مسواک سے دور ہو گئی تھی۔ اسے حیرت ہوئی جب اس کی ساس نے وہ مسواک توڑنے سے اتنی سختی سے منع کیا۔ کریم بابو کے اچانک غائب ہو جانے کے بعد سے اس کے اپنی ساس سے تعلقات عجیب سے ہو گئے تھے۔ اسے لگتا جیسے اس کی ساس کوشش کرتی کہ اس کی راہ میں نہ آئے۔ ان کے درمیان خاموش معاہدے میں کچھ یک طرفہ ترمیمات ہوگئی تھیں۔

    شام میں چھوٹا بیٹا مسواک تو ڑلا یا ، تو نیک بخت کا رنگ زرد پڑ گیا۔

    ’’اماں، آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ وہ تشویش سے بولا۔

     وہ جواب نہ دے سکیں، بس پھٹی آنکھوں سے مسواک کو دیکھتی رہیں۔ انہوں نے اسے ایسی احتیاط سے تھام رکھا تھا جیسے مسواک زمین پر گر گئی تو کوئی قیمتی چیز ٹوٹ جائے گی۔ انہوں نے اسے بہت احتیاط سے اپنے غسل خانے میں رکھ لیا، اور اس کے بعد کبھی دانت کے درد کی شکایت نہیں کی۔

     موسم بدل گیا، کھڑکی سے لگا یہ بے ثمر درخت ان کے کسی کام کا نہیں تھا۔

    ’’اماں تو اس کی ایسی نگہداشت کرتی ہیں کہ بابو جی ہوتے تو حسد کرتے ۔“ بہو نے ایک دن ہنس کر کہا۔

    "بابو کی اچانک گمشدگی نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگر درخت میں دل لگ رہا ہے تو لگا رہنے دو۔‘‘ شوہر نے اسے سمجھایا۔

    آم کے درختوں پر بورا آیا تو جیسے پورے خاندان کی اجتماعی رال بہنے لگی۔ یہ پھل ہے بھی تو ایسا شاہانہ، گھر کے ہر فرد کو پسند تھا۔ تنگ دستی میں اس کی گٹھلی تک ایسے چوس لی جاتی کہ پہچانی نہیں جاتی۔ آم آنے سے پہلے ہی اس کے بور کی تیکھی مہک آنے والے اچھے دنوں کا اعلان کرنے لگی۔ درخت کی جڑوں سے ایک ہوک سی اٹھی، اور حسرت بن کر اس کی شاخوں میں کہیں دم توڑ گئی۔ نیک بخت نے کھانے کے بعد سب میں ایک ایک آم تقسیم کیا تھا۔ شاید چار ہی آم تھے۔ درخت کے چتوں نے دم سادھ لیا جب بڑا بیٹا ایک پلیٹ میں تین آم اور چھری لیے دبے پاؤں بیوی کی طرف گیا۔

    ’’مجھے معلوم ہے کہ تم نے دل بھر کر نہیں کھایا تھا۔‘‘ اس نے ایک آم کاٹ کر بیوی کی طرف بڑھایا۔

    ’’چھپا کر لائے ہو؟"

    ’’ارے کم تھے، پہلے نکالتا تو وہیں سب میں تقسیم ہو جاتے۔‘‘

    ’’ہاں یہ تو ہے، لیکن اگر تم مجھے وہاں سب کے سامنے ایک زیادہ آم دیتے تب بات تھی!‘‘بہو اٹھلا کر بولی۔

    ’’ تمہارے لیے آم کھانا زیادہ ضروری ہے، یا سب کے سامنے زیادہ وصول کرنا ؟“ بڑےبیٹے نے چڑ کر پوچھا تھا۔

    ’’دونوں !‘‘ وہ بے تکلفانہ بولی  تھی۔

    یہ منظر نیا نہیں تھا، صرف کردار اور ڈائیلاگ بدل گئے تھے۔ نیک بخت کو یاد تھا جب کریم بابواور وہ جلدی جلدی گھر سے باہر آم ختم کرکے پھر گھر میں داخل ہوئے تھے۔

    گرمیوں میں کھڑ کی کھل جاتی تو درخت کا بس نہ چلتا کہ اپنی شاخیں کمرے کے اندر بھیج دے۔ ایک بار پانی کی بالٹی اٹھائے ، نیک بخت کا پاؤں ایسار پٹا کہ گر ہی پڑی۔ درخت کو ایسالگا جیسے وہ خود ہی گر پڑا ہو۔ اسے یقین تھا کہ وہ چیخا تھا، ارے کوئی دیکھو نیک بخت کو ،لیکن خود اس کے علاوہ اور کسی نے اس کی آواز نہیں سنی تھی۔ اس نے جو دیکھا تھا اس پر یقین نہیں کر پایا تھا۔ اپنے قد کی اونچائی سے وہ کھڑکی کے بالائی حصے سے اندر بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس نے بہو کی ایک جھلک دیکھی تھی۔ وہ شاید بالٹی کی سمت ہی آرہی تھی۔ اس نے ساس کو گرا دیکھا تو ٹھٹکی اور پھر الٹے قدموں بے آواز واپس ہوگئی۔ یہ بہت حیرت کی بات تھی کیوں کہ اس چھوٹے سے گھر میں تو افراد ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔ لیکن اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کی نیک بخت نے بھی گردن گھما کر بہو کو جاتے دیکھ لیا تھا! اس نے بہو کو نہیں پکارا تھا۔ وہیں زمین پر پڑی رہی اور کچھ دیر بعد بروقت اپنے آپ کو اٹھایا۔ واقعی ، کیا اس کی آنکھیں دھوکا دے رہی تھیں، کیا نیک بخت نے بہو سے مدد لینے کے بجائے زمین پر گرے رہنے کو ترجیح دی تھی۔ یہ اس کے گھر کا ماحول تھا؟ اتنا اجنبی ، وہ اس سے کیوں کر اتنا بے خبر تھا ؟ کیا درخت انسانی رویوں کے بہتر گواہ ہوتے ہیں؟ خاموش ناظر ، تمام خامیوں پر نظر رہتی ہے، مگر منہ سے کچھ نہیں کہتے۔ بے بسی سے اس کے آنسو نکلے بھی ہوں گے تو کہیں چھال میں ہی جذب ہو گئے ہوں گے۔

    کسی چیز کا حال اس کے ماضی کا آئینہ ہوتا ہے۔ اس درخت کے موجود کا اس کے ماضی سے کوئی رابطہ نہیں تھا ۔ کاش اس کے ماضی و حال با ہم کوئی ربط پیدا کر سکتے ۔ لیکن وہ تو دو مختلف زبانیں بول رہے تھے، حال ماضی سے بے خبر تھا، اور ماضی آئندہ کے ممکنات و حادثات سے بے پروا۔ اب وہ بڑا بیٹا اپنی تنخواہ سے زیادہ آمدنی لا کر بیوی کے ہاتھ پر رکھتا تو درخت کی سرسراہٹ بڑھ جاتی، لگتا جیسے کوئی شاخ بڑھ کر اس تجاوز کو روک دے گی ۔ مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔

     پت جھڑ کا موسم بہت دشوار ہوتا۔ اس کے تن کے سارے پتے جھڑ جاتے۔ نیک بخت انہیں پیار سے سمیٹتی، تھیلے میں جمع کر دیتی۔ ایک بار بہو نے اسے جمع کیے ہوئے پتے دفناتے دیکھا، تو رات ایک خوف زدہ سرگوشی میں شوہر سے بولی، ”اماں کا توازن جارہا ہے۔“

    ایک بار اماں پتے سمیٹتے ہوئے ان پر پھسل کر گریں تو طے ہو گیا کہ اب وہ پتے جمع نہیں کریں گی۔ بیٹے کی آواز میں ایسی قطعیت تھی کہ انہیں ہتھیار ڈالنے پڑے۔ بیٹے نے کچھ دن تو پتے اکٹھے کیے، مگر نوکری کے بعد آ کر پتے اکٹھے کرنا بہت دشوار تھا۔

    ’’یہ بے ثمر کا درخت ہمارے کس کام کا ہے، میں نے طے کر لیا ہے کہ اسے کٹوا دیں ۔‘‘ اس نے اعلان کیا۔

    ’’نہیں، میں اسے نہیں کٹنے دوں گی۔‘‘ اب ان کی آواز میں ایسا استحکام تھا کہ بچے چونک اٹھے۔

    ’’نہیں اماں، میں بھائی کو اسے نہیں کٹوانے دوں گا۔ میں اٹھا لیا کروں گا پتے۔‘‘ چھوٹے بیٹے نے ماں کا زرد چہرا دیکھ کر اسے لپٹا لیا۔ ماں کے لہجے کی شدت تو وہ بھی نہیں سمجھ سکا تھا، لیکن اس شدت سے وہ ڈر گیا تھا، اس نے اسے خبر دار کر دیا تھا۔ باہر درخت سر اٹھائے اس تمام ماجرے کو دیکھ رہا تھا، سن رہا تھا۔ کوئی اس سے بھی پوچھ لے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ یوں درخت کٹنے سے تو بچ گیا، مگر اب سردی سے بچاؤ کے لیے انہوں نے اس کی نچلی  شاخیں کاٹ لی تھیں۔ اماں کو اس وقت ادراک ہوا جب وہ سوکھی ٹہنیاں اٹھائے اندر داخل ہوئے۔ وہ بیتابانہ باہر گئیں اور تنے کے گرد ایک کمبل لپیٹ دیا۔

     ”بالکل سٹھیا گئی ہیں بے چاری۔‘‘ گھر کے اندر سے بہو کی تیز سر گوشی سنائی دی۔

     در بخت نے ایک جھر جھری لی، اب بنا پتوں کے اس میں کوئی سرسراہٹ بھی پیدا نہیں ہوئی۔ پتے گرنے کے بعد سے تو پرندوں نے بھی اسے تنہا چھوڑ دیا تھا۔ صبح کے سورج نے شب کی مسافت ختم کی اور اپنے مقررہ استھان کی جانب بلند ہونے لگا۔ ستارے تیزی سے چھپنے لگے، لیکن اس تیزی میں بھی ذرا دیر کو ٹھٹک گئے۔ ایک چھوٹے سے مکان کے باہر ایک بڑا سا درخت اپنی جڑ سے اکھٹر کے زمین پر اوندھا پڑا تھا۔ اس کا نچلا دھڑ نچا ہوا تھا، صرف او پر ہی چند بنا پتوں کی شاخیں باقی تھیں۔

    ’’اب اس درخت کو ہٹوانے میں مزید خرچہ آئے گا۔‘‘ بڑے بیٹے کی بڑبڑاہٹ میں درخت گرنے کا کوئی تاسف نہیں تھا۔