ترلوچن
-
ترلوچن
جو کچھ ہوا اس سے پہلے یہاں انسانی بستیاں موجود تھیں اور جانور درخت در یا اور پہاڑ سبھی تھے ۔ ایک تواتر کے ساتھ موسم آتے رہتے تھے۔ چیزیں اگتی تھیں ، بڑھتی ،پھیلتی اور پرانی ہوتی تھیں اور رسان سے مر جایا کرتی تھیں ۔ کبھی کبھی کوئی قہقہہ مار کرہنس بھی دیا کرتا تھا۔ مجموعی طور پر سب ٹھیک ہی تھا۔ عین الحق یہ سب کچھ ختم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر کوئی کتے کا موت اس کی پیٹی کھول کر چیزوں کی فہرست نہ چرالے جاتا جو اس نے اتنی دلسوزی سے تیار کی تھی تو عین الحق ہرگز ہرگز و ہ نہ کر تا جواس نے کیا۔
اس نے جو کچھ کیا وہ وقتی اشتعال اور مایوسی کے تحت کیا تھا مگر اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے کہ اب تو کچھ تھا ہی نہیں جسے پھر سے ترتیب دیا جا تا ۔ سب ختم ہو چکا تھا ۔
اور جو کچھ ہوا ،وہ پلک جھپکتے ہو گیا۔ پیٹی خالی دیکھ کر اس نے اہلوک ، پرلوک اور دیولوک تینوں کی ڈوریاں اپنی انگشت شہادت پر لپیٹ کر مٹھی بند کی ، ایک ذرا کندھا جھکا کر جھٹکےسے انہیں اپنی پشت پر لیا، سیدھے ہاتھ کی مٹھی پر مٹھی کس کرالا اللہ کہا اور ہوا میں جیسے کدال چلاتے ہوئے تینوں لوک زمین پر دے مارے ۔
یہاں تک بھی ٹھیک تھا، بات کچھ زیادہ بگڑی نہیں تھی ۔ لیکن اس کے بعد تو عین الحق نے غضب ہی کر دیا۔ وہ پورے قامت سے تن کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے جھٹکے سے اسٹکنگ پلاسٹر کا وہ ٹکڑا اپنی پیشانی سے نوچ پھینکا جسے وہ پابندی سے نماز کے گٹے والی جگہ پر چپکا لیا کرتا تھا۔ پھر اس نے سر جھکا یا، زمین کی طرف دیکھا اور تمام و کمال قہاری میں اپنی تیسری آنکھ کھول دی اور تینوں لوک جلاکرخاک کر دیے۔
سواب دھوئیں اور راکھ کے سوا کچھ نہیں تھا جسے پھر سے ترتیب دیا جا تا ۔ سب ختم ہو چکا تھااور عین الحق جانتا تھا کہ دھوئیں اور را کھ کوترتیب نہیں دیا جا سکتا۔ یہ خاتمہ ہے۔
یہ سب ایک بلی سے شروع ہوا تھا۔ ایک دن گلی سے گزرتے ہوے اس نے اچانک اس بلی کو دیکھا اور اسے فہرست بنانے کا خیال آ گیا۔ وہ بلی اس قدرزخمی ،اتنی میلی اور جگہ جگہ سے اتنی نچی کھچی تھی کہ ساری باتیں کا غذ پر لکھے بغیریاد نہیں رکھی جاسکتی تھیں ۔ اس نے سوچا ، فہرست بنانا اچھا رہے گا ۔ وہ اب تک چیزوں کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا آرہا تھا۔ لیکن چیزیں اتنی بہت سی ہوگئی تھیں اور برابر بڑھتی جارہی تھیں اور ان کی تفصیل اتنی طولانی ہوتی جارہی تھی کہ اب ذہن میں محفوظ رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ وہ ڈرتا تھا کہ کہیں بھولنا شروع نہ کر دے۔اس لیے اس نے ایک بڑے کاغذ پر سات سو چھیاسی لکھااورنمبرشمار اور نام اشیا اور ان کے کوائف اور کارہائے مجوز اور تاریخ عمل درآمد کے خانے بنائے اور ان خانوں میں اس نے سب چیزیں درج کرنا شروع کر دیں ۔ تاریخ عملدرآمد کا خانہ ابھی خالی رکھا اس لیے کہ پہلے وہ چیزوں کو اور ان کی تفصیل کو حافظے سے کاغذ پرمنتقل کر لینا چاہتا تھا۔ یہ بہت ضروری تھا۔ باقی عملدرآمد میں دیر ہی کتنی لگتی ۔فہرست مکمل ہونے کے بعد وہ کسی بھی دن اور کسی بھی وقت کار ہائے مجوز کے خانے میں لکھی ہوئی باتوں پر عملدرآمد کر کے معاملے نمٹا سکتا تھا۔
تو اس نے سب سے پہلے نمبر شمار ایک پر بلی کو درج کیا اور اس کے کوائف لکھے اور کا رہائے مجوز میں درج کیا کہ اسے نئی کھال و غیرہ دینی ہے اور تاریخ عمل درآمد کا خانہ خالی چھوڑ دیا۔ دوسرے نمبر پر عین الحق نے ہیڈ کانسٹیبل لطافت میر خاں کی بیوہ رقیہ بیگم کا مسئلہ درج کیا، وہ اسی بلا ک کے ایک لا ولد مکان میں تنہا رہتی تھی ، اسے عرق النساء کی شکایت تھی اور دکھ اور تنہائی میں اس کا چہرہ لٹک گیا تھا۔ یہاں کا رہائےمجوز کے خانے میں اس نے طے کیا کہ رقیہ بیگم کو عرق النساء سے چھٹکارا دینا ہے اور ایک لے پالک کے بیٹے بیٹیوں سے اس گھر کا صحن آباد کرنا ہے۔ رقیہ بیگم کے بعد اس نے بھورے خان کولڈ ڈرنک اینڈ سگریٹ کارنر کودرج کیا جوبہتربرس کا تھکا ماندہ امرد پرست تھا۔ اس کا گھر بار نہیں تھا، دکان کے تھڑے پر ہی سو رہتا تھا۔ اسے خوبصورت لڑکوں کو دکان پر بٹھانے اور اسلامی تاریخی ناول پڑھوا کر سننے کا شوق تھا۔ پریشانی کی بات یہ تھی کہ لڑ کے بھاگ بھاگ جاتے تھے اور وہ انہیں یاد کر کرکے روتا تھا اور فتح یرموک کتنے ہی دن ملتوی رہتی تھی ۔ عین الحق نے بھورے خاں کولڈڈرنک اینڈ سگریٹ کارنر کو درج کیا اور اس کے کوائف لکھے اور کارہائے مجوز میں لکھا کہ ایک خوبصورت اور باوفا لڑ کا ہمہ وقت موجود رہے تا کہ بھورے خان جدائی اور دکھ میں دہرا نہ ہو جائے اس لیے کہ بہتر برس بہت ہوتے ہیں ۔ پھر اس نے ہزارے سے آئے ہوئے شیر زمان موچی اور اس کے نیک نفس بھائیوں کو درج کیا جو فجر سے پہلے اٹھ کر شیر زمان کی چارپائی پر اکڑوں بیٹھ جاتے تھے ادراس سے اٹک اٹک کر قرآن پڑھا کرتے تھے ۔ ان سب کی بیویاں ملک میں تھیں اور وہ دن بھر شیرزمان کی ہدایت کے مطابق جوتے گانٹھتے اور ٹیپ ریکارڈر پر سلطان میاں قوال کی قوالیاں سنتے تھے۔ عین الحق نے ان کے کوائف لکھے اور کا رہائے مجوز میں درج کیا کہ ان سب کا ان کی بیویوں سے ملاپ کرانا ہے اور لکھا کہ شیر زمان کی بواسیر خونی رفع کرنی ہے کیوں کہ وہ بچوں اور قلیل آمدنی والے کمزورلوگوں سے بھی نرمی سے بات کرتا تھا۔ پھر عین الحق نے عقاب کے سے تجسس والی مائی نوراں مسی کو درج کیا جس کے پنجے بھی عقاب کے تھے اور عین الحق نے اس کے کوائف لکھے اور کارہائے مجوز میں لکھا کہ مائی نوراں مسی کو نئی ریڑھ کی ہڈی دینی ہے اور بلاک نمبر دو سے بلاک نمبر آٹھ تک مکانوں کی عقبی گلی میں وافر مقدار میں پلاسٹک کے ٹکڑے ، ہڈیاں اور ردی کاغذ مہیا کرناہے جو عرصہ بارہ سال تک فراہم رہیں ، کس لیے کہ نوراں کا ناسور اسے اس سے زیادہ کی مہلت نہیں دے گا۔ عین الحق نے دفع نا سوراز پنڈلی لکھ کر کاٹ دیا کیوں کہ اس طرح بعض گھروں سے ملنے والا خصوصی بونس بند ہونے کا احتمال تھا اور یہ بات کسی عنوان بھی نوراں کے لیے مناسب نہ تھی ۔ پھر بلاک نمبر دو سے بلاک نمبر آٹھ تک آتے ہوئے، پارک سے متصل ، مد کامنی کے پیڑ کے نیچے پہنچ کر عین الحق نے دیکھا کہ تنوروالے مخما دولا نے مد کامنی کے نوعمر تنے سے اپنا مینڈھا باندھ باندھ کر اس کی نرم چھال کو ادھیڑدیا ہے تو عین الحق نے ادھڑی ہوئی چھال کے نم دائرے سے اپنی انگلیوں کے پورمس کیے اور مد کامنی کے پیڑ سے وعدہ کیا اور پیڑ کے کوائف درج کیے، پھر کار ہائے مجوزمیں لکھا کہ مدکامنی کا زخم بھرنا ہے اور تالیف قلب کے لیے نئی کونپلیں بھی دینی ہیں پھر اس نے پولی ٹیکنک والے سہیل کو درج کیا، جسے بیرون ملک بھیجنا تھا، اور عبدالقدیر قادری اور عترت حسین کو درج کیا جنہیں ترقیاں دینی تھیں اور عین الحق کی مصروفیات بڑھتی چلی گئیں۔ اس نے برتن قناتوں والے نگے کو درج کیا جو گھر والی کی فحش بدعنوانیوں کے سبب ڈھہہ گیا تھا اور پور پور سے ہلاک ہو رہا تھا تو عین الحق نے یہ لکھا کہ اس بی بی کے نظام میں مناسب تبدیلیاں کر کے اسے نگے کی اطاعت میں بحال کرنا ہے۔ اور عین الحق نے موٹر سائیکل والے لڑکے کو درج کیا جو صبح و شام چکر لگا تا تھا اور بلاک نمبر تین میں وہ بچی اسے خاطر میں نہ لاتی تھی۔ عین الحق نے اسے اداسی سے موٹر سائیکل پر چکر لگاتے دیکھا اور نر م سرگوشیوں میں وعدہ کیا کہ سب انتظام کر دیا جائے گا۔ اور اس نے کموگا زر کی بیمار مرغی کو درج کیا اور اس طرح چیزوں کی فہرست طولانی ہوتی چلی گئی ۔ وہ چراغ جلے بیٹھتا کہیں رات ڈھلے دن بھر کے اندراجات مکمل کر پا تا ۔ اور اب یہ ہونے لگا کہ دونمبر یا تین نمبر بلاک سے آٹھ نمبر تک آتے آتے کبھی ایک آدھ چیز بھول جاتا اور اسے دوبارہ موقعے پر پہنچ کر اندراج مکمل کرنے پڑتے سواسی جھنجٹ میں چار نمبر بلاک کی حمیرا کا لوکیمیا درج ہونے سے رہ گیا۔