مئی دادا
مئی دادا
مایا کے تین ناموں کی طرح مئی دادا کے بھی تین نام تھے : مجیتا - مجید اور مئی دادا۔ مجیتا کہنے والے اُن کے سامنے اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ مجَید یا ’ارَے مَاں مجید ‘ کہنے والے دو تین بڑے بوڑھے اُن کے بعد بھی کچھ دن زنده رہے۔ باقی تمام لوگوں کے لیے ، سارے شہر، سب زمانوں کے لیے وہ مئی داداتھے۔
خود مئی دادا کا بیان تھا کہ اُن کا اصل نام ’ابدل مزید کھاں ایسپ جئی‘ ہے۔ چنانچہ پولیس کے مشیر ناموں ، راشن کارڈوں، سرکاری اسپتال کے کاغذا اور آخر میں قبرستان کے رجسٹر میں اُن کا نام عبد المجید خاں یوسف زئی لکھا گیا۔ اگر اُن کا کوئی وارث ہوتا تو لوح مزار پر بھی عبدالمجید خاں یوسف زئی ہی لکھا جاتا۔ اس لیے کہ اُن کی وصیت یہی تھی۔ مئی دادا کے بارے میں محلے کے دھوبیوں نے اڑا رکھا تھا کہ وہ ذات کے ہندو تیلی ہیں اور ان کی مسلمانیاں تک نہیں ہوئی ہیں ۔
دھوبیوں کی اس حر مزدگی کی وجہ خود مئی دادا یہ بیان کرتے تھے کہ جوانی میں دھوبیوں کے سلسلے میں اُن سے کچھ لغزشیں ہوئی تھیں اور یہ بد جنادروں کی اولاد اب ان باتوں کا انتقام لے رہی ہے۔
دھو بی محلے میں اُن کی تگ و تاز کے بارے میں مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ جوانی میں مئی دادا د یکھنے دکھانے کی چیز تھے اور یہ کہ اُن کی آخری محبوبہ جمرت دھو بن سنہ ۶۵ میں ۷۰ سال کی ہو کر مری ہے ۔
میں نے ڈبا کیمرے سے کھینچی ہوئی بادامی رنگ کی ایک بوسیدہ تصویر بھی دیکھی ہے جس میں اٹھارہ بیس برس کے مئی دادا کان کی لو تک پہنچی ہوئی لوہا چڑھی لاٹھی تھا مے ، تارا سی آنکھوں میں بہت سا سرمہ بھرے ایک زبر دست پگڑ باندھے کیمرے کو گھورتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ مئی دادا کی یہ تصویر مرحوم پھو پا ابا کی کھینچی ہوئی ہے جنہوں نے شہر میں سب سے پہلے سنہ اٹھارہ سو کچھ میں بمبئی کی کسی پارسی فرم سے کیمرے کا وی پی پارسل منگوایا تھا۔ خاندان کے اسکینڈل باز بوڑھوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ مئی دادا ، پھوپا ابا مرحوم اور اُن کے یاروں دوستوں کے لیے اغوا کی وارداتیں کیا کرتے تھے اور ارباب ِنشاط سے رابطے قائم کراتے تھے ۔ مگر یہ نر ی خباثت تھی ، پھوپا ابا کھرے پٹھان اور حافظ قرآن تھے اور مئی دا دا تو تھے ہی یوسف زئی، ایسی گھٹیا باتیں اُن کے دائرۂ خیال میں بھی نہیں آسکتی تھیں۔ لوگ کہتے ہیں پھوپا ابا نے انہیں ایک تپنچا خرید کر دیا تھا جسے چلانے کی نوبت تو شاید کبھی نہ آئی ہو مگر دھمکانے کے کام ضرور آتا تھا۔
میں نے اکٹر مئی دادا سے اس تپنچے کا ذکر سنا ہے۔ تقسیم ملک سے بہت پہلے کسی حرامی ،ازل گیر پھتا بھان کے گھوڑے نے اسے چرا لیا اور دھوبیوں نے اڑا دیا کہ چرانے والے نے یہ تپنچاٹین ڈبے بھوسی ٹکڑے والے کو خستہ گجک کے بدلے میں تلوا دیا ہے۔ مئی دادا پتنچے کے واقعے پر ہل کر رہ گئے تھے اور پولیس میں رپورٹ لکھانے چلے تھے مگر لوگوں نے سمجھایا کہ کیا غضب کرتے ہو، پولیس کو ہوا بھی نہ لگے ، بلالائسنس کا ہتھیار تھا اُلٹے چکر میں پڑ جاؤ گے۔ مجبوری تھی ۔ مئی دادا خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے ۔ بعد میں کئی برس تک اس انتظار میں رہے کہ بس مجے پتا چل جائے کہ میرا تپنچا کس سالے کے کنے ہے ۔ آنتیں نکال کے اس اَزَل گرِ پھتا بھان کے گھوڑے کے گلے میں پِنادوں گا۔
آنتیں نکال کر گلے میں پہنا دینا ان کی پسندیدہ دھمکی تھی اور ’اجل گرفتہ‘ انہوں نے میرے چچا سے سنا تھا جو اس زمانے میں زور زور سے طلسم ہوشربا پڑھ کر ہم سب کو سنایا کرتے تھے ۔
مئی دادا کا خیال تھا کہ ’یہ یو، طلسم ہوشربا اور قصہ طوطا مینا اور انوار سہیلی وغیرہ ہیں یہ سب ٹھیک ہیں مگر انگریزی تعلیم جو ہے یہ آدمی کو ’نا مردا ‘ بنا دیتی ہے .....یہ لفظ وہ بزدل کے معنوں میں استعمال کرتے تھے اور اکثر بڑے تاسف سے کہا کرتے تھے کہ غضب خدا کا، جب سے ان پٹھان بچوں نے انگریزی پڑھنا شروع کی ہے، اس خاندان کے لوگوں نے کوئی ’کتل‘ ہی نہیں کیا۔
ایک بار ابا نے یہ بات سن لی اور انہیں ایسی ڈانٹ پلائی کہ سب سے چار دن تک روٹھے رہے، کسی سے بات نہیں کی۔ آخر پانچویں دن مجھے اشارے سے بلا کر راز دارانہ انداز میں کہنے لگے کہ تیرے باوا علی گڑھ جا کے خراب ہوئے ہیں پہلے ایسے نہیں تھے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ ہم نے ایک قاعدے کی بات کہی اور وہ بگڑ گئے ’بلا وجے‘۔
مگر یہ طے تھا کہ ابا کو اور ہم سب بہن بھائیوں کو ان سے جتنی محبت ملتی تھی، دوسروں کو اُس کی آدھی بھی نصیب نہیں تھی ۔ ویسے مجموعی طور پر وہ پورے کٹمب قبیلے کے عاشق تھے۔ مجھ سے کہتے تھے کہ میں تیرے کٹمب قبیلے کے ’’ساکھ سجر‘‘ کا ماشٹر ہوں اور یہ کہ ’’ایسا چاروں کھونٹ ساکھ سجر‘‘ میں نے کہیں اور نہیں دیکھا۔
’ساکھ سجر ‘سے اُن کی مراد شجرۂ نسب ہوتی تھی مگر’ چاروں کھونٹ ساکھ سجر‘ کیا ہوتا ہے، یہ نہ میں نے کبھی پوچھا، نہ انہوں نے کبھی بتایا۔
اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میرے کٹمب کی حد تک مئی دادا علم ِاسم نویسی کے ماہر تھے۔
اس مرحوم خاندان میں بڑوں کا طریق کار یہ تھا کہ جونہی لڑکا اپنا پورا نام لکھنے کے قابل ہوا اس کا دادا، تایا، باپ یا چچا اُسے شجرۂ نسب کی ایک وصلی تھما دیتے تھے کہ لو بیٹا، سنبھال سنبھال کے اس کی سو نقلیں تو بنا دو۔ ظاہر ہے کہ کلک اور گاڑھی سیاہ روشنائی سے لمبے لمبے کاغذوں پر یہ شاخِ شجر بنائے جاتے تھے۔ پنسل ، فاؤنٹن پین، فولادی نب وغیرہ سے پرکھوں کے نام لکھنا سخت بے ادبی بلکہ مداخلت فی الدین سمجھی جاتی تھی۔ انہیں درست طریقے سے بنانے میں مہینوں لگ جاتے تھے مگر یہ ایک طے شدہ طریق کار بلکہ پیدائشی جبر تھا جس سے بچنا ممکن نہیں تھا۔ شاخ ِشجر مکمل ہو جاتے تو خاندان کا اُس دور کا پیٹری آرک، لمڈوں کو بلا کر اُن کی کارکردگی ملاحظہ کرتا اور تمام کھلے ، الحمد شریف اور چاروں قل سننے کے بعد پہلے اس لڑکے کی مین لائن پھر برانچ لائنیں زبانی سنتا اور ایک روپیا کَلدار عطا کرتا تھا۔ درمیان میں بھول جانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا اس لیے کہ کئی مہینوں تک فلاں محمد خاں کے بیٹے فلاں محمد خاں اور ان کے بیٹے فلاں محمد خاں خوابوں تک میں تلواریں لیے ٹہلتے پھرے تھے۔ انہیں بھول کون سکتا تھا۔
دوسرے پیٹری آرکوں کے برخلاف میرے دادا المڈوں کی بدخطی کو نظر اندا فرماتے تھے مگر لمڈے بندہ بشر ہوتے ہیں۔ اگر غلطی سے اِن محمد خان کے بیٹے اُن محمد خاں کی بجائے ’وہ دوسرے‘ محمد خاں لکھ دیا اور دادا کی نظر پڑ گئی تو سمجھو مارے گئے۔ انگلیوں پر کلک تقریباً تو ڑدیے جاتے تھے کہ ،سور ، میرے نگڑ سگڑ داد کو ولد الحرام بتا رہا ہے ! اُس وقت ہماری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آخر اس قدر خفا ہونے کی کیا بات ہے ، ہم درست کیسے لیتے ہیں..... مگر اب کچھ کچھ سمجھ میں آتا ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ اُن سب کے یہاں یہ شدت کس لیے تھی۔ شاید اپنی زاد بوم سے ہزار میل دور اور سینکڑوں برس کے بعد میں، یہ پشتون قبیلہ جو اپنی زبان بھی بھول چکا تھا ، کاغذوں پر اپنے نسب کے تحفظ کی ہارتی ہوئی جنگ لڑ رہا تھا۔
اس لیے کہ لوگ کبھی کبھی شیخوں ، مغلوں میں بھی شادیاں کر لیتے تھے اور بعضے تو اتنے بے ادب تھے کہ سیدوں تک کی بیٹی لے آتے تھے معاذ اللہ۔ آلِ رسولؐ سے خدمتیں لینا اور کبھی کبھی سخت سست کہہ دینا ! .....اس بے ہودگی کا تصور ہی بدنوں میں لرزہ طاری کرنے کے لیے کافی تھا۔
تو دوسری اولاد ِنرینہ کی طرح اس اذیت سے، کہ جو ہمارے یہاں ختنہ ہی کی طرح لازمی تھی، مجھے بھی گزرنا پڑا۔ عالمگیر بادشاہ کے عہد سے میرے ہوش سنبھالنے تک آٹھ پیڑھیاں بھگتانا بہ ظاہر کوئی مشکل کام نہیں تھا مگروہ سپاہی لوگ تھے اور پھر ان زمانوں میں خاندانی منصوبہ بندی کا کوئی واضح تصور موجود نہیں تھا چنانچہ میں چیں بول گیا۔ مثلاً فلاں محمد خاں کے پانچ بیٹے، ان پانچ بیٹوں کے مجموعی طور پر اٹھائیس انتیس بیٹے (جن میں بمشکل ایک دو لاولد) باقی ستائیس اٹھائیس کی اتنی اولا دیں اور اُن کے اتنے اتنے نو نہال ... اور معلوم ہوتا تھا ابھی ہم چار پیڑھی ہی اُترے ہیں کہ ایک وضاحتی شجرہ اور تھما دیا گیا کہ بیٹا ذرا اب ماؤں کی طرف سے ان چاروں پیڑھیوں کا حساب تو کر لو۔
اور یہاں سے ایک تہ دار عذابِ مزید شروع ہوتا تھا اس لیے کہ کہیں خال خال انحراف کے سوا یہ خاندان آپس میں ہی شادیاں کرتا رہا تھا کیونکہ ہڈی اور خون کے تحفظ کا سوال تھا اور اس بات نے میرے لیے ایک عجیب صورت حال پیدا کر دی تھی۔ یعنی ایک رشتے سے جو صاحب میرے دادا یا نانا ہیں وہ دوسرے حساب سے چچا اور تیسرے ذرا دور کے رشتے سے ماموں ہوتے ہیں اور اس میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں .....کئی ہزار کاغذوں پر اسی طرح لکھا ہے اور اب جو یہ صاحب میری پھوپی کی صاحبزادی سے شادی کرنے پر تلے ہیں تو یہ میرے بہنوئی بن جائیں گے اور ذیلی شاخ شجر، جدول پانچ کے حساب سے دیکھو تو یہی صاحب میرے بھائی بنتے ہیں ہر چند کہ یہ رشتہ ذرا گھما کر ہے۔
اس عذاب سے گھبرا کر میں باقاعدہ رو پڑتا۔ تب ایسے میں مئی دادا خدا کے بر وقت فرشتوں کی طرح میری مدد کو آتے اور اسم نویسی کا مسئلہ پانی کر دیتے ۔ گھنٹوں میرے پاس بیٹھ کر گتھیاں سلجھاتے اور ہمت بندھاتے۔
خود اُن کے شجرۂ نسب کے بارے میں سوال کرنے کا ہمیں خیال ہی نہیں آیا۔ یا آیا ہو گا تو دھوبیوں کی اُڑائی ہوئی افواہوں کے تناظر میں یہ سوچ کر کہ مئی دادا اس بارے میں بہت حساس ہیں ہم لڑکوں نے کبھی پوچھا نہیں ہوگا ۔ ایک بار کسی بزرگ خاتون نے خوش مزاجی سے پوچھ لیا کہ مجید تو سب کے شجرے یاد کیے بیٹھا ہے، خود اپنا شاخ شجر بھی یاد ہے تجھے ؟ تو اتنی ہی خوش مزاجی سے بولے ’’ ہاں بیا۔ کیوں نہیں۔ سنو ، سمیر ابنے سمسیر ابنے سمسیر ابنے ابدل مزید کھاں ایسپ جئی‘‘ اور ایک زبر دست قہقہہ مار کر ہنسے۔نادر شاہ درانی کا یہ تاریخی لطیفہ بھی اُنہیں چچانے ہی سُنایا تھا۔
ہم لڑکوں کے لیے ان کی جو حیثیت تھی، اگر اسے کسی ایک دو لفظی اصطلاح میں بیان کیا جا سکتا تو وہ اصطلاح تھی۔ ’’ ماہر پشتو نیات‘‘ کی۔ وہ ہمارے لیے ’’پٹھان ساگا‘‘ کے عالم تھے مثلاً یہ کہ پشتو زبان جو دنیا کی پرشکوہ زبانوں میں سے ایک ہے ، کچھ اس طرح بولی جاتی ہے کہ دغا دا روڑا وا پستہ دا بادام روڑا دا ہینگ ، اور یہ ہمیں بہت شاندار لگتا تھا کہ ہمارے پر کھ ایسی زبرست زبان بولتے ہوئے کفار کے علاقوں میں در آئے تھے اور انہوں نے سیاہ فام بھیلوں، کورکوؤں اور گونڈوں کے درمیان کھڑے ہو کر اعلائے کلمتہ اللہ کیا تھا اور یہ زبان بولی تھی۔ کیسا رعب پڑتا ہوگا مقامی آبادیوں پر !
اپنے ہم عمر کٹمب قبیلے والوں میں شاید میں سب سے زیادہ پر تخیل واقع ہوا تھا۔ آنکھیں پھاڑے منہ کھولے مئی دادا کا بولا ہوا ایک ایک لفظ پیتا رہتا۔ اور جب میری عمر کے دوسرے لڑکے پتنگیں اڑانے اور ہا کیاں کھیلنے میں لگے ہوتے، میں باڑے کی کو ٹھریوں والی چھت پر چڑھ جاتا اور اپنے قبیلے کے وطن تیراہ سے ہزار ڈیڑھ ہزار میل دور، اپنے پشتون اجداد سے ڈھائی تین سو سال پرے ، ٹین کی نالی دار چھت پر لیٹا ہوا قبائلی جنگیں لڑا کرتا یا بقول مئی دادا درۂ خیبر میں ’’ڈنڈم ڈنڈا اور تلوارم تلوارا ‘‘کیا کرتا۔
گرمیوں کی چھٹیوں میں میرا پسندیدہ کھیل یہ ہوتا تھا کہ میں کاٹھ کباڑ والے تاریک کمروں میں گھس جاتا، یاتل گھروں میں اتر جاتا یا دھاوؤں پر چڑھے جاتا اور کھیتی باڑی کے آلات میں دبے ہوئے زنگ خوردہ آدھے پون ہتھیاروں میں سے اپنے مطلب کی کوئی چیز نکال کر اُسے اپنے طور پر صیقل کرتا ۔کبھی کوئی پوری تلوار، کٹا ر بھی مل جاتی جو زنگ سے نڈھال ہو کر ہل یا ہسیئے یا پاسے کی طرح بوجھل اور بے ڈول ہو گئی ہوتی تو اسے دیکھ کر مجھے عجیب سا خیال آتا اور میں سوچتا کہ یہ تلوار جو اب ہل یا ہیسئے یا پاسے کی شکل ہو گئی ہے، یہ شاید ہمارا سپاہی پیشہ خاندان ہے اور اسے زمین پر پڑے پڑے ایک ’عدم استعمال‘ یا ’غلط استعمال‘ نے کسان بنا دیا ہے ۔ سو میں اپنے زنگ خوردہ سپاہی کو بحال کرنے کی کوشش میں بہن بھائیوں کے رو برو ناٹک کیا کرتا تھا۔ پردادا کی کامدار مخمل کی پھٹی ہوئی فرغل پہن کر، کمر سے آدھی پون تلوار باندھ کر میں پشتو مکالمات میں (جو ظاہر ہے مئی دادا کی ایجاد ہوتے تھے) کفار کو للکارا کرتا ، پشتو ر جز پڑھا کرتا ۔ مئی دادا کو یہ ناٹک اور ہتھیاروں کی یہ بحالی بہت اچھی لگتی تھی۔ وہ گھنٹوں ہم لوگوں کےساتھ اس کھیل میں شریک رہتے کیونکہ اُن کا بیان تھا کہ وہ ہتھیاروں کے درمیان پیدا ہوئے تھے۔ ان کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے عشق تھا۔
۴۶ - ۴۷ کے پُر آشوب زمانے میں پڑوس کی غیر مسلم ریاست سے مسلمان ہجرت کر کے ہمارے شہر آرہے تھے، کیونکہ ہمارا شہر مسلمان اکثریت کا شہر تھا، شاید اب بھی ہو گا اور یہ پٹھانوں کی بسائی ہوئی ریاست تھی۔ مئی دادا ایک روز ریلوے اسٹیشن سے گھیر گھار کے صیقل گروں ، اسلحہ سازوں کا ایک خاندان لے آئے اور انہیں باڑے میں بٹھا کہ ابا کی تلاش میں اسکول پہنچ گئے۔ پتا نہیں اس طرح ابا کو قائل کر لیا کہ بے چارے بے آسرا لوگ ہیں۔ جہاں چارکنبوں کو باڑے کی کو ٹھریوں میں پناہ دی ہے تو میاں ان کے لیے بھی جگہ نکالیے ۔ پھر مئی دادا نے بڑی کوشش اور سیاست سے اسلحہ سازوں صیقل گروں کے لیے ایک کو ٹھری خالی کرائی، لکڑی کے کھوکھے لالا کر تختے نکالے اور جگہ کر، باڑے میں ایک چھوٹا سا کمپاؤنڈ بنا دیا ۔ اسلحہ سازوں، صیقل گروں نے دوسرے ہی دن گڑھا کھود کر دھونکنی نصب کر دی اور کھٹا کھٹ چھریاں، تلواریں بنانی شروع کر دیں۔ پہلا ز نبیہ مئی دادا کے لیے تخلیق ہوا جس کے نیام پر اماں کی پرانی مخملیں صدری سے حاصل کیا ہوا کپڑا مڑہا گیا اور مرحوم تپنچے کے بعد مٹی دادا ایک اصل نسل زنبیے کے مالک بن گئے۔ تپنچے کی گمشدگی اور زنبیے کے حصول کے درمیان کی عذاب ناک مدت کے بارے میں پہلی بار مئی دادا تقریباً مسکرا کر کہنے لگے ۔ ’’یہ یوتپنچا گایب ہوا ہے تو اس میں بھی مالک کی کوئی نہ کوئی مَصلے ت ہوئے گی۔ کیا پتا ہیں گصّے میں کسی بھان کے گھوڑے کے پیٹ میں جھونک دیتا ، بلا وجے لینے کے دینے پڑ جاتے ۔ پلس کچیری ہوتی پھرتی۔‘‘ کسی نے خدشہ ظاہر کیا کہ مئی دادا تپنچا لے لینے اور زنبیہ دے دینے میں مالک کی کیا مصلحت ہو سکتی ہے۔ اب آپ کسی گھوڑے کے پیٹ میں زَنبیہ اتار دیں گے۔ تو زور سے ہنسے اور زنبیے کے مخملیں نیام کو تھپکنے لگے’’ بے کیا کھوجی سمج لیا ہے۔‘‘
رتن ناتھ سرشار کے خوجی سے میرے چچانے اور سروانٹے کے ڈون کیہوٹے سے میں نے متعارف کرایا تھا۔ مگر کیہوٹے اُن کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہتے تھے’’گورے سب ....تیا ہوتے ہیں۔‘‘
یہی زمانہ تھا کہ ریاستی حکومت نے آتشیں اسلحہ اور چند انچ سے زیاد پھل کے ہر دھار دار آلے کے لائسنسوں کی سختی سے پڑتال شروع کر دی ۔ نئے لائسنس جاری ہو رہے تھے مگر بڑی سفارشوں کے بعد اور لائسنس کی سالانہ فیس بھی ہوتی تھی جو بڑی ’جیادتی‘ کی بات تھی مگر پہلا مسئلہ لائسنس کا حصول تھا۔ مئی دادا نے اماں کی خوشامد کر کرا کے ماموں سے سفارش کروائی۔ وہ پولیس میں کوئی توپ افسر تھے ۔ اور مئی دادا کا کام بن گیا - زنبیے کا بارہ آنے سالانہ کا لائسنس جاری ہو گیا۔ مئی دادا کو یہ بارہ آنے ہمیشہ کھلتے رہے مگر انہیں یہ اطمینان ہو گیا کہ اُن کا زنبیہ’’ اب کوئی بھان کی گھوڑی گورمنٹ‘‘ بھی نہیں چھین سکتی ، دوسروں کا ذکر ہی کیا ۔ اماں نے اور ماموں نے سفارش گزارنے سے پہلے مئی دادا سے تقریباً حلف اٹھوا لیا تھا کہ وہ کسی کو اس زنبیے سے دھمکائیں گے نہیں ۔ ’’ نا ہیں میاں، جیسی چاہے کسم لے لو، میں کسی اَزَل گرپھتابھان کے ...‘‘
مئی دادا سال میں ایک بار خود اپنا لائسنس اور میرے ابا، تا یاؤں، چچاؤں، پھو پاؤں ، خالوؤں کے اور میری اماں کے نام کے بندوقوں، رائفلوں ، تیغوں، تلواروں ، خنجروں ، کٹاروں، کر چوں کے لائسنس اکٹھے کرتے اور فیس بھرنے کے لیے لائن لگاتے۔ واپس آتے تو مردانہ ڈیوڑھی سے ہی بڑ بڑانا شروع کر دیتے کہ غضب خدا کا، ایک زمانہ وہ دیکھا سُنا تھا کہ گدی نشین تو نہیں تھے مگر فلاں محمد خاں کے محل پے پانچ پانچ تو پیں چڑھی رہتی تھیں ’’مزال تھی کوئی اَزل گر پھتا بھان کا گھوڑا نجر بھی ڈال کے دیخ سکتا‘‘..... اور فلاں محمد خاں بھی اگر چہ گدی نشین نہیں تھے مگر’’ ون کے کنے سولھے سو تر واریں تھیں‘‘..... وہ وہ سرو ہیاں، تیغے ، کھانڈے ، کرچیں ، زنبیے ، کٹاریں ، گھکھریاں، پیش قبض تھے کہ رہے نام مالک کا ۔
ابا کہتے تھے، مجید کو تو ریاست کے اسلحہ خانے کا داروغہ ہونا چاہیے تھا۔ ہتھیار دیکھ دیکھ کے اس کا خون بڑھتا رہتا۔ پھر حکومت نے حکم جاری کیا کہ تمام ہتھیار سر کاری مال خانے میں جمع کرا دیے جائیں۔ مئی دادا نے ڈوبتے ہوئے دل کے ساتھ یہ خبر سنی۔ دو روز تک مغلظات بکتے رہے ۔ غصہ ذرا ٹھنڈا ہوا تو میرے دو تین بزرگوں کو اپنا ہمخیال کیا اور ابا کو مشورہ دیا کہ لائسنس والے ہتھیار بے شک جمع کرا دیے جائیں مگر کونوں کھدروں، تَل گھروں میں، دھادوں پر اور دیواروں میں پرکھوں کی جو امانتیں محفوظ ہیں اُن کا کہیں کوئی اندراج نہیں ہے سو اُن کو صیقل کراکے تیار رکھا جائے ۔زمانہ خراب ہے۔ اور پٹھان بچے تو اچھے زمانے میں بھی تیار رہتے ہیں۔
ابا علی گیرین تھے ، اصول پرست آدمی تھے، انہیں حکومت کے واضح احکام کی خلاف ورزی کسی صورت منظور نہیں تھی ۔ پھر اُن کا کہنا تھا کہ سو پچاس برس سے دفن کیسے ہوئے ہتھیار اب کھاد بن چکے ہوں گے پھر اس ترددِ بے جاسے کیا حاصل ؟ اس لیے اس معاملے کو یہیں ختم کر دیا جائے ۔ مئی وادا بظاہر مایوس ہو کہ بیٹھ رہے مگر ہم لڑ کے دیکھ رہے تھے کہ اُن کے گردو پیش اور ہمارے دو ہرے دالانوں ، دھاووں، تل گھروں ، زینوں میں ایک پر اسرار سرگرمی جاری ہے جس کا ابا کو کوئی پتا نہیں۔
لائسنس دار اسلحہ جمع کر دیے گئے۔ دو تانگوں میں کٹمب قبیلے کے دوچا بڑے اور مئی دا دا ہتھیار لاد کر پولیس کے مال خانے پہنچے اور رسیدیں کٹوا کر خالی ہاتھ گھر لوٹ آئے۔
میں اسکول سے آیا تو دیکھا کہ مئی دارا ڈیوڑھی میں دیوار سے ٹیک لگائے سر نیہوڑائے اکڑوں بیٹھے ہیں۔ یوں لگتا تھا، اپنے کسی خون کے رشتے کو مٹی کے سپرد کر آئے ہیں۔ دُکھ اتنا گہرا اُتر گیا تھا کہ آج مغلظات بھی نہیں سنا رہے تھے ۔ پھر جو تین چار دن بعد میرے ایک تایا کے ہتھیار جمع کرانے مال خانے گئے تو مئی داوا لوٹ کر نہیں آئے۔
خبر آئی کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے، کو توالی خاص کے لاک اَپ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور مغلظات سے شغل ہے۔ ہاں ہاں کر کے تقریباً پورا قبیلہ دوڑ پڑا۔ مئی دادا ویسے تو شاید ملازم تھے مگر میرزائی خیلوں کی ڈیوڑھیوں کے پروردہ تھے اور سب سے بڑی بات یہ کہ دوسرے قبیلے کے ہی سہی ، پٹھان تھے ..... وردیوں کے نرغے میں انہیں اکیلا کیسے چھوڑا جا سکتا تھا۔
اماں تانگے میں بیٹھ ترنت اپنے پولیس بھیا کے یہاں پہنچیں اور میز پر سروتا مار مار کر بھائی کو حکم دے دیا کہ ابھی اسی وقت مئی دادا کو گھر آجانا چاہیے، میاں .....آج ہمارے پشتینی اہلکار کو .....ایک بوڑھے کو بند کر دیا ہے تم نے تو کل ہمارے بچوں کو باندھ لے جاؤ گے ۔ پرکھوں نے کیا اسی لیے اپنی تلواروں سے جنگل کاٹ کاٹ کے یہ ریاست بسائی تھی۔ آئیں ؟ اُس روز میری اماں کا جلال دیدنی تھا۔ بولتی ہی چلی گئیں ۔ غالب کے شاگرد نواب یار محمد خاں شوکت کی پوتی تھیں۔ ایک جید نوابزادے کی فکر مندی، ایک تو انا شاعر کی طلاقت لسانی اپنے جوہر دکھا رہی تھی ۔
ماموں کی کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا، ’’اگر منجھلی آپا پتا تو پہلے کہ اسے کیوں بند کیا گیا ہے.... سنیے تو .....میں بھیجتا ہوں کسی کو ..... آپ اندر تو چلیے۔ کھانا تو کھا لیجیے ۔‘‘ مگر اماں چٹان کی طرح اُن کی مردانہ بیٹھک میں جمی رہیں اور جلال کے عالم میں بیٹھی چھالیا کترتی ر ہیں۔ ماموں کا پورا گھر ایک ایک بسکٹ اور ایک ایک پیالی چائے پر صبر کیے انہیں گھیرے بیٹھا رہا۔ ماموں کو وردی پہن کر خود جانا پڑا۔
دو گھنٹے بعد مئی دادا ہماری ڈیوڑھی میں بیٹھے تھے اور کوئی دو درجن میرزائی خیلوں کو اپنی روداد سنا رہے تھے۔
’ا جل گرفتہ‘ اور وہ دوسری بات ہٹا کر میں جو سمجھ سکا وہ یہ تھا کہ جب وہ تایا کے ہتھیار جمع کرانے مال خانے پہنچے تو حوالدار سکھیا رام جو ذات کا تیلی ہے اور وردی پہننے کے باوجود کسی طرف سے سپاہی نظر نہیں آتا، اس دن مال خانے کا انچارج تھا۔ مئی دادا اور سکھیا رام کی پہلی مشترکہ بدقسمتی یہی تھی کہ ڈیوٹی پر سکھیا رام تھا۔ اگر بیلا سنگھ ٹھا کر یا گلاب خاں حوالدار ڈیوٹی پر ہوتے تو وہ کچھ نہ ہوتا جو ہوا۔
پہلے تو سکھیا نے ہنس کر ان کی طرف دیکھا۔ دوسری واضح حرمزدگیاں یہ کیں کہ انہیں بڑے میاں کہہ کہ مخاطب کیا اور چپراسی کے اسٹول پر بیٹھنے کی دعوت دی۔مئی دادا ایک طرف کھڑے اُسے گھورتے رہے ۔ آتش فشاں اندر ہی اندر کھول رہا تھا۔ اُس کی آخری اور ناقابل معافی بدمعاشی جس سے آتش فشاں کا ڈھکنا ایک ’بوم‘ کے ساتھ اُڑ گیا، یہ تھی کہ اس تیلی کے بچے نے ہمارے ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار اُٹھا لیا اور بے نیازی سے بیٹری پیتے ہوئے اُس سے اپنی پنسل چھیلنے لگا۔
یہ نواب غوث محمد خاں فتح جنگ بہادر کا پیش قبض تھا جس کا قبضہ سنگ ِیشب کا تھا جس پر سنگ تراش نے پھول پتیوں کے نقش کچھ اس طرح اُبھارے تھے کہ لگتا تھا، موم سے ڈھال کر نکالے گئے ہیں، پیش قبض کے ایک چوتھائی پھل پر سونے کے پانی سے خلد آشیانی پرکھ کا نام نامی درج تھا اور فارسی زبان میں خبر دی گئی تھی کہ یہ ہتھیار ایک ایرانی کاریگر نے بطورِ خاص نواب بہادر کے لیے تخلیق کیا ہے کہ جو زمین پر کھڑے ہو کر رو برو شیر کا شکار کیاکرتے ہیں۔
سو پہلی بات تو یہ کہ سکھیا رام ذات کا تیلی تھا اور آخری بات یہ کہ بیٹری پیتے ہوئے نواب غوث بہا در جنت مکانی کے پیش قبض سے پنسل چھیل رہا تھا۔
مئی دادا نے ’ازل گرِ پھتا‘ یا ’بھان کے‘ کہہ کہ جو ایک ز ناٹے کا تھپڑ مارا تو حوالدار سکھیا کی بیٹری اور پنسل دُور جا پڑی پھر انہوں نے اس تیلی کے پودے کو اطلاع دی کہ یہ شیر بچوں کی میراث ہے ..... تیری ترکاری کاٹنے والی چھری نہیں اور یہ تیرے ہاتھ لگنے سے تو نجس ہو ہی چکی تھی مگر میں نے صبر کیا اور اب جو تو بھان کے گھوڑے اس سے پنسل چھیلتا ہے، اب تو میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا وغیرہ۔
ظاہر ہے اس کے بعد مئی دادا کو کو توالی خاص کے لاک اَپ میں منتقل کر دیا گیا۔
کو توالی انچارج بڑے چکر میں تھا۔ تین فیتوں والے ایک چھوٹے موٹے پولیس افسر کو جو سرکاری وردی میں ڈیوٹی پر تھا ایک سو یلین نے زدو کوب کیا تھا اور سرکاری فرائض کی بجا آوری میں مزاحم ہوا تھا۔
مگر ریاست ابھی یونین میں ضم نہیں ہوئی تھی۔
ایک پٹھان نواب ابھی ماہی مراتب کے سائے میں ریاستی گدی پر بیٹھا مقدور بھرفرمانروائی کرتا تھا اور ایک ہزار سے زائد مسجدوں کے ایک ہزار سے زائد منبروں سے ابھی اُس کے نام کا خطبہ پڑھا جا رہا تھا کہ خَدّدَ اللهُ مُلكَهُ و سلطنتہ ..... ہر چند کہ ریاستی پرچم کا مستول ہاتھوں سے پھسلا جاتا تھا اور نئی دلی میں بات چل پڑی تھی کہ ریاست ضم کر دی جائے گی۔
تو نواب کے خوشحال، نیم خوشحال، تعلیم یافتہ ،نیم تعلیم یافتہ .....اور مہذب، نیم مہذب مگر با اثر کٹمب قبیلے کے معززین اور ذرا کم معزز کئی سو پٹھان کو توالی خاص کو گھیرے کھڑے تھے کہ اتنے میں ماموں پہنچ گئے۔ انہوں نے علیگڑھ سے نفسیات میں فاضل کی سند خواہ مخواہ تو نہیں لی تھی۔ دس بیس منٹ میں اپنے توپ عہدے کی دھونس دیے بغیر بڑے پیار سے اپنے اُس ماتحت افسر کو قائل کر لیا کہ یہ غنڈا گردی اور فوجداری سے زیادہ تاریخ کی بازی ہارتے ہوئے ایک غیرت مند قبیلے کی جھلاہٹ اور مجروح اَنا کا مسئلہ ہے۔ کو توالی انچارج ذات کا چوہان راجپوت تھا اور تلوار باندھنے والے ہارتے ہوئے ہاتھوں کی تکلیف کو شاید سمجھتا تھا۔ علاوہ ازیں ایک بیوقوف غیرسپاہی ہیڈ کانسٹیبل کی وجہ سے اپنے افسران بالا کے لیے مزید مسائل پیدا کرنا نہیں چاہتا تھا۔
حوالدار سکھیا رام کو جواب طلبی کا پروانہ ملاکہ ہرگاہ ہمارے علم میں آیا ہے کہ تم نے ریاست سے متعلق نہایت بیش قیمت نادر اور تاریخی اہمیت کے حامل ایک ہتھیار کو کہ جو تمہاری تحویل میں وغیرہ وغیرہ۔ سکھیا رام کو لائن حاضر کر دیا گیا۔
ابا نے مئی دادا کو آرام کرنے کے لیے، زمینوں پر بھیج دیا۔ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ وہ ہر کس و ناکس کو حوالدار سکھیا، سابق انچارج اسٹیٹ مال خانہ کے زوال کی داستان سناتے پھرتے تھے۔
مگر کسے معلوم تھا کہ مئی دادا کا تقریباً زوال بھی ہم لڑکوں کو دیکھنا پڑے گا۔ ایک بات پر ابا اُن سے سخت ناراض ہوئے ، باڑے کی ایک کو ٹھری خالی کرائی گئی اور مئی دادا کو پہلی بار ہماری ڈیوڑھی سے کچھ دور چھاؤنی چھانا پڑی ۔
ہوا یوں کہ دادا کے انتقال کے بعد شاید پہلی بار ہماری ایک بہن قبیلے سے باہر بیاہی گئی۔ لڑکا اعلیٰ تعلیم یافتہ مگر سخت سویلین تھا کہ اس کا تعلق کسی مارنے دھاڑنے والے قبیلے سے نہیں تھا۔ شادی کے بعد، ہمارے یہاں کے دستور کے مطابق داماد کو لے جایا گیا کہ وہ مئی دادا کو سلام کرے اور مئی دادا اُسے دو روپے سلامی کے دیں ۔ ظاہر ہے، وہ اس کے بزرگ تھے ۔ کوئی بوڑھا ادھیڑ اُس وقت موجود نہیں تھا اس لیے ہم لڑکوں کو مقرر کیا گیا کہ داماد کو لے جاکر رسم پوری کرائیں۔ مئی دادا علیل تھے ، نئے داماد کو دیکھ کر مسکرائے ،جیوٹ کر کے اُٹھ بیٹھے۔ ہم نے دائیں بائیں تکیے لگا دیے۔ سلام لے کر انہوں نے داماد کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔ سلامی کے دور پے عطا کیے اور پھر ’’پشتونیات ‘‘کی بساط پھیلادی۔
ڈیڑھ دو گھنٹے تک نیا داماد منہ کھولے مئی دادا کے انکشافات سُنتا رہا۔ ’ساکھ سجر‘ پر ایک سیر حاصل تبصرے کے بعد مئی داوا نے داماد کو بتایا کہ یہ میرزائی خیل بڑے جیوٹ والے کٹمب ہیں، خونخوار اتنے کہ ’مزال‘ ہے کوئی . اُن کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھ لے اور یہ کہ جو چالیس بیالیس گھر اس محلے میں ایک ساتھ چلے گئے ہیں ،یہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں ، ہر گھر نے دوسرے گھر میں ایک کھڑکی اتنی بڑی نکال رکھی ہے کہ ایک سالم آدمی مع تلوار یا ’رفل‘ کے گزر سکتا ہے۔ اگر محلے کے اس سرے پر میرزائی خیلوں کے کسی گھر پر حملہ ہو تو ’ دس منٹی‘ میں اِس سرے سے، اُس سرے تک سو سوا سو مسلح پٹھان بچے صورت ِحال پر قابو پانے اور حملہ آور کو تہس نہس کرنے کے لیے جمع ہو سکتے ہیں۔ مثلاً سنہ فلاں میں فلاں محمد خاں ایک ذرا سی بات پر نائب کو توال کو مع اُس کے گھوڑے کے قتل کر دینے کے بعد کھڑکیوں کھڑکیوں ، گھروں گھروں گزرتے ہوئے صاف نکل گئے تھے، تو یہ فائدہ ہے ان مربوط مکانوں کا ۔ پھر اس طرح عزیز پیاروں میں آپس میں میل محبت بھی رہتی ہے۔ اس کی مثال مئی دادا نے یوں دی کہ یہ جو اپنے بچو میاں بیٹھے ہیں تو ان کے فلانے پر دادے نے انھی کے فلانے پر نانے کو صرف اتنی سی بات پر قتل کر دیا تھا کہ دونوں ایک جگہ ولیمہ کھانے گئے تھے۔ پردادے
پہلے سے موجود تھے کہ پرنانے آئے ۔ دونوں میں جائیداد پر معمولی سا مقدمہ چل رہا تھا (ویسے کوئی خاص بات نہیں تھی ان لوگوں میں نالشیں، فوجداریاں ہوتی ہی رہتی تھیں، ڈنڈم ڈنڈا ، تلوارم تلوار بھی چلتی رہتی تھی، کس لیے کہ شیر بچے ہیں آخر کچھ نہ کچھ تو کریں گے ہی) تو ان کے پر نانے جب ولیمے کی فرشی نشست پر جانے کے لیے پاپوشیں اتارنے لگے تو ان کی ایک پاپوش اِن کے اُس پر دادے کی پاپوش پر چڑھ گئی کہ جو پہلے سے موجود تھا اور نووارد پُرکھ کی حرکات و سکنات کا بغور مشاہدہ کر رہا تھا۔ پاپوش کا پاپوش پر چڑھنا تھا کہ ان کا پہلے والا پُر کھ چمک اُٹھا اور خبر دار کہہ کر تلوار کا جو بھر پور ہاتھ مارا ہے تو دوسرے پُرکھ کی گردن بھُٹا سی دُور جا پڑی۔
داماد کے چہرے سے پسینہ بہہ بہہ کر شادی کی نئی شیروانی کے کالر میں جذب ہوتا جا رہا تھا۔ وہ دو تین بار پانی پی چکا تھا اور حد درجہ بے چین تھا۔ دیر بھی بہت ہو گئی تھی، ہم اسے زنانے میں لے آئے ۔
دوسرے دن طوفان پھٹ پڑا ۔ مئی دادا بیمار تھے، ان سے تو ابا نے کچھ نہیں کہا، اماں کے سامنے گرجتے برستے رہے کہ کیا مجید کا بالکل ہی دماغ خراب ہو گیا ہے۔ داماد کو اس قدر د ہلادیا کہ وہ گھر جا کر گم صم لیٹ گیا۔ لڑکی سے پوچھتا تھا کہ کیا یہ سب باتیں صحیح ہیں ؟ اور کیا تم قاتلوں، خونخواروں کی اولاد ہو ؟ کیا تمہارے یہاں بات بات پر تلوارم تلوار ہوتی ہے؟ پوچھ رہا تھا، تمہارے گھر میں اب کتنی تلواریں ہیں ؟ اور کیا سب لوگ اب بھی ولیمے کی دعوتوں میں تلواریں باندھ کر جاتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کو قتل کرنے میں آسانی ہو ؟ حد ہو گئی ، آخر یہ گڑے مردے اکھاڑنے کی کیا ضرورت تھی ۔ ہر گھرانے میں کچھ نہ کچھ پاگل پن ہوتا ہی رہتا ہے۔ تو کیا اُس کو اس طرح مشتہر کیا جاتاہے ؟ لا حول ولا قوة۔
ہفتے بھر بعد باڑے میں ایک کو ٹھری تیار کر دی گئی اور مئی دادا کو وہاں فروکش ہونا پڑا۔
ڈیوڑھی سے دور ان کی بیماری نے شدت اختیار کر لی۔ ویسے تو انہیں ہم سب گھیرے رہتے تھے مگر وہاں اُن کا دل نہیں لگتا تھا۔ انہیں پتا چل گیا تھا کہ داماد والے معاملے میں منجھلے میاں خفا ہو گئے ہیں اور اسی لیے اُن کو ڈیوڑھی سے دور کر دیا گیا ہے۔ بڑی حسرت ناکی باڑے پر اور اس کے گرد و پیش چھائی ہوئی تھی۔ ایک روز کہنے لگے ’’ اب مزید کھاں ایسپ جئی جمین کا بوجھا بنتا جا ریا ہے۔چل چلاؤ کا ٹیم ہے۔‘‘ وہ ابا کو بلوا کر اپنی صفائی پیش کرنا چاہتے تھے۔ میں نے جا عرض کیا کہ مئی دادا بہت بیمار ہیں، آکر دیکھ لیجیے۔ ابا آئے تو جیسے مئی دادا کھل اُٹھے۔ حکیموں ویدوں کے ’’نکھسوں‘‘ پر باتیں کرتے رہے .....’ ازل گرِ پھتا‘ اور ’بھان کے‘ ، وغیرہ بھی شروع ہو گیا۔ پھر اچانک بڑی چمکدار آواز میں، جیسے ابا کو کوئی لطیفہ سنا رہے ہوں ، کہنے لگے کہ منجلے میاں، وہ داماد والے معاملے میں آپ خفا ہو گئے، شاید اسی لیے مجھے یہاں پھنکوا دیا۔ ابا نے کچھ ہوں ہاں کر دی ۔ میں دیکھ رہا تھا کہ مئی دادا کی بیماری سے ، اُن کی حسرت ناکی، اُن کے لطیفہ سنانے کے انداز سے ، جو ظا ہر ہے، ابا کو راضی کرنے کی بڑی رقت انگیز کوشش تھی ، وہ بہت متاثر ہوئے ہیں۔ مئی دا دا کہنے لگے ’’میاں، ویسے تو آپ ماسے الا بال بچے والے ہو، برے میرے آگو کے بچے ہو۔ میری مصلے تیں آپ نہیں سمج سکتے ۔ یہ یو کہتے ہیں نا کہ دا گڑ با کستن دار وجے اول ، تو میں نے صائب جاوے کو کھبر دار کر دیا ہے کہ ہاں کھبر دار پٹھانوں سے ماملا ہے .....اب صائب جادے جیادہ کج چیں پٹاکھ نہیں کریں گے انسا اَلّا۔‘‘
ابا نے اسی دن مئی دادا کی ڈیوڑھی میں بحالی کے احکام صادر کر دیے۔ تو جیسے سوکھے دھانوں پانی پڑ گیا۔ مئی دادا کی حالت بہتر ہونے لگی مگر وہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے زیادہ دن چلتے نظر نہیں آتے تھے۔ اماں نے ان کی محبوبہ جمرت کو اُن کی دیکھ بھال کی اجازت دے دی۔ وہ آکر منہ دھلاتی ، کپڑے بدلواتی ، اپنے ہاتھ سے دلیا کھلاتی ، پرچ میں انڈیل انڈیل کر چائے پلاتی۔ مہینوں یہ سلسلہ چلتا رہا ۔ ابا نے ڈاکٹروں کو دکھا یا ، کئی طرح کے علاج بدلوائے گر مئی دادا پھر سنبھل نہ سکے۔ گرتے ہی چلے گئے ۔ اُن کا آدھا بستر سمیٹ دیا گیا۔ چارپائی کی بان دوطرف سے کھینچ کر درمیان میں ایک خلا بنا دیا گیا اور اُس کے نیچے تام چینی کا تسلا رکھ دیا گیا۔ حوائجِ ضروری کے لیے وہ اب بستر سے اٹھنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ جمرت نے اُن کی صفائی ستھرائی کی سب ذمہ داری سنبھال لی تھی مگر وہ کنبے دار عورت تھی، رات میں نہیں رک سکتی تھی۔ راتوں میں ، میں دیکھتا کہ ابا گرم پانی کے لوٹے لیے کئی کئی بار ڈیوڑھی کی طرف جاتے اور کئی بار کمزور سی آواز میں مئی دادا کے احتجاج کرنے اور رونے کی آواز آئی۔ وہ ابا سے خدمتیں نہیں لینا چاہتے تھے۔ اماں نے اُن کی دیکھ بھال کے لیے اپنے میکے سے کوئی ملازم بلوانے کو کہا تو مئی دادا نے سختی سے منع کر دیا۔ میرے ابا اُن کے سامنے کے بچے تھے ، بیٹوں کی طرح تھے۔ تو بیٹوں کی بات تو ٹھیک ہے’’ میں گیروں کے سامنے ڈھکا کھلا نہیں ہو سکتا۔ وِس سے تو اچھا ہے مجھے اسپتال پہنچا دیو بیا۔‘‘ مگر سب جانتے تھے، وہ اسپتال میں دو گھنٹے بھی نہیں نکال سکیں گے ۔ ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کر دیا تھا کہ میں اس گھر میں مرنا چاہتا ہوں۔ وہ کئی کئی گھنٹے غشی کی حالت میں پڑے رہتے۔ دن میں جمرت اور ہم لڑکے، رات میں ابا، امکان بھر اُن کو آرام پہنچانے کی کوشش کرتے تھے مگر سب تھک چکے تھے۔
اور اس تھکن اور بوکھلاہٹ میں جمرت کو مئی دادا کی ایک واضح ہدایت کا خیال نہیں رہا۔ وہ غشی کی حالت میں تھے کہ میں نے انہیں ’’ڈھکا کھلا‘‘ دیکھ لیا ..... میں نے دیکھا کہ اُن کی مسلمانیاں نہیں ہوئی تھیں ۔
اپنے چھوٹے سے ذہن میں بہت سے سوالات لیے میں خاموشی کے ساتھ ڈیوڑھی سے چلا آیا۔ اس نئی اور عجیب بات کی سنسناہٹ مجھے چین نہیں لینے دیتی تھی ۔ چھت پر گیا ۔ باڑے میں ٹہلا ، اماں کے پاس بیٹھا بہت دیر آنڈے بانڈے گھومتا پھرا ۔مگر مئی دادا بہت بیمار تھے اور وہ ہم سب سے بہت محبت کرتے تھے۔ میں پھر ڈیوڑھی میں پہنچ گیا۔
میں نے سنا، ان کے ٹھہر ٹھہر کر غصہ کرنے اور رونے کی کمزورسی آواز آرہی تھی۔ جمرت نے شاید انہیں بتا دیا تھا کہ کیا غضب ہو گیا ہے۔
’’بھان کی گھوڑی مرتے مرتے کا لک لگوا دی تو نے .... لڑکے کیا سوچیں گے۔‘‘ پھر اُن کے رونے کی آواز آئی ۔ کچھ دیر خاموشی رہی، ’’ٹھی ی ی ی ک ہے تیلی کا لمڈا پٹھانوں کے پالے سے پٹھان تو نہیں بن جاتا۔‘‘
میں اب ڈیوڑھی میں نہیں رہ سکتا تھا۔ پھر باڑے کی طرف نکل گیا۔
تو کیا مئی دا دا ساری زندگی ہم سے جھوٹ بولتے رہے ؟ تو کیا محلے کے دھوبی ٹھیک کہتے تھے ؟ ایسا لگ رہا تھا جیسے شکر کا نام لے کر کسی نے مجھے مٹھی بھر ریت پکڑا دی ہے مگر یہ بات میں کسی سے کہہ بھی تو نہیں سکتا تھا۔
وہ چار دن اور زندہ رہے مگر یہ چار دن غشی اور بیداری کی بھول بھلیاں تھے۔
اُن کے انتقال کے کئی مہینے بعد وہ ایک سوال جو اُس سنسناہٹوں والے دن سے برابر میرے ساتھ تھا، مجھے بے چین کیے ہوئے تھا، میں نے یکبارگی ابا کے سامنے رکھ دیا۔ ابا مسجد جانے کے لیے ڈیوڑھی سے گزر رہے تھے کہ مئی دادا کی کوٹھری کے سامنے مجھے خاموش کھڑے دیکھ کر رک گئے ۔ آہستہ سے میرے شانے پر ہاتھ رکھ دیا، بولے’’ کیا بات ہے؟‘‘
میں نے بات بتادی۔
وہ بہت دیر خاموش کھڑے رہے۔ پھر آہستہ سے بولے، ’’ وہ کوئی بھی تھے تمہیں بس ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ تم سے محبت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ تم اپنے دادوں پر دادوں کی طرح عزت کے ساتھ جینا سیکھ جاؤ ..... سمجھے؟جاؤ اب کھیلو۔‘‘
پھر وہ جاتے جاتے غصے سے پلٹ پڑے، ’’اور سنو، کون خبیث کہتا ہےوہ مسلمان نہیں تھے ! کون کہتا ہے پٹھان نہیں تھے !‘‘