اس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شررسے
-
اس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شررسے دامن بچا کے گزرو یادوں کی رہ گزر سے ہر ہر قدم پہ آنکھیں تھیں فرشِ راہ لیکن وہ روشنی کا ہالا اُترا نہ بام پر سے کیوں جاد ۂ وفاپر مشعل بکف کھڑے ہو اس سیلِ تیرگی میں نکلے گا کون گھر سے کس دشت کی صدا ہو، اتنا مجھے بتا دو ہر سُو بچھے ہیں رستے آؤں تو میں کدھر سے اُجڑا ہُوا مکاں ہے یہ دل جہاں پہ ہر شب پرچھائیاں لپٹ کر روتی ہیں بام و در سے