حنیف رامے

حنیف رامے

علم و فن کے میلے

    علم و فن کے میلے

    حنیف رامے

    تخلیق سراسر ذاتی عمل ہے۔مل جل کر دوسرے ہزار کام ہوسکتے ہیں تخلیق نہیں ہوسکتی چیزیں پیداکی جاسکتی ہیں، بچے پیدا کیے جا سکتے ہیں، آزادی حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن تخلیق کا بیج تو کسی ایک ذہن ہی میں جمتا ہے۔ تخلیق کی مثال تو یوں ہے کہ روح القدس، اچھوتی مریم کے رحم میں مسیح کا بیج پھونک دے اور مریم یہ مقدس بوجھ اٹھائے کہیں دور کسی تنہا مقام پر چلی جائیں، پھر جب د ردِزه زور کرے تو وہ ایک کھجور کے تنے کو گرفت میں لے لیں اور ایک آواز یہ کہے: اے مریم! درخت کا تنا ہلے گا تو تازہ رسیلی کھجوریں ٹپکیں گی ، تو ان سے اپنی بھوک مٹالینا اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک دے لینا اور اگر کوئی بشر آس پاس نظر آئے تو واضح کر دینا کہ آج تو کسی انسان سے بات نہ کرے گی۔ پھر جب وہ اپنا بچہ لے کر لوگوں کے پاس آئیں تو لوگ کہیں: اے مریم !تویہ کیا عجیب شے لیے پھرتی ہے؟

    مجھے تسلیم ہے کہ انسان کا تخلیقی عمل نوعیت کے اعتبار سے خالصتاً ’’جدید‘‘ نہیں ہوتا۔ جس طرح فطرت کے مظاہر ایک دوسرے میں گھلتے ملتے، بنتے بگڑتے اور نوبہ نو صورتوں میں ڈھلتے رہتے ہیں اسی طرح ہر انسانی تخلیق بھی اپنی ترکیب کی حد تک موجود خیالی اور فکری عناصر ہی کا ایک مجموعہ ہوتی ہے ، بس  ذہن میں ایک کو ندا سا لپکتا ہے اور چند خیالات و افکار جو پہلے دور دور ایک دوسرے سے نا آشنا پڑے تھے باہم مربوط ہو جاتے ہیں اور یوں ایک نیا خیال: ایک تخلیق وجود میں آجا تی ہے۔ لیکن اول تو خیال کا جنم ایک زرخیز ذہن کا طالب ہے ، پھر اس خیال کی نشو ونما کا مسئلہ ہے جو غوروفکر کی تنہائی کا طالب ہے، اور جب اس خیال کو ہیئت بخشی جاتی ہے تو یہ مرحلہ خون جگر کا طالب ہے، اور آخر میں خیال و ہیئت کا یہ سنگھم: کوئی  فن پارہ، جب لوگوں تک پہنچتا ہے تو فن کار سے اس بات کا طالب ہوتا ہے کہ لوگ کہیں: یہ تم کیا اٹھا لائے ہو، تو وہ اپنی محنت ہی کو اپنا انعام سمجھ کر چپکا ہو رہے۔

    مجھے یہ بھی تسلیم ہے کہ فن کار بھی معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں اس لیے ان کی یہ خواہش فطری ہے کہ ان کی تخلیقات کے دروازے اہل معاشرہ کے دل و دماغ پر بھی کھل جائیں۔ لیکن مجھے تو اسی بات پر زور دینا ہے کہ اس خواہش کا تخلیقی عمل یا خود تخلیق پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ خواہش بعد کی بات ہے اور لازماً  ہر فن کار میں ہوتی بھی نہیں ، لوگ عمر بھر کام کرتے رہتے ہیں اور کہیں ان کی وفات کے بعد ان کا کام، بعض اوقات ان کی رضا کے خلاف (کافکا کی مثال زیادہ پرانی نہیں)،  لوگوں کے سامنے آتا ہے۔ ہاں جن فن کاروں میں یہ خواہش ہوتی ہے، یا نہیں بھی ہوتی لیکن وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اہل معاشرہ کو مادی زندگی کے حصار سے نکلنے میں مدد دے سکتے ہیں تو وہ مختلف ذرائع کی وساطت سے اپنے لوگوں کو اس جانب مائل کرنے کا جتن کرتے ہیں۔ مگر یہ جتن وہ ایک فن کار کی حیثیت سے نہیں بلکہ  ایک انسان کی حیثیت سے کرتے ہیں۔ ایک سچا فن کار، وہ بے دین ہو یا دین دار، اپنی تخلیق کو تقدیس کا حامل سمجھتا  ہے، وہ لوگوں کی داد یا بیداد کے خیال سے اس میں رد و بدل نہیں کرتا۔ وہ اس سے وفا کا دم بھرتا ہے ، لوگوں کی پسند نا پسند کو خاطر میں نہیں لاتا۔ مشکل یہی ہے کہ ایک طرف تو اہل معاشرہ کو ساتھ چلانے کا جتن کیا جائے اور دو سری طرف ، ساتھ ہی ساتھ، اپنے فن کی عصمت کی حفاظت بھی کی جائے ۔ یہ صرف اس صورت ممکن ہے کہ فن کار کے ذہن میں اپنی دونوں حیثیتوں : فن کارا اور انسان کے درمیان فرق قائم رہے ۔

     جب فن کا ریہ فرق نظر انداز کر دیتے ہیں تو اکثر یہ ہوتا ہے کہ وہ فن کی تخلیق اور اس میں اٹھنے والی لازمی زیادہ محنت سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور فن کا جلوس نکالنے کی تدبیروں میں یوں الجھتے ہیں کہ خود بھی اسی جلوس کی ریل  پیل میں کہیں   گر پڑ کر رہ جاتے ہیں۔ یہی معاملہ اہل علم کے ساتھ ہے۔ جب وہ اپنا اصل کام : زیر بحث مسائل پر غور و فکر، ان کی ابتدا و انتہا کی تلاش، ان میں ارتباط و اختلاف کی نشان دہی اور اپنی دریافتوں کے مقام کا تعین چھوڑ کر علم کو عام کرنے میں لگ جائے ہیں، علم کو جو اپنی اصل میں دقت و محنت طلب ہے جمہور میں مقبول بنانے کی دُھن اُن پر سوار ہو جاتی ہے تو اکثروہ علم سے وفادار رہنے کے بجائے عوامی تقاضوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    سلطانی جمہور کا ایک تو یہ خاصہ ہے کہ عوام کو ہر طرح کے حقوق حاصل ہو گئے ہیں، انہیں یہ تو محسوس نہیں ہو تا کہ دنیا آج جس مقام پر کھڑی ہے۔ اِس بری بھلی منزل تک پہنچنے میں کتنے افراد کی عرق ریزیاں کار فرما ہیں، انہیں تو بس یہ یا دہوتا ہے کہ یہ ان کا پیدائشی حق ہے کہ ان کے تعصبات کو ذوقِ کامل سمجھا جائے اور جو بات اُن کے پلے نہیں پڑتی اس کے بارے میں جان لیا جائے کہ وہ فضول و بیکار ہے ۔ اب کسی صنف ِفن میں شدید ہو یا نہ ہو یہ لازم ٹھہرتا ہے کہ ہر شخص اپنی رائے کا اظہار کرے خواہ یہ رائے مستعار در مستعار ہو یا ’’دور جہالت‘‘ کی یاد گار رجب دماغ کی خالی لوح   پر پہلے پہل ادھر ادھر ہے ایسی را ئیں نقش ہو جاتیں ہیں جو ’’موٹی سمجھ‘‘ کے اجزائے ترکیبی ہونے کا شرف رکھتی ہیں۔ جب علم و فن موٹی سمجھ کی حدود پھلانگنے کی جرأت کرتے ہیں تو جہاں جلسوں میں کرسیاں ٹوٹتی ہیں اور تالیاں پٹتی ہیں وہاں جب علم و فن موٹی سمجھ کا ساتھ دیتے ہیں تو اتنی واہ واہ ہوتی ہے اور اتنی داد برستی ہے کہ علم و فن سے وفاداری کرنے والے دور دور دکھائی او ر سنائی نہیں دیتے۔

    جمہوریت کا دوسرا خاصہ یہ ہے کہ اب ثقافت عوام کی دسترس میں آگئی ہے۔ ثقافت کے نام پر اب ہر کوئی ہنگامہ بر پا کر سکتا ہے، شرط یہ ہے کہ عوام کی پسند کا  خیال رکھا جائے بلکہ اب تو ایک اور صورت ِحال سراٹھا رہی ہے :فن اور فنکار کے بارے میں اہل معاشرہ کو نیا نیا پتاچلا ہے کہ یہ بڑے کام کی چیزیں ہوتی ہیں۔ ناولوں، افسانوں ،فلموں نے انہیں بتایا ہے کہ جو لوگ فن اور فن کاروں کا آؤ آور نہیں کرتے ثقافت سے اُن کا کوئی علاقہ نہیں ہوتا ۔ چناں چہ اب ہر ’’ فن کار‘‘  اور اس کا ہر ’’فن پارہ‘‘  لائق صد ستائش ہے خواہ اس کے یہاں سے خیال اور ہیبت یوں غائب ہوں جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔ بس یہی بہت ہے کہ وہ لفظوں ، آوازوں یا رنگوں کی ٹانگ توڑ سکتا ہو۔ چناں چہ اب خاک بھی پلے نہ پڑے تو مصوری کی نمائشوں، موسیقی کی مجلسوں، سائنس کی کانفرنسوں اور فلسفے کی کانگرسوں میں حاضری دی جاتی ہے اور چہرے مہرے پر ثقافت کا نقاب ڈال کر ایک دوسرے پر رعب گانٹھا جاتا ہے۔

     فن کاروں ، گائیکوں، شاعروں کو بھی یہ گر ا زبر   ہو گیا ہے کہ جتنا وہ لوگوں کے سامنے آئیں گے اتنا ہی وہ مقبول ہوں گے۔ اور مقبول ہونے میں آخر قباحت بھی کیا ہے۔ بس  یہی اتنی سی بات کہ آہستہ آہستہ فن کے یہ میلے تخلیق کی جگہ لے لیں گے، وہ زور جو تخلیق پر صرف ہوتا تھا، وہ تنہائی جو تخلیق کی کھا د تھی، وہ اب تقریبات کی نذر ہو جائے گی ۔ آج و ہاں ، کل یہاں ۔ نئی تصویر بنے نہ بنے، راگ کی شکل غائب ہو کر اس کی جگہ حساب کا سوال رہ جائے، برسوں فکرِ سخن کی فرصت ملے نہ ملے۔ کامیابی کی اندھی دیوی جس   نے دورِ حاضر کے انسان پر اپنا سنگین سایہ ڈال رکھا ہے مصور ، گائیک اور شاعر بھی اسی کی زلف کا اسیر ہو جائے گا ۔ مداحین کی ایک جماعت اسے نگلنے کے لیے گدھوں کی طرح کہیں سے آن ٹپکے گی یا پھر وہ خود ادھر ادھر سے دو چار لونڈے لونڈیاں ڈھونڈ لے گا اور ان کی نظروں میں اپنی عظمت و جلالت کی ننگی جھلکیاں دیکھ دیکھ کر افسوس کرے گا کہ کاش دوسرے سالے بھی یہ منظر دیکھتے تو جل بھن کر خاک ہو جاتے ۔

     ہمارے اہل علم بھی پیچھے نہیں۔ اگر ہر مصور کو اس روز نیند نہیں آتی جب اُس کے پاس گن گنا کر اناپ شناپ بیس پچیس تصویریں ہو جاتی ہیں کہ اب تو ’’ون مین شو‘‘ وہ پڑا ہے اور ہر شاعر ہر نیا مشاعرہ لوٹنے کی فکر میں دبلا  ہو تا رہتا ہے۔ تو ہمارے اہل علم بھی آئے دن کسی اخبار میں، جس کی ملک بھر میں سب سے زیادہ اشاعت ہو تو اور بھی اچھا ہے، مضمون، خواہ اس میں مندرجہ ہر تفصیل محل نظر ہو، چھپوانے سے نہیں چوکتے۔ پھر حسن اتفاق سے پاکستان اور ہندوستان میں اور کسی شے کی آمد و رفت ہو نہ ہو وفد   آ نے جانے پر کوئی ایسی قید نہیں، اہل علم کو وہاں جانے بلکہ مشرق ِوسطیٰ ، یورپ،  امریکہ .....(کہاں کہاں نہیں، اب تو افریقہ کے راستے بھی کھلنے والے ہیں) جانے کا بھی موقع ملتا رہا ہے۔ پھر پاکستان بھی دو ہوئے: مشرقی اور مغربی ۔ حکومت اپنی جگہ نمائندگی کے پلڑے برابر رکھنے میں جٹی رہتی ہے ، دونوں صوبے اپنی جگہ اپنے اپنے ہیروؤں کو اچھالنے میں  لگے رہتے ہیں، ہر مضمون کی ہر سال ایک کل  پاکستان بلکہ بین الاقوامی کانفرنس یا کانگریس بپا ہوتی ہے۔جو شخص تعاون نہ کرے وہ غدار ٹھہرتا ہے اور جسے بلاوا نہیں آتا وہ اگلے سال رقیبانِ روسیاہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اُن کے سینے پر مونگ دلنے کے لیے کانفرنس کے کسی اجلاس کی صدارت حاصل نہیں کر سکتا تو اس کی مجلس انتظامیہ کارکن بننے کی تو ضرورٹھانتا ہے..... اور نہیں تو ہر اجلاس میں شرکت کا اہتمام تو کر ہی سکتا ہے۔

     ذرا دیکھیے تو ایک کا نفرنس کتنی کم خرچ بالا نشین رہتی ہے۔ سیکڑوں اہل علم کو ایک جگہ جمع کر کے انہیں چند موضوعات پر فکر و نظر کا موقع دیتی ہے، بس  آنے جانے کا کرایہ یا قیام و طعام کے اخراجات اور علم کی اتنی بڑی خدمت : اہل علم با ہم تبادلۂ   خیالات کر سکتے ہیں، کسی ایک مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھ سکتے ہیں چناں چہ خیالات کا ایک ملغوبہ تیار ہو جاتا ہے، کچھ پتا نہیں چلتا کس نے کیا کہا ۔ جس طرح معدے میں جو الا بلا  چاہیں جمع کر دیں اسی طرح کا نفرنسوں میں بھی ایسے مال کی بڑی کھپت ہے اور جو نتیجہ بقول ژاک بار زوں پیٹ کانفرنس کا ہوتا ہے وہی زبر دست سے زبر دست علمی کانفرنس کا ہو سکتا ہے۔

    علمی کا نفرنس سے یقینا ً فائدہ بھی اٹھایا جاسکتا ہے لیکن یہ کانفرنسیں علم کی خاطرنہیں علم کو لوگوں کی جھولی میں ڈالنے کے لیے منعقد کی جاتی ہیں۔ ان کا انفرنسوں میں حصہ لینے والے بھی علم کی پیاس بجھانے کے بجائے علم سے دلچسپی کی سندلینے یہاں پہنچتے ہیں۔ ایسی محفلیں اب ذہن کی جلا کے بجائے ذہن کو سلانے کے کام آتی ہیں۔ ان میں جو لوگ بلائے جاتے ہیں وہ اپنے اس کام کی بنا پر مدعو کیے جاتے ہیں جو انہوں نے تنہائی میں بیٹھ کر، خون پسینہ ایک کر کے کیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جو لوگ کوئی کام نہیں کر سکے انہیں ان لوگوں سے حسد ہو جاتا ہے اور وہ ان لوگوں سے کام کا امتیاز چھین کر انہیں مجلسوں محفلوں میں جکڑنے کا پھندا تیار کرتے رہتے ہیں۔ چناں چہ اب یہ حالت ہے کہ جودو چار لوگ کچھ کرنے کرانے کے اہل تھے وہ کانفرنسوں کے لیے سرسری مضمون لکھنے ہی میں لگے رہتے ہیں اور وہ مضمون بھی کانفرس کے منتظمین کو آخری لمحے پہنچتے ہیں، نہ ان میں ترمیم کی جاسکتی ہے نہ ان پر نظر ثانی۔ اگر کوئی بھلامانس صاحب علم شرکت سے انکار کر ہی بیٹھے تو کانفرنس والوں کے پاس اب یہ حربہ ہے کہ اس کی جگہ پروفیسر حضرات کی فوج ظفر موج میں سے کسی سے جھٹ پٹ کچھ لکھوا کر پڑھوا دیا جاتا ہے۔ وہی گھس گھس ہر سال ہوتی رہتی ہے اور عوام و خواص علم کی بہتی گنگا میں ذہنی غلاظت دھو دھو کر اسے منزہ ومصفیٰ بناتے رہتے ہیں۔

    ’’سچ پوچھیے تودنیا بھرمیں کانفرنسوں کی اب یہ حیثیت رہ گئی ہے کہ یہ کام کا متبادل بن گئی ہیں۔ اور یہی ان کی کشش ہے۔ دنیا بھرکے اہل علم کی مردم شماری کرلیجیے، آپ کو پتا چلے گا کہ ان میں سے بیشتر یا توکسی کا نفرنس کی تیاری میں لگے ہیں، یا اس میں شرکت کر رہے ہیں یا شرکت کی تکان اتار رہے ہیں ۔‘‘ ( ژاک با رزوں .....’’ عقل کا گھر‘‘)

    مردم شماری کا کام تو مشکل ہے اپنے آس پاس ، یا اپنے گر بیان میں جھانک کر ،دیکھیے: کتنے علمی اور فنی چو دھری نظر آئیں گے جن کا نقد علم اور حاصل فن کسی طور بھی قابل ذکر کہلا سکتا ہے۔ اب اگر کوئی ڈھائی ڈھنگ کے مضمون لکھ کر اپنے آپ کو مفکر اعظم سمجھ بیٹھے  یا ڈھائی سو مرتبہ ڈھائی باتیں دہراکر یہ طمانیت کمالے کہ اس نے ملک و قوم کی عظیم خدمت انجام دی ہے تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ یہاں تو یہ عالم ہے کہ سال میں ایک غزل کہی اور دس سال کپڑے کی ملوں کے سالانہ مشاعروں میں پڑھ پڑھ کر کفن کے لیے تھان جمع کرتے رہے۔

     جب میں نے تخلیق کے سلسلے حضرت مریم کی مثال دی تھی تومیرے دل میں مسرت کی چمک ابھری تھی اور میرا دل چاہا تھا کہ اس استعارے کو پھیلاؤں اور فن اور فن کر کے مقام ومرتبے کو اس کی روشنی میں دیکھوں دکھاؤں ۔لیکن اب میرا دل پشیمانی سے بوجھل ہے کہ میں نے یہ مثال کیوں چنی ؟ مجھے وہ اسمائے گرامی یاد آتے ہیں جو فن کے نمائندے ہیں ۔ یہاں کسے یہ توفیق ہے کہ اپنی جان کو فن کے جنم کا مستحق   بنائے، یہاں کون ہے جو فن کی غور و پرداخت کے لیے لازم تنہائی کی تاب رکھتا ہے۔ یہاں کون  ہے جو فن کی تازہ رسیلی کھجوروں کو اپنی محنت کا انعام سمجھے۔ یہاں کون ہے جو تخلیق کے بعد دو گھڑی چپ رہ کر اسے دیکھے بھالے، اسے خود اپنے اندر اتارے اور یہاں کون ہے کہ لوگ اس کی تخلیق کی تضحیک بھی کریں تو وہ پھر بھی اس سے صادق رہے۔ آئیے کسی پرانے آستانے پر دستک دیں، شاید جی کا غبار چھٹ جائے۔

    کچھ دن پہلے کی بات ہے میرے ہمسایے میں جومشہور جو مشہور وکیل رہتے ہیں  ان کے گھر میں ایک دیہاتی ٹوکریاں بیچنے آیا ۔ اس نے پوچھا: کیا آپ ٹوکریاں خریدیں گے ؟ جواب ملا: نہیں ، ہمیں ٹوکریاں نہیں چاہئیں۔ دیہاتی نے پھاٹک سے نکلتے ہوئے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہیں کہ ہم بھوکوں مرجائیں۔ بیچارے دیہاتی نے اپنے اس ہم وطن کو دیکھا تھا کہ وہ اتنا خوش حال ہے۔ صرف دلائل کے جال بنتا ہے اور گھر یا کسی جادو کے زور سے اسے دولت و عزت مل گئی ہے۔ دیہاتی نے دل میں سوچا تھا: میں بھی کوئی کام شروع کر دوں گا۔ میں ٹوکریاں بنوں گا ، یہ کام ایسا ہے کہ میں بخوبی کر سکتا ہوں ۔ اسے یہ نہ معلوم تھا کہ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان ٹوکریوں کا کوئی خریدار بھی ہو، یا وہ کسی کو سوچنے پر مجبور کر دے کہ ان ٹوکریوں کے بغیر اس کا کام نہ چل سکے گا۔ یا پھر وہ کوئی ایسی ہی چیز بنائے جس کی کسی کو ضرورت ہو۔

    میں نے بھی ایک نازک سی ٹوکری مینی تھی، لیکن وہ اس طرح کی نہ تھی کہ کوئی اسے خرید نا اپنے لیے ضروری سمجھتا۔ مگر میرے معاملے میں یہ ہوا کہ میں نے یہ ٹوکری بننا اپنے لیے مفید سمجھا اور بجائے اس کے کہ میں یہ سوچتا کہ میں اس کو کس طرح دوسروں کے لیے مفید بناؤں کہ وہ اسے خرید لیں، میں یہی سوچتا رہا کہ مجھے ضرورت ہی نہ پڑے کہ اپنی ٹوکری بیچوں۔

    وہ زندگی جس کی لوگ تعریف کرتے اور جسے لوگ کامیاب سمجھتے ہیں، وہ زندگی کی بے شمار قسموں میں سے صرف ایک قسم ہے۔ ہم کسی ایک قسم کی زندگی کی اہمیت کو بڑھا کر دوسری قسموں کی زندگی کی اہمیت کو کیوں گھٹائیں ۔

    ہنری ڈیوڈ تھورور.....’’و الڈن‘‘