ضمیرؔ جعفری

ضمیرؔ جعفری

تن آسانی نہیں جاتی ریاکاری نہیں جاتی

    تن آسانی نہیں جاتی ریاکاری نہیں جاتی

    میاں برسوں میں یہ صدیوں کی بیماری نہیں جاتی

    جناب شیخ یوں چلتے ہیں علم و فضل کو لے کر

    کسی ٹھیلے سے جیسے کوئی الماری نہیں جاتی

    کتابیں جن کے کھل جانے سے آنکھیں بند ہو جائیں

    یہ دانش جس کے آ جانے سے بیکاری نہیں جاتی

    میاں گلؔ شیر تم بھی تو ہوا کے رخ کو پہچانو

    جہاں ساڑی چلی جاتی ہے پھلکاری نہیں جاتی