ضمیرؔ جعفری

ضمیرؔ جعفری

فکر نیل و کاشغر رکھتا ہوں میں

    فکر نیل و کاشغر رکھتا ہوں میں

    کتنا لمبا درد سر رکھتا ہوں میں

    مستقل عزم سفر رکھتا ہوں میں

    ایک فٹ فٹ پاتھ پر رکھتا ہوں میں

    کون سی چھب اس کو آ جائے پسند

    سو طرح کے بھیس بھر رکھتا ہوں میں

    میں پرندوں کا سیاست دان ہوں

    مرغ پر تلیر کے پر رکھتا ہوں میں

    اتنی لمبی کار اپنے ملک میں

    رکھ نہیں سکتا مگر رکھتا ہوں میں

    آدمی ’’تھر پارکر‘‘ کا ہوں مگر

    یار اک ’’نیویارکر‘‘رکھتا ہوں میں

    اس کی زلف تا کمر کے واسطے

    اس قدر موٹی کمر رکھتا ہوں میں

    اس کے فوٹو کے سوا کچھ جیب میں

    مجھ پہ لعنت ہو اگر رکھتا ہوں میں

    ڈر ہے طوطے ہی نہ کھا جائیں مجھے

    ناشپاتی جیسا سر رکھتا ہوں میں

    شعر امانت ہے زمانے کی ضمیرؔ

    اپنا قصہ مختصر رکھتا ہوں میں