عبداللہ حسین

عبداللہ حسین

نشیب

    میں ہرماہ ایاز سے ملاقات کے لیے لاہور جاتا رہتا ہوں ۔ اس مرتبہ گیا تو باتوں باتوں میں ایاز نے ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا جس نے مجھے کئی برس پہلے کا گزرا ہوا وقت یاد دلا دیا۔ میں کل ہی لاہور سے واپس آیا ہوں، اور اس واقعے کی ایک ایک بات ابھی تک گویا میری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ یہ واقعہ میری اور ایاز کی زندگی کے تانے میں اس طرح بنا ہوا ہے کہ اسے الگ کر کے دیکھنا ممکن نہیں۔

    ایاز بیگ میرا بچپن کا دوست ہے ۔ جس وقت کی یہ بات ہے اس وقت وہ لاہور کا ایک ابھرتا ہوا نوجوان وکیل تھا۔ حال ہی میں اس نے دو مشہور مقدمے لڑے تھے۔ پہلا قتل کا مقدمہ تھا جس میں ایک بڑے زمیندار کے بیٹے نے کسی تنازعے پر ایک کاشت کار کو ہلاک کر دیا تھا۔ دوسرا سیاسی نوعیت کا مقدمہ تھا، جس میں اغوا، رشوت ،تشدد وغیرہ سب شامل تھے ۔ ان مقدمات میں چوں کہ بڑے بڑے بااثر لوگ ملوث تھے اس لیے اخبارات میں ان کی خوب تشہیر ہوئی تھی ۔ ہفتوں تک اوراق کے اوراق عدالتی کارروائی سے سیاہ ہوتے رہے۔ ایاز  ایک مقدمہ جیت گیا اور دوسرا ہار گیا تھا۔ مگر اس کی شہرت کی اصل بنیاد اس کی انسان دوستی پرتھی۔ یہ مقدمے اس نے غریب اور بے اثر فریق کی حمایت میں لڑے تھے ۔ ان دنوں شہر کے پڑھے لکھے نوجوان طبقے میں ایاز ایک ایسے شخص کی حیثیت سے شہرت حاصل کرتا جا رہا تھا جس نے بدعنوانی اور بالا دستی کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہوں ۔ اس کے دشمنوں کا کہنا تھا کہ اس کے اس انداز میں تمام تر انسان دوستی کے جذبات ہی کار فرما نہیں بلکہ اس کی سیاسی امنگوں کا عمل دخل بھی تھا، جن کے حصول کی خاطر وہ نہایت ہوشیاری سے رستہ ہموار کر رہا تھا۔ میرے ساتھ بات چیت میں اگرچہ ایاز  نے کبھی ایسی بات کی جانب اشارہ نہیں کیا تھا مگر مجھے احساس تھا کہ اگر مستقبل میں کسی وقت سیاست کا دروازہ اس پر کھل گیا تو وہ سیاسی عمل میں اسی جوش و خروش سے کود پڑے گا جس سے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام تر کام کرتا آیا تھا۔

    ہم دونوں ایک ہی شہر کے رہنے والے تھے۔ ہم ایک ہی محلے میں پل کر بڑے ہوئے اور ایک ہی پرائمری اور ہائی سکول میں تعلیم پانے کے بعد اپنے شہر کے انٹر میڈیٹ کا لج میں داخل ہوئے تھے ۔ ایاز کی طالب علمی کا زمانہ عجیب طرح سے دھکے کھا کھا کر آگے بڑھا۔ پانچویں جماعت تک وہ کلاس کا سب سے نالائق لڑکا تھا۔ اس کو نہ پڑھنا لکھنا آنا تھا نہ ہجے نہ پہاڑے۔ کبھی اس نے گھر کا کام نہ کیا تھا۔ ہرروز کلاس میں اسے مار پڑا کرتی تھی ۔ مگر جونہی ہم نے پانچویں جماعت پاس کی اور سکول بدل کر بڑے سکول میں پہنچے ، یوں معلوم ہوا جیسے ایاز کو پر لگ گئے ہوں ۔ کہاں وہ کلاس میں سب سے پیچھے گھسٹتا چلا آرہا تھا، کہاں اب وہ سال کے اندر اندر چوٹی کے لڑکوں تک پہنچ گیا۔ دیکھتے دیکھتے اس کی ہیئت بدل گئی ۔ اس کے لباس میں صفائی اور ترتیب آگئی۔ اس کے بال کنگا کیے اور جوتے پالش سے چمکتے ہوئے ہوتے ۔ ہم لوگ اس وقت دس گیارہ برس کے تھے ، اور اس عمر میں بچے صرف ایک دوسرے کی جسمانی قوت سے مرعوب ہوتے ہیں ۔ تاہم کلاس کے سب لڑکے ایا ز کی اس آنا ًفاناً تبد یلی پر حیران تھے۔ ایاز کی ترقی کی رفتار اگلے تین سال تک اسی طرح قائم رہی ۔ جب ہم نویں جماعت میں تھے تو اس کے والد کا اچانک انتقال ہو گیا۔ اس کے بڑے بھائی افتخار کو جو،اسی سال میٹرک پاس کر کے کالج میں داخل ہوا تھا، پڑھائی چھوڑ کر اپنے باپ کی چھوٹی سی کپڑے کی دکان سنبھالنا پڑی۔ ان کے باپ نے اپنے دونوں بیٹوں کو کبھی دکان کے کام میں نہیں لگایا تھا، یہاں تک کہ وہ ان کو دیر تک وہاں رکنے بھی نہ دنیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کے بیٹے تعلیم حاصل کر کے سرکاری نوکری کریں ۔ جب افتخار نے دکان پر بیٹھنا شروع کیا تو اسے اس کا روبار کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ چناں چہ ان کی آمدنی دن بدن کم ہونے لگی ۔ اسی دوران میں ایاز نے اپنی پڑھائی سے لاپروائی برتنا شروع کر دی۔ کلاس میں اس کی پوزیشن پھسلنے لگی، اور استاد اس کے بارے میں فکر مند نظر آنے لگے۔ اس سال کی گرمیوں کی چھٹیاں مجھے اچھی طرح سے یاد ہیں، کیوں کہ وہ ساری چھٹیاں میں نے افتخار اور ایاز کے ساتھ ان کی دکان پر گزاری تھیں۔ ایاز باقاعدگی سے ہر صبح اپنے بھائی کے ساتھ دکان پر چلا جاتا۔ میں بھی پڑھنے کا بہانہ کر کے کتابیں کاپیاں لے کر صبح ہی صبح ان کی دکان پر پہنچ جاتا ۔ پھر ہم تینوں بیٹھے آپس میں باتیں کرتے رہتے ۔ کبھی کبھار کوئی دیہاتی منڈی میں جنس بیچ کر یا کچہری میں کوئی مقدمہ بھگت کر واپس جاتا ہوا دکان خالی دیکھ کر اندر چلا آتا ، اور دو چار گز چھینٹ یا کورا  لٹھا خرید کر چلا جاتا۔ وہ گرمیوں کی چھٹیاں مجھے صرف ایک منظر کے حوالے سے یاد ہیں، گو یا اس سارے موسم کا نچوڑاس ایک جھلک میں ہے۔ یہ منظر اس چھوٹی سی کپڑے کی دکان کا ہے جس کے خانے کپڑے کے تھانوں سے خالی ہوتے جا رہے ہیں اور کوئی اس دکان میں نہیں آتا صرف ہم تین لڑکے اندر میلے پھول دار کپڑے کے فرش پر بیٹھے باتیں کر رہے ہیں ۔ جب سہ پہر کے وقت تپش بڑھ جاتی تو افتخار اُٹھ کر دکان کا سائبان نیچا کر دیتا اور چہرہ رومال سے ڈھک کر، سرگاؤ تکیے پہ رکھ کر آنکھیں موند لیتا اور سوتے جاگتے میں بازو ہلا ہلا کر کاٹتی ہوئی مکھیوں کو اڑاتا رہتا۔ میں اپنی کاپی اور کتاب کھول کر سکول کا کام ختم کرنے کی کوشش میں لگ جاتا۔ اُن کی دکان کے بغل میں رسالوں اور کرایے کے ناولوں کی ایک دکان تھی ۔ اباز وہاں سے کوئی ناول مفت مانگ کرلے آتا اور اسے پڑھتارہتا ۔ ان چھٹیوں میں ایاز نے ’’سودائی‘‘ اور ’’ہر جائی‘‘ نام کے دو ناول چار چار پانچ پانچ مرتبہ پڑھ ڈالے۔ اس بات کو ایک زمانہ ہو گیا ہے مگر آج بھی مجھے ان ناولوں کی کہانیاں، جوایاز نے سنائی تھیں، یاد ہیں ۔ سکول کا کام کرتے ہوئے جب مجھے کوئی دقت پیش آتی تو میں ایاز سے پوچھ لیتا۔ اکثر اوقات وہ میری کتاب یا کاپی وغیرہ دیکھے بغیر ہی صرف سوال سن کر اس کا جواب یا حل کرنے کا طریقہ زبانی مجھے بتا دیتا۔ پھر وہ اپنا ناول پڑھنے لگتا۔ چھٹیوں بھر اس نے سکول کی کتاب کو کھول کر نہیں دیکھا، جیسے اس کو کوئی پروا نہ ہو ۔ سکول کھلنے پر اس نے سب ماسٹروں سے یہ کہہ دیا کہ اس کے کام والی تمام کاپیاں ایک روز پہلے دکان پہ رکھی تھیں کہ کوئی اٹھا کر لے گیا ہے ۔ اس روز ہیڈ ماسٹر کے سامنے اس کی پیشی ہوئی ۔ ہیڈ ماسٹر کے سامنے صرف لڑائی اور مار پیٹ پر پیشی ہوا کرتی تھی۔ یہ پہلی بار تھی کہ کلاس کے ماسٹروں نے پڑھائی کے بارے میں کسی لڑکے کی پیشی کرائی تھی۔ ہم سب کی نظریں ہیڈ ماسٹر کے دفتر پر لگی ہوئی تھیں اور ہمارے چھوٹے چھوٹے دماغوں میں مبالغہ آمیز خیالات چلے آر ہے تھے۔ جماعت کے معتبر لڑکوں کی رائے یہ تھی کہ ایاز کو سکول سے نکال دیا جائے گا۔ مگر جب ایا ز ہیڈ ماسٹر کے کمرے سے نکل کر آیا تو اسی کا اسی طرح تھا۔ اس کی شکل وصورت سے کسی قسم کی سزا کے آثار ظاہر نہ تھے۔ وہ آ کر کلاس میں بیٹھ گیا اور پڑھائی شروع ہو گئی ۔ چھٹی کے وقت جب ہم نے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ ہیڈ ماسٹر نے اسے نہ مارا ہے نہ پیٹا ہے بلکہ اپنے پاس بٹھا کر سمجھایا ہے کہ اسے اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دینی چاہیے، کیوں کہ اگر وہ محنت کرے تو سکول کا بہترین طالب علم ہوسکتا ہے ، وغیرہ وغیرہ۔ ہیڈ ماسٹر کی پیشی کے باوجود ایا ز کی حالت میں کوئی فرق نہ آیا ۔ آپ اس نے سکول سے غیر حاضریاں بھی کرنی شروع کر دیں۔ اس کی ماں نے محلے والوں کے کپڑے وغیرہ سینے کا کام شروع کر دیا تھا، چناں چہ وہ شام کو اپنی ماں کے ساتھ، یا کبھی اکیلا، کپڑے ادھر ادھرلے جایا اور لایا کرتا تھا۔ دن کو وہ اکثر اپنے بھائی کے پاس دکان پر بیٹھا رہتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سال کے آخر میں وہ پاس تو ہو گیا مگر مشکل سے۔ کلاس کے آخری لڑکوں میں اس کا نمبر آیا ۔

    دسویں جماعت کے دو مہینے گزر چکے تھے اور گرمیوں کی چھٹیاں ہونے والی تھیں کہ ایاز میں ایک بار پھر اچانک تبدیلی رونما ہوئی ۔ اس نے باقاعدگی سے سکول آنا اور سکول کا کام کرنا شروع کر دیا۔ چھٹیوں کے دوران میں کئی بار ان کی دکان پر گیا، مگر اب ایاز نے دکان پر بیٹھنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کی دکان سے میں ان کے گھر جاتا تو ایاز کو گھر کی چھوٹی سی بیٹھک میں پڑھائی کرتے ہوئے پاتا۔ اس نے باہر آنا جانا کھیلنا کودنا وغیرہ بند کر دیا تھا، یہاں تک کہ کئی بار میں گھنٹوں تک اس کے پاس بیٹھا رہتا اور وہ میری باتوں کا ہوں ہاں میں جواب دیتا ہوا پڑھائی میں مشغول رہتا ۔ اس کے بھائی افتخار کو اب دکان کے کام کا کچھ تجربہ ہو چلا تھا، چناں چہ ان کی آمدنی میں تھوڑا بہت اضافہ ہونے لگا ۔ سال بھرا یاز اسی طرح پڑھائی میں غرق رہا اور میٹرک اس نے فرسٹ ڈویژن میں پاس کر لیا ۔ سکول میں اس کی پوزیشن دوئم رہی۔  سکول کے آخری سال کی ایک شکل میرے ذہن کے اندر ایاز کے گھر کی بیٹھک کی سی ہے ،جس میں سے نکل کر ہم دونوں نے میٹرک پاس کیا تھا ۔

    کالج میں ایاز نے سائنس لی اور میں نے آرٹس ۔ جہاں تک طالب علمی کا تعلق ہے،  کالج کے پہلے دن سے ایاز کی ترقی کا اور میری تنزلی کا زمانہ شروع ہوا۔ ہمارے گھر کی اچھی خاصی زمینداری تھی۔ کسی زمانے میں ہمارے دادا پر دادا نے شہر کے آس پاس کافی زمین خرید لی تھی ۔ یہ زمین اب آباد ہو چکی تھی ۔ اس کے علاؤہ شہر کی آبادی بڑھتے بڑھتے ہماری زمین کے بیچ پہنچ گئی تھی۔ ہماری زمین کی حیثیت زرعی سے شہری اور رہائشی میں بدل گئی تھی ، جس سے اس کی قیمت میں چند سال کے اندر دس گنا اضافہ ہو گیا تھا میرے والد نے آبادی کے ساتھ لگتی ہوئی کچھ زمین بیچ دی اور باقی میں کاشت کرتے رہے۔ چناں چہ کالج میں پہنچ کر میں قدرتی طور پر ایک ایسے گروپ میں شامل ہو گیا جوز یادہ تر آس پاس کے دیہات سے آئے ہوئے زمینداروں کے لڑکوں کا گروپ تھا ۔ ان لڑکوں کو تعلیم سے کچھ سرو کار نہ تھا۔ انہیں پتا تھا کہ آخر کار زندگی میں زمینداری کی جانب لوٹنا ہے، اور جسے زمینداری کی فارغ اور پرکشش زندگی میسر ہو وہ تعلیم اور نوکریوں کے چکر میں کیوں پڑے۔ چناں چہ یہ لوگ یہاں پر چند سال کے لیے شہری طالب علمی کی زندگی سے لطف اندوز ہونے کی غرض سے آتے تھے ، اور کالج میں انہیں کھیل، اتھلیٹکس، الیکشن اور جتھے بندیوں کی حد تک دلچسپی ہوتی تھی ۔ ہم دوسرے سال میں تھے کہ یونین کے الیکشن کے سلسلے میں کالج کے اندر دو گروہوں میں لڑائی ہو گئی، جس کے نتیجے کے طور پر تین لڑکوں کو رسٹی کیٹ کر دیا گیا۔ بد قسمتی سے ان تینوں میں ایک میرا نام بھی تھا۔ یہاں آکر میری طالب علمی کا زمانہ ختم ہوا۔ میں نے اپنے والد کے ساتھ زمینوں کی دیکھ بھال میں حصہ لینا شروع کر دیا ۔ ایک آدھ سال کے بعد میرے والد نے سارا کام کاج میرے حوالے کیا اور خود گویا دنیا سے کنارہ کر بیٹھے۔ ان کا دن آدھا مسجد میں ، آدھا چچا رشید کی آڑھت کی دکان پر اور اماں سے میری شادی کے بارے میں بات چیت کرنے میں صرف ہوتا ۔ ایاز نے اسی دوران میں اول نمبر پر رہ کر ایف ایس سی۔ پاس کی اور وظیفہ لے کر لاہور چلا گیا۔ جب کبھی وہ گھر آنا تو میری اس سے ملاقات ہوتی۔ چھٹیوں کے دوران ہفتے میں ایک آدھ بار وہ ضرور مجھ سے ملنے کے لیے آتا مگر ہماری ملاقاتیں مختصر ہوتی گئیں ۔ ایک تو وہ شہر سے باہر چلا گیا تھا، دوسرے میری مصروفیات اب بڑھ گئی تھیں ، اور نئی مصروفیتوں کے ساتھ نئی نئی دوستیاں پیدا ہو چکی تھیں۔ چناں چہ ہم دونوں کو اس بات کا علم تھا کہ ہماری زندگیوں نے مختلف رخ اختیار کر لیے ہیں ، ہمارے درمیان اب وہ بات نہیں رہی۔ اس کے باوجود جب بھی ہم ملتے کچھ دیر کے لیے بچپن کی طویل دوستی کی تمام تر گرم جوشی اور ہم رازی ہمارے دلوں میں امڈ  آتی ، اور ہمیں محسوس ہوتا کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ اب وہ بات نہیں رہی، مگر جہاں پر بھی وہ بات ہے وہاں سے اسے مٹا نہیں سکتا۔

     جس روز ایاز کا نتیجہ نکلا اس سے اگلے دن میں بازار سے گزر رہا تھا کہ میری نظر ایک اخبار پر پڑی۔ پہلے صفحے پر دو تین چھوٹی چھوٹی تصویریں چھپی تھیں ۔ ان میں ایک ایاز کی تصویر بھی تھی۔ میں نے اخبار خرید کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایاز نے بی ۔ ایس۔سی ۔ کے امتحان میں گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔ میں وہاں سے سیدھا اس کے گھر پہنچا۔ ایاز کی ماں اپنے چند رشتہ داروں اور بہت ساری محلے کی عورتوں میں گھری ان کی خاطر مدارت کر رہی تھی اور خوشی سے پھولی نہیں سماتی تھی ۔ بیٹھک میں ایاز اپنے تین خالہ زاد بھائیوں اور دو ایک دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اس کے بھائی افتخار نے دکان بند کر دی تھی اور تازہ تازہ مٹھائی کی ٹوکریاں لا کر اندر اور باہر مہمانوں کے سامنے رکھ رہا تھا۔ میں نے ایاز کی ماں اور اس کے بھائی کو مبارک باد دی اور ایاز سے شکایت کی کہ اس نے مجھے بتایا کیوں نہیں ۔

    ’’یار ابھی تو لاہور سے آیا ہوں‘‘ وہ بولا۔

    میں نے بیٹھ کر منہ میٹھا کیا ۔ کوئی آدھ گھنٹہ گپیں مارنے کے بعد ایاز اچانک مجھ سے بولا :’’چلو یار باہر چلیں‘‘ ۔

    ہم اٹھ کر باہر نکل آئے۔ بازار میں پہنچے تو میں نے پوچھا :’’ زمین پر چلتے ہو ؟‘‘

    ’’ ہاں۔ “ ایاز خوش ہو کر بولا۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ اس سارے جمگھٹ سے دورکہیں جانا چاہتا ہے۔ گھرمیں بیٹھا بیٹھا وہ اچانک خاموش ہو گیا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس کا خیال امتحان کے نتیجے کی خوشی کو اپنے آپ میں جذب کر کے کسی اور طرف کو نکل گیا ہے ۔ شہر سے باہر ہم دیر تک کھیتوں میں پھرتے رہے ۔ پھر ہم ڈیرے پہ جا کر بیٹھ گئے۔ اس روزہ ایاز نے بہت کم باتیں کی ۔ مگر ایک بات مجھے اچھی طرح یاد ہے۔

    ’’ میں لا کالج میں داخلہ لے رہا ہوں ۔“ اس نے بتایا۔

     ہم سب یہ سوچے ہوئے بیٹھے تھے کہ ایسے شاندار نتیجے کے بعد ایاز کو ایم ایس سی کے لیے وظیفہ ملنا تو یقینی تھا، بعد میں گورنمنٹ کے خرچے پر پی ایچ ڈی وغیرہ کے لیے ولایت بھیجے جانے کا بھی امکان تھا۔ پھر واپس آگر سرکاری ملازمت میں اس کا مستقبل سیدھا سادا تھا۔ کسی دوڑ دھوپ، سفارش یا  در دسری کی ضرورت نہیں تھی۔ چند سال میں ترقی کرتا ہوا وہ اعلیٰ عہدے پر پہنچ جائے گا۔ قانون پڑھنے کی بات کر کے اس نے مجھے حیران کر دیا۔

    ’’ سکالر شپ مل جائے گا ؟‘‘میں نے پوچھا۔

    ’’لاء کالج کے لیے شاید نہ ملے ۔‘‘

    ’’پھر؟‘‘

    ’’کسی نہ کسی طرح گزارہ ہو ہی جائے گا۔‘‘ وہ بولا ۔

    ’’مگرایاز ! ‘‘میں نے پوچھا، ’’سائنس میں اتنی محنت کرنے کے بعد لا ء کالج کی کیا تُک ہے ؟‘‘

    ’’محنت کہاں کی ہے یار۔‘‘ وہ ہنس کر بولا، ’’ گولڈ میڈل میں کیا کمال ہے ۔ ذرا عقل استعمال کرنے کی ضرورت ہے بس ۔ سائنس پڑھ کر کیا کروں گا۔ کالج میں پڑھانے لگ جاؤں گا ، یا کسی لیبارٹری میں اگلے تیس سال تک گھسا رہوں گا کولہو کے بیل   کی طرح ، آنکھوں پر کھو پے چڑھائے ، نہ اندر کی خبرنہ باہر کی۔ میں تو دنیا کے کاموں میں حصہ لینا چاہتا ہوں ۔‘‘ وہ اپنے دونوں بازو ہوا میں پھیلا کر بولا، ’’باہر نکل کر پھرنا چاہتا  ہوں ، جہاں ساری زندگی کا چکر چلتا ہے ۔ آدمی کی آدمی سے بات ہوتی ہے، دوستی اور دشمنی ہوتی ہے ، فائدہ اور نقصان ہوتا ہے۔ عقل اور بے عقلی کی لڑائی ہوتی ہے ، زندگی اور موت کا سودا ہوتا ہے۔ اصل میدان تو وہ ہے۔‘‘

    اس کی بات میرے دل کو انوکھی، مگر سچی لگی۔ اپنے ساتھ کے جتنے لڑکوں کو میں جانتا تھا ان میں سے کسی نے کبھی ایسی بات نہ کی تھی ۔ ہم سب ایسے لوگ تھے جن کے سامنے کوئی واضح مقصد نہ تھا۔ جس طرف کو بھی ماں باپ نے ، یا حالات نے دھکیل دیا اسی طرف کو چلتے گئے ، جو کچھ سامنے آگیا اسی کو پکڑ لیا (یا اس نے ہمیں پکڑ لیا )  اور وقت نکلتا گیا۔ جب ایک راستہ خود بخود بند ہو گیا تو جو نیا راستہ سامنے آیا اسی پر چل پڑے۔ ایاز  پہلا ایسا لڑکا تھا جسے قطعی طور پہ پتا تھا کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے، جس نےطے شدہ رستہ چھوڑ کر ایک نیا رستہ اپنے لیے تلاش کیا تھا۔ مجھے یاد ہے اس وقت میرے دل میں ہلکا سا حسد کا جذبہ پیدا ہوا تھا۔

    ’’ ٹھیک ہے بھئی۔ ہمارے لیے تو اچھا ہی ہے ۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا تھا،’’ کبھی ہمارے کام بھی آؤ گے۔‘‘

    اسی سال ایا ز نے لاء کالج میں داخلہ لے لیا۔ اسے سکالر شپ ملایا نہیں ، اب مجھے ٹھیک سے یاد نہیں ۔ مگر افتخار کی دکان اب چلنے لگی تھی، اور مجھے پتا تھا کہ وہ ایاز کو خرچہ بھیجتا رہتا تھا ۔ ایا ز اپنے ایک رشتے کے ماموں کے ہاں کرشن نگر میں رہتا رہا۔ اس کا کمرہ اتنا چھوٹا تھا کہ مشکل سے اس کی چارپائی کمرے میں آتی تھی۔ اس کے علاؤہ صرف ایک چھوٹی سی میز کونے میں فٹ کی ہوئی تھی جو کتابوں سے لدی تھی۔ مزید کتابیں فرش پر، کھڑکی میں، چارپائی پر، غرض یہ کہ ہر جگہ اوپر نیچے پڑی ہوئی تھیں ۔ ایاز کے کپڑے دیوار پر اور دروازے کے پیچھے کیلوں سے ٹنگے تھے ۔ وہ چار پائی پر بیٹھ کر لکھا پڑھا کرتا تھا۔ ایک بارمیں کسی کام کی غرض سے لاہور گیا تو ایک رات ایاز کے پاس ٹھہرا تھا ۔ اس وقت سے مجھے اس کمرے کا نقشہ یاد ہے ۔ ہم دونوں اس گھر کی بیٹھک کے فرش پر رات کو سوئے تھے۔ اس رات ہم دیر تک بتی بجھا کہ اندھیرے میں باتیں کرتے رہے ۔ لاء کالج میں ایاز کادوسرا سال تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ یونین کا سیکرٹری منتخب ہو گیا ہے اور کالج کے میگزین کا ایڈیٹر بھی بن گیا ہے۔ اسے شکایت تھی کہ اس نے اپنے ذمے اتنے کام لے لیے ہیں کہ اس کی پڑھائی کا حرج ہو رہا ہے۔ مگر مجھے دل میں یقین تھاکہ ایاز نہ اگر یہ کام اپنے سرنہ لیتا تو اسے کبھی اطمینان نصیب نہ ہوتا۔ انہیں دو تین سالوں کے اندر پہلے میرے والد کا انتقال ہوگیا، پھر اماں نے میری شادی کر دی ۔ ان دو واقعات کے بوجھ تلے میرے اندر کچھ ذہنی تبدیلیاں پیدا ہونی شروع ہو گئیں۔ میں اچانک پڑھنے لکھنے کی طرف راغب ہونے لگا ۔ ایاز چھٹیوں میں گھر آیا ہوا تھا کہ ایک روز صبح سویرے وہ مجھے ڈھونڈتا ہوا شہر سے باہر ہمارے ڈیرے پہ آپہنچا جہاں میں کچھ کام کروار ہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ادبی پرچہ تھا جس میں میری ایک کہانی چھپی تھی ۔ اس کے چہرے پر حیرت کے آثار تھے ۔ وہ پرچے کے ورق اُلٹ اُلٹ کر دیکھ رہا تھا اور یہ ان پر ہاتھ مار مارکر حیرت اور بے یقینی اور خوشی کا اظہار کرتا جا رہا تھا ۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں نے اسے بتائے بغیر کیسے اور کب اور کیوں اور کہاں کہانیاں لکھنی شروع کر دی تھیں جو کہ چھپنا بھی شروع ہو گئی تھیں۔ میں نے اسے بتایا کہ یہ میری پہلی کہانی ہے اور میں نے اور کوئی کہانیاں نہیں لکھیں ۔ یہ سن کر اسے اور بھی زیادہ حیرت ہوئی۔ ہم دیر تک ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر ہنستے  رہے ۔

    ’’یہ پر چہ تمہارے ہاتھ کیسے لگا ؟‘‘ میں نے پوچھا ۔

    ’’میں اسے باقاعدگی سے پڑھتا ہوں ۔‘‘ ایاز نے بتایا ۔ ’’لاہور سے اپنے ساتھ لےکر آیا تھا۔ آج اس کہانی کی باری آئی ہے۔‘‘

    کہانی میں نے اپنا نام ذرا بدل کر چھپوائی تھی ۔ میں نے پوچھا کہ اس کو کیسے پتا چلا کہ یہ میری کہانی ہے ۔

    ’’یا ر یہ ہمارے شہر کی کہانی ہے ۔ “وہ ہنس کر بولا۔’’ ہمارا بازار اور ساری گلی اس میں موجود ہے۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اسے نہ پہچانوں ۔ اس میں میری شکل تک موجود ہے۔‘‘

    اس دن کے بعد میرے اور ایاز کے درمیان گویا ایک نئی دوستی کا آغازہ ہوا۔ وہ جب بھی اپنے شہر کو لوٹتا تقریباً ہر روز مجھ سے ملنے کے لیے آتا۔ لاہور میں ہوتا تو ہفتے دو ہفتے میں ایک بار خط لکھتا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس نے میرے اندر ایک نیا آدمی دریافت کر لیا تھا جو اس کا بچپن کا دوست ہونے کے علاؤہ اس کی جوانی کا ساتھی بھی تھا۔ اب وہ میرے ساتھ ہر قسم کی باتیں کرنے لگا تھا، وہ باتیں جو شاید وہ اب تک صرف اپنے لاہور کے دوستوں سے کیا کرتا تھا ۔ ادب کی اور سیاست کی باتیں ، دوسرے ملکوں کی ، دنیا کے حالات کی، مردوں اور عورتوں کی گہری گہری پیچیدہ باتیں جن سے اس کا بے چین دل اور دماغ اپنی خوراک حاصل کرتا تھا ۔ بعض دفعہ مجھے احساس ہوتا تھا کہ وہ اس شہر سے اکتا گیا ہے ، جیسے اس شہر میں اب اس کے لیے کوئی دلچسپی کا سامان نہیں رہا ، اس کا خیال اس چھوٹے سے شہر سے نکل گیا ہے، اور وہ احساسِ تنہائی سے بچنے کے لیے مجھ سے ملنے اور باتیں کرنے آتا ہے۔ مگر اس خیال سے مجھے اندر ہی اندر فخر اور خوشی کا احساس بھی ہوتا تھا۔

    ایل ایل بی کر کے ایا ز اپنے شہر کو لوٹ آیا ۔ اس نے امتیازی حیثیت سے امتحان پاس کیا تھا۔ اس نے بتایا کہ اسے ایک مشہور وکیل کے ساتھ کام کرنے کی پیش کش ہوئی تھی، مگر اس نے اس پیش کش کو قبول نہیں کیا اور اپنے شہر واپس آنے کو ترجیح دی ہے۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا ، ’’یہاں پیسہ نہیں ہے ، مگر ابتدائی تجربے کے لیے اضلاع سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہاں چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب انسانی جھگڑوں سے آدمی کا واسطہ پڑتا ہے ، اور چھوٹے بڑے سرکاری اہل کاروں کی ذہنیتوں کا علم ہوتا ہے۔ میں ہائی کورٹ میں کسی بیرسٹر کا کام چلانے کے لیے اس کا کارندہ کیوں بنوں ؟ اپنی کچہری میں پیپل تلے  کرسی ڈال کر‘‘ وہ ہنسا ۔’’اپنا کام کیوں نہ کروں ؟‘‘

    ہم لوگوں کی صورت اب یہ بھی کہ ہم ایاز کی کسی بات میں اس کے ساتھ سوال جواب نہیں کرتے تھے ۔ دوستوں اور گھر والوں کی حیثیت اب محض تماشائی کی سی تھی ۔چناں چہ اگلے دو سال تک ایاز  اپنے شہر میں گمنام سی پریکٹس کرتا رہا۔

     اس کی پریکٹس کا نقشہ ہو بہو وہی تھا جو پہلے روز ایاز نے میرے سامنے کھینچا تھا۔ شہر کے دو ایک بڑے وکیل تھے جن کے دفتر ان کی کوٹھیوں میں واقع تھے۔ باقی کے وکیل کچہری کے احاطے سے کام چلاتے تھے۔ کچہری میں پیپل اور برگد کے متعدد پرانے پرانے سایہ دار درخت تھے پچھلے چند برسوں کے دوران شہر کے نوجوان وکیلوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہو گیا تھا۔ اب نوبت یہاں تک آپہنچی تھی کہ وکیلوں کی تعداد کار آمد منشیوں کی تعداد سے کہیں بڑھ چکی تھی ۔ چناں چہ ایک منشی دو دو اور تین تین وکیلوں کا کام بھگتاتا تھا۔ منشی ، وکیلوں کی لکھت پڑھت کے علاؤہ ان کی دلالی کا کام بھی کرتے تھے ، اور تقریباً سب منشی نئے نئے نوجوان وکیلوں (اور کئی پرانے ناکام وکیلوں) سے زیادہ کمانے لگے تھے۔ ایاز نے بھی ایک تھرڈ کلاس مجسٹریٹ کی عدالت کے سامنے پیپل کے پیڑ کے نیچے اپنی کرسی اور میز جمالی اور ایک تجربہ کار منشی کی پارٹ ٹائم خدمات حاصل کر لیں۔ ایک ڈیڑھ سال کے بعد جب اس کی پر یکٹس کچھ چل نکلی تو اس نے اپنے منشی کو ہٹا کر ایک نوجوان عرضی نویس کو اپنا منشی رکھ لیا۔ دلالت کے حلقے میں یہ ایک غیر معمولی قدم تھا جو ایاز نے اٹھایا تھا۔ اول تو عرضی نویس کو منشی (وکیلوں کے منشیوں کو دیہاتی لوگ عموماً ’’وکیل صاحب ‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے ) سے کم درجے کا کارندہ سمجھا جاتا تھا، اور کسی عرضی نویس کو منشی بننے کے لیے اس حلقے کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ دوم یہ کہ اس پیشے کے سربراہ، یعنی وکیل حضرات بھی پیشوں کی اس تقسیم کو عین درست سمجھتے تھے ، گو اس میں ان کا براہ راست کوئی فائدہ یا نقصان نہیں تھا۔ مگر یہ وہ لوگ تھے جو اپنے پیشے کی روایات کے ساتھ سختی سے چمٹے رہنے میں ہی اپنی سلامتی سمجھتے تھے۔ (قانون کی مضحکہ خیز زبان پہ ایک نظر ڈالنے سے یا کسی وکیل کو قانون کی مین میخ نکالتے ہوئے سن لینے سے اس نکتے کی وضاحت ہو جاتی ہے ۔ اکثر اوقات معلوم یہ ہوتا ہے کہ قانون دان انصاف کی بجائے قانونی شقوں کے محافظ بنتے جارہے ہیں) ۔ ایاز  اس وقت بھی قانون کے دائرے کے اندر رہ کر ان چھوٹی موٹی روایتوں کو توڑتا رہتا تھا۔ منشی کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ ایک نوجوان آدمی کو لے کر خود اس کو کام سکھلانا کسی گھاگ منشی پر انحصار کرنے کی نسبت ہر حال میں بہتر ہے۔ انہی دنوں میں نے شہر سے باہر زمین کے ایک قطعے پر اپنے لیے نیا مکان بنوانا شروع کر رکھا تھا۔ میرا زیادہ تر وقت وہیں پر صرف ہوتا تھا مگر کبھی کبھی مجھے کسی دوست یا واقف کار کی خاطر کچہری جانا پڑتا تو میں وقت نکال کر ایاز سے ملنے چلا جاتا۔ اس کی کرسی عموماً خالی ہوتی ۔ وہ تمام دن عدالتوں میں مصروف رہتا تھا ۔ ایسے موقعوں پر میں ایاز کی کرسی پر بیٹھا منشی سے گپیں لگاتا ر ہتا ۔ ایا ز ایک عدالت سے فارغ ہو کر آتا تو پانچ دس منٹ میرے پاس بیٹھ کر اٹھ جاتا اور اگلے مقدمے کو نبٹانے چلا جاتا۔ میرے کام کے سلسلے میں اگر اس کی مدد کی ضرورت ہوتی تو وہ ساتھ چل کر کام کروا دیتا۔ دو ایک اور وکیلوں سے بھی میری واقفیت تھی ۔ کچہری میں ان سے ملاقات ہو جاتی تو وہ اکثر مجھ سے کہتے ’’ چوہدری ، تم لوگ تو عیش کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہو‘‘ باپ دادا کی کمائی تمہاری تین پشتوں کے لیے کافی ہے ۔ ہماری طرف دیکھو ، روزگار کے لیے تحصیل داروں کی عدالت میں جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں ۔‘‘ ایا ز میرا بچپن کا دوست تھا، مگر اس نے مذاق میں بھی مجھ سے کبھی ایسی بات نہ کی تھی ۔ اس کے اندر رشک یا حسد نام کا کوئی جذبہ موجود نہ تھا ۔ اسے دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ اس شخص کا مقام کہیں اور ہے ، اس کی نگاہ اس کی نظر سے کہیں دور جاتی ہے۔ کبھی کبھی اتوار کے روز وہ اپنی فائلیں وغیرہ اٹھا کر باہر میرے ڈیرے پہ آنکلتا۔ جب وہ آتا تو اس کے پاس اپنی فائلوں کے علاؤہ عموماً کسی ادبی پرچے کا نیا شمارہ ہوتا ۔ وہ دن بھر چار پائی پر بیٹھا یا لیٹا اپنا کام کرتا اور میں رسالہ پڑھتا رہا ۔ بیچ بیچ میں ہم اٹھ کر کھاتے پیتے ، باتیں کرتے اور کھیتوں میں گھومنے کے لیے چلے جاتے ۔ ایاز کو نئے اور پرانے ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں گفتگو کرنے کا بہت شوق تھا۔ یہ اکلوتا موضوع ایسا تھا جس کے لیے وہ میری بات کو دھیان سے سنتا اور میری رائے کو اپنی رائے پر ترجیح دیتا تھا۔ ایسے موقعوں پر اس کے چہرے کا انہماک دیکھ کر مجھے حیرت ہوا کرتی کہ یہ شخص کتنی مختلف قسم کی دنیاؤں میں رہتا ہے۔ ایک دنیا اس کا گھر، اس کا محلہ، اس کے رشتے دار اور اس کے بچپن اور لڑکپن کا ماحول تھا جس میں سے نکل کر وہ جوان ہوا تھا۔ دوسری اس کے کام کی دنیا بھی جو سراسرذہانت اور اعتماد پر قائم تھی۔ تیسری دنیا ادب کی تھی جس کی دہلیز پر وہ مسلسل کئی برس سے کھڑا اندر جھانک کر دیکھ رہا تھا۔ اس نے مجھے بتایا تھاکہ لاہور میں کالج کے میگزین میں اس نے کئی مضمون لکھے تھے۔ مگر جب سے وہ کام میں پڑا تھا اسے کچھ لکھنے لکھانے کا وقت ہی نہیں ملتا تھا۔ اکثر مجھے خیال آتا کہ ایاز اگر وکیل نہ بتا تو ایک بہت عمدہ ادیب ہوتا ۔ وہ برابر اپنے پرانے مکان میں اپنی ماں اور چھوٹی بہن سلمیٰ کے ساتھ رہتا آرہا تھا۔ افتخار کی شادی ہو گئی تھی اور ایک سال تک اسی گھر میں رہنے کے بعد وہ اور اس کی بیوی د کان کے اوپر چوبارے میں منتقل ہو گئے تھے۔ شہر میں کمپنی باغ کے اندر چھوٹا سا کلب تھا جس میں شہر کے چھوٹے بڑے افسران اور وکیل شام کے وقت اکٹھے ہو کر ٹینس ، ٹیبل ٹینس اور تاش وغیرہ کھیلا کرتے تھے۔ عام خبر تھی کہ وہاں شراب بھی ملتی ہے اور جوا بھی ہوتا ہے۔ ایاز کبھی اس کلب میں شریک نہیں ہوا تھا۔ جب کبھی میں شام کو ملنے کے لیے اس کے گھر جاتا تو وہ اپنی چھوٹی سی بیٹھک میں میز پر کا غذات پھیلائے بیٹھا اپنا کام کر رہا ہوتا۔ ایک آدھ بار اس نے سرسری طور پر ذکر کیا تھا کہ وہ شہر سے باہر اپنے لیے ایک مکان بنوانا چاہتا ہے، جس پر میں نے اسے زمین کا ایک ٹکڑا مفت مہیا کرنے کی پیشکش کی تھی ۔ جواب میں ہنس کر اس نے صرف اتنا کہا تھا ، ” یار میرے پاس ان کاموں کے لیے ابھی وقت کہاں ہے ؟‘‘ دو سال کی پریکٹس کے بعد وہ ایک ایسے مقام پر کھڑا تھا جہاں صرف اس کے دوستوں کو ہی نہیں ، بلکہ ساری وکیل برادری کو اس بات کا احساس تھا کہ اگر وہ اسی طور پر چلتا رہا تو عنقریب ان سب کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔ ان دو برسوں میں میں نے دوسرے وکیلوں کا ایاز  کی جانب رویہ اور ان کے بات کرنے کا انداز تک دن بدن بدلتے ہوئے دیکھا تھا۔ ایک افواہ یہ بھی تھی کہ اسے سرکاری ملازمت میں سول جج وغیرہ کے عہدے پر تقرری پیش کی جائے گی۔ مگر اس مقام پر پہنچ کر ایاز نے اچانک اپنی زندگی کو ایک اور بریک لگائی اور اس کا رخ ایک ایسی جانب موڑ دیا جس کا کوئی متوقع نہ تھا۔ ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ وہ بار ایٹ لار کرنے ولایت جا رہا ہے۔

     ’’میرے گھر والوں کے بعد تم پہلے آدمی ہو جسے میں نے یہ بات بتائی ہے۔‘‘ وہ بولا، ’’ابھی بات باہر نہ نکلے۔ اماں کو اس بات کی خبر نہ تھی، وہ کچھ پریشان ہیں۔ میرے ایک رشتہ دار وہاں رہتے ہیں۔ ابا کے پھوپھی زاد بھائی ہیں شاید۔ کئی مہینے سے میں ان سے خط و کتابت کر رہا تھا ۔ انہوں نے میرے داخلے وغیرہ کا بندوبست کیاہے۔‘‘

    میری زندگی کے معدودے چند مناظر ایسے ہیں جو میرے ذہن پر ہمیشہ کے لیے نقش ہیں۔ ان میں ایک منظر یہ بھی ہے ۔ اگست کا مہینہ تھا۔ ایاز اپنا چمڑے کا اٹیچی کیس  اٹھائے دروازے میں کھڑا رخصت ہورہا تھا۔ اس کی ماں اس سے لپٹی اونچی آواز میں رو رہی تھی اور اس کے سر اور چہرے اور چھاتی پہ ٹٹول ٹٹول کر ہاتھ پھیرتی جارہی تھی ، جیسے اس کی شکل کو اپنی انگلیوں کے حافظے میں محفوظ کر لینا چاہتی ہو۔ گلی کے سب گھروں سے لوگ باہر نکل آئے تھے۔ مرد ایاز کے گھر کے سامنے اسے رخصت کرنے کو اور عورتیں اور بچے اپنے اپنے گھروں کے دروازوں میں چپ چاپ کھڑے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ جب افتخار نے ایاز کے ہاتھ سے اس کا اٹیچی کیس لے لیا اور ہم سب گلی میں چل پڑے تو ایاز کی ماں گلی میں نکل آئی اور ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر بین کرنے لگی ۔ ایاز نے کہا تھا کہ وہ تین سال تک واپس لوٹ آئے گا، اور ہم اسی طرح اس کو رخصت کر رہے تھے جیسے کسی کو ایک لمبے سفر پہ بھیجا جاتا ہے۔ مگر اس وقت صرف اس کی ماں کو شاید یہ علم تھا کہ ایازہ ہمیشہ کے لیے اپنے شہر سے رخصت ہو رہا ہے۔

    ایاز پورے پانچ برس کے بعد انگلستان سے لوٹا۔ جب وہ واپس آیا تو لاہور میں ہی رک گیا ۔ وہاں سے اس نے اپنی ماں اور بہن بھائی کو بلا بھیجا۔ چند روز میں وہ ایاز سے مل کر لوٹ آئے ۔ افتخار نے مجھے بتایا کہ وہ اور اس کی ماں اور بیوی بچے اور سلمٰے اور اس کا خاوند سب لوگ کرشن نگر میں ٹھہرے تھے جب کہ ایاز اپنے ایک دوست کی کوٹھی میں ٹھہرا ہوا ہے۔ افتخار میرے نام ایاز کا خط لے کر آیا تھا۔ خط میں ایاز نے میرا حال چال پوچھا تھا اور مجھے لاہور آ کر ملنے کی سخت تاکید کی تھی ۔انگلستان میں قیام کے دوران پہلے دو سال تک ایاز  مجھے خط لکھتا رہا تھا ، جن میں اس ملک کی نئی نئی عجوبہ باتیں بیان کی ہوتی تھیں۔ میرے جیسے آدمی کے لیے، جس نے کبھی ایک آدھ روز سے زیادہ عرصے کے لیے اپنے چھوٹے سے دیہاتی شہر سے باہر قیام نہ کیا تھا، ان خطوں میں انتہائی کشش اور ذہنی سفر کی سی کیفیت ہوتی تھی۔ مجھے اس کے خطوں کا انتظار لگا رہتا تھا۔ جب اس کا خط آتا تو میں کئی کئی بار اسے پڑھتا ، پھر اپنے دوستوں کو پڑھ کر سناتا۔ ہم سب کئی کئی روز تک ایاز کے خطوں کی باتیں کرتے رہتے۔ گو میں اور میرے دوست نوجوانی کی منزل پار کر چکے تھے اور تقریباً سب کے سب بیوی بچوں والے تھے ، مگر انگلستان کی میموں کی کشش نے ہمارے خیالات کو پریشان کر رکھا تھا۔ ایاز نے کبھی اپنے خطوں میں کسی میم کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کا ذکر نہ کیا تھا، مگر ہمیں ان خطوں سے میموں کی بو آیا کرتی تھی ۔ ایک بار میرے ایک دوست سلیم نے ، جو منحنی سا آدمی تھا اور جس  کی دیرینہ خواہش تھی کہ وہ موٹا تازہ ہو جائے ، ایک پرانے انگریزی رسالے میں کسی دوا کا اشتہار پڑھا۔ یہ ایک قسم کی گولیوں کا اشتہار تھا جن کے بارے میں لکھا تھا کہ ان کے کھانے سے شرطیہ طور پر بدن موٹا اور پٹھے طاقتور ہو جاتے ہیں۔ سلیم کے اصرار پر میں نے ایاز کو لکھا کہ اگر وہ یہ گولیاں خرید کر بھیج سکے تو اس کی مہربانی ہوگی، اور یہ کہ دوا کی قیمت سلیم افتخار کو دے دے گا۔ اندر سے مجھے یقین نہیں تھا کہ ایاز میرے کسی دوست کے لیے وہاں سے اتنا تردد کرے گا۔ مگر دو مہینے کے اندر گولیوں کی بوتل ایک نفیس پارسل کی شکل میں مجھے مل گئی۔ (سلیم کو ان گولیوں سے کوئی فائدہ نہ ہوا ،بلکہ الٹا وہ سخت بیمار پڑ گیا)  دو سال کی خط و کتابت کے بعد ایاز کے خط آنا بند ہو گئے ۔ اپنے آخری خط میں اس نے ذکر کیا تھا کہ اسے وہاں پہ پیسوں کی کچھ دقت ہو رہی ہے، مگر اس نے لکھا تھا کہ اس کو جو بھی کرنا پڑا ، اس کا پکا ارادہ تھا کہ اپنی تعلیم کو مکمل کر کے آئے گا۔   اس کے بعد میری طرف ایاز کا کوئی خط نہیں آیا ۔ صرف اپنی ماں کو وہ باقاعدگی سے ہر دوسرے ہفتے خط لکھتا رہتا تھا، جن میں اکثر میری طرف سلام دعا کا پیغام ہوتا تھا۔ چناں چہ جب میں اس سے ملنے کے لیے لاہور پہنچا تو میرے دل میں کئی قسم کے ملے جلے خیالات تھے۔ مجھے یقین تھا کہ ایاز بہت حد تک بدل چکا ہو گا۔ اس خیال کو تقویت اس بات سے بھی ملی تھی کہ اس نے اپنے گھر تک آنا گوارا نہیں کیا تھا بلکہ لاہور ہی میں رک گیا تھا۔ مگر جب میرا ایاز سے آمنا سامنا ہوا تو یہ سارے خیالات میرے ذہن سے رفع ہو گئے۔ وہ مجھ سے اسی پرانی گرم جوشی اور اپنائیت کے ساتھ بغل گیر ہوا۔ میں اپنے بڑے بیٹے کمال کو جو اس وقت چھ سال کا تھا اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ ایازدیر تک اسے گود میں بٹھائے اس سے باتیں کرتا رہا۔ صرف دو ایک ظاہری تبدیلیاں ایاز میں پیدا ہوئی تھیں۔ اس نے بہت بڑھیا قسم کا گہرے رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا، اور اس کے سیاہ جوتے اتنی صفائی سے پالش کیسے ہوئے تھے کہ ان میں سے منہ دکھائی دیتا تھا۔ بات چیت میں وہ اب انگریزی کے الفاظ، بلکہ جملے کے جملے کثرت سے استعمال کرنے لگا تھا ۔ اس کے اٹھنے بیٹھنے کے طور میں کسی حد تک نفاست اور رکھ رکھاؤ کا احساس ہوتا تھا۔ مگر جہاں تک اس کی ذات کا تعلق تھا، میں نے اس کے اندر کوئی تبدیلی نہ پائی اور نہ ہی مجھے، ابتدائی چند لمحوں کے بعد کسی اجنبیت کا احساس ہوا ۔ اس نے اپنے دوست اظہر سے میرا تعارف کروایا۔ ایاز اور اظہر ایک ساتھ بار ایٹ لا کر کے انگلستان سے لوٹے تھے۔ اظہر کے ساتھ میرا کچھ غائبانہ تعارف اس زمانے سے بھی تھا جب انگلستان سے ایاز کے خط مجھے آیا کرتے تھے ۔ ان خطوں میں اکثر اظہر کا ذکر ہوتا تھا ۔ ایاز نے انگلستان میں اپنے ابتدائی دنوں کے چند مزاحیہ واقعات، جن میں اظہر کا حصہ بھی تھا اور جوایاز نے مجھے خطوں میں لکھے تھے ، مجھے یاد دلائے اور ہم تینوں انہیں دہرا کر ہنستے رہے ۔ وہ دونوں اُس غیر ملک میں پانچ برس تک ایک ہی مکان کے اندر ساتھ ساتھ کے کمروں میں رہتے رہے تھے ۔ ایاز نے بتایا کہ اب وہ دونوں اکٹھے اظہر کے والد کی پریکٹس میں شریک ہو رہے تھے ۔ شیخ مظہر الدین لاہور کے پرانے بیرسٹر تھے اور ایک مشہور گھرانے سے ان کا تعلق تھا۔ ان کے افرادِ خاندان اعلیٰ سرکاری اور سیاسی عہدوں پر فائز رہے تھے۔ شہر میں ان کی بہت بڑی پرانے طرز کی کوٹھی تھی جس کی انیکسی میں ایاز ٹھہرا ہوا تھا۔

    ’’میرا تو آپ سے غائبانہ تعارف بہت پرانا ہے ۔‘‘ اظہر مجھ سے مخاطب ہو کر بولا،’’مگر اب ہمارے گھر میں سب لوگ آپ سے ملنے کے مشتاق ہیں‘‘ ایاز بیٹھا مسکرا رہا تھا ۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو وہ اٹھ کر کتابوں کی الماری کی طرف بڑھا۔ ایک خانے میں سے اس نے ایک کتاب اٹھائی اور وہیں کھڑے کھڑے اس کا سر ورق میرے سامنے کر دیا۔ یہ میری کہانیوں کا مجموعہ تھا جو حال ہی میں شائع ہوا تھا۔ اباز کے ہاتھ میں اپنی کتاب دیکھ کر مجھے ایک عجیب طرح کی خوشی ہوئی۔

    ’’یہ تمہارے ہاتھ کیسے لگی ؟‘‘میں نے پوچھا ۔

    ’’ پانچ سال کے بعد یہ پہلی اردو کی کتاب ہے جو میں نے خریدی ہے۔‘‘ وہ خوشی سے بولا۔ ’’ کیا کمال کی کہانیاں لکھی ہیں تم نے ۔ ایک رات میں میں نے ساری پڑھ ڈالیں، ان میں سے صرف چار میری پڑھی ہوئی ہیں۔ باقی کی تم نے میرے بعد لکھی ہیں۔‘‘

    ’’ ہاں۔‘‘ نہ میں نے کہا ۔

    ’’یار ۔ اب تو تم بہت مشہور و معروف آدمی ہو گئے ۔‘‘

    میں ہنس پڑا۔’’یہاں ادبیوں کی شہرت کس بھاؤ بکتی ہے، تم تو جانتے ہی ہو۔‘‘

    ایاز اچانک خاموش ہو گیا۔ ’’ہاں‘‘۔ کچھ دیر کے بعد وہ بولا، ’’مگر  ایک نہ ایک دن اس ملک کو ادیب کے منہ کی طرف دیکھنا ہی پڑے گا۔  اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔“

    جس وقت ایاز نے یہ بات کی اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی ۔ اس کی آواز میں جو ذرا سی تبدیلی آچکی تھی کچھ دیر کے لیے کہیں غائب ہوگئی تھی ۔ اس کا لہجہ،   اس کی آواز، ہو بہو دہی آواز تھی جو کئی برس پہلے میرے کانوں میں آیا کرتی تھی جب ایاز اپنے شہرمیں پریکٹس کرتا تھا اور کسی کسی اتوار کو ہمارے ڈیرے پر آکر کھیتوں میں گھومتا ہوا مجھ سے ادیبوں اور شاعروں کی باتیں کیا کرتا تھا۔ ماضی کے زمانے سے آتی ہوئی وہ بے باک ہلکے سے کپکپاتے ہوئے کناروں والی آواز سن کر پانچ برس کی دوری کا عرصہ معدوم ہو گیا اور میرے دل سے رہی سہی اجنبیت بھی نکل گئی۔ ایاز نے باتیں کرتے ہوئے رائے ظاہر کی کہ میری سب سے اچھی کہانیاں وہ تھیں جو میں نے اپنے شہر، اور خاص طور یہ اپنے بچپن اور لڑکپن کے بارے میں لکھی تھیں ۔ اس وقت ایاز کی اس بات پر میں مسکرا کہ خاموش ہو رہا تھا۔ مگر ایک عرصہ گزر جانے کے بعد جب مجھے ادب کے بارے میں کسی قدر علم ہوا تو مجھے پتا چلا کہ ایاز کی یہ بات کس قدر سچی تھی ۔ اس نے مجھے بتایا کہ انگلستان میں قیام کے دوران اس نے قانونی جریدوں میں چند ایک مضامین لکھے تھے ، جن میں سے ایک تو خاصا مشہور ہوا تھا، اور اس کے بعض حصے کئی اور جگہوں پر بھی چھاپے گئے تھے۔ دو پہر کا کھانا ہم نے وہیں پر کھایا ۔ اس روز میری ملاقات اظہر کی بہن نسیم سے بھی ہوئی جو بعد میں ایاز کی بیوی بنی۔ نسیم ایک خوش شکل اور تعلیم یافتہ نوجوان خاتون تھی جو ایک کالج میں انگریزی پڑھاتی تھی ۔ گفتگو کے دوران مجھے پتا چلا کہ نسیم بھی ایک تعلیمی ڈپلومے کے سلسلے میں ایک سال تک انگلستان میں قیام کر کے آئی تھی ۔ ان دنوں اس کا بھائی اور ایا ز وہیں پر تھے اور ایاز سے پہلی بار اس کی ملاقات وہاں پہ ہوئی تھی۔ شام کے وقت میں دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے واپس لوٹ آیا ۔

     میں معمول کے طور پر چار چھ ہفتے میں ایک بار ایاز سے ملنے کے لیے لاہور جانے لگا۔ ایک سال کے بعد اس کی شادی نسیم سے ہو گئی ۔ شادی کے بعد ایاز  اور اس کی بیوی چند ماہ تک اسی انیکسی میں ٹھہرے رہے ، پھر ایا ز نے اپنے لیے الگ ایک کوٹھی کرائے پر لے لی۔ یہ کوٹھی شہر سےذ را با ہر ایک نئی آبادی میں تھی ۔ دو سال تک اظہر اور اس کے والد کے ساتھ مل کر پریکٹس کرنے کے بعد ایاز نے ایک اوربڑا قدم اٹھایا۔ اس نے شراکت توڑ کر اپنی الگ پریکٹس شروع کر لی ۔ اب میں اس سے ملنے کے لیے جاتا تو اکثر وہ مجھ سے رات بھر رکنے کے لیے اصرار کرتا ۔’’ اب تو ہمارے پاس کافی جگہ ہو گئی ہے یار۔‘‘ وہ کہتا ۔’’تم ایک ہی تو میرے دوست ہو جس کے ساتھ میں ہر قسم کی بات کر سکتا ہوں ‘‘ اور کسی حد تک یہ سچ بھی تھا ۔ لاہور میں جتنے لوگ بھی ایاز کے ملنے والے تھے سب اس کے اپنے پیشے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان لوگوں سے ایاز کی ملاقات دن بھر کے دوران مختلف عدالتوں اور بار رومز وغیرہ میں ہوتی رہتی تھی۔ اس کے علاؤہ ایاز کے پاس ملنے ملانے کا وقت ہی نہیں تھا گھر آنے کے بعد ہر روز رات کو گیارہ بارہ بجے تک وہ اپنے مقدموں کے کاغذات پر کام کرتا رہتا تھا۔ اتوار کو وہ دونوں نسیم کے والدین کے گھر ملنے کے لیے جاتے اور دوپہر کا کھانا عموماً وہیں یہ کھاتے ۔ اگر میں وہاں پر ہوتا تو ان کے ساتھ چلا جاتا۔ ایاز کے سسرال میں گفتگو زیادہ تر ان کے اپنے کنبے یا قانونی پیشے کے بارے میں ہوتی ۔ سہ پہر کے وقت ہم ایاز کی سیکنڈ ہینڈ فورڈ کار میں بیٹھ کر دھیمی رفتار سے ڈرائیو کرتے ہوئے واپس آ جاتے۔ پھر ایک آدھ گھنٹہ آرام کرنے کے بعد ایاز اور میں لمبی سیر کو نکل جاتے ۔ میرے قیام کے دوران یہی  ایک موقع ہوتا جب ہمیں دو ڈھائی گھنٹے کے لیے آپس میں گفتگو کرنے کا موقع ملتا ۔ اگر چہ کبھی کبھی میں اس کے اصرار پر رات کو وہاں رک جاتا تھا مگر عموماً ہوتا یہ کہ میں رات کو دیر تک نسیم کے ساتھ باتیں کرتا  رہتا ، جب کہ ایاز اپنے کمرے میں جا کر کام میں مصروف ہو جاتا ۔ پھر صبح کوناشتے پر ایک آدھ گھنٹہ مزید نسیم سے گپیں لگانے کے بعد ایاز  کی غیر موجودگی میں ہی واپسی لوٹ آتا۔ ہم اکثر اس بات پہ ہنسا کرتے کہ ایاز میرے وہاں رکنے پر اصرار کرتا ہے اور پھر اپنی روٹین میں مشغول ہو جاتا ہے، گویا میں وہاں پر موجود ہی نہیں ہوں ۔

    ’’ایاز کو بس آپ کی موجودگی سے ہی اطمینان ہو جاتا ہے۔‘‘ ایک بار نسیم نے مجھ سے کہا تھا ۔’’جیسے اس کے خاندان کا کوئی آدمی گھر میں موجود ہو۔‘‘

    نسیم جس ماحول میں پلی بڑھی تھی وہ میرے اور ایاز کے ماحول سے قطعی مختلف تھا ۔ مجھے یاد ہے جب میں پہلی بار اپنی بیوی کو ساتھ لے کر ان سے ملنے گیا تھا ۔ (اس وقت وہ نئے نئے اپنی کوٹھی میں منتقل ہوئے تھے) تو میری بیوی یہ دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی تھی کہ نسیم ایاز کو ’’تم‘‘ کہہ کر مخاطب کرتی تھی ۔ نسیم کے حلقے میں مرد اور عورتیں دونوں شامل تھے ، اور وہ مردوں کے ساتھ اسی انداز میں میل جول رکھنے کی اہل تھی جیسے عورتوں کے ساتھ بے تکلفی اور تہذیب کے امتزاج کا یہ ایک ایسا طور تھا جو صرف ایک خاص طبقے سے تعلق رکھنے والی عورتوں کی شخصیت میں پیدا ہوتا ہے، اور جو دوسرے طبقوں ، خصوصاً نچلے طبقے کے مردوں کے لیے انتہائی کشش کا حامل ہوتا ہے۔ نسیم میں وہ ذہانت موجود نہیں تھی جو ایاز میں تھی، وہ دماغی صلاحیت جو گہری گہری پیچیدہ باتوں کی گرہیں کھولنے کی اہل ہوتی ہے۔ اور نسیم کو اس بات کا علم تھا۔ نسیم نے اس بات کو اپنی سرشت میں اسی طرح قبول کر لیا تھا جس طرح کہ اس نے ہمیشہ سے اپنے گھر کے اندر باپ اور بھائی کے مقابل اپنی فطری حیثیت کا تعین کر لیا تھا۔ مگر اس بات سے اس کی ذات کے اندر کسی کمتری کا احساس پیدا نہ ہوا تھا۔ ایا ز جیسے شخص کے لیے، جس نے ایک لمبے عرصے تک اپنے طبقے کے اندر رہتے ہوئے بھی اس کی حدوں کو توڑتے رہنے سے کبھی احتراز نہیں کیا تھا، نسیم کی شخصیت کا یہ رخ غالباً سب سے زیادہ پرکشش تھا۔ نسیم جہاں ایاز کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی وہاں اس کے ذاتی اعتماد کی جڑ بھی تھی ، گو ہر کسی کی طرح نسیم کی زندگی بھی روزمرہ کی چھوٹی بڑی بے اطمینانیوں سے بھری پڑی تھی ۔ اس کا بس چلتا تو وہ اپنے باپ کے گھر انیکسی میں ہی رہے چلی جاتی جو کہ ایک درمیانے سائز کے گھر کے برابر تھی۔ ’’ پریکٹس چھوڑنے کی کیا ضرورت تھی ۔‘‘ اس نے کئی بارمجھ سے شکایت کی تھی۔ ’’اتنی بڑی پریکٹس ہے کہ ہر ایک کا گزارہ اچھا خاصا ہو رہا تھا، آگے بھی ہوتا رہتا۔ ہر ایک نے سمجھایا، مگر ایاز   کے دماغ میں خبر نہیں کیا سمائی ہے۔ بس یہی ایک رٹ لگا رکھی ہے کہ ’میری آزادی میں فرق پڑتا ہے ۔‘ حالاں کہ وہاں کسی بات کی رکاوٹ نہیں تھی۔ اب آپ دیکھ ہی رہے ہیں کیا حالت ہے ۔ پہلے کبھی کبھار کسی سے ملنے ملانےکا وقت نکلتا رہتا تھا۔ اب سرکھجانے کی فرصت نہیں .....‘‘

    شادی کے بعد بھی نسیم کی زندگی اپنے پرانے دوستوں اور اپنے کنبے کے گرد گھومتی رہی تھی ۔ چار سال میں اس کے ہاں دو بیٹے پیدا ہو چکے تھے ، چناں چہ اسے اپنی کالج کی ملازمت چھوڑنا پڑی تھی ۔ اکثر وہ ایاز کے کورٹ جانے کے بعد بچوں کو ساتھ لے کر اپنی ماں کے گھر چلی جایا کرتی اور ایاز کے واپس آنے سے گھنٹہ دو گھنٹہ پہلے لوٹ آیا کرتی تھی۔’’ ڈیڈی نے کہا تھا میں تمہیں کار خرید دیتا ہوں۔‘‘ ایک باراس نے مجھے بتا یا، ’’ مگر ایاز نہیں مانا۔ پتا نہیں کیوں؟ کہیں کہیں اس کی عقل بالکل ڈھیلی ہے ۔ بسوں اور ٹیکسیوں پر سفر کرتے کرتے میرا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔‘‘ ایاز کے گھر والوں سے نسیم کا واسطہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایسے حالات بیویوں کے لیے نہایت تسلی بخش ہوتے ہیں ۔ مگر نسیم کے لیے ، جسے دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ اس عورت کی زندگی میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کی کوئی اہمیت نہ تھی یہ بات نا خوشی کا باعث ہو سکتی تھی۔ ایاز کی ماں بیمار رہنے لگی تھی، اور افتخار دکان کا چو بارہ چھوڑ کر اپنے بیوی بچوں کو ماں کی دیکھ بھال کے لیے گھر لے آیا تھا۔ سلمٰے اپنے خاوند کے پاس تھی جو جہلم میں ایکسائز کے محکمے میں ملازم تھا۔ ایاز ہر مہینے دو مہینے کسی اتوار کو چند گھنٹے کے لیے اپنی ماں سے ملنے آجایا کرتا، اور گو ہربار وہ ماں کو اپنے ساتھ لے جانے پر زور دیتا، اور ہر بار یہ کہتا کہ اس کی بیوی کی بھی خواہش یہ ہے کہ اس کی اماں لاہور آجائیں تاکہ ان کا مناسب علاج ہو سکے ، میرے دل میں ہمیشہ یہ شبہ رہا کہ اس نے کبھی فیصلہ کن انداز میں ماں کو اپنے ساتھ لے جانے پہ اصرار نہیں کیا تھا۔ صرف ایک عید کے موقعے پر افتخار، اس کی بیوی اور ماں تین دن کے لیے ایاز کے گھر گئے تھے۔ وہ عید ایاز نے اپنے سسرال کی بجائے اپنے گھر پہ کی تھی ۔ ایاز کی ماں وہاں سے اپنی بہو کی تعریفیں کرتی اور اسے دعائیں دیتی ہوئی لوٹی  تھی۔ نسیم نے مجھ سے کئی بارذکر کیا تھا کہ اس کا جی چاہتا ہے کہ ایاز کی ماں،  دو چار مہینے کے لیے ہی سہی ، ان کے پاس آ کرٹھہرے ۔ مگر ایاز  کی ماں بضد تھی کہ وہ اپنے شوہر کے گھر سے مردہ ہو کر ہی نکلے  گی۔ ایک بات بہر حال مسلم تھی ، نسیم ایک بار بھی ہمارے شہر نہیں آئی تھی ۔

    چار پانچ برس کی آزاد پر یکٹس کے بعد ایاز کے رہن سہن میں کچھ تبدیلیاں پیدا ہونی شروع ہو گئیں ۔ ایاز کی زندگی نے اب تک کئی رخ بدلے تھے ،مگر ہر ایک موڑ  پر یہ محسوس ہوتا تھا کہ یہ اس کا برسوں پہلے کا مقرر کیا ہوا رخ ہے اور وہ اپنے پروگرام کے عین مطابق چلا جارہا ہے ۔ اس بار بات مختلف تھی ۔ اب جو تبدیلیاں اس کے ڈھنگ میں آرہی تھیں ان کے بارے میں یہ کہنا مشکل تھا کہ اس کے اپنے ارادے کا نتیجہ تھیں یا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود بخود رونما ہورہی تھیں ۔ ایازاب چھتیس برس کا ہونے لگا تھا ، اور گو اس کی جسمانی صحت بدستور قائم تھی ، اس کی شکل و صورت پر اس طویل محنت کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک روز صبح سویر ے کسی خیال میں غرق وہ شیو کے لیے شیشے کے سامنے پہنچا ہو اور ایک لمحے کے واسطے حیران رہ گیا ہو کہ یہ کون ہے جس کا چہرہ کچھ مانوس لگتا ہے ؟ اگر چہ ز یادہ قرین قیاس بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اپنی سرشت کے مطابق اب وہ اس روز مرہ کے کام سے کچھ اکتاتا جارہا تھا، اور اس کے خیال میں نہ آرہا تھا کہ اب کیا کرے، گویا اپنے پروگرام کے اختتام کو پہنچ چکا ہو۔ بے شک اس عمر میں وہ سب کچھ ایاز نے حاصل کر لیا تھا جس کے لیے کوئی بھی ’’کامیاب‘‘ آدمی عمر بھر محنت کرتا ہے۔ اس نے وہ کو ٹھی، جس میں وہ کرائے پہ رہتا رہا تھا، اس کے مالکوں سے خرید لی تھی ۔ گھر میں آسائش کی تمام جدید اشیاء مہیا تھیں۔ اپنے لیے اس نے نئی کار خرید لی تھی اور پرانی نسیم کو دے دی تھی ۔ ٹیلیفون موجود تھا۔ خانساماں ، بیرا، آیا اور ایک مالی گھر میں ملازم تھے۔ اس کی پریکٹس عروج پرتھی اور اب اس نے گھر پر کام کرنا کافی حد تک کم کر دیاتھا۔ دفتر میں اس کے دو جو نیئر بہت ہوشیار اور محنتی وکیل تھے جو مقدموں کی بریف تیار کرتے اور چھوٹی عدالتوں میں ابتدائی کارروائیاں نبٹاتے تھے ۔ ایاز اب صرف سیشن یا ہائی کورٹ میں مقدموں کے دلائل پیش کرتا تھا۔ گھر میں صرف کرنے کے لیے اب پہلے کی نسبت کافی وقت میسر تھا۔ ان کے دو پیارے بچے تھے، اور آپس میں میاں بیوی کی زندگی نہایت خوش باش اور متوازن تھی۔ ان کے پاس کسی شئے کی کمی نہ تھی ۔ اگر کہا جائے کہ ایاز اس وقت تک اپنے تمام تر مقاصد حاصل کر چکا تھا تو غلط نہ ہوگا ۔ مگر اس وقت مجھے کیا پتا تھا کہ اس کی زندگی کا اصل دور ختم نہیں ، بلکہ اب شروع ہونے والا تھا۔

    اباز اور نسیم نے اب لوگوں سے ملنا ملانا شروع کر دیا تھا۔

    ایسے لوگوں کی کمی نہ تھی جو ان کے دوستوں کے حلقے میں شامل ہونے کے خواہش مند تھے۔ ہفتے میں دو تین بار چند دوست یا تو ان کے گھر میں اکٹھے ہوتے اور رات کا کھانا عموماً ساتھ کھایا جاتا، یا ایاز  اور نسیم کسی کے گھر ملنے کے لیے جاتے ۔ دونوں اپنے دوستوں کے چناؤ میں خاصے محتاط تھے۔ زیادہ تر  ملنے والے ایاز کے اپنے پیشے سے تعلق رکھتے تھے ، اس کے ہم عمر بیرسٹر اور وکیل جن کے پہلو بہ پہلو ایاز برسوں سے کام کرتا آیا تھا۔ چند ایک نوجوان وکیل تھے جن کی ذہانت اور سنجیدگی سے متاثر ہو کر ایاز نے انہیں اپنے حلقے میں شریک کر لیا تھا ۔ مگر آہستہ آہستہ ان کے ملنے والوں میں کئی ایسے لوگ بھی شمار ہونے لگے تھے جن کا تعلق زندگی کے دوسرے شعبوں سے تھا ۔ کچھ عرصے سے ایاز نے انگریزی اخباروں میں انٹر نیشنل لاء  وغیرہ کے موضوعات پر مضامین لکھنے شروع کر دیے تھے۔ چناں چہ اب اس کی مجلس میں ایسے لوگ بھی دکھائی دینے لگے تھے جن کا ایک قدم اخبار نویسی یا تعلیم و تدریس میں اور دوسرا قدم ادب و سیاست میں تھا۔  اب جب کہ اس بات کو قریب قریب بیس برس کا عرصہ گزر چکا ہے مجھے یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں کہ اس زمانے میں ایاز اور نسیم کو اپنے دوستوں میں گھرا ہوا دیکھ کر، ایاز کو ہنستے اور محظوظ ہوتے ہوئے ، اور نسیم کو بڑے اعتماد سے ان کے بیچ چلتے پھرتے ، کھانے پینے کا بندوبست کرتے اور اپنی دلکشی سے سب کو مسحور کرتے دیکھ کر کئی بار میرے دل میں حسد کا جذبہ پیدا ہوا تھا ۔ حالاں کہ میرے ساتھ ایاز  اور نسیم کے سلوک میں ذرہ برابر فرق نہ آیا تھا۔ بہر حال جوں جوں وقت گزرتا گیا میرے دل سے اس قسم کے خیالات رفع ہوتے گئے۔

    کسی آدمی کی زندگی کے بارے میں یہ اندازہ لگانا کہ کسی نقطے پہ پہنچ کر اس کا ایک دور ختم اور دوسرا شروع ہوا ، ایک مشکل کام ہے ۔ لیکن اب میں بیس برس کے اس طویل فاصلے سے اس وقت پر نظرڈالتا ہوں تو ایک معمولی سا واقعہ میرے ذہن میں آتا ہے جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا مقام تھا جو ایاز کی زندگی میں غالباً سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ گرمیوں کا موسم تھا ۔ میں اس اتوار کو ایا ز سے ملنے لاہور گیا ہوا تھا۔ با ہراتنی تپش تھی کہ ایاز اور نسیم نے اس روز معمول کے مطابق نسیم کے والدین کے گھر جانے کا خیال ترک کر دیا اور ہم نے گھر پہ ہی دو پہر کا کھانا کھایا ۔کھانے کی میز پر ہم دیر تک پنکھے کے نیچے بیٹھے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے ۔ جب ہم وہاں سے اٹھے تو ایاز نے مجھ  سے کہا، ’’میں تمہیں ایک مضمون دکھانا چاہتا ہوں‘‘ ۔ چند منٹ کے بعد وہ اپنے کمرے سے ہاتھ میں چند ٹائپ شدہ اوراق لیے برآمد ہوا اور مجھے پکڑاتے ہوئے بولا، ’’یہ میں نے لکھا ہے۔ اسے پڑھو۔“ میں ایاز سے وہ کاغذات لے کر اپنے کمرے میں چلا آیا۔ ایاز نے پہلے کبھی مجھے اپنا کوئی مضمون نہ دکھایا تھا، نہ ہی مجھے کبھی ان کو پڑھنے کی خواہش ہوئی تھی ۔ اول تو یہ مضمون خالصتاً قانونی نکتوں سے متعلق ہوتے تھے ، دوسرے دقیق قسم کے قانونی لہجے میں لکھے ہوئے ہوتے تھے جس میں جگہ جگہ پر مختلف تعزیرات ،قوانین اور ان کی متعد دشقوں کے حوالے ملتے تھے ۔ مگر اس مضمون کو میں نے جیسے ہی پڑھنا شروع کیا ، پڑھتا چلا گیا۔ مضمون انسانی حقوق کے بارے میں تھا ، اور گو نہایت مدلل طور پر تیار کیا گیا تھا اور قانونی حوالوں سے بھرا پڑا تھا ، مگر طرزِ تحریر ایسا تھا کہ اس سے قانونیت کے لہجے کی بو نہ آتی تھی۔ سیدھے سادے عام فہم انداز میں بتایا گیا تھا کہ کیسے انسانی حقوق کے تحفظ کا قانون تمام ملکوں پر لاگو ہوتا ہے ۔مضمون اس چابک دستی سے تیار کیا گیا تھا کہ عام فہم ہونے کے باوجود اس حد تک وزنی تھا کہ اس پر کسی قسم کی شرانگیزی کا الزام لگانا دشوار تھا۔ تاہم وہ سن اٹھا ون کےآخری دونوں کا زمانہ تھا اور ہمارا ملک ایک نازک دور سے گزر رہا تھا۔ جب چائے کے وقت پر ایاز سے میری بات ہوئی تو میں نے ان خطرات کی جانب اشارہ کیا ۔ ’’اسی وقت میں تو ایسے مضمون کی ضرورت ہے۔‘‘ ایاز جوش سے بولا، ’’پہلے میں نے کیوں اس موضوع پر نہیں لکھا۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ میں نے کسی گورنمنٹ ایجنسی پر یا حکومت کی پالیسیوں پر براہ راست کوئی حملہ نہیں کیا ۔ ہاں، بین السطور جن باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے ان کا نوٹس اگر لیا جاتا ہے تو بسم اللہ ۔ یہی میرا مقصد ہے۔ تم ذرا اس کا ار دو میں ترجمہ کر دو۔‘‘

    میں نے نسیم کی طرف دیکھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ اپنے شوہر کو اس سلسلے میں کوئی غیر محتاط قدیم اٹھانے سے باز رکھنے کی کوشش کرے گی۔ مگر نسیم خاموش رہی۔ میں نے تین دن لگا کر بڑی محنت سے اس مضمون کا ترجمہ کیا ۔ تقریباً دو ہفتے کے بعد یہ مضمون ایک ہی روز کے انگریزی اور اردو اخباروں میں چھپ گیا ۔ جو خوشی مجھے یہ تحریر پڑھ کہ ہوئی اس کا مقابلہ میں صرف اس خوشی سے کر سکتا ہوں جو مجھ کو اپنی پہلی چھپی ہوئی کہانی دیکھے کہ ہوئی تھی ۔ میں نے دونوں اخباروں میں سے تراشے کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیے۔ (یہ تراشے آج بھی میر ےپاس موجود ہیں۔)   اگلی ملاقات پر ایاز نے مجھے بتایا کہ خلافِ امید، سرکار میں اس کی پیشی ہوگئی تھی۔ چیف سیکرٹری نے اسے بلا بھیجا تھا ۔ پھر اس ملاقات کے چند روز کے بعد گورنمنٹ ہاؤس کی ایک تقریب میں اسے مدعو کیا گیا جہاں پر گو رنر  نے ، جس سے ایاز کی پہلے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی ، اسے اس طرح مخاطب کیا جیسے اس کو ذاتی طور پر جانتا ہو ، اور چلتے چلتے دو ایک باتیں کرتا گیا تھا۔ ان دونوں ملاقاتوں میں ایا ز کو نہ کوئی سرزنش کی گئی نہ کسی کام سے روکا گیا۔ صرف اتنا کہا گیا کہ گورنمنٹ یہ توقع رکھتی ہے کہ ملک کے ذہین لوگ اپنے’’ ٹیلنٹ‘‘ کو مثبت کاموں میں صرف کریں گے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایاز نے کچھ عرصے تک اخباروں میں لکھنا بند کر دیا ۔(یا اخبار وں نے اس سے کنارہ کشی کر لی ) مگر اس وقت کے بعد سے اس کے کام کی نوعیت یکسر بدل گئی۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں اس سے ملنے گیا ہوا تھا کہ اس کے گھر پرہی، اس بات پر بحث کرتے کرتے ایا ز  اور اس کے سسر کے درمیان اچھا خاصا جھگڑا ہوگیا تھا ۔ ایاز کی پریکٹس کا رنگ تیزی سے بدلتا جارہا تھا۔ اس کے جو نیئر وکیل اس کے وفا دار تھے، اور جہاں تک ان سے ہو سکتا تھا اس کی پریکٹس چلائے جار ہے تھے ۔ مگر ایاز کی آمدنی میں کمی ہوگئی تھی، اور بے حیثیت لوگوں سے اس کی طرف داری ایک جذبے کی صورت اختیار کر چکی تھی۔

    ’’ ڈیڈی‘‘۔ میرے سامنے نسیم نے جوش میں آکر اپنے باپ سے کہا تھا ، ’’ ایاز کے لیے یہ پرنسپل کا معاملہ ہے۔‘‘

    ’’پرنسپل ۔ پرنسپل۔‘‘ نسیم کے باپ نے ناراضی سے جواب دیا تھا ، ’’آپ لوگوں کو پتا بھی ہے پرنسپل کیا ہوتا ہے ؟ ہم لوگوں نے بھی ملک کی خدمت کی ہے۔ جن لوگوں نے یہ ملک بنایا تھا وہ ہمارے پروفیشن کے لوگ تھے ۔ خدا کے بندے تم نے عمر بھر میں ایک ٹریننگ حاصل کی ہے ۔ دماغی ڈسپلن سیکھا ہے ۔ جو کام بھی کرو ڈھنگ سے کرو ، اپنے ڈسپلن کی مدد سے کرو ۔ یہ کیا کہ میونسپل کمیٹی کے ممبر کی طرح جو بھی آیا اسی کے ساتھ اٹھ کر کورٹ میں جا پہنچے۔ تم نے کس کا ووٹ لینا ہے.....‘‘

    ’’بہر حال ڈیڈی آپ ایاز کے کام میں دخل نہ دیں ۔‘‘ نسیم نے غصے میں آکر بات ختم کر دی تھی ۔

    میرے علم میں یہ پہلا موقع تھا کہ نسیم نے کسی بات میں اپنے باپ کے مقابل ایاز کی حمایت کی تھی۔ دو چار مہینے ایسے آئے جب کہ مجھے خود بھی یہ ڈر پیدا ہونے لگا کہ ایاز اپنے جوش و خروش میں شاید اپنا نظم و ضبط ہاتھ سے کھو بیٹھا ہے۔ اوپر نیچے اس نے کئی مقدمے معمولی فیس پر لیے ، لڑے اور جیتے۔ ایک بار اس نے مجھ سے ذکر کیا کہ اسے گورنر کی طرف سے ایک پیغام ملا ہے ۔

    ’’ بو جھو کیا ؟‘‘وہ مسکرا ئے  ہوئے بولا۔

    ’’کیا ؟ ‘‘میں نے پوچھا۔

    ’’اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے کی پیش کش ہوئی ہے۔‘‘

    ’’ پھر ؟‘‘ میں  نے سانس روک کر سوال کیا ۔

    ’’ہا ہا ۔‘‘ اس نے قہقہہ لگایا، ’’ آگئے نا تم بھی دھو کے میں۔ بھائی یہ رشوت دی جا رہی ہے۔ میں آتا ہوں ان بھڑووں کے چکر میں ؟ ‘‘

    ان دنوں میں ایا ز کی جذ باتی حالت کچھ ایسی تھی کہ کبھی کبھی مجھ کو وہ ایک اجنبی کی مانند دکھائی دیتا تھا۔ میرے لیے ایا ز ایک ایسا شخص تھا جس نے اپنی زندگی کو اپنی ذہانت کے خطوط پر وضع کیا تھا ، جس نے ہمیشہ اپنے دل کو اپنے دماغ کے نظم وضبط کے تابع رکھا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اس نے اپنے جذبات کو ابھرنے کا موقع دیا تھا، اور معلوم ہوتا تھا کہ اس کے جذبات اس کی عقل پر قبضہ جماتے جارہے ہیں ۔ تاہم، یہ بات نہیں تھی کہ کسی صورت میں اس کا ذہن کند پڑ گیا تھا ۔ بلکہ جس سمت میں وہ چلا جا رہا تھا اس سمت میں اس کا دماغ پہلے سے بھی زیادہ تیزی اور تندی کے ساتھ کام کرنے لگا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے اس کا ذہن ثانیۃ ایک بے نام سے مقام پر رک کر اپنے آس پاس ایک حیران و پریشان نظر ڈال کر، ایک دھچکے سے نئی منزل کی جانب دوڑ پڑا تھا۔ اس وقت کے دوران ایاز کی سب سے بڑی خوش قسمتی نسیم کا ساتھ تھا۔ اس نازک دور میں جب اس کا دوست اظہر، اس کا سسر، اس کے پیشہ ور دوست اور کئی ملنے والے اس سے کنی کترانے لگے تھے، ایاز کی بیوی ایک چٹان کی مانند جم کر اس کے ساتھ کھڑی رہی تھی ۔ اس نے کبھی کسی مسئلے پر ایاز سے کوئی بحث یا تکرار نہ کی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ پہلی بار مکمل طور پہ وہ اپنے شو ہر کی ز ندگی میں شریک ہو رہی تھی ۔ اب بھی میری رائے ہے کہ یہ نسیم کی ثابت قدمی کا نتیجہ ہی تھا کہ آخر ِکار ایاز کا رویہ آہستہ آہستہ کسی ڈھرے پر آنے لگا۔ سال بھر کی ہل چل کے بعد ایاز کے اندر کی تحریک دھیمی پڑنے لگی ، جیسے اس کی طبیعت اس غیر فطری رفتار کو رد کر کے اپنے پرانے ضبط اور ترتیب کے دائرے کے اندر لوٹ رہی ہو، یا   جیسے اس نے اپنی اصل سمت آخر کا ر ڈھونڈ نکالی ہو۔ اس کا جذبہ اسی طور قائم رہا، صرف اس میں ایک دیرپا قوت ِارادی کی شکل اور ترتیب پیدا ہوگئی۔ ایاز نے اپنی پریکٹس کو اب گویا دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک طرف تو وہ ایک کامیاب بیرسٹر کی حیثیت سے مقدمے لیتا اور ان کی فیس وصول کرتا تھا۔ دوسری جانب وہ اتنا وقت اپنے ہاتھ میں بچا کر ضرور رکھتا کہ اپنی مرضی کا کوئی مقدمہ ، معاوضے کا خیال کیے بغیر لڑ سکے۔ اپنے سسرال کے لوگوں سے ایاز کے تعلقات دوبارہ استوار ہو چکے تھے ، اور نسیم اتنی خوش نظر آنے لگی تھی کہ میں نے اس سے پہلے اس کو شاید صرف شادی کے فورا ًبعد کے چند مہینوں میں اتنا خوش دیکھا تھا۔ پھر تھوڑے ہی دنوں کے اندرا یاز نے ہائی کورٹ میں وہ دو مقد مے لڑے جن کا ذکر میں نے شروع میں کیا ہے۔ دفعتاً ایاز کا نام قانونی حلقوں سے نکل کر عوام میں پہنچ گیا ۔

    اب تک میں نے صرف ان مختلف شکلوں کا ذکر کیا ہے جو شکلیں ایاز کی زندگی وقتاً فوقتاً اختیار کرتی رہی ۔ بعض جگہوں پر میں نے اسے تبدیلی کا نام بھی دیا ہے۔ مگر اب خیال کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ذکر محض ان صورتوں کا تھا جنہیں ہر آدمی اپنے ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے ، اور عمر کی مختلف منزلوں پر اس کی شخصیت ان صورتوں میں نمودار ہوتی رہتی ہے ، گویا ان میں سے ہر ایک کا ایک وقت اور ایک مقام مقرر ہوتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ یا کوئی حادثہ ایسا پیش آئے کہ آدمی کی شخصیت کو ہی بدل کر رکھ دے، اور بعد میں آنے والی تمام صورتوں کی بناوٹ پر اثر انداز ہو۔ بے شک ایسا کم ہوتا ہے، مگر  کوئی کوئی آدمی .....یا اس کی زندگی کا کوئی کوئی مقام ..... ایسا ضرور ہوتا ہے جس میں اس تبدیلی کے جراثیم پنہاں ہوتے ہیں، اور ان سے بچنا اس کے لیے دشوار ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ان دنوں ایا ز کی زندگی میں پیش آیا ۔

     یہ واقعہ اپنے طور پر ایک الگ کہانی ہے ، مگر اس کہانی کو بیان کیے بغیر میں اپنے دوست کی زندگی کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ اسے بیان کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب میں ایاز کی زندگی کے ایک واقعے میں پوری طرح شریک ہوا تھا۔ جاڑوں کے دن تھے اور میں اس بار کوئی دو مہینے کے وقفے کے بعد ایاز سے ملنے کے لیے لاہور گیا تھا۔ اتوار کے روز شام کے وقت ایاز کے چند دوست (وہ لوگ جنہوں نے بیچ  میں کچھ عرصے کے لیے ایاز سے کنارہ کشی کر لی تھی ، اب دوبارہ اس کی جانب امڈتےآر ہے تھے) اس کے گھر پہ اکٹھے ہوئے ۔ گپ شپ رہی ، کھانا کھا یا گیا، اور پھر ہم سب آتش دان کے گرد بیٹھے چلغوزے اور اخروٹ کھاتے اور کافی پیتے رہے ۔ ایک بات جو اس روز میں نے محسوس کی وہ ایاز کی غیر معمولی خاموشی تھی۔ گفتگو حسبِ معمول قا نون، سیاست، اخبارات اور ملک کے عام حالات کے بارے میں ہو رہی تھی ۔ بیچ بیچ میں کوئی مزے دار قصہ بھی آجاتا۔ ایاز جو ہمیشہ میزبان کے فرائض  انجام دیتا ہوا گفتگو کے ہر موضوع پر پیش پیش رہتا تھا ، آج کچھ بے خیالی کی حالت میں تھا ۔ آخر جب سب لوگ رخصت ہو گئے تو ایا ز واپس آکر دوبارہ آتش دان کے قریب کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ ٹانگیں لمبی کر کے ، کہنیاں کرسی کے بازوؤں پر اور ہاتھوں کی مٹھیاں ٹھوڑی کے نیچے رکھ کہ جلتی ہوئی لکڑیوں کی آگ کو دیکھنے لگا۔ اس کے ماتھے پر گہرے فکر کی شکنیں تھیں۔ میں کچھ دیر تک نسیم سے باتیں کرتا رہا۔ آخر مجھ سے نہ رہا گیا۔

    ’’کیا بات ہے ؟‘‘ میں نے ایاز سے پوچھا، ’’آج تم کچھ چپ ہو۔‘‘

     ایاز نے چونک کر مجھے دیکھا ، پھر جواب دینے کی بجائے آہستہ سے ہنس کر خاموش ہو رہا، جیسے بات کرتے ہوئے ہچکچا رہا ہو۔

    ’’ایاز کو ایک مقدمے نے پھنسا رکھا ہے ‘‘۔ نسیم نے جواب دیا۔

    ’’پھنسا رکھا ہے ؟‘‘ میں نے دہرا کہ پوچھا۔ یہ میرے لیے ایک حیران کن بات تھی۔ قانون ایاز کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ میں نے اس کو عرق ریزی سے مقدمے تیار کرتے ہوئےتو دیکھا تھا، مگر  کبھی اسے پریشانی میں مبتلا نہ پایا تھا۔’’ کیسا مقدمہ ہے ؟‘‘ میں نے پوچھا۔

    ’’ایک قتل کا مقدمہ ہے‘‘ ۔ نسیم نے کہا ۔

    قتل کے مقدمے ایاز کا روز مرہ کا کام تھے، کوئی نئی بات نہ تھی ۔ مگر ابھی تک وہ اس بارے میں بات کرنے سے کترا رہا تھا۔ میں نسیم سے بات کر رہا تھا تو وہ کرسی چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا اور اسی طرح گہرے فکر کی حالت میں ماتھے پہ شکن ڈالے ، ہاتھ پتلون کی جیبوں میں دیے کمرے میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا ادھر سے اُدھر پھرنے لگا۔ میں اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔

    کچھ دیر کے بعد وہ واپس آکر کرسی پر بیٹھ گیا ۔

    ’’ کوئی مشکل کیس لگتا ہے ؟‘‘میں نے ہنس کر کہا۔

    ایا ز آہستہ سے مسکرا یا۔’’ مشکل تو نہیں ۔‘‘ وہ بولا ، ’’ عجیب سا ہے‘‘۔

    ’’کچھ بتاؤ تو سہی ۔‘‘

    ’’میں انگلستان میں تھا تو اکثر ایسے کیس دیکھنے میں آتے تھے ۔“ وہ بولا، ’’یہاں پر اصل میں سیدھے سادے معاملوں پہ قتل ہوتے ہیں۔ پرانی دشمنی پہ ۔ جائیداد پہ ، یا بد چلنی پہ ۔‘‘ پھر ایک لمحہ رک کر بولا، ’’ویسے تو یہ معاملہ بھی بدچلنی کا ہے۔‘‘

    ’’قصہ کیا ہے ؟‘‘ میں نے پوچھا ۔

    ’’ قصہ یہ ہے کہ ایک پڑھا لکھا نوجوان گزیٹڈ افسر ہے جس نے بد چلنی کے شبہے پر اپنی بیوی کو قتل کر دیا ہے ۔ میں ڈیفینڈ کر رہا ہوں ۔ ملزم نے اقبالِ جرم کیا ہے، شہادتیں موجود ہیں، وغیرہ وغیرہ ۔ جرم سے انکار نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی میں اس بنیاد پر ڈیفنڈ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس کیس کو صرف diminished responsibility کی بنیاد پر ڈیفنڈ کیا جا سکتا ہے ۔“

    ’’پھر مشکل کیا ہے ؟‘‘ میں نے پوچھا۔

    ’’ مشکل یہ ہے کہ اس میں بد چلنی کا ثبوت مہیا کرنا ضروری ہے۔ ‘‘

    ’’اور وہ موجود نہیں ؟‘‘

    ’’ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل رہا ۔‘‘

    ’’ملزم کیا کہتا ہے ؟‘‘

    ’’اس کی دماغی حالت کچھ واضح نہیں۔ شروع میں اس کا بیان تھا کہ اس نے اپنی بیوی اور اس کے آشنا کو اکٹھے پا کر ان پر حملہ کیا ۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ پیرا مار وہاں پر موجو نہیں تھا۔ اس نے محض شبہے کی بنا پہ بیوی کو قتل کیا ہے ۔ آدمی گو خاصاذہین ہے مگر اس واقعے نے اس کے ذہن پہ اثر ڈالا ہے۔ چناں چہ ڈیفنس کو اپنے ہاتھ میں ہی رکھنا پڑے گا۔ پراسیکیوشن اس کے سٹینڈ لینے پر اصرار کر سکتی ہے اور غالباً کرے گی۔ مگر میرا خیال ہے کہ ہم اسے بلاک کر سکتے ہیں۔ اس وقت اس کی ایک ہی صورت ہے۔‘‘

    ’’کیا صورت ہے ؟ ‘‘

    ’’ ذہنی توازن بگڑنے کی پلی لی جائے۔‘‘

    ’’ اس میں کوئی حرج ہے ؟‘‘ میں نے پوچھا ۔

    اس سے کیس ایک تو پیچیدہ اور کسی حد تک کمزور ہو جاتا ہے ۔ دوسرے ڈاکٹروں کی رپورٹوں پر خاصا انحصار کرنا پڑتا ہے ۔‘‘

    ’’ہوں ‘‘۔ میں نے سوچتے ہوئے جواب دیا۔’’   پھر تو معاملہ واقعی ٹیڑھا ہے۔‘‘

    ’’ یورپ یا امریکہ کی کوئی بھی عدالت اس معاملے میں محض بد چلنی کے شبہے کی بنا پر ذہنی توازن بگڑنے ، بلکہ وقتی طور پر توازن بگڑ جانے کی دلیل کو قبول کرلے گی۔‘‘ ایاز بولا، ’’ہمارے ہاں اگرچہ قانون انگریزی طریقے کا ہی چل رہا ہے مگر عدالتیں ابھی ان باریکیوں تک نہیں پہنچیں ۔ بہر حال اور بھی طریقے ہیں اسے ہینڈل کرنے کے ۔ میں ابھی یہ فیصلہ نہیں کرپایا کہ کس طرف سے اسے اپروچ کیا جائے ۔‘‘ ایاز چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔’’ تاہم .....جو بات مجھے ’’باور‘‘ کر رہی ہے‘‘ ، اس نے زور دے کرکہا ، ’’وہ یہ ہے کہ آدمی بے قصور ہے ۔‘‘

    ’’ کیا مطلب؟‘‘

    ’’انو سنٹ‘‘ ایاز اعتماد سے دونوں ہاتھ پھیلا کر بولا، گویا اس سے بڑی دلیل اورکوئی نہ ہو۔ ’’یہ آدمی انو سنٹ ہے ۔‘‘

    ’’تمہیں کیسے پتا ہے ؟‘‘ میں نے پوچھا ۔

    ’’اس بات کا مجھے علم نہیں ۔‘‘ وہ بولا، ’’نہ اس سے زیادہ ابھی کسی بات کا مجھے علم نہیں۔ بس میرے دل میں یقین ہے کہ یہ آدمی بے قصور ہے ۔ صرف ثابت کرنے کی بات ہے۔‘‘

     میں ششدر رہ گیا۔ ایاز کا دماغ مکمل پر ایک وکیل کا دماغ تھا ۔ اس کے ہاں واہمے کی کوئی جگہ نہ تھی ۔ ایاز کے لیے صرف اس بات کا وجود ہوتا تھا جس بات کی دلیل مہیا کی جاسکتی ہو۔ (وہ باتیں جن کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی انہیں تسلیم کرنے کے لیے بھی وہ کوئی دلیل پیدا کر لیتا تھا ۔ بعض دفعہ مجھے خیال آتا تھا کہ شاید خدا کا وجود بھی اس کے ذہن کے اندر   ایک دلیل کی شکل میں تھا۔) آج تک ایاز نے کبھی اس طرح کی بات نہ کی تھی جو شہادت اور دلیل کے دائرے سے باہر نکلتی ہو ، نہ کبھی اس نے حالات و واقعات کو نظرانداز کر کے کسی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اسی لیے وہ ایک اعلیٰ درجے کا بیرسٹر تھا ۔ مگر آج ..... اپنے سارے اصول توڑ کر وہ اتنی لاپر وائی سے کہہ رہا تھا ، ’’بس ثابت کرنے کی بات ہے ۔‘‘ پہلی بار ایاز نے ٹھوس حقائق کی دنیا کو چھوڑ کر واہمے کی ایسی پھسپھسی زمین پر قدم دھرا تھا جہاں پاؤں دھنستا چلا جاتا ہے مگر خبر نہیں ہوتی ۔

     میں آنکھیں پھیلائے اسے دیکھتا رہا۔ وہ دوبارہ منہ پھیر کر آگ کے شعلوں کو دیکھنے لگا۔ نسیم ہمارے پاس سے اٹھ کر جا چکی تھی۔ اندر کے کسی کمرے سے اس کے گنگنانے کی آواز آرہی تھی ۔ میرا تجسس بڑھتا جارہا تھا۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ ایاز مجھے شروع سے لے کر آخر تک اس کیس کے سارے حالات بتائے ، یہ کون شخص تھا جس نے اپنی بیوی کا قتل کیا تھا ، پھر اس کا اقبال کیا تھا، اور اس کے باوجود ایاز جیسےشخص کو اپنی بے گناہی کا قائل کر چکا تھا۔

    ایاز نے میری طرف دیکھا اور مجھے محسوس ہوا جیسے اس نے میرے دل کی بات جان لی ہو۔

    ’’ تم ایک ادیب ہو۔‘‘ وہ بولا ، ’’لوگوں کے دل کا حال جاننے کا دعویٰ کرتے ہو۔تم مجھے بتاؤ کہ یہ کیا حقیقت ہے ۔‘‘

    ’’میں کسی کے دل کا حال جاننے کا دعویٰ نہیں کرتا۔‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا۔’’مگر یہ کیسں ہے دل چسپ ۔مجھے ساری کہانی سناؤ تو کچھ بتاؤ ۔‘‘

    ایاز چند لحظوں تک مجھے دیکھتا رہا ، جیسے کسی خیال میں ہو۔ پھر اس نے ہونٹ ذرا سے بھینچے، جلتی ہوئی لکڑیوں پر نظر ڈال کر سر کو ایک آدھ بار اثبات میں ہلایا ، اور میری جانب متوجہ ہو کر بولا : ’’ تو سنو ۔‘‘

    اب میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ انہی چند لمحوں کے اندر ایاز نے مجھے اس کیس میں شریک کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ جو تفصیلات اس نے مجھے بتائیں وہ یہ تھیں: ظفر ایک گاؤں سے تعلق رکھتا تھا۔ پڑھائی میں تیز تھا۔ اس کے گاؤں کے قریب شہر تھا جہاں سے اس نے سکول اور کالج پاس کیا ۔ بی اے کرنے کے بعد اسے فوڈ انسپکٹر کی ملازمت مل گئی ، مگر ساتھ ہی ساتھ وہ پی سی ایس کے امتحان کی تیاری کرتا رہا۔ دو سال کے بعد اس نے مقابلے کا امتحان پاس کر لیا۔ ٹرنینگ کے بعد چند قصبوں اور شہروں میں مجسٹریٹ وغیرہ کے عہدے پر اس کی تعیناتی ہوئی ۔ ان قصبوں میں ایک قصبہ قصور تھا۔ قصور میں ملازمت کے دوران ایک کلیم کے مقدمے کے سلسلے میں اس کی ملاقات اپنی بیوی کے خاندان سے ہوئی۔ یہ لوگ دلی کے مہاجر تھے اور سن سینتالیس میں قصور آکر بس  گئے تھے۔ ہجرت کے موقعے پر کوثر کی عمر بارہ تیرہ برس کی تھی۔ جب ظفر قصور میں تعینات تھا تو کوثر لاہور کے ایک کالج میں بی۔ اے کے آخری سال میں پڑھ رہی تھی۔ اس نے بی اے پاس کیا تو ظفر سے اس کی شادی ہوگئی۔ ایک دو اور شہروں میں ملازمت کی مدت پوری کرنے کے بعد ظفر کو لاہور سیکر ٹریٹ میں تعینات کر دیا گیا۔ واردات کے موقعے پر ان کی شادی کو پانچ سال ،اور لاہور میں رہتے ہوئے ایک سال سے کچھ اوپر کا عرصہ ہو چکا تھا۔ ان کے دو بچے تھے ۔ چوبرجی کے قریب ایک پرانی سی کوٹھی کا آدھا حصہ کرائے پر لے کر وہ اس میں رہ رہے تھے۔ وہیں پر ایک روز رات کو نو یا دس بجے ظفر نے کوثر کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا ۔ اس کے بعد وہ ایک دو گھنٹے گھر کے اندر ہی بیٹھا رہا ۔ پھر اس نے اپنے دونوں بچوں کو سوتے سے جگایا، چار سال کے بیٹے کو سکوٹر پر اپنے پیچھے بٹھایا ، اور ایک سال کی بچی کو گود میں لے کر ایک ہاتھ سے سکوٹر چلاتا ہوا اپنے ایک دوست کے گھر جا پہنچا۔ آدھی رات کے بعد کسی وقت ظفر کے دوست نے پولیس کو اطلاع کر دی۔

    یہ چند تفصیلات بتا کر ایاز خالی خالی نظروں سے مجھے دیکھنے لگا ، جیسے اب اس کے پاس اور کوئی بات نہ رہی ہو۔ اس نے صرف اتنا کہا، ’’چاہو تو اس کی بریف دیکھ سکتے ہو۔‘‘

    چناں چہ اس طرح میں اس مقدمے میں الجھا۔ میں نے مقدمے کی بریف اور اس سے متعلقہ تمام کاغذات کا مطالعہ کیا۔ ایاز کے عملے کی اپنی تفتیش قتل کے حالات کے علاؤہ صرف ظفر اور اس کی بیوی کی زندگی کے چند واقعات تک محدود تھی ۔ مقتولہ کی طالب علمی کی زندگی ۔  کالج کی دو ایک لیکچرار، اس کی چند سہیلیوں اور ان کے کنبوں سے رابطہ قائم کیا گیا تھا۔ قصور میں بھی اِدھر اُدھر سے مقتولہ اور اس کے خاندان کے کچھ جاننے والوں سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ ان میں قصور کے ایک با اثر شخص کا بیان بھی شامل تھا جس نے مقتولہ کے کردار کے بارے میں کئی خاص باتوں کا ذکر کیا تھا۔ یہ ایک بیان ایسا تھا جس کے اوپر کافی حدتک کیس  کو کھڑا کیا جا سکتا تھا۔ مگر بعد میں پتا چلا کہ اس شخص کی مقتولہ کے ماموں کے ساتھ پرانی دشمنی تھی ۔ چناں چہ اس بیان کی اہمیت کو رد کر دینا  پڑا ۔ ایک مقام پر کالج کے ایک مرد لیکچرار کے ساتھ مقتولہ کے معاشقے کا ذکر بھی تھا ، مگر انتہائی کوششوں کے باوجود اس بارے میں کوئی مزید اطلاعات فراہم نہ ہو سکیں ۔ اس کے علاؤہ چند ایک اور واقعات کا ذکر آیا تھا جن کی اصل اہمیت نہ ہونے کے برابر بھی۔ یہ بیش تر ایسی باتیں تھیں جو افواہوں اور ذہنی  اختراعات پر مبنی ہوتی ہیں اور جنہیں چھوٹے چھوٹے وکیل اکثر اپنے مقدموں میں واقعاتی شہادتوں کو مضبوط بنانے کی خاطر استعمال کرنے سے نہیں ہچکچاتے ، مگر ایاز کی سطح پر ان باتوں کو قابلِ اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔ چناں چہ ان کے مقدمے کی بنیاد ابھی تک صرف ظفر کی زندگی کے حالات اور اس کا کردار ہی تھا ، گو میرے جیسے غیر پیشہ ور شخص کے لیے بھی یہ بھانپنا دشوار نہ تھا کہ حالات ، واقعات، اور اعداد و شمار کے اس ڈھیر میں سے ، جو میرے سامنے رکھا ہوا تھا، کوئی خاص سمت،یا و زنی دلیل برآمد نہ ہوتی تھی۔

    ایک آدھ روز و ہاں گزار کر میں واپس اپنے گھر چلا آیا۔ مگر مجھے چین نہ آیا۔ چند دن کے اندر اندر میں نے واپس جانے کی ٹھان لی۔ اس وقت بھی، جب ملک بھر کے اندر غالباً سینکڑوں ایسے مقدمے چل رہے تھے جو اس واقعے سے کسی طور بھی مختلف نہ تھے ، یہ ایک مقدمہ ایسا تھا جس نے میرے اوپر عجیب و غریب اثر  کیا تھا ۔ ایاز کی مانند میں کسی تفکر میں مبتلا نہیں ہوا تھا ، مگر یوں لگتا تھا جیسے اس نے میرے خیال کے اوپر ایک کمند پھینک دی ہے اور اب اپنی گرفت ڈھیلی کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہا۔ میں نے اپنی بیوی سے بات کی اور اگلے ہی روز واپس لاہور جا پہنچا۔

    ’’میں ظفر سے مل سکتا ہوں ؟‘‘ گفتگو کے دوران میں نے ایاز سے پوچھا ۔

    ’’ مشکل ہے ۔‘‘ ایاز نے کہا ، ’’صرف اس کے وکیل مل سکتے ہیں۔ یا قریبی رشتہ دار۔‘‘

     ظفر کے بیان کے کم از کم تین مختلف اقبتاسات تھے۔ پہلی رپورٹ میں قطعی طور پر بد چلنی کا الزام تھا، اور معلوم ہوتا تھا کہ ظفر نے اپنی بیوی کو موقعے پر جالیا تھا۔ مگر پولیس کی تفتیش سے پتا چلتا تھا کہ جس شخص کا نام لیا گیا تھا ( کالج کا لیکچرار) وہ عرصہ ایک سال سے ملک سے باہر جا چکا تھا۔ اس بیان سے ظفر کی حیثیت کو خاصی زک پہنچتی تھی ۔ پھر عدالتی بیان میں ملزم نے کہا تھا کہ پچھلے کئی ماہ سے اس کی بیوی کی حرکات و سکنات ایسی تھیں جن سے ’’ظاہر‘‘ تھا کہ وہ کسی اور مرد کے ساتھ بد چلنی میں ملوث ہے۔ اکثر وہ گھر سے غائب رہتی تھی اور ہر چند روز کے بعد بچوں کو ساتھ لے کر دو دو ہفتے کے لیے اپنی ماں کے گھر چلی جایا کرتی تھی ۔ ایک بار ظفر اس کو واپس لانے کے لیے قصور گیا تو وہ بچوں کو اپنی ماں کے پاس چھوڑ کر کہیں اور جا چکی تھی ۔ اس کی ماں کو اس کی خبر نہیں تھی چند روز کے بعد اس کی بیوی واپس آئی۔ اس نے اس بارے میں کچھ کہنے سننے سے انکار کر دیا ۔( اس بیان کی تصدیق ان کی ملازمہ نے کی تھی، جسے ایاز اپنے گواہ کے طور پر پیش کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔) ایک اور بیان میں جو ظفر نے بعد میں اپنے وکیلوں کے ساتھ بات چیت کے دوران دیا ، اس نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ ایک سال کے عرصے سے اس کی بیوی نے اسے ازدواجی حقوق سے محروم کر رکھا تھا ، اور یہ کہ اس کی ماں بھی اس ’’سازش ‘‘میں اپنی بیٹی کے ساتھ شریک تھی ۔ بنیادی طور پر ظفر کے بیانات میں کوئی تضاد نہ تھا۔ بیوی کی بد چلنی اس کے جرم کی تحریک کا باعث تھی۔ مگر بات پھر وہیں پہ آتی تھی ، کہ عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے اس الزام کا ثبوت کیا تھا؟

    نسیم نے گھر میں ایک کمرہ میرےلیے تیار  کر دیا تھا۔ میں ایک سوٹ کیس میں اپنی چیزیں رکھ کر لمبے قیام کی غرض سے وہاں آوارد ہوا تھا۔ ایاز اور نسیم دونوں میری آمد پر بہت خوش تھے۔ جب سے وہ اپنے گھر میں آئے تھے ان کا اصرار تھا کہ میں کچھ عرصہ ان کے پاس آکر ٹھہروں۔ مگر میرا اتفاق ایسا ہوا تھا کہ کبھی ایک آدھ روزہ سے زیادہ قیام کی نوبت نہ آئی تھی۔ مجھے کیا پتا تھا کہ آخر میں ایک ایسے واقعے کے سلسلے میں ان کے ہاں آ کر ٹھہروں گا جو (کم ازکم  میری نظرمیں) ہم تینوں کی زندگیوں میں ایک خاص اہمیت اختیار کرے گا ۔ میرے قیام کے پہلے چند دنوں میں ایک نئی بات میرے دیکھنےمیں آئی ۔ میں نے محسوس کیا میری طرح نسیم بھی آخر ایک تماشائی کی حیثیت سے ہٹ کر اس قصے میں گہری دلچسپی لینے لگی تھی ۔ مگر جہاں ایاز کا رویہ قانونی اور میرا خالصتاً تجسسی تھا، نسیم کا رویہ شروع میں کافی دیر تک کچھ غیر یقینی سا رہا۔ ایک طرف تو اپنے شوہر سے اس کی قدرتی وفاداری کا معاملہ تھا، جس کے نتیجے کے طور پر اس کی ہمدردیاں ظفر کے ساتھ تھیں ۔ دوسری جانب اس کا جذباتی رد عمل تھا ، جس کی رو سے ایک ایسا شخص جو میری کا قاتل ہو کسی ہمدردی کا حق دار نہیں ہوسکتا تھا۔ ہم تینوں اکثر رات کے کھانے کے بعد باتیں کرتے ہوئے کچھ دیر کے لیے اس مقدمے کا ذکر بھی کرتے۔ زیادہ تر گفتگو میرے اور نسیم کے درمیان رہتی۔ ایاز گو اب اپنے فکرو تردد کے دور سے نکل چکا تھا ،مگر جہاں تک اس مقدمے کا تعلق تھا اس کی چپ ابھی نہ ٹوٹی تھی۔ چند روز کے قیام کے بعد میں نے سفر پر نکلنے کا ارادہ کر لیا ۔

    دراصل پہلے چند روز میں اسی سوچ میں رہا تھا کہ اس قصے پر کس جانب سے ہاتھ ڈالوں ۔ وکیل چاہے کتنا ہی با وسیلہ کیوں نہ ہو عموماً اپنے سامنے کے واقعات ،اور ان سے لگتے ہوئے حالات کو اکٹھا کرتا ہے اور پھر اپنی قانونی صلاحیت کے برابر دلائل پیدا کر کے مقدمہ لڑتا ہے۔ بہت کم وکیل ایسے ہوتے ہیں جن کی طبیعت کا جھکاؤ ان کو مقدمے کے پس منظر کی گہرائیوں یا اس کے کر داروں کی ذاتی زندگیوں میں الجھنے پہ مجبور کرتا ہے ۔ دوسرے لوگوں کی زندگیاں ایک ایسی نیم تاریک ، دلدلی سرزمین ہوتی ہے جس کے سراغ کے لیے وقت اور محنت دونوں درکار ہوتے ہیں۔ میرا سرو کار اس مقدمے سے اس حد تک تو ضرور تھا کہ ایاز نے مجھے اس کے کھوج کی دعوت دی تھی،    مگر ذاتی طور پر میری دلچسپی اس واقعے کے ڈرامائی عنصر کے ساتھ تھی ۔ جرم اور اس کے بڑے کردار ظفر کے بارے میں سامنے کی تمام باتیں مجھے ایاز کے دفتر سے حاصل ہو چکی تھیں۔ ان کو مزید آگے بڑھانے سے کوئی مقصد حاصل نہ ہو سکتا تھا۔ چناں چہ تین چار روز کے غور کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس کھوج کی اصل سمت جرم کی واردات سے لے کر ظفر تک نہیں، بلکہ ظفر کی ذات سے شروع ہو کہ جرم تک ہونی چاہیے۔ ظفر کی ذات میرا نقطۂ ابتدا تھی۔ یہ شخص کون تھا۔ کس قسم کے مزاج اور کیسی شخصیت کا مالک تھا۔ کیا اس شخص کے لیے یہ جرم ایک فطری عمل تھا یا حادثاتی؟ عجیب بات تھی کہ میں ادھر ادھر سے معلومات اکٹھی کر کے جس شخصیت کی تعمیر کرنے کو چلا تھا وہ آدمی اسی شہر میں مجھ سے کچھ فاصلے پر قید  تھا اور میں اس سے مل نہیں سکتا تھا۔

     آخر میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا واحد طریقہ یہ تھا کہ میں خود اٹھوں اور اپنے پاؤں پر چل پھر کر معلومات اکٹھی کروں ۔ چناں چہ میں نے اٹیچی  کیس میں چند چیزیں ڈالیں اور نکل کھڑا ہوا۔ سب سے پہلے میں نے ایک ایک دو دو دن ان تین چار شہروں میں گزار سے جہاں ظفر فوڈ انسپکٹر، اور بعد میں مجسٹریٹ کی حیثیت سے تعینات رہا تھا۔ چوں کہ یہ کام ذرا نازک تھا اور میں زیادہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ نہیں کرنا چاہتا تھا، اس لیے میں نے اپنا شہری لباس ترک کر کے تہہ  بند باندھ لیا اور اپنے اوپر کمبل لپیٹ لیا ۔ اپنے گھر میں گو یہ  میرا روزمرہ کا لباس تھا، مگر میں نے آج تک اس لباس میں دوسرے شہروں کا سفر نہیں کیا تھا۔ (سفر کے لیے میں اکثرپتلون کوٹ یا شیروانی پہنا کرتا ہوں) جب میں نے اپنے دیہاتی لباس میں ریل گاڑی کا، بس کا، اور ناواقف شہروں کا سفر کیا تو شروع شروع میں میں نے اپنے آپ کو بہروپیا سا محسوس کیا، مگر ایک آدھ روز کے بعد یہ احساس خود بخود رفع ہو گیا ۔ میں ذہن میں کوئی خاص تدبیر لے کر گھر سے نہ نکلا تھا۔ چناں چہ جیسے بھی ہو سکا میں موقع محل کے مطابق کام چلاتا رہا۔ زیادہ تر میں نے کچہریوں اور دفتروں میں پھر پھرا کہ معلومات حاصل کیں ۔ میں نے اپنا تعلق دفتروں کے چپراسیوں سے لے کہ منشیوں ، کلرکوں اور دوسرے نچلے درجے کے اہل کاروں تک رکھا۔ اپنے شہر میں جس طرز کی میری زندگی بسر ہو رہی تھی اس کے دوران ایسے لوگوں سے بات چیت کرنے کا وصف میرے اندر پیدا ہو چکا تھا۔ بات شروع کرنے کے لیے کئی جگہ پر میں نے اپنے آپ کو کسی قریبی گاؤں کا دیہاتی ظاہر کر کے ظفر علی چو بان مجسٹریٹ کا پتا پوچھا۔ لوگوں نے حیرت سے مجھے دیکھا اور بتایا کہ چوہان صاحب تو عرصہ ہوا بدل کر سیالکوٹ جاچکے ہیں۔ اس وقت تک اس قتل کی مختصر سی ابتدائی کہ رپورٹ کے علاؤہ اور کچھ اخباروں میں نہ آیا تھا، چناں چہ زیادہ تر لوگ اس واقعے سے بے خبر تھے ۔ سیالکوٹ سے پتا چلا کہ چو ہان صاحب چیچہ وطنی تبدیل ہو کر جاچکے ہیں۔ کئی لوگ جو دفتروں اور کچہریوں کے چھٹے ہوئے تھے کچھ بتانے سے پہلے سوال جواب کرنے لگے ۔ میں کون ہوں ، کہاں سے آیا ہوں ، کیوں پوچھ رہا ہوں ، وغیرہ وغیرہ۔ ان لوگوں کو دوسروں سے پیسے بٹورتے ہوئے اتنی عمر ہو جاتی ہے کہ کسی اجنبی کو دیکھ کر سب سے پہلا خیال جو ان کے دل میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ اس سے کیا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ مجھے مختلف قسم کے بہانے بنانے پڑے۔ مثلاً ایک موقعے پر میں نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے مجسٹریٹ صاحب میرے ایک عزیز  کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے ہمارے گاؤں میں آئے تھے اور اس موقعے پر انہوں نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر کسی قسم کا کام پڑے تو میں ان کے پاس چلا آؤں ۔ یہ بات کر کے میں پھنس گیا ، کیوں کہ سب جانتے تھے کہ چوہان صاحب کبھی کسی کے گھر دعوت پر نہیں جانتے اور نہ ہی سفارش مان کرکسی کا کام کرتے ہیں۔ وہاں پر اس ایک جھوٹ سے نکلنے کے لیے مجھے کئی اور جھوٹ بولنے پڑے ۔ میری زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ میں ایسی من گھڑت باتیں لوگوں سے کہہ رہا تھا، اور کئی بار یہ سوچ کر میرا دل برا ہوا کہ میں جھوٹ بول کر اپنا کام نکال رہا ہوں ۔ مگر دو چار دن گزر جانے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ دروغ گوئی کا یہ احساس دبتا جا رہا ہے ۔ دراصل اب میں اپنے سراغرسانی کے کام سے لطف اندوز ہونے لگا تھا ۔ غالباً ہر ایک ادیب کے اندر ایک سراغ رساں اور ایک دروغ گو چھپا بیٹھا ہوتا ہے ۔ اسی لیے وہ اپنی من گھڑت با تیں اتنی سنجیدگی کے ساتھ لوگوں کے سامنے سچائی کا نام دے کر پیش کرتا ہے ۔ اور شاید اسی لیے ادیب کا کام اتنا پر خطر بھی ہوتا ہے ، کیوں کہ جب وہ سچائی کی کوئی اصل صورت نہیں نکال سکتاتو محض ایک دروغ گو سراغ رساں بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ خیال کر کے میرا دل لرز اٹھتا تھا کہ دنیا پہلے ہی ایسے خطرناک لوگوں سے بھری پڑی تھی۔

    ظفر جب فوڈ انسپکٹر تھا تو شہر کے بازار میں ایک چو بارہ کرائے پر لے کر رہا کرتا تھا۔ مجسٹر یٹی کے زمانے میں وہ ایک شہر کے محلے میں مکان لے کر اور دوسری جگہوں پر سول لائنز کی کوٹھیوں میں رہتا رہا تھا ۔ ان رہائش گاہوں کے آس پاس کے دکانداروں اور ملازموں سے باتوں باتوں میں کچھ خبریں ملیں ۔ مگر جس شخص کی میں کھوج میں تھا اس کا کوئی سرا میرے ہاتھ نہ آرہا تھا۔ گیارہ دن کی دوڑ دھوپ کے بعد جب میں واپس لاہور پہنچا تو میری معلومات میں کوئی خاص اضافہ نہ ہوا تھا۔ جس شخص سے میری واقفیت ہوئی تھی وہ شخص سرکاری افسر ظفر علی چوہان تھا۔ یہ شخص اس قدردیانت دار تھا کہ جب وہ محکمہ خوراک جیسے بدنام شعبے میں کام کرتا تھا اس وقت بھی لوگ اس کی قسم کھاتے تھے۔ مجسٹریٹ کی حیثیت سے وہ ایک انتہائی محنتی ، ذہین اور اصول پسند افسر کے طور پر مشہور تھا۔ اس کے تمام سابقہ ماتحت اور گھریلو ملازم اس سے اور اس کی بیگم سے بے حد خوش رہے تھے ۔ ان میں سے جو بڑی عمر کے تھے ان کے منہ سے اس کے لیے دعائیں نکلتی ہوئی میں نے خود سنی تھیں۔ اس کی بیوی اپنی خدا تر سی کے لیے مشہور تھی ۔ جہاں جہاں بھی وہ رہی تھی وہاں سے مجھے یہی خبر ملی کہ اس کے گھر سے کوئی خالی ہاتھ نہ نکلتا تھا، پیسہ  اس کے ہاتھ میں پانی کی طرح بہتا تھا ، اور اس نے کبھی کسی کو اونچی آواز سے ڈانٹا تک نہ تھا۔ ظفر اس کا بے حد خیال کرتا تھا، اور دونوں آپس میں بڑے پیار محبت سے رہتے تھے ۔ ظفر جہاں سے بھی تبدیل ہو کر گیا بہترین رپورٹ لے کر گیا تھا۔ البتہ ایک بات میرے علم میں آئی جو کسی حد تک خلاف معمول تھی۔ ان کا ملنا ملانا نہ ہونے کے برابر تھا۔ شادی سے پہلے اور شادی کے بعد ظفر کا ایک ہی حال تھا۔ وہ بھی کسی کلب وغیرہ میں شامل نہ ہوا تھا۔ جس شہر میں وہ لگا ہوتا تھا وہاں کے کچھ با عزت لوگ اپنی بیویوں کو لے کر کبھی کبھار ان سے ملاقات کے لیے آتے رہتے تھے مگر ظفر اور اس کی بیوی کبھی کسی کے گھر نہ گئے تھے۔ سرکاری دعوتوں کے علاؤہ ظفر نے کبھی کسی دعوت میں شرکت نہ کی تھی اور نہ ہی اپنے کسی ہم پیشہ کے ساتھ اس کی دوستی ہوئی تھی۔ وہ کوئی کھیل نہ کھیلتا تھا۔ دفتر کے باہر اس کا تمام تر وقت اپنے گھر میں صرف ہوتا تھا ۔ گھر میں وہ  دفتر کا کام لے کر آتا،   روز کی دو تین اردو اور انگریزی کی اخباریں پڑھتا ، شام کو کبھی کبھار اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر پیدل سیر کے لیے جاتا ، اور پھر سارا کنبہ کھانا کھانے کے بعد جلد ہی سو جاتا ۔

    ’’ان باتوں کا تو ہمیں پہلے سے علم تھا ‘‘۔ ایاز نے مجھ سے کہا، ’’کوئی نئی بات بتاؤ   ۔‘‘

    ’’میں   اس کے گاؤں جار ہا ہوں ۔‘‘ میں نے جواب دیا ، گویا یہی ایک نئی بات تھی جو میں اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔

    جس وقت سے میں واپس لوٹا تھا اسی وقت سے مجھے اپنی ناکامی کا احساس ہونا شروع ہو گیا تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں ایک شخص کی تلاش میں گیا تھا، اور اسے چھوڑ کر کسی اور ہی طرف کو نکل گیا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان گیارہ دنوں کے سفر کے دوران کسی وقت بھی مجھے یہ احساس نہ ہو پایا تھا کہ میرے ہاتھ میں کچھ نہیں آرہا۔ جب میں شہروں شہر پھر رہا تھا تو اس کام میں اتنا مشغول ہو چکا تھا کہ کسی اور بات کا مجھے خیالی نہ رہا تھا، گویا یہ کام میں کسی خاص مقصد کے تحت نہیں بلکہ محض شغل اور دل بہلا وے کے لیے کر ر ہا تھا۔ اب میں اپنے آپ کو ایک ایسے بے وقوف شخص کی مانند محسوس کر ر ہا تھا جس کو بچوں کا کوئی دلچسپ کھیل ہاتھ لگ جائے اور وہ دن بھر اسی کھیل میں لگا رہے، حتیٰ  کہ شام پڑ جائے اور پھرا سے ہوش آئے ۔ ایاز کی بات سن کر مجھے اور بھی دکھ ہوا۔ مگرایاز مذاق کے موڈ میں تھا۔

    ’’ بھائی میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ تم کھوجیوں کی طرح اٹھ کر نکل پڑو۔ میرا مقصد تو یہ تھا کہ میری بات سنو ، مقدمے کا حال پڑھو، اور کوئی بیچ کی ایسی بات بتاؤ جہاں تک ہم فافی لوگوں کی نظر نہ پہنچتی ہو۔‘‘ وہ ہنس کے بولا، ’’ یا پھر کوئی کہانی لکھو‘‘۔

    ’’میں اس کے گاؤں جانا چاہتا ہوں ۔‘‘ میں نے دوبارہ کہا۔

    ایا ز نے سنجیدگی سے مجھے باز رکھنے کی کوشش کی ۔ ’’مقدمہ عدالت میں ہے۔‘‘ وہ بولا۔ ’’اب اس میں عدالت کا ، ہمارا ، پولیس کا ، سب کا دخل ہے۔ کوئی باہر کا آدمی اپنے طور پرتفتیش نہیں کر سکتا ۔ سب سے پہلے تو پولیس والے تمہیں آپکڑیں گے ۔‘‘

     اس ساری شام کو میں ایک گہری نا امیدی کی حالت میں رہا۔ میں چاہتاتھا کہ اس خیال کو ذہن سے جھٹک دوں ، باتیں کروں، اپنی مسافت کی تھکن اتاروں۔ مگریہ واقعہ میرے دل پر ایک بوجھ بن کر بیٹھ چکا تھا۔ ایاز چہچہا رہا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس مقدمے کی گرفت سے نکل چکا ہے۔ یوں بھی جتنی پر پکٹس ایاز کی تھی اس لحاظ سے یہ توقع نہ کی جاسکتی تھی کہ وہ کسی ایک مقدمے کو چند دن سے زیادہ اپنے ذہن پر سوار رکھے گا ۔ ایاز اور نسیم مجھے ایک سکینڈل کی روداد سنارہے تھے ، جس میں ہمارے علاقے کا ایک مشہور سیاست دان ایک عورت کے ساتھ ملوث تھا۔ یہ واقعہ چند روز ہوئے ایک مقدمے کی شکل میں منظر عام پر آیا تھا اور نسیم کے بھائی اظہر کے ہاتھ میں تھا۔ میں بے خیالی سے ان کی باتیں سنتا اور ہنستا رہا ، مگر اب ایک اور بات مجھے ستائے جارہی تھی۔ بیٹھے بیٹھے مجھے خیال آرہا تھا کہ آخر کس وجہ سے ایاز نے یہ مقدمہ لیا تھا ۔ پہلے کبھی مجھے اس بات کا خیال نہ آیا تھا۔ مگر اب جب کہ میرے ذہن کی حالت ایسی تھی کہ ہر قسم کے الٹے سیدھے خیال چلے آرہے تھے ، میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر دیکھا جائے تو اس مقدمے میں کوئی ایسی بات نہ تھی کہ ایاز سے لڑنے پر تیار ہوتا۔ ان دنوں ایاز کی پریکٹس کا معمول تھا کہ یا تو وہ ایسے سیدھے سیدھے مقدمے لیتا تھا جن کی بڑی بھاری نہیں پیش کی جاتی ہو، یا پھر وہ مقدمے ہوتے تھے جن میں پیسہ نہ ہوتا تھا مگر جنہیں وہ کسی اخلاقی اصول پر لڑتا تھا ۔ ان دونوں میں سے کوئی بات اس مقدمے میں موجود نہ تھی۔ اس کے علاؤہ اس مقدمے کی نوعیت ایسی نہ تھی کہ ایاز اسے جیت کر اپنی شہرت اور مقبولیت کو کسی صورت آگے بڑھا سکتا ہو۔ ان باتوں کے باوجو د، میں سوچ رہا تھا، حرف یہی نہ تھا کہ اس نے یہ مقدمہ لیا، بلکہ تھوڑی دیر کے لیے اسے اپنے ذہن پر سوار کر لیا تھا۔ اس کی کیا وجہ تھی ؟

    کھانا کھانے کے بعد میری حالت کافی حدتک سنبھل چکی تھی۔ ہم تینوں کچھ دیر تک کھانے کی میز پر بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ نسیم   دلچسپی کے ساتھ مجھ سے میرے سفر کے بارے میں پوچھتی رہی۔ وہ یہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ کس طرح میں اپنی عمر میں پہلی بار ایک ایسی مہم پہ نکل کھڑا ہوا تھا جس کا مجھے کوئی تجربہ نہ تھا ، کس طور پہ میں نے اسے مکمل کیا، اور اس وقت میں نے کیسا محسوس کیا جب میں ایک ایسے کام میں لگا تھا جو صرف قصے اور کہانیوں میں پڑھا جاتا ہے۔ نسیم میں یہ ایک غیر معمولی خاصیتتھی کہ وہ کسی بھی حالت میں، کسی بھی آدمی کو اپنی باتوں کی جانب متوجہ کر لیتی تھی ۔ چناں چہ میں نے پہلی بار تفصیل کے ساتھ اسے اپنے گیارہ دنوں کی روداد سنائی۔ وہ آنکھیں پھیلا کر اشتیاق سے میری کہانی سنتی رہی ، اور ایا ز میرے ’’معرکوں‘‘ پر ہنستا رہا ۔ اس دوران میں جو دو ایک بار مقدمے کا براہ راست ذکر آیا تو میں نے محسوس کیا کہ نسیم کی   ہمدردی اب قطعی طور پر ظفر کے ساتھ ہو چکی تھی، اور اس نے ظفر کو اپنی بیوی کے قتل پر ملزم ٹھہرانا چھوڑ دیا تھا، گویا اس کے ذہن میں دو مختلف جذ بوں کا تصادم اب رک چکا تھا۔ اپنا قصہ ختم کرنے کے بعد میں نے بہت سا بوجھ اپنے دل سے اترتا ہوا محسوس کیا ۔ ہم شب بخیر کہہ کر سونے کو چلے گئے ۔

    مگر صبح کے وقت دفتر جانے سے پہلے ایاز نے ایک سوال کر کے مجھے چونکا دیا۔

    ’’ تم واقعی ظفر کے گاؤں جانا چاہتے ہو ؟‘‘ اس نے اس طرح مجھ سے پوچھا، جیسےمیرے ارادے سے نیم متفق ہو۔

    ’’ ہاں‘‘میں نے جواب دیا۔

    ’’ تو پھر میں تمہیں دو خط لکھ کر دیتا ہوں ۔‘‘وہ بولا۔’’ انہیں ساتھ لے جانا ۔‘‘

    میں نے ایاز سے کہا کہ میں سہ پہر کے وقت آکر دفتر سے خط لے لوں گا، کیوں کہ میں اسی روز واپس اپنے گھر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ چناں چہ سہ پہر کو میں ایاز کے دفتر پہنچا۔ ایا ز اپنے دفتر میں نہیں تھا۔ اس کے کلرک سے میں نے اپنے دو خط وصول کیے اور اپنے گھر جانے کو بس کے اڈے کی طرف چل پڑا ۔ میں دل میں ظفر کی تبدیلی ذہن پہ حیر ان تھا ۔ مگر اس وقت میرے دل میں ایک ہی خیال تھا، کہ کس طرح جلد از جلد ظفر کے گاؤں پہنچوں ۔ ایک رات میں نے اپنے گھر پہ بسر  کی، گھر پہ کچھ کام رکے ہوئے تھے۔ انہیں نبٹاتے ہوئے سارا دل نکل گیا۔ چناں چہ میں نے سفر کا ارادہ اگلے روز پہ ملتوی کر دیا۔ اگلے روز صبح سویر ے میں ریل پر سوارہو کر ظفر کے گاؤں کو روانہ ہوا۔

     گجرات کے سٹیشن پر میں نے گاڑی چھوڑ دی ۔ شہر سے چند میل کے فاصلے پر ان کا گاؤں تھا۔ پکی سڑک گاؤں تک جاتی تھی۔ ڈیڑھ گھنٹے کے تانگے کے سفر کے بعد میں گاؤں پہنچا ۔ میرے پاس جو دو خط تھے ان میں سے ایک اردو میں لکھا ہوا ظفر کے باپ کے نام تعارفی خط تھا۔ دوسرا ایاز کے دفتر سے جاری کیا گیا ٹائپ اور مہر شدہ خط تھا جس کے اندر گول مول قانونی زبان میں لکھا گیا تھا کہ مجھے ایاز کی جانب سے اختیار حاصل ہے کہ میں اس مقدمے کے سلسلے میں کچھ معلومات اکٹھی کر سکتا ہوں۔ (یہ خط مجھ کو سنبھال کر اپنے پاس رکھنا تھا اور صرف اس صورت میں استعمال کرنا تھا جب کہ اس کے سوا چارہ نہ ہو۔ خوش قسمتی سے اسے استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔) ظفر کے باپ نے اپنے داماد کو بلا بھیجا جو اسی گاؤں کے سکول میں ہیڈ ما سٹر تھا۔ اس کے داماد نے ظفر کے باپ کو خط پڑھ کر سنایا ۔ ظفر کے باپ کا نام میاں محمد تھا۔ خط کا مضمون سننے کے بعد اس نے مجھے اپنے گھر ٹھہرنے کی دعوت دی۔ کچھ دیر تک میں اور میاں محمد دھوپ میں ایک چار پائی پر بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔ پھر میاں محمد اٹھ کی میری خاطر مدارات میں مصروف ہو گیا ۔

    میرے دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے ملک میں جو لوگ سرکاری نوکری، تجارت، تعلیم، یا فنون کے میدان میں نام پیدا کرتے ہیں ان کی اکثریت چھوٹے شہروں اور ان کے قرب وجوار کے گاؤں سے تعلق رکھتی ہے، اور اقلیت بڑے بڑے شہروں یا اندرونِ ملک کے دیہات سے آتی ہے۔ (سوائے سیاست اور فوج کے شعبے کے، جن کے لیڈر اور اعلیٰ افسر عموماً اندرونِ ملک کے دیہات سے ،یا پھر بڑے شہروں سے نکلتے ہیں۔ گو ماحول کے اعبتار سے یہ دونوں علاقے ایک دوسرے کے متضاد ہیں، مگر غالباً ان میں کچھ ایسے اجزائے مشترکہ پائے جاتے ہیں جو قدرتی طور پر ایک بے قلب طرزز ندگی کو موافق آتے ہیں۔) ظفر کا گاؤں اس ’’درمیانی علاقے‘‘ کا گاؤں تھا۔ یہ ایک چھوٹے شہر کے قریب اور جرنیلی سڑک کے کنارے واقع تھا۔ ایسے دیہات کا ماحول عموماً دور دراز کے گاؤں کی نسبت مختلف ہوتا ہے۔ ان لوگوں کے روزمرہ کاروبار میں شہر کا دخل بہت زیادہ ہوتا ہے ، اس لیے یہاں کا عام کسان قدرے خوشحال اور شہری تہذیب سے قریب ہوتا ہے ۔ سیاسی طور پر بھی یہ دیہات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ، چناں چہ اکثر یہاں سکول اور ڈسپنسریاں قائم شدہ ملتی ہیں ۔ ظفر نے اپنے گاؤں کے سکول سے مڈل پاس کیا تھا ۔ اس کا باپ میاں محمد ایک معمولی حیثیت کا کسان تھا۔ کسی ز مانے میں ان کے خاندان کے پاس اتنی اراضی تھی کہ ان کی حیثیت درمیانے درجے کے زمین داروں کی تھی ۔ کئی پشتوں تک ان کے خاندان میں واحد اولادِ نرینہ چلی آئی تھی ، چناں چہ ان کی ملکیت کافی حد تک سالم رہی تھی۔ مگر یہ سلسلہ میاں محمد کے باپ تک پہنچ کر ختم ہو گیا تھا۔ میاں محمد کے باپ کا نام میاں احمد تھا۔ میاں احمد کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں ۔ بیٹیوں کی شادی کے سلسلے میں اسے کچھ اراضی فروخت کرنا پڑی۔ بقیہ زمین چاروں بیٹوں میں تقسیم ہوگئی ۔ میاں محمد سب سے چھوٹا تھا۔ اس کے تین بڑے بھائیوں کی شادیاں ہوئیں  اور سب کے دو دو تین تین بیٹے ہوئے ۔ بڑے ہو کر یہ سب لڑکے زمین داری میں جت گئے ۔ اپنی زمین ان کے لیے ناکافی ثابت ہوئی تو انہوں نے دوسروں کی زمین ٹھیکے پر لینی شروع کر دی۔ آہستہ آہستہ ان کی کاشت وسیع ہوتی چلی گئی ۔ پھر چند سال کے بعد انہوں نے دوسرے کاموں میں ہاتھ ڈالنا شروع کر دیا ۔ ایک بھائی کے بیٹوں نے آٹے کی چکی اور دوسروں نے تیل نکالنے کی مشین لگائی تیسرے بھائی کے بیٹوں نے وسیع پیمانے پر سبزیوں کی کاشت شروع کر دی ۔ پھر انہوں نے ایک سیکنڈ ہینڈ ٹریکٹر خرید لیا اور اپنی کاشت کے علاؤہ اسے کرائے پر چلانے لگے۔ اس طرح ہوتے ہوئے تینوں بڑے بھائیوں کے گھرانے خوش حال ہو گئے۔ میاں محمد کا ایک ہی بیٹا تھا، اور وہ بھی پڑھا کو نکلا۔ میاں محمد نے بہت کوشش کی کہ اس کا بیٹا گاؤں کے مڈل سکول سے نکلنے کے بعد اس کے ساتھ کاشت کاری میں لگ جائے ، مگر ظفر نے شہر جا کر پڑھنے کی ضد کی ۔ پھر جب اس نے میٹرک پاس کر کے کالج میں داخل نے لیا تو میاں محمد نے زمین داری کی جانب سے امید اتار کر تمام تر اپنے بیٹے کی تعلیم پر باندھ دی۔ جب ظفر نے بی اے پاس کیا اور فوڈ انسپکٹر ہو گیا تو میاں محمد کو پہلی خوشی نصیب ہوئی۔ ظفر کے تایا زاد بھائی بھی اس کو اب اپنے ساتھ برابری کا رتبہ دینے لگے ۔ ظفر اپنے خاندان کا پہلا شخص تھا جس  نے اتنی تعلیم پائی اور سرکاری نوکری کی تھی ۔ مگر جب ظفر مجسٹر یٹ ہو گیا تو یکا یک گویا میاں محمد کی دنیا کا رنگ ہی بدل گیا ۔ اپنے خاندان، بلکہ برادری بھر ہمیں وہ سب سے نچلی حیثیت سے اٹھ کر سب سے اوپر پہنچ گیا ۔ دیہات کے علاقوں میں صرف دوسرکاری شعبوں کی وقعت ہوتی ہے : محکمہ مال، یا پھر نظم و ضبط سے تعلق رکھنے والے محکمے۔ اس گاؤں سے دو اور آدمی ایسے نکلے تھے جو اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہوئے تھے ۔ مگر وہ ریلوے اور کسٹم کے حکموں میں تھے، چناں چہ ان کی کوئی خاص حیثیت نہ تھی ۔ سوائے اس کے کہ گاؤں میں ان کے پکے مکان تھے۔( اس قتل کے بعد میاں محمد نے ان دونوں تک رسائی حاصل کر کے پولیس کے پاس ان کی سفارش کروائی تھی ، مگر کام نہ بنا تھا۔)ہم اس کے بر عکس کسی کا مجسٹریٹ بن جانا، اور لوگوں کو ’’ باندھنے‘‘ کا اختیار حاصل کر لینا گو یا ’’حکومت‘‘ میں شامل ہو جانا تھا ۔ ’’چوہدری جی تو اب سرکار ہو گئے ہیں، میاں جی ‘‘، مبارک باد دینے والے کہتے تھے ، ’’جس کو مرضی ہو چھوڑ دیں ، جس کو مرضی ہو باندھ دیں ۔‘‘ میاں محمد کے بڑے بھائی ، جو آج تک اس کو اپنے سے کم حیثیت کا جان کر اسے گھاس نہیں ڈالتے تھے ، اب ہر روز شام کو اس کے گھر پہ بیٹھے ہوتے تھے ۔ ظفر کے تایا زاد بھائی ،جو عمر میں اس سے بڑے تھے ، اب اسے اپنے سے بڑے کا رتبہ دینے لگے تھے ۔ خاندان کا ایک ایک مرد اب اس پہ بجا طور پر فخر کرتا تھا ۔ میاں محمد کا رتبہ گاؤں میں اب پٹواری،ذیلدار ،ضلع دار وغیرہ سب سے اونچا ہو گیا تھا۔ اس نے ظفر کی بہن  کی شادی نمبر دار کے بیٹے سے کی جو ان کی برادری کا ہی آدمی تھا۔ اس کا داماد ایف اے تک پڑھا ہوا تھا اور زمین داری کے علاؤہ گاؤں کے سکول کا ہیڈ ماسٹر تھا۔ اس علاقے میں دور دور تک کے دیہات میں ظفر واحد شخص تھا جو مجسٹریٹ ہوا تھا۔ بڑے سے بڑا زمین دار اسے اپنی بیٹی دینے پر آمادہ تھا۔ مگر میاں محمد کی نظر اپنے ایک بھائی کی بیٹی پر تھی ۔ جب ظفر نے ناواقف لوگوں میں شادی کر لی تو یہ پہلا موقع تھا کہ اس نے اپنے گھر والوں کو کسی قسم کا صدمہ پہنچایا۔ جب انہیں اس بات کا علم ہوا کہ ظفر کی بیوی ایک مہاجر کنبے سے تعلق رکھتی ہے تو ظفر کے خاندان والوں کو ایسا لگا۔ جیسے ان کی بے عزتی ہو گئی ہے ۔ مگر ظفر کی حیثیت اب ایسی تھی کہ کوئی اس کے سامنے آواز نہ اٹھا سکتا تھا ۔ جب موقعہ آیا تو ان سب باتوں کو نظرانداز کر کے میاں محمد نے بڑے کروفر سے اپنے بیٹے کی شادی کی ۔ ظفرکی بیوی کوثر ان کے گاؤں میں بیاہ کر آئی۔ تین روز گاؤں میں رہنے کے بعد دونوں میاں بیوی قصور چلے گئے۔ کوثر کی چند سالہ بیاہتا زندگی میں صرف وہ تین دن ایسے تھے جو اس نے اپنے سسرال کے گاؤں میں گزارے تھے ۔ اس وقت تک میاں محمد نے اپنے گھر کے ساتھ دو پکے کمرے نہ بنوائے تھے، چناں چہ اس نے اپنے بیٹے اور بہو کو تین روز تک اپنے بڑے بھائی کے پکے گھر میں رکھا۔ یہ ساری تفصیلات اسی رات کو میاں محمد نے مجھے بتائیں ۔ میں بستر پہ ٹانگیں سمیٹے لحاف اوڑھ کر بیٹھا تھا ۔ وہ رات سخت سرد تھی ۔باہر کھیتوں پر کہرا گر رہا تھا۔ مجھے یاد ہے اس سال آلوؤں کی فصل بتاہ وبرباد ہو گئی تھی ۔ میاں محمد دوسری چار پائی پر کمبل لپیٹے بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔ اس کی ایک مٹھی حقے کی نالی کے گرد لپٹی تھی، مگر حقہ بجھ چکا تھا۔ اس شخص نے چند سال کے عرصے میں زمین سے آسمان تک کا سفر کیا تھا اور پھر زمین پہ آگرا تھا۔ اب وہ ایک ایک بات کی تفصیل اس طرح مجھے بتائے جا رہا تھا جیسے اس کے بیٹے کی رہائی میرے ہاتھ میں تھی، اور اس کا تمام تر انحصار ان باتوں پہ تھا جو وہ مجھ کو بتا رہا تھا۔ میں نے دیر ہوئی اس سے کوئی سوال نہ کیا تھا ۔ اس کا داماد کچھ دیر کے لیے ہمارے پاس آکر بیٹھا ر ہا تھا۔ پھر گھر کے اندر سے ایک جوان عورت کے رونے کی آوازہ آنے لگی تو وہ جلدی سے اٹھ کر باہر نکل گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد عورت کے رونے کی آواز بند ہوگئی ۔ میاں محمد نے پلک تک نہ جھپکی ، اسی طرح باتیں کرتا رہا۔ اس کی بینائی ضائع ہوتی جار ہی تھی اور وہ تنہا رہ گیا تھا۔ جسں دن سے میں اس قصے میں پڑا تھا آج پہلی بار میں نے اس بے یار و مددگار بڈھے کے سامنے بیٹھے بیٹھے اپنے کیے پر ندامت محسوس کی۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ جلداز جلد یہاں سے چلا جاؤں گا۔

    میں صرف ایک دن اور رات مزیدہ وہاں پر ٹھہرا ۔ اس گاؤں میں میں نے اور کسی سے بات نہ کی ۔ اگلا دن سارا میں نے شہر میں بسر کیا ۔ ظفر کے بارے میں کوئی انوکھی یا غیر معمولی بات سامنے نہ آئی۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس کی زندگی میں پڑھائی، اور پڑھائی میں محنت کے سوا اور کچھ نہ رکھا تھا، اسی طرح جیسے بعد میں ملازمت کے دوران اپنے کام کے علاؤہ اسے کسی اور شے کے ساتھ دلچسپی نہ رہی تھی۔ شہر میں میں  اس کے پرا نے ہائی سکول میں گیا ، ماسٹروں سے بات چیت کی ، پھر کالج کا رخ کیا ۔ اس کے پرانے استاد وہاں موجود تھے۔ اس کے علاؤہ اس کے ایک دو ہم جماعت اسی کا لج میں لیکچرار آلگے تھے ان کے ساتھ تفصیل سے بات ہوئی۔ کالج کے استادوں کو اس واقعے کا علم تھا ۔ ان سب نے گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ ظفران کو اچھی طرح سے یاد تھا۔ وہ کالج کا ایک ہونہار طالب علم رہ چکا تھا۔ میں سارے کالج میں گھومتار ہا ، جیسے ظفر کی شخصیت کی کوئی رمق تلاش کر رہا ہوں ۔کوئی تصویر، کوئی سند، کوئی ٹرافی، کوئی نام۔ مگر معلوم ہوتا تھا کہ چند استادوں کی یادوں کے علاؤہ اس نے کہیں پر اپنا نشان نہ چھوڑا تھا۔ بڑے ہال ہیں ، کامن روم میں، لائبریری میں ، جہاں پرانے کھلاڑیوں کی ، اتھلیٹوں کی ، مباحثوں میں حصہ لینے والوں کی تصویریں آویزاں تھیں ، ظفر کا کہیں نام نہ تھا۔ کالج کی عمارت کے اندر پھرتے ہوئے مجھے ایک عجیب سا خیال آیا ۔ میں نے سوچا کہ اگر ظفرکی جگہ پر میں ہوتا تو میرا نام و نشان ڈھونڈے والا بھی شاید اسی طرح خالی ہاتھ لوٹتا۔ وقت ایسی   صفائی کے ساتھ زندگیوں کے نشان مٹاتا جاتا ہے۔ میں کالج سے واپس لوٹ رہا تھا تو اچانک مجھے ایاز کی ایک بات یاد آئی۔ یہ خیال گویا اندھیرے میں ایک روشنی کی کرن کے مطابق تھا ۔ اس نے کہا تھا، ’’یا پھر کوئی کہانی لکھو!‘‘ کیوں نہ میں کچھ لکھنا ہی شروع کردوں ، میں نے سوچا ؟ ہوسکتا ہے کوئی نکتہ ہاتھ آجائے ، یا کوئی راستہ نکلے ۔ ایک جگہ پر تانگہ ٹھہرا کر میں نے ایک موٹی سی کاپی خریدی ۔ اس رات کو میں ظفر کے باپ کے گھر پر لالٹین کی روشنی میں اپنے سامنے کاپی کھولے بیٹھا رہا ، مگر ایک لفظ بھی نہ لکھ سکا۔ اگلی صبح کو میں وہاں سے رخصت ہو کر اپنے گھر لوٹ آیا۔ دن بھر میں اسی سوچ میں رہا کہ کیا لکھوں ، کہاں سے شروع کروں ، کدھر کو جاؤں ؟ آج تک تو میں اپنے خیال کو دور و نزدیک دوڑا کر حالات کو اور واقعات کو وضع کرتا اور انہیں اپنے الفاظ میں ڈھالتا ر ہا تھا۔ یہ آسان کام تھا۔ کوئی حال دشوار پڑا تو اسے بدل دیا، کوئی لفظ ٹھیک نہ بیٹھا تو کاٹ دیا ۔ یہ باتیں میرے اختیار کی تھیں۔ اب جب کہ ایک اصل صورت حال سے میرا سامنا ہوا تھا تو مجھے پتا چل رہا تھا کہ کسی حقیقی واقعے کے بارے میں لکھنا کس قدر مشکل کام تھا میرے الفاظ جواب دے گئے تھے۔ میری تحریر کی بناوٹ تک ناکارہ ہو چکی تھی۔ پہلی بار پورے طور پر مجھے اس بات کا شعور ہوا کہ دنیا کے اصل واقعات میرے قابو سے باہر تھے۔ ان سے نبٹنے کے لیے پرانے حربے ناکارہ ہو چکے تھے ۔ اب کسی نئے حربے کی ضرورت تھی۔ وہ حربہ کیا تھا ؟ میرا ذہن اس معاملے میں کام کرنا چھوڑ گیا تھا۔ رات کو جب میں کا پی کھول کر بیٹھا تو اس وقت تک مجھے علم نہ تھا کہ میں کیا لکھنے والا ہوں ۔ کچھ دیر تک میں اسی طرح بے خیالی میں بیٹھا رہا۔ پھر اچانک میں نے بے سوچے سمجھے قلم اٹھایا اور پہلے صفحے پر لکھ دیا : ” میری ڈائری‘‘۔ دیر تک میں ان دو لفظوں کو ، جو میرے قلم نے بطور عنوان صفحے پہ لکھے تھے، بیٹھا دیکھتا رہا۔ مجھے نظر آنے لگا کہ یہ دو لفظ ہی تھے جو میرا صحیح راستہ تھے، گویا دن بھر کی کش مکش کے دوران ، میرے جانے بوجھے بغیر، میرا احساس ایک فیصلے پہ پہنچ چکا تھا ، اور وہ فیصلہ یہ تھا کہ میں نئے سرے سے اپنی ابتدا کروں ، جس طرح کہ آج بھی دنیا کے ان گنت بچے اپنے اظہار کے لیے رات کو بستروں میں بیٹھ کر لکھنا شروع کر تے ہیں : میری پیاری ڈائری .....

    میں بیس  سال سے ڈائری لکھ رہا ہوں ۔ مگر وہ دن میری ڈائری کا پہلا دن تھا۔ آج اس کی اولیں جلد کا پہلا صفحہ میرے سامنے کھلا پڑا ہے، اور اسے دیکھ کر میرے دل میں عجیب و غریب جذ بات امڈ آئے ہیں، جیسے کوئی اپنی جوانی کی تصویر دیکھ لے۔ جب تک میں نے اس صفحے پر نظر نہ ڈالی تھی مجھے خیال نہ تھا کہ ان بیس برسوں میں میری لکھائی کسی حد تک بدل چکی ہے ۔ مجموعی طور پر لکھائی کا اندازہ شاید وہی ہے، اور دیکھنے والا آج بھی غالباً آسانی سے اسے پہچان لے گا، مگر لفظوں کی بناوٹ میں ، سطروں کی صفائی میں ، شد  و مد میں ، الفوں کے عمود میں ایک ایسا تو ازن اور ایسی توانائی ہے جسے صرف میں ہی دیکھ سکتا ہوں ، اور جو آج میری لکھائی میں کہیں نظر نہیں آتی ۔

    اس صفحے پر یہ عبارت درج ہے :

    ’’دن کا بیشتر حصہ میں سکول اور کالج میں پھرتا رہا۔ جب وہاں سے نکلا تو کچھ تھک چکا تھا۔ واپس روانہ ہونے سے پہلے میں کچھ دیر کے لیے کالج کی عمارت سے نکل کر ہاکی کی گراؤنڈ میں جا بیٹھا۔ ہلکی ہلکی سرد ہوا چل رہی تھی ، مگر تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی ۔ گراؤنڈ کے بیچ میں طالب علموں کی ایک ٹولی بیٹھی تھی۔ وہ دھوپ میں بیٹھے سنگترے چھیل چھیل کر کھا رہے تھے اور اونچی آواز میں باتیں کرتے جا رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ ظفر نے کسی کھیل میں حصہ نہ لیا تھا ۔ وہ کسی امتحان میں اول نہ آیا تھا۔ نہ اس نے کوئی مقابلہ جیتا تھا نہ کسی انتخاب میں نمائندگی حاصل کی تھی۔ یہ سچ تھا کہ وہ ہمیشہ چوٹی کے چند ایک طالب علموں میں شمار ہوا تھا ، مگر کسی کے ماضی کی تلاش کے لیے یہ کافی نہیں ہوتا ۔ اس بات کا مجھے پتا چلا تھا ۔ لڑکوں کی ٹولی میں سے اب چند ایک آنکھیں بند کیے زمین پر لیٹے سستار ہے تھے ۔ باقیوں نے سگریٹ سلگا لیے تھے اور آہستہ آہستہ باتیں کر ر ہے تھے ۔ یہ سوچ کہ میرے دل میں افسوس پیدا ہوا کہ بیشتر زندگیوں کی جدو جہد ایسے علاقے میں واقع ہوتی ہے جو گم نام رہتا ہے، گویا کبھی موجود ہی نہ تھا۔ اب آہستہ آہستہ میرے ذہن میں ایک ایسے آدمی کا نقشہ ابھرتا آرہا ہے جس نے اپنی قوت اور صلاحیت کے مطابق اپنی زندگی بنائی تھی ، جسے صرف اپنے کام سے غرض تھی جس نے اپنا وقت ضائع نہ کیا تھا، اپنی قوت ادھر ادھر کے کاموں میں صرف نہ کی تھی، جسے علم تھا  کہ وہ کبھی چوٹی تک نہ پہنچے گا مگر   جانتا تھا کہ چوٹی کے آس پاس تک رسائی حاصل کرلے گا، اور اس سے مطمئن تھا۔ ایک ایسا شخص جو اب با اختیا رحا کم تھا۔ جس ماحول میں اس نے نشوونما پائی تھی وہ زندگی کی سادگی کا ماحول تھا۔ وہاں گیہوں کی دو روٹیاں ، ایک آدھ کپڑا اور ایک عورت زندگی کی کل ضروریات تھیں۔ ظفر نے اپنی ضرورت سے زیادہ حاصل کر لیا تھا ۔ اسے کسی شے کی ہوس نہ رہی تھی ۔ قدرتی امر تھا کہ اس کی بیوی نے ، جو لاہور کے ایک کالج میں تعلیم پاتی رہی تھی، اپنے لیے فرارایک راستہ تلاش کر لیا تھا۔ گو یہ امر بھی یقینی تھا کہ فرار کا یہ راستہ عارضی تھا۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ عورتیں اپنے حالات سے چاہے کتنی بھی بے اطمینان کیوں نہ ہوں ، ایک آرام دہ اور با اختیار  زندگی کو چھوڑنے کا تصور نہیں کر تیں ، سوائے ایسے موقعے کے کہ جب انہیں اپنے آگے پہلے سے زیادہ آرام دہ اور با اختیار ز ندگی کا امکان نظر آئے۔ ظاہر تھا کہ ظفر کا اگر دیہات سے تعلق نہ ہوتا ، اگر اس میں شہری زندگی کی لچک پائی جاتی ، تو وہ اپنی بیوی کو آسانی سے سیدھے راستے پر لاسکتا تھا۔ مگر ظفر ایک مختلف قسم کا آدمی تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ.....‘‘

    یہاں پر عبارت ختم ہو جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے میں خوشی خوشی لکھتا چلا آرہا تھا کہ اچانک میں  نے محسوس کیا جیسے حقیقت میرے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔میں اپنی پرانی طرزِ تحریر میں داخل ہو چکا تھا۔ ظفر میرا ایک کردار بن چکا تھا، اور میں اپنے ’’خیال‘‘ کے زور سے اس کی شخصیت کی گتھیاں کھولتا جارہا تھا ۔ میرے خیال نے اصل روداد پہ قبضہ پا لیا تھا۔ اب یہ میرے ہاتھ میں ایک خود کار کھلونے کی مانند تھا جسں کے اندر میں نے چابی بھر دی تھی اور اسے اپنے محور کے گرد چکر کاٹتے دیکھ کر خاطر خواہ طمانیت حاصل کر رہا تھا۔ آخر گھوم پھر کر میں اس مقام پہ آپہنچا تھا جہاں پہ یہ ثابت ہو جاتا تھا کہ ظفر ایک ایسا شخص تھا جس کے لیے قتل کرنا ایک قدرتی امر بن گیا تھا۔ یہ وہی مقام تھا جہاں سے ہم چلے تھے۔ میرا قلم تھم گیا۔ ایک بار پھر مجھے دنیا کے ایک حقیقی مسئلے کے مقابل ادیب کے ’’تخیل‘‘ کی بے وسعتی کا اندازہ ہوا۔ ظفر نے قتل کیا تھا، اس بات کی تصدیق کی ضرورت نہ تھی ۔ کس وجہ سے کیا تھا ، یہ بھی معلوم تھا۔ دریافت یہ کرنا تھا کہ ان حالات کے اندر ، اس واقعے کی موجودگی میں، ظفر کی بے گناہی کس طرح ثابت کی جائے ؟ میں اپنی مرضی کے مطابق حالات کا رخ نہ موڑ سکتا تھا۔ میری زندگی اور میرے ’’ادب‘‘ کے درمیان جو فاصلہ ہمیشہ سے قائم رہا تھا ، اس کی حقیقت اس مقام پہ  آکر مجھ پہ آشکار ہوگئی تھی ..... ادیب کے ہاتھ میں طرح طرح کے حر بے ہوتے ہیں، جنہیں وہ اصل صورت حال سے آنکھ چرانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے ۔ اس کی توجیہات کا اطلاق بدلی ہوئی شکلوں پہ ہوتا ہے، جن کی اصلیت الفاظ کے رعب داب کے دھندلکے کے اندر دیکھی نہیں جاسکتی۔ ادب دھوکا دہی کا گھر ہے۔

     کوئی شخص عمر بھر کی کاوش کو اتنی آسانی سے ہا تھ سے نہیں جانے دنیا ۔ میں نے بار بار اپنی تحریر کو پڑھا، گویا کوئی گورکھ دھندا ہو جس کا ایک سرا کسی لفظ کے اندر پوشیدہ ہو۔ اس کا کوئی سرا تو میرے ہاتھ نہ آیا ، مگر کئی بار  پڑھنے کے دوران کم از کم دو باتیں مجھ پہ ایسی کھلیں جنہوں نے اس کھوج میں میرا قدم کچھ آگے بڑھایا ۔ ظفر کی شخصیت کا جو تجزیہ میں نے اپنے طور کیا تھا، غالبا ساتویں بار اس کو پڑھتے ہوئے اچانک مجھے یوں لگا جیسے ظفر کی جگہ پر ایاز کھڑا ہو۔ پہلے میں نے سوچا کہ یہ ان آوارہ خیالوں میں سے ایک تھا جو میرے ذہن سے اکثر گزرتے رہتے ہیں ۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس غائب ہونے کی بجائے مضبوط ہوتا گیا۔ آخر میں نے ڈائری کو ایک طرف رکھ دیا اور ایاز کے بارے میں سوچنے لگا۔ بے شک ظفر اور ایاز کے ماضی میں بہت سی باتیں مشترک تھیں۔ ان دونوں کی زندگی جس طور سے شروع ہوئی اور جس ڈھب پر آگے بڑھی، تقریباً ایک ہی کہانی معلوم ہوتی تھی ۔ غریب خاندان، غیر تعلیمی ما حول ، رکاوٹیں ، دشوار یاں ، خداداد ذہانت ، محنت کے بل پر کامیابی ، نچلے طبقے سے اونچے طبقے کا رخ ، آبائی گھروں کو خیر باد ، دوسرے خاندانوں میں شادیاں، بیویوں کا سسرال سے قطع تعلق وغیرہ وغیرہ ۔ جیسے جیسے میں سوچتا گیا میری حیرت میں اضافہ ہوتا گیا ۔ ان دونوں کی زندگیاں ایک دوسرے سے کس قدر مشابہہ تھیں مجھے یاد آیا کہ ایک بار مجھے خیال آیا تھا کہ ایا ز نے آخر کیوں اس مقدمے کو لیا اور پھر اس کو اتنی اہمیت دی تھی، جب کہ اس میں نہ بھاری فیس  تھی نہ کوئی اصولی بات ۔ یہ ضرور تھا کہ ہم سب کی ہمدردیاں ظفر کے ساتھ تھیں ، اور میں بھی آخر اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ ظفر نے قتل کیا تھا، مگر در حقیقت وہ بے قصور تھا۔ مگر یہ میرے جیسے ادیب کے کہنے کی بات تھی۔ ایاز جیسے قانونی دماغ رکھنے والے آدمی کے لیے یہ کہنا کہ ’’ظفر بے گناہ ہے، صرف ثابت کرنے کی بات ہے‘‘ ایک غیرمعمولی امر تھا۔ کیا ایسی بات تو نہ بھی ، میں نے سوچا، کہ ایاز نے ظفر کے اندر اپنی شکل دیکھی تھی ، اور اسے بچانے پر تلا ہوا تھا ؟ کیا ظفر کو بچانے کی مہم ایا ز کے لیے ایک جذباتی معاملہ بن گیا تھا ؟ کیا یہ اس پورے طبقے کی مہم بن چکی تھی جس سے ان دونوں کا ماضی وابستہ تھا ؟ اس حق کے تحفظ کی مہم جس حق کی رو سے ایک غریب لڑکا اپنے طبقے سے اٹھ کر دوسرے طبقے میں قدم رکھنے کی جرأت کرتا تھا ؟ اور اگر وہ ظفر کو بچا نہ سکا تو پھر ؟ ان دونوں کی زندگیوں کی غیر معمولی مشابہت ایک ایسی جانب اشارہ کر رہی تھی کہ ایک لحظے کے لیے میرا دل دہل گی۔ یہ واقعی ایک بے ڈھنگا خیال ہے ، میں نے سوچا۔  ایسے اتفاقات صرف ادیبوں کے ذہنوں میں راہ پاتے ہیں۔ اصل زندگیاں اپنی اپنی راہ الگ نکالتی ہیں۔ جس خیال نے اس وقت اس وسوسے کو رد کرنے میں میری مدد کی وہ اب پڑھنے والوں کو شاید مضحکہ خیز لگے ، مگر اس وقت مجھے عین حقیقی معلوم ہوا۔ ایا ز اور ظفر کی زندگیوں میں مشابہت ضرور تھی ، مگر ایک بہت بڑی بات کا فرق بھی تھا : ایاز ہمیشہ اوّل آتار ہا تھا ۔ میں نے کئی بار اپنے ذہن میں یہ الفاظ دہرائے ..... ایاز ہمیشہ اول آتار ہا تھا۔ اپنی تعلیم میں، کام میں، پیشےمیں۔ اور وہ کبھی اپنی زندگی میں اس حد تک مطمئن نہ ہوا تھا کہ ہر طرف سے آنکھیں بند کر لے۔ اسے زندگی کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہ تھی۔ وہ جس مقام پر بھی پہنچے گا، اپنے لیے جد وجہد کی کوئی صورت نکال لے گا۔ اس کی زندگی گم نام نہ تھی۔ اس نے نام پیدا کیا تھا۔

    دوسری بات جو اس رات کو میرے ذہن میں آئی وہ کوثر تھی۔ متعدد بار اپنی ڈائری کو پڑھ چکنے کے بعد میں نے اسے ایک طرف رکھ دیا تھا کہ بہت آہستہ آہستہ ، گویا میرے لاشعور کے دھندلکے سے ایک عورت کی شبیہہ ابھرنی شروع ہوئی ۔ یہ پہلی بار تھی کہ وہ ظفر کی بیوی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک فرد کی حیثیت سے میرے سامنے آئی تھی۔ میں نے کہا ہے کہ وہ ’’ میرے سامنے آئی تھی ۔‘‘ اور یہ الفاظ میں نے سوچ سمجھ کر استعمال کیے ہیں ۔ کیوں کہ اس کے نمودار ہونے کا حال ایک عجیب کیفیت کا حال تھا ۔ وہ میرے خیال میں پیدا ہوئی تھی ، اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے گویا میری آنکھوں کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی ۔ آدھی رات سے زیادہ کا وقت تھا اور ہمارے گھر میں سب سو چکے تھے ۔ میں اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا، اور اس ہُو کے عالم میں میں نے اس عورت کی موجودگی کو وہاں پر اس طرح محسوس کیا۔ جیسے کوئی جیتا جاگتا ہوا انسان در حقیقت میرے ہمراہ اس کمرے میں ہو۔ یہ کیفیت صرف ایک لمحے تک رہی ،پھر غاب ہوگئی ۔ میں کمزور دل کا آدمی نہیں ہوں ، مگر جب مجھے خیال آیا کہ یہ عورت مرچکی ہے، اور میں نے اسے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا، تو میرا دل وحشت سے دھڑک اٹھا۔ میں نے بے اختیار مڑکر اپنے پیچھے نظر ڈالی، چاروں طرف دیکھا ، تھوڑی دیر کے لیے اٹھ کر کمرے میں چلتا  پھرتا رہا، پھر واپس آکر بیٹھ گیا۔ میرے واہمے نے پہلے کبھی یہ شکل اختیار نہ کی تھی۔ دیر تک میرے خیال میں اس کی شبیہہ گھومتی رہی ، جیسے کہہ رہی ہوں، میرے پاس آؤ میرا پتا نکالو ، میں کوثر ہوں ..... اس رات کو پہلی بار مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ میں کس قدر پر خطر سرزمین پہ آنکلا تھا ۔ اس واردات کا سراغ اگر کہیں پر تھا تو نہ ظفر میں تھانہ ظفر کے حالات میں تھا ، بلکہ اس عورت میں تھا جو مرچکی تھی، وہ عورت جو ہلاک ہونے سے پہلے ایک جیتا جاگتا ہوا انسان تھی اور جس کا دنیا میں نام و نشان تھا ، اور جو اس وقت ایک پر طلسم ، شیطانی روپ میں نمودار ہو کر ہوا میں کھڑی مجھے اشارے کر رہی تھی ، ان عورتوں کی مانند جو رات کے اندھیرے میں شہر سے باہر بیابان رستوں پر نکل جاتی ہیں اور راہ گیروں کا انتظار کرتی رہتی ہیں۔

     دو دن کے بعد آخر میں دل میں ایک پکا ارادہ لے کر لاہور پہنچا ۔

    ایاز سے میں نے ڈائری کا ذکر نہ کیا، صرف مختصر طور پر اسے بتا دیا کہ ظفر کے بارے میں مجھے کیا معلومات حاصل ہو سکی تھیں۔ جہاں تک میرا واسطہ تھا ، یہ باتیں اب کم و بیش بے کار ہو چکی تھیں ۔ میری تلاش اب صرف ایک بات پہ مرکوز تھی۔ تاہم، ایاز کو ظفر کے گاؤں کی روداد سنانا ضروری تھا۔ جب میں اس سے باتیں کر رہا تھا تو معمول سے زیادہ توجہ کے ساتھ اس کی طرف دیکھتا رہا، مگر اس کے چہرے سے مجھے کچھ بھی اندازہ نہ ہوسکا۔ اس کارو یہ سراسر پیشہ ورانہ تھا۔ آخرمیں میں نے ایاز سے اپنے دل کی بات کہی ۔

    ’’کوثر کے خاندان سے ملنا مشکل کام ہے ۔‘‘ وہ بولا۔

    ’’کیوں۔‘‘

    ’’ ہمیں اس کا اختیار تو ہے، مگر پراسیکیوشن اعتراض کر سکتی ہے ۔ خاص طور سے اگر ہمارے علاؤہ کوئی تیسرا آدمی جا کر ان سے سوال جواب کرنے لگے تو گواہان پر دباؤ ڈالنے کا الزام لگ سکتا ہے۔‘‘

    ’’پھر اس کی کیا صورت ہو ؟‘‘میں نے کہا ۔

    ’’ ظفر کی بیوی کے بارے میں سب معلومات ہمارے پاس موجود ہیں۔تم نے دیکھی نہیں ؟‘‘

    ’’ دیکھی تو ہیں۔‘‘ میں نے کہا ،’’ مگز ذہن سے نکل گئی ہیں ۔‘‘

    ’’دفتر میں آکر پڑھ لو ۔‘‘ ایاز نے کہا ۔

    ’’مگر ایاز ۔‘‘آخر میں بولا، ’’ میرے لیے یہ ضروری ہے کہ کسی ایسے شخص سے بات کروں جو اس کا قریبی ہو۔ اس کی ماں موجود ہے۔‘‘

    ’’ میں تمہیں اس کا مشورہ نہیں دیتا ۔‘‘ ایاز نے جواب دیا ، ’’ اس کی ماں تو پراسیکیوشن کی طرف سے بھی پیش ہونے پہ راضی نہیں ہوئی۔ استغاثے کے گواہوں میں اس کا نام موجود نہیں ہے۔‘‘

    ’’مگر کیا یہ صحیح نہیں کر گھر بھر میں کوثر کو سب سے زیادہ اپنی ماں سے محبت تھی ؟‘‘

    ’’اطلاع تو یہی ہے ۔‘‘

    ’’پھر وہ استغاثے کی جانب سے پیش کیوں نہیں ہو رہی؟‘‘

    ’’یہ راز ہم پہ نہیں کھلا۔ ایک وقت میں یہ تجویز بھی ہمارے زیر غور آئی تھی کہ اسے گواہ کے طور پر بلایا یا جائے ۔ مگر اس کے بارے میں ہمیں کچھ پتا  نہیں چل سکا ۔بہر حال، سوال یہ ہے کہ اگر وہ استغاثے کی طرف سے پیش نہیں ہوئی تو تمہیں کہاں ملے گی ؟‘‘

    ایاز کے لہجے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس مقدمے کے اندر میرا مزید دخل نہ چاہتا تھا۔ اس وقت میں خاموش ہو رہا ۔ مگر صورت یہ تھی کہ میرا دخل اس معاملے میں اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ اب میرے لیے اسے مزید آگے بڑھانے کے سوا چارہ نہ تھا۔ اگلے دو دن اسی بے چینی میں گزر گئے ۔ دوسرے روز میں نے اس ملازمہ سے ملنے کا ارادہ کیا جو آخری دنوں میں ظفر اور کوثر کے گھر میں کام کرتی رہی تھی ۔ مگر پھر ارادہ بدل دیا ۔ حقیقت یہ تھی کہ میرے دل میں کوثر کا ، اور اس کی ماں کا خیال اس قدر جم کر بیٹھ چکا تھا کہ مجھے کسی اور چیز سے دل چسپی نہ رہی تھی۔ میں نے ایا ز کے دفتر کا ایک چکر لگا یا اور بے دلی سے کاغذات کا مطالعہ کرتا رہا ۔ ان میں سے جو کچھ کوثر کے بارے میں اخذ کر سکا وہ ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے:

     یہ لوگ دلی کے قریب ایک قصبے کے بڑے زمین دار تھے۔ کوثر کے والد اپنے خاندان کے واحد فرد تھے جو کالج تک پڑھے تھے ، چناں چہ عرصے سے وہ زمیں دارے کا کام اپنے بھائیوں کے سپرد کر کے شہر میں آبسے تھے۔ ان کا ایک بیٹا اور سب سے چھوٹی بیٹی کوثر زندہ بچے تھے ، بیچ  کی متعدد اولادیں بچپن میں ہی اللہ کو پیاری ہو گئی تھیں۔ دونوں بچوں کے درمیان پچیس   تیس برس کا فرق تھا۔ بیٹا دلی کے ایک کالج میں پڑھنے اور چند برس بے کار گھر پہ گزارنے کے بعد دنیا کی سیاحت پہ نکل گیا تھا۔ ملک کے بٹوارے کے وقت پر ایک لمبے عرصے سے اس کی طرف سے کوئی خبر موصول نہ ہوئی تھی۔ آخری اطلاع کوئی آٹھ برس قبل ملی تھی جس کے مطابق وہ جاوا سماٹرا کے کسی جزیرے پر قیام پذیر تھا۔ پھر جنگ کے دوران کچھ لوگ جاو اسماٹرا سے ہو کر واپس آئے تھے۔ ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ اس نے قیصر (کوثر کے بھائی کا نام) کو ایک چھوٹے سے جزیرے پر رہتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس نے ایک مقامی عورت سے شادی کر لی تھی ۔ ان کے بہت سے بچے تھے اور وہ اب مقامی لوگوں کی مانند ایک لنگوٹ باندھے گھاس پھونس کی جھونپڑی میں زندگی بسر کر رہا تھا اور بہت خوش نظر آتا تھا۔ سن چھیالیس میں کوثر کے والد نے بذاتِ خود جاو اسماٹرا جا کر اپنے بیٹے کو واپس لانے کے انتظامات شروع کر دیے ۔ مگر ان کی عمر زیادہ ہو چکی تھی۔ انہی دنوں میں وہ بیمار پڑ گئے اور چند ہفتے کے اندراندران کا انتقال ہو گیا۔ کوثر کی عمر اس وقت گیارہ برس کی تھی۔ خاندان میں اب عام طور پرخیال کیا جاتا تھا کہ قیصر کی واپسی کا کوئی امکان نہ رہا تھا۔ جب سن سینتالیس آیا تو خاندان کے اندر اختلافِ رائے پیدا ہو گیا ۔ کوثر کے چچاؤں نے اپنا گاؤں اور ملک چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا۔ چناں چہ کوثر کے ماموں،  جو اسی علاقے کے جاگیردار تھے ، بہن اور بھانجی کو اپنے کنبے کے ہمرا لے کر وہاں سے ہجرت کر آئے ۔ ان کا پہلا پڑاؤ لا ہور میں آیا ۔ چند ہی روز کے بعد ان کو اپنے علاقے کے ایک مہاجر کے ذریعے اطلاع ملی کہ قصور میں ہندوؤں  کی چھوڑی ہوئی ایک بہت بڑی حویلی بند پڑی ہے جس کے اوپر ان کا دعویٰ چل سکتا ہے ۔ چناں چہ راتوں رات سارا کنبہ اٹھا اور اس حویلی پر قبضہ کر کے بیٹھ گیا۔ بعد میں ان کے کلیم کے اندر وہ حویلی ان کے نام ہوگئی۔ کوثر کے ماموں کو کچھ نہری اور بہت ساری بارانی زمین الاٹ ہو گئی۔ کوثر کی ماں کا کلیم کئی سال تک عدالتوں میں چلتا رہا ، کیوں کہ قانونی طور پر اس کا بیٹا اصل وارث تھا، جس کے مرنے جینے کا کوئی ثبوت موجود نہ تھا۔ (اسی کلیم کے سلسلے میں ظفر سے اس گھرانے کی ملاقات ہوئی تھی)۔ آخر میں کوثر کی ماں کو بھی اپنے حصے کی کچھ زمین الاٹ ہو گئی تھی ۔ پہلی سی آب و تاب تو نہ رہی تھی ، مگر  کوثر کے ماموں کے ہاتھ اتنی جائیداد آگئی تھی کہ حویلی کے اندر باہر کا سلسلہ فراغت سے چل رہا تھا ۔ کوثر قصور کے سکول اور بعد میں لاہور کے ایک کالج میں تعلیم پاتی رہی۔ کالج سے نکل کر اس کی شادی ہوگئی۔ اس سے بعد کے واقعات پہلے بیان میں آچکے ہیں۔ بیچ میں صرف کالج کے زمانے کے معاشقے کا ایک معاملہ تھا، مگر تھوڑی سی غور کے بعد میں نے اسے لاحاصل جان کر ذہن سے رد کر دیا۔ جب سے میں نے ایاز کے ساتھ گفتگو کی تھی میرے دل سے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی امید نکلتی جار ہی تھی ۔ مگر ساتھ ہی ساتھ میرا یہ شک اب یقین میں بدلتا جارہا تھا کہ دنیا میں اگر کوئی فرد واحد ایسا تھا جس سے مجھے ، ارادی یا غیر ارادی طور پر، کوثر کے اعمال کی خبر مل سکتی بھی تو وہ کوثر کی ماں تھی۔ مگر اس سے ملنے کی کیا صورت ہو ؟ میرے ذہن میں کوئی ترکیب نہ آرہی تھی ۔

    پھرتیسرے  دن گویا غیب سے مدد وارد ہوئی ، اور پہلے کی طرح ایاز کی جانب سے آئی۔ شام کے وقت ایاز گھر واپس آیا تو کسی سوچ میں تھا۔ کھانا کھانے کے بعد بولا :

    ’’ٹہلنے چلتے ہو؟‘‘

    ہم اٹھ کہ با ہر نکل آئے۔ کچھ دیر تک خاموش چلتے رہنے کے بعد ایاز  بولا:’’ کوثر کی ماں سے ملنے کی ایک ترکیب ہوسکتی ہے۔‘‘

    میں حیرت سے اس کا منہ دیکھنے لگا۔ اس کے چہرے پہ عجیب سی کیفیت تھی ، جیسے وہ اپنی مرضی کے خلاف یہ بات کر رہا ہو ، مگر اس کے باوجود کرنا چاہتا ہو۔

    ’’ کیا ترکیب ہے ۔‘‘ میں نے پوچھا۔

    ’’یہاں شہر میں ایک حکیم ہے۔ چھوٹی موٹی پیری مریدی بھی کرتا ہے ۔ کوثر کی ماں اس کی معتقد ہے ۔ پہلے وہ برابر یہاں اس سے ملنے آیا کرتی تھی۔ جب سے اس کی صحت بگڑ گئی ہے حکیم قصور کا چکر لگاتا ہے۔‘‘

    ’’تمہارا خیال ہے حکیم مجھے اس سے ملوا سکتا ہے ؟‘‘ میں نے پوچھا۔

    ’’ہماری اطلاع تو یہی ہے کہ کوثر کی ماں اس کی مریض بھی ہے اور مرید بھی۔‘‘

    ’’میں اس سے جاکر کیا کہوں ؟‘‘ میں نے احمقوں کی طرح پوچھا ۔

    ’’ مجھ سے کیا پوچھتے ہو ؟‘‘ ایاز ہنس کر بولا ،’’تم اب اس کام میں مجھ سے زیادہ طاق ہوتے جارہے ہو ۔‘‘ پھر وہ یکایک ہاتھ اٹھا کر سنجیدگی سے بولا، ’’ مگر ایک بات کی وارننگ میں تمہیں دے رہا ہوں۔ اگر تم جاکر اس سے ملتے ہو تو ہمیں اس بات کی کوئی خبر نہیں۔‘‘میں ہکابکا ایاز کو دیکھنے لگا ۔ وہ پھر بولا،’’اور اگر اس کی وجہ سے مقدمے کے خراب ہونے کا کوئی پہلو نکلتا ہے، تو پھر مدد کے لیے تم میری طرف نہیں دیکھ سکتے۔ اس صورت میں پھر ہمارا تم سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا۔  اچھی طرح سے سوچ سمجھ لو، پھر قدم اٹھاؤ۔‘‘

    دوسرے الفاظ میں ایاز مجھ سے کہہ رہا تھا کہ اب تک تو ہم دونوں اس معاملے میں شریک تھے ، اب میں اپنے آپ پہ ہوں ۔ میرے دل نے ہلکا سا ایک غوطہ کھایا۔( جس کا اس مقدمے کے معاملے سے کوئی تعلق نہ تھا، بلکہ جس کا تعلق اس لمحاتی احساس سے تھا جو اس وقت ہمارے دل میں پیدا ہوتا ہے، جب کوئی شخص کسی بات کے اندر ہم سے کہتا ہے کہ ہم اب اپنے آپ پہ ہیں، چاہے وہ کوئی بھی شخص اور کیسی ہی بات کیوں نہ ہو ۔)  چند لمحوں تک میں ایاز کامنہ دیکھتا رہا۔ اس کے چہرے پر وہی کر بناک کیفیت تھی، جیسے وہ مجھے روک رہا ہو مگر ساتھ ہی ہمت بھی بڑھ رہا ہو ، مجھ سے مدد مانگ رہا ہو۔ میں نے کئی بار خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا۔

    ’’ٹھیک ہے۔‘‘   میں نے سر ہلاتے ہوئے کہا ۔

    ہم وہاں سے پلٹ آئے۔ ایاز کا چہرہ نکھرنے لگا تھا۔ اس شام کو آخر مجھے بے شک شبہ اس بات کا احساس ہوا کہ ایاز کے اندر اس مقدمے کی جڑ یں کتنی گہری اتر چکی تھیں۔

    حکیم پیر بخش شاہ ایک دبلا پتلا سفید ریش آدمی تھا جو انتہائی حلیم لہجے میں بات کرتا تھا۔ اندرون شہر ایک پرانی سی گلی میں اس کا مکان (اور مطب ) تھا جہاں وہ حکیم جی کی بجائے شاہ جی کہلاتا تھا۔ دو دن تک میں اسی کش مکش میں مبتلا رہا کہ کس ڈھنگ سے اسے جاکر ملوں، کسی طور پر بات کروں۔ آخر ایک روز صبح سویرے میں اٹھا اور چل کھڑا ہوا ۔ سب سے آسان طریقہ مجھے یہی لگا کہ پہلے ایک مریض کے طور پر اپنے آپ کو پیش کروں ۔ ایک بڑے سے کمرے میں حکیم دیوار کے ساتھ فرش پر بیٹھا تھا۔ اس کا کمرہ ایک عام مطب کی مانند دکھائی دیتا تھا ، مگر مردوں اور عورتوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کمرے میں بیٹھے ہوئے زیادہ تر لوگ عمر رسیدہ تھے ۔ میں غور سے حکیم کی کارروائی کو دیکھتا رہا ، مگر مجھے پتا نہ چل سکا کہ کون کون اس کا مریض تھا اور کون مرید۔ کوئی دوا لے کر جار ہا تھا، کوئی خالی ہاتھ ، مگر سب مریض نظر آ رہے تھے ۔ جب میری باری آئی تو میں نے ایک فرضی مرض کا بہانہ کر کے ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ حکیم نے میری نبض ہاتھ میں لی اور سوالات شروع کر دیے۔ کہاں کے رہنے والے ہو ؟ میں نے کسی دوسرے شہر کا نام بتا دیا۔ کس نے ہمارا پتا دیا ہے ؟ اس سوال کے لیے میں تیار نہ تھا، چناں چہ ایک لحظہ رک کر میں نے ایک دوست کا نام دے دیا ۔حکیم   نے ماتھے پہ ہلکی سی شکن ڈالی ، جیسے اس نام کو یاد کر رہا ہو۔مگر منہ سے کچھ نہ بولا۔ پھر نبض ہاتھ سے چھوڑ کر پوچھنے لگا ، کتنے دن کے بعد دوبارہ آسکتے ہو ؟ میں نے بتایا کہ آج کل میں یہیں پہ ٹھہرا ہوا ہوں، کسی وقت بھی آسکتا ہوں ۔ حکیم نے مجھے سات دن کی دوا دی، اور کہا کہ اگر آسکوں تو تین دن کے بعد آکر نبض دکھا جاؤں ۔ دوا بے حد ارزاں تھی۔ گھر واپس آکر میں نے گولیوں کی چھوٹی سی بوتل اور چند پڑیاں ایک طرف کو رکھ دیں۔مگر میں حکیم کی شخصیت سے خاصا مرعوب ہو چکا تھا ۔ اس کا لہجہ دھیما تھا اور اس کی بات چیت میں ایک قدرتی وقار تھا۔ میں نے ذہن میں ایک مختلف قسم کے شخص کا تصور کر رکھا تھا۔ مگر میرے دیکھنے میں اس نے کوئی ایسی حرکت نہ کی تھی جس سے ظاہر ہوتا کہ وہ لوگوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ جب تین دن پورے ہوئے اور میں واپس اس کے پاس پہنچا تو اس وقت تک بہت کچھ سوچنے کے بعد فیصلہ کر چکا تھا کہ حکیم کے ساتھ سیدھی بات کرنے میں ہی بہتری ہے ۔ میں مطلب کے ایک کونے میں لوگوں کے عقب میں چھپ کر بیٹھا رہا۔ جب میرے آگے بیٹھے ہوئے لوگ اُٹھ جاتے تو میں آگے بڑھنے کی بجائے کھسک کر دوسرے لوگوں کے عقب میں ہو جاتا۔ آخر میری کوششیں کامیاب ثابت ہوئیں اور دوپہر کے دو بجے کے قریب میں کمرے میں اکیلا رہ گیا۔ حکیم نے مجھے بات کرنے کا موقع نہ دیا۔

    ’’کیا بات ہے بیٹا ؟‘‘ وہ مسکرا کر بولا، ’’کن میٹی کیوں کھیل رہے ہو؟ ‘‘

    میں کھسیا کر ہنس پڑا۔ میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی میرا راز افشا ہو چکا تھا۔

    ’’ آپ کو کیسے پتا چلا۔‘‘ میں نے کہا۔

    ’’ میں پچاس سال سے نبض دیکھ رہا ہوں۔‘‘ حکیم بولا،’’ تمہیں کوئی مرض نہیں تھا تمہارا منہ رکھنے کو میں نے دوا دے دی۔ مجھے پتا تھا کہ تم پھر آؤ گے ۔‘‘ اس نے نظر بھر کہ میری طرف دیکھا ۔ ’’کیا بات ہے بیٹا ؟‘‘

    میں نے جھجکتے ہوئے بات شروع کی اور آہستہ آہستہ اپنا مطلب بیان کرنے لگا ۔   جوکہانی میں نے بنائی وہ یہ تھی : میں ایک معمولی سا زمیں دار ہوں ۔ چوہدری ظفر صاحب کچھ عرصے تک ہمارے شہر میں مجسٹریٹ رہے تھے ۔ ایک مقدمے کے سلسلے میں میری ان سے راہ و رسم ہوئی تھی۔ چوہدری صاحب مجھے بہت پسند کرتے تھے۔ میں ان کے گھر بھی آتا جاتا رہتا تھا۔میں اور میرا سارا خاندان چوہدی صاحب سے زیادہ بیگم صاحبہ کی نیک دلی اور خلوص کا گرویدہ ہو گیا تھا۔ جب میں نے اخبارہ میں یہ واقعہ پڑھا تو مجھے از حد صدمہ پہنچا تھا۔ شاہ جی کے بیگم صاحبہ کے خاندان سے گہرے تعلقات کا مجھے علم تھا، چناں چہ میں ان کے پاس اس غرض سے آیا تھا کہ ان کے ذریعے بیگم صاحبہ مرحومہ کی والدہ کے پاس حاضر ہو کر اظہار افسوس کر سکوں ۔  اس کے علاؤہ اگر اس معاملے میں میں کسی کام آسکتا ہوں تو حاضر ہوں۔ ہر طرح کی گواہی دینے کے لیے بھی تیار ہوں ۔ بیگم صاحبہ کے ہمارے اوپر بڑے احسان تھے۔ پہلے دن بہت سے لوگوں کو دیکھ کر بات کرنے کی میری ہمت نہ ہوئی تھی ، مگر آج اپنا مدعا بیان کر رہا ہوں ۔ حکیم نے مجھ سے پوچھا کہ میں سیدھا   قصور کیوں نہیں گیا۔ میں نے کہا کہ ایک تو بیگم صاحبہ کے خاندان والوں سے واقف نہیں تھا دوسرے مجھے معلوم ہوا تھا کہ بیگم صاحبہ کی والدہ کی صحت اچھی نہیں۔ چناں چہ میں نے بہتر یہی سمجھا کہ شاہ جی سے بات کروں اور ان کے واسطے سے قصور جاؤں ۔ حکیم کچھ دیر تک خاموش بیٹھا سوچتارہا۔ ایک دوبار اس نے شکی نظروں سے مجھے دیکھا ۔ حکیم تجربہ کار آدمی تھا، مگر میرا بہروپ پہچان نہ سکا۔ وہ میرے پرخلوص لہجے سے متاثر ہو چکا تھا۔ آخر بولا ، ’’میں پیر کے دن قصور جارہا ہوں۔ میرے ساتھ چلے چلنا ۔‘‘ جب میں حکیم کا شکریہ ادا کر کے رخصت ہونے لگا تو وہ بولا، ’’جود والے گئے تھے اپنے ساتھ لیتے آنا۔ کسی اور کے کام آجائے گی۔ یہ دوائیں بڑی مشکل سے دستیاب ہوتی ہیں ۔‘‘

    کوثر کی والدہ سے میری ملاقات کا واقعہ میری بیس سالہ ڈائری میں سب سے عجیب و غریب واقعہ ہے۔ اس ملاقات کا حال میری ڈائری میں اس طرح درج ہے :

    تین فروری : سخت سردی تھی ۔ بس پہ بیٹھ کرقصور پہنچے۔ ساڑھے دس بجے تھے۔ سفر کے دوران حکیم سے چند معلومات حاصل ہوئیں۔ حکیم کو مرعوب کرنے کی خاطر میں اپنی ایک کتاب ساتھ لے گیا تھا۔ حکیم خاطر خواہ طور پر مرعوب ہوا۔ کوثر کا ماموں اس گھر کا کرتا دھرتا تھا۔ نواب شیر محمد خاں کہلاتا تھا۔ چند برس سے اس نے نوابی کی کروفر چھوڑ کر زمیں داری کے ساتھ ساتھ خشک جنس   کی آڑھت کا کاروبار شروع کر لیا ہوا تھا۔ جس کو وہ نہایت کامیابی سے چلا رہا تھا ۔ ایکڑ سے زاید رقبے میں حویلی  تھی۔ دوہری اینٹوں کی چھ فٹ اونچی ویوار رقبے کو گھیرے تھی۔ دیوار کائی سے سیاہ ہو چکی تھی ۔ قدیم حویلی ماضی میں کسی بڑے مہاجنوں کی رہائش گاہ لگتی تھی ۔ رقبے کے کونے میں چھوٹے سے مندر کی ٹوٹی پھوٹی عمارت کھڑی تھی۔ بوسیدہ عمارت میں ایک غریب کنبہ رہتا تھا، جو شاید باہر کا کام کرتا تھا۔ مویشیوں کی دیکھ بھال اور صفائی وغیرہ کا کام۔ پیپل اور برگد کے بڑے بڑے درخت تھے ۔ دو بھینسیں اور ایک بکری درختوں سے بندھی تھیں۔ گوبر کے ڈھیر لگے تھے۔ قریب ہی ادھ ننگے بچے دھوپ میں کھیل رہے تھے ۔ برآمدے میں ملازم نے ادب سے جھک کر حکیم کو سلام کیا۔ چند منٹ کے بعد آکر اسے اندر لے گیا ۔ مجھ سے پوچھا کہ میں دھوپ میں بیٹھنا چاہتا ہوں یا اندر ۔ میں نے کہا اندر۔ بڑا ہال کمرہ تھا ۔ آرام وہ بھاری فرنیچر تھا ۔ کمرے کے رنگ مدھم   تھے ، مگر قدیم ذوق اور فارغ البالی کا احساس ہوتا تھا ۔ آدھ گھنٹہ گزر گیا ۔ چائے کی سینی آئی ۔ ایک خوش شکل جوان لڑکا کمرے سے گزرا ۔ اس نے جھک کہ آداب کہا۔ میں براہ راست اس مقدمے میں ملوث نہیں تھا، مگر میرا دل اچھل رہا تھا۔ مشکل سے چائے کی آدھی پیالی حلق سے گزری۔ اندر سے بچوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ ظفر کے بچے تھے ، میں نے سوچا۔ کام کرنے والے ادھر سے ادھر آجا رہے تھے۔وقت گزر نہیں پا رہا تھا ۔

     یہاں پہنچ کر ڈائری کا رنگ بدل جاتا ہے ۔ آدھے آدھے جملوں والا بے دم سا انداز ٹھہری ہوئی مربوط تحریر کی شکل اختیار کر لیا ہے ، جیسے میرا دل اچھلنا بند ہو گیا ہو ۔

    میرا خیال تھا کہ جب مجھے اندر سے بلاوا آئے گا تو شاید پردے کے پیچھے بیٹھ کر بات چیت کرنی پڑے گی۔ صرف یہی ایک خیال تھا جو میرے دل کو حوصلہ دے رہا تھا ۔ کچھ ایسا احساس تھا کہ میں اپنی منزل تک پہنچ جاؤں گا مگر اس کے باوجود پو شیدہ رہوں گا، گویا منزل مقصود تک پہنچنے میں جو خطرات لاحق ہوتے تھے ان سے میری ذات محفوظ رہے گی اور میں اس کارروائی میں شامل ہو کر بھی الگ تھلگ رہوں گا ۔ مگر جب میں ملازم کے پیچھے چلتا ہوا حویلی کا اندرونی صحن پار کر کے برآمدے کے آخری دروازے میں داخل ہوا تو مجھے کمرے کی آراستگی یا ماحول کو دیکھنے کی فرصت نہ ملی۔ ایک بہت بڑے سفید بستر پر  ایک سفید بالوں والی عورت تکیے کے سہارے بیٹھی تھی۔ اس کے شکن آلود چہرے کی جلد کا رنگ بھی چمک دار سفید تھا ، اور چھوٹے چھوٹے نازک مرجھائے ہوئے نقوش تھے ۔ صرف اس کی آنکھیں بادامی رنگ کی بڑی بڑی اور جاندار تھیں۔ جس شئے نے یکا یک میری حیات پر دھاوا بول دیا تھا وہ سفید رنگ کا ایک انبار تھا۔ سفید بستر  ، ان گنت چھوٹے چھوٹے سفید تکیے ، سفیدقمیص  ، دوپٹہ سفید چہرہ ، سفید بال ،ننھے ننھے سفید ہاتھوں کی ہڈیاں، سفید میز پوش، سفید گلدان اور سفید پھول۔ میں  نے جھک کر آداب کہا۔

    ’’ تشریف رکھیے ۔‘‘ اس چہرے سے کھنکتی ہوئی مضبوط آواز بر آمد ہوئی ۔ میں پائنتی کی جانب رکھی ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ بستر پر  ایک چار سالہ بچہ بیٹھا تھا۔ اس خاتون کا ایک ہاتھ بچے کی پشت پہ رکھا تھا اور وہ میری جانب دیکھنے کے بعد اب بچے کی طرف دیکھ کرمسکرا رہی تھی، جیسے ہم دونوں سے کہہ رہی ہو، ایک دوسرے کو پہچانتے ہو ؟ میرا ذہن ایک لحظے کے لیے یک دم خالی ہو گیا۔ کمرہ پھیلتے پھیلتے ایک بہت بڑا ہال بن گیا، اور کچھ دور بیٹھے ہوئے حکیم کے وجود کو میں نے یوں محسوس کیا جیسے وہ ایک باریک نقطہ ہو۔ آخر وہاں پر میری آڑ لینے کی حس تمام تر میرے کام آئی ۔

    ’’انتصار کو میں یاد نہیں ہوں گا ۔‘‘ میں نے کہا، ’’میں بچی کی ولادت پر ان سے ملنے گیا تھا۔ اس وقت یہ ہمارے شہر سے تبدیل ہو کر جاچکے تھے-‘‘

    کو ثر کی ماں میری بات کا جواب دیے بغیر بچے کی پشت پہ ہاتھ رکھے اسے دیکھتی رہی۔ پھر اس نے ایک لمحے کو ہاتھ اٹھا کہ بچے کے سر پہ رکھا اور ہاتھ کھینچ کر دوسرے کے برابر اپنی گود میں رکھ لیا ۔

    ’’شاہ جی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ ادیب ہیں۔‘‘   وہ بولی۔

    ’’ان کی ذرہ نوازی ہے ۔‘‘ میں انکسار سے بولا،’’ معمولی ساز میں دار ہوں ۔ کاشت کاری میں کئی دن فراغت کے آتے ہیں۔ تھوڑا بہت لکھ پڑھ لیتا ہوں ۔‘‘

    ’’میرا بیٹا شاعر تھا‘‘۔ وہ بولی۔ اس کی آواز سے کسی قسم کارنج ظاہرنہ تھا ۔ اس نے یوں بات کی تھی جیسے کوئی اپنے آباء و اجداد کا فخر اور خوشی کے ساتھ ذکر کرتا ہے۔

    ’’ کس نام سے لکھتے تھے ؟‘‘میں نے سادگی سے پوچھا۔

    وہ منہ موڑ کر گلدان میں رکھے ہوئے چھوٹے چھوٹے سفید پھولوں کو دیکھنے لگی۔ پھر بہت دھیمی آواز میں، گویا اپنے آپ سے بات کر رہی ہو، بولی’’کسی  نام سے نہیں ۔‘‘

    ’’جی؟‘‘

    ’’ آپ نام تو جاننا نہیں چاہتے ‘‘، وہ ہلکے سے سرزنش کے لہجے میں بولی، ’’آپ دراصل یہ پوچھ ر ہے ہیں کہ ان کا کوئی دیوان چھپا۔ کہاں سے چھپا۔ کس نے چھاپا ؟یہی بات ہے نا ؟‘‘

    ’’جی ‘‘ میں شر مسار ہو کہ بولا ۔

    ’’ اس نے کبھی کوئی چیز نہیں چھپوائی ‘‘۔ وہ پھر دھیمے لہجے میں بولی،’’ مگر وہ شاعر تھا۔ ‘‘

    ’’ میں نے سنا ہے آج کل کسی غیر ملک میں رہتے ہیں ۔‘‘ میں نے بات کی۔

    ’’ آپ سے کوثر نے بات کی تھی ؟‘‘

    ’’جی ہاں۔‘‘

    ’’ آپ کو پتا  ہے، کوثر ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھی جب وہ چلا گیا تھا۔ مگر کوثر کواس کی ایک ایک بات کا علم تھا۔‘‘   وہ بولی ’’میرے دونوں بچے عجیب دماغ کے تھے‘‘۔

     اس وقت موقع مناسب جان کر میں نے رسمی افسوس کے چند الفاظ کہے۔ وہ اسی طرح گم سم بیٹھی رہی جیسے اس نے میری بات نہ سنی ہو۔ اچانک مجھے محسوس ہونے لگا جیسے میں نے کوئی غلط بات کہہ دی ہے۔ اس کمرے میں رنج یا افسوس کی رمق تک  نہ تھی۔ اُس خاتون کا چہرہ قطعی بے تاثر تھا ۔ اس پہ نہ غم تھا نہ خوشی ، صرف بڑھا پا تھا ۔ وہ دیر تک ایک بت کی مانند بے جنبش بیٹھی اپنے ہاتھوں کو تکتی رہی ۔ بچہ بستر سے لٹک کرا ترا اور بھاگ کہ کمرے سے نکل گیا۔ چائے کی ایک اور سینی آگئی ۔ سینی میں صرف دو پیالیاں تھیں۔ نوجوان عورت نے ، جو چائے لے کر آئی تھی، ایک ایک پیالی مجھے اور حکیم کو بنا کر دی ۔ چائے کا گھونٹ میرے حلق میں پھنس کر رہ گیا۔ دفعتاً کمرے میں اندھیرا چھا گیا۔ میں نے گھبرا کر باہر دیکھا ۔ کمرے کی فضا نے مجھے اس قدر بے حواس کر رکھا تھا کہ ایک چھوٹے سے بادل کے ٹکڑے نے مجھے خوف زدہ کر دیا تھا۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ اس سارے قصے کو چھوڑ چھاڑ کر یہاں سے نکل جاؤں۔ میں نے چائے کی پیالی آہستہ سے میز پر رکھ دی ۔

    پھر بسترمیں بیٹھی ہوئی بوڑھی عورت کے ہاتھوں میں خفیف سی حرکت ہوئی۔ اس نے نظر اٹھا کر میری جانب دیکھا ۔’’شاہ جی بتاتے ہیں کہ آپ میری بیٹی کواچھا جانتے تھے۔ “ وہ بولی ۔

    ’’جی ہاں۔‘‘ میں نے کہا ۔

    ’’آپ کو علم ہے کیا واقعہ ہوا تھا ؟ ‘‘اس نے پوچھا۔

    ’’میں نے گلا صاف کیا۔‘‘ صرف اخباری رپورٹ کی حد تک ....‘‘میں بولا۔

    ’’ تو اب میری بیٹی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟‘‘

    میں خاموش بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔ میرے ذہن میں کچھ نہ آرہا تھا۔

    ’’ آپ میری بیٹی کو بہت اچھا جانتے تھے ۔‘‘ اس نے دہرا کر پو چھا ،’’ اب آپ میری بیٹی کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟‘‘

    ’’مجھے سخت افسوس ہوا تھا..... یہ سن کر۔‘‘ میں رک رک کو بولا۔

    ’’ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ میں کیا پوچھ رہی ہوں ۔ آپ بتانا نہیں چاہتے تو میں آپ کو بتاتی ہوں۔ میری بیٹی اب سب لوگوں کی نظروں میں ایک بدکار عورت ہے ۔‘‘

    ’’ یہ میری رائے نہیں۔‘‘ میں ہمت کر کے بولا : ’’ جب تک مجھے سب باتوں کا علم نہ ہو میں کوئی رائے قائم نہیں کرتا ۔‘‘

    ’’اگر آپ واقعی سچ بول رہے ہیں تو پھر معصومیت کی بات کرتے ہیں۔‘‘ وہ بولی،’’ آپ کو اپنا علم تک نہیں ۔‘‘

    ’’کیسے ؟‘‘ میں نے پوچھا ۔

    ’’ آپ کی جو رائے بننی تھی بن چکی ہے۔ بقیہ باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔‘‘

    ’’میں آپ کی بات کی تردید کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔‘‘ یہ میں نڈر ہو کر بولا ، ’’مگرمیری یہ رائے ہر گز نہیں ۔“

    کوثر کی ماں نے دو بار آنکھیں جھپکیں ، مگرمیرے چہرے کی طرف دیکھتی رہی۔

    ’’ہو سکتا ہے،‘‘ وہ آہستہ سے بولی،’’ آپ ٹھیک کہتے ہوں ۔ مگر آپ ایک آدمی ہیں، پوری خدائی تو نہیں ۔‘‘ اپنی آنکھیں میرے چہرے سے ہٹائے بغیر وہ دوبارہ گم سم ہوگئی، جیسے تھوڑی دیر کے لیے روح اس کا جسم چھوڑ گئی ہو۔

    ’’ سچائی چھپی نہیں رہتی۔‘‘ میں نے کہا، ’’ ایک نہ ایک دن نکل ہی آتی ہے۔‘‘

    ’’ ساری خدائی کے اندر صرف میں ہوں ‘‘، وہ بولی،’’ جسے سچائی کا علم ہے ۔“

    ’’پھر آپ اسے لوگوں کے سامنے بیان کیوں نہیں کرتیں ‘‘۔ میں نے کہا ۔

    ’’ کیا میں اپنی بیٹی کی ناموس کو بچالوں گی ؟‘‘اس نے میری آنکھوں میں دیکھ کر سوال کیا ، ’’ جب  ایک مرد اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگا کر اسے بلاک کر دیتا  ہے تو وہ عورت ساری خدائی کی نظروں میں بدکار ہو جاتی ہے ۔ آپ نے کتنے ایسے واقعات دیکھے ہیں۔ کیا آپ کو اس بات کا علم نہیں ؟ جب مرد عورت کو ہلاک کرتا ہے تو بھی عورت بدکار ہوتی ہے ، جب عورت مرد کو بلاک کر دیتی ہے تو پھر بھی وہ بد کار ہوتی ہے۔ عدالتیں صرف جرم کا فیصلہ کرتی ہیں ۔ عورت کی بدکاری مسلم ہوتی ہے۔‘‘ اس کی آوانہ لڑکھڑائی اور خاموش ہو گئی۔ میں چپ بیٹھا اسے تکتا رہا۔ جب وہ دوبارہ بولی تو اس کی آواز مجھے ایسی لگی، جیسے وہ مجھ سے مخاطب نہ ہو بلکہ اپنے آپ سے شکایت کر رہی ہو۔‘‘ مردوں کی نظروں میں تو وہ بدکار ہوتی ہی ہے، ان عورتوں کی نظروں میں بھی بد کار ہو جاتی ہے۔ کتنا بڑا ظلم ہے ۔ اس کا کوئی ساتھ نہیں دیتا ۔‘‘

    میرے سامنے وہ عورت جو ہڈیوں کے ڈھانچے کی شکل میں بستر پر پڑی تھی، اپنے دھیمے لہجے اور کھڑی آواز میں ایسی باتیں کر رہی تھی جو پہلے کبھی میں نے آنکھیں کھول کر نہ دیکھی تھیں۔ میری عقل، میرا ذہن ، اور میرا دل اس کی باتوں کے اندر لپیٹا جارہا تھا۔ اس واقعے کی سچائی کیا تھی؟ اصل میں ہوا کیا تھا ؟ وہ اب پھر خاموش بیٹھی گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کو تکے جار ہی تھی ۔

    ’’ قدرت کے طریقے بدلے نہیں جا سکتے۔‘‘ میں نے کہا، ’’مگر دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے قانون بنے ہیں۔ ہر جرم کی سزا مقرر ہے ۔ اگر آپ اس واقعے کی سچائی بیان نہ کریں گی تو انصاف کیسے ہو گا۔‘‘

    ’’سچائی کا انصاف سے کوئی تعلق نہیں ۔‘‘ وہ بولی،’’ عدالت کے سامنے میں کیا کہوں۔ ظفر کے خلاف بیان دوں ؟ ظفر کاقصور کیا ہے ؟‘‘

    میں ہکا بکا منہ کھولے اس کے اور حکیم کے چہرے کو دیکھتا رہا۔ ’’معاف کیجیے‘‘، میں نے کہا ، ’’آپ کی بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘

    ’’ ظفر بے قصور ہے ۔‘‘ وہ آہستہ سے بولی۔

    حکیم اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا ۔ اس کے چہرے سے ظاہر ہور ہا تھا کہ وہ اس قصے کو طول دینا نہیں چاہتا ۔ اس نے کرسی کی پشت سے لٹکی ہوئی چھڑی ہاتھ میں لی اور اجازت چاہنے لگا۔

    ’’میرے خیال میں اب آپ کو آرام کی ضرورت ہے ۔‘‘ وہ بولا، ’’ پہلے ہی ہم آپ کو بہت زحمت دے چکے ہیں ۔‘‘

    میں بھی کرسی چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ کوثر کی ماں منہ پھیر کر گلدان میں رکھے ہوئے پھولوں کے گچھے کو دیکھ رہی تھی۔ اچانک اس نے پہلے میری طرف، پھر حکیم کی طرف دیکھا اور ہاتھ اٹھا کر اسے رکنے کا اشارہ کیا ۔

    ’’ تشریف رکھیے۔ ‘‘وہ بولی،’’ میں اس بچے سے بات کرنا چاہتی ہوں ۔‘‘وہ مجھ سے مخاطب ہوئی ۔ ’’ بیٹھ جاؤ۔ میں تمہیں بتاتی ہوں کہ اس واقعے کی سچائی کیا ہے۔ میرے خاندان میں سے اب صرف میرا ایک بھائی رہ گیا ہے ، اور وہ بھی میری بات نہیں مانتا۔ اگر آج میرا بیٹا یہاں ہوتا تو ضرور میری بات سنتا۔ تم ایک ادیب ہو، ہو سکتا ہے اس بات کو سمجھ جاؤ۔ تمہیں دیکھ کر مجھے اپنا بیٹا یاد آتا ہے۔‘‘

    اس کی نظر اور اس کی آواز میں ایک ایسا انداز تھا کہ میں اور حکیم دونوں اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے۔ وہ اب دونوں ہاتھوں کی ایک مٹھی بنا کر بار بار اسے کھول رہی تھی اور سختی سے بند کر رہی تھی ۔ آخر اس نے بات شروع کی :

    ’’ کوئی آٹھ ماہ ہوئے ، ایک دن میری بیٹی میرے پاس آئی اور بولی ، ماں میرا دل نہیں لگتا۔ بس اتنا اس نے کہا ۔ اس نے آنکھیں اٹھا کر میری طرف دیکھا ۔ میں نے اس کی بات پر دھیان نہیں دیا۔ میں نے سوچا،عو رتوں کا دل کہاں لگا کرتاہے ۔تم ایک مرد ہو، اس بات کو شاید سمجھ نہ پاؤ ۔ مگر یہ حقیقت ہے ۔ عورتیں جس دن سے بیاہ کر جاتی ہیں، اس دن کی کسک ان کے دل میں چھپی رہتی ہے۔ ہم میں سے بیشتر یہ جان بھی نہیں پاتیں کہ یہ کس شے کا درد ہے ، کون سی ایسی چیز ہے جو کھو گئی ہے ۔ گزارہ چلتا رہتا ہے۔ میں نے سمجھا ایسی ہی کوئی بات ہے ، وقت نکل جائے گا۔ مجھے کیا پتا تھا کہ نوبت یہاں تک آئے گی۔ وہ جس کو اپنے بطن سے میں نے جنم دیا تھا ، اس کے دل کی مجھے پہچان نہیں تھی۔ مہینے دو مہینے میں وہ میرے پاس آتی رہتی تھی۔ اس دن کے بعد ہفتے دو ہفتے میں چکر لگانے لگی۔ بچے میرے پاس چھوڑ کر باہر کھیتوں میں نکل جاتی۔ دن دن بھر گھومتی رہتی ۔ ایک روز شام کو وہ باہر سے لوٹی تو اس پر نظر ڈال کر حیران رہ گئی۔ چند مہینے میں اس لڑکی کا حلیہ بدل گیا تھا۔ دھوپ اس کے چہرے سے اتر گئی تھی ، سائے نکل آئے تھے۔ میں نے پاس بٹھا کر پوچھا، کیا بات ہے بیٹی ، تم ٹھیک تو ہو ۔ کہنے لگی ہاں ، آج کئی مہینوں میں پہلی بار آپ نے میری طرف دیکھا ہے ، آپ بتائیں کہ کیا بات ہے ۔ میرا دل دہل گیا۔ وہ سچی بات کر رہی تھی۔ میں اس کے بچوں میں اتنی مصروف ہوگئی تھی کہ میں نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا تھا۔ میں نے کہا بیٹی ، مجھ سے کیا پوچھتی ہوں میں بوڑھی ہوگئی ہوں ۔ چلو بتاؤ،  تم نے کیا حال بنارکھا ہے۔ کہنے لگی اماں ، میں آپ کو بتا چکی ہوں۔ میرا دل نہیں لگتا۔ میں نے کہا بھلا دل نہ لگنے سے یہ حال ہوتا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی۔ تم کھاتی پیتی تو درست ہو ؟ اس وقت میری بیٹی پہلی بار میرے ساتھ غصے میں آئی اور بولی ، ماں آپ میری بات کیوں نہیں سنتیں ، مجھ سے بے دھیان کیوں ہوگئی ہیں ؟ میں نے بتایا ہے میرا دل نہیں لگتا۔ میں خاموش ہوگئی ۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ کوئی ایسی ویسی بات نہیں، اس بات کی کوئی بنیاد ہے۔ رات کے وقت جب سب سونے کو چلے گئے تو میں نے اس سے پوچھ گچھ کی۔ میں نے کہا بیٹی ، مجھے صاف صاف بتاؤ، ظفر تمہیں ٹھیک تو رکھتا ہے ؟ کہنے لگی ہاں، مجھے ظفر سے کوئی شکایت نہیں ، ظفر نہایت اچھا آدمی ہے۔ ان کی شادی کو آخر چند سال گزر چکے تھے، ہم سب جانتے ہیں کیا کچھ نہیں ہوجاتا۔ میں نے پوچھا ، ظفر تم سے اسی طرح محبت کرتا ہے ؟ کہنے لگی ظفر میرے اور بچوں کے اوپر جان دیتا ہے۔ میں نے کہا بیٹی ، میں جان دینے کی بات نہیں کر رہی ، میں پوچھ رہی ہوں کہ تمہارا شوہر تمہارے ساتھ اسی طرح پیار کرتا ہے جیسے پہلے کرتا تھا ؟ کہنے گی ہاں، پہلے سے زیادہ کرتا ہے ۔ آپ مجھ سے یہ باتیں کیوں پوچھ رہی ہیں۔ ظفر سے مجھے کوئی شکایت نہیں ۔ میں نے کہا خرچے سے تو تنگ نہیں رکھتا۔ کہنے لگی سارا خرچہ میرے ہاتھ میں ہوتا ہے ، ظفر بے چارے کا اپنا کوئی خرچہ ہی نہیں۔ میں نے کہا بھئی میری تو عقل میں کچھ نہیں آتا ۔ آخر تمہیں کس بات کی تکلیف ہے۔ کوثر میرا منہ دیکھنے لگی، جیسے اس کو یقین نہ آرہا ہو۔ پھر کہنے لگی ، ماں، میرا دل اچاٹ رہتا ہے بس ۔ میں خاموش ہو رہی ۔ اسی امید میں کہ خدا کرے اس کا دل ٹھہر جائے ۔ شاہ جی کو علم ہے ۔ انہوں نےدوا بھی دی اور دعا بھی پڑھی ۔ مگر کوثر کا دل نہ ٹھہر نا تھانہ ٹھہرا۔ اسی طرح بھاگ بھاگ کر آتی رہی۔ میرے سامنے اس نے کبھی آنسو نہیں بہائے ، مگر مجھے پتا تھا چُھپ چھُپ کر روتی ہے ۔ دو چار بار ظفر آکر اسے اپنے ساتھ لے گیا ۔ میری بھا وج  بولیں ، خون میں بے قاعدگی آجائے تو ایسی حالت ہوتی ہے ، دل اُڑنے لگتا ہے، اس کا علاج کراؤ۔ کسی نے کچھ کہا، کسی نے کچھ۔ میں پوچھ پوچھ کر تھک رہی۔ نہ خون میں بے قاعدگی ، نہ دودھ کی کمی ۔ مگر ایک ہی رٹ رہی ، کہ میرا دل کسی بات پہ نہیں لگتا ، مجھ سے کیوں پوچھتی ہیں، مجھے پتا ہوتو بتاؤں ۔ ایک روز میں نے کہا بیٹی، خاوندوں کی کوئی بات نہیں ہوتی ، خدا نے عورت کو بھی حق دے رکھا ہے۔ مگر میں تمہاری ماں ہوں، مجھ سے مت کچھ چھپانا۔بتا دے، کیا تمہارا جی کسی کے اوپر آگیا ہے ؟ کو ثر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے مجھے دیکھتی رہی ، جیسے اس کو یقین نہ آرہا ہو۔ پھر بولی ، نہیں اماں ، یہ بات نہیں ، ایسی بات پھر کبھی مجھ سے مت کرنا۔ ظفر کے خلاف میں کچھ سننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اس روز میں نے اپنا سر پیٹ لیا۔ شوہر کے خلاف کوئی شکایت سننے کو تیار نہیں ، اندر باہر کی خیر ہے، اللہ کا دیا سب کچھ موجود ہے ، تو پھر قصہ کیا ہے ۔ کہنے لگی اماں، اللہ کا دیا سب کچھ موجود ہے۔ مگر اس کے آگے کیا ہے ؟ میں نے کہا اس سے آگے کیا ہو گا ۔ کہنے لگی، اس کا مجھے پتا نہیں۔ میں نے کہا بیٹی نماز پڑھا کرو۔ بولی باقاعدگی سے پڑھتی ہوں۔ وظیفہ بھی جو آپ نے بتا یا تھا کرتی ہوں ۔ دل پھر بھی نہیں ٹھہرتا۔ مجھے پتا نہیں کیا ہو گیا ہے .....‘‘

     دو ننھے ننھے نازک ہڈیوں والے بوڑھے ہاتھ اب اس کی گود میں کھلے ہوئے رکھے تھے۔ وہ ایک سپاٹ، بے زیر و بم آواز میں بولے جارہی تھی ۔ مگر اس کے چہرے پہ  ر نگ جھلکنے  لگا تھا۔ اس کی آواز سنتے ہوئے بعض دفعہ مجھے محسوس ہونے لگتا کہ کوثر مری نہیں بلکہ زندہ ہے، اور یہ اس کی اپنی آواز ہے جو اس عورت کے بدن میں داخل ہو گئی ہے ۔ جب کبھی وہ سانس لینے کے لیے رکتی تو میں واپس اس کمرے میں پہنچ جاتا۔ سورج کے آگے بادل اکٹھے ہو رہے تھے اور کمرے میں روشنی کم ہوتی جارہی تھی۔ اس نے دوبارہ بات شروع کی :

    ’’شاہ جی آپ کو یاد ہے ، آپ نے وظیفے بتائے تھے ۔ جب وہ یہاں ہوتی تو میں اسے اپنے کمرے میں بٹھا کر وظیفے کرواتی ۔ مگر اس کی بھوک ختم ہوچکی تھی ۔ آہستہ آہستہ اس نے وظیفے ترک کر دیے ۔ نماز بھی میرے سامنے ہو کر پڑھ لیتی ، ورنہ ضایع کر دیتی۔ اس کا بدن گھلتا جار ہا تھا۔ چھ ماہ کی بچی کو دودھ چھڑا دیا۔ کہتی تھی مجھے کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ کسی نے کہا اس کو سودا ہو گیا ہے ۔ مگر مجھ کو بھلا سودائیوں کی خبر نہیں ۔ دلی میں ہمارے چوک کے اندر سودائیوں کا ایک پورا خاندان تھا۔ سر پیر کی انہیں خبر نہیں ہوتی تھی ۔ میری بیٹی کے سر میں کوئی سوداء نہیں تھا ۔ وہ تو پوچھتی پھرتی تھی، مجھے بتاؤ، ارے کوئی مجھ کو بتاؤ۔ ظفر کو دیکھ کر اس کے چہرے پہ شرم ساری کی کیفیت آجاتی تھی اور وہ چپکے سے اس کے ساتھ چل پڑتی تھی میرا دل کٹنے لگتا تھا، میری بیٹی نے کیا قصور کیا ہے ، نہ بے وفائی کی ہے نہ دغا بازی نہ لوٹ کھسوٹ ، پھر شرمسار کیوں ہوتی ہے۔ ظفر عقل کا اندھا تھا، کچھ صبر کرتا، شبہے کی آگ میں نہ جلتا، کوئی صورت نکل آتی۔ کوثر اپنا رستہ چھوڑ دیتی ۔ ظفر کو سب رستے آتے تھے، اس رستے کا اندھا تھا۔ مرد تھا۔

    ’’ایک روز کو ثر آئی تو مجھ سے کہنے لگی ، ماں اب میں واپس نہیں جاؤں گی۔ میں نے کہا بیٹی تو بہ کر  ، کیا تیرا  د مارغ چل گیا ہے۔ کہنے لگی ماں ، تو مجھے اپنے گھر سے نکال دے گی ؟ میں نے کہا بیٹی، تو جانتی ہے ، پہلے میرا مردہ اس گھر سے نکلے گا تو پھر کوئی تجھ کو یہاں سے باہر کرے گا۔ مگر میری بیٹی ، عورت کی جگہ اپنے شوہر کے گھر پر  ہوتی ہے کہنے لگی اماں ، یہ کوئی آپ کے شوہر کا گھر ہے ۔ میں نے کہا یہ تو قسمت کے چکر ہیں جو ہمیں یہاں لے آئے ہیں۔ کہنے لگی نہیں ، یہ قسمت کا چکر نہیں ، یہ ہماری زندگی ہے کوئی جگہ مقرر شدہ نہیں ہوتی۔ اس کی باتیں سن کر میرا دماغ چکرا جاتا تھا۔ میری بیٹی کے سر میں کوئی سوداء نہیں تھا۔ اس کے سرمیں تو ایسے ایسے سوال تھے جو کبھی سننے میں نہیں آتے تھے۔ میں نے کہا بیٹی ،مجھے آج تک پتا نہیں چلا کہ تمہیں کسی بات کی تکلیف ہے۔ بولی اسی بات کی تو مجھے خبر نہیں ۔ وہ آخری دن تھا ۔ اس روز وہ با ہر نکل گئی اور دیر تک  گھر واپس نہ آئی۔ شام کے وقت ظفر آپہنچا۔ رات پڑ رہی تھی مگر کوثر کی کوئی خبر نہیں تھی اس کے ماموں ، ماموں زاد بھائی ، نوکر چاکر، مزارعے سب اس کی تلاش میں پھر رہے تھے ظفر مجھ سے سوال کرنے لگا، کہاں گئی ہے ، کب گئی ہے ، کیوں گئی ہے ۔ میں نے بہانہ وانہ چھوڑ کر صاف کہہ دیا کہ مجھے کوئی خبر نہیں۔ میں نے کہا بیٹا ، میری بات سنو، کوثر نے میرے بطن سے جنم لیا ہے مگر میری عقل سے باہر ہوگئی ہے۔ تم مجھے بتاؤا سے کسی بات کی تکلیف ہے۔ بولا یہی تو میں معلوم کرنا چاہتا ہوں ۔ عشاء سے تھوڑی دیر پہلے کوثر گھر میں آوارد ہوئی ۔ ظفر کو دیکھ کے اسی طرح شرم ساری سے آنکھیں نیچی کر لیں ۔ مجھے پتا تھا اب صبح کو اس کے ساتھ واپس چلی جائے گی ۔ میں نے کہا بی بی، یہ  کیا تم ہو اکے گھوڑے پر سوار ہو، نہ آگے کی خبر نہ پیچھے کی ۔ کہاں گئی تھیں ؟ بولی لاہور چلی گئی تھی۔ میں نے پو چھا اپنے گھر گئی تھیں، کہنے لگی نہیں۔ تو پھر کیا کرتی رہی ، میں نے پوچھا ۔بولی کہ ایسے ہی بس گھومتی رہی۔ میں نے کہا کہاں گھومتی رہی؟ کہا باغ میں پھرتی رہی۔ مجھے دکھائی دے رہا تھا کہ اس کا دل ٹھکانے پر نہیں تھا۔ مجھے اسی وقت سے احساس ہونے لگا کہ کچھ ہونے والا ہے ۔ مجھے کیا پتا تھا کہ وہ آخری دن تھا جب میں اپنی بیٹی کی آواز سنوں گی اور اس کا جیتا جاگتا ہوا چہرہ دیکھوں گی۔ میرے دل کے اندر وہ مری نہیں، نہ کبھی مرے گی ۔ میری آنکھوں کے سامنے اس کی پھٹی پھٹی نظریں مو جو د رہتی ہیں، اور کانوں میں اس کی آواز سنائی دیتی ہے۔ اس وقت ہم میں سے کسی نے بات نہ کی ۔ مگر رات کو جب بچے سو چکے تو کوثر آکر میرے پاس بستر پر بیٹھ گئی ۔ ظفر اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ ظفر سامنے اس کرسی پہ بیٹھا تھا جہاں تم بیٹھے ہو ۔ ظفر کے تیور دیکھ کر مجھے اندازہ ہو گیا کہ آج یہ شخص اپنے صبر کو ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہے ۔ کہنے لگا امی جان، اس سے پوچھیے اس کے پاس کسی چیز کی کمی ہے۔ میں نے کہا کوثر  بیٹی بتاؤ۔ یہ تمہارا فرض ہے۔ تمہارا شوہر تم سے پوچھ رہا ہے۔ تمہارے پاس کس چیز کی کمی ہے وہ سر جھکائے بیٹھی رہی، آہستہ سے بولی ، کسی چیز کی کمی نہیں۔ ظفر اس سے پوچھنے لگا ، تمہیں کیا چاہیے ، مجھے بتاؤ ۔ تمہیں کیا چیز چاہیے۔ میں نے کہا بیٹی جو اب دو۔ تمہارے پاس کیا نہیں ہے ۔ عزت ہے ، دولت ہے ، تعلیم ہے ۔ ٹھیک ہے دنیا میں بے قاعدہ کام بھی ہوتے رہتے ہیں۔ مگر کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔ کسی کا خاوند خراب نکل آتا ہے، مارتا پیٹتا ہے ، شرابی ہے ۔ کسی کے بچے نہیں ہوتے ۔ کوئی غریب ہوتا ہے۔ کوئی بیمار ہو جاتا ہے۔ کوئی مصیبت کا مارا مقدمے میں پھنس جاتا ہے۔ کوئی گناہ گار ہوتا ہے ، کسی کا دل یہاں سے اٹھ کے وہاں جا لگتا ہے۔ جب کوئی ایسی بات نکلتی ہے تو پیچھے کچھ نہ کچھ ضرر ہوتا ہے۔ بتاؤ تمہارے دو پیارے بچے ہیں ۔ تمہارا شوہر تم سے محبت کرتا ہے، رتبے والا ہے ، تمہارے پاس رہتا ہے ، چھوڑ کر ادھر ادھر نہیں بھاگتا ، تمہارے اوپر جان دیتا  ہے، کسی چیز کی کمی نہیں آنے دیا ۔ اور تم کیا چاہتی ہو۔ کوثر نے ایک نظر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور بولی ، ماں، مجھے پتا نہیں ۔ میں کیا بتاؤں۔ ظفر کے دل میں بےاعبتاری تھی۔ کہنے لگا،تمہیں کیسے پتا نہیں ۔ کون سی چیز میں نے مہیا کر کے نہیں دی۔ دنیا میں میرا ایک مقام ہے۔ تمہارے پاس گھر ہے ، نو کر چاکر ہیں ، پیسہ ہے ، میری اپنی جائیداد ہے ، نیک نامی ہے۔ اور تمہیں کیا چاہیے ۔ کوثر سر جھکائے بولی ، کچھ نہیں ۔ ظفر نے کہا، میری طرف دیکھو، میں تم سے بات کر رہا ہوں ، تم کبھی مجھ سے سیدھی بات نہیں کرتیں ، ایک سال ہو گیا ہے ، یہی کہے جاتی ہو کچھ نہیں ، کچھ نہیں ، ٹھیک ہے ٹھیک ہے، پتا نہیں پتا نہیں۔ کوثر نے سراٹھا کر اسے دیکھا وہ ایسے دیکھ رہی تھی جیسے اس کو کچھ دکھائی نہ دے رہا ہو۔ ظفر نے کہا، میں تمہارا شوہر ہوں ، میں نے ہمیشہ تمہیں خوش رکھا ہے ، پہلے چار سال تم میرے ساتھ خوش تھیں، اب کیا ہو گیا ہے۔ اب کیا میں بدل گیا ہوں ؟ بتاؤ ۔ میں وہی آدمی ہوں ؟ بولو ۔ کوثر نے کہا ہاں ۔ تمہارا شوہر ہوں ؟ کوثر نے جواب دیا ،ہاں ۔ ہاتھ پاؤں کا تندرست ہوں ؟ کوثر نے کہا ، ہاں۔ شکل صورت کا تو برا نہیں ہو گیا ہے؟ کوثر نے کہا نہیں ۔ بچوں سے پیار کرتا ہوں ؟ تمہاری خوشی کا خیال رکھتا ہوں ؟ محنت سے کام کرتا ہوں ؟ دنیا میں میری عزت ہے ؟ کوثر نے کہا ،ہاں۔ سیدھا کام پہ جاتا ہوں اور سیدھا گھر آتا ہوں یا نہیں، ظفر نے پوچھا، بتاؤ، گھر کے علاؤہ کہیں اور جاتا ہوں ؟ کوثر نے جواب دیا نہیں ۔ صبح ناشتہ کرتا ہوں ، دفتر چلا جاتا ہوں ، دفتر سے گھر آتاہوں ، اخبار پڑھتا ہوں، دفترکاکام کرتا ہوں، کھانا کھاتا ہوں ، سو جاتا ہوں۔ روزانہ میری روٹین یہ ہے یا کچھ اور ہے ؟ کوثر بولی یہی ہے۔ ظفر بولتا گیا۔ کلب نہیں جاتا، تاش نہیں کھیلتا، کوئی یار باش نہیں ۔ گھر پہ رہتا ہوں۔ سارا خرچہ تمہیں دیتا  ہوں۔ ٹھیک ہے یا غلط؟ بولو۔ کوثر بولی، ٹھیک ہے ۔ تو پھر تمہیں کس بات کی کمی ہے، کیا تکلیف ہے، کس چیز کی ہوس ہے، مجھے بتاؤ، میں تمہیں مہیا کر کے دوں گا۔ تمہیں زیور چاہیے ؟ کوثر نے سر بلا کر کہا نہیں۔ کپڑوں کی ضرورت ہے؟ کوثر نے سر ہلا کر کہا، نہیں ۔ فرنیچر چاہیے ؟ کوثر کی زبان رک گئی مگر وہ سر ہلا کر کہتی رہی نہیں ، نہیں، اور اسی طرح بیھٹی ظفر کو دیکھتی رہی، جیسے اس کی نظر بند ہوگئی ہو ۔ میں نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور بولی ، بیٹی کچھ منہ سے بولو۔ کوثر نے سر پھیر کر مجھے دیکھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس کی نظریں مختلف ہو گئیں، جیسے اس کی بینائی ایک دم لوٹ آئی ہو۔ اس کا چہرہ چمکنے لگا۔ میرے دل میں امید پیدا ہوئی ۔ میں نے ہاتھ اٹھایا کہ اس کے سر پہ پھیروں ۔ مگر اس نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کانوں پہ رکھ لیے ، جیسے بے انتہا شور سے اس کا دماغ پھٹا جا رہا ہو۔ پھر وہ اوندھے منہ میری گود میں گر پڑی۔ میں گھبرا گئی۔ کیا بات ہے بیٹی، میں نے پوچھا۔ بتاؤکیا بات ہے۔ اس نے سراٹھا کر میری طرف دیکھا تو اس کی نظریں پھٹی پھٹی تھیں۔ وہ مجھے دیکھتی رہی، دیکھتی رہی، پھر بولی ، اماں ،ایک بات کا مجھے علم ہے ، ان چیزوں کے علاؤہ اور بھی کچھ ہے ۔ میں نہیں جانتی کیا ہے ۔ مگر میرا دل کہتا ہے..... وہ چیخ کر رو پڑی ۔ پھوٹ پھوٹ کر روتی گئی اور کہتی گئی، میں خود نہیں جانتی، مگر میرا دل کہتا ہے کہ کچھ ہے۔ مجھے پتا نہیں چلتا ۔ میں کیا کروں ..... وہ میرے گلے سے چمٹ گئی۔ مجھے کسی شے کی پروا نہ رہی ۔ ان ہاتھوں سے میں نے اس کا جسم سنبھالا ۔ کپڑوں کے اندر وہ ہڈیوں کی موٹھ ہو چکی تھی۔ میرے دل میں یقین تھا کہ کوئی کچھ بھی سمجھے، میری بیٹی سچی ہے ، جھوٹی نہیں ۔‘‘

     اس کی آوازر کی تو کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ اس نے اپنا ستا ہوا چہرہ اٹھا کر پہلے حکیم کو، پھر مجھے دیکھا ۔ ’’اب میں کسی کو کیا بتاؤں ؟‘‘ وہ بولی۔ ’’کون اسے سچا سمجھے گا ؟ ظفر میری بیٹی کی طرف اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے اس کو اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں پر اعبتار نہ ہو۔ صبح سویر ے وہ اس کے ساتھ چلی گئی ، ہمیشہ کی طرح خاموشی سے، سر جھکا کر نکل گئی۔ وہ آخری دن تھا جب میں نے اس کی آواز سنی۔ اس کا چمکتا ہوا چہرہ دیکھا۔ ظفر مرد تھا۔ اس کا قاتل بنا۔ پھانسی پائے گا۔ مگر میری بیٹی مری نہیں ، میرے دل میں وہ زندہ ہے ۔ اب میں کسی کو کیا بتاؤں ۔ میرے بیان کی کیا وقعت ہے ؟ ‘‘ وہ میری طرف جواب طلب نظروں سے دیکھتی رہی۔ پھر اچانک وہ تکیہ چھوڑ کر اٹھ بیٹھی۔ اس نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھائے اور بولی، ’’میرا ایک بیان ہے۔ کوئی سننا چاہے تو سن لے “۔ اس کی آنکھیں سکڑ گئیں اور اس کے چہرے پہ رنگ جھلکنے لگا ۔ جب اس نے منہ کھولا تو اس کے اندر سے ایسی چنگھاڑتی ہوئی آواز نکلی کہ میں چونک کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ۔ ’’کوئی سننا چاہے تو سن لے‘‘ ، وہ دھاڑی،’’ میری بیٹی کو چاہے قصور وار سمجھو، مگر وہ بد کار نہیں تھی ۔‘‘

     اس کی آواز ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ وہ ہڈیوں کی مشت بستر پہ ڈھے گئی۔ اس نے اپنے بدن کو گھسیٹ کر کروٹ بھری اور منہ پھیر کر لیٹ گئی۔

    ڈائری کے یہ اوراق میں نے ایاز کے گھر پہ پہنچ کر لکھے۔ واپسی کے سفر کی کوئی بات مجھے یاد نہیں۔ حکیم نے شاید مجھ سے کوئی بات کرنے کی کوشش کی، مگر میں نے ہوں ہاں میں جواب دے دیا۔ میرا د ماغ بھی  بھنبھنا رہا تھا۔ نسیم گھر ہی تھی ۔ اس سے مختصری بات ہوئی۔ پھر میں سیدھا اپنے کمرے کو چلا گیا۔ کمرے میں داخل ہو کر میں نے اندر سے درواز بند کر لیا ۔ دروازہ بند کر کے میں نے قلم اٹھایا اور ڈائری کھول کر بیٹھ گیا۔ مجھے کہیں پر رکنے ، یاد کرنے یا سوچنے کی ضرورت نہ پڑی۔ یوں محسوس ہور ہا تھا جیسے کو ثر کی ماں کا ایک ایک لفظ میرے ذہن کی دیواروں پر کندہ ہو گیا ہے اور دمک رہا ہے جب میں نے لکھنا بند کیا تو تھکن سے چور ہو چکا تھا۔ بستر پر لیٹ کر میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ میری آنکھوں کے سامنے کوثر کی ماں کا چہرہ آگیا۔ بڑھاپے کی سلوٹوں والا بے جان چہرہ اور دھیمی سپاٹ آواز : میری بیٹی سچی ہے، جھوٹی نہیں ۔ اب میں کسی کو کیا بتاؤں ؟ وفعۃً میں نے دیکھا کہ اس چہرے کا روپ بدل گیا ہے ، سلو ٹیں غائب ہو گئی ہیں ۔ اب وہ ایک جوان عورت کا چمکتا ہوا چہرہ ہے جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا مگر اس کے باوجود جانا پہچانا ہے۔ وہ بچوں کی سی تیز،دہشت زدہ آواز میں کہہ رہی ہے۔ اماں، مجھے پتا نہیں کیا ہے ، مگر ایک بات کا مجھے علم ہے..... میں نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں ، پھر بند کر لیں ۔ وہ چہرہ وہیں پر موجود تھا ۔ جب میں نے دوبارہ آنکھیں کھولیں تو کوئی دروازے کو دھڑ ادھڑ پیٹ رہا تھا ۔ اس وقت مجھے پتا چلا کہ میں کئی گھنٹے تک سوتا رہا ہوں۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ ایاز  کھڑا تھا۔ باہر شام پڑ چکی تھی۔ ہم نے آتش دان کے پاس بیٹھ کر چائے پی ۔ میرا ذہن کافی حد تک ٹھہر چکا تھا۔

    ’’ تم تو ایسے دکھائی دے رہے ہو جیسے کئی دن کے سفر سے لوٹے ہو ۔ “ ایا ز ہنس کر بولا،’’کوثر کی ماں سے ملاقات ہوئی ؟‘‘

    ’’ہاں ۔‘‘ میں نے کہا ۔

    ’’کچھ پتا چلا ؟‘‘

    میں اٹھ کر اپنے کمرے میں گیا اور ڈائری اٹھا کر لے آیا ۔ ’’ اسے پڑھ کے دیکھ لو۔‘‘ میں نے کہا۔

    ایاز نے ڈائری میرے ہاتھ سے لے لی، مگر اسے کھول کر نہیں دیکھا۔ وہ نسیم سے باتوں میں مصروف تھا۔ ان کی گفتگو سے معلوم ہوا کہ رات کھانے پر کچھ لوگ مدعو ہیں ۔ اس بارے میں دو ایک باتیں کرنے کے بعد ایاز اٹھا اور ڈائری لے کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ کچھ دیر بعد نسیم بھی اٹھ کر کھانے کے انتظام میں مشغول ہوگئی ۔ میں وہیں بیٹھاایاز  کے بچوں سے کھیلتا رہا۔ آگ بجھنے لگی تو میں نے چند خشک لکڑیاں اُٹھا کر آتش دان میں ڈال دیں ۔ چند منٹ تک دھواں دینے کے بعد وہ بھبھک کر جل اٹھیں ۔ دن بھر آسمان پر بادل اکٹھے ہوتے رہے تھے ۔ اب باہر  بارش شروع ہو چکی تھی ۔ ایا ز دیر تک اپنے کمرے میں بند بیٹھا رہا۔ گھر بھر میں ماحول اب کم وبیش ساکن تھا ، جیسے مہمانوں کی آمد سے قبل اکثر ہوتا ہے ۔ کھانے کے کمرے اور باورچی خانے سے نسیم کے چلنے پھرنے اور کوئی کوئی بات کرنے کی آواز آرہی تھی۔ بچے خاموشی سے اس کے آس پاس کہیں اپنے آپ میں مشغول تھے ۔ ایاز اپنے کمرے سے باہر نہیں آیا تھا ۔ اس وقت آتش دان کے پاس اکیلے بیٹھے بیٹھے مجھے ایک عجیب بات کا خیال آیا ۔ میں نے محسوس کیا کہ اب میں کبھی کوئی کہانی نہیں لکھوں گا ۔ اس خیال نے مجھے پریشان کر دیا ۔ پھر اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے میں آنے والے مہمانوں کے بارے میں سوچنے لگا ۔ میں نے کبھی ایاز کے گھر پر ہونے والی دعوتوں کا شوق سے انتظار نہ کیا تھا۔ مگر اس بھاری دن سے گزرنے کے بعد مہمانوں کی آمد کا خیال بے حد خوش کن معلوم ہو رہا تھا ۔ میں گویا بے صبری سے ان کا انتظار کرنے لگا۔ اس دن کے واقعات نے میرے خیالات کو خرد برد کر دیا تھا ۔

     کوئی ایک گھنٹے کے بعد ایاز اپنے کمرے سے باہر آیا۔ اس نے چپکے سے لاکر ڈائری میرے ہاتھ میں پکڑا دی اور خود آتش دان کے سامنے ٹانگیں پھیلا کر ، ہاتھ بغلوں میں دے کر کھڑا ہو گیا ۔ وہاں پر وہ دیر تک کھڑا آگ کے شعلوں میں دیکھتارہا ۔ نسیم ایک بار کمرے میں داخل ہوئی اور بولی :

    ’’کپڑے تبدیل نہیں کرو گے ؟ ‘‘

    ’’ جا رہا ہوں ۔‘‘ ایاز نے جواب دیا۔ مگر مجھ سے اس نے کوئی بات نہ کی ، صرف ایک آدھ مرتبہ گہری نظروں سے مجھے دیکھا، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہومگر کہہ نہ پار ہا ہو۔ پھر اچانک وہ پلٹ کو لباس تبدیل کرنے چلا گیا ۔ میں اسے کمرے سے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ اس کی چال میں ، اس کے کندھوں کے خم میں، اس کے بدن کی ڈھال میں ایک ایسی کیفیت تھی جیسے کوئی پیش قیمت شے ہاتھ سے نکل گئی ہو، یا جیسے کسی خیال کا زور بالآخر ٹوٹ گیا ہو۔ وہ سر جھکا کر چل رہا تھا۔

     رات کا کھانا پر لطف رہا۔ میں نے ایاز کے گھر پر اس سے کہیں بڑی بڑی محفلوں اور شاندار ضیافتوں میں شرکت کی ہے ، مگر اس محفل کا رنگ میرے اندر اس طرح محفوظ ہے جیسے وقت نے اسے چھو کر نہ دیکھا ہو۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس شام کو میرا د مارغ ایک نچڑے ہوئے شہد کے چھتے کی مانند تھا جس کے ہزاروں چھوٹے چھوٹے خانے منہ کھولے دنیا کے نئے رس کو اپنے آپ میں سمونے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ کھانے کی میز پر پانچ مہمان تھے۔ میں ان سب سے پہلے سے متعارف تھا۔ دو وکیل تھے، خلیق اور مبشر - خلیق ایاز کا ہم عمر اور اس کے ساتھ کا پڑھا ہوا تھا۔ مبشر ایک نوجوان بیرسٹر تھا ۔ تیسرا مہمان فیاض تھا۔ فیاض ایک انگریزی اخبار کا ایڈیٹر تھا۔ اس کا ایک مقدمہ کسی زمانے میں ایا ز نے لڑا تھا، اور بعد میں فیاض نے ہی ایاز سے انگریزی میں مضمون لکھوا کر اپنے اخبار میں چھاپنے شروع کیے تھے۔ اس وقت ایا ز ایک دوسرے اخبار میں کام کرتا تھا۔ آخری دو مہمان اظہر اور اس کی بیوی تھے جو گھر کے ہی افراد تھے۔ سب سے پہلے اظہر اور اس کی بیوی آئے تھے ۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا ، چند منٹ میرے پاس رکنے کے بعد وہ دونوں گھر کے اندر چلے گئے، جہاں اظہر کی بیوی کلثوم نسیم کے کمرے میں جا کر اس سے باتیں کرنے لگی، اور اظہر کچھ دیر تک با ور چی خانے ،کھانے کے کمرے اور پچھلے برآمدے میں منڈلانے، اور نوکروں اور بچوں کے ساتھ باتیں کرنے کے بعد خود بھی اسی کمرے میں جا پہنچا جہاں اس کی بہن اور بہنوئی کھانے کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ کچھ دیر کے بعد خلیق اور فیاض آپہنچے۔ وہ دونوں اکٹھے آئے تھے ۔ ہم تینوں آگ کے سامنے کھڑے ہاتھ سینکتے ہوئے ایک دوسرے کا حال چال پوچھ رہے تھے کہ اندر سے ایا ز اور اظہر بر آمد ہوئے۔ چند منٹ تک ہم سب وہاں کھڑے ملتے ملاتے رہے۔ پھر خلیق نے اظہر اور ایاز سے کوئی ایسی بات چھیڑ دی جس کا مختلف عدالتوں سے تعلق تھا اور جو غالباً دن بھر سے چھڑی ہوئی تھی۔ فیاضی میری طرف متوجہ ہو گیا۔ وہ مجھ سے میری ایک کہانی کے بارے میں پوچھنے لگا جو اس کی رائے میں سیاسی مطلب رکھتی تھی، اور پہلی بار ایک نیم گرم مقبول عام پر چے میں شائع ہوئی تھی۔ مجھے یہ جان کر ذرا سی حیرت ہوئی کہ اس قسم کا پرچہ اس کی نظر سے گزرا کرتا تھا۔ میں فیاض کے بارے میں کوئی اونچی رائے نہ رکھتا تھا، تاہم وہ ایک بڑے انگریزی اخبار کا مدیرہ تھا، اور میں کسی حد تک اس مقولے کا قائل ہوں کہ ایک آدمی اگر کسی حیثیت کو پہنچ جائے تو اس کے اندر کم و بیش اس حیثیت کے برابر اہلیت پیدا ہو جاتی ہے ۔ فیاض کی شکل وصورت خاصی مرعوب کن تھی۔ وہ کوئی پچاس کے لگ بھگ کا آدمی تھا، مگر اس کے سر پر سفید لمبے لمبے گھنے بال تھے ۔ وہ بھاری سیاہ فریم والا چشمہ لگاتا تھا اور ہمیشہ سفید کرتے پا جامے اور سفید سوتی واسکٹ میں ملبوس ہوتا تھا۔ سردی کے موسم میں وہ او پر سفید شیروانی پہن لیا کرتا تھا۔ اس کا بات کرنے کا انداز نہایت نفیس ، بھاری بھر کم اور با علم تھا۔ اپنے تجربے کے اندر میں نے ایسی وضع قطع رکھنے والے جتنے لوگوں سے واقفیت حاصل کی ہے بعد میں ان کی استعدا دکے بارے میں مجھے مایوسی ہی ہوئی ہے ۔ چناں چہ فیاض اپنی حیثیت اور اپنے خلوص کے باوجود ہمیشہ مجھ کو بہر وپیا سالگا کرتا تھا۔ ہم باتیں کرتے کرتے کرسیوں پہ بیٹھ چکے تھے۔ اس شام کو میری کیفیت کچھ ایسی تھی کہ میں کسی سے اپنی کہانیوں کے بارے میں بات کرنا نہ چاہتا تھا ۔ فیاض نفیس مزاج کا آدمی تھا ۔ میری جانب سے سرسری سا لہجہ دیکھ کر اس نے سوالات کرنے چھوڑ دیے اور مجھے اپنی رائے سے آگاہ کرنے لگا ۔ ایاز کے گروپ کی گفتگو خاصی اونچی آوازوں میں جاری تھی نسیم اور بچوں کی آوا زیں دوسرے کمروں سے آرہی تھیں ۔ چند منٹ کے بعد فیاض اچانک کرسی چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تونسیم اور کلثوم کمرے میں داخل ہو ر ہی تھیں۔

    ’’ بھائی بیٹھے رہیے ۔‘‘ نسیم نے سب سے مخاطب ہو کر دونوں ہاتھ ہو امیں لہرائے۔ ’’وعلیکم السلام ۔ آپ تو آج کل نظر ہی نہیں آتے بھائی۔‘‘ وہ اظہر کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے دور سے فیاض کو مخاطب کر کے بولی، ’’ کہاں غائب رہتے ہیں ؟‘‘

    ’’ غائب کہاں رہتا ہوں حضور۔‘‘ فیاض بولا ، ’’اپنے دفتر میں بیٹھا مکھیاں مارا کرتا ہوں۔ اور آپ کے دعوت نامے کا انتظار کرتا رہتا ہوں۔‘‘

    ’’ اچھا !‘‘ نسیم ہلکے سے طنز کے ساتھ بولی ،’’ سنا تھا آپ آجکل بہت مصروف رہتے ہیں ہے؟‘‘

    ’’جناب ہمیں کون پوچھتا ہے ۔‘‘ فیاض بولا ، اور بات کرتا ہوا جلدی سے بڑھ کر نسیم کے پاس کرسی پہ جا بیٹھا۔ میں اکیلا ایک طرف بیٹھا رہ گیا۔ کچھ دیر کے بعد میں اٹھ کر کھڑکی کے پاس گیا اور پردہ اٹھا کہ شیشے سے باہر جھانکنے لگا۔ بارش زوروں پر ہو رہی تھی ۔ میرے عقب پر کمرہ آوازوں سے گونج رہا تھا، مگر میرے دل میں ابھی تک ہو کا عالم تھا۔ میں نے پر دہ گرا دیا اور واپس چلا آیا۔

    اب ہم ساتوں ایک نصف دائرے میں کرسیوں پر بیٹھے تھے ۔ فیاض ابھی تک نسیم کو باتوں میں لگائے ہوئے تھا۔ میری دائیں جانب کلثوم بیٹھی تھی ۔ ہم کئی سال سے گو ایک دوسرے کو جانتے تھے مگر اتفاق ایسا ہوا تھا کہ ہماری آپس کی رغبت کبھی بڑھ نہ سکی تھی ۔ اس وقت وہ خاموش بیٹھی تھی ۔ میں نے رسمی طور پر اس سے ایک آدھ بات کی۔ جب گفتگو میں ایک وقفہ آیا تو نسیم نے ایاز سے کہا :

    ’’ مبشر  صاحب ابھی نہیں آئے ۔‘‘

    ’’ہاں ۔‘‘ایاز گھڑی پر نظر ڈال کر بولا ، ’’مبشر ابھی تک غائب ہے۔‘‘

    ’’مبشر بہت مصروف آدمی ہے بھائی۔‘‘خلیق خاص   اپنائیت کے انداز میں بولا۔ ”میں نے ساتھ لے کر آنے کی پیشکش کی تھی مگر اس نے رد کر دی ۔ اصل میں اسے لاء کالج میں کسی یونین کے جلسے میں جانا تھا۔‘‘

    ’’پانچ دس منٹ اور انتظار کر لیتے ہیں۔‘‘ ایاز ہولے سے بولا۔ نسیم نے سر ہلا کر اس اتفاق کیا۔

    ’’ موسم خراب ہے۔‘‘ فیاض بولا، ’’شاید نہ ہی پہنچ سکے ۔‘‘

     ’’وہ بڑا با ضابطہ آدمی ہے یار۔‘‘ خلیق نے کہا، ’’ ضرور آئے گا ۔ ورنہ فون تو ہر حال میں کر دے گا ۔‘‘

     کچھ دیر کے بعد فون کی گھنٹی بجی تو ایا ز نے لپک کر فون اٹھا یا ۔ سب لوگ متوقع تھے کہ مبشر کا فون ہوگا۔ مگر ایاز  نے آکر بتا یا کہ اظہر کے ایک اسسٹنٹ کا فون ہے ، جس نے اگلی صبح کی ایک پیشی کے بارے میں ایک ضروری پیغام دیا ہے ۔ ایا ز اظہر کو پیغام سنانے لگا۔اظہر نےکہا، ’’یار مجھے ہی فون دے دیا  ہوتا۔‘‘ ایاز بولا، ’’چھوڑو یار، تم نے بھی ایک سے ایک چغد اکٹھا کر ر کھا ہے۔ میں اسے اچھی طرح سے جانتا ہوں ۔ کارروائی ڈال رہا تھا ۔ اور کوئی بات نہیں تھی ۔‘‘

    خلیق شرارت سے بولا : ’’ دیکھ بھئی اظہر، میں نے تو پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے۔ اپنے بھائی کا خیال رکھ تیری پر یکٹس کو سبوتاژ کرنے کے پیچھے پڑا ہے ۔‘‘

    ’’ خلیق بھائی۔‘‘ نسیم بولی،’’ اگر آپ ہمارے گھر میں فساد ڈالنے کی کوشش کریں گے تو پھر دیکھ لیجیے .....‘‘

    ’’آپ کو کھانا نہیں ملے گا ۔‘‘ فیاض نے جلدی سے کہا۔ خلیق قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔

    ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ دروازے کی گھنٹی بجی ۔ ایاز نے دروازہ کھولا تو مبشر کھڑا تھا۔ اس کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ اس نے اپنا گیلا چشمہ اتار کر ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا اور پانی سے بھرے ہوئے جوتے پائیدان پر سرگرمی سے پٹک پٹک کر خشک کرنے میں مصروف تھا۔ اس کا چہرہ ، جو معمولاً ہلکے سے تعجب کی کیفیت لیے رہتا تھا، اس وقت مزید حیرانی کا حامل تھا ، گویا اس کی سمجھ میں نہ آرہا ہو کہ اس کے ساتھ کیا حادثہ پیش آگیا ہے ۔ سب لوگ اس کا حلیہ دیکھ کی ہمدردی سے ہنس پڑے ۔ ایاز نے اس کی برساتی اتروا کر دروازے کے پیچھے ٹانگ دی اور اسے بازو سے پکڑ کر آتش دان کے سامنے لاکھڑا کیا ۔

    ’’گیٹ سے یہاں تک آنے میں یہ حالت ہو گئی ہے ۔‘‘ مبشر حیرت زدہ آواز میں بولا۔

    ’’ کیسے پہنچے۔‘‘ ایاز نے پوچھا۔

    ’’ لڑکوں کے پاس ایک ٹوٹی ہوئی وین تھی ۔ اس میں چھوڑ گئے ہیں ۔‘‘

    ’’ کالج میں آج کل کیا ہو رہا ہے۔‘‘ اظہر نے پو چھا ۔

    مبشر  آگ کے سامنے جھک کہ ہاتھ سینکتا ہوا انہیں کالج کی یونین کا کوئی قصہ بتانے لگا۔ اس نے رومال سے چشمے کے شیشے صاف کر کے اسے آنکھوں پہ لگا لیا تھا۔ مبشر کی تیز تیز سیاہ آنکھیں تھیں، اور معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے بارش میں بھیگنے کے حادثے کو فراموش کر کے اب مکمل طور پر اس نئے واقعے میں محو ہو چکا تھا۔ نسیم نے اسے اندر سے ایک تولیہ لاکر دیا ۔ مبشر نے باتیں کرتے کرتے تولیے سے رگڑ کر سر کے بال خشک کیے اور پھر کوٹ کی جیب سے چھوٹی سی کنگھی نکال کر شیشے میں دیکھے بغیر بالوں کو آگے سے پیچھے کی جانب کنگھی سے سنوارنے لگا ۔ اس کے سر کی ہڈی چوڑی اور خوش شکل تھی۔ میں نے اسے لاپروائی سے کنگھی کرتے ہوئے دیکھ کر سوچا کہ اس شخص کو گنجا ہونے کا خوف کبھی پریشان نہ کرے گا۔ اس کا مضبوط جسم  سوٹ کے اندر پھنسا ہوا دکھائی دے رہا تھا ۔ کالج کے زمانے میں وہ یونیورسٹی کا اتھلیٹ رہا تھا ۔ مبشر ایسے نوجوانوں میں سے تھا جن کی کامیابی اور ہر دلعزیزی ان کی پیشانی پہ لکھی ہوتی ہے۔ کلثوم کا چہرہ بھی ، جو عموماً بے تاثر رہتا تھا، اس وقت مبشر کی باتیں سنتے ہوئے خوشی اور اپنائیت سے چمک رہا تھا ۔ مبشر کو تو لیہ پکڑانے کے بعد نسیم کمرہ چھوڑ کر گھر کے اندر چلی گئی تھی۔ چند منٹ کے بعد وہ واپس کمرے میں آئی اور ادھر ادھر نظر دوڑا کر بولی :

    ’’بھئی کھانا لگ گیا ہے ۔‘‘

    نسیم کا کہنا تھا کہ خوش ذائقہ کھانا خوش شکل ہونے کا اہل بھی ہوتا ہے۔ کھانے کی میز پر ایک نظر ڈال کر میں اس کی بات کا نئے سرے سے  قائل ہو گیا ۔ پلاؤ کے اوپر بادامی رنگ کے باریک تلے ہوئے پیاز زعفران کی شکل بکھرے تھے۔ شامی کبابوں پر ابلے انڈوں کے کاٹے ہوئے دور نگے ٹکڑے رکھے تھے ۔ سلاد کی پلیٹوں پر کھیرے ، ٹماٹر اور سنگترے کی چھیلی ہوئی قاشیں سجی تھیں ۔ کھیر کے ڈونگوں میں سفید بادام اور عنابی میوہ سطح کے اوپر اس طرح دکھائی دے رہا تھا۔ جیسے موتی جڑے ہوں۔ خلیق اور اظہر ہاتھ ملتے ہوئے کھانے کی، اور اس سے زیادہ نسیم کی تعریف کر رہے تھے۔ فیاض نے میز کے اوپر جھک کر ایک لمبی سانس کھینچی، پھر سانس روکے رو کے سیدھا ہو کر دونوں ہاتھ پھیلا دیے ، آنکھیں میچ کر چہرہ آسمان کی جانب اٹھا دیا اور اس طرح کا اظہار کیا جیسے بہشت میں پہنچ گیا ہو۔ صرف مبشر میرے پاس کھڑا سنجید گی اور تعجب سے کھانے کو دیکھ رہا تھا ، گویا فیصلہ نہ کر پا رہا ہو کہ بیٹھ کر اسے کھانا شروع کر دے یا کوئی دوسرا قدم اٹھائے۔

    ’’بھائی بیٹھ جائیے ۔‘‘ آخر نسیم نے کہا،’’کھاناشروع کیجیے۔ بہت باتیں ہو چکیں۔‘‘

    کرسیاں آگے پیچھے کھینچی گئیں اور سب میز کے گرد بیٹھ گئے۔ کھانا برتا جانے لگا۔ ’’لیجیے ۔‘‘’’ آپ لیجیے ‘‘۔ ’’بھئی لیجیے نا۔ شروع کیجیے‘‘۔ ’’ بھائی تمہیں ضرورت نہیں تو ادھر دے دو۔ کیوں بھو کا مرواتے ہو‘‘۔’’یار میری قوت شامہ تو مجھے پاگل کر رہی ہے‘‘۔ تو پھر کھانا دینے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کی قوت ِشامہ نے ہی ہمارا مقصد پورا کر دیا ہے‘‘۔’’ ہا ہا ہا‘‘۔ ’’ ہاہا‘‘۔ مختلف قسم کی باتوں کے شور کے درمیان کھانا شروع ہوا ۔ چاولوں کی پلیٹوں سے گرم گرم خوشبو دار بھاپ اٹھ رہی تھی ۔ چند منٹ کے بعد باتیں کم ہو گئیں اور چمچوں اور پلیٹوں کا شور بڑھ گیا۔ صرف بیچ بیچ میں ’’واہ ،وا‘‘،’’ بھئی مزا آ گیا ‘‘اور ’’سبحان اللہ‘‘ کی آوازیں آتی رہیں ۔ مبشر میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کی پلیٹ بھری تھی اور وہ سرگرمی سے کھانے کے لقمے لے رہا تھا۔ اسے کھاتے ہوئے دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ اسے کھانے کی لذت سے کوئی سروکار نہیں تھا بلکہ وہ محض بھوک مٹانے کی خاطر کھا یا کرتا تھا۔ فطری طور پر مبشر ایک شرمیلا آدمی تھا اور رسمی باتیں کرنے میں ہوشیار نہیں تھا۔ ہم خاموشی سے بیٹھے کھاتے رہے ۔ کھانے کی آدھی پیٹ ختم کر کے اچانک وہ مجھ سے بولا:’’ آپ نے نیا آرڈی ننس پڑھا ہے ہے؟‘‘

     میں نے لاعلمی کا اظہارہ کیا تو وہ مجھے بتانے لگا کہ یہ آرڈی ننس شہری آزادی کے لیے کس قدر دور رس نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ کھانے کی پہلی کھیپ ختم اور دوسری شروع ہو چکی تھی۔ میز کے گرد گفتگو دوبارہ ابھر نے لگی تھی۔ میز کے دوسرے سرے پر جہاں ایاز، خلیق اور فیاض بیٹھے تھے ، ایاز کے مستقبل کے بارے میں خیال آرائی ہو ر ہی تھی ۔ فیاض نے ایاز کو سرکاری عہدے کی پیش کش (جو حال ہی میں دوبارہ موصول ہوئی تھی ) قبول کر لینے پر اکسانا شروع کر دیا تھا۔ دوستوں کا یہ حلقہ گو بے تکلف اور قریبی تھا، پھر بھی یہ ایک ایسا موضوع تھا جس پر دو ٹوک بات کرنے سے احتراز کیا جاتا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ ماحول کی خوش دلی اور کھانے کی عمدگی فیاض کے جذبات پر غالب آگئی تھی اور اس نے اپنے خیالات کا کھلا اظہار شروع کر دیا تھا۔ میرے کان میں اس بات کی آواز پڑی تو میں نے دل میں کھٹکا محسوس کیا۔ مبشر اپنی پلیٹ پر جھکا دو انگلیوں سے چاول کے دانے چن چن  کرمنہ میں ڈال رہا تھا۔ اس کے چہرے کا رنگ سرخ ہورہا تھا۔ دفعۃً اس نے چاول چننا چھوڑ کر چمچہ اٹھا لیا ۔پھر چمچے کو کھانے کے لیے استعمال کرنے کی بجائے ہوا میں لہرا کہ بولا:

    ’’ کیوں ؟‘‘

    اس کے سوال کو سب نے سنا ، مگر فیاض کو ، جو اپنی بات کے جوش میں تھا، اس کی جانب متوجہ ہونے میں چند سیکنڈ لگے۔ میز پر اب مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔

    ’’کیوں ؟‘‘ مبشر نے دہرا کر پوچھا۔

    ’’ میں سمجھا نہیں۔‘‘   فیاض نے کہا ۔

    ’’ آپ ایاز صاحب کو کس بنا پر گورنمنٹ میں جانے کی تلقین کر رہے ہیں۔‘‘

    ’’ تلقین نہیں کر رہا‘‘ ۔ فیاض نے جواب دیا ، ’’اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہوں۔‘‘

    ’’یہی میں پوچھ رہا ہوں‘‘ ۔ مبشر نے کہا، ’’آپ کی رائے کی بنیاد کس بات پر ہے ۔‘‘

    فیاض کے چہرے کی کیفیت اب بدل چکی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور ایک لحظہ سوچنے کے بعد جواب دیا :’’میرے خیال میں ایاز جیسے قابل لوگوں کو حکومت کا اختیار سنبھال کر ملک کا کاروبار چلانا چا ہیے ۔‘‘

    ’’ تو آپ کے خیال میں جو لوگ حکومت میں شامل نہیں ہیں وہ ملک کا کاروبار نہیں چلا ر ہے ؟ وکیل ۔ ڈاکٹر ۔ سکول ماسٹر۔ ریڑھی والے۔ کیا آپ کے خیال میں ان لوگوں کا ملک کے کار وبار میں کوئی حصہ نہیں ؟“

    برخوردار میرا یہ خیال ہرگز نہیں۔ تمہیں اچھی طرح علم ہے کہ میں کیا بات کر رہا ہوں۔‘‘ فیاض نے اپنے نفیس ترین لہجے میں جواب دیا، ’’حکومت کی پالیسی بنانے کا کام سب سے اہم کام ہوتا ہے۔ اور ہراس شخص کو جو اس کام کی اہلیت رکھتا ہے آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے ۔‘‘

    ’’اور اس حکومت کی پالیسی کیا ہے ؟‘‘ مبشر نے پوچھا،’’ آپ کو خبر ہے یہ حکومت کیا کر ر ہی ہے ؟ “

    ’’ اسی غرض کے واسطے تو ایاز جیسے لوگوں کی ضرورت ہے تاکہ حکومت کوئی نا جائز قدم اٹھائے توا سے چیک کرنے کے لیے کوئی موجود ہو۔‘‘

    ’’ آپ عجیب بات کر رہے ہیں‘‘۔ مبشر بولا، ’’ حکومت کو چیک کرنے والے حکومت سے باہر ہوتے ہیں یا حکومت کے اندر ؟‘‘

    ’’ قابلیت رکھنے والے لوگ اگر حکومت کے اندر ہوں گے تو قابل اعتراض اقدامات کے عمل میں آنے کا موقعہ ہی نہیں ملے گا‘‘ ۔ فیاض نے کہا۔ اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔ اسے احساس ہونے لگا تھا کہ وہ اس تکرار میں ہارتا جا رہا ہے۔

    ’’ ایسے قابل لوگوں سے تو حکومت پہلے ہی بھری پڑی ہے۔‘‘ مبشر طنز سے بولا ، ’’در اصل آپ کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایاز بھی اس جتھے میں جاکر شامل ہو جائے ۔‘‘

    ’’ کیا مطلب؟‘‘

    ’’ فیاض صاحب میں نے آپ کا ایڈیٹوریل پڑھا ہے جو آپ نے نئے آرڈی ننس کی حمایت میں لکھا ہے۔ ‘‘مبشر بولا ،’’ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کی رائے میں حکومت کے اندر انتہائی قابل لوگوں کی کوئی کمی نہیں اور یہ لوگ نہایت مستحسن اقدامات کر رہےہیں ۔ پھر اس صورت میں ایاز صاحب کی کیا ضرورت ہے ؟‘‘

    ایاز کے گھر پہ ایسے مباحثے اکثر ہوا کرتے تھے ۔ مگر عموماً ان کا رنگ غیر جانب دارانہ اور خاص طور پر غیر ذاتی ہوا کرتا تھا اور پرانے قانون دانوں کے اس گھر میں یہ ایک کھیل کی حیثیت رکھتے تھے ۔ مگرمبشر کے یہ الفاظ فیا ض کی دیانت داری اور خلوص کے اوپر ذاتی حملے کے برابر تھے۔ میز کے گردسب لوگ دم بخود بیٹھے تھے۔ فیاض   کو جواب دینے کا کوئی راستہ نہ سوجھ رہا تھا۔ ایاز، جو ایسے موقعوں پر عموماً  مبشر کی حمایت کیا کرتا تھا، اب اپنی کرسی سے ٹیک لگائے، ایک ہاتھ میں چمچہ لیے اسے ہلاتا ہوا خاموش بیٹھا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں ایک خاص قسم کی چمک تھی ، جیسے وہ اس بحث کو ختم کرنا چاہتا ہو، مگر ساتھ ہی اس کی ناگواری کا لطف بھی لے رہا ہو ۔ اس نے ہر حال اس قصے کو رفع دفع کرنے کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا ۔ مبشراسی طرح چمچہ ہاتھ میں اٹھائے تعجب سے باری باری ہر ایک کا منہ تک رہا تھا۔ اس وقت اندر کے ایک کمرے سے گویا خدائی امداد کے طور پر ایک بچے کے رونے کی آواز سنائی دی۔ چند لمحوں کا جب کہ آناً فاناً میں ٹوٹ گیا ۔ سب لوگ ایک ساتھ حرکت میں آگئے۔ نسیم اچھل کر اٹھی اور اندر بھاگ گئی ۔ کلثوم نے کھیر کا ڈونگہ اٹھایا اورہنس کر بولی :’’ بھئی باتوں کے جوش میں میٹھا نہ بھول جائیے۔‘‘، خلیق ڈونگہ اس کے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور تقریر کرنے کے انداز میں بولا :’’ بھائیو اور بہنو ۔ ہم تو کھیر کھانے آئے ہیں۔ کھیر کھا کے چلے جائیں گے ۔ جب وہ کرسی پر بیٹھ رہا تھا تو اس کو احساس ہوا کہ اس کی بات موقعے کے مطابق نہ تھی اور اس سے شاید فیاض کی مزید تضحیک کا پہلو نکلتا تھا۔ چناں چہ اس نے جلدی میں ایک اور بھونڈا سامذاق اپنے اوپر کیا اور خود ہی قہقہہ لگا کہ ہنس پڑا ۔ ایاز اور اظہر بھی ہنسی میں شامل ہو گئے۔ پھر اظہر نے کوئی بات چھیڑ دی۔ نسیم روتے ہوئے بچے کو اٹھائے واپس آئی تو سب بچے کی جانب متوجہ ہو گئے۔ بچے کی آیا نسیم کے عقب میں چلتی ہوئی آئی مگر کھانے کے کمرے کے دروازے پر ہی رک گئی ۔ بچہ سوتے میں ڈر گیا تھا۔ اظہر اس کے سامنے ناچ ناچ کہ اسے چپ کرانے کی کوشش کرنے لگا، پھر سب نے باری باری بچے کو دھیان لگانے کی اپنی سی کوشش کی ،حتیٰ کہ فیاض بھی اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر انہیں پروں کی طرح ہلا ہلا کر مرغ کی بانگ دینے لگا۔ بچہ ان حرکات سے پریشان ہو کر چند لمحوں کے لیے چپ ہو گیا ، پھر رونے لگا۔ چند منٹ کے اندر کھانے کے کمرے میں خوش دلی اور امن کی فضا بحال ہو گئی ۔

     ایاز کے چھوٹے بیٹے کا میرے ساتھ بہت لگاؤ تھا۔ کچھ دیر کے بعد جب اس نے رونا بند کیا تو اس کی ماں نے اسے سلانے کی کوشش کی ، مگر اتنے لوگوں کو دیکھ کر بچے کی نیند اڑ چکی تھی۔ میں نے اٹھ کر ہاتھ آگے بڑھائے۔ بچہ میرے پاس آگیا۔ میں اسے لے کر کرسی پر بیٹھ گیا اور کھیر میں سے میوے چن چن کر اسے کھلانے لگا۔ میز پر اب سیبوں اور سنگتروں کی ر کا بیاں آگئی تھیں ۔ فیاض اور مبشر نے آہستہ آہستہ اب کھل کر بات کرنی شروع کر دی تھی ۔ فیاض نے پچھلی بات کے سلسلے میں ایک آدھ مذاق بھی کیا، جس کا مبشر نے خوش دلی سے جواب دیا۔ ابھی سب میز پہ ہی بیٹھے تھے کہ اظہر نے روانگی کا اعلان کر دیا ۔ چاروں طرف سے رسمی مایوسی کا اظہار کیا گیا:’’ گھر کا آدمی ہونے کے یہ مزے ہیں۔ کھایا اور اٹھ کے چل دیے ‘‘۔ خلیق بولا’’ ہم ایسا کرنے کی جرأت کریں تو بولیں ابے کیا ہوٹل سمجھ رکھا ہے ‘‘۔ اظہر ہنسنے لگا۔ نسیم خلیق کی جانب انگلی ہلا کر بولی، ’’ آپ اپنی باتوں سے باز نہیں آتے نا خلیق بھائی‘‘ ۔ خلیق نے بننے کے انداز میں سینے پر دونوں ہاتھ جوڑ کر سر جھکا دیا ۔ چند منٹ کے بعد اظہر اور کلثوم اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کے ساتھ ساتھ باقی سب لوگ بھی رومالوں سے ہاتھ پونچھتے اور تیلیوں سے دانت صاف کرتے ہوئے اٹھ بیٹھے۔ میں نے اپنی کرسی چھوڑ کر اٹھنے کی کوشش کی تو بچہ منہ بسورنا ہوا میز پر پڑے چھری کانٹوں کی جانب، جن سے وہ کھیل رہا تھا، لپک پڑا میں دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ اظہر اور کلثوم نے جاتے جاتے بچے کو پیار کیا۔ میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے انہیں الوداع کہہ دیا۔ سب لوگ کھانے کے کمرے سے نکل گئے، صرف میں بچے کو گود میں لیے بیٹھارہ گیا۔ باہر والے کمرے سے شب بخیر کی آوازیں آرہی تھیں۔ اظہر اور کلثوم رخصت ہو رہے تھے۔ پھر دروازہ بند ہو گیا ۔ باہر کار چلنے کی آواز آئی ۔ باقی لوگ اب اندر اگر آتش د ان کے پاس بیٹھ گئے تھے۔ نسیم کافی بنانے کے لیے باورچی خانے چلی گئی ۔ میں چھری کانٹوں کی مدد سے میز پر مختلف شکلیں بنا کہ بچے کے ساتھ کھیلتا اور باتیں کرتا رہا ۔ میرے اور اس کے درمیان ایک بڑا رشتہ کہانی سنانے کا تھا۔ کھیلتے کھیلتے اسے کہانی یاد آگئی اور وہ اصرار کرنے لگا۔ میں نے اسے ایک مختصر سی کہانی سنانی شروع کر دی۔ دوسرے کمرے سے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ نسیم جب کافی لے کر گزری تو بولی : ’’ چلیے بھائی۔ یہ بچہ تو رات بھر آپ کو یہیں بٹھائے رکھے گا ۔‘‘ میں اٹھ کر نسیم کے ہمراہ دوسرے کمرے میں چلا آیا ۔ آگ بجھ ر ہی تھی۔ ایاز نے اندر سے خشک لکڑیاں لاکر آگ پر رکھ دیں ۔ چند منٹ میں لکڑیاں شعلے دینے لگیں۔ بچہ ابھی تک میرے ساتھ چپکا بیٹھا تھا ۔ میں ایک ہاتھ سے اسے سنبھالے دوسرے ہاتھ سے کافی پی رہا تھا۔ خلیق ، مبشر اور ایا ز اپنے کسی جاننے والے کا وکیل کا ذکر کر رہے تھے جس نے ’’کرکڈ پریکٹس‘‘ شروع کر رکھی تھی اور عدالتوں کی نظروں میں گرتا جار ہا تھا۔ میں نے کافی کی پیالی خالی کر کے میز پر ر کھی تو میری نظر نسیم پر پڑی جو میری ڈائری میز سے اٹھا کر ہاتھ میں لیے بے خیالی سے اس کے ورق الٹ رہی تھی ، اور ساتھ ساتھ فیاض سے باتیں کرتی جا رہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد بچے کو نیند آنے لگی۔ اسے اونگھتے دیکھ کرنسیم اٹھ کھڑی ہوئی ۔

    ’’ بھئی میں تو اب چلی ۔‘‘ وہ بچے کو میری گود سے لیتے ہوئے بولی۔

    فیاض ،خلیق اور مبشر اپنی جگہوں سے اٹھنے لگے تو وہ جلدی سے بولی، ’’ بیٹھیے بھائی۔ آپ بیٹھیے ۔ ایاز تو رات کو بارہ بجے سے پہلے نہیں سوتے مجھے نیند آجاتی ہے۔خدا حافظ۔‘‘

    ’’بھا بھی بہت بہت شکریہ کھانے کا ۔‘‘ فیاض نے کہا ۔

    ’’بھئی نسیم اگلی بار کب آئیں۔‘‘ خلیق بولا، ’’دن بتا دو ابھی سے تیاری شروع کر دیں ۔‘‘

    ’’ بھوکا ر ہنے کی ؟‘‘ فیاض نے پوچھا۔

    ’’جب آپ کا دل چاہے تشریف لائیں۔ خلیق بھائی ۔ آپ کا اپنا گھر ہے۔‘‘ نسیم نے کہا، ’’خدا حافظ۔‘‘

    ’’ خدا حافظ ۔‘‘ مبشر تیزی سے بولا۔

    ’’خدا حافظ ۔‘‘ نسیم نے پیار سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

    ’’ خدا حافظ۔‘‘

    نسیم کے جانے کے بعد چند منٹ تک گفتگو میں وقفہ آگیا۔ پھر خلیق اور ایاز نے اپنی بات وہاں سے شروع کر دی جہاں پہ چھوڑی تھی۔ مبشران کی گفتگو سے نکل گیا تھا ۔ وہ اب کرسی پہ خاموش بیٹھا حیرت سے آگ کے شعلوں کو دیکھ رہا تھا۔ فیاض نے فراغت کے ساتھ اپنے پائپ کو صاف کیا، پھر اس میں تمباکو بھر کے سلگا لیا ۔ کمرے میں فیاضی کے پائپ اور خلیق کے سگریٹوں کا دھواں بھر گیا تھا۔ میں اٹھ کر کھڑکی کے پاس گیا اور اس کا ایک پٹ کھول کر باہر دیکھنے لگا۔ باہر سے گیلی گیلی خنک ہوا کا ایک جھونکا میرے چہرے سے آکر ٹکرایا۔ میں نے کھڑکی میں کھڑے کھڑے متعدد لمبے لمبے سانس لیے۔ کمرے میں اب خلیق، ایاز اور فیاض کی دھیمی، شکم سیر آوازوں کی گنگناہٹ تھی ۔ باہر بارش ایک بار رک کر دوبارہ شروع ہو رہی تھی ۔ گھاس پر اور باغ کے درختوں پر اور سڑک سے گزرتی ہوئی سوار یوں پرا ور دور دور تک گھروں پر بارش کی روشنیاں جھلملا رہی تھیں ۔

    ’’ بارش ابھی ہو رہی ہے ؟‘‘ ایاز نے پوچھا ۔

    ’’ہاں‘‘ میں نے جواب دیا ۔

     سرد ہوا نے میرے بدن میں ہلکی سے کپکپی پیدا کر دی تھی۔ میں کھڑکی بند کر کے لوٹ آیا۔ ایاز، خلیق اور فیاض نے اب ملک کے عام حالات کے بارے میں باتیں شروع کر دی تھیں۔ مگر ان کی گفتگو زیادہ تر ذاتیات تک محدو د تھی ۔ کون کیا بن گیا ہے ، کون کیا بن رہا ہے، اور کون کس چکر میں ہے۔ موضوع دلچسپ تھا۔ آہستہ آہستہ میں بھی اس میں شامل ہو گیا۔ مبشر اسی طرح سکتے کے عالم میں بیٹھا تھا۔ بعد میں اس نے دو ایک باتیں کیں، مگر بیشتر وقت وہ قناعت سے خاموش بیٹھا رہا۔ رات کے کھانے اور دوستوں کی مجلس نے میرے دل کی حالت سنوار دی تھی۔ ہم سب کے چہروں پر گہرے اطمینان اور خوشی کی کیفیت تھی اور ہماری گفتگو دهیمی، سپاٹ اور بے مقصد تھی ۔ اس خوش کن ماحول میں وقت کا پتا نہ چلا۔ ایک گھنٹہ گزر گیا۔

     آخر خلیق نے اپنے آخری عمل کے طورپر مہندی لگے بالوں میں انگلیاں دوڑائیں اور فیاض سے بولا :

    ’’ کیا خیال ہے بھئی رات یہیں بسر کرنے کا ارادہ ہے ؟‘‘

    فیاض، مبشر اور خلیق اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کے بعد میں اٹھا۔ آخر میں ایا ز اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ خلیق نے اور رکوٹ اور مبشر نے برساتی کا کوٹ پہن کربٹن بند کر لیے۔

    ’’اچھا بھئی۔‘‘ خلیق نے ہا تھ ایاز کی طرف بڑھایا، ’’ خدا حافظ ‘‘۔

    ایاز نے اس سے ہاتھ ملایا۔ پھر اس نے فیاض اور مبشر سے ہاتھ ملایا۔ پھر میں نے ان تینوں سے ہاتھ ملائے۔ ایاز نے دروازہ کھولا۔  باہر بارش رک رک کر ہو رہی تھی۔ ہوازوروں پر تھی۔ ہوا کی خنکی کو محسوس کر کے ایا ز نے ایک جھرجھری لی۔ خلیق کی موٹر بر آمدے کے آگے کھڑی تھی ۔ وہ در وازہ کھول کر جلدی سے موٹر میں داخل ہو گیا ۔ فیاض اس کے ساتھ آگے اور مبشر  پیچھے کی سیٹ پر جا بیٹھا۔ کھٹاک کھٹاک دروازے بند ہوئے ۔ پھر گاڑی سٹارٹ ہوئی۔ موٹر کے اندر ان تینوں نے، اور برآمدے میں میں نے اور ایاز نے ہاتھ ہلا کر الوداع کہا۔ موٹر گیلی مٹی اور پانی کے چھینٹے اڑاتی ہوئی گیٹ سے باہر نکل گئی۔ ایاز سڑک کو دیکھتا رہا۔ بارش رکنے لگی تھی مگر آخری دموں کی باریک پھوار ہوا کے تھپیڑوں کے ساتھ آدھے برآمدے تک آرہی تھی۔ ایاز ہاتھ پتلون کی جیبوں میں دیے، بر آمدے کی دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا تھا۔ مجھے سردی محسوس ہونے لگی۔

    ’’ چلو یار ۔ ‘‘میں نے کہا ،’’بھیگنے کی صلاح ہے ؟‘‘

    ایاز اسی طرح کھڑا رہا۔ موٹر کی عقبی روشنیاں موڑ کاٹ کر غائب ہو چکی تھیں۔ مگر ایاز کی نظریں اندھیرے پر لگی تھیں ۔ اس نے چند گھنٹے اپنے پرانے اور عزیز دوستوں کی محفل میں گزارے تھے۔ اب آدھی رات کا وقت ہو گیا تھا اور ایک ایک کر کے سب اپنے گھروں کو روانہ ہو چکے تھے ۔ رات سنسان پڑی تھی۔ ایک لمحے کے لیے میں نے محسوس کیا گویا میں کسی اجنبی کو دیکھ رہا ہوں ۔ایاز کی ٹائی کی گانٹھ اس کے سینے پر لٹک رہی تھی ۔ اس کے بال آدھے سے زیادہ سفید ہو چکے تھے اور اس کا چہرہ جوانی اور بڑھا پے کے طویل سنگم پر اٹکا کھڑ اتھا۔ مجھے یوں لگا جیسے میں ایاز کے گھر کے بر آمدے میں نہیں بلکہ کہیں اور، کسی نا واقف مقام پہ کھڑا ہوں۔ مجھے دنیا کے بے اصل ہونے کا احساس ہوا۔

    ’’ چلو ۔‘‘ آخر ایاز بولا ، ’’اب کون گیٹ بند کرنے جائے ؟‘‘

    ہم دوبارہ کمرے میں داخل ہوئے تو محسوس ہوا کہ کمرہ باہر کی نسبت کتنا گرم تھا۔ دروازہ بند کر کے ایاز نے گھڑی پر نظر ڈالی ۔

    ’’بارہ بجنے والے ہیں ۔‘‘ وہ جمائی لے کر بولا ،’’ نسیم.....‘‘ اس نے عادتاً پکارا۔ ’’سوگئی ہے ۔‘‘ وہ اپنے آپ سے بولا۔’’ اچھا بھئی تمہارا تو پڑھنے لکھنے کا وقت اب ہو رہا ہے ۔‘‘ وہ مجھ سے بولا ، ’’میں تو چلا۔ کل ملاقات ہوگی ۔ خدا حافظ ۔‘‘

    مجھے پیاس محسوس ہو رہی تھی۔ میں پانی کی تلاش میں باورچی خانے کی جانب بڑھا۔ گلاس میں پانی ڈالتے ہوئے میری نظر کھڑکی سے باہر گئی تو پچھلے برآمدے میں مجھے اندھیرے کے اندر ایک سردکھائی دیا۔ میں نے ہاتھ روک کر غور سے دیکھا تو کوئی کرسی پہ بیٹھا تھا۔ بر آمدے کا یہ حصہ دوطرف سے جالی لگا کر بند کر دیا گیا تھا اور دن کے وقت دھوپ میں بیٹھنے کے لیے استعمال ہوتا تھا ۔ میں نے بھرا ہوا گلاس میز پر رکھ دیا اور دبے پاؤں باورچی خانے کے پچھلے دروازے کی طرف بڑھا۔ درواز آدھا کھلا تھا۔ میں نے دروازے سے سر نکال کر دیکھا۔ چند لمحے  تک مجھے کچھ دکھائی نہ دیا۔ جب میری آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو میں دروازے سے نکل کر ایک قدم آگے بڑھا ۔ اب میں اندھیرے میں کھڑا تھا اور صاف طور پہ دیکھ سکتا تھا۔ یہ نسیم تھی۔ وہ کندھوں کے گرد شال لپیٹے ، دونوں بازو سینے پہ باندھے کرسی پر سیدھی بیٹھی تھی ۔ اس کی گود میں میری ڈائری پڑی تھی ۔

    ’’ نسیم۔‘‘میں نے ہولے سے پکارا۔

     اس نے ذرا سا منہ پھیر کر مجھے دیکھا ، پھر جلدی سے پرے کر لیا۔ وہ رو رہی تھی۔ میرا ہا تھ بجلی کے بٹن کی طرف اٹھا، پھر رک گیا۔ میری نظریں بے خیالی میں ادھر ادھر بھٹکنے لگیں ۔ آسمان پہ بادل پتلے ہو گئے تھے اور عقب سے چاند کی روشنی ان کے اندر پھیلنے لگی تھی ۔ بارش بند ہوچکی تھی، مگر ہواتندی سے چل رہی تھی۔ رات کے اندر درخت شائیں شائیں کر ر ہے تھے۔ فروری کا موسم اپنا رنگ دکھا رہا تھا۔ میں نے دوبارہ نسیم کو پکارنے کے لیے منہ کھولا، مگر خاموش رہا۔ وہ اسی طرح کرسی پہ سیدھے بدن بیٹھی تھی ۔ اس کے جسم میں نہ حرکت تھی نہ آواز، جیسے دنیا سے الگ تھلگ بیٹھی ہو۔ میں اسے وہیں چھوڑ کر الٹے پاؤں لوٹ آیا۔

    کمرے میں واپس آکر میں آتش دان کے پاس کرسی پر بیٹھ گیا۔ آگ بجھ چکی تھی ۔ میں وہاں بیٹھا ایاز کا انتظار کرتا رہا۔ ابھی وہ نسیم کو پکارتا ہوا آئے گا، میں نے تصور کیا۔ نسیم باورچی خانے کی جانب سے نکلے گی۔’’ کہاں چلی گئی تھیں ؟‘‘ ایاز پوچھے گا ۔’’یہیں پر تھی۔‘‘   نسیم آہستہ سے مسکرا کر جواب دے گی ، ’’ذرا تازہ ہوامیں نکلی تھی ۔‘‘ پھر وہ ایاز کے ہم راہ خواب گاہ کو لوٹ جائے گی۔

    مگر ایاز کے آنے سے پہلے ہی میں اٹھ کر اپنے کمرے کو چلا آیا ۔

    اس بات کو بیس  سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ان بیس  برسوں نے کیا کچھ نہیں دیکھ لیا ۔ ایاز نے اس مقدمے میں ظفر کی جان بچائی ، مگر ظفر کو عمر قید ہوگئی ۔ اس کے کچھ عرصے بعد ایاز نے سرکاری عہدہ قبول کر لیا ۔ وہ ایڈووکیٹ جنرل بنا ۔ دو سال کے بعد اس نے استعفےٰ دے دیا اور دوبارہ پر یکٹس کرنے لگا۔ پھر کچھ دیر کے بعد اس نے ایک نئی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ انتخابات میں وہ پارٹی کے ٹکٹ پر لاہور کے ایک حلقے سے بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوا، جب اس کی پارٹی کی حکومت بنی تو اسے وزیر قانون کا عہدہ ملا۔ کچھ دیر کے لیے وہ قائم مقام وزیر تجارت بھی رہا ۔ کیا زمانہ تھا ! ہم سب ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے۔ پھریکا یک وقت بیت گیا۔ اوپر کا نیچے اور نیچے کا اوپر ہو گیا۔ آج کل ایا ز بد عنوانی کے الزام میں جیل کاٹ رہا ہے۔ اس نے بدعنوانی کی یا نہیں، یہ ایک الگ کہانی ہے۔ اختیار کی وسعت کے ساتھ ساتھ بد عنوانی کے نئے نئے عنوان مقررہ ہوتے ہیں ۔ مگر ایاز  اپنی زندگی سے مطمئن نظر آتا ہے۔ اس نے اپنی قابلیت کو پوری طرح استعمال کیا اور اپنی اہلیت کی حد کو پہنچا۔ اس سے زیادہ آدمی کسی بات کی امید کر سکتا ہے ۔

     میں مہینے میں ایک بار ایاز  سے ملاقات کے لیے لاہور جاتا رہتا ہوں ۔ اسے جیل میں بی کلاس ملی ہے۔ کل میں اس سے ملنے گیا تو اس کی طبیعت کچھ خراب تھی ۔ کہنے لگا، ’’بدہضمی ہے ، اور کچھ نہیں۔ کم بختوں نے میرا کھانا پکانے والا پھر بدل دیا ہے۔“ میں نے پوچھا اب کون آیا ہے، تو بولا، ’’ کوئی نیا بدھو ہے ۔ بیوی کے قتل پرجیل کاٹ رہا ہے ۔ کھانا پکانا بالکل نہیں جانتا ۔ میں نے آج شکایت بھیجی ہے۔ میں نسیم کو تکلیف دینا نہیں چاہتا ۔‘‘پھر جیسے اچانک اس کو پرانا واقعہ یاد آ گیا ۔ کہنے لگا ،’’تمہیں یاد ہے ، ایک زمانے میں ہم نے ایک شخص کا کیس لڑا تھا جس نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا تھا‘‘ ؟’’ مجھے یاد ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا ۔ کچھ دیر تک وہ اپنے کمرے کی چھوٹی سی کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا ، جیسے یاد کر رہا ہو۔ پھر ہنس  کربولا ، ’’ تم نے اس کیس میں خوب سراغ رسانی کی تھی۔‘‘ میں بھی ہنس  پڑا ۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ سارا واقعہ آگیا ۔ ایا ز اب اکثر مجھ سے ماضی کی باتیں کیا کرتا ہے ، گویا اس وقت کی کسر پوری کر رہا ہو جب اس کے پاس بات کرنے کی فرصت نہ ہوتی تھی، اور میں نسیم سے مل کر واپس آجایا کرتا تھا۔ کبھی کبھی وہ مجھ سے کہتا ہے ، ’’تمہارے پاس ٹیلنٹ ہے۔ کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہو۔ اپنے ملک کی کہانی لکھو۔ دیکھتے نہیں‘‘ ، وہ جوش میں آکر کہتا ہے ۔’’یہ ملک دنیا کی تاریخ کو دفن کر چکا ہے ۔‘‘ ایسے موقعوں پرا سے دیکھ کر مجھے دکھ ہوتا ہے ۔ وہ ایسے لوگوں میں سے ہے جنہیں عظمت چھو کر نکل جاتی ہے۔ بیس  برس پہلے مجھے کیا خبر تھی کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ہماری ایک نسل کی نسل کا یہی حشر ہوگا۔ وہ لوگ اب کہاں ہیں۔ مبشر نے ایاز کے ساتھ ہی سیاسی جماعت میں شمولیت کی تھی۔ ہوتے ہوتے وہ صوبائی وزیر کے عہدے تک پہنچا ۔ مگر   آدمی ہو شیار تھا۔ وقت کی رفتار پہچان کر اچھے موقعے پر مستعفی ہو گیا اور پریکٹس  کی جانب لوٹ آیا۔ آج کل وہ چوٹی کا وکیل ہے اور حکومت سے بھاری فیس وصول کر کے اپنی سابقہ پار ٹی کے لوگوں کے خلاف مقدموں کی وکالت کرتا ہے ۔ فیاض نے پہلے چار پانچ سالہ دور میں رسوخ حاصل کر کے بہت ساری جائیداد اکٹھی کر لی تھی ۔ پھر اس نے ایک پریس لگا لیا اور اخبار نویسی سے ریٹائر ہو کر  کاروبار میں لگ گیا ۔ فیاض اور خلیق کی آخری دم تک دوستی رہی ۔ وہ دونوں ہر روز بلاناغہ شام کے وقت شہر کے ایک فیشن ایبل ریستوران   میں اپنے چند دوستوں کے ہمراہ موجود ہوتے تھے اور رات گئے تک وہاں بیٹھے رہتے تھے ۔ اسی ریستوران میں ایک شام کو خلیق کھانا کھاتے کھاتے اوندھے منہ میز پر گرا اور انتقال کر گیا ۔

    صرف نسیم اس ابتلا سے سرخرو ہو کر نکلی ہے۔ اس نے اپنی روش نہیں بدلی۔ اچھے وقت میں اور برے میں وہ برابر ایاز کے پہلو میں ثابت قدمی سے کھڑی رہی ہے۔ اس کے والدین فوت ہو چکے ہیں۔ دونوں بیٹے امریکہ اور جرمنی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ ہفتے میں ایک بار ایاز سے ملاقات کے لیے جاتی ہے ۔ میری ملاقات اکثر جیل میں ہی نسیم سے ہو جاتی ہے۔ پھر عموماً میں وہاں سے اس کے ساتھ گھر چلا آتا ہوں ۔ گھر میں صرف ایک ملازم رہ گیا ہے جو نسیم کا سارا کام سنبھالتا ہے۔ کوٹھی ویران پڑی ہے ۔ اظہر اور اس کی بیوی کبھی کبھی نسیم سے ملنے کے لیے آتے رہتے ہیں۔ (انہیں ایاز اور نسیم سے کچھ شکایتیں ہیں جو اس وقت سے تعلق  رکھتی ہیں جب ایاز اقتدار میں تھا۔) باقی وقت وہ گھر میں اکیلی رہتی ہے ۔ بیٹوں کے خط پڑھتی ہے اور کئی کئی دن تک ان کے جواب لکھتی رہتی ہے۔ اس کے کمرے میں پرانے اخباروں اور رسالوں کے ڈھیر پڑے ہیں جن میں ایاز کی اوراس کی تصویریں چھپی ہوئی ہیں۔ کبھی کبھار وقت گزاری کے لیے انہیں اٹھا کر پڑھتی ہے۔ مگر، بیشتر وقت وہ اب اپنے کمرے میں کرسی پہ بیٹھی کھڑکی سے باہر دیکھتی رہتی ہے ، جہاں باغ میں جگہ جگہ پہ  گھاس اگ آئی ہے۔ شام کے وقت دیر تک اس کے کمرے میں بتی نہیں جلتی ۔ اس کے چہرے کے نقوش ڈھے گئے ہیں۔ مگر وہ لباس کے معاملے میں ابھی تک خاصی محتاط ہے۔   اس کی عمر بھر کی یہ ایک عادت ایسی ہے جو برابر چلی آرہی ہے ۔ اس کا ذوق شروع  سے بہت عمدہ رہا ہے ، اور جب بھی میں اس سے ملتا ہوں صاف ستھرا اور نفیس لباس اس کے زیب تن ہوتا ہے ۔ مگر میرے چہرے پر آنکھیں لگی ہیں، میں دیکھ سکتا ہوں ۔ لباس کے اندر وہ ہڈیوں کی موٹھ ہو چکی ہے۔ کئی بار مجھے خیال آتاہے کہ اس عورت کو کس بات کا صلہ مل رہا ہے۔ اس نے ایک باعزت اور باوقار زندگی بسر کی ہے۔ مجھے دکھ ہوتا ہے۔

    جہاں تک میری زندگی کا تعلق ہے ، خدا کا شکر ہے، بسر ہو رہی ہے۔ مگر بیس سال سے میں نے کوئی کہانی نہیں لکھی۔ البتہ ڈائری باقاعدگی سے لکھتا ہوں۔ ڈائری میں میں اپنے اوپر گزرے ہوئے واقعات قلم بند کرتا رہتا ہوں۔ فقط!