واپسی کا سفر
اس مکان میں ہم اٹھارہ مرد رہتے تھے۔ یہ مکان مدت سے مسماری کے پروگرام میں آچکا تھا، مگر ابھی تک کھڑا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب میں پہلے پہل اپنے ملک کو چھوڑ کر یہاں آیا تھا۔ شہر لندن میں میں ایک ہفتے تک ٹھہرارہا، مگر وہاں میرا کام نہیں بنا۔ جو آدمی ہمیں ادھر لے کر آیا تھا وہ جاتے جاتے ایک دو پتے دے گیا تھا، تا کہ سر چھپانے کی جگہ مل جائے۔ ایک پتے کو پوچھتا ہوا میں برمنگھم آنکلا۔ یہاں پہنچ کر قسمت نے مدد کی، دو چار دن کے اندر ہی مجھے کام مل گیا اور میں یہیں پر رک گیا۔ اس طرح اگلے دو سال کے لیے برمنگھم میرا شہر، اور وہ مکان میرا گھر بن گیا۔ پھر اُس گھر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے بم کے دھماکے کی طرح اچھال کر ہمیں ادھر ادھر بکھیر دیا۔ ہم سب غیر قانونی طور پر اس ملک میں داخل ہوئے تھے اور کام کاج کر رہے تھے۔ جس روز وہ واقعہ پیش آیا ہم سب اُٹھ کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ جو چار پانچ آدمی اُس وقت گھر میں موجود تھے ان کو سامان باندھنے کا موقع مل گیا۔ باقی کے باہر ہی باہر سے غائب ہو گئے۔ جس طرف کسی کا منہ اٹھا اُسی طرف کو نکل گیا۔ میں گرتا پڑتا ہو اسکاٹ لینڈ جا پہنچا اور کئی برس تک گلاسکو میں رہتا رہا۔ اس بات کو ایک عرصہ گزر چکا ہے، مگر اُس دن سے لے کر آج تک مجھے اُن آدمیوں میں سے کسی ایک کی شکل نظر نہیں آئی۔ میں سوچتا ہوں پیر کا چکر تو قسمت کا چکر ہے، ایک زندگی کا چکر الگ ہے جو اس سے بھی اندھا چکر ہے۔ اُس زمانے سے صرف ثاقب ایک ایسا آدمی ہے جس سے سال میں ایک دوبار ملاقات ہو جاتی ہے۔ مگر ثاقب کی بات دوسری ہے۔ اول تو اس کی ایک خاص جگہ مقرر ہے جہاں وہ موجود رہتا ہے۔ دوم ثاقب کا اس واقعے سے گہرا تعلق ہے جس نے ہمارے بسے بسائے گھر کو اجاڑ کے رکھ دیا تھا۔
اب زندگی خاصی آسان ہو گئی ہے۔ کئی سال کی در بدری کے بعد اب مجھے اس ملک کی شہریت مل چکی ہے۔ آخری دنوں میں اپنے ہی ایک آدمی نے مخبری کر دی تھی جس کی وجہ سے مجھے تین مہینے کی جیل کاٹنی پڑی۔ مگر خوش قسمتی سے اُنہیں دنوں کے اندر یہاں کا قانون بدل گیا۔ اس سے پہلے میرا وکیل مقدمہ لڑ رہا تھا۔ اُس نے حکومت کو بتایا کہ مجھے یہاں رہتے ہوئے اور کام کرتے ہوئے پانچ سال سے زاید ہو گئے ہیں اور میں نے پورا ٹیکس ادا کیا ہے۔ علاؤہ ازیں کسی چھوٹے بڑے جرم میں ملوث نہیں ہوا۔ مارگریٹ میکٹگرٹ کا قصہ بھی بیچ میں آگیا جس کے ساتھ گلاسکو میں میرا تعلق پیدا ہو گیا تھا۔ میں اُسی کے گھر میں رہائش پذیر تھا۔ مارگریٹ سے میرا ایک بیٹا بھی تولد ہوا تھا، گو نکاح کی نوبت کبھی نہیں آئی، نہ ہی میرا کوئی ارادہ تھا۔ کیوں کہ میرے بیوی بچے پیچھے موجود تھے۔ میری کوشش تھی کہ اس قصے کا ذکر بیچ میں نہ لایا جائے۔ مگر میرے وکیل نے بتایا کہ ادھر یہ کوئی غیر قانونی بات نہیں، بلکہ اس کی وجہ سے میرا کیس اور بھی مضبوط ہو جائے گا۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ پھر اس دوران میں ملک کا قانون بدل گیا اور مجھے یہاں رہنے کی کھلی آزادی مل گئی۔ سکاٹ لینڈ کی سردی نے میری ہڈیاں جما دی تھیں۔ آزاد ہوتے ہی میں وہاں سے منتقل ہو کر ادھر لندن کے قریب آگیا۔ یہاں کا موسم اچھا ہے اور مجھے پوسٹ آفس میں ملازمت مل گئی ہے۔ حکومت کی کچی نوکری ہے، اس میں اوور ٹائم بہت لگتا ہے، جتنی ڈیوٹی اُتنا اوور ٹائم میں نے اپنا مکان خرید لیا ہے اور اپنے بیوی بچوں کو بھی اپنے پاس بلا لیا ہے۔ مارگریٹ سے اب میرا کوئی تعلق نہیں ر ہا،بس اپنے بیٹے ماجد کو، جس کا نام میں نے اپنے چچا کے نام پہ رکھا ہے، باقاعدگی سے خرچہ بھیجتا ہوں۔ وہ آرام سے مارگریٹ کے دوسرے دو بچوں کے ہمراہ پرورش پا رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کیا فرق پڑتا ہے، یہاں رہے یا وہاں، آخر بیٹا تو میرا ہی ہے۔ بڑا ہو گا تو ایک دن خود ہی چل کر میرے پاس آجائے گا۔ میرے بچے اب میرے پاس رہتے ہیں، انگریزوں کی طرح انگریزی بولتے ہیں۔ زندگی اب کافی مطمئن ہو گئی ہے۔ مگر دن رات یہاں پر سر اُٹھانے کی مہلت نہیں ملتی۔ آج کل میں ہسپتال میں پڑا ہوں تو کچھ فرصت ملی ہے، دن بھر خاموش لیٹا رہتا ہوں، پرانی پرانی باتیں یاد آتی ہیں۔ میں عمر میں پہلی بار ہسپتال میں داخل ہوا ہوں۔ اپنی طرف تو ہسپتال میں داخل ہونے کا رواج ہی نہیں تھا۔ گھر پر پڑے پڑے دُرست ہو جایا کرتے تھے۔ ایسے بھی میری صحت اچھی واقع ہوئی ہے۔ خدا کا شکر ہے، کبھی کوئی بیماری نہیں لگی۔ یہ بھی ایک معمولی سے حادثے کی وجہ سے ہسپتال میں آنا پڑا ہے، کوئی بیماری وغیرہ نہیں۔ میرے بس میں ہو تو ا بھی اُٹھ کر کام پر چلا جاؤں۔ مگر یہاں ڈاکٹر کا حکم چلتا ہے۔ مجھے لٹا رکھا ہے، کئی دن سے ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ ویسے میں آرام سے ہوں۔ ہسپتال کیا ہے ایک عالی شان عمارت ہے۔ جیسے کوئی محل ہو۔ چمکتا ہوا فرش اور سفید براق بستر ہیں اور ڈاکٹر زیادہ تر ہمارے وطن کے ہیں یا افریقہ کے کالے ہیں۔ ان کی وردیاں بھی سفید براق ہیں۔ کھانے کا انتظام بہت عمدہ ہے، پیشاب پاخانے کے برتن صاف ستھرے ہیں، جیسے کوئی اعلیٰ درجے کا ہوٹل ہو۔ مگر عجیب بات ہے کہ جب سے یہاں پر آیا ہوں میرے دل میں بے وطنی کا احساس بڑھ گیا ہے اور کوئی تکلیف نہیں، مگر دل بے چین رہنے لگا ہے۔ پہلے پہل کی باتیں خیال میں آتی رہتی ہیں، اپنے ملک کی باتیں اور اس ملک کی باتیں، جیسے پچھلی زندگی آنکھوں کے سامنے سے گزرتی جا رہی ہو۔
ایک خاص بات ان دنوں میں ایسی ضرور ہوئی ہے جس کی وجہ سے برمنگھم کا زمانہ مجھے ہر وقت یاد آتا رہتا ہے۔ ہسپتال میں آنے سے کچھ دن پہلے میں ثاقب سے ملنے کے لیے گیا تھا۔ وہاں میں نے ثاقب کی واپسی کی خبر سنی، جس نے میرے دل کو بے حد رنجیدہ کر دیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، اُس زمانے کی ایک ایک بات میرے دماغ میں آئی چلی جاتی ہے، جیسے ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہو۔ اور برمنگھم کا وہ مکان جہاں میں نے پہلے دو سال گزارے تھے ایک تصویر کی طرح میرے دل میں آموجود ہوتا ہے۔ جب سے میں نے وہ جگہ چھوڑی ہے میں وہاں لوٹ کر نہیں گیا۔ اطلاع یہ ہے کہ وہ سارے کا سارا علاقہ میونسپلٹی نے گرا دیا ہے اور اُس کی جگہ نئے مکان بن رہے ہیں۔ مگر جہاں تک میری یاد کا تعلق ہے وہ مکان ویسے کا ویسا اپنی جگہ پر کھڑا ہے، جیسے کل کی بات ہو۔
اُس مکان میں ہم اٹھارہ مرد رہتے تھے۔ مکان کا مالک ایک بڈھا یہودی تھا۔ جنگ کے بعد اس نے کئی پرانے مکان سستے داموں سے خرید لیے تھے۔ یہ مکان اُس نے کرایے پر چڑھا رکھے تھے اور خود شہر کے ایک امیر علاقے میں رہتا تھا۔ کسی زمانے میں ہمارا علاقہ بھی اس شہر کے صاف ستھرے علاقوں میں گنا جاتا تھا۔ یہاں محنت مزدوری کر نے والے خانہ دار لوگ ایک ایک دو کمر سے کرایے پر لے کر رہتے تھے۔ رضا علی نے مجھے بتایا تھا کہ ان لوگوں کی عورتیں شام کے وقت فٹ پاتھوں کی صفائی کیا کرتی تھیں۔ رضا علی اُس وقت اس ملک میں آیا تھا جب جنگ ابھی نئی نئی ختم ہوئی تھی۔ مگر انیس سو پچاس کے بعد یہاں پر بڑی تعداد میں دوسرے ملکوں سے لوگ آنے شروع ہوئے۔ زیادہ نہ ہمارے وطن کے لوگ اور افریقہ کے کالے لوگ تھے۔ پانچ دس سال کے اندر گوروں کے اس شہر میں نیلے پیلے لوگوں کی کثرت ہو گئی۔ پیسہ دیکھ کر ان لوگوں نے ایسی جان ماری کہ اپنے مکان خریدنے کے قابل ہو گئے۔ اُس زمانے کی یہ سب باتیں مجھے رضا علی کی زبانی معلوم ہوئی تھیں۔ رضا علی سورت کا رہنے والا تھا۔ اُس نے بارہ سال کی عمر میں بحری جہازوں پر کام کرنا شروع کیا تھا اور ساری زبانیں بول لیتا تھا۔ سورتی، بنگالی، مدارسی، پنجابی، سب ایک بار اُس کا جہاز اس ملک سے گزرا تو رضا علی یہیں پر رہ گیا۔ میرے خیال میں وہ اس جگہ کا سب سے پرانا رہنے والا تھا۔
رضا علی کا کہنا تھا کہ کر ایے کے مکانوں کی وجہ سے یہ علاقہ پہلے ہی کافی خستہ حال ہو چکا تھا۔ پھر ہمارے لوگوں کی شکل دیکھتے ہی گورے لوگ یہاں سے بھاگنے لگے۔ مکانوں کی قیمتیں گر گئیں اور اپنے لوگوں نے آسان قسطوں پر ان کے مکان خرید لیے جو کرایے دار گورے آپ سے آپ گئے وہ گئے، جو نہ گئے ان کو مرچوں کی دھونی دے کر نکالا گیا۔ ان کی جگہ وطن سے نئے آنے والوں کو کمروں میں بھر لیا گیا۔ جب ہمارے لوگوں کی آبادی بڑھی تو اپنی دکانیں کھلنے لگیں۔ آٹے، دال،مرچ، گرم مصالحہ، حلال گوشت، جھٹکا گوشت، اصلی گھی کی مٹھائیاں، سرسوں کا ساگ، کریلے،سبز مرچ، آہستہ آہستہ سب کچھ ملنے لگا۔ دیسی کھانے کے ہوٹل کھل گئے۔ اب تو یہ حالت ہے کہ گورے لوگ بھاگ بھاگ کر ہمارے ہوٹلوں میں جاتے ہیں، سالن روٹی کھاتے ہیں اور پانی کے گلاس چڑھا کر ڈکار لیتے ہیں۔ مگر پہلے پہل سُنا ہے کہ ادھر سے گزر تے ہوئے ان کی آنکھوں سے پانی بہنے لگتا تھا۔ بڑی بڑی گلیوں میں رہنے والے لوگوں نے میونسپلٹی سے اجازت حاصل کر کے اپنے گھروں کی بیٹھکوں میں چھوٹے چھوٹے کیفے کھول لیے۔ یہ کیفے اُس وقت ان بے وطنوں کی زندگی کا مرکز ہوا کرتے تھے۔ آج کل تو نقشہ بدل چکا ہے۔ ہم لوگ اب اس ملک میں رہنے سہنے لگے ہیں۔ کام کاج ہے، بیوی بچے ہیں، آپس کی میل ملاقات ہے، مندرا ور مسجدیں تیار ہو گئی ہیں، کمیٹیاں بن گئی ہیں۔ جیب میں پیسہ ہے، کا رہاتھ کے نیچے ہے، ٹیلی وژن لگا ہوا ہے، بچوں کی برتھ ڈے ہوتی ہے، وقت اچھا گزر جاتا ہے۔ ان دنوں میں یہ چیزیں ابھی جاری نہیں ہوتی تھیں۔ یہ کیفے ہی ایسی جگہیں تھیں جہاں وقت گزرتا تھا اور روز گار کے بارے میں معلوم کیا جاتا تھا۔ اپنے اپنے علاقوں کے لوگ گروہ بنا کر میزوں کے گرد بیٹھے رہتے تھے۔ نئے آنے والوں کو ملک کے طور طریقے اور دفتری کا رروائیاں سمجھائی جاتی تھیں۔ سارا دن ریکارڈ بجتے رہتے تھے۔ یہ کیفے شاید پہلی ایسی جگہیں تھیں جہاں سے اس سرزمین پر ہماری غزلوں اور قوالیوں کی سریلی آواز بلند ہوئی تھی۔ کئی سال کے بعد انہیں کیفوں میں سے ایک کے اندار رضاعلی سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ اب بوڑھا ہو چکا تھا۔ سارا دن وہ ایک سے دوسرے کیفے میں آتا جاتا رہتا۔ اس کا کسی ایک گروہ کے ساتھ میل جول نہ تھا بلکہ بنگالیوں، پنجابیوں سب کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا تھا۔ لوگ سارا دن اس کو چائے خرید خرید کر پلاتے رہتے تھے، کیوں کہ رضا علی یہاں کی سب دفتری کارروائیاں سمجھتا تھا اور ہر مسئلے پر اپنی رائے دینے کے لیے تیا ررہتا تھا۔ رضا علی دل کا بہت اچھا تھا۔ اُس کی زندگی عجیب گزری تھی۔ بارہ سال کی عمر میں اس نے سمندری جہازوں پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ سال میں ایک دوبار وہ اپنے گاؤں کا چکر لگا آتا تھا۔ ایک بار وہ گاؤں گیا تو اُس کی شادی ہو گئی۔ اُس وقت وہ سولہ سال کا تھا۔ رضا علی کی ایک لڑ کی تھی جو شادی شدہ تھی۔ رضا علی کے پاس تصویریں تھیں جو اُس نے مجھے دکھائیں۔ زیادہ تر اُس کی اپنی جوانی کی تصویریں تھیں جن میں وہ اپنے جہازی دوستوں کے ساتھ گلے میں با ہیں ڈالے بندرگاہوں پر اور جہازوں پر کھڑا تھا۔ باقی کی اس کی بیٹی کی تصویریں تھیں۔ اس کی بیٹی کے بچپن، جوانی اور شادی شدہ ہونے کی تصویریں تھیں۔ کچھ اس کی بیٹی کے بچوں کی تصویریں تھیں۔ ان بچوں کو رضا علی نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان کی تصویر یں اس نے لفافے میں سنبھال کر رکھی ہوئی تھیں۔ رضا علی نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی عمر میں صرف دس پندرہ مرتبہ اپنی بیوی سے ملا تھا، اور کبھی ایک مہینے سے او پر اس کے ساتھ نہیں رہا، مگر چالیس سال سے باقاعدہ اس کو خرچہ بھیج رہا ہے۔ ’’ جدھر بھی گیا‘‘، وہ بتایا کر تا تھا، تین تاریخ کو پیسہ پیچھے بھیج دیا۔ کبھی ناغہ نہیں کیا۔ وہ تیس سال سے اس ملک میں ایک کمرے کے اندر رہ رہا تھا۔ اس عرصے میں صرف ایک بار دو ہفتے کے لیے پیچھے اپنے گاؤں کو گیا تھا، جب اُس کی بیٹی کی شادی ہوئی تھی۔ میں نے ایک بار اس سے دریافت کیا کہ وہ اپنی بیوی کو ادھر کیوں نہیں لے کر آیا، تو بولا کہ اس کی بیوی اُدھر گاؤں میں خوش ہے۔ بس۔ پہلے پہل سُنا تھا کہ رضا علی یہاں کچھ عرصے تک ایک گوری عورت کے ساتھ رہتا ر ہا تھا۔ مگر پھر اُسے چھوڑکر الگ اپنے کمرے میں آگیا۔ ادھر وہ سالوں سال چھوٹی موٹی فیکٹریوں میں کام کرتا رہا۔ اور شام کو کیفوں اور پبوں میں بیٹھ کر اپنے لوگوں سے آہستہ آہستہ باتیں کیا کرتا، جیسے کوئی منتر جپ رہا ہو۔ اس کی زندگی اسی طرح دن بدن گز رتی گئی۔ دیکھنے میں لگتا تھا کہ سو سال تک اسی طرح چلتا جائے گا۔ مگر آخری دنوں میں اُس کی صحت خراب ہو گئی تھی۔ جب میرا اس سے میل جول ہوا اُس کے ایک سال کے اندر اندر اس کا انتقال ہو گیا۔ کچھ سورتی لوگوں نے مل جل کر سوشل محکمے کی مدد سے یہ رضا علی کے کفن دفن کا انتظام کر دیا۔ محکمے والوں نے اُس کے پرانے کپڑے جلا دیے اور کا غذات اور تصویروں کا بنڈل بنا کر ڈاک کے ذریعے اُس کے پتے پر پیچھے گاؤں بھیج دیا۔ رضا علی نے کوئی ترقی نہیں کی۔ جس سستے زمانے میں وہ آیا تھا محنت کر کے بہت ترقی کر سکتا تھا۔ مگر رضا علی کی عادت پکی ہو چکی تھی۔ وہ سمندری جہازوں کی طرح ادھر سے اُدھر ہی آتا جاتا رہا۔ وہ بڑا سخت زمانہ تھا۔ ہم لوگ تو بعد میں یہاں پہنچے ہیں۔ مگر پہلے پہل کے وہ دن اس ملک میں ہمارے لوگوں کے لیے اصل بے وطنی کے دن تھے۔ حالاں کہ ہم لوگ جب یہاں آئے اُس وقت بھی زندگی آسان نہ تھی۔ آج کل تو حالت بڑی بہتر ہو گئی ہے، مگر ہمارے وقت میں بھی مارا ماری کا عالم تھا۔ لوگوں کے آنے جانے پر بندش لگ چکی تھی۔ یہودیوں کے شور مچانے پر حکومت نے قانون بدل دیا تھا اور ہم لوگوں کا داخلہ ادھر بند ہو گیا تھا۔ پھر سمگل کرنے کا کار وبار شروع ہوا۔ ہمارے وقت کے سب لوگ سمگل ہو کر ادھر آئے تھے۔ میں نے خود اپنی بیوی کا زیور بیچ کر پانچ ہزار کی رقم خرچ کی تو پھر ایجنٹ نے پاسپورٹ بنوا کر دیا، وہ بھی جعلی۔ اُس کے بعد ہم جس طرح لاریوں اور ٹرکوں میں چھپ چھپا کر یہاں تک پہنچے، اور رستے میں ہم پر کیا گزری، یہ ایک الگ کہانی ہے۔ پھر یہاں پہنچنے کے بعد مزید قرضہ سر پر چڑھا۔ اس ز مانے میں کارڈ پچاس پونڈ کا بنتا تھا۔ پھر کام حاصل کر نے کے لیے سو پونڈ اپنے ہی ایک بھائی کو دینے پڑے جس نے فورمین سے کہ سن کر اپنی فیکٹری میں کام پر لگوا دیا۔ یہ قرضے اور اس ایجنٹ کے قرضے جس نے ہم کو یہاں سمگل کیا تھا اتارتے اتارتے دو سال لگ گئے پھر ا د پر سے گرفتاری کا فکر، کہ پکڑے گئے تو۔ سب کچھ غارت۔مگرکم از کم ایک بات کی تسلی تھی۔ ہم سب ایک ہی کشتی کے مسافر تھے۔ ایک بابر ادھرکے طور طریقوں کا علم ہو گیا تو پھر کچھ آزادی سے گھومنے پھرنے لگ گئے۔ مگر پہلے پہل ہم سب اس مکان کے اندر بند ہو کر بیٹھے رہتے تھے، جیسے اٹھارہ قیدی ہوں۔ ان دنوں میں جیسی واقفیت میری اس گھر سے ہوئی شاید کسی قیدی کی قید خانے کی دیواروں سے بھی نہ ہوگی۔
ہماری ساری ز ند گی گھر کے اندر بسر ہوتی تھی۔ جو زندگی گلیوں اور بازاروں میں اور کچھ دوستوں عزیزوں سے ملنے ملانے میں اور کچھ سیرو تفریح میں گزر جاتی ہے، ہماری وہ ساری کی ساری گھر کی چار دیواری کے اندرگزر تی تھی۔ یہودی بڑی چالاک قوم ہے۔ انہوں نے اپنا ایک مکان بھی ہمارے لوگوں کے ہاتھ نہ بیچا بلکہ صرف کرایے دار بدل دیے۔ اب گوروں کی بجائے ہمارے لوگ ان کے کرایے دار بن گئے۔ ان مکانوں کی مرمت پر وہ ایک پیسہ بھی خرچ نہ کر تے تھے اور کرایہ ڈبل لیتے تھے۔ ہمارا اسی طرح کا مکان تھا جس کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی تھی۔ یہ ملکہ وکٹوریہ کے زمانے کا بنا ہو امکان تھا اور ایسا دکھائی دیتا تھا کہ اس وقت سے لے کر آج تک اس کا پلستر اکھڑ رہا ہے۔ دیواروں پرسل چڑھی ہوئی تھی اور جگہ جگہ پر پلستر کے ڈھول بنے ہوئے تھے۔ چھتوں سے ہر وقت سفیدی کے ذرے گرتے رہتے تھے جیسے برفباری کی پھوار پڑتی ہے۔ یہ چو نا سانس کے اندر جا جا کر صحت کے لیے بڑا خطرناک ثابت ہوا۔ کئی ایک کو خشک کھانسی لگ گئی۔ نزلہ، زکام، کھانسی، بلغم،چھاتی کا درد سارے گھر میں پھیل گیا۔ غلام محمد بیچارے کو نمونیہ ہو گیا۔ کئی دن تک پڑا پڑا کر اہتا رہا۔ قسمت اچھی تھی بچ گیا۔ آہستہ آہستہ ڈاکٹروں کے پاس جانے لگے تو کچھ آرام آیا۔ مگر پہلے چھ مہینے تک کسی کی ہمت نہ پڑی کہ ڈاکٹر کا کارڈ بنوائے، اس ڈر سے کہ ڈاکٹر حکومت کو شکایت نہ کہہ دے۔ مگر یہاں کے ڈاکٹر اچھے ہیں، ان کا کام صرف بیماری کا علاج کرنا ہے۔ ہمارے ڈاکٹروں کی طرح لالچ نہیں کرتے اور نہ غلط دوائی دیتے ہیں۔ جب چھ مہینے کے بعد ڈاکٹری کا رڈ بنوا لیے تو پھر بھی کبھی ڈاکٹر کو گھر پر نہیں بلایا۔ حالاں کہ ٹیلی فون لگا ہوا تھا اور کارڈ کے اوپر درج تھا کہ ڈاکٹر کو گھر پر بلانے کا ہم کو حق ہے۔ مگر اس ز مانے میں ہم کو حق کس چیز کا تھا۔ پیٹ پالنے کا چارہ کر رہے تھے۔ میں تو کہتا ہوں کہ ہم ایک پودا لگا نے یہاں آئے تھے، وہ لگا دیا ہے۔ نئی زمین پر قدم جمانے کے لیے کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ یہ زندگی کا اصول ہے۔ کوئی زمانہ آسان نہیں ہوتا۔ اب حالت بہت بدل چکی ہے مگر نئے آنے والے سے پوچھ کر دیکھو تو پتا چلتا ہے۔ سب زمانے سخت ہوتے ہیں۔ پھر بھی، آج کل کئی باتیں بہتر ہو گئی ہیں۔ نئے مکانوں کے نقشوں پر قانون لاگو ہو گئے ہیں۔ ہوا داری کا انتظام ہونا ضروری ہو گیا ہے۔ جگہ تھوڑی ہوتی ہے مگر دیوار وں میں ہر طرف کھڑکیاں ہوتی ہیں۔ کھڑکیوں میں بڑے بڑے شیشے لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ سارے گھر میں روشنی آتی رہتی ہے۔ ہما رے اُس مکان کے اندر اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ وکٹوریہ کے زمانے میں زمین کافی ہوتی تھی، مکان بڑے بڑے ہوا کرتے تھے، مگر کھڑ کیاں تنگ تنگ ہوتی تھیں، جیسے گرجوں میں ہوتی ہیں۔ لمبے لمبے غار نما مکان ہوتے تھے جن میں کئی بڑے اور چھوٹے کمرے ہوتے تھے۔ ہمارے مکان میں دس کمرے تھے۔ کمرے اصل میں نو ہی تھے۔ دسواں ایک چھوٹا سا کا بک نما کمرہ چھت میں تھا جو اٹک کہلاتا تھا۔ اُس گھر کا ایک تہہ خانہ بھی تھا جسے انگریزی میں سیلا کہتے تھے۔ یہ واقعی سیلا تھا، یعنی اس کے اندر ایک ایک فٹ پانی کھڑا رہا تھا۔
پہلی منزل پر تین کمرے تھے جن میں چھ میر پوری رہتے تھے۔ اس کے علاؤہ باورچی خانہ اور باتھ تھے۔ دوسری منزل پر چار کمرے تھے۔ ان میں چھ حافظ آباد کے ایک گاؤں کے آدمی اور دو بنگالی رہتے تھے۔ تیسری منزل پر دو کمرے تھے۔ یہ دونوں چھوٹے چھوٹے کمرے تھے۔ ایک میں اور غلام محمد رہتے تھے اور دوسرے میں حسین شاہ اکیلا رہتا تھا۔ آخری آدمی ثاقب تھا جو چھت کے اندر اپنی کبوتر کی کابک میں رہتا تھا۔ ہمارے دروازے کے باہر لکڑی کی ایک سیڑھی کھڑی رہتی تھی۔ ثاقب یہ سیڑھی لگا کر اوپر چڑھتا تھا اور چھت میں سے ایک چور کو ر پھٹا ہٹا کہ اٹک تک پہنچا تھا۔ یہ پھٹا ایک کا دروازہ تھا۔ پھر وہ ہاتھ اندر جماتا اور اور اچک کر اٹک میں داخل ہو جاتا۔ وہاں وہ ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ جاتا تھا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے جھک کہ وہ بوٹ اتارتا اور پھر پاؤں اندر کھینچ لیتا۔ اندر کھڑے ہونے یا مڑنے کی جگہ نہ تھی، صرف اتنی جگہ تھی کہ بستر کا گدا فرش پر آجائے۔ ثاقب بیٹھا بیٹھا اپنے آپ کو گھسیٹ کر گدےپرلیٹ جاتا تھا۔ اندر نہ ایک بلب لگا تھا جو بجلی کی تار کے ذریعے کیل کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ دیوار پر لکڑی کے چھوٹے چھوٹے خانے بنے ہوئے تھے جن میں ثاقب کی چیزیں پڑی رہتی تھیں۔ اُس کے دو تین کپڑے تھے جو تہہ کرکے تکیے کے نیچے رکھے ہوئے تھے۔ چھت میں ایک طرف چھوٹی سی ترچھی کھڑکی تھی جس میں اندھا شیشہ لگا ہوا تھا۔ کبھی کبھی ثاقب دن بھر کی مزدوری کرنے اور پھر اُچک کر چھت میں چڑھنے کی محنت سے تھک کر ہار جاتا اور اس میں اتنی ہمت نہ رہتی کہ ہاتھ لمبا کر کے بوٹوں کے تسمے کھو لے۔ ایسے موقعوں پر وہ کئی کئی منٹ تک اُسی طرح ٹانگیں لٹکا ئے بیٹھا رہتا۔ کبھی کبھی وہ بلب جلا کر اپنے رسالوں کے خانے سے ایک رسالہ اُٹھا لیتا اور اسے پڑھنے لگتا۔ ہم لوگ کبھی کبھی کبھی فلمی رسالوں کی ورق گردانی کیا کر تے تھے۔ ثاقب نے کبھی فلمی رسالے کو دیکھا بھی نہ تھا۔ اُس کے پاس اُردو کے ادبی رسالے ہوتے تھے۔ جب وہ کوئی رسالہ اٹھا لیتا تو ایک ایک گھنٹے تک پڑھتا رہتا اور اسے بوٹ اتار نے کی ہوش نہ رہتی۔ اُس وقت عجیب منظر ہوتا۔ چھت کی موری سے دوٹانگیں لٹک رہی ہوتیں اور لٹکتی رہتیں، جیسے کوئی مرا ہوا ہو۔ غلام محمد کا دل گھبرانے لگتا۔ جب کافی دیر گزر جاتی تو غلام محمد کی برداشت ختم ہو جاتی۔ وہ بار بار در دائرے سے سر نکال کر دیکھتا اور کہتا، ’’اوئے ثاقبا، تیرے پیر سوج جائیں گے۔ بُوٹ اتار دے۔‘‘ ثاقب اپنے اٹک میں خوش تھا۔ اُسے صرف پچاس شلنگ کرایہ دینا پڑتا تھا۔ ایک سال کے بعد جب ہمارے کر ایے ڈبل ہو گئے تو اس کا صرف پندرہ شلنگ ہوا۔ یہودیوں نے ان مکانوں کی مرمت کرانی چھوڑ دی ہوئی تھی۔ ان کو پتا تھا کہ اس سارے محلے کی حالت خستہ ہو رہی ہے۔ کبھی نہ کبھی حکومت ان کی قیمت ادا کر کے انہیں گرا دے گی، چناں چہ او پر پیسہ صرف کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آہستہ آہستہ سب بڑے مکان مسماری کے پروگرام میں آگئے۔ نگران پرو گرا موں کو پورا ہوتے ہوئے وقت لگتا ہے۔ مالکوں کی پالیسی یہ تھی کہ جب تک کھڑے ہوئے ہیں ان سے پیسے پیدا کر لو۔ اسی زمانے میں سمگلنگ کا کاروبار شروع ہو گیا۔ مالک مکانوں کے مزے ہو گئے۔ ہمارے جیسے غیر قانونیوں کو سر چھپانے کے لیے جگہ چاہیے تھی، منہ مانگے پیسے دینے کے لیے تیار تھے۔ ان مالکوں نے ڈبل کرایہ لگا کر ہمارے لوگوں کو مکانوں میں بھر لیا۔ کسی نے ذرا چوں کی تو اُس کی خفیہ ر پورٹ کردی، وہ بے چارہ کام پر ہی پکڑ لیا گیا۔ افسوس کی بات ہے مگر سچی ہے کہ ان مالک مکانوں میں بہت سے ہمارے لوگ بھی تھے۔ انہوں نے بھی یہی دھندا کیا۔ مگر میں ان کو بر انہیں کہتا۔ وہ تو ہماری طرح بے وطن تھے اور پیر جمانے کے لیے یہ کسب کر رہے تھے۔ یہودیوں کو کس بات کی کمی تھی ؟ ہوتے ہوتے ہمارے محلے کا نقشہ ہی بدل گیا۔ رنڈیوں کو جب پتا چلا کہ اس علاقے میں ان کی مانگ ہے تو سب کی سبب اُٹھ کر ا د ھر آگئیں۔ مالک مکانوں کے لیے وہ بھی ہماری طرح نفع بخش تھیں، غیر قانونی دھندا کرتی تھیں اس لیے منہ مانگے پیسے دینے کے لیے تیار تھیں۔ انہیں دور نہیں جانا پڑتا تھا، اس علاقے میں ان کے بنے بنائے گاہک موجود تھے۔ جب میں یہاں پہنچا تو اس وقت اس علاقے میں دو طرح کے لوگوں کی آبادی تھی۔ غیر قانونیوں کی اور رنڈیوں کی۔ باقی کیفوں اور پبو والے تھے۔ ہم لوگ ایک دوسرے سے مل جل کر رہتے تھے۔ کہیں کہیں دو چار سٹوڈنٹ ایک کمرہ کرایے پر لے کہ رہا کر تے تھے۔ مالک مکانوں کو ہر طرف سے ڈبل فائدہ تھا۔ ہمارا کرایہ ایک سال کے اندر تین پونڈ سے چھ پونڈ ہو گیا۔ مگر ہماری بہتری اسی میں تھی کہ چپ چاپ ادا کر دیں۔ ہمارا اور کوئی خرچہ نہ تھا، صرف روٹی پانی اور بس کے کرایے کا خرچہ تھا۔ باقی سارا پیسہ پیچھے جاتا تھا یا جمع ہوتا تھا۔
ایک سال تک ہماری زندگی اُسی مکان کے اندر گزری۔ مکان کی تین منزلیں تھیں اور ایک اٹک۔ مگر آبادی کے حساب سے مکان دو حصوں میں بٹا ہوا تھا یہ بٹائی باورچی خانے کی وجہ سے ہوتی تھی۔ پہلی دو منزلوں کا باورچی خانہ نیچے تھا جس میں باقاعدہ الماریاں اور خانے تھے اور میز اور دو کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ ہماری منزل کا باورچی خانہ ہماری سیڑھیوں کے اوپر تھا۔ باورچی خانہ کیا تھا، چھوٹے سے گزرنے والے رستے میں مالک نے گیس کا چولہا رکھ دیا ہوا تھا۔ پاس ایک چھوٹی سی میز تھی اور دیوار کے ساتھ پانی کی ٹوٹی اور بیسن لگا ہوا تھا۔ میں، غلام محمد، حسین شاہ اور ثاقب یہیں پر کھاتے پکاتے تھے۔ ثاقب نے کبھی کھانا نہیں پکا یا تھا۔ اس کو کھاتا پکانا آتا ہی نہ تھا۔ وہ ہفتے کے دن سات دن کے کھانے کی چیزیں خرید کر لے آتا اور حسین شاہ کو دے دیتا۔ حسین شاہ اُس کا روٹی سالن پکاتا تھا۔ حسین شاہ چٹا ان پڑھ تھا۔ ثاقب بدلے میں اُس کی ساری خط و کتابت کرتا، اس کی خریداری کرکے لاتا، اور کبھی کبھی اس کے کپڑے بھی دھو دیا کرتا تھا۔ مگر حسین شاہ اس کے علاؤہ بھی ثاقب سے فائدہ اٹھاتا تھا۔ یعنی وہ ثاقب کو ہفتے کا کھانا پکانے کی چیزیں لکھوا دیتا اور ثاقب خرید کر لے آتا، مگر حسین شاہ ثاقب کے حصے میں سے آدھا خود کھا جاتا اور آدھا ثاقب کو پکا کر دیتا۔ حسین شاہ کیمبل پور کے گاؤں کا رہنے والا پٹھان تھا۔ وہ چھوٹے سے قد اور خوب گٹھے ہوئے جسم والا مضبوط آدمی تھا۔ اُس کے چہرے پر بڑی بڑی مونچھی تھیں اور اس کے اگلے دو دانت ٹوٹے ہوئے تھے، جس سے اُس کا چہرہ مزاحیہ شکل کا ہو گیا تھا۔ مگر حسین شاہ کے اندر یہ ایک قدرتی رعب داب تھا۔ اُس نے کبھی کسی کے ساتھ سختی نہ کی تھی، مگر ہر وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ابھی اُٹھ کر مار پٹائی شروع کر دے گا۔ اس وجہ سے حسین شاہ جو بات بھی کہتا وہ چوں چرا کے بغیر مان لی جاتی تھی۔ ثاقب کے ساتھ حسین شاہ بہت نرمی اور پیار سے پیش آتا تھا۔ اُس نے کئی بار ثاقب کو اپنے کمرے میں مفت رہائش کی پیش کش کی تھی۔ مگر ثاقب اپنے اٹک میں خوش تھا۔
میرے کمرے کا ساتھی غلام محمد تھا۔ غلام محمد گجرات کے ایک گاؤں کا رہنے والا تھا اور پہلے فوج میں حوالدار ہوتا تھا۔ وہ مجھ سے چھ مہینے پہلے ادھر آیا تھا۔ جب میں یہاں پہنچا تو غلام محمد کی زندگی سیٹ ہو چکی تھی۔ مجھے اس بات کا اسی دن کو پتا چل گیا جب میں پہلی دفعہ اس کمرے میں داخل ہوا۔ کئی برس گزر گئے ہیں مگر آج بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ شام کا وقت تھا۔ اس ملک میں سردیوں کے موسم میں چار بجے ہی رات پڑ جاتی ہے۔ ہر وقت اندھیرا چھایا رہتا ہے۔ اوپر سے میں اس مکان میں آپہنچا جو پہلے ہی سُرنگ کی طرح اندھیرا تھا۔ ہمار ے کمرے میں اُس وقت غلام محمد اکیلا رہتا تھا۔ جب میں اُس کمر سے میں داخل ہوا تو اندر کچھ بھی دکھائی نہ دیا۔ میں نے ہاتھ سے ٹٹول کر بجلی کا بٹن دبایا تو کچھ بھی نہ ہوا، کمرے میں اُسی طرح اندھیرا چھایا رہا۔ میں ٹٹول کہ فرش پر پڑے ہوئے گدے پر بیٹھ گیا۔ سیڑھیوں پر بھی اندھیرا تھا۔ جو آدمی مجھے چھوڑنے آیا تھا وہ آدھی سیڑھیوں میں ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ جب سیڑھیاں ختم ہوئیں تو اندھیرے میں مجھے گیس کے چولہے کا ٹھڈا لگا تھا، جس سے میری ٹانگ کی نالی ابھی تک درد کر رہی تھی۔ وہ پہلا دن مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یاد رہے گا۔ میں اندھیرے کمرے میں دو تین گھنٹے تک دیوار کے ساتھ بیٹھا ر ہا۔ حسین شاہ کے کمرے میں بتی جل رہی تھی مگر در وازہ بند تھا۔ پھر اُس نے بتی بجھائی اور در واز ہ کھول کہ کام پر چلا گیا۔ کمرے میں اب صرف کھڑکی کے راستے گلی کی تھوڑی تھوڑی روشنی آرہی تھی۔ جب میری آنکھیں اندھیرے سے واقف ہوئیں تو میں نے دیکھا کہ کمرے میں بلب لٹک رہا تھا۔ شاید جل چکا تھا۔ پھر بھی میں نے ہاتھ اُٹھا کر دو تین بار بجلی کا بٹن دبایا۔ جس گدے پر میں بیٹھا اُس پر کئی کمبلوں اور چادروں کا اونچا نیچا بستر بچھا ہوا تھا۔ پاس ایک لکڑی کی میز تھی جس کے اوپر کچھ برتن پڑے تھے۔ ٹھیک طرح سے دکھائی نہیں دیتا تھا کہ کس قسم کے برتن ہیں، مگر یہ پتا چلتا تھا کہ برتن ہیں۔ اس کے علاؤہ کمرے میں اور کچھ نہیں تھا۔ میرا پیٹ خالی تھا اور مجھے کا نپا لگ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک آدمی سیڑھیاں چڑھا اور ایک گدا اور دوتین کمبل دروازے کے باہر رکھ کر واپس چلا گیا۔ میں نے اٹھ کر ایک کمبل لیا اور اسے لپیٹ کہ پھر گدے پر بیٹھ گیا۔ کوئی مجھ سے پوچھے کہ بے وطنی کی کیفیت کیا ہوتی ہے تو مجھے صرف وہ وقت یاد آتا ہے۔ اس وقت تک میں سفر کرتا ر ہا تھا، میری کوئی جگہ نہ تھی۔ پھر اُس شام کو مجھے ایک چھت کا سایہ میسر آ گیا۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ مگر اطمینان کیسا۔ میرا پیٹ خالی تھا اور میرا سارا بدن اختیار سے باہر ہو کر کانپ رہا تھا۔ آج بھی کوئی مجھ سے پوچھے کہ بے وطنی کی حالت کیا ہوتی ہے تو مجھے اس وقت کا خیال آتا ہے جب میں اپنے گھر میں بیٹھا تھا اور میرا دل خوف سے سکڑرہا تھا۔ یہ عجیب بات ہے۔ اب ہسپتال میں بھی مجھے اسی بات کا خیال آتا ہے۔ کئی برس گزر گئے ہیں اور اس بات کو یاد کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ مگر اب دماغ کو ذرا مہلت ملی ہے تو وہ وقت آنکھوں کے سامنے آگیا ہے، جیسے وہیں پر ر کا ہوا ہو۔میں سوچتا ہوں گزرا ہوا وقت کبھی ختم بھی ہوتا ہے یا ہمارے اندر ہمیشہ کے لیے کھڑا رہتا ہے ؟ میرا پیٹ خالی تھا، یہ مجھے یاد ہے۔ سارا دن بھاگ دوڑ میں کچھ کھا پی نہ سکا تھا۔ جب یہاں پہنچا تو کسی نے مجھ سے بات نہ کی اور نہ کھانے کو پوچھا۔ بس اندھیرے کمرے میں چھوڑ دیا۔ ہوتے ہوتے سب لوگ اپنے کام پر چلے گئے یا کام سے واپس آکر سو گئے۔ میرے اوپر کمزوری نے غلبہ پالیا اور میں اُونگھنے لگا۔ ساڑھے آٹھ بجے غلام محمد کام سے واپس آیا۔ میں اس کے پیروں کی آواز سُن کر جاگ پڑا۔ مجھے اٹھتا دیکھ کر غلام محمد تھوڑی دیر تک مجھے دیکھتا رہا، مگر منہ سے کچھ نہ بولا اور میرے پاس سے گزر کہ میز کی طرف چلا گیا۔ اس نے موٹا کوٹ اور سر پر انجن ڈرائیوروں والی ٹوپی پہن رکھی تھی جو کانوں کو بھی ڈھک کر رکھتی ہے۔ پاؤں میں اُس نے فوجی فل بوٹ چڑھاتے ہوتے تھے اور اپنی پتلون بوٹوں کے اندر کس رکھی تھی۔ میری آنکھیں اب اندھیرے میں اچھی طرح دیکھ سکتی تھیں۔ مگر غلام محمد ابھی باہر سے آیا تھا اور آسانی سے چل پھر رہا تھا، جیسے اُس کی نظر کو کوئی فرق نہ پڑتا ہو۔ اس نے اوورکوٹ کی ایک جیب سے ڈبل روٹی اور دوسری سے پکے پکائے لوبیے کا ڈبہ نکالا اور دونوں چیزوں کو میز پر رکھ دیا۔ پھر اس نے چاقو اٹھا کر لوبیے کا ڈبہ کھولا اور اسے فرائی پان میں اُلٹ دیا۔ فرائی پان کو اُٹھا کر وہ باہر لے گیا اور اندھیرے میں گیس جلا کہ اسے آگ پر رکھ دیا۔ جب لو بیا تڑ تڑکرنے لگا تو غلام محمد ا سے اندرلے آیا اور گدے پر بیٹھ کر ڈبل روٹی اور مکھن کے ساتھ جھپ جھپ کھانے لگا۔ کھاتے کھاتے وہ ڈبل روٹی پر مکھن اس طرح لگا رہا تھا جیسے اینٹوں پر گارا تھوپ رہا ہو۔ پھر وہ ہاتھ روک کر پہلی بار منہ سے بولا:
’’ آج آئے ہو ؟ ‘‘
میں نے کہا : ’’ہاں۔‘‘
’’ کچھ کھایا پیا ؟‘‘
میرا پیٹ خالی تھا مگر میں نے کہا: ’’جی بسم اللہ کرو۔‘‘
غلام محمد نے دو تین منٹ میں فرائی پان پونچھ کر صاف کر دیا۔ پھر وہ برتن کو ایک طرف فرش پر رکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے پہلے ٹوپی اور پھر اوور کوٹ اُتارا اور انہیں دروازے کے پیچھے کیل سے ٹانگ دیا۔ پھر آ کر گدے پر بیٹھ گیا اور بوٹ اُتار نے لگا۔ میں اُس کے گدے سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ بوٹ اُتارتے اُتار تے غلام محمد نے کہنی سے باہر کی طرف اشارہ کیا۔ ’’گدالے آؤ۔‘‘ وہ بولا۔ بس، یہ اس نے آخری بات کی۔ میں گدا اور کمبل اُٹھا کہ اندر لے آیا۔ گدے کو میں نے دوسری طرف فرش پر ڈال دیا۔ اوپر کمبل رکھ دیے۔ اتنی دیر میں غلام محمد بوٹ اُتار چکا تھا۔ اُس نے بوٹ جوڑ کر گدے کو پاؤں کی طرف رکھ دیے۔ پھر اُس نے بستر پر بیٹھ کر پتلون اتاری اور اُسے پھیلا کہ بوٹوں کے اوپر رکھ دیا۔ نیچے اُس نے پاجامہ پہنا ہوا تھا۔ پاجامہ موٹی موٹی جرابوں کے اندر گھسا تھا۔ غلام محمد نے نہ جرابیں اُتاریں اور نہ سویٹر، صرف، قمیض کی کالر والا بٹن کھولا اور کمبل اوڑھ کر سو گیا۔ دو چار منٹ کے اندر وہ خراٹے لینے لگا میں اپنے گدے کے پاس کھڑا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں کمبل اوڑھ کر گدے پر بیٹھ گیا۔ میری بھوک کچھ دب گئی تھی۔ مگر میرے دل میں ایک خوف تھا جو کسی طرح کم نہ ہوتا تھا۔ میری اتنی ہمت نہ ہوتی تھی کہ گدے پر لیٹ کر سو جاؤں۔ وہ پہلی رات بڑی سخت تھی۔ صبح سویرے غلام محمد کی گھڑی نے الارم بجایا تو وہ اُچھل کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے کمبل اُتار کر ایک طرف پھینکے۔ پتلون غلام محمد کے پاؤں کے پاس پھیلی ہوئی تھی۔ بستر پر بیٹھے بیٹھے گھسٹ کو اُس نے ٹانگیں سیدھی پتلون میں ڈال دیں۔ پیر دوسری طرف سے نکال کر اس نے فل بوٹ چڑھاتے اور پتلون کو اُن کے اندر کس لیا۔ پھر وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ کھڑے ہو کر اُس نے پتلو ن باندھی، کالر کا بٹن بند کیا، اوور کوٹ پہنا اور سر پر ٹوپی جمائی۔ دروازے کے پیچھے ایک چھوٹا سا شیشہ لٹکا ہوا تھا۔ غلام محمد نے اس شیشے میں اپنا منہ دیکھا، مونچھوں پر ہاتھ پھیر کر انہیں درست کیا اور ٹوپی کو اٹھا کہ دوبارہ سر پہ جمایا۔ غلام محمد کی آنکھیں اندھیرے سے خوب واقف تھیں۔ اس کے بعد وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ گھڑی کی سوئی چمک رہی تھی۔ غلام محمد دومنٹ کے اندر اندر گھر سے نکل گیا۔ میں اس کی چستی پر حیران رہ گیا۔ جتنی دیر میں اور غلام محمد ساتھ ساتھ رہے غلام محمد کا یہی دستور رہا۔ اس کی زندگی سیٹ ہو چکی تھی۔ وہ صبح ساڑھے سات بجے گھر سے نکل جاتا اور شام کو ساڑھے آٹھ بجے واپس آتا۔ ہفتے کے سات دن کام کرتا۔ رفع حاجت اور ناشتہ وہ فیکٹری میں جا کر کرتا۔ وہ تین پونڈ کرایہ دیتا تھا اور باقی کل تین پونڈ میں خرچہ پو را کرتا تھا۔ ایک سال کے اندر اندر اس نے مجھے بتایا کہ پیچھے گاؤں میں اُس نے دس کلے زمین خرید لی ہے۔ میں اُسے دیکھ دیکھ کر حیران ہوتا تھا کہ یہ آدمی سارا دن فیکٹری میں اور ساری رات اندھیرے میں گزارتا ہے۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ اس گھر کے زیادہ تر لوگوں کا یہی دستور تھا۔ کچھ دنوں کے بعد میرا بھی یہی طریقہ بن گیا۔ اسی میں ہماری بہتری تھی۔ منہ اندھیر سے کام پر گئے اور اندھیرا پڑے واپس آئے۔ نہ زیادہ منہ ادھر ادھر دکھایا، نہ کوئی خطرہ مول لیا۔ جب میرا کام لگ گیا تو پہلے ہفتے کی تنخواہ سے میں دو بجلی کے بلب بھی خریدکر لایا، جو میں نے اپنے کمرے میں اور سیڑھیوں پر لگا دیے۔ اس طرح کمرے کی کالی رات سے چھٹکارا حاصل ہوا۔ ثاقب میرے آنے کے تین مہینے کے بعد آیا اور اٹک میں قائم مقام ہوا۔ ثاقب ہم لوگوں سے مختلف تھا۔میں نے انٹرنس کی کلاسوں تک تعلیم پائی ہے۔ مگر ثاقب نے کالج میں بھی ایک دو سال لگا رکھتے تھے۔ اس کے علاؤہ وہ نو عمر لڑ کا تھا اور مزاج کا نازک تھا۔ پیچھے اس کا بال بچا کوئی نہ تھا، صرف ایک ماں تھی جس کو ثاقب ہفتے ہیں ایک خط لکھنا اور مہینے کے بعد کچھ پیسے بھیج دیتا تھا۔ اس وجہ سے وہ صرف آٹھ گھنٹے کام کرتا، کبھی کبھار فورمین اسے مجبور کرتا تو وہ اوور ٹائم لگا لیتا تھا، ورنہ باقی کا وقت اٹک میں یا ہمارے کمروں میں بیٹھا پڑھتا رہتا تھا۔ دوسرے سب لوگ دیہات کے رہنے والے تھے، صرف ثاقب شہری تھا اور پڑھا لکھا تھا، اس لیے جب کسی کو ضرورت پڑ تی ثاقب اس کی انگریزی خط و کتابت کیا کہتا تھا۔ نیچے کی منزل والوں کی ایک بنگالی کرتا تھا۔ مگر ان لوگوں سے ہمارا واسطہ بہت کم پڑتا تھا۔ کچھ ہفتوں کے بعد ایک دوبار میں نے غلام محمد کو کھانا پکا کر دیا تو اُس کو بھی پکا ہوا کھانا کھا نے کی عادت پڑ گئی۔ اس طرح سے اوپر کی منزل پر ہم چاروں کا ایک کنبہ بن گیا۔
نیچے والوں سے ہمارا میل ملاپ لین دین زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ آتے جاتے ہوتے سلام علیک ہو جاتی تھی۔ ٹائلٹ ہماری منزل پر اپنا تھا۔ ویسے بھی رفع حاجات کا وقت گھر میں کہاں ملتا تھا، زیادہ تر فیکٹریوں میں جا کر ہوتی تھی۔ ہمارا ٹائلٹ سب سے زیادہ حسین شاہ استعمال کرتا تھا۔ حسین شاہ راتوں کو ڈیوٹی دیتا تھا اور صبح سویرے گھر آنے کے بعد نماز ادا کیا کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ رات کی ڈیوٹی اس کے لیے خوب سیٹ ہے کیوں کہ گھر میں وہ دن بھر نماز کا فرض ادا کر سکتا ہے۔ باقی صرف باتھ کے لیے نیچے جانا پڑتا تھا، وہ بھی اتوار کے اتوار، اور سردیوں کے موسم میں ہر دوسری اتوار۔ پہلی منزل والے میر پوری اپنے تین کمروں میں رہتے تھے اور آپس میں ہی میل ملاپ رکھتے تھے۔ دوسری منزل والے حافظ آبادیوں کا بھی میں حال تھا۔ صرف دو بنگالی ٹوٹنوں ان کے بیچ میں پھنسے ہوئے تھے جو ہر وقت بنگالی بولتے رہتے تھے۔ مگر حافظ آبادی بنگالیوں سے خوب فائدہ اٹھاتے تھے۔ ایک بنگالی کھانا پکانے کا ماہر تھا۔ وہ سار ے حافظ آبادیوں کا کھانا پکایا کرتا تھا۔ دو سرا اپنی زبان کے علاؤہ اردو اور انگریزی پڑھنا لکھنا جاننا تھا۔ وہ سب کی خط و کتابت کرتا اور خریداری کر کے لاتا تھا۔ ہفتے بھر کی خریداری کرنا سب سے مشکل کام تھا۔ خریداری کا مطلب تھا کہ دن کے وقت باہر جاکر دکانوں پر گھومتے پھرو اور پھر بڑے بڑے تھیلے ہاتھوں میں لٹکا کر گھر لاؤ۔ رستے میں ہر ایک کی نظر پڑتی تھی۔ ان دنوں میں یہ کام خطرے سے خالی نہ تھا۔ فیکٹریوں میں ہم لوگ آزاد پھرتے تھے حالاں کہ وہاں پر ہر قسم کے لوگ موجود ہوتے تھے۔ مگر وہاں پر گورے ہم سے کام لیتے تھے، وہ ہماری حفاظت کے ذمہ دار تھے۔ ہمیں پتا تھا کہ وہ کبھی ہمیں ہاتھ سے جانے نہ دیں گے۔ ہم لوگ سب گندا مندا اور سخت کام کرتے تھے اور بارہ بارہ گھنٹے حاضری دیتے تھے۔ اُس زمانے میں اس ملک کے اندر خوش حالی تھی، فیکٹریاں خوب چلتی تھیں اور لیبر کی کمی تھی۔ ان کی اپنی لیبر تنخواہوں میں اضافے لے لے کر اتنی بگڑ گئی تھی کہ گندے مندے اور سخت کاموں پر راضی نہ ہوتی تھی۔ صفائی کا کام، لدان کا کام، برفوں کے موسم میں باہر کا کام، ایسے کاموں پر یہ لوگ ہمیں لگاتے تھے۔ ہم لوگ نہ ناغہ کرتے تھے نہ چھٹی لیتے تھے، جو کوئی گورا غیر حاضر ہو جاتا تھا اس کی جگہ اوورٹائم کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے، اور اوپر سے تنخواہوں میں اضافہ نہ مانگتے تھے۔ مالکوں کو ہماری اصل حالت کا علم تھا، یہ بھی کہ ہم جعلی کا رڈوں پر کام کر رہے تھے۔ مگر مالک ہم سے فائدہ اٹھاتے تھے اس لیے درگزر سے کام لیتے تھے۔ کئی مالک ہماری انشورنس کے پیسے بھی حکومت کو ادا نہ کرتے تھے بلکہ اپنی جیب میں ڈال لیتے تھے۔ افواہیں تھیں کہ ہم لوگ دراصل فیکٹری کے ریکار ڈ پر ہی نہ تھے۔ دوسرے لفظوں میں ہم وہاں پر موجود ہی نہیں تھے۔ مگر اس وجہ سے ہم فیکٹریوں میں آزادی محسوس کر تے تھے۔ اس جعل سازی کے مرکز میں ہماری سب سے بڑی حفاظت کا سامان موجود تھا۔ گھر سے بھی زیادہ جب ہم کام پر ہوتے تو بے خطر ہوتے تھے۔ مگر ہفتے بھر کی خریداری کے لیے باہر جانا الگ بات تھی۔ یہ خطر ناک کام تھا۔ ہزاروں نا واقف لوگ ادھر ادھر پھر رہے ہوتے۔ خبریں آئی تھیں کہ ہمارے لوگ جب پکڑے جاتے تو عام طور پر دکانوں کے اندر خریداری کر رہے ہوتے تھے۔ جب کوئی سودے کے لیے باہر جاتا تو اوور کوٹ اور گرم ٹوپی پہن لیتا اور دکانیں بند ہونے کے وقت پر جاتا جب بہت سے لوگ گھر جاچکے ہوتے۔ ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ کوئی دوسرا ہی سودا سلف خریدنے کے لیے باہر جائے۔ پہلی اور دوسری منزل والوں کو تو بنگالی ہاتھ آگئے تھے۔ بنگالی اتنے بھولے نہ تھے، مگر میر پوری اور حافظ آبادی بارہ تھے اور بنگالی صرف دو۔ اس لیے ایک بنگالی نے حافظ آبادیوں کا کھانا پکانے اور دوسرے نے دونوں منزلوں کی خریداری کرنے کا ذمہ لے لیا تھا۔ بدلے ہیں میرپوری اور حافظ آبادی انہیں آرام سے رہنے دیتے تھے۔ ہماری منزل پر پہلے میں اور حسین شاہ باری باری باہر جایا کر تے تھے۔ پھر ثاقب ہم میں شریک ہو گیا تو وہ بھی خوشی خوشی جانے لگا۔ نو عمر لڑ کا تھا اس لیے اسے ہماری طرح ڈر خوف نہ تھا۔ روز کے کام اور ہفتے کی خریداری کے علاؤہ ہمارا سارا وقت گھر میں ہی گزرتا تھا۔
کام پر جانے کی تیاری میں اور واپس آکر کھانا پکانے میں سارا وقت لگ جاتا تھا۔ اس کے بعد نیند پوری کرنی ہوتی تھی۔ گپیں مارنے کی مدت کم ہی ملتی۔ کبھی کبھار مجھے اوور ٹائم نہ ملتا تو میں جلدی گھر واپس آجاتا۔ اس دن میں دو تین وقت کا سالن اکٹھا پکا لیا کرتا۔ پھر ثاقب اور میں بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتیں کرتے یا تاش کی بازی لگا لیتے صرف اتوار کا ایک دن ایسا ہوتا جب گھر میں سب کی ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی۔ اٹھارہ میں سے پانچ آدمی ساتوں دن کام کرتے تھے۔ باقی اتوار کو گھر پر ہی ہوتے تھے۔ سارا دن میلے کا سماں ہوتا۔ خط پتر لکھنے لکھانے، ایک دوسرے کے قرض چکانے، مرچ مصالحہ مانگنے اور کپڑے دھونے دھلانے میں اوپر نیچے آتے جاتے رہتے۔ مگر دن میں کم از کم دو موقعے ایسے ہوتے تھے جن میں سب ایک ساتھ حصہ لیتے۔ پہلے فلم شو پر جانا ہوتا۔ ہمارے علاقے میں سکھوں نے ایک سینما کرایے پرلے کر اتوار کو دیسی فلمیں چلانی شروع کر دی تھیں۔ بعد میں انہوں نے سینما خرید لیا اور ساتوں دن اپنی فلمیں چلانے لگے۔ مگر پہلے پہل صرف اتوار کے دن دو فلموں کے چار شو ہوتے تھے۔ ہمارے لوگوں کی ساری آبادی وہاں پر موجود ہوتی تھی۔ کام والے کام اور بیمار اپنے بستر اور نمازی نماز چھوڑ کر اُدھر پہنچے ہوتے۔ کئی سو لوگوں کا مجمع ہوتا۔ آج کل تو ہر قسم کی آزادی ہو گئی ہے۔ جس فلم شو میں دل کیا جا کر گھس گئے۔ انگریزی، جرمنی، امریکی۔ ایسی ایسی فلمیں کہ دیکھ کر ہوش خراب ہو جائیں۔ مگر ان دنوں میں اتوار کا یہ فلم شو سارے ہفتے کا سنٹر ہوتا تھا۔ ہم لوگ سات دن اس شو کا انتظار کرتے رہتے تھے۔ دوپہر کے کھانے سے فارغ ہو کر ہم سب کے سب کپڑے بدلتے اور نیچے میر پور یوں کے کمرے میں جمع ہو جاتے۔ شو چار بجے شروع ہوتا تھا اور تین بجے ہمارا گھر سے چلنے کا وقت مقرر تھا۔ پندرہ منٹ پہلے ہی ہم دیر کرنے والوں کو نیچے سے آوازے لگانے شروع کر دیتے۔ دودو چارچار کر کے جانے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ شو کے لیے ہم سب اکٹھے چلتے۔ اسی میں اپنی حفاظت تھی۔ آخر پورے تین بجے ہم تیرہ کے تیرہ صاف ستھرا لباس اور چمکتے ہوئے بوٹ پہن کر باہر نکلتے اور سینما کی طرف چل پڑتے۔ سڑکوں پر اُس وقت ہر طرف سے گروہ کے گروہ سینما کی طرف جا ر ہے ہوتے تھے۔ پولیس والوں کو اور گوروں کو یہ پتا ہی نہ چلتا کہ کون سے قانونی ہیں اور کون سے غیر قانونی۔ اتوار کے دن سب کو علم ہوتا تھا کہ آج ہمارے لوگوں کا فلم شو ہے اور بڑا مجمع ہو گا۔ مجمعے پر یہ لوگ ہاتھ نہیں ڈالتے۔ یہ بڑی مکار قوم ہے۔ اندر اندر سے اپنا کام کرتے ہیں اور مطلب نکال لیتے ہیں۔ اتوار کے دن ہم سب ایک ہوتے تھے، کیا قانونی اور کیا غیر قانونی۔ مگر آپس میں ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر پہچان جاتے تھے۔ غیرقانونیوں کی چال ڈھال ہی مختلف ہوتی ہے۔ آج بھی میں کسی دو چار کے گروہ کو فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے دیکھ لیتا ہوں تو مجھے پتا چل جاتا ہے۔ یہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ لگ کر چلتے ہیں اور اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ایک دوسرے سے باتوں میں لگے رہیں۔ اور ایک خاص طریقے سے سر نیچے ڈال کر ادھر اُدھر دیکھتے ہیں جیسے کسی چیز کی آڑ سے دیکھ رہے ہوں، مگر آنکھ نہیں ملتے۔ آج بھی جب ہم اس حالت سے نکل آئے ہیں اور ہم نے جائیداد بنالی ہے اور اچھی ملازمت اختیار کرلی ہے، ہمارے طور طریقے سے شاید وہ بات نہیں گئی۔ اپنے کسی باعزت آدمی سے ملتے ہیں تو دل میں یہی کھٹکا رہتا ہے کہ کہیں اس نے ہماری اصلی پہچان نہ کر لی ہو۔ غربت کے نشانوں کو مٹانا آسان کام نہیں۔ میں کہتا ہوں غربت خواہ جسم کی ہو خواہ جان کی ایک لعنت ہے اور جرم ہے اور کسی کے حق میں نہیں آنی چاہیے۔ پچھلے سال میں چھٹی پر واپس وطن گیا تو ساتھ ایک کار لیتا گیا۔ کا رسا تھ لے جانے کی ہم کو چھوٹ ہے۔ اپنے بھائی بند بڑی عزت کے ساتھ پیش آئے۔ مگر میں نے دیکھا کہ شہروں میں اچھے اچھے سرکاری ملازم اور پڑھے لکھے لوگ ہمیں حقارت اور نفرت سے دیکھتے تھے۔ میں کہتا ہوں یہ لوگ اپنی پڑھاتی کے باوجود کوئی علم نہیں رکھتے۔ ان کو اس بات کا پتا نہیں کہ یہ غربت اور امارت کا معاملہ نہیں بلکہ عزت کا معاملہ ہے۔ جب لوگ اپنے گھر بار کو چھوڑ کر نکل جاتے ہیں تو نئے ملک میں ان کے پاس صرف ایک چیز کی کمی رہ جاتی ہے۔ محنت ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور دولت آتی جاتی رہتی ہے۔ مگر جس چیز کا وجود نہیں ہوتا وہ عزت ہوتی ہے۔ اپنے شہر میں دو وقت کی روٹی ملے یا نہ ملے، عزت جد پر قائم ہوتی ہے۔ بے وطنی میں کوئی پہچان نہیں ہوتی، صرف اپنی جان ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے کبھی اپنا گھر نہیں چھوڑا انہیں اس بات کا علم نہیں، ان کے حق میں یہ نہیں آتا کہ ہمارے او پر ہلکی نظر ڈالیں۔ ہم نے یہاں ایک پودا لگایا ہے، اور ایک پوری آبادی کے لیے عزت کی صورت پیدا کی ہے۔ اس کام میں ایک عمر ضائع ہو گئی ہے۔ مگر جن دنوں کی میں بات کر رہا ہوں اُن دنوں میں صرف ایک فلم شو ہماری عزت اور آزادی کا مرکز ہوتا تھا۔ گوروں کے اس گڑھ میں ہمارے کئی سو آدمیوں کا مجمع کھلے بندوں سینما کے آگے چلتا پھرتا تھا۔ کسی کا کوئی لباس کسی کا کوئی۔ کوٹ پتلون، پاجامہ، شلوار کرتا، کوئی روک ٹوک نہیں، جو کسی کا دل چاہا پہن کر آ گیا۔ لاؤڈ سپیکر پر اردو پنجابی کے گانے چل رہے ہوتے تھے جن کی آواز دور دور تک جاتی تھی۔ کوئی ڈر فکر نہیں، سب ایک دوسرے سے ہنستے بولتے تھے، قہقے لگاتے تھے، پیچھے کی خبریں چلتی تھیں، کون آرہا ہے، کون جارہا ہے، کون پکڑا گیا، کون جر منی رکا ہوا بیٹھا ہے، کس کا ایجنٹ اس کی جان ماری کر رہا ہے، کرنسی کی بلیک میں کون سب سے زیادہ پیسے دیتا ہے، کون سی فیکٹری میں نوکریاں نکل رہی ہیں۔ تبادلۂ خیال کا موقعہ ہوتا تھا۔ کچھ گورے ادھر سے گزرتے ہوئے شہر جاتے تھے اور ہمارے ہجوم کو دیکھنے لگتے تھے۔ پولیس کے ایک دوسپاہی بندوبست کے لیے موجود ہوتے تھے، مگر ایک طرف ہو کہ خاموشی سے کھڑے رہتے تھے۔ کبھی کوئی مشہور فلم آتی تو ٹکٹوں کے لیے مار دھاڑ شروع ہو جاتی۔ پھر سپاہی آگے آجاتے تھے۔ مگر ڈنڈا چلانا ادھر کے سپاہیوں کا کام نہیں، بس ہاتھ ہلا کر اور منہ سے بول کر بندوبست کر دیتے ہیں۔ ہال کے اندر ا و ر ہی سماں ہوتا تھا۔ مشہور گانوں کے ریکارڈ چلتے تھے۔ لتامنگیشکر، محمد رفیع، نور جہاں۔ فلم شروع ہوتی تو دنیا ہی بدل جاتی۔ اپنے ایکٹرا و رایکٹرسیں۔ اپنی بات چیت، اپنا ناچ گانا۔ اپنے ہنسی مذاق۔ اپنی سٹوری۔ اپنے گھر بار کے منظر۔ایسا لگتا تھا کہ اپنے وطن میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ فلم بھی کیا عجیب چیز ہوتی ہے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ میں سٹوری میں بالکل گم ہو گیا۔ جب ہال میں روشنی ہوئی ہے تو پھر خیال آیا کہ میں کس جگہ پر بیٹھا ہوا ہوں، مگر خیال کو برابر ہونے میں کئی سیکنڈ لگ گئے۔ عجیب کیفیت ہوتی تھی۔ دردناک فلم ہوتی تو کئی لوگ رونے لگ جاتے۔ ہال میں جب ناکوں کی شوں شوں کی آواز آئی تو پتا چل جاتا کہ رو رہے ہیں۔ مگر میں کبھی نہیں رویا میں فلم میں خواہ کتنا ہی گم ہو جاؤں مجھے یہ خیال رہتا ہے کہ یہ ایک سٹوری ہی ہے۔ مگر ایک بات میں نے یہاں آکر دیکھی ہے۔ بے وطنی کے اندر دل بہت نرم ہو جاتا ہے۔ اپنا گھر بار اور اپنے بیوی بچے جن کو پہلے کبھی آدمی ایسے دل پر نہیں لگاتا تھا اب اس طرح موقع بے موقع یاد آتے ہیں کہ دل ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگتا ہے۔ یہاں پر عورتیں بھی مل جاتی ہیں اور بچے بھی، مگر وہ بات نہیں بنتی۔ اپنی زبان کا لطف، اپنی بات چیت، اپنا لباس، اپنی اُٹھ بیٹھ، لمبی لمبی دھوپ، اپنی آوازیں، اپنے ہاتھوں کی نرمی، یہ چیزیں نہیں ملتیں۔ بڑے بڑے شہ ز ور میں نے دیکھے ہیں، ہر چیز اُن کو حاصل ہوتی ہے، ہاتھ میں ہنراورجیب میں پیسہ ہوتا ہے، مگر بیٹھے بیٹھے رونے لگتے ہیں، جیسے کوئی مرض لاگو ہو۔ جب فلم شو ختم ہوتا اور ہال میں روشنی ہو جاتی تو لوگوں کے چہروں پر ایک رونق ہوتی۔ سینما سے باہر نکلتے نکلتے رونق آدھی رہ جاتی۔ رستے میں ہم فلم سٹوری کی باتیں کرتے اور اس کے مذاق آپس میں دہراتے ہوئے واپس آتے۔ اس طرح ہمارے ہفتے کا ایک بڑا موقع گزر جاتا۔
گھر واپس آکر ایک بار پھر گھر یلو زندگی شروع ہو جاتی۔ آٹھ سے لے کر نو بجے تک رنڈی کا ٹائم مقرر تھا۔ بہت سی ہماری گلی میں ہی رہتی تھیں، اور اتوار کے لیے ہم نے اُن کے ساتھ ریٹ اورٹائم طے کیا ہوا تھا۔ میرے آنے سے پہلے سُنا تھا کہ ہر کوئی اکیلا اکیلا پیسے خرچ کر تا تھا۔ پھر سب نے مل کر صلاح کی کہ اس طرح پیسے ضائع کرنے سے کچھ حاصل نہیں۔ حسین شاہ اس تجویز کو پیش کرنے والا تھا۔ یہودی اس کا بڑا لحاظ کرتا تھا، اسی لیے حسین شاہ اکیلا کمرے میں رہتا تھا اور سنگل کرایہ دیتا تھا۔ حسین شاہ کی صلاح سب کی عقل میں آگئی۔ اُس دن کے بعد ایک سسٹم بن گیا۔ سسٹم یہ تھا کہ سب لوگ پیسے ایک جگہ اکٹھے ڈالیں جن کی ادائیگی یکمشت کر دی جائے۔ پھر باری باری سب فارغ ہو لیں۔ کوئی نیا گھر میں آتا تو اس کو سسٹم سے مطلع کر دیا جاتا اور باقی اس پر چھوڑ دیا جاتا۔ اگر وہ چاہتا تو سب کے ساتھ شریک ہو جاتا، نہ چاہتا تو الگ رہتا۔ آج تک ثاقب کے علاؤہ کسی نے انکار نہیں کیا تھا۔ ثاقب کے انکار کرنے پر دل میں سب خوش تھے، کیوں کہ وہ نو عمر لڑکا تھا اور ہم سب اس کو بچوں کی مانند جانتے تھے۔ حسین شاہ سسٹم کو چلانے کا ذمہ دار تھا۔ تین رنڈیوں کے ساتھ ہمارا کاروبار تھا جو باری باری ایک ایک اتوار کو آتی تھیں۔ چوتھی اتوار کہ پھر پہلی کی باری آجاتی تھی۔ اگر مصروفیت کی وجہ سے ایک ہی رنڈی اکٹھی دو اتواروں کو چلی آتی تو اس کو کم ریٹ دیا جاتا تھا۔ یہ معاہدہ طے تھا اور حسین شاہ اس پر سختی سے عمل کرواتا تھا۔ رنڈیوں نے جگہ جگہ پر اس قسم کے ٹھیکے کر رکھے تھے۔ ٹھیک آٹھ بجے رنڈی بن سنور کر آپہنچتی۔ گھر والے پہلے ہی اندر بیٹھے انتظار کر رہے ہوتے۔ گھر میں داخل ہو کر وہ پکا رتی، ’’کم آن بوائز۔ فیڈ نگ ٹائم‘‘ اور دوسری منزل پر چڑھ جاتی۔ دوسری منزل پر حافظ آبادیوں کا ایک کمرہ اس مقصد کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ سب آدمی کمرے کے باہر جمع ہو جاتے اور آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگتے۔ مگر جوں جوں کا رروائی آگے چلتی ہنسی مذاق بڑھتا جاتا اور آوازیں اونچی ہونے لگتیں۔ سب سے پہلے حسین شاہ فارغ ہوتا۔ یہ بات شروع سے تسلیم شدہ تھی کہ حسین شاہ کا پہلا نمبر ہے۔ اس کے علاؤہ وہ نمازی بھی تھا۔حسین شاہ کے بعد دوسرے نمازیوں کا نمبر آتا جو کل چار تھے، تین میر پوری اور چو تھا شیر باز حافظ آبادی۔ نمازی اپنے غسل کے بے حد پابند تھے اور انہوں نے اپنے اپنے شلنگ پانی گرم کرنے کے میٹر میں پہلے ہی ڈال دیے ہوتے تھے۔ اس کے علاؤہ گھر میں ان کی عزت تھی۔ جب نمازی فارغ ہو جاتے اور غسل کے لیے نیچے چلے جاتے تو پھر باقیوں کی باری آتی۔ جیسے جیسے کوئی کمرے سے باہر نکل کر آتا اس کے ساتھ گندے مذاق کیے جاتے۔ دروازے کے باہراو پر اورنیچے کی سیڑھیوں تک قطار لگی ہوتی۔ جو کوئی اندر سے نکلتا اُس کو پوری قطار کا ٹھٹھا برداشت کرنا پڑتا۔ اس کے باوجود ہر کسی کی یہ کوشش ہوتی کہ پہلے اُس کا نمبر آئے، چناں چہ دھکم پیل جاری رہتی۔ مگر اس کا بھی سسٹم طے شدہ تھا۔ حافظ آبادیوں کا کمرہ استعمال ہوتا تھا اس لیے ان کا حق پہلے نکلتا تھا۔ ان کے بعد سنارٹی کا حساب ہوتا تھا۔ گھر میں جتنا پرا نا کوئی رہنے والا تھا اتنا ہی اُونچا قطار میں اُس کا نمبر آتا تھا۔ سب سے آخر میں بنگالیوں کی باری آتی تھی۔ بنگالی حالاں کہ گھر میں کافی پرانے رہنے والے تھے اور اس حساب سے ان کی جگہ قطار کے درمیان میں ہونی چاہیے تھی۔ مگر اُن کو دھکا ز وری سے قطار کے آخر میں بھیج دیا جاتا تھا۔ رنڈیوں کو بھی علم تھا کہ بنگالیوں کی حیثیت سب سے چھوٹی ہے۔ چناں چہ اُن کے داخل ہوتے ہی رنڈی شور مچانا شروع کر دیتی۔ اندر سے، ’’جانور .....جانور‘‘ کی آوازیں آتیں اور رنڈی جلدی ہی بنگالیوں کو فارغ کر کے باہر نکال دیتی۔ پھر وہ غصے میں باہر آتی اور کہتی، ’’حسین شاہ کہاں ہے ؟‘‘ حسین شاہ اگر غسل خانے میں ہوتا تو وہ نیچے جا کر باتھ روم کا دروازہ پیٹتی اور کہتی، ’’ آج کے بعد میں ان جانوروں کی شکل دیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ دس دس پونڈ پر بھی مہنگے ہیں۔ سن لیا ؟‘‘ بنگالی شر مسار ہو کر اپنے حق میں کچھ بولنے کی کوشش کرتے اور پھر اپنے کمرے میں چلے جاتے۔ یہ ڈرامہ ہرا توار کو ہوتا تھا اور ہمارے شغل کا ایک حصہ بن چکا تھا۔ ہم لوگ بنگالیوں سے دھول دھپا کرتے رہتے تھے، مگر اندر ہی اندر اس معاملے پر ان سے جلتے بھی تھے کہ نہ جانے ان کے پاس کون سا ایسا ہتھیار ہے جو ہمارے پاس نہیں، اور ہنسی مذاق میں ان سے دریافت کر نے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ آخر میں بنگالیوں نے ہم سے اپنا بدلہ لے لیا اور بر اسخت لیا۔ مگر جب تک آرام سے کام چلتا رہا سب لوگ بنگالیوں سے فائدہ اُٹھاتے رہے۔
اتوار کا دن آدھی رات تک چلتا رہتا۔ نو بجے کے بعد غسل کے لیے قطار لگ جاتی۔ ایک ڈیڑھ گھنٹہ اسی میں گزر جاتا۔ نمازی پہلے غسل سے فارغ ہو کر نمازا دا کرتے۔ اتوار کا دن چوں کہ عبادت کا ہوتا وہ دل لگا کر عبادت کرتے۔ ان کے کمروں سے دیر تک دعا اور استغفار پڑھنے کی آوازیں آتی رہتیں۔ باقی لوگ غسل سے فارغ ہو کر ٹولیوں میں بٹ جاتے اور ایک دو کمروں میں بیٹھ کر تاش کی بازی لگا لیتے۔ اس وقت ہم میں سے کئی ایک کے ایجنٹ اپنا ہفتہ وار قرض وصول کرنے کے لیے آ پہنچتے۔ کبھی کبھی تو تو میں میں ہوتی، مگر یہ لوگ اپنے پیسے چھوڑ کر نہ جاتے۔ اُن کے جانے کے بعد تاش کی بازی جاری رہتی۔ ساتھ ساتھ ہلکی ہلکی گفت و شنید بھی ہوتی رہتی۔ خبر اخبار، پیچھے کی باتیں، زمینوں کی قیمت، فصلوں کا حال، مہنگائی کا ذکر۔ جیسے جیسے کوئی نیند اور تھکاوٹ سے مغلوب ہوتا جاتا اُٹھ کر سونے چلا جاتا۔ وہ عجیب اُداسی کا وقت ہوتا۔ مکان پر خاموشی چھا جاتی اور ہماری آوازیں آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتیں، جیسے کوئی چیز اندر سے نکل گئی ہو۔ اس طرح اتوار کا دن اپنے خاتمے کو پہنچتا۔ پھر اگلی اتوار کے انتظار میں سات دن کی روٹین شروع ہو جاتی۔ وقت کا پتا بھی نہ چلتا۔
جب تک وقت آرام سے نکلتا گیا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا ر ہا۔ مگر سال سوا سال کے بعد ہمارے گھر میں ایک ایسی تبدیلی آئی کہ سارا نقشہ ہی بدل گیا۔ ایک دن میں کام سے واپس آیا تو گھر میں داخل ہوتے ہی میں نے محسوس کر لیا کہ کوئی بات ہے۔ اویر گیا تو حسین شاہ کے کمرے سے ایک عورت کے بولنے کی آواز آئی۔ ثاقب اپنے اٹک سے اتر کر میرے کمرے میں آیا اور بولا کہ حسین شاہ ایک گوری عورت کو اپنے ساتھ لے آیا ہے۔ ہم دونوں خاموشی سے بیٹھ گئے اور حسین شاہ کے کمرے کی دیوار سے کان لگا کر سننے لگے۔ تھوڑی دیر کے بعد غلام محمد بھی آپہنچا۔ غلام محمد نے کمرے کی بتی جلائی تو میں نے اور ثاقب نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کہ اس کو شور نہ کرنے اور اشارے سے بتی بجھانے کو کہا۔ غلام محمد کی زندگی سیٹ ہو چکی تھی۔ آج اس تبدیلی کو دیکھ کر اُس کی حرکت میں فرق آگیا۔ وہ بے سمجھی سے کمرے میں ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ پھر ہمارے اشاروں کو دیکھ کر اُس نے بتی بجھا دی اور ہمارے پاس آکر بیٹھ گیا۔ ہم نے سر گوشیوں میں اُسے مطلع کیا کہ حسین شاہ ایک گوری عورت کو لے آیا ہے جو اس وقت اُس کے کمرے میں ہے۔ غلام محمد کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ اس نے پوچھا، ’’ رنڈی ہے ؟‘‘ اور کان دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ ہم تینوں دیر تک بیٹھے آوازیں سنتے رہے۔ حسین شاہ ان پڑھ تھا، مگر انگریزی میں اپنا کام خوب چلا لیتا تھا۔ زیادہ تر آوازیں حسین شاہ کی باتوں کی آرہی تھیں۔ مگر بیچ بیچ میں عورت بھی ایک دو لفظ بول دیتی تھی۔ جب عورت کی پتلی سی آواز آتی تو ہمارے کانوں کا سارا از ور اس طرف لگ جاتا۔ ہمیں کسی بات کی سمجھ نہ آر ہی تھی، مگر جب وہ بولتی تو ہمارے دل دھک دھک کرنے لگتے۔ غلام محمد اپنے سیٹ کام کاج بھول چکا تھا۔ کھانے دانے کا بندوبست کرنا بھی کسی کو یاد نہ رہا تھا۔ کیوں کہ کھانے پکانے سے بتی کی روشنی اور برتنوں کی کھڑک ہونے کا اندیشہ تھا، اور ہماری حالت ایسی تھی کہ جیسے ہمارے ہاتھ پیر جڑ گئے ہوں، اور ذراسی حرکت ہوئی تو آوازیں آنی بند ہو جائیں گی اور عورت وہاں سے اُٹھ کر بھاگ جائے گی۔ غلام محمد بار بار پوچھ رہا تھا، ’’ رنڈی ہے ؟‘‘
ہم میں سے کسی کو معلوم نہ تھا۔ ہم کبھی ہاں میں اور کبھی نہ میں سر ہلا کر جواب دیتے۔ تھوڑی دیر کے بعد غلام محمد نے پوچھا : ’’ یہ یہاں رہے گی ؟ ‘‘
ہمیں محسوس ہوا کہ جیسے یہ سوال پہلے ہی ہمارے دل میں تھا۔ ہمارا دل کہتا تھا کہ یہ رات کو یہاں رہے گی، مگر ہمیں یقین نہ آتا تھا۔ اس گھر کے اندر کسی عورت نے رات بسر نہ کی تھی۔ ہم نے کئی گوری عورتوں کو اپنے آدمیوں کے ساتھ گھومتے پھرتے ہوئے دیکھا تھا، مگر ہمیں علم تھا کہ وہ رنڈیاں تھیں۔ ہمارے فہم میں نہیں آتا تھا کہ کوئی ایک یہاں آکر رہنا شروع کر دے گی۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ خیال ہو کے کی طرح ہمارے دل کے اوپر بیٹھتا گیا۔ ہمارے سانس بالکل رک گئے اور جان کانوں میں آگئی۔ باتوں کی آواز اُسی طرح ٹھہر ٹھہر کر آرہی تھی۔ ہمیں اس سے غرض نہیں تھی کہ کیا باتیں ہو رہی ہیں یا دیوار کے اُس طرف کیا کچھ جاری ہے۔ ہمارے سامنے صرف ایک سوال تھا، کہ کیا یہ عورت یہاں رہے گی؟ اس ایک بات پر ہمارے گھر کے نظم و ضبط کا انحصار تھا۔ سننے میں یہ بات بے وقوفی کی لگتی ہے۔ مگر اُس وقت شاید قدرت کی طرف سے ہمارے دل میں آنے والے واقعات کا ہلکا سا علم ڈالا جار ہا تھا۔ ہم دو ڈھائی گھنٹے تک اُسی طرح اندھیرے میں دیوار کے ساتھ جڑ کر بیٹھے رہے۔ حسین شاہ کے کام پر جانے کا وقت دیر ہوئی نکل چکا تھا۔ بھوک کی وجہ سے ہمارے پیٹ گڑگڑ کرنے لگے تھے، مگر کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ یکایک باتوں کی آوا ز بند ہو گئی۔ جب کئی منٹ تک آواز نہ آئی تو ثاقب اٹھ کر دبے پیر دروازے تک گیا۔ و اپس آکر اُس نے ہمیں بتایا کہ حسین شاہ کے دروازے کے نیچے روشنی بند ہو چکی ہے۔ ہم دنگ رہ گئے۔ حسین شاہ اور وہ عورت بتی بجھا کہ سو چکے تھے۔ حسین شاہ نے ہماری ہوش میں ایک دن بھی کبھی کام سے ناغہ نہیں کیا تھا۔ آہستہ آہستہ ہمارے ہاتھ پیر کھلنے لگے۔ ہم تینوں اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے پھر غلام محمد نے جاکر بتی جلائی۔ میں آہستہ آہستہ قدم رکھتا ہوا باہر نکلا اور کھانا پکانے کا بندوبست کر نے لگا مگر ہماری آنکھیں اور ہمارے کان حسین شاہ کے دروازے پر لگے تھے، جیسے کہ اس دروازے کے پیچھے جو واقعہ ہوا تھا اُس سے ہماری دنیا بدل گئی ہو۔ نیچے کی منزلوں پر بھی یہی حالت تھی۔ ابھی تک کوئی سویا نہ تھا۔ دبے دبے پیر سب چل پھر رہے تھے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ نیچے رہنے والا کوئی ہماری سیڑھیوں تک آیا اور ایک دو منٹ کھڑا رہنے کے بعد واپس ہو گیا۔ کانا پھوسی کی آواز ہر طرف سے آرہی تھی۔ مکان پر خاموشی چھائی ہوئی تھی، مگر مکھیوں کے چھتے کی طرح اس کے اندر بے حساب حرکت تھی اور اس کی گونج بھری ہوئی تھی۔ جب ہم کھانے کے لیے اپنے گدوں پر بیٹھے تو ہمیں پتا چلا کہ ثاقب کو آج کھانا نہیں ملا۔ اس نے ہمیں بتایا کہ حسین شاہ نے کھانا پکا یا تھا، مگر اٹھا کر اپنے کمرے میں لے گیا تھا۔ ثاقب اپنے اٹک میں ہی بیٹھا رہا۔ہم نے اپنی روٹی میں سے آدھی آدھی اُسے کھانے کے لیے دے دی۔ یہ پہلی بار تھی کہ حسین شاہ نے شام کے وقت نہ غرارے کیے، نہ وضو کیا اور نہ ہی نماز ادا کی۔ غلام محمد نے کھانا کھاتے ہوئے ثاقب سے کہا، ’’ تم ہمارے ساتھ شریک ہو جاؤ۔‘‘ ثاقب نے سر ہلا دیا۔ اس دن سے ثاقب کھانے میں ہمارے ساتھ شریک ہو گیا۔ ہمیں خریداری کا فکرنہ رہا۔ثاقب ہم تینوں کی خریداری کر کے لانے لگا اور غلام محمد نے اُس کے حصّے میں سے آدھا راشن خود کھانا شروع کر دیا۔ اس طرح سب کا کام چل گیا۔
اگلے روز حسین شاہ ڈاکٹر کے پاس گیا اور تین دن کے لیے بیماری کا پرچہ لے آیا۔ یہ پرچہ اس نے ایک حافظ آبادی کے ہاتھ اپنے فورمین کو بھیج دیا۔ حسین شاہ سے گھر میں کسی نے پوچھنے کی جرأت نہ کی۔ تین دن تک حسین شاہ کا وہی طریقہ رہا۔ وہ صرف رفع حاجت کے لیے نکلتا یا پھر کھانا پکانے باہر آتا۔ دونوں وقت وہ کھانا پکا کر کمرے میں لے جاتا اور دروازہ بند کر لیتا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ ثاقب کو بالکل فراموش کر چکا ہے۔
تین دن تک عورت کو بھی کسی نے نہ دیکھا۔ چوتھے دن ہفتے کا روز تھا۔ اس روز وہ باہر نکلی اور دو چار منٹ ہماری منزل پر پھرتی رہی۔ میں جب کام سے واپس آیا تو وہ چولہے کے پاس کھڑی ثاقب سے باتیں کر رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر وہ اندر چلی گئی۔ پتلی سی نوجوان عورت تھی۔ اُس کے بھوسلے بال تھے اور بڑی بڑی بلی کے رنگ کی آنکھیں تھیں۔ اُس نے ڈھیلا ڈھالا لمبا سا چغہ پہنا ہوا تھا جو پاؤں تک لٹک رہا تھا۔ پیروں میں موٹی جرابیں اور سلیپر تھے۔ وہ کمزور لوگوں کی طرح آہستہ آہستہ چل کر حسین شاہ کے کمرے میں چلی گئی۔ ثاقب اُچھل کر اپنے اٹک میں جا چڑھا۔ دو منٹ کے بعد وہ چھلانگ لگا کر وہاں سے اترا اور ہمارے کمرے میں آگیا۔
’’کیا کہ رہی تھی؟‘‘ میں نے پوچھا۔
ثاقب کے چہرے کا رنگ فق تھا اور منہ سے بات نہیں نکلتی تھی۔’’ کچھ نہیں۔‘‘ وہ بولا۔
’’کیوں نہیں۔‘‘ میں نے سختی سے پوچھا۔ ’’ تم سے باتیں کر رہی تھی۔‘‘
تھوڑی دیر تک ثاقب سانس برابر کرتا رہا۔ ’’ اس کا نام میری ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’کیا کہہ رہ ہی تھی ؟“ میں نے پوچھا۔
’’باتیں کر رہی تھی ؟‘‘
’’ کیا باتیں کر رہی تھی؟‘‘
’’ اُس نے خود پہلے ہیلو کر کے مجھے بلایا تھا۔‘‘ ثاقب نے کہا۔
’’ ٹھیک ہے، اس نے خود ہی پہلے تمہیں بلایا تھا،‘‘ میں نے کہا، ” مگر کہہ کیا رہی تھی؟‘‘
’’پوچھ رہی تھی میں کیا کام کرتا ہوں اور کتنے بجے کام پر جاتا ہوں اور کتنے بجے آتا ہوں۔‘‘
’’ کیوں؟‘‘
’’بس ایسے ہی۔‘‘
’’بس ایسے ہی کیوں۔ ‘‘میں نے پوچھا۔ ’’ اور کیا کہ رہی تھی۔“
’’کچھ نہیں۔‘‘
’’کیوں نہیں۔ تم سے لمبی بات کر رہی تھی۔ ‘‘
ثاقب گھبرا کر سوچتا رہا۔ پھر بولا، ’’ اُس کا پیٹ خراب ہو گیا ہے۔‘‘
میں اس کی طرف دیکھتا رہ گیا۔ مجھے اس طرح دیکھ کہ ثاقب اور بھی گھبرا گیا۔ میں نے اس کی یہ حالت دیکھی تو ہنس پڑا۔ ثاقب کی گھبراہٹ کچھ دور ہوئی۔ وہ بھی ہنسنے لگا۔
’’ ہمارا کھانا کھا کر اس کا پیٹ خراب ہو گیا ہے۔‘‘ ثاقب بولا۔’’ کہتی ہے اس کو سالن اور روٹی بہت پسند ہے، مگر مرچوں نے اس کا پیٹ خراب کر دیا ہے۔ ‘‘
ہم دونوں گدے پر بیٹھ گئے، مگر ہماری آنکھیں باہر کی طرف لگی ہوئی تھیں۔ اُس کا پیٹ واقعی خراب ہو گیا تھا۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے وہ دو تین بار ٹائلٹ ہو کر آئی۔ جب غلام محمد آیا تو ہم نے اُسے یہ بات بتائی۔ وہ ہمارے پاس بیٹھ گیا اور منہ اُٹھا کہ دروازے کو دیکھنے لگا۔ جب عورت ایک بار پھر دروازے کے آگے سے گزری تو غلام محمد جھک کر اُس کو ٹائلٹ میں جاتے اور دروازہ بند کرتے ہوئے دیکھتا رہا۔ پھر وہ ہماری طرف دیکھ کر بو لا:
’’ رنڈی ہے۔‘‘
ثاقب نے اسی وقت اُس سے اختلاف کرنا شروع کر دیا۔ مگر غلام محمد اپنی بات پر اڑا رہا۔ اسی دوران میں حسین شاہ خریدار ی کر کے لوٹ آیا۔ وہ کھانے پینے کی چیزوں کے علاؤہ کچھ برتن بھی لے کر آیا تھا۔ اس شام کو عورت نے چولہے پر اپنا انگریزی کھانا پکایا۔ جب کھانا تیار ہو گیا تو وہ اپنا فرائی پان اُٹھا کر کمرے میں لے گئی۔ ہم اپنے کمرے میں ہی بیٹھے یہ کارروائی دیکھتے رہے۔ اُس کے جانے کے بعد ہم اٹھے اور اپنے کھانے دانے کا بندوبست کرنے لگے۔ ہم تینوں چولہے کے پاس کھڑے کھانا پکا رہے تھے کہ وہ برتن دھونے کے لیے باہر آئی۔ اُس نے ہمیں دیکھ کہ ہیلو کیا۔ ہم تینوں نے ہیلو کر کے اُس کا جواب دیا۔ وہ خاموشی سے ٹونٹی کے نیچے پلیٹیں اور فرائی پان دھوتی رہی۔ جب دھو چکی تو جاتے جاتے اُس نے مسکرا کر ہماری جانب دیکھا۔ پھر اُس نے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیا۔ ہم تینوں اُسی طرح کھڑے رہے۔ ہماری حرکت میں کمی آگئی، ہاتھ چلتے چلتے آہستہ ہو گئے اور زبانیں بند ہو گئیں۔ جب سالن کے لگنے کی بو آنے لگی تو پھر مجھے اس میں پانی ڈالنا یاد آیا۔ مگر ہماری بات چیت اُسی طرح رکی رہی۔ ہمارے سارے خیالات ایک دم غائب ہو گئے تھے۔ کسی پر مشکوک ہو کر دل کیسے کیسے رنگ بدلتا ہے۔ وہ رنڈی تھی یا کون تھی، مگر اُس نے ہمارے ساتھ کھانا پکایا تھا اور برتن دھوئے تھے اور اپنے لوگوں کی طرح ہمیں دیکھ کر مسکرائی تھی۔ زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ یا چہرے کی مسکرا ہٹ کیسے آدمی کو سامنے لے آتی ہے۔ اس عورت سے سامنا کر کے ہمیں گویا اپنے آپ کا احساس ہوا تھا۔ ہمیں ایسا لگا جیسے اس وطن غیر سے پہلی بار ہماری واقفیت کا آغاز ہوا ہے۔ ہم نے خاموشی سے کھانا کھایا اور بتی بجھا کر سو گئے۔
یہ حقیقت ہے کہ اس وطن سے ہماری واقفیت کا آغازہ اُسی شام سے ہوا۔ اگلے دن اتوار کا روز تھا۔ میری کا پیٹ زیادہ خراب ہو گیا۔ اُس نے آہستہ آہستہ سیڑھیاں اتر کر اپنے ڈاکٹر کو ٹیلی فون کر دیا۔ سارے گھر پر خاموشی چھا گئی۔ ہر ایک نے ٹیلی فون پر میری کی آواز سنی یہ پہلا موقع تھا کہ اس ٹیلی فون سے کسی نے ڈاکٹر کے ساتھ بات کی تھی۔ اتوار کا ر وز تھا مگر کسی طرف سے آواز نہ آتی تھی۔ تینوں منزلوں پر لوگ دبک کر بیٹھے ڈاکٹر کی آمد کا انتظار کر ر ہے تھے کچھ دیر کے بعد بنگالیوں نے اُٹھ کر صفائی شروع کر دی۔ پانچ دس منٹ کے اندر اندر اُنہوں نے باورچی خانہ اور سیٹرھیاں اور غسل خانہ چمکا کہ رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔ سب کی نظریں دروازے پر لگی تھیں۔
ایک گھنٹے کے بعد ڈاکٹر آپہنچا۔ اس نے دروازے کی گھنٹی بجائی تو کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ حسین شاہ جلدی سے اُٹھ کر ٹائلٹ کے بہانے اندر گھس گیا۔ ہم تینوں اپنے دروازے سے ہٹ کر بیٹھے تھے تاکہ باہر سے گزر نے والے کو نظر نہ آئیں۔ تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ گھنٹی بجی تو نیچے والوں نے ایک بنگالی کو کمرے سے باہر دھکا دے دیا۔ بعد میں میر پوریوں کی زبانی سنا کہ بنگالی دروازہ کھولتے کھولتے دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔ ڈاکٹر اپنا بیگ اُٹھا کر اندر آیا تو کچھ دیر تک ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ پھر بنگالی در وازے کے پیچھے سے نکلا۔ ڈاکٹر نے میری کا نام لیا تو بنگالی نے اشارے سے اُسے اوپر جانے کو کہہ دیا۔ ڈاکٹر سیڑھیاں چڑھ کر ہماری منزل پر آپہنچا۔ میری اپنے دروازے کے آگے کھڑی تھی۔ پانچ منٹ میں ڈاکٹر اس کا ملاحظہ کر کے اور دوائی کی پرچی لکھ کر گھر سے سیدھا باہر چلا گیا۔ اس نے ادھر ادھر نظر ڈال کر بھی نہ دیکھا۔
آہستہ آہستہ گھر میں اِکا دُکا شور اُٹھنے لگا۔ پھر یکا یک گویا سب اُٹھ کھڑے ہوئے، جیسے سکتے کی حالت سے حرکت میں آگئے ہوں۔ اتوار کا دن اب شروع ہو گیا۔ اوپر نیچے دبڑ د بڑسیٹرھیاں اترنے اور چڑھنے کی آوازیں آنے لگیں۔ کھانے کے برتن کھڑ کنے لگے اور مصالحہ بھوننے کی خوشبو گھر میں پھیل گئی۔ میر پور یوں اور حافظ آبادیوں اور بنگالیوں کی مختلف زبانوں میں باتیں کرنے کی آوازوں سے گھر بھرا ہوا تھا۔ حسین شاہ ڈاکٹر کی پر چی لے کر دوائی لینے چلا گیا تھا۔ ہم لوگوں نے پر وگرام کے مطابق دوپہر کا کھانا کھایا، بوٹ چمکائے، اور تیارہ ہو کر فلم شو دیکھنے کے لیے چل پڑے۔ آج حسین شاہ ہمارے ساتھ نہیں تھا۔ وہ اور میری گھر میں رہ گئے تھے۔ مگر ہم سب آج بہت خوش تھے۔ ہمارے قدم زمین پر مضبوطی سے جم رہے تھے اور ہماری آنکھوں میں بے باکی تھی۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ہمارے دلوں کو ایک عجیب سی ڈھارس مل گئی ہو۔ شو ختم ہوا تو ہم وہاں سے فلم سٹوری کی باتیں اور ہنسی مذاق کرتے ہوتے واپس لوٹے، مگر ابھی ہم آدھے رستے میں ہی تھے کہ ہماری باتیں رک گئیں، جیسے ہم سب کو ایک ساتھ کوئی بات یاد آگئی ہو۔ جیسے جیسے گھر قریب آتا جاتا تھا ہمارے اوپر خاموشی چھاتی جا رہی تھی۔ آخر جب ہم گھر پہنچے تو دروازہ کھول کر چپ چاپ سب کے سب جا کر میرپوریوں کے ایک کمرے میں بیٹھ گئے اور انتظار کرنے لگے۔ ہم میں سے کسی نے اس بات کا ذکر نہ کیا تھا، مگر سب کو پتا تھا کہ ہمارے دل پہ کیا بات ہے اور کس بات کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد غلام محمد ا ٹھا اور بھاگتا ہوا سیڑھیاں چڑھ گیا۔ اوپر سے وہ اپنے کمرے میں پھر پھرا کر و اپس آ گیا۔
’’کمرے میں ہیں۔‘‘ اُس نے واپس آکر کہا اور اپنی جگہ پر جا بیٹھا۔کچھ وقت اور گزر گیا۔ ہم میں سے ایک دو نے کوئی چھوٹی سی بات کی، پھر خاموشی ہوگئی۔ وقت گزرتا جا رہا تھا اور دل میں کوئی سکیم نہ آر ہی تھی کہ اس صورت سے کیسے نبٹا جائے۔ ثاقب اٹھا اور کمرے سے نکل گیا۔ اُس کی طرف کسی نے دھیان نہ دیا۔ وہ ہمارے ٹولے میں شریک نہیں تھا۔ وہ اُوپر گیا اور اپنے اٹک میں چڑھ کر ادبی رسالہ پڑھنے لگا۔ ہمیں علم تھا کہ میری رنڈی ہے یا اسی قسم کی کوئی عورت ہے۔ مگر اس کے آنے سے گھر میں فرق آگیا تھا۔ اُس کے کھانا پکانے سے اور ٹائلٹ جانے اور ٹیلی فون کرنے اور حسین شاہ کی عورت بن کر رہنے سے گھر کی صورت دوسری ہو گئی تھی۔ اس صورت میں ایک رنڈی کا گھر میں داخل ہونا بے جاسی بات لگتی تھی۔ وہ خواہش جو ہر اتوار کی شام کو ہمارے اوپر سوار ہوتی تھی اس وقت غائب تھی۔ اب یہ بات ہمارے لیے مسئلہ بن گئی تھی۔ آخر حسین شاہ اُوپر سے سیڑھیاں اتر کر آیا تو اس کے حل کی کوئی صورت نکلی۔ حسین شاہ آکر ہمارے پاس بیٹھ گیا۔ میری کی آمد کے بعد یہ پہلی بار تھی کہ حسین شاہ ہمارے ساتھ آکر بیٹھا تھا۔ کئی منٹ تک وہ ہماری طرح چپ چاپ بیٹھا مونچھوں کو آہستہ آہستہ اُنگلیوں سے مروڑتا اور ہوا میں دیکھتا رہا۔ پھر ایک حافظ آبادی نے اُس سے بات کی۔ جس پر ہم سب چونک پڑے ہے۔
’’شاہ جی، اب بی بی کا کیا حال ہے۔“
کئی سیکنڈ تک خاموشی رہی، جس اثناء میں حسین شاہ حافظ آبادی کا منہ دیکھتا رہا۔ پھر ایک ساتھ کئی لوگوں کی ملی جلی آواز پیدا ہوئی، جیسے حال پوچھ رہے ہوں۔
حسین شاہ نے سر ہلا کر جواب دیا : ’’اب ٹھیک ہے۔‘‘
یہ کہنے کے بعد وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
’’ یہیں پر کر کر ا لینا۔‘‘ وہ ہاتھ سے اشارہ کر کے بولا۔’’اور شور نہ کرنا۔‘‘
حسین شاہ بات ختم کر کے کمرے سے نکل گیا۔ اب سب لوگوں نے باتیں شروع کر دیں۔ خاموشی کا دور ٹوٹ گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک بوجھ ہمارے دل سے اتر گیا ہے۔ ایک بنگالی کو تیا ر کیا گیا کہ وہ گھنٹی بجنے پر بھاگ کر جائے گا اور دروازہ کھولے گا۔ دروازہ کھولتے ہی ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کرے گا۔ پھر وہ خاموشی سے اُس کو پہلی منزل پر ہی میر پوریوں کے ایک کمرے میں لے جا کر چھوڑ دے گا۔ باہر کوئی قطار نہیں بنے گی بلکہ سب اسی کمرے میں جمع رہیں گے جہاں اب بیٹھے تھے، اور ایک ایک کر کے جاکر فارغ ہوئیں گئے۔ یہ ساری سکیم بنی اور ہدایت دی گئی اور یہ ہنسی مذاق کا سلسلہ جاری رہا، مگر اس کے باوجود کوئی ایک ایسی بات تھی جو اندر سے غائب ہو گئی تھی۔ اس ساری کا رروائی میں وہ جذبہ نہیں رہا تھا۔ سب لوگوں کو اس کا احساس تھا۔ سب سے زیادہ مجھے اور غلام محمد کو تھا۔ ہم دونوں کی حیثیت دوسروں سے مختلف تھی۔ ہمیں اُس وقت اس بات کا پتا چلا جب باتوں کے شور میں اچانک ہماری نظریں ایک د وسرے سے ٹکرائیں۔ ہم نے اُسی وقت جان لیا کہ ہم دونوں کے دلوں میں ایک ہی بات ہے۔ ہم ایک ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے۔
ہمارا نام کاٹ دو، غلام محمد نے ایک میر یو پری سے کہا۔ وہ میر پوری ہمارا منہ دیکھنے لگا۔ ہم دونوں کمرے سے نکل کر سیڑھیاں چڑھ آئے۔ اُس شام کو ہم نے غسل بھی نہ کیا، دو گھنٹے تک چپ چاپ اپنے کمرے میں بیٹھے رہے۔ نیچے جو کارروائی ہوئی اُس کی آواز تک اُوپر نہ آتی۔ پھر ہم نے اُٹھ کر کھانا دانہ کیا۔ کھانے سے فارغ ہو کر ہم برتن دھو ر ہے تھے کہ میری دودھ گرم کرنے کے لیے کمرے سے نکلی۔ ہمیں دیکھ کر وہ مسکرائی اور ہیلو کیا۔ ہم نے بھی مسکرا کر ہیلو سے جواب دیا۔ ثاقب نے ہمت کر کے اُس سے پوچھا کہ اب اُس کا کیا حال ہے۔ میری نے جواب دیا کہ اب وہ پہلے سے بہتر ہے۔ وہ چو لہے پر دودھ گرم کر رہی تھی کہ ہم برتن دھو کر اپنے کمرے میں چلے آئے۔ کافی دیر کے بعد نیچے والی منزلوں سے نہانے دھونے اور کھانا کھانے کی آوازیں آنے لگیں جب سب اپنے کاموں سے فارغ ہو چکے تو ہم تھوڑی دیر کے لیے اُٹھ کر نیچے چلے گئے۔ شام والی بات کا ذکر کسی نے نہ کیا۔ اپنی باتیں کرتے رہے۔ ایجنٹ آئے تو رقم کی ادائیگی پر تھوڑی سی تکرار ہوئی، پھر انہیں فارغ کر دیا گیا۔ گفتگو دھیمی آواز میں ہوتی رہی۔ تاش کی بازی بھی لگی اور پیچھ پچھاڑ کی باتیں بھی ہو ئیں، مگر آواز نیچی رہی، جیسے گھر والوں کے درمیان رات کے وقت ہوتی ہے۔ سب نے ایک ایک کر کے اپنے پیچھے والوں کا ذکر کیا، کسی نے ماں باپ کا، کسی نے بیوی بچوں کا، مگر سب کی آواز وں میں تسلی تھی، کسی گھبراہٹ کا اثر نہ تھا۔ وہ اتوار کی رات ہمارے رہن سہن میں ایک منزل کے مطابق تھی۔ اُس وقت ہمیں اس بات کی خاص خبر بھی نہ ہوئی، مگر اب سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ اُس دن سے ہمارے گھر کا دستور بدل گیا۔ ہمارے قدم اس سرزمین پر جمنے لگے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ہم اپنے وطن کی رسموں کو بھلانے لگ گئے۔ جو لوگ اپنے پاؤں سے چل کر دوسرے ملک کو جاتے ہیں وہ کبھی صحیح معنوں میں اپنے وطن کو نہیں چھوڑ تے، حتیٰ کہ اُن کی عمر پوری ہو جاتی ہے۔ مگر جہاں تک جان سلامت رہتی ہے زمین پر راستے کھولنے کے لیے نئی نئی رسمیں پڑتی چلی جاتی ہیں۔ اُس دن سے ایک نئی رسم ہمارے دستور میں داخل ہونی شروع ہوئی، اس ملک کی چیزوں کو اُٹھانے کی رسم۔
بے خوفی اور آزادی انسانی جان کے لیے ایک عجیب نعمت ہے۔ اس کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب اگلے ہفتے کے روز میری ہمیں سیڑھیاں اترتی ہوئی ملی۔ اُس کے ہاتھ میں تھیلا تھا۔ ہمیں دیکھ کر بولی، ’’شاپنگ کرنے نہیں جاؤ گے؟‘‘ ہم کچھ نہ کہہ سکے، بولے ہاں جائیں گے۔
’’ تو چلو۔‘‘ میری نے کہا۔’’اکٹھے چلتے ہیں۔‘‘
میں اور ثاقب اپنے تھیلے لے کر اُس کے ساتھ چل پڑے۔تھوڑی دیر میں شیب ہم بازار جا پہنچے۔ اب تک ہمارا خرید اری کا طریقہ ایک ہی رہا تھا۔ دکان پر پہنچے اور ضرورت کی چیزیں اُٹھا اُٹھا کہ ٹوکری میں رکھتے گئے۔ پھر اُن کے پیسے ادا کیے اور تھیلوں میں بھر کر گھر واپس آگئے۔ اُس دن ہم میری کے ساتھ گئے تو پہلے وہ ایک دکان میں داخل ہوئی۔ وہاں پر اُس نے کئی چیزوں کو اُٹھا کر دیکھا، اُن کے بھاؤ دریافت کیے اور انہیں واپس رکھ دیا۔ پھر وہ اونچی آواز میں بڑبڑائی کہ یہ تو بڑی مہنگی دکان ہے، اور باہر نکل آئی۔ ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے چلے آئے۔ دکان دار آنکھیں کھول کر ہمیں دیکھتا رہا، مگر منہ سے کچھ نہ بولا۔ اگلی دکان میں میری نے دو چار چیزیں خریدیں، باقیوں کے بھاؤ دیکھ کر انہیں واپس رکھ دیا۔ جب ہم اُس دکان سے نکلے تو ہمارے تھیلے خالی دیکھ کر میری نے دریافت کیا کہ ہم نے اپنا سودا نہیں خریدا ؟ ثاقب نے ایک بڑی دکان کی جانب اشارہ کر کے کہا کہ وہاں سے خریدیں گے۔
’’ وہ دکان تو بڑی مہنگی ہے۔‘‘ میری بولی۔ ” اُس سے سستی چیزیں تو اسی دکان سے ملتی ہیں۔ یہاں سے کیوں نہیں خریدتے؟‘‘
ہم دوبارہ اُسی دکان میں داخل ہوئے۔ میری ہماری فہرست کو دیکھ کہ سستی سستی چیزیں ہماری ٹوکری میں ڈالتی رہی جب ہم اُس دکان سے نکلے تو ہمارا آدھا سودا خریدا جا چکا تھا۔ تیسری دکان میں میری کا دکان دار عورت سے جھگڑا ہو گیا۔ میری نے کچھ چیزوں کے بھاؤ دیکھ کر کہا کہ دوسری دکان میں یہی چیزیں کم قیمت پر مل رہی ہیں۔ دکان دار عورت بد مزاج تھی، کہنے لگی سستی چیزوں کی کوالٹی بھی سستی ہوتی ہے۔ جب میری نے کہا کہ نہیں، یہ چیزیں ایک ہی کمپنی کی بنی ہوئی ہیں، تو وہ بولی کہ ٹھیک ہے، پھر اُسی دُکان پر چلے جاؤ۔میری منہ میں بڑ بڑاتی ہوئی باہر کی طرف چل دی۔
دکان دار عورت بھی بڑبڑانے لگی۔ ’’ہمیں تم جیسے خریدا روں کی ضرورت نہیں۔‘‘
میری نے یہ بات سن لی۔ در وازے سے پلٹ کر بولی، ’’یہاں پر سب ہم جیسے ہی ہیں۔ تم اتنی نواب ہو تو گھر بیٹھو، یا دکان کہیں اور لے جاؤ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ دکان سے باہر نکل آئی۔ ہم دل میں بہت گھبرائے ہوتے تھے۔ مگر ساتھ ساتھ ایک تسلی بھی تھی، اور خوشی بھی محسوس ہو رہی تھی۔ ایک عجیب حالت تھی۔ چوتھی دکان والا بڈھا میری کا واقف تھا۔ اُس دکان میں میری نے باقی کی چیزیں خریدیں۔ ہم نے بھی اُس کے ساتھ ساتھ مل کر اپنا سودا پورا کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم نے سودے کو اُٹھا کر اس پر لکھی ہوئی قیمتوں کو پڑھا، پھر اسے واپس رکھ کر دوسری چیز اٹھالی۔ گویا ہم نے پہلی بار خریداری کا حق ادا کیا۔ جب پیسے دینے کا موقع آیا تو میری کئی منٹ تک وہاں کھڑی ادھر اُدھر کی باتیں کر تی رہی۔ باتیں کرتے کرتے اُس نے دکان دار سے ہمارا تعارف بھی کر ایا۔ یہ میرے ’’فرینڈ‘‘ ہیں، میری نے کہا۔ دکان دار نے ’’ویلکم جینٹل مین‘‘ کہہ کر جواب دیا۔ جب ہم دکان سے باہر نکلے تو بو ندا باندی شروع ہو چکی تھی۔ اس ملک میں ہر وقت بوندا باندی ہوتی رہتی ہے۔ ہم دکان کے دروازے میں کھڑے اس کے رکنے کا انتظار کرتے رہے۔ جب بارش رکی تو ہم واپس روانہ ہوئے۔واپسی پر میری نے رک رک کر دکانوں کی کھڑکیوں میں لگے ہوئے مال کو دیکھنا شروع کر دیا۔ ہم نے اپنا خریداری کا وقت اس طرح کبھی نہیں گزارا تھا۔ مگر اس وقت خاموشی سے ہم میری کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ بازار خریداروں سے بھرا ہوا تھا۔ اتنے میں ہم نے ایک پولیس کے سپاہی کو دیکھا۔ وہ گشت کرتا ہوا سامنے سے چلا آرہا تھا میں نے ثاقب کی طرف دیکھا۔ اُس نے بھی سپاہی کو دیکھ لیا تھا۔ پہلے ہمارے دل میں خیال آیا کہ بازار کو پار کر کے دوسری طرف چلے جائیں۔ مگر میری کو وہاں چھوڑ کر کیسے جاتے۔ میری ایک کھڑکی کے آگے کھڑی عورتوں کے کپڑے دیکھ رہی تھی۔ ہم سپاہی کی طرف سے منہ پھیر کر کھڑے ہو گئے۔ اتنے میں میری چل پڑی۔ اب منہ سامنے کر کے چلنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب سپاہی قریب آیا تو وہ بھی میری کا واقف نکلا۔ میری نے ہیلو کر کے اُسے بلایا اور کھڑی ہو گئی۔ ایک دو منٹ تک وہ سپاہی سے باتیں کرتی رہی۔ ہم بھی چارونا چار پاس کھڑے ادھر اُدھر دیکھتے رہے پھر چلتے چلتے میری نے ہنس کہ اُس سے مذاقاً کچھ کہا۔ ان لوگوں کی ایک عادت بہت انوکھی ہے۔ ہر وقت چھوٹی چھوٹی مذاق کی باتیں کرتے رہتے ہیں جن کا کوئی مطلب نہیں ہوتا سپاہی نے بھی مسکر ا کر میری کو جواب دیا۔ جاتے جاتے وہ بولا :
’’یہ تمہارے کیسے مرد فرینڈ ہیں۔ تمہارا بیگ بھی نہیں اُٹھا سکتے۔‘‘
میری نے ہنس کہ ہماری طرف دیکھا اور چل پڑی۔ تھوڑی دور جانے کے بعد ثاقب نے اصرار کر کے میری کا تھیلا اُس کے ہاتھ سے لے لیا۔ آہستہ آہستہ چلتے اور باتیں کر تے ہوئے ہم گھر واپس آئے۔ جب ہم نے گھر کا دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا تو ہمیں محسوس ہو رہا تھا کہ ہم در حقیقت اس جگہ پر رہائش رکھتے ہیں اور اس گھر کے مالک ہیں۔
ایک دو ہفتے کے اندر میری ہم سے گھل مل گئی۔ ہم ایک ساتھ کھانا پکاتے اور بازار جاتے تھے۔ میری کبھی کبھی ہمارے کمرے میں بھی آجاتی اور کھڑی کھڑی دیر تک باتیں کرتی رہتی تھی۔ ثاقب سے اُس کی خوب بنتی تھی۔ ثاقب کام سے واپس آنے کے بعد زیادہ تر وقت اُس سے باتیں کرتا رہتا تھا کبھی کبھی میری اس کو اپنے کسی کام سے بازار بھی بھیج دیا کر تی۔ میں اور غلام محمد میری کے کمرے میں نہیں جاتے تھے، مگر ثاقب چلا جایا کرتا تھا۔ ثاقب نے ہمیں بتایا کہ میری نے خود اس کو اجازت دی تھی کہ وہ میری اور حسین شاہ کے کمرے میں آسکتا ہے۔ کبھی کبھی ثاقب اُن کے کمرے میں بیٹھا میری سے باتیں کر رہا ہوتا کہ حسین شاہ کام سے واپس آجاتا۔ حسین شاہ ثاقب کے آنے جانے کا برا نہیں مناتا تھا۔ حسین شاہ نے فورمین سے مل ملا کر دن کی شفٹ لے لی تھی۔ اب وہ دن کو کام کرتا اور راتوں کو گھر پر رہتا تھا۔ پہلے ایک دو ہفتے کے بعد حسین شاہ نے دوبارہ نماز ادا کرنی شروع کر دی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب وہ عشاء کی نماز کے ساتھ سارے دن کی قضا نمازیں ادا کیا کرتا تھا۔ اسی میں اس کے ایک دو گھنٹے لگ جاتے تھے۔ میری اس پر حیران ہوا کرتی تھی اور کبھی کبھی ثاقب کے سامنے مذاق کے لہجے میں اس کا ذکر بھی کیا کر تی تھی۔ مگر وہ حسین شاہ کی بہت عزت کرتی تھی، اس کے سامنے کچھ نہ بولتی۔ میری کی بھی عجیب کہانی تھی۔ کچھ میری کی اپنی زبانی اور کچھ ثاقب اور حسین شاہ کی زبانی معلوم ہوئی۔
وہ نیو کاسل کی رہنے والی تھی۔ یہ اس ملک کے شمالی علاقے میں ایک شہر ہے۔ اس کے ماں باپ شہر کے قریب ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ اس کا باپ پرانا شرابی تھا اور شراب پی کر اپنی بیوی اور لڑکی کو مارا پیٹا کرتا تھا۔ ایک روز وہ شراب خانے سے آکر کسی بات پر اپنی بیوی کو پیٹ رہا تھا کہ میری کی ماں نے باورچی خانے سے چھری اُٹھا کر اُس کے پیٹ میں گھونپ دی۔ وہ وہیں تڑپ کر مر گیا۔ پولیس والے میری کی ماں کو پکڑ کر لے گئے۔ میری اس وقت دس گیارہ برس کی تھی۔ ایک اس کا بھائی تھا جو میری سے ایک سال بڑا تھا۔ ان دونوں کو سوشل محکمے والے آکر اپنے ساتھ لے گئے اور ان کی نگہداشت کرنے لگے۔ میری کی ماں پر مقدمہ چلا اور اُسے پندرہ سال کی قید با مشقت ہوگئی۔ میری مستقل طور پر سوشل محکمے کے زیر سایہ ان کے ایک ادارے کے اندر پرورش پانے لگی۔ اس کا بھائی دوسرے ادارے میں تھا مگر دونوں کی ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ کئی سال تک میری وہیں پر پلتی اور سکول وغیرہ جاتی رہی۔ جب وہ سترہ سال کی ہوئی تو وہاں سے بھاگ نکلی۔ اُس عمر کے بعد وہ لوگ اُسے زبر دستی اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے۔ ایک دو سال تک وہ نیو کاسل میں چھوٹا موٹا کام کرتی اور ایک کمرے میں رہتی رہی۔ پھر وہ ہپیوں کے ہاتھ چڑھ گئی۔ ان لوگوں کی زندگی بھی عجیب ہوتی ہے۔ یہ لوگ فقیروں کی طرح پھرتے رہتے ہیں۔ جب ان کے پاس پیسے ختم ہو جاتے ہیں تو سوشل محکمے میں جاکر دستخط کرتے ہیں اور تھوڑے بہت پیسے لے آتے ہیں۔ کبھی کبھار ان میں سے کوئی دوچار دہاڑیاں کام کی لگا لیتے ہیں اور پیسے آپس میں بانٹ لیتے ہیں، ور نہ عام طور پر مانگ تانگ کر گزارہ چلاتے ہیں اور ہفیم چرس وغیرہ پیتے رہتے ہیں۔ میری ان لوگوں کے ایک ٹولے میں شامل ہو کر سارے ملک میں گھومتی پھری۔ اسی اثناء میں اسے خبر ملی کہ اس کی ماں نیک چلنی کی بنا پر آدھی مدت پوری کرنے کے بعد رہا ہو کر گھر آگئی ہے۔ میری ہپیوں کے ٹولے کو چھوڑ کر اپنے شہرواپس چلی آئی۔ اس کا بھائی لاپتا ہو چکا تھا۔ چھ مہینے تک ماں بیٹی کونسل کے ایک مکان میں رہتی رہیں۔ مگر اب اُس کی ماں نے شراب پینی شروع کر دی تھی۔ نشے میں آ کر وہ اپنی بیٹی سے گالی گلوچ کرتی اور اس کو مارتی پیٹتی، گویا کہ اب اس نے میری کے باپ کی جگہ لے لی تھی۔ آخر تنگ آکر ایک دن میری نے گھر چھوڑ دیا۔ اگلے دو سال تک وہ مانچسٹر کے شہر میں رہی جہاں اُس نے ایک آئرش آدمی کی دکان پر نوکری کرلی۔ تھوڑے عرصے کے بعد میری نے اُسی آدمی کے ساتھ اس کی عورت بن کر رہنا شروع کر دیا۔ ڈیڑھ سال اسی طرح گزر گیا۔ اس آدمی کے بیوی بچے پہلے موجود تھے۔ اُس نے میری کو الگ کرایے کے کمرے میں رکھا ہوا تھا۔ آخر ایک دن اُس آدمی کی بیوی کو اس بات کی خبر ہو گئی۔ وہ موٹی تگڑی آئریش عورت تھی، دندناتی ہوئی میری کے کمرے میں پہنچی۔ وہاں پر اُس نے میری کو دبوچا اور مار مار کو نیلا پیلا کر دیا۔ جاتی دفعہ دھمکی دے گئی کہ اگر اُس نے دوبارہ میری کو اس شہر میں دیکھا تو چھری سے اُس کا گلا کاٹ دے گی۔ میری خوف زدہ ہو کر وہاں سے جو بھاگی تو برمنگھم آکر رکی۔ یہاں پر اس کے کوئی پرانے جاننے والے رہتے تھے۔ دو چار ہفتے اُن کے پاس رہتی رہی۔ پھر جمیکے جارج کے ساتھ اس کی واقفیت ہو گئی۔ وہ جمیکا کارہنے والا کالا تھا، اس لیے جمیکا جارج کے نام سے مشہور تھا۔ اس ملک میں جمیکا کے کالے بہت ہیں، اور ان میں سے کئی ہفیم چرس اور قحبہ خانوں کا دھندا کرتے ہیں۔ جمیکا جارج ہمارے جیسے ہی ایک دوسرے علاقے میں یہ کسب کرتا تھا اور اپنے علاقے کا مانا ہوا شخص تھا۔ مگر اُس نے میری کو بہت عزت اور آرام سے اپنی عورت بنا کر رکھا۔ اُس زمانے میں میری کے نیچے ہر وقت کا ر ہوا کر تی تھی اور وہ گھر کی مالک تھی۔ تین سال تک وہ اسی طرح جمیکے جارج کے ساتھ رہتی رہی۔ مگر ان کا موں میں جہاں پیسہ ہوتا ہے وہاں خطرہ بھی بہت ہوتا ہے۔ میری کی بد قسمتی کہ ایک دن جمیکے جارج کو اُس کے دشمنوں نے قتل کر دیا۔ یہ قتل حال ہی میں ہوا تھا اور ہم نے بھی اس کی خبر اڑتی ہوئی سنی تھی جمیکے جارج کا ایک چھوٹا بھائی تھا۔ اُس نے اپنے بھائی کا کاروبار سنبھال لیا۔ مگر وہ جارج کی طرح دلیر آدمی نہ تھا اور اُس میں اتنی جان نہ تھی کہ ایسے کام کو چلا سکے۔ چنا ں چہ کام اُس کے ہاتھ سے نکلتا گیا۔ کچھ عرصے کے بعد اُس نے میری سے کہنا شروع کر دیا کہ اگر وہ اس گھر میں رہنا چاہتی ہے تو اسے پیشے کا دھندا کرنا پڑے گا۔ میری اس بات سے انکارہ کرتی رہی۔ آخر زیادہ دن نہ کاٹ سکی اور ایک روز مجبور ہو کہ وہاں سے نکل آئی۔ یہ میری کی زبانی ہم نے سنا تھا کہ چاہے اُس کی جان چلی جائے مگر وہ پیشہ نہیں کرے گی۔ اُس گھر سے نکلنے کے چند روز کے بعد ہی ایک کیفے میں اُس کی حسین شاہ سے ملاقات ہو گئی اور وہ ہمارے گھر چلی آئی۔
اس حساب سے میری کی عمر کوئی چھبیس ستائیس سال بنتی تھی۔ مگر دیکھنے میں وہ انیس بیس سے زیادہ کی نہیں لگتی تھی۔ سوچیں تو اُس کا وقت اتنا سخت گزرا تھا۔ مگر میری کے اوپر اس کا کوئی نشان نہ ملتا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک کم سنی کی صورت تھی، جیسے ابھی ابھی سکول سے نکل کر آئی ہو۔ ہم اُسے دیکھ دیکھ کر حیرت کرتے تھے کہ اتنی مصیبت کی ماری ہے مگر ہر وقت ہنس مکھ رہتی ہے۔ اُس کے منہ پر ہیلو ا ور چہرے پر مسکراہٹ رہتی تھی۔ ایک بار ثاقب نے تعریفاً اس کا ذکر کیا تو ہنس کر بولی،’’ تم مردوں کو کیا پتا ہے۔ تھوڑ اسادُ کھ در دلے کر بیٹھ جاتے ہو۔ عورتیں زندگی کی عادی ہوتی ہیں‘‘۔ دیکھنے میں اُس کے اندر کوئی عیب نہ تھا۔ نہ شراب نہ ہفیم نہ چرس۔ صرف ایک سگریٹ کا عیب تھا، ہر وقت سگریٹ پھونکتی رہتی تھی۔ مگر اس ملک میں جہاں عیب ہی عیب بھرے ہوئے ہیں وہاں سگریٹ پینا کوئی عیبوں میں عیب شمار نہیں ہوتا۔ حسین شاہ کی وہ دل سے عزت کرتی تھی۔ اُس کی خدمت کرنے میں میری نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ جیسے ہی وہ پیٹ کی خرابی سے تندرست ہوتی اُس نے ہمارا کھانا پکانا سیکھ لیا۔ ہر روز کچھ حسین شاہ سے کچھ مجھ سے پوچھ پوچھ کر پکاتی رہتی۔ عقل کی تیز تھی۔ چند ہی دن کے اندر خوب مزیدار سالن اور روٹیاں پکانے لگی۔ اب وہ ہر روز حسین شاہ کے لیے کھانا بناتی۔ کبھی کبھی خود بھی کھا لیتی۔ جب خود کھاتی تو اس میں مرچ مصالحہ کم ڈالتی۔مگر زیادہ تر دو جگہ پر بناتی، اپنے لیے انگریزی کھانا الگ اور حسین شاہ کے لیے دیسی کھانا الگ۔ محنت سے جی چرانے والی نہیں تھی۔ ساری ساری شام ہمارے ساتھ کھڑی ہو کر کھانا پکاتی اور باتیں کرتی رہتی تھی۔ یہاں تک کہ غلام محمد، جس کی زندگی سیٹ ہو چکی تھی اور جو بہت تھوڑی بات کرتا تھا، وہ بھی آدھا آدھا گھنٹہ میری سے باتیں کرتا رہتا ہماری منزل پر گویا رونق آگئی تھی۔
آہستہ آہستہ میری نے نیچے کی منزلوں پر بھی جانا شروع کر دیا۔ پہلے صرف آتے جاتے ہوئے ہیلو کہتی تھی۔ پھر کبھی کبھی رک کر بات کرنے لگی۔ کھانا پکانے کے لیے مرچ مصالحہ مانگنے نیچے جانے لگی۔ پہلے وہ اپنے اور حسین شاہ کے کپڑے اُوپر ٹونٹی پر ہی دھو لیتی تھی، پھر نیچے غسل خانے میں جا کر دھونے شروع کر دیے۔ ہوتے ہوتے درمیانی منزل والے حافظ آبادیوں سے اُس کی راہ و رسم ہو گئی۔ میری کی طبیعت ہی ملنسار تھی۔ دن کے وقت بھی اکتا کر کسی وقت وہ ان کی منزل پر چلی جاتی۔ رات کی شفٹ کرنے والے لوگوں سے، جو نیند پوری کرنے کے بعد اٹھ کر گھر میں کھڑپڑ کر ر ہے ہوتے، باتیں کرتی رہتی۔ پہلے ایک سال کے دوران میں نچلی منزلوں والا کوئی ہماری منزل پر نہیں آیا تھا۔ مگر اب اکثر اوقات حافظ آبادیوں میں سے کوئی نہ کوئی شام کے وقت اوپر آجایا کرتا۔ اگر ہم کھانا پکار ہے ہوتے تو وہ سیڑھیوں پر بیٹھ جاتا، ورنہ ہمارے کمرے میں آکر گپیں لگاتا رہتا۔ میری کی بدولت حافظ آبادیوں سے بھی ہماری دوستی شروع ہوگئی تھی۔ ہفتے میں ایک بار حافظ آبادی کسی کے ہاتھ سالن او پر بھیجتے جو کوئی لے کر آتاوہ بھی اور پیچھے دوسرے بھی سیٹرھیوں کے نیچے کھڑے ہو کر کہتے، ’’میری، اس میں مرچیں بہت تھوڑی ڈالی ہیں۔ تیرا پیٹ خراب نہیں ہو گا۔‘‘ میری شکریہ کہہ کر کھانا وصول کر لیتی۔ ہنس کر اور شکر یہ ادا کر کے لوگوں کی چیزیں اور ان کی باتیں قبول کرتی ہوتی میری بری نہیں لگتی تھی، جیسے کہ یہ طریقہ قدرت کی طرف سے اُس کو عطا ہوا ہو۔ کبھی کبھی رات کے کھانے کے بعد جب حسین شاہ نماز کی نیت باندھتا تو میری سگریٹ کی ڈبیاں لے کر نکل آتی۔ پہلے وہ ہمارے دروازے میں رک کر باتیں کرتی رہتی، پھر کہتی چلو نیچے چلیں، اور ہمیں ساتھ لے کر نیچے اتر جاتی۔ نیچے وہ حافظ آبادیوں کے ایک کمرے میں سب کے ساتھ گدے پر بیٹھ جاتی۔ پھر وہ ایک ایک کو اپنی ڈبیوں سے سگریٹ پلاتی، جب ختم ہو جاتے تو اُن کے سگریٹ پیتی، اور دیر تک ہنس ہنس کر باتیں کرتی رہتی۔ میری کو ہمارے ملک کے بارے میں باتیں معلوم کرنے کا بہت شوق تھا۔ وہ کہتی کہ اُس نے وہاں کے لوگ تو دیکھ لیے ہیں، مگر وہ سر زمین نہیں دیکھی۔ اتنے سوال پوچھتی کہ لوگ جواب دیتے اور اُس کو سمجھاتے سمجھاتے ہار جاتے۔ ہمارے رہن سہن اور رسم و رواج کے بارے میں، ہمارے موسم کے، ہماری تعلیم و تربیت کے، ہمارے مکانوں،عورتوں اور بچوں کے بارے میں اور ہمارے گانوں اور فلموں کے بارے میں سوال پوچھتی۔ ایک دفعہ وہ ہمارا فلم شو بھی جاکر دیکھ آئی تھی جب سے وہ آئی تھی حسین شاہ نےفلم شو پر جانا چھوڑ دیا تھا۔ مگر ایک بار ضد کر کے میری اُسے ساتھ لے گئی اور فلم دیکھ کر آئی۔ کہنے لگی اُسے ہماری فلم بہت پسند آئی ہے۔ میری ہر ایک کے بیوی بچوں کے بارے میں دلچسپی لے کر باتیں کرتی۔ اس نے ہم سب کی بیویوں کے نام از بر یاد کر رکھے تھے۔ دماغ کی اچھی تھی، کبھی ناموں میں غلطی نہ کرتی۔ جب ملتی تو ہر ایک سے پوچھتی، گھر سے کوئی خط آیا ہے۔ کبھی کبھی کہتی خط پڑھ کر سناؤ کہتی پہلے اپنی زبان میں پڑھو۔ ہماری زبان کی اُسے سمجھ نہ آتی تھی مگر بڑے غور سے سنتی تھی۔ پھر ہم لوگ اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اُس کا ترجمہ کرتے تو سن کر خوش ہوتی۔ کئی بار شام کے وقت کوئی حافظ آبادی کام سے واپس آتے ہی بھاگتا ہوا اوپر ہماری منزل پر آچڑھتا اور کہتا میری یہ دیکھو گھر سے بیوی کا خط آیا ہے۔ میری کا منہ کھل اٹھنا، کہتی اچھا، سکینہ کا خط آیا ہے؟ کیا لکھا ہے، ٹھیک ہے ؟ بچے ٹھیک ہیں، صحت کیسی ہے ؟ سب کا حال پوچھتی ہمارے مذہب میں بہت دلچسپی لیتی تھی۔ ایسی ایسی باتیں پوچھتی جن کا ہمیں علم نہ ہوتا۔ شیر باز حافظ آبادی نے، جو نمازی تھا، میری کو مذہب کے احکام سمجھانے کا ذمہ لے لیا ہوا تھا۔ جب کبھی میری نیچے جاگہ بیٹھتی شیر باز اس کو مذہب کے احکام ذہن نشین کرانے لگتا۔ میری کو ہمارے مذہب سے بہت واقفیت ہو گئی تھی اور وہ ہمارے مذہب کو بہت اعلیٰ سمجھتی تھی۔ کہتی تھی کہ حالاں کہ وہ مذہبی خیالات کی عورت نہیں مگرمذ ہب کو بہت اچھی چیز سمجھتی ہے۔ شیر باز کا کہنا تھا کہ ایک نہ ایک دن مسلمان ہو جائے گی، اس میں ایمان کا قطرہ ہے۔ جب نیچے بیٹھی بیٹھی حسین شاہ کے پیروں کی آواز سنتی تو میری اٹھ کھڑی ہوتی، کہتی حسین شاہ نماز سے فارغ ہو گیا ہے، اب میں جاتی ہوں۔ کبھی ہم بھی اٹھ کر اس کے ساتھ اوپر چلے جاتے کبھی وہیں بیٹھے حافظ آبادیوں کے ساتھ گپیں مارتے رہتے۔ ایک اتوار کو سنا کہ سب حافظ آبادیوں نے رنڈی کے کھاتے سے نام کٹوا دیا ہے۔ ان کی منزل سے صرف دو بنگالی رہ گئے۔ حافظ آبادی کہتے کہ یہ سسرے چڑے کی اولاد ہیں، حبب تک عورت پر سواری نہ کر لیں ان کی روٹی ہضم نہیں ہوتی۔ بنگالی شرمسار ہو کر کہتے، کٹا دیں گے بابا کٹا دیں گے، اور کیا کہتے ہو۔
میری کی آمد کے کوئی دو مہینے کے بعد ہمیں اُس کا پیٹ نظر آیا۔ پھر ہمیں پتہ چلا کہ وہ کئی ماہ کے پیٹ سے تھی۔ اسی لیے ہر وقت ڈھیلا ڈھالا چغہ پہنے رکھتی تھی۔ ہم نے ایک دو دن آپس میں ہولے ہولے اُس کے پیٹ کی باتیں کیں۔ مگر میری کے وطیرے میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ اُسی طرح ہنس ہنس کہ سب سے باتیں کرتی رہی تو ہمارے دل سے وہ بات آئی گئی ہو گئی۔ میری قسمت کے ہاتھوں دھکے کھارہی تھی،مگر خدمتی ایسی تھی کہ کسی کے دل پر میل نہ آنے دیتی تھی۔ پھر شیر باز نے بھی کہہ دیا کہ جس گھر میں تولید ہوتی ہے اللہ کا فضل اترتا ہے۔ دل پر میل نہ رکھو۔ اُس دن کے بعد میری روز بروز کمزور ہونے لگی۔ اس کا ر نگ پیلا نکل آیا۔ سانس لے لے کر سیٹرھیاں چڑھتی تھی۔ اس کے باوجود وہ آخری دم تک حسین شاہ کے لیے اپنے ہاتھ سے کھانا پکاتی رہی۔ ہم سب نے اُس کا بہت خیال کرنا شروع کر دیا تھا۔ ہفتے میں ایک بار وہ معائنے کے لیے ہسپتال جایا کر تی۔ حسین شاہ کام پر ہوتا تھا، اس لیے دو حافظ آبادیوں میں سے جو رات کی شفٹ ادا کر تے تھے، ایک نہ ایک ہمیشہ اس کے ہمراہ جایا کرتا اور اُسے ساتھ لے کر واپس آتا تھا۔ اسی دوران میں ایک رات کو پہلی منزل پر جھگڑا ہو گیا۔
ہوا یہ کہ ایک ایجنٹ نے اکرم میر پوری سے زیادہ رقم کا تقاضا شروع کر دیا تھا۔ ایک ہفتے تو اکرم نے رقم ادا کر دی، مگر اب کی بار وہ تیز ہو گیا۔ ہمیں اس بات کی خبر ہو چکی تھی کہ ایک ایجنٹ حرامزدگی کر رہا ہے۔ جب جھگڑا بڑھا اور آوازیں اُوپر آنے لگیں تو ہم سب باہر نکل آئے اور سیٹرھیوں پر کھڑے ہو کر سننے لگے۔ ایجنٹ اکرم کو پکڑوا دینے کی دھمکیاں دے رہا تھا اور اکرم کہہ رہا تھا کہ وہ اس کی غریب ماری کر رہا ہے۔ میری نے ہم سے پوچھا کہ یہ کون ہے جس کی سب سے زیادہ آواز آرہی ہے۔ ہم نے کہا ایک ایجنٹ ہے۔ میری کو ایجنٹوں کے سلسلے کا علم نہیں تھا۔ کہنے لگی کس کا ایجنٹ ہے۔ اس پر ہم نے اُسے ایجنٹوں کا سارا قصہ مختصر اً سمجھایا کہنے لگی چلو نیچے چلیں، میں اُس سے نبٹتی ہوں۔ ہم نے کہا دوسروں کے جھگڑے میں پڑنے سے کیا حاصل، تو بولی کہ کیوں نہیں، کوئی باہر کا آدمی اس گھر میں آکر جھگڑا نہیں کر سکتا۔ خیر، وہ مشکل سے آہستہ آہستہ سیڑھیاں اتر کر نیچے پہنچی۔ پہلے اُس نے سب سے نچلی سیڑھی پر بیٹھ کر سانس برابر کی۔ ایجنٹ کی تو ایک گوری عورت کو دیکھ کہ جان ہی نکل گئی۔ اس کے بعد جو میری اُٹھی ہے اور اس نے بولنا شروع کیا ہے تو اُس ایجنٹ کا اللہ ہی مالک۔ میری نے ٹھنڈے لہجے میں بات شروع کی، پھر ایک دم گر جنے لگی:
’’ تم کون ہو۔ تمہارا نام کیا ہے۔ کہاں سے آئے ہو۔ کیا لینے آئے ہو ؟ یہاں سب مزدور رہتے ہیں۔ اپنے ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔ اپنی محنت کی کمائی کھاتے ہیں۔ تم شور کیوں مچارہے ہو ؟ کیا یہاں پر کوئی چور رہتے ہیں ؟ میں اچھی طرح سے تمہیں جانتی ہوں۔ یہاں کسی نے تمہاری چوری نہیں کی۔ تم کیا سمجھتے ہو تم کسی کو پکڑوا دو گے؟ میں سب پولیس والوں کو جانتی ہوں۔ سب سے پہلے تم کو پکڑواؤں گی۔ اس ملک میں کوئی غیر قانونی نہیں ہے۔ سب قانونی ہیں۔ صرف تم لوگ اس ملک میں غیر قانونی ہو جو مزدوروں کا حق مارتے ہو۔ بولتے بولتے میری نے جاکر باہر کا دروازہ کھول دیا اور اشارہ کر کے بولی :’’ ابھی نکل جاؤ یہاں سے۔ میں نے پھر تمہیں یہاں دیکھا تو جیل میں جاؤ گے۔ اس ملک میں انصاف ہوتا ہے۔ ‘‘
ایجنٹ نے نہ آگے دیکھا نہ پیچھے، دروازے سے نکل کر غائب ہو گیا۔ میری اتنے میں ہی کمزوری سے نڈھال ہوگئی تھی۔ جا کر سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔ حسین شاہ اُس کو سہارا دے کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔ سب میر پوری اُس کے آس پاس سہمے کھڑے تھے۔ جب میری کی طاقت بحال ہوئی تو میر پوریوں سے باتیں کرنے لگی۔ کہنے لگی ڈر نے کی کوئی بات نہیں، ان لوگوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے، تمہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔
میری کو شاید ہماری نازکی حیثیت کا پورا علم نہیں تھا، مگر پھر بھی اپنی ہمت کے مطابق اُس نے پورا کام کیا۔ اس واقعے کا یہ اثر ہوا کہ سب ایجنٹوں کو خبر ہو گئی۔ اُس دن کے بعد ایجنٹ لوگ خاموشی سے آتے اور جو کچھ ملتا لے کر واپس چلے جاتے۔ روزہ روز کی تکرار ختم ہو گئی۔ اگریم میر پوری کا ایجنٹ ایسا ڈرا کردو ہفتے تک واپس ہی نہ آیا۔ پھر اُس نے آنا شروع کیا تو در وازے پر ہی کھڑا کھڑا اپنا پتا دیتا اور رقم وصول کر کے اُلٹے پاؤں ہو جاتا۔ اب میر پور یوں نے بھی اُوپر کی منزلوں پر آنا شروع کر دیا تھا۔ آہستہ آہستہ میری کی ان کے ساتھ بھی راہ و رسم ہو گئی تھی جیسے ہمارے اور حافظ آبادیوں کے ساتھ تھی میری جب کبھی سودا سلف لینے اکیلی باہر جاتی تو واپسی پر سانس لینے کے لیے ان کے پاس بیٹھ جاتی۔ میر پوری اس کو چائے بناکر پیش کرتے اور اس کا سودا اُٹھا کر اوپر چھوڑ آتے۔ اکرم میر پوری جو رات کی ڈیوٹی دیتا تھا ہر دفعہ میری کو ٹیکسی پر بٹھا کر ہسپتال لے جاتا اور واپس لے کر آتا۔ گھر میں رنڈی کا داخلہ بند ہو چکا تھا۔ شیر باز نے ایک روز اعلان کر دیا تھا کہ جس گھر میں زچہ کا مقام ہو اور پیدائش کی خوشنودی ہونے والی ہو اس گھر میں یہ کام نہیں چل سکتا۔ صرف دو بنگالی اور ایک بے وقوف سامیر پوری کبھی کبھار باہر جا کر منہ کالا کر آتے تھے۔
بچے کی پیدا ئش والے دن میری نے ہسپتال کو ٹیلی فون کیا تو وہاں سے ایمبولینس کی گاڑی آگئی۔ میری اُس میں بیٹھ کر ہسپتال چلی گئی۔ چوتھے دن وہ واپس آئی تو اُسی دن شیر باز نے گھر میں ختم دلوایا۔ گھر میں رہنے والے سب لوگ، سوائے حسین شاہ کے، شام کے وقت آ آکر شیر باز کے کمرے میں جمع ہوتے گئے اور اپنے اپنے علم کے مطابق تلاوت کرتے رہے۔ شیر باز ایک اپنے حلوائی کی دکان سے دیسی مٹھائی کی ٹوکری لے کر آیا تھا۔ ہم سب صاف ستھر ے کپڑے پہن کر آئے تھے اور گدوں پر دائرے کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آخر میں شیر باز نے لمبی تلاوت کے بعد دُعا پڑھنی شروع کی۔ میری مسکراہٹ کے ساتھ ساری کاررواائی دیکھتی رہی۔ جب دعاء خیر کے لیے سب نے ہاتھ اُٹھائے تو اُس نے بھی اُٹھا دیے۔ منہ میٹھا کرنے سے پہلے ہم سب نے ایک ایک پونڈ بچے کے نام کا میری کے ہاتھ پر رکھا۔ میری نے شکریہ ادا کیا اور پیسے قبول کر لیے۔ پھر منہ میٹھا کیا گیا اور ہنسی مذاق ہوتا رہا۔ اس دن پہلی بار اس گھر میں بچے کے رونے کی آواز پیدا ہوئی۔ گھر میں گویا رونق لگ گئی۔
حسین شاہ ایک دو رو زتک سامنے نہ آیا۔ پھر وہ بھی بچے کو اُٹھا کر چلنے پھرنے لگا۔ میری نے سب کی تجویز کے ساتھ بچے کا نام مائیکل جارج رکھ دیا۔ کبھی کبھی وہ کہا کرتی تھی کہ اس کا ارادہ ہے کہ دفتری کارروائی کر کے بچے کا نام مائیکل جارج حسین شاہ لکھ دے۔ بچے کی شکل عجیب تھی۔ اس کا رنگ گورا تھا مگر بال کالے اور ہونٹ اور ناک موٹے موٹے جمیکوں کی طرح تھے۔ مگر بہت پیا را بچہ تھا۔ ماں کی طرح خوش مزاج تھا کبھی اُس نے ریں ریں نہیں کی۔ دو تین مہینے کے بعد تو میری کو خبر بھی نہ ہوتی اور بچہ کبھی پہلی منزل پر اور کبھی دوسری اور تیسری پر ہم لوگوں کی گود میں ہوتا۔ اب گھر کا عجیب سماں تھا۔ میر پوری دوسری منزل پر اور حافظ آبادی پہلی پر اور ہم لوگ ادھر ادھر بیٹھے ہوتے۔ سب کا آپس میں میل ملاپ شروع ہو گیا تھا۔ کھانا پینا بٹتا رہتا، روز کے صلاح مشور ے، مدد امداد ایک ساتھ ہوتی۔ بے وطنی میں وطن کی لذت آنے لگی تھی۔ جب میں اُس دن کے ساتھ اس گھر کا مقابلہ کرتا جس دن میں یہاں داخل ہوا تھا تو مجھے حیرت ہوتی۔ یہاں اتنا اندھیرا تھا کہ رستہ نہیں دکھائی دیتا تھا۔ اب تینوں منزلوں پر کمروں میں اور سیڑھیوں پر رات تک بلب جگمگاتے رہتے تھے۔ کہتے ہیں اتفاق میں بڑی برکت ہوتی ہے۔ کچھ دیر کے لیے ہم نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ لیا۔
اس بسے بسائے گھر میں خرابی کا آغاز اس وقت ہوا جب حسین شاہ نے اپنے بھتیجے کا ذکر کرنا شروع کیا۔ اُس کا بھتیجا پیچھے ملک میں تھا۔ ایک دو بار حسین شاہ نے باتوں باتوں میں کہا کہ اُس کے بھتیجے کا ملک سے خط آیا ہے۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ ہم نے سمجھا کوئی ہو گا، جیسے ہم سب کے بھانجے بھتیجے پیچھے اپنے گھروں میں موجود تھے۔ مگر بات ختم نہیں ہوئی، معلوم ہوا کہ اندر ہی اندر یہ چلتی رہی۔ چند روز کے بعد ہمیں پہلی بار حسین شاہ کے کمرے سے میری کی اونچی آوا ز سنائی دی۔ وہ کوئی بات کر رہی تھی جس کی ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ اس سے پہلے ہم نے کبھی میری کی زبان سے اونچا بول نہیں سنا تھا۔ ہمارے کان کھڑے ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد میری کمرے سے باہر نکلی تو اس کے چہرے پر آزردگی تھی۔ اُس نے ہماری طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھا اور نہ ہی کوئی بات کی، بلکہ بچے کو اٹھائے اُٹھائے سیڑھیاں اتر کر گھر سے باہر نکل گئی جب سے میری آئی تھی وہ کبھی کسی کام کے بغیر گھر سے باہر نہ گئی تھی۔ یہ پہلی مرتبہ تھی کہ وہ رات کے ایسے وقت میں گھر سے نکلی تھی جب سارے کام کاج بند ہو چکے تھے۔ کوئی دو گھنٹے کے بعد وہ اسی طرح بچے کو اٹھائے واپس آگئی اور سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اس دن کے بعد میری وہ نہ ر ہی جو وہ تھی۔ دن بدن ہم نے میری کی حالت میں ایک عجیب تبدیلی آتے ہوئے دیکھی۔
میری کی خوش دلی کی عادت میں فرق آنے لگا۔ ہوتے ہوتے اُس کے چہرے سے ہنسی اور شکریے کے الفاظ غائب ہو گئے۔ ہم نے کسی لڑائی جھگڑے کی آوازنہ سنی، مگر ایک دن آیا کہ میری کی شکل ہی بدل گئی۔ اگر کوئی اُس کو ایک مہینے کی غیر حاضری کے بعد اچانک دیکھ لیتا تو شاید پہچان بھی نہ سکتا۔ اُس کے چہرے کے نقش ایسی صورت اختیار کر گئے جیسے بر فوں کے موسم میں سردی سے ٹھٹھر کر ہو جاتے ہیں اور ان کے آس پاس کی جلد شکن دار ہو گئی۔ اب وہ اکثر ہم لوگوں کی واپسی سے پہلے ہی اپنا اور حسین شاہ کا کھانا پکا کر کمرے کے اندر چلی جاتی۔ ہمیں وہ کبھی کبھا رہی نظر آتی۔ کبھی برتن دھونے یا ٹائلٹ جانے کے لیے باہر آتی تو صرف ہیلو کہہ کر گز ر جاتی، یا کوئی ایک آدھ بات کر لیتی۔ خریداری وغیرہ کے لیے اکیلی ہی جایا کرتی اور ہر وقت بچے کے کام نبٹاتی اُس کے ساتھ باتیں کرتی رہتی۔ حسین شاہ بھی کم ہی دکھائی دیتا۔ کام سے واپس آکر اپنے کمرے میں بیٹھا رہتا۔ ہم باقی گھر کے لوگ اُسی طرح آپس میں ملتے جلتے رہے، مگر اب صرف پہلی اور دوسری منزل پر ملاقات ہوتی، ہماری منزل پر کوئی نہ آتا۔ ہم کبھی میر پوریوں اور کبھی حافظ آبادیوں کے کمروں میں جا کر بیٹھتے اور آپس میں تبادلہ خیال کرتے حسین شاہ اور میری کے معاملے میں صرف خیال آرائی ہوتی، کیوں کہ کسی کو علم نہ تھا کہ اندر ہی اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے۔ ہماری آپس کی گفتگو کم سے کم ہوتی جا رہی تھی۔ گھر میں باتوں کی آوا ز نہ اٹھتی۔ گھر کا سماں ایسا تھا جیسے اس کے تانے بانے پر بوجھ پڑتا جار ہا ہوا اور جگہ جگہ سے اس کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو۔ ہم اب جلد ہی اٹھ کر اوپر چلے آتے اور بتی بجھا کے سو جاتے۔ ثاقب اپنے اٹک میں لیٹا ادبی رسالے پڑھتا رہتا۔ غلام محمد نے تو ایک دو ہفتے کے بعد ادھر اُدھر جانا بالکل بند کر دیا اور دوبارہ اپنی سیٹ زندگی گزار نے لگا۔
آخر ایک دن میری کھانا پکا ر ہی تھی کہ ثاقب گھر واپس آگیا۔ ثاقب وہاں رک کر میری سے باتیں کرنے لگا۔ اُس روز میری نے وہاں کھڑے کھڑے ثاقب کو بتایا کہ قصہ کیا ہے۔ کہنے لگی، ’’حسین شاہ کہتا ہے میرے بھتیجے سے شادی کر لو۔ کہتا ہے اُس کا بھتیجا غریب ہے اور ایجنٹ کے پیسے ادا کر نے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اگر میں اُس سے شادی کرنے پر رضامند ہو جاؤں تو وہ قانونی طور پر اس ملک میں آسکتا ہے۔ میں کہتی ہوں یہ کوئی بات ہے ؟‘‘ ثاقب نے رات کے وقت یہ بات ہمیں بتائی۔ ہم نے نیچے جاکر سب کے سامنے بات کی۔ سُن کر سب نے تعجب کیا، کہ واہ جی واہ، ایسی بات نہ کبھی دیکھی نہ سنی۔ ہم سب نے اس معاملے میں میری کا ساتھ دیا۔ شیر باز نےتو کہہ دیا کہ یہ بات اللہ اور اُس کے رسول کے احکام کے منافی ہے کہ خونی رشتہ رکھنے والے دو آدمی ایک ہی عورت کے ساتھ تعلق قائم کریں۔ سب نے تو بہ استغفار پڑھی۔ وہیں بیٹھے بیٹھے یہ فیصلہ ہوا کہ حسین شاہ کو اس بات سے باز رکھنے کے لیے کارروائی کی جائے۔ مگر کیا کیا جائے ؟ طے یہ ہوا کہ شروع کرنے سے پہلے حسین شاہ سے دریافت کیا جائے کہ کیا یہ بات واقعی درست ہے؟ موقعے کی تلاش میں ایک دو دن گزر گئے۔ اسی اثناء میں کانا پھوسی کی وجہ سےحسین شاہ کو اس کی بھنک پڑ گئی۔ چناں چہ وہ خود ہی ایک دن اٹھ کر نیچے حافظ آبادیوں کے کمرے میں آبیٹھا۔ اس نے جو بات بتائی وہ میری کے بیان سے بالکل مختلف تھی۔
حسین شاہ کا بیان تھا کہ یہ درست ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میری اُس کے بھتیجے سے شادی کرلے۔ مگر وہ صرف کاغذی شادی کی بات کر رہا ہے۔
’’ اصلی شادی کی بات کون کہتا ہے‘‘۔ حسین شاہ نے کہا۔ ’’ میرا کوئی سر پھر گیا ہے کہ میں اپنی عورت کو اُس کے نکاح میں دے دوں۔ میری کہ میں نے سمجھایا ہے کہ یہ صرف دفتری کارروائی کی شادی ہو گی۔ ان لوگوں کا ایک قانون پورا کرنا ہے تاکہ لڑکا ادھر آجائے ہیں۔ اس سے زیادہ لڑکے کا عمل دخل کوئی نہیں ہو گا۔ صورت حال بالکل اسی طرح رہے گی جس طرح اب ہے۔ مگر میری کی عقل الٹی ہے۔ اس بات کو سمجھتی ہی نہیں۔‘‘
کچھ لوگوں نے حسین شاہ کی ہاں میں ہاں ملائی۔ ایسا ایک کیس ہم نے پہلے سُن رکھا تھا کہ گوری عورت کو پیسے دے دلا کر کاغذی شادی ہوتی ہے اور اپنے ایک آدمی کو ادھر رہنے کا اجازت نامہ مل گیا ہے۔
’’ کوئی باہر سے عورت پکڑ لو یا اپنی عورت کو آگے کر دو۔ کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘حسین شاہ نے کہا۔ ’’ شادی تو کاغذی ہی ہے۔ کیوں جی؟‘‘
کئی نے سر ہلا کر ہاں کی، باقی آنکھیں کھول کر دیکھتے رہے۔
’’ دیکھیے جی۔‘‘ حسین شاہ نے کہا۔’’ ہم نے کتنی مصیبت میں زندگی گزاری ہے۔ آج تک چھپتے چھپاتے پھر رہے ہیں۔ ایجنٹ، پولیس، گورنمنٹ، فورمین۔ ہر کوئی ہمارا مالک بنا ہوا ہے۔ اب ایک موقع ہے کہ اپنا کوئی بھائی بند آزادی سے ادھر آجائے تو کیوں نہ اس کا فائدہ اٹھایا جائے۔ میں چھوٹا سارہ گیا تھا، میرے بھائی نے پال کر مجھے بڑا کیا۔ اب وہ پورا ہو گیا ہے۔ اُس کا ایک ہی بیٹا ہے۔ غریب ہے۔ ایجنٹ کے پیسے تو ایک طرف رہے، کرا یہ بھی مشکل سے ادا کر ے گا۔ میری کا کیا جاتا ہے۔ ایک کاغذ پر دستخط ہی کرنے ہیں۔ ان لوگوں کا اپنا ملک ہے، اس کی بات کو کون موڑ سکتا ہے۔ لڑکا کھلی آزادی سے ادھر آجائے گا۔ بجلی کا کام سیکھا ہوا ہے، اچھے پیسے کمائے گا، ہماری بھی مدد ہو گی، اس کی بھی ہوگی۔ آخر میری کے اوپر میرا کچھ حق بنتا ہے۔ میں نے گلی سے اسے اٹھا کہ گھر میں لا بٹھایا ہے۔ عزت سے رکھا ہوا ہے، کیوں جی، میرا حق نہیں بنتا ؟ اپنی جیب سے پیسے خرچ کرتا ہوں، کھانا پینا، کپڑا سب، ہر طرح کا آرام ہے، ہر طرح کی مدد ہے۔ آپ سے کوئی چھپی ہوئی بات ہے ؟ حرام کا بچہ اپنا بچہ سمجھ کر پال رہا ہوں۔ اسے اور کیا چاہیے، کوئی اپنی عورت ہوتی تو جان سپرد کر دیتی۔ یہ کاغذ پر جھوٹے دستخط بھی نہیں کر سکتی ؟ اپنے بھائی بندوں کی مدد ہمارا پہلا فرض ہے۔ ہم سب اسی غرض سے یہاں دھکے کھا رہے ہیں۔ ہماری زندگی اپنے بھائی بندوں سے ہی وابستہ ہے، آخر میں وہی کام آتے ہیں۔ ان لوگوں کا کیا ہے، بے احسانے لوگ ہیں۔ میں نے اس کے لیے کتنی قربانی کی ہے۔ دھکے کھا رہی تھی، اُٹھا کر ملکہ بنا دیا ہے۔ اس کی سب غرضیں پوری کرتا ہوں۔ کیا اس کا فرض نہیں بنتا کہ ایک مدد میری بھی کر دے ؟ آپ ہمارے بھائی بند ہیں۔ آپ کی اور ہماری غرضیں ایک ہیں۔ آپ بتاؤ۔ آپ میں سے کوئی میری جگہ ہو تو کیا کرے ؟‘‘
حسین شاہ کی بات سُن کر ہمارے دل سے ایک بوجھ اُتر گیا۔ بات واضح ہو گئی تھی۔ ہم سب نے اس سے اتفاق کیا شیر باز نے کہا کہ درست ہے، اپنے عزیزوں پر احسان کرنا اخلاقی اور دینی فرض ہے۔ بات تھی بھی سچی۔ ہم سب کی غرضیں اپنے گھر والوں اور بھائی بندوں سے وابستہ تھیں۔ اور حسین شاہ غلط نہیں کہتا تھا۔ میری پراُس کا بڑا احسان تھا۔ ایک کاغذ پر دستخط کرنے سے اگر حسین شاہ کا فائدہ ہوتا تھا تو میری کا اس میں کیا جاتا تھا ؟ ہم نے میری سے تو کچھ نہ کہا، مگر ثاقب سے کہہ دیا کبھی بات ہو تو میری کو سمجھا دے کہ حسین شاہ جو کچھ کہتا ہے اُس میں کوئی حرج نہیں، ہمارے لوگوں کا اس میں فائدہ ہے اور خود میری کا بھی فائدہ ہے، ہمیشہ کے لیے حسین شاہ اس کا احسان مند ہو جائے گا۔ ثاقب نے اس کی حامی بھر لی۔ میری کا ویسے تو ہم سب سے ایک جیسا میل جول تھا، مگر ہمیں علم تھا کہ ثاقب کی بات کا وہ خاص خیال کرتی تھی۔
چند دن کے بعد ثاقب نے بتایا کہ اس کی میری سے بات ہوتی ہے۔
’’کیا کہتی ہے۔“ میں نے پوچھا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ ثاقب نے کہا۔’’ بس مجھے دیکھتی رہی، جیسے اُس کو یقین نہ آرہا ہو، پھر اندر چلی گئی منہ سے کچھ نہیں بولی۔‘‘
اسی دوران میں حسین شاہ کے نام گورنمنٹ کے خاکی لفافوں والے دو تین خط وصول ہوئے جن کو وہ اُٹھا کر اپنے کمرے میں لے گیا۔ میری کے وطیرے میں کوئی فرق نہ آیا، بلکہ اس کی حالت پہلے سے بھی بدتر ہو گئی۔ اس نے بولنا چلنا بالکل چھوڑ دیا، جیسے اُس کی زبان گنگ ہو گئی ہو۔ کبھی باہر نکلتی تو اُس کی نظریں گود میں اپنے بچے پر لگی رہتیں، گھر کے لوگوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھتی اور نہ ہیلو کہتی۔ اُس نے کام میں بھی لاپر واہی برتنی شروع کر دی تھی۔ صرف کھانا روز کا روز کسی نہ کسی طرح پکا لیا کرتی اور بچے کا دود ھ دن میں دو تین بار گرم کر لیتی۔ مگر جھوٹے برتن ٹونٹی کے نیچے دو دو تین تین وقت کے پڑے رہتے اور کئی بار حسین شاہ کو دھونے پڑتے۔ گندے کپڑے پہلے وہ ہر ر و ز یا دو سرے دن باقاعدگی سے نیچے غسل خانے میں جا کر دھویا کرتی تھی۔ اب وہ صرف اپنے بچے کے کپڑے ٹونٹی کے نیچے کھڑے ہو کر دھو لیا کرتی اور باقی کپڑوں کا ڈھیر اسی طرح پڑا رہنے دیتی۔ ہفتے میں ایک بار اس کا دل کرتا تو دھو لیتی ور نہ حسین شاہ گٹھڑی اٹھا کر لانڈری پر لے جاتا اور دھولایا کرتا۔ بچے کی پیدائش کے بعد میری نے چغہ پہننا چھوڑ دیا تھا اور ڈریس پہننے لگی تھی۔ اب اس کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ ایک ایک ڈریس میں ہفتہ ہفتہ نکل جاتا۔ سنگار تو وہ پہلے بھی کم ہی کیا کرتی تھی، مگر اپنے بالوں کا ہمیشہ خاص خیال رکھتی تھی۔ ان کو ہر روز گرم پانی سے دھوتی اور ان میں کنگھی کیا کرتی تھی۔ اب اُس نے بالوں کا خیال کرنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ کئی کئی دن گزر جاتے اور اُس کے بال چپک جایا کرتے اور سپرنگوں کی طرح لٹکنے لگتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے میری دنیا سے سمٹ سمٹا کر اپنے آپ کے اندر سکڑتی جا رہی ہے۔ اس کی آنکھیں میلی میلی دکھائی دینے لگی تھیں، جیسے نظر غائب ہو گئی ہو۔ حسین شاہ کبھی فرصت کے وقت میں ہمارے پاس آکر بیٹھتا تو ذکر کرتا :
’’ضدی ہے۔ بات کو نہیں سمجھتی۔“ وہ کہتا۔ ’’عورت کی عقل ہی اُلٹی ہوتی ہے۔‘‘
میری کی حالت ہماری سمجھ میں بھی نہیں آتی تھی۔ بات کی صفائی ہو چکی تھی، اندر تو اس بات کے کچھ بھی نہیں تھا، پھر میری کو کون سا اعتراض تھا۔ مگر ہم کیا کر سکتے تھے۔ خاموشی سے بیٹھے تماشا دیکھتے رہے۔ نظر آرہا تھا کہ اُس کا تماشا ایک نہ ایک روز بننا ہے، آخر بن گیا۔ ہم کام سے واپس آئے تو حسین شاہ کے کمرے میں شور مچا ہو ا تھا۔ میری چیخ چیخ کر بول رہی تھی۔ جب وہ غصے میں آکر بولتی تھی تو معلوم ہوتا تھا کوئی دوسری ہی زبان بول رہی ہے۔ ہمیں کچھ سمجھ نہ آتی تھی۔ بیچ بیچ میں حسین شاہ کی ایک آدھ آواز سنائی دے رہی تھی۔ مگر وہ صرف شٹ اپ شٹ اپ کہتا جا رہا تھا۔ گھر میں جیسے جیسے لوگ کام سے واپس آتے جا رہے تھے اپنے کمروں میں اور سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر میری کا چیخنا چلانا سن رہے تھے۔ پھر شور کے بیچ دھپ دھپ کی تین چار آوازیں بلند ہوئیں، جیسے کوئی گدے کو جھاڑ رہا ہوتا ہے۔ میری کا چیخنا یک دم بند ہو گیا۔ ہم سب کان لگائے کھڑے رہے۔ کسی طرف سے کوئی آواز نہ آ رہی تھی۔ اس عالم میں کسی کے زمین پر گرنے کی آواز آئی۔ پھر آہستہ آہستہ میری کے رونے کی آواز ہمارے کان میں آنے لگی۔ ہم نے اپنی عورتوں کو چیخ پکار کر تے ہوئے سُنا ہے، مگر اس طرح روتے ہوئے ہم نے کسی کو نہیں سنا۔ یہ ایسی آواز تھی گویا کوئی اپنی جان کو گلے میں پکڑ پکڑ کر روکنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر جان نکلی جا رہی ہے۔ ہم دیر تک وہاں کھڑے میری کے رونے کو سنتے رہے۔ پھر آواز ہلکی ہوتی ہوتی بالکل بند ہو گئی۔ چند منٹ کے بعد حسین شاہ کے کمرے کی بتی بجھ گئی۔ گھر میں خاموشی چھا گئی۔ اس وقت ہم اپنی جگہ سے ہلے اور کھانے دانے کے بندو بست میں لگ گئے۔ گھر میں روز کی طرح برتنوں کے بجنے کی آوازیں آنی شروع ہوئیں۔ ہم کھانا کھا کر فار غ ہو چکے تھے اور نیچے جا کر تاش کی بازی لگانے کی صلاح کر رہے تھے کہ ایک بار حسین شاہ کے کمرے کی بتی جلی اور وہ بچے کا دودھ گرم کرنے کے لیے باہر نکلا۔ دودھ گرم کر لینے کے بعد وہ اندر چلا گیا اور رہ کچھ دیر کے بعد اس نے بتی بجھا دی۔ اُس کے بعد رات بھر کمرے سے کوئی آوا ز نہ آئی۔
میری تین دن تک نظر نہ آئی۔ جب وہ باہر نکلی تو بہت کمزور ہو چکی تھی۔ اُس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے تھے۔ یہ حلقے اس وقت بھی نمایاں تھے جب وہ پہلے پہل ہمارے گھر میں آئی تھی۔ مگر چند ہی ہفتے کے اندر اچھی خوراک کھانے اور آرام کی زندگی بسر کر نے سے اُس کے گالوں کا رنگ نکل آیا تھا اور حلقے غائب ہو گئے تھے۔ اب یہ حلقے دوبارہ ظاہر ہو گئے تھے۔ مگراب کی بار جلدی ہی اُس کی طبیعت سنبھلنی شروع ہو گئی۔ معلوم ہوتا تھا کہ تین دن کی غیر حاضری کے بعد جب وہ باہر آئی تو خوب سوچ سنبھل کر آئی تھی۔ ہم لوگوں کو زندگی کے حالات سے یہ سبق ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد امداد سے ہی دنیا میں کام چلتے ہیں، کسی سے فائدہ لو، کسی کو فائدہ دو۔ عورتوں کی سمجھ کچھ مختلف ہوتی ہے۔ مگر معلوم ہوتا تھا کہ میری کی عقل میں حسین شاہ کی بات آگئی ہے۔ چار چھ دن کے اندر میری کے منہ پر مسکراہٹ اور شکریے کے لفظ واپس آگئے۔ اُس کی کمزوری دن بدن رفع ہوتی گئی۔ میری نے پہلے کی طرح ہمارے ساتھ مل کہ کھانا پکانا اور اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا۔ اُس کے چہرے کا رنگ آہستہ آہستہ نکھر آیا اور نقش اُٹھ کھڑے ہوئے۔ مگر اس بار اُس کی آنکھوں کے حلقے اُسی طرح قائم رہے۔ گو میری کا مزاج اور اُس کے ساتھ گھر کا سماں بحال ہو گیا تھا اور میری نے اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنی شروع کر دی تھی، مگر جب تک وہ ہمارے پاس رہی اُس کی آنکھوں کے گرد سیاہی غائب نہ ہوئی۔ یہ ایک تبدیلی اُس کی شکل و صورت میں پیدا ہو گئی تھی اور گویا اس بات کی علامت تھی کہ ہر چند میری کا رویہ پہلے کا سا ہو گیا تھا، مگر اُس کے وطیرے میں کوئی نہ کوئی تبدیلی آچکی تھی جس کا ہمیں دل میں احساس ہوتا تھا، مگر جس کا پتا نہ چلتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہم اس کے عادی ہوتے گئے۔ مگر اب میں اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد سوچتا ہوں تو پتا چلتا ہے کہ وہ بات جس کا ہمیں احساس ہوتا تھا وہ یہ تھی کہ میری نے اپنے دل کی ٹھان لی تھی۔
جب میری تین دن کے بعد کمرے سے باہر نکلی تو وہ اپنی مرضی سے کہ نکلی تھی۔ یہی نہیں کہ اُس نے پہلا سا طور طریقہ اختیارہ کر لیا، بلکہ اُس سے بھی آگے نکل گئی۔ پہلے جہاں وہ صرف خوش خلقی کی حد تک رہتی تھی، اب وہ بے جھجک ہو کر بات کر نے لگی حسین شاہ کی وہ حد سے زیادہ عزت کرتی آئی تھی اور جب کسی اور سے بھی بات کرتی تو درخواست کے لہجے میں بولتی اور ہر بات کے ساتھ پلیز اور تھینک یو کے الفاظ ادا کرتی تھی۔ اب وہ ہر وقت سب کے سامنے،’’ حسین یہ کرو، حسین وہ کرو، حسین ایسا مت کر و، حسین تم سمجھتے نہیں، کئی بار بتایا ہے، ایسا نہیں ایسا کرو،‘‘ کرتی پھرتی تھی۔ ہم لوگوں کے ساتھ وہ اکثر بے تکلفی سے نکتہ چینی کی باتیں کرنے لگی تھی۔ جیسے اُس کا جی چاہتا ویسے وہ ہمارے کاموں، ہماری عادتوں یا ہماری باتوں پر اعتراض لگا دیتی۔ اب میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ اُس وقت میری شاید اپنی اصل فطرت کی جانب لوٹنے لگی تھی۔ مگر اس وقت ہمیں میری کا یہ طور طریقہ برا تو کیا نا گوار بھی معلوم نہ ہوا۔ اے کاش کہ اس وقت اگر ہمیں آنے والے حالات کا علم ہوتا تو اس برائی کی روک تھام کر تے۔ میری نے گھر کی مالکن کا دستور اختیار کر لیا تھا۔ گھر کا بکھرا ہوا تانا بانا دوبارہ یک جا ہونے لگا تھا۔ میری گھر کے اندر اور باہر آتی جاتی ہوئی سیڑھیوں کے اُوپر یا باورچی خانے میں گندگی کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتی اور اس منزل پر رہنے والوں کو کام پر لگا دیتی۔ یا پھر کسی کو خالی بیٹھا ہوا دیکھ کر کہتی، چلو میرے ساتھ چل کر ہیلپ کرو، بیکار کیوں بیٹھے ہو۔ حسین شاہ بھی اس کی باتیں سنتا اور خوشی خوشی کام کرتا پھرتا تھا۔ گھر کا سماں پلٹ آیا تھا۔ میری اب ہم لوگوں سے بے تکلفی کے ساتھ حسین شاہ کے بھتیجے ارشاد کاذکر کرتی تھی، جیسے معمول کی بات ہو۔ اُس نے فارم وغیرہ بھر کر بھیج دیے تھے اور ہوم آفس کے ساتھ خط و کتابت ہو رہی تھی۔ ایک دن ہمارے دروازے پر پولیس کا ایک با و ردی سپاہی اور اُس کے ساتھ ایک بے وردی آدمی آکھڑے ہوئے۔ انہوں نے میری کا پتا پوچھا اور اوپر چڑھ گئے۔ مگر اتنی ہی دیر میں میری نے ان کی آواز سن لی اور ان کے اوپر پہنچنے سے پہلے پہلے اُس نے جلدی سے اپنے بچے کو ہمارے کمرے میں لٹا دیا اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ میری نے اپنا کمرہ سجا رکھا تھا۔ ایک طرف پلنگ بچھا ہوا تھا اور دوسری طرف ایک میزا ور دو کرسیاں رکھی تھیں۔ ایک اور میز کونے میں تھی جس کے اُوپر برتن اور خوراک کے ڈبے پڑے ہوئے تھے۔ پلنگ کے ساتھ ایک چھوٹی سی سنگار میز بھی تھی جس پر شیشہ لگا تھا اور ایک بلب والا لیمپ رکھا ہوا تھا۔ سارے گھر میں صرف میری کا کمرہ تھا جس کی کھڑکی پر اس نے پردے لٹکا رکھے تھے۔ پولیس کے سپاہی کافی دیر تک کرسیوں پر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔ میری نے ان کو چائے کی ایک ایک پیالی بنا کر پیش کی۔ پوچھ گچھ ختم کر لینے کے بعد وہ دونوں اُٹھ کر چلے گئے۔ میری اُن کو نیچے تک چھوڑنے کے لیے گئی۔ بعد میں میری نے ہمیں بتایا کہ کارروائی بخیر و خوبی تمام ہو گئی ہے۔ کسی رکاوٹ کا خطرہ نہیں۔ حسین شاہ بہت خوش تھا۔ آخر چند ہفتوں کے بعد سارے کا غذات مکمل کر کے ارشاد کو بھیج دیے گئے اور اُس کی آمد کی انتظار ہونے لگی۔
ارشاد کھلم کھلے قانون کے ماتحت ادھر آرہا تھا، اس لیے اُس کو ہماری طرح ملکوں میں سے بسوں اور ٹرکوں میں چھپ چھپا کر آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ ہوائی جہاز کے ذریعے آرہا تھا۔ جس دن اُس کا ہوائی جہاز آیا حسین شاہ اور میری بس پر سوار ہو کہ لندن گئے اور شام کے وقت ارشاد کو ساتھ لے کر واپس آگئے۔ میری اُسی طرح کھلم کھلا ارشاد سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی جیسے ہر ایک سے کرتی تھی۔ حالاں کہ ارشاد صمٌ بکمٌ تھا۔ اس بیچارے کی زبان پر ابھی انگریزی نہیں چڑھی تھی۔ میری نے ایک دن پہلے ہمیں کھانا تیار کر نے کے لیے کہہ دیا تھا۔ میں نے اور غلام محمد نے مل کر بڑے دھیان سے اُن کے لیے کھانا پکا یا۔ وہ تینوں کھانا لے کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔ کھانے کے بعد وہ دروازہ بند کر کے دیر تک آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرتے رہے۔ غلام محمد تو اپنے سیٹ وقت پر سو گیا، مگر میں اور ثاقب جاگتے رہے، کیوں کہ میری نے ہمارے کمرے میں ارشاد کا گدا ڈلوا دیا تھا۔ تیسرا گداڈالنے کے لیے غلام محمد کی برتنوں والی میز باہر نکالنی پڑی تھی، اس کے بعد گدا مشکل سے فرش پرفٹ آیا تھا، اس طرح سے کہ دروازہ بھی پورا نہیں کھلتا تھا، آدھا کھل کر رک جاتا تھا۔ مگر کام چل گیا تھا۔ آدھی رات کے وقت ان تینوں کی بات چیت ختم ہوئی تو دروازہ کھلا اور ارشاد نکل کر ہمارے کمرے میں آگیا۔ ہمارے فرش پر چلنے کی کوئی جگہ نہیں رہی تھی۔ ارشاد میرے گدے کے اوپر سے گزر کر اپنے گدے پر گیا اور کمبلوں میں گھس کر لیٹ گیا۔ ہمارا کھانا کھا کر بہت خوش ہوا تھا، کہنے لگا، ’’ادھر تو سب آرام ہے جی، اپنا کھانا اپنا پینا۔‘‘ میں نے اُسے ہر طرح کی تسلی دی۔ سارے دن کا تھکا ہوا تھا، جلدی ہی سو گیا۔
ارشاد کی عمر پچیں چھبیس سال کی ہو گی۔ وہ لمبے قد اور کھلے ہاتھ پاؤں والا اچھی شکل کا آدمی تھا۔ اس کے چہرے پر چوڑی سیاہ مونچھیں تھیں جو نیچے کو ڈھلکی ہوئی تھیں اور سر پر بال چھوٹے چھوٹے کٹے ہوئے تھے۔ وہ ایسے نوجوانوں میں سے تھا جو پہلی ہی نظر میں دل کو اچھے لگنے لگتے ہیں۔ اُس کا گدا بچھاتے وقت ہمیں کافی دقت ہوئی تھی مگر اُس کو دیکھنے کے بعد اس کا احساس جاتا رہا۔ میری نے پہلے سے ہی شادی کے دفتر میں تاریخ درج کرا دی ہوئی تھی۔ تین چار دن کے بعد ہفتے کا روز آگیا۔ اس دن کو دوپہر کے وقت ارشاد اور میری کی دفتری شادی ہو گئی۔ دفتر میں ان کے ہمراہ حسین شاہ اور ثاقب گئے۔ حسین شاہ اور ثاقب غیر قانونی ہونے کی وجہ سے سر کا ری دفتر میں جانے سے گھبرا رہے تھے، مگر میری ان کو آگے لگا کر لے گئی۔ ان دونوں نے گواہ کے فرائض انجام دیے۔ حسین شاہ نے اپنی جیب سے سونے کی ایک قیمتی انگوٹھی اس مقصد کے لیے خرید رکھی تھی۔ وہ انگوٹھی شادی کے وقت میری کو پہنا دی گئی۔ شادی کے دفتر سے وہ چاروں ٹیکسی پر بیٹھ کر واپس گھر آئے۔ میری نے سفید ریشمی ڈریس پہنا ہوا تھا جو اُس نے خاص اس موقعے کے لیے خریدا تھا۔ منہ پرا ور بالوں پر اس نے سنگا ر کر رکھا تھا۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ ہم نے میری کو پورے سنگار میں دیکھا تھا۔ جب وہ گھر سے روانہ ہو رہی تھی تو ہم حیرت سے ہکا بکا اُسے دیکھتے ہی رہ گئے۔ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ جانے سے پہلے وہ بچے کو ہم لوگوں کے حوالے کر گئی تھی۔ جب وہ چار وں واپس آئے تو میری نے ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ پکڑا ہوا تھا۔ میں اُس وقت پہلی منزل پر کھڑا تھا۔ ایک میرپوری نے میری کا بچہ اُٹھایا ہوا تھا۔ میری اُسی طرح بے جھجک ہنس ہنس کر حسین شاہ سے اور ارشاد سے اور ثاقب سے باتیں کہہ رہی تھی۔ دروازہ کھولتے ہی میری کی نظر میرے ا و پرپڑی۔ اُس نے ادھر ادھر دیکھے بغیر باز و لمبا کرکے پھولوں کا گلدستہ میرے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ میں نے گلدستہ پکڑا تو میری نے آگے جھک کر میرے گال کا بوسہ لے لیا۔ سب لوگ ہنس پڑے۔ میری ہنس کر بولی، ’’ شادی میری ہوئی ہے اور شر ما تم رہے ہو۔ دیکھو تمہارا منہ لال ہو گیا ہے۔‘‘ میرا منہ اور بھی لال ہو گیا۔ سب کو ہنسنے کا موقع مل گیا۔ میری نے بچے کو گود میں اٹھا کر اُس کا سرا ور منہ چوما اور سیڑھیاں چڑھ کہ اوپر چلی گئی۔ حسین شاہ اور ارشاد اُس کے پیچھے پیچھے چڑھ گئے۔ ہم سب کا جی چاہ رہا تھا کہ کوئی خوشی کی رسم کی جائے، ایسے موقعے باربار کہاں آتے ہیں۔ مشورے کے لیے دوسری منزل پر گئے تو شیرباز نے کمرے کا دروازہ بند کر لیا اور ڈانٹ کر بولا، ’’تم لوگوں کا سر پھر گیا ہے ؟ خوشی کس بات کی۔ چلو اپنا اپنا کام کرو۔‘‘ ہم یہاں بیٹھ کر اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد اُٹھ کہ اپنے اپنے کام میں لگ گئے۔ میری نے بھی جا کر اپنا لباس اُتار دیا تھا اور پرانا ڈریس پہن کر گھر کے کام کاج میں لگ گئی تھی۔ دو چار دن تک اُس نے انگوٹھی اپنی انگلی میں پہنے رکھی، پھر وہ بھی اتار کر کہیں رکھ دی۔
شیرباز کی بات ٹھیک تھی۔ گھر کا سلسلہ اُسی طرح چلتا رہا جیسے پہلے چل رہا تھا، گویا کوئی بات ہی نہ ہوئی تھی۔ ارشاد ہمارے کمرے میں سوتا رہا اور حسین شاہ اور میری اپنے کمرے میں۔ البتہ ارشاد کے سارے کا غذات پر ہو کر دفتروں میں پہنچ گئے۔ اُس نے کھلے بندوں جا کر اپنا نوکری کا اور ڈاکٹری کا کارڈ بنوا لیا۔ اس کے بعد وہ ہر روز نوکری دلوانے والے دفتر میں جانے لگا۔ ارشاد کا حق اب اتنا ہی بن گیا تھا جتنا گوروں کا حق تھا۔ اُس زمانے میں نو کر یاں آسانی سے مل جاتی تھیں۔ ایک فیکٹری میں ارشاد ٹسٹ کے لیے گیا۔ بجلی کا کام سیکھا ہوا تھا، ٹسٹ پاس کر گیا۔ اگلے دن وہ نوکری پر جا کھڑا ہوا اور ایک ہفتے کے اندر اندر پیسے کما کر لانے لگا۔ ارشاد کو کسی کے نیچے لگ کر نوکری کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ دن کو کام کرتا تھا اور جمعے کے جمعے اچھی تنخواہ اٹھاتا تھا۔ کبھی کبھی فورمین کے کہنے پر اوور ٹائم لگا لیتا، ور نہ ہفتہ اور اتوار دونوں دن چھٹی کرتا۔
ہم لوگوں کو بھی ارشاد کی پوزیش پر فخر کا احساس ہوتا تھا۔ حسین شاہ اور شیرباز کی طرح گھر میں اُس کی عزت بن گئی تھی۔ اس کے با وجو دارشاد کی فرمانبرداری میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔ حسین شاہ اور میری کی وہ حد سے زیادہ عزت کرتا تھا۔ کبھی بے ضرورت اُن کے آرام میں خلل نہ ڈالتا، اور حالاں کہ اُس کے کھانے پینے کا خرچہ ہمارے ساتھ شامل تھا، مگر جمعے کے جمعے اپنی تنخواہ سے کچھ پیسے حسین شاہ کو دیا کرتا تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ اس طرح وہ اپنے سفر کے کرایے کے پیسے تھوڑے تھوڑے کرکے لوٹایا کرتا ہے۔ مگر بعد میں پتا چلا کہ جہاز کے پیسے ارشاد نے اپنی جیب سے ادا کیے تھے، حسین شاہ کو وہ ہفتے کے کچھ پیسے صرف چچاہونے کی حیثیت سے دیا کرتا تھا۔ حسین شاہ کا کہنا تھا کہ یہ صرف پیسے بچانے کا ایک بہانہ ہے، تاکہ اس کے بھتیجے کے پیسے ضائع نہ ہوں اور وقت آنے پر ارشاد کے ہی کام آئیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ چچا بھتیجے کا رشتہ تھا، اور حسین شاہ کا ارشاد کے اوپر بہت بڑا احسان تھا۔ وہ جو بھی کر تا درست تھا۔ سب کام بہر حال بخیر و خوبی چل رہے تھے۔
کاش کہ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا اور کسی کی خوشی میں کوئی رکاوٹ نہ آتی۔ مگر قدرت کو یہ منظور نہ تھا۔ کہتے ہیں بے وطنی میں قدم قدم پر ٹھوکریں لکھی ہوتی ہیں۔ یہ بات درست ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا حالات میں تبدیلی آتی گئی۔ ارشاد کو آزادی نصیب تھی۔ ہر طرف کو جاسکتا تھا، ہر کسی سے کھل کر بات کر سکتا تھا۔ ہماری طرح قید میں ہوتا تو شاید سیدھے رستے پر رہتا۔ کام پر جاتا اور گھر واپس آتا، پیسے کماتا اور ترقی کرتا۔ قید ایک لعنت ہے، مگر بے وطنی میں اس کی بڑی خوبیاں ہیں۔ دھیان اصل بات کے اوپر رہتا ہے، بیکا ر باتوں کی طرف نہیں جاتا۔ قسمت کے کھیل ہیں، اب میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ یہ آزادی ہی ارشاد کی بربادی کا باعث بنی۔ جیسے جیسے اس دنیا میں اُس کے پیر جمتے گئے، اُس کی آنکھیں کھلتی گئیں۔ سب سے پہلے اُس نے گھر کے باہر اپنے دوست بنائے۔ پھر بال بڑھا لیے۔ پھر وہ پب میں جانے لگا پب اس ملک میں شراب خانے کا نام ہے۔ ارشاد کی تعریف میں میں ایک لفظ کہوں گا۔ شراب کی لت اس کو نہیں پڑی۔ البتہ آزادی کی لت پڑ گئی۔ ہفتے ہیں وہ صرف ایک دن پب میں جاتا۔ جمعے والے دن وہ اپنی تنخواہ کا پیکٹ اُٹھا کر وہاں سے سیدھا اُدھر کو چلا جاتا اور دیر سے گھر واپس آتا۔ واپسی پر وہ حسین شاہ کا دروازہ کھٹکھٹاتا۔حسین شاہ اکثر سویا ہوا ہوتا وہ بڑ بڑاتا ہوا اُٹھ کر دروازہ کھولتا۔ ارشاد ہنس کر بات کرتا اور رقم حسین شاہ کے ہاتھ پر رکھ دیتا۔ حسین شاہ نے ایک دو مرتبہ ارشاد کو پب جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ ارشاد نے خاموشی سے اُس کی بات سن لی۔ حسین شاہ نے شیرباز سے کہا کہ وہ ارشاد کو سمجھائے اور اُس کو سیدھے راستے پر لگائے شیرباز نے ہمارے کمرے میں آکرارشاد کو شراب نوشی کی خرابیوں سے آگاہ کیا، مسئلے مسائل سنائے اور مذہب کے احکام بتائے۔ ارشاد اگلے جہاں میں شرابیوں کی درگت کا بیان سن کر ڈر گیا اور اُس نے شیرباز کے سامنے پب چھوڑ دینے کا وعدہ کر لیا۔ مگر چھ دن گزرنے کے بعد وہ پھر پب میں جا پہنچا۔ آخر ایک روز حسین شاہ غصے میں آگیا۔ ارشاد نے جمعے کو رات کے دس بجے آکر دروازہ کھٹکھٹایا۔ تو حسین شاہ دروازہ کھول کر اُس کو برا بھلا کہنے لگ پڑا : ’’ دفعہ ہو جاؤ شرابی‘‘،حسین شاہ نے غصے میں آکر کہا، ’’ شراب پی کر اپنی شکل مجھے مت دکھاؤ۔ مجھے تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں۔‘‘ ارشاد دروازے پر کھڑا دانت نکال کر ہنستا رہا۔ اندر سے میری حسین شاہ کو مخاطب کر کے بولی : ’’ایک دن وہ پپ جاتا ہے، کسی کو کچھ نہیں کہتا۔ کیوں اُس کی جان کے پیچھے پڑے ہوئے ہو ؟‘‘ میری کو ارشاد کا ساتھ دیتے ہوئے دیکھ کر حسین شاہ کو کوئی جواب نہ سوجھا۔ وہ ٹھک سے دروازہ بند کر کے واپس چلا گیا۔ صبح سویرے اُٹھ کر اس نے ارشاد سے پیسے لے لیے۔ اُس دن کے بعد ارشاد کا قاعدہ ہو گیا کہ جمعے کی بجائے وہ ہفتے کی صبح کو حسین شاہ کے ہاتھ میں پیسے دیا کرتا۔
جمعے کی رات کو ارشاد سیدھا ہمارے کمرے میں آجاتا اور اپنے گدے پر بیٹھ کر دیر تک میرے اور ثاقب کے ساتھ باتیں کرتا رہتا۔ جوانی کے زور میں تھا۔ تھوڑی بہت پی لینے سے بدست نہ ہوتا تھا۔ مگر اتنی پی لیتا تھا کہ کھل کر باتیں کر نے لگتا۔ جیسے جیسے اُس کی ہمت بڑھتی گئی وہ حسین شاہ کے بارے میں بھی ہم سے باتیں کہنے لگ پڑا۔ پہلے مذاق مذاق میں، پھر سنجیدگی سے اپنے دل کی بات بتانے لگا۔ اکثر جلے ہوئے دل سے کہتا، خود پلنگ پر سوتا ہے، ہمیں ادھر زمین پر ڈال رکھا ہے، ثاقب دن بدن چیلوں کی طرح اُس کے پیچھے لگتا جا رہا تھا۔ آخر وہی ہوا جس کا ہمیں ڈر تھا۔ ایک جمعے کو ثا قب گھر واپس نہ آیا۔ اس رات کو ارشاد ا و ر ثا قب دونوں اکٹھے دس گیارہ بجے گھر لوٹے ثاقب کی حالت خراب تھی۔ آتے ہی وہ ٹونٹی کے نیچے جھک گیا۔ رستے میں بھی الٹیاں کر تا ہوا آیا تھا۔ ایک گھنٹے تک وہ ٹونٹی کے پاس جھکا ہوا اُلٹی پر الٹی کرتا رہا، آخر خالی ہوا اُس کے پیٹ سے چڑھ چڑھ کر اُس کے گلے کو بند کرنے لگی۔ میں اور ارشاد اور حسین شاہ اور میری آس پاس کھڑے اس کو سہارا دے رہے تھے۔ غلام محمد بھی تھوڑی دیر کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا پھر جا کر سو گیا۔حسین شاہ اور میں اندر باہر آجا کر ثاقب کی الٹیاں بند کرنے کی راہ تلاش کر رہے تھے، مگر کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ شرابی کی الٹیوں کا علاج کس کے پاس ہوتا ہے۔ میری دونوں ہاتھوں سے ثاقب کی کمر کو تھام کر کھڑی تھی اور ہنستی جا رہی تھی، جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔ ’’کوئی فکر کی بات نہیں۔“ وہ کہتی جاتی تھی، ’’پہلی بار اسی طرح ہوتا ہے۔ ابھی ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔ مگر کسی کسی وقت جب ثاقب کو اُلٹی کا دھکا لگتا اور اس کا گلا بند ہو جاتا اور آنکھیں ابل پڑتیں تو چند سیکنڈ کے لیے میری کے چہرے پر ہراسانی کے نشان ظاہر ہونے لگ جاتے۔ پھر جب ثاقب کا سانس برا بر ہوتا، اور وہ کر اہتے ہوئے بولتا، ’’ہائے میری جان بچا لو، پھر کبھی اسے منہ نہیں لگاؤں گا‘‘، تو میری دوبارہ مسکرانے اور شرارتی نظروں سے ارشاد کی طرف دیکھنے اور تسلیاں دینے لگتی، جیسے یہ کوئی کھیل ہو۔ حسین شاہ بار بار غصے میں آکر ارشاد کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔ ’’تمہیں کوئی حیا نہیں مردود، اپنے ساتھ اس بچے کو بھی خراب کر رہے ہو۔ مجھے خبر ہوتی کہ تم یہ کر توت کروگے تو تمہیں ادھر کا رستہ بھی نہ دکھاتا۔‘‘ میری بار بار حسین شاہ کو چپ رہنے کی تنبیہ کر رہی تھی۔ میری کی بات درست نکلی۔ آہستہ آہستہ ثاقب کے ہو کے بند ہو گئے۔ اس رات کو جب ہم نے ثاقب کو سہارا دے کر اٹک میں چڑھایا تو نیم بیہوشی کی حالت میں اُس نے شراب نوشی سے توبہ کر لی۔
مگر شرابی کی تو بہ کتنے دن تک چلتی ہے۔ سارا ہفتہ میں اور غلام محمد اور حسین شاہ اور شیر باز ثاقب کو سمجھاتے رہے۔ لیکن اگلے جمعے کو وہ پھر ارشاد کے ساتھ پب میں جا نکلا اور رات کو واپس آیا۔ اس دن سے ارشاد اور ثاقب کی جوڑی بن گئی۔ ارشاد قانونی تھا، اُسے کوئی فکر فاقہ نہیں تھا۔ مگر ثاقب غیر قانونی تھا۔ ہمیں ہر وقت اس کی فکر لگی رہتی تھی خاص طور پر کسی کسی جمعے کی رات کو جب وہ ایک دوسرے کے گلے میں باہیں ڈال کر اُونچی آواز میں گاتے ہوئے واپس آتے اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے تو ہمارے دل میں بہت خدشہ پیدا ہوتا۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ہمارا خدشہ کم ہوتا گیا۔ ہم نے اُن کا نام پب کی جوڑی رکھ دیا۔ ارشاد نے اب پر پرزے نکالنے شروع کر دیے تھے۔ پہلے پہل وہ حسین شاہ کی حد سے زیادہ عزت کرتا تھا۔ کبھی بن بلائے ان کے کمرے میں نہیں جاتا تھا۔ اب وہ وقت بے وقت میری کے پاس اُس کے کمرے میں آنے جانے لگا۔ میں سمجھتا ہوں اس میں ارشاد کا قصور نہیں تھا۔ میری نے سراسر اس کی ہمت بڑھائی تھی۔ عورت جب اپنی کرنی پر آجائے تو مرد کیا کر سکتا ہے ؟ اس کا ثبوت اُس وقت ملا جب میری ایک روز شام کو گھر سے غائب نظر آئی۔ جمعے کا دن تھا۔ حسین شاہ کام سے واپس آیا تو پوچھنے لگا میری کہاں ہے، مگر کسی کو میری کی خبر نہیں تھی۔ بچہ دوسری منزل پر حافظ آبادیوں کے پاس تھا۔ حسین شاہ نے نیچے جا کر بچے کو اٹھا لیا۔ ایک ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا۔ حسین شاہ کی نظریں دروازے پر لگی تھیں، مگر میری کا پتا نہ تھا۔ حسین شاہ بچے کو اٹھا کر تینوں منزلوں پر لوگوں سے باتیں کرتا پھرا۔ اس کے بعد وہ جا کر اپنے کمرے میں بیٹھ گیا۔ میری اُس کا کھانا پکا کر رکھ گئی تھی، مگر حسین شاہ نے کھانے کو ہاتھ تک نہ لگایا۔ بس اپنے کمرے میں بیٹھا رہا۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ کمرے سے باہر نکل کر سیٹرھیوں کے اوپرا و پر پھرنے لگتا، ٹائلٹ میں جاتا، سیڑھیوں کے جنگلے پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو جاتا، پھر واپس چلا جاتا۔ یہ پہلی بار تھی کہ ہم نے حسین شاہ کو سخت گھبراہٹ کی حالت میں دیکھا تھا۔ اُس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔ آخر تھک کر اس نے وضو کیا اور نماز کی نیت کر لی۔ مگر روزمرہ کی نسبت آدھے وقت میں نماز سے فارغ ہو بیٹھا۔ نماز کے بعد وہ باہر نہیں نکلا۔اُس نے کمرے کا دروازہ بند کر لیا اور خاموشی سے اندر بیٹھ گیا۔
رات کو دس بجے کے بعد ارشاد اور ثاقب کے ہمراہ میری گھر واپس آئی ہم لوگوں کو اس بات کا شک تھوڑا بہت پہلے سے ہی تھا۔ ان تینوں کو اکٹھا واپس آتے دیکھ کر یقین میں تبدیل ہو گیا۔ ان کی آواز سنتے ہی حسین شاہ نے تیر کی طرح اٹھ کر دروازہ کھولا اور جاکر سیڑھیوں پر کھڑا ہو گیا۔ اس کے چہرے پر تغیر پھیلا ہوا تھا۔ میں نے سوچا اب کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ میں اکیلا اپنے کمر سے میں بیٹھا جاگ رہا تھا۔ حسین شاہ کو با ہر نکلتے ہوئے دیکھ کر میں نے جلدی سے اپنے کمرے کی بتی بجھا دی، تاکہ جو کچھ ہونے والا تھا باہر ہی باہر ہو جائے۔ میری، ارشاد اور ثاقب سیڑھیاں چڑھتے ہوئے آرہے تھے۔ ارشاد اور ثاقب خاموش تھے، مگر میری ہنستی ہوئی آوا ز میں ان سے بات کر رہی تھی، جیسے اُس کو کوئی فکر نہ ہو۔ جب وہ اُوپر پہنچی تو خوش مزاجی سے بولی، ’’ہیلو‘‘۔حسین شاہ آنکھیں کھولے اس کو دیکھتا رہا، جیسے اس کو یقین نہ آرہا ہو کہ میری اس کے سامنے کھڑی ہے اور ہنس کر بول رہی ہے۔ ’’ تم ابھی تک جاگ ر ہے ہو ؟‘‘ میری نے کہا، اور حسین شاہ کے پاس کھڑی ہو گئی۔ ہمارا دروازہ آدھا کھلا تھا اور میں اندھیرے میں بیٹھا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ دیکھتے دیکھتے حسین شاہ کا رنگ بدل گیا۔ اس کے چہرے سے تغیر رفع ہو گیا۔ میری نے اُچک کر حسین شاہ کے گال کا بوسہ لے لیا۔ پھر اس نے حسین شاہ کی کمر میں اپنا بازو ڈالا اور اسے کمرے میں لے گئی۔ میں نے دل میں خدا کا شکر ادا کیا کہ ہنگامہ ٹل گیا ہے، میرا خوف بے بنیا د نکلا۔ میں اپنے گدے پر لیٹ گیا۔ ثاقب سیڑھی لگا کر اپنے اٹک میں جا چڑھا۔ ارشاد ہمارے کمرے میں داخل ہوا اور اندھیرے میں میرے اُوپر سے گزر کر اپنے گدے پر پہنچا اور کمبل لپیٹ کر سو گیا۔ میں اُس کے خراٹوں کی انتظار کر نے لگا۔ جب وہ پی کر آتا تو بلاناغہ خراٹے لیتا تھا۔ ہر روز تو ہم کو غلام محمد کے خراٹوں سے سابقہ پڑتا تھا، اور ارشاد بھی اس بارے میں بڑ بڑ کیا کرتا تھا۔ مگر جمعے کی رات کو مجھے ان دونوں کے خراٹے سہنے پڑتے تھے۔ باہر میری حسین شاہ کا کھانا گرم کر رہی تھی۔ گرم کرکے اندر لے گئی تو حسین شاہ نے خاموشی سے کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد اُن کے کمرے کا دروازہ بند ہو گیا۔ مگر بتی نہ بجھی۔ اس وقت پہلی بار حسین شاہ کی باتوں کی آواز آنی شروع ہوئی۔ وہ دھیمی آواز میں ٹھہر ٹھہر کر باتیں کرنے لگا۔ باتوں کی سمجھ نہ آرہی تھی، مگر آواز سنائی دے رہی تھی۔ کافی دیر تک وہ اُسی طرح بولتا رہا، جیسے ہولے ہولے سرزنش کر رہا ہو۔ میری کی طرف سے خاموشی رہی۔ آخر میں میری کی صرف ایک آواز سنائی دی، تیز اور اونچی اور غصے والی۔ پتا نہیں اُس نے کیا بات کی، مگر اس کے بعد کسی کی آواز نہ آئی، نہ حسین شاہ کی نہ میری کی۔ جلد ہی وہ بتی بجھا کر سو گئے۔ میں اپنے گدے پر لیٹا ہوا تھا اور ارشاد اور غلام محمد کے خراٹوں کے شور میں سونے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیٹے لیٹے مجھے خیال آیا کہ آج ہم خطرے کے ایک اور مقام سے گزر گئے ہیں، یہ سلسلہ اب بخیر و عافیت چلتا رہے گا۔ اُس وقت اس خیال سے میرے دل کو اطمینان نصیب ہوا، اور میں جلد ہی سو گیا۔ اب سوچتا ہوں تو اپنے خیالوں پر ہنسی آتی ہے۔ اطمینان کی دنیا میں کیا وقعت ہے۔ مگر وہ زمانہ ہی ایسا تھا۔ زندگی ایک مرحلے سے دو سرے مرحلے تک عافیت سے چلتی جاتی تو اطمینان نصیب ہوتا تھا۔ ایک ایک رات ایک ایک مرحلہ تھی۔ رات گزر جاتی تو ایک مرحلہ طے ہو جاتا۔ میں کہتا ہوں ایسا وقت کسی کے حق میں نہیں لکھا جانا چاہیے۔ مگر آدمیوں کی زندگی اسی طرح بنی ہے۔ جن دنوں کی میں بات کر رہا ہوں ان دنوں میں بہر حال کچھ عرصے تک ہماری زندگی آرام سے چلتی رہی۔
اگلے روز ہفتے کا دن تھا۔ حسین شاہ نے خاموشی کے ساتھ ارشاد سے پیسے وصول کر لیے۔ میری اور ارشاد کا ربط آپس میں بڑھتا گیا۔ ثاقب بھی ان میں شامل تھا، مگر میری کا اصل رجحان ارشاد کی جانب تھا۔ وہ اندر باہر ارشاد ارشاد کرتی پھرتی تھی۔ ایک دن سنا کہ ارشاد کو رات کی شفٹ مل گئی ہے۔ اب وہ رات کو کام پہ جاتا اور سارا دن گھر پر میری کے پاس رہتا۔ حسین شاہ نے جب یہ دیکھا تو اس نے بھی کوشش کر کے رات کی شفٹ لے لی۔ ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ ارشاد دوبارہ دن کی شفٹ پر آگیا حسین شاہ اور ارشاد میں اب اندر ہی اندر شفٹوں کی دوڑ لگ گئی۔ حسین شاہ نے ایک بار پھر مل جل کر کوشش کی اور دن کی شفٹ لے لی۔
حسین شاہ کی اپنے فورمین سے خوب بنتی تھی۔ کرسمس کے موقعے پر حسین شاہ نے وسکی کی ایک بوتل خرید کر دی تھی، اور دونوں عیدوں پر دیسی مٹھائی اور پھل کی ڈالی پیش کی تھی۔ پہلے ہم نے سن رکھا تھا کہ گورے لوگ ایسی چیزیں قبول نہیں کرتے۔ مگر یہاں آکر معلوم ہوا کہ یہ خیال غلط تھا، ادھر سب کچھ چلتا تھا۔ مگر اس کے باوجود گوروں میں ایک بات تھی۔ یہ گن کی قدر کرتے تھے۔ ارشاد کے ہاتھ میں جو گر تھا اس کے مقابلے میں حسین شاہ کی زیادہ دیر تک نہ چل سکی۔ اب تو اس ملک کی حالت بد سے بدتر ہو گئی ہے۔ مگر اس زمانے میں کا ریگروں کو کام کی کمی نہ تھی۔ ہر جگہ پر ان کی قدر ہوتی تھی اور ان کی بات مانی جاتی تھی۔ جب تیسری بار ارشاد نے تبدیلی کروا کے رات کی شفٹ لے لی تو حسین شاہ دن کی شفٹ میں اٹک کر رہ گیا۔ اسی اثنا میں جو چار چھ ہفتے گزرے اُن میں ارشاد کو میری سے مزیدہ رابطہ پیدا کرنے کا موقع مل گیا۔ حسین شاہ کام پر جاتا تو ارشاد اکثر گھر پر موجود ہوتا۔ وہ کئی کئی گھنٹے میری کے کمرے میں اس سے گپیں مارنے اور اس کے کام کرنے میں گزارتا۔ آخر جب شفٹوں کا جھنجھٹ بیچ سے نکل گیا تو یہ سلسلہ طے ہوا۔ اب ان کا دروازہ بند ہونا شروع ہو گیا۔ حسین شاہ دن کو کام پر جاتا اور رات کو گھر پر سوتا۔ ارشاد رات کو کام پر جاتا اور سارا دن گھر پر گزارتا۔ ارشاد کا پروگرام اب سیٹ ہو گیا تھا۔ وہ صبح سویرے کام سے واپس آتا تو حسین شاہ جا چکا ہوتا۔ ارشاد کے آتے ہی میری اُٹھ کہ اس کے کھانے پینے کا بندوست کرنے لگتی۔ ارشاد بچے سے کھیلتا رہتا۔ کھانے پینے سے فارغ ہو کر وہ دونوں بیٹھ کر آپس میں باتیں کرتے اور بچے کے سونے کا انتظار کرتے رہتے۔ جب بچہ کھیل کھال کر اور دودھ وغیرہ پی کر دوبارہ سو جاتا تو ساتھ ہی ارشاد اور میری کمرے کا دروازہ بند کر خود بھی سو جاتے۔ پھر نیند سے وہ دو پہر کے بعد اُٹھتے۔ ان کا دروازہ کھل جاتا اور پھر دن کا کام کاج شروع ہو جاتا۔ پانچ بجے کے بعد ثاقب کام سے واپس آتا اور ان کے ساتھ شامل ہو جاتا۔ اگر وہ خود ان کے کمرے میں نہ جاتا تو میری اس کو آواز دے کر بلا لیتی۔ چھ بجے کے بعد ارشاد تیار ہوتا اور ڈبے میں اپنا کھانا بند کر کے کام پر روانہ ہو جانا۔ اس کے جانے کے بعد میری حسین شاہ کے کھانے دانے کا بندوبست کرنے لگ جاتی۔ آٹھ بجے کے بعد حسین شاہ آ پہنچتا۔ کام معمول کے مطابق چلتا رہا۔ ہمارے دن اس طرح امن اور آرام سے گزرنے لگے۔ اگلے چند ہفتوں کے اندر ایک دو مزید تبدیلیاں واقع ہوئیں حسین شاہ نے اوور ٹا ئم کرنا بند کر دیا۔ اب وہ صبح سات بجے کام پر جاتا اور پانچ کے بعد ختم کر کے واپس آجاتا۔ ارشاد اب پورے پانچ بجے میری کے کمرے سے نکل آتا اور ہمارے کمرے میں آجاتا۔ مگر میری کے طور میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔ حسین شاہ کے آنے کے بعد وہ آواز دے کر ارشاد اور ثاقب کو بلالیتی۔ دونوں اس کے کمرے میں چلے جاتے اور ارشاد کے روانہ ہونے تک بیٹھے رہتے یا اندر باہر آتے جاتے رہتے۔ حالات میں کشیدگی کی وجہ سے حسین شاہ نے اپنے بھتیجے سے بات کرنی چھوڑ دی ہوئی تھی۔ صرف ہفتے والے دن ارشاد ایک مقررہ رقم خاموشی سے حسین شاہ کے ہاتھ میں پکڑا دیتا۔ مگر اب ان کو دن میں ایک دو گھنٹے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملنے لگا تو کشید گی ذرا کم ہونے لگی، گو آپس میں ان کی پہلے کی طرح کھل کر بات چیت کبھی شروع نہ ہوئی۔ پھر ایک دن ہم نے حسین شاہ کو ان تینوں کے ساتھ گھر سے باہر جاتے ہوئے دیکھا۔ ہفتے کا دن تھا۔ ارشاد جمعے کی رات کو کام پہ جایا کرتا تھا اس لیے اب انہوں نے ہفتے کی رات کو پب میں جانا شروع کر دیا۔ حسین شاہ عموماً گھر پر رہتا اور بچے کی دیکھ بھال کیا کرتا۔ اُس دن میری ہمارے کمرے میں آئی اور بچے کو ہمارے سپرد کر کے کہنے لگی، ’’حسین شاہ ہمارے ساتھ جارہا ہے۔‘‘ ہمیں اُس کی بات کا یقین نہ آیا۔ مگر جب ہم نے حسین شاہ کو ان کے ہمراہ جاتے ہوتے دیکھا تو اعتبار آگیا۔ اس دن کے بعد وہ چاروں ہر ہفتے کی شام کو اکٹھے پب میں جانے لگے۔ وہ ساری شام پب میں رہتے، اس لیے ہفتے کے دن حسین شاہ کی نمازیں قضا ہو جاتیں۔ مگر اس کے علاؤہ حسین شاہ کے دستور میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔ باقی چھ کے چھ دن وہ باقاعدگی سے نماز ادا کرتا اور دوسرے گھر کے فرائض انجام دیتا۔ حسین شاہ کی زندگی میں ایک نظام تھا۔ میں آج بھی سوچتا ہوں تو مجھے ایک گھنے درخت کا خیال آتا ہے۔ ایسے درختوں کے اندر قدرتی نظام ہوتا ہے حسین شاہ کے توازن پر سارا گھر قائم تھا۔ مگر حسین شاہ کے خلاف بہت سی طاقتیں کارفرما ہوتی جا رہی تھیں۔ ہمارے دلوں کے اندر اس کا مدھم سا احساس پیدا ہو چلا تھا۔
ایک دن حسین شاہ وقت سے پہلے اپنا کام ختم کر کے گھر آگیا۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ وقت سے اوپر ٹائم لگا نا تو روز مرہ کی بات تھی، اپنا ٹائم نہ ہوا تو کسی غیر حاضر کی جگہ پر جاکر کھڑے ہو گئے۔ مگر وقت سے پہلے گھر آنا نہ ہونے والی بات تھی۔ بعد ہی ہمیں پتا چلا کہ اُس روز حسین شاہ کے گھر آنے کی وجہ طبیعت کی ناسازی تھی۔ اس کے سر میں اتنے زور کا درد اُٹھا تھا کہ وہ کھڑا نہ ہو سکا اور آدھے دن کی چھٹی لے کر گھر آگیا۔ میری کا در وازہ ابھی بند تھا۔ حسین شاہ نے اسے کھولنے کی کوشش نہ کی، صرف ہاتھ لگا کہ دیکھا اور ہمارے کمرے میں چلا آیا۔ ہمارا کمرہ اُس وقت خالی تھا۔ حسین شاہ میرے گدے پر لیٹ گیا اور آنکھیں بند کر کے سستا نے لگا۔ یہ ساری باتیں ہمیں علی محمد حافظ آبادی کی زبانی معلوم ہو ئیں جو رات کی شفٹ دیتا تھا اور اس وقت گھر میں موجود تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد حسین شاہ اٹھ کھڑا ہوا۔ میری کا دروازہ اُسی طرح بند تھا۔ حسین خاموشی سے گھر سے باہر نکل گیا۔ اس کے بعد کا واقعہ میرے دیکھنے کا ہے۔ میں اُس وقت کام سے واپس آچکا تھا جب حسین شاہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا۔ میں اپنے دروازے میں کھڑا تھا۔ حسین شاہ میرے قریب سے گزرا تو مجھے شراب کی بو آئی۔ ابھی پب کے کھلنے کا وقت نہیں ہوا تھا۔ حسین شاہ نے شاید دکان سے خرید کر چڑھائی تھی۔ میری کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ اندر ارشاد، میری اور ثاقب بیٹھے تھے حسین شاہ دروازے میں جا کھڑا ہوا۔ ان تینوں نے حسین شاہ کی طرف دیکھا اور میری نے اسے ’’ہیلو ‘‘ کہہ کر اپنی باتیں جاری رکھیں۔ حسین شاہ جواب دیے بغیر اُسی طرح دروازے میں کھڑا رہا۔ اچانک کمرے میں اُن تینوں کی باتیں رک گئیں۔ وہ سر اُٹھا کر حسین شاہ کے منہ کی طرف دیکھنے لگے۔ ثاقب اور ارشاد کرسیوں پر بیٹھے تھے اور میری بستر پر کہنی رکھ کر لیٹی ہوئی تھی۔ انہوں نے حسین شاہ کے چہرے پر کیا دیکھا، یہ مجھے علم نہیں۔ حسین شاہ کی پشت میری طرف تھی۔ مگر اُسے دیکھتے دیکھتےوہ ایک ایک کر کے اپنی جگہوں سے اُٹھنے لگے۔ پہلے میری آہستہ آہستہ بستر سے اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ پھر ثاقب کرسی چھوڑ کر اُٹھا۔ حسین شاہ کی نظریں ارشاد پر لگی تھیں۔ وہ دروازے سے چلا اور جا کر ارشاد کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اُس نے ہاتھ بڑھا کر ارشاد کے بال پکڑے اور اُسے کھینچ کہ کرسی سے اُٹھا لیا۔ دوسرے ہاتھ سے اُس نے ایک پورے زور کا طمانچہ ارشاد کے منہ پر مارا پھر اُلٹے ہاتھ کو وہ اُسی زور سے گھما کر لایا اور ارشاد کے منہ پر دوسری طرف طمانچہ پڑا جس سے ارشاد کا منہ چھت کی طرف اُٹھ گیا۔ پھر حسین شاہ کا سیدھا ہا تھ ارشاد کی آنکھوں کے اوپر پڑا۔ طمانچوں کے بیچ ارشاد کے منہ سے صرف اتنی آواز نکلی، ’’ چاچا‘‘۔ ثاقب بھاگ کر کمرے سے نکل آیا۔ اور دروازے کے باہر کھڑا ہو کر دیکھنے لگا۔ حسین شاہ نے اپنے پنجے کی مٹھی کسی اور ارشاد کے منہ کے بیچ میں ہتھو ڑے کی طرح مکا مارا جس کے زور سے حسین شاہ کے دوسرے ہاتھ سے ارشاد کے بال چھوٹ گئے اور وہ دھڑاک سے دیوار کے ساتھ جاگرا۔ میری لپک کر حسین شاہ کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ ’’حسین شاہ‘‘۔وہ چیخ کر بولی، ’’ ہوش میں آؤ ۔کیا کر رہے ہو ؟‘‘ حسین شاہ نے اتنے زور سے اُسے سامنے سے ہٹایا کہ وہ لڑ کھڑاتی ہوئی بستر پر جا گری۔’’تمہارے بھائی کا بیٹا ہے‘‘، میری وہاں سے چیخ کر بولی، ’’ تم اسے مار دو گے۔ مار دو گے۔‘‘
حسین شاہ کمرے کے بیچ میں بازو لٹکائے، ٹانگیں مضبوطی سے پھیلائے ساکن کھڑا تھا، جیسے کوئی پتھر کا بت ہو۔ صرف اُس چکلا سینہ سانس کی وجہ سے اوپر نیچے حرکت کر رہا تھا۔ اُس کی سکڑی ہوئی آنکھیں ارشاد پر لگی تھیں، جیسے اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ابھی بتیاں نہیں جلی تھیں، مگر دن کی روشنی ختم ہوتی جارہی تھی۔ کمرے کے اندر ایسے دکھائی دیتا تھا جیسے حسین شاہ کے شانے اور بازو اور موٹی موٹی ٹانگیں پھیلتی ہوتی دیوار وں سے جالگی ہوں اور اس کا جسم کمرے کے رقبے پر حاوی ہو گیا ہو۔ ارشاد مضبوط جسم کا جوان تھا۔ اُس کا فراغت سے پلا ہوا بدن ملائم اور سڈول اور لچک دار تھا۔ جب وہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا آتا تھا تو معلوم ہوتا تھا ہوا میں کلکا ریاں بھر رہا ہے۔ مگر اس وقت وہ فرش پر گھٹنے ٹیکے ہوئے حسین شاہ کے سامنے ایک سہل جان بچے کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ حسین شاہ کی پچاس سالہ محنت اُس کے پٹھوں میں لوہے کے رسوں کی طرح بٹی ہوتی تھی اور اس کی بوڑھی ہڈیوں سے جذبہ اور جوش بجلی کی طرح لپک کر نکل رہا تھا۔ ارشاد کا منہ ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔ اس کا ایک ٹوٹا ہوا دانت اُس کی ہتھیلی پر پڑا تھا۔ اس کے ہونٹ پھٹ گئے تھے اور خون ٹھوڑی پر بہہ بہہ کر قمیض کو تر کر رہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں ہراس تھا ۔جب حسین شاہ نے اُس کی جانب قدم بڑھا یا تو ار شاد کے چہرے پر موت میں گھرے ہوئے جانور کا سا خوف ابھر آیا۔ وہ زمین پر بیٹھا بیٹھا چیخا، ’’چا چا، میں تم کو اندر کرا دوں گا۔ تم غیر قانونی ہو۔ سب کو اندرکرا دوں گا۔‘‘
حسین شاہ پر کوئی اثر نہ ہوا، جیسے ارشاد کی آواز اُس کے کان تک نہ پہنچی ہو۔ اُس نے جھک کر دونوں ہاتھوں سے ارشاد کو اس طرح زمین سے اٹھا لیا جیسے وہ کوئی روئی کی گانٹھ ہو۔ میری کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔ حسین شاہ نے ارشاد کو سر سے اُوپر اُٹھا کہ ایک گیند کی طرح اُسے درواز ے سے باہر پھینک دیا۔ وہ ہمارے قریب اس طرح آکر گرا جیسے کوئی بھاری چٹان گرتی ہے۔ دھما کے سے سارے کا سارا گھر لرزنے لگا۔ کمرے کے اندر اب حسین شاہ اسی طرح باز و لٹکائے میری کے سامنے کھڑا تھا۔ اُس کا سینہ تیزی سے حرکت کر رہا تھا۔ ہم نے سوچا اب وہ میری کو اُٹھا کہ پٹخنے لگا ہے۔ مگر وہ اُسی طرح بازولٹکائے میری کے سامنے کھڑا رہا۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اُس کے سینے کی حرکت رک گئی اور اُس کا غصہ اندر ہی اندر گویا جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اس نے پلٹ کر کھٹا ک سے دروازہ بند کر دیا۔ باہر ہم سب گھر کے لوگ سیٹرھیوں پر جمع تھے۔ گھر کے اندر خاموشی تھی۔ صرف بچہ شور سے جاگ پڑا تھا اور آہستہ آہستہ رو رہا تھا۔ کئی منٹ اسی طرح گزر گئے۔ کمرے سے اور کوئی آواز نہ آئی۔ پھر میں نے اور ثاقب نے ارشاد کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کر اُسے زمین سے اٹھایا۔ ارشاد نے ٹونٹی سے دوچار کلیاں کیں، ہاتھ منہ دھویا اور کمرے میں آکر اپنے گدے پر بیٹھ گیا۔ گھر کے سب باقی لوگ ایک ایک کرکے ہمارے کمرے میں آگئے اور ادھر ادھر گدوں پر بیٹھ گئے۔ کسی نے کوئی بات نہ کی۔ کچھ دیر کے بعد ارشاد اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے قمیض اُتار کرکونے میں پھینکی اور دوسری قمیض پہن کر کام پر چلا گیا۔ او ر کوئی ہمارے کمرے سے نہ اُٹھا۔ سب اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہے۔ آہستہ آہستہ ادھر ادھر کی باتیں شروع ہو گئیں۔ اس واقعے کا ذکر کسی نے نہ کیا، مگر بیچ بیچ میں ہم اسے یاد کر کے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور پشیمانی سے سر ہلاتے۔ ہمارے دلوں پر ایک ہی خیال نے قبضہ جما رکھا تھا، کہ یہ جھگڑا ہم سب کے لیے مصیبت کا باعث بنے گا۔ اس گھر میں صرف ارشاد قانونی تھا۔ اگر وہ اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنا دیتا تو ہمارے اوپر زمین تنگ ہو جاتی۔ یہ عجیب بات تھی کہ ہماری ساری امیدیں اب پھر میری سے وابستہ ہوگئی تھیں۔ ہم اُسی کو اس جھگڑے کی بنیاد سمجھتے تھے، مگر ساتھ ہی ساتھ ہمارے دل میں یہ احساس تھا کہ اگر کوئی اس معاملے کو سلجھا سکتا ہے تو وہ میری کی ذات ہے۔ اس کا ثبوت ہمیں اُسی رات کو مل گیا۔ ایک گھنٹے کے بعد حسین شاہ کے کمرے کا دروازہ کھلا اور میری اندر سے نکل کر حسین شاہ کا کھانا تیار کر نے لگی وہ چولہے کے سامنے کھڑی تھی کہ حسین شاہ اندر سے نکل کر ٹائلٹ کو گیا۔ شیرباز نے ایک نظر ہم پر ڈالی اور اٹھ کر دروازے پر جا کھڑا ہوا، جب حسین شاہ ٹائلٹ سے نکل کر آیا تو شیرباز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ حسین شاہ رک گیا۔ شیرباز اسے ہمارے کمرے میں لے آیا۔ حسین شاہ ایک طرف کو ہو کر ہمارے گدے پر بیٹھ گیا۔
’’ جو کچھ ہوا سو ہوا‘‘، شیر باز اُسے سمجھانے لگا، ’’اس بات کو اب فراموش کر دو۔ ارشاد ابھی بچہ ہے۔ تمہارا اپنا خون ہے۔ تم تو با عقل آدمی ہو۔ اتفاق میں بڑی برکت ہوتی ہے۔ اگر اتفاق نہ ہوتا تو بتاؤ آج ہمارے پیغمبر کا نام لینے والا دینا میں کوئی ہوتا۔ اتفاق میں ہی سب کی بھلائی ہے۔ ‘‘
حسین شاہ سر جھکا کر بیٹھا خاموشی سے سنتا رہا۔ وہ منہ سے کچھ نہ بولا، مگر اس کی پیشمانی دیکھ کر ہمارے سے دل کو تسلی ہو گئی۔ جب میری نے باہر سے کھڑی آواز میں اُسے بلایا، ’’حسین، آکر کھانا کھا لو‘‘، اور میری کی آواز پر حسین شاہ اُٹھ کھڑا ہوا اور ہمارے کمرے سے نکل گیا تو ہمیں پورا اطمینان ہو گیا۔ کھانے کے بعد میری نے باہر نکل کر برتن دھوئے۔ ہم اُس وقت اپنا کھانا تیار کر رہے تھے۔ غلام محمد کام سے واپس آچکا تھا اور ہم اس کو شام کا واقعہ سُنانے کے بعد تسلی دے چکے تھے۔ کمرے کے اندر حسین شاہ بچے کو گود میں لیے کرسی پر بیٹھا تھا۔ میری برتن دھوتی ہوئی ہنس ہنس کر ثاقب سے باتیں کر ر ہی تھی۔ اُس رات کو جب ہم بتیاں بجھا کر سوئے تو یقین نہیں آتا تھا کہ صرف تین گھنٹے پیشتر اس گھر سے ایک طوفان گزر چکا تھا۔
اگلے چند ہفتوں میں ہمارے دلوں سے رہا سہا خدشہ بھی نکل گیا۔ ارشاد فرما نبردار نکلا۔ اُس نے اپنے چچا کے خلاف کوئی قدم نہ اُٹھایا۔ثاقب کی زبانی معلوم ہوا کہ اُس نے اپنے چچا سے معافی مانگ لی ہے اور حسین شاہ نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیر دیا ہے۔ معاملہ صلح صفائی کے ساتھ طے ہو گیا۔ حسین شاہ نے پب جانے میں صرف ایک ہفتے کا ناغہ کیا۔ اُس شام کے واقعے کے بعد جو ہفتے کا دن آیا اُس دن صرف میری، ارشاد اور ثاقب پب گئے۔ مگر اُس سے اگلے ہفتے تک گھر کا سلسلہ پہلے کی طرح آرام سے چلنے لگا۔ ارشاد رات کو اور حسین شاہ دن کے وقت کام پر جاتا اور کوئی کسی کی راہ کا روڑا نہ بنتا۔ چناں چہ ایک بار پھر چاروں نے اکٹھے پب کو جانا شروع کر دیا۔ ارشاد نے پیسے دینے میں کبھی ناغہ نہ کیا بلکہ ثا قب کی زبانی یہ بھی معلوم ہوا کہ اب ارشاد نے اپنے چچا کو راضی کرنے کے لیے پہلے سے چند پونڈ زیادہ دینے شروع کر دیے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ مگر حسین شاہ بظاہر خوش بخوش معلوم ہوتا تھا۔
یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا اگر میری اپنے پاؤں زیادہ پھیلا نے شروع نہ کر دیتی۔ میری کو اب مکمل کنٹرول حاصل تھا۔ اُس کو کسی چیز کی ضرورت نہ تھی۔ مگر بزرگوں کا قول سچ ہے۔ عورت کبھی اپنی خصلت پر آنے سے نہیں ٹلتی۔ ثاقب کے ساتھ میری کی شروع سے ہی بہت بنتی تھی۔ مگر معاملہ اس سے آگے کبھی نہیں بڑھا۔ اب ایک بار حسین شاہ اور ارشاد کا مسئلہ حل ہو گیا اور زندگی بخیر و خوبی گزر نے لگی تو میری نے ثاقب کی طرف رجحان کرنا شروع کر دیا۔ ثاقب نو عمر اور معصوم طبیعت کا لڑکا تھا۔ سب اس کے ساتھ اپنے بچوں کا سا سلوک کرتے تھے۔ شروع سے کبھی کسی نے میری کے ساتھ اُس کے تعلقات کو قابل غور نہ سمجھا تھا۔ مگر جب اُن کا دروازہ بند ہونا شروع ہوا تو ہمارا ماتھا ٹھنکا۔ ثاقب پانچ بجے کام سے واپس آجاتا تھا۔ اس وقت ارشاد کسی وجہ سے باہر جاتا یا دوسری منزل پر بیٹھا ہوتا تو موقعہ دیکھ کہ میری ثاقب کو کمرے میں بلاتی اور دروازہ بند کر لیتی۔ کئی دنوں تک یہ بات حسین شاہ اور ارشاد سے چھپی ر ہی۔ مگر ایک ہی گھر کے اندر کتنے روز تک چلتی۔ پہلے ارشاد کو علم ہوا، پھر حسین شاہ کے کانوں تک بات پہنچی۔ حسین شاہ تو چپ رہا، البتہ ارشاد نے میری سے تھوڑی بہت تکرار کی۔ مگر میری کو کس کی پروا تھی۔ اُس نے ارشاد کو چپ کرا دیا۔ ثاقب کے طور میں بھی فرق آنے لگا۔ پہلے جو میری کے ساتھ اُس کی گفتگو ہوتی تھی اُس کی ایک ایک بات ہمیں آکر بتایا کرتا تھا۔ اب اُس نے ہم سے کچھ راز داری برتنی شروع کر دی تھی۔ ہمارے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا بھی اُس نے کم کر دیا، گو کھانا دا نا ہمارے ساتھ ہی کرتا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے میری کے نزدیک ہو کر وہ ہر ایک سے کٹتا جا رہا ہے۔ ثاقب کی انگریزی ہم سب سے اعلیٰ تھی، اور وہ اس بات پر بجا فخر کرتا تھا۔ میری کے ساتھ اُس کا رشتہ کسی حد تک ثاقب کی انگریزی بول چال پر ہی اُستوار ہوا تھا۔ اب ثاقب نے اپنے ادبی رسالے چھوڑ کر انگریزی کے رسالے پڑھنے شروع کر دیے تھے۔ وہ ہر وقت میری کے پاس کھڑا اُس کے ساتھ لمبی لمبی انگریزی بولتا رہتا تھا اور رسالوں میں سے مختلف حصے پڑھ کر اُسے سُنایا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ ہمارے ساتھ بھی باتیں کرتے کرتے ثاقب انگریزی بولنے لگتا تھا۔ ہوتے ہوتے میری کا یہ دستور بن گیا۔ دیدہ دلیر تووہ ہو چکی تھی،یہ پر واہ بھی نہ کرتی کہ ارشاد کمرے کے باہر پھر رہا ہے یا حسین شاہ گھر میں موجود ہے۔ جب اُس کا جی چاہتا ثاقب کو بلا کر دروازہ بند کر لیتی، اور جب تک جی چاہتا بند رکھتی۔ نہ ارشاد اور نہ حسین شاہ درواز ہ کھلوانے کی کوشش کرتے، بلکہ ایسے موقعے پر گھر میں اِدھر اُدھر اپنے کام کرتے پھرتے، اور جب دروازہ کھلتا تو روز مرہ کی طرح اندر چلے جاتے۔ ظاہری طور پر دیکھا جائے تو واقعات ہماری منشاء کے مطابق ہوتے جارہے تھے سب اپنی اپنی جگہ پر خوش تھے اور گھر کے سلسلے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو رہی تھی۔ مگر دراصل صورت حال ایسی نہ تھی۔یہ عجیب بات ہے کہ جب جھگڑے ہوا کرتے تھے تو ہمارے دل کو کبھی ایسی تشویش لاحق نہ ہوتی تھی جیسی اب ہوتی جا رہی تھی جب کہ سب کام صلح صفاتی کے ساتھ انجام پارہے تھے۔ مگر صلح کیسی اور صفائی کہاں کی ! یہ تو زندگی کے تانے بانے کی بات ہے۔ اگر دوتا نے آپس میں الجھ جائیں تو گانٹھ کو کھولا جاسکتا ہے لیکن ان کے سرے ہی اِدھر اُدھر سے چھوٹنے لگیں تو سارے کا سارا بانا اُدھڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد صرف وقت کی بات رہ جاتی ہے، جلد یا بدیر سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ہم اپنے آپ کو تسلی دینے کی خاطر اس بات کو نظروں سے چھپا ئے پھرتے تھے۔ مگر ہمارے سامنے اس کی بنتر کا ایک ایک تار گرتا جار ہا تھا ۔ہمارے دلوں میں یہ احساس بڑھتا جا رہا تھا کہ جیسے ہم کسی دریا کے کنارے کھڑے ہیں اور ایک نہ ایک دن زمین ہمارے پیروں کے نیچے سے سرک جائے گی۔
ثاقب کے اندر حیرت انگیز تبدیلی واقع ہو رہی تھی۔ میری کا کمرہ اور اٹک اس کے دو ٹھکانے رہ گئے تھے۔ ہمارے ساتھ وہ صرف کھانا کھانے کے لیے بیٹھتا، کوئی ایک آدھ بات کرتا، اور اُٹھ جاتا۔ اس نے کام سے ناغے کرنے شروع کر دیے تھے کبھی بیماری کی چھٹی لے لیتا کبھی غیر حاضر ہو جاتا، اور کبھی کام جلدی چھوڑ کر واپس آجاتا۔ میری کی میں ایک تعریف کروں گا۔ وہ ثاقب کو کام کا ناغہ کرنے سے منع کیا کرتی تھی۔ اُس سے کہتی ،’’ثاقب، یہ ملک کام کے بل بوتے پر چلتا ہے۔ اس ملک میں اور کچھ نہیں رکھا۔ کام نہیں کرو گے تو تمہیں کوئی نہیں پوچھے گا‘‘۔ لیکن ثاقب کے واسطے میری سے اوجھل رہنا دقت طلب ہوتا جار ہا تھا۔ اٹک میں ہوتا تو منہ اٹک کی موری پر رکھ کر گدے پر لیٹا ہوتا اور اس کی آنکھیں میری کے دروازے پر لگی رہتیں۔ اٹک سے باہر ہوتا تو پر چھائیں کی طرح میری کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا اور آنکھیں پھر بھی میری کے اوپر سے نہ ہٹتیں، جیسے کوئی سودائی ہو۔ ان چاروں نے اکٹھے پب کو جانا بھی بند کر دیا تھا۔ ارشاد کے دل میں بغض تھا۔ چناں چہ ایک دن پب سے واپسی پر اُس نے ثاقب سے کسی بات پر جھگڑا کر لیا اور اس پر بل پڑا۔ میری اور حسین شاہ نے دونوں کو کھینچ کر الگ تو کروا دیا مگر اتنی دیر میں ثاقب کو کافی ضر بیں آگئیں۔ اُس کے منہ اور ناک سے خون بہنے لگا۔ اُس دن سے ثاقب نے ان کے ساتھ جانا چھوڑ دیا۔ پھر کچھ دن کے بعد حسین شاہ اور ارشاد کے درمیان تو تو میں میں ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ پیسوں کی لین دین پر جھگڑا اُٹھا تھا۔ ارشاد کے پاس پیسے کم بچنے لگے تھے کیوں کہ اس نے اب اپنے لیے اور میری کے لیے نئے نئے کپڑے خرید نے شروع کر دیے تھے۔ ایک دو ہفتے تو حسین شاہ چپ رہا، مگر جب تیسرے ہفتے بھی ارشاد نے اسے کم پیسے دیے تو وہ ارشاد کو برا بھلا کہنے لگا۔ یہ بات ہمارے تک ثاقب کے ذریعے پہنچی تھی جس کا حوالہ حسین شاہ اور میری کی زبان تھی۔ مگرارشاد نے ہمیں کچھ اور بات بتائی۔ ارشاد نے کہا کہ پیچھے گاؤں میں حسین شاہ نے بہت سی زمین خرید لی ہے اور ساری اراضی اپنے اور اپنے بیٹے کے نام لگوائی ہے، حالاں کہ حسین شاہ نے کہہ رکھا تھا کہ ارشاد کے پیسوں سے جو ارا ضی آئے گی وہ ارشاد کے نام لگے گی۔ ارشاد نے کہا کہ اگر اس کا چچا اس سے میری کے عوض میں پیسے لیتا ہے تو پھر جتنے ہو چکے بہت ہو چکے، اب وہ ایک پیسہ دینے کا روادار نہیں، اُس کا قانونی حق ہے۔ قصہ در حقیقت جو بھی تھا بہر حال ارشاد اور حسین شاہ کا ساتھ چھوٹنے کا باعث بنا۔
اب ان تینوں نے اکیلے اکیلے میری کے ساتھ پب کو جانا شروع کر دیا۔ کسی کا کوئی دن مقرر نہ تھا۔ جب میری کا دل چاہتا کسی ایک کو ساتھ لے کر چلی جاتی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میری ہفتے میں تین دن اور حسین شاہ، ارشاد اور ثاقب ایک ایک دن پب کو جانے لگے۔ اب میری نے ثاقب کے کھانے دانے کا بندوبست بھی اپنے ذمے لے لیا تھا۔ ثاقب ہمار ے ساتھ صرف کھانے پینے کے لیے بیٹھا کرتا تھا، وہ بھی ختم ہوا۔ اب میری مکمل طور پر ان تینوں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ کام کی بڑی ماہر تھی، پورے ہفتے کی خریداری خود کرتی ہر روز ان کا کھانا پکاتی، برتن صاف کرتی، ان کے کپڑے دھوتی، استری کرتی، کمرے کی صفائی کرتی، اور اس کے با وجود اتنا وقت نکال لیتی کہ ہر دوسر ے دن شام کو تیار ہو کر کسی ایک کے ساتھ پب کو چلی جاتی حسین شاہ، ارشاد اور ثاقب کی ہر ضرورت پوری ہونے لگی۔ اُن کو گھر سے کسی کام کی فکر نہ رہی۔ میری کی شکل شباہت بھی بدل گئی۔ اس کی صحت بہتر ہو گئی، بدن پر ماس کی بوٹی نظر آنے لگی۔ باہر جانے سے پہلے باقاعدہ سنگار کرتی صرف اُس کی آنکھوں کے گرد حلقے اُسی طرح قائم رہے۔ ان کو چھپانے کے لیے کئی کئی رنگوں کے پوڈر اور مسالے ان پر لگاتی جس سے وہ خوشنما معلوم ہوتے۔ مگر صبح کو اٹھ کہ جب ہاتھ منہ دھوتی تو حلقے اُسی طرح دکھائی دینے لگتے۔ گھر کے نقشے میں آہستہ آہستہ کئی تبدیلیاں رونما ہونے لگی تھیں۔ جب سے ہماری منزل پر جھگڑے پڑے تھے گھر والوں کا آپس میں اٹھنا بیٹھنا تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ غلام محمد کی زندگی تو سیٹ تھی۔ کام سے واپس آکر کھانا کھاتا اور سو جاتا، صرف میں کبھی کبھی کھانے کے بعد اٹھ کر دوسری منزل پر چلا جایا کر تا تھا۔ شیر باز حافظ آبادی ہر دم افسوس کا اظہار کرتا تھا۔ اُس کا کہنا تھا کہ جب تک معاملہ حسین شاہ اور ارشاد کے بیچ تھا اُس وقت تک ٹھیک تھا۔ ان کی آپس کی بات تھی، سنبھال لیتے۔ آخر حسین شاہ کا میری کے اوپر بہت بڑا احسان تھا اور ارشاد کا اس پر قانونی حق تھا۔ مگر ثاقب کی شمولیت برائی کی جڑ تھی۔ ایک تو غیر تھا۔ دوسرے بچہ تھا اور ناتجربہ کار تھا، خراب ہو گا۔ ہم سب کو اس بات میں شیرباز کے ساتھ اتفاق تھا۔ پہلی منزل پر رنڈی کی آمد پھر شروع ہو چکی تھی۔ پہلے ایک دوبار کا ہمیں پتا نہ چلا۔ پھر آہستہ آہستہ خبر پھیلتی گئی۔ دوسری منزل سے ابھی دو بنگالی اور ایک حافظ آبادی اس میں شریک ہوئے تھے، باقی شمولیت سے باہر تھے۔ مگر ہمیں احساس تھا کہ اب صرف وقت کی بات رہ گئی ہے، جلد یا بدیر سلسلہ جاری ہو جائے گا۔ آخر ایک دوسرے کو دیکھ کر ہی زندگی گزرتی ہے۔ گھر میں اب وہ بات نہ ر ہی تھی۔ ہمیں اس بات کا احساس تھا۔ میرا اور غلام محمد کا دل بھی کچا پکا ہو رہا تھا۔ مگر وقت نے ہمیں مہلت نہ دی۔ یہ قسمت کے کھیل ہیں۔ بسا بسایا گھر ایک روز اجڑ نا تھا، اُجڑ گیا۔ آخر وہ دن بھی آپہنچا۔
اتنا بڑا واقعہ جس نے بم کے دھماکے کی طرح اچھال کر گھر کے گھر کو تتربتر کر دیا، ایک منٹ کے اندر تمام ہو گیا۔ اب سوچتا ہوں تو یقین نہیں آتا۔ میرا کمرہ ان کے ساتھ لگتا تھا اور مجھے پتا بھی نہیں چلا۔ میں اُسی وقت کام سے واپس آیا تھا اور کمر سیدھی کر نے کو گدے پہ لیٹا ہوا تھا۔ میری کے کمرے سے آوازیں آرہی تھیں۔ مگر یہ روزمرہ کی بات تھی، میں نے کوئی غور نہ کیا۔ اچانک کسی کے تیز تیز بولنے کی آواز آنے لگی۔ میں نے کان لگا کر سُنا تو حسین شاہ کی آوا ز تھی۔ وہ سخت غصے کی حالت میں گالیاں دے رہا تھا۔ پھر آواز ایک دم بند ہو گئی۔ اُس کے فوراً بعد کسی نے لمبی سی’’ہائے‘‘ کی۔ کسی کے دھڑام سے زمین پر گرنے کی آواز آئی۔ پھر ایک اور آواز۔ میں اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ دو چار عجیب سی آوازیں ایک دم بلند ہوئیں اور ختم ہو گئیں۔ اس کے بعد گویا ایک کہرام مچ گیا۔ میری چیخوں پر چیخیں مار نے لگی۔
نیچے سے لوگ بھاگتے ہوئے اُوپر چڑھ آئے۔ میں نے دھکا دے کر میری کے کمرے کا دروازہ کھولا تو اندر ایک ہیبت ناک منظر تھا۔ حسین شاہ چاروں شانے چت زمین پر ایسے پڑا تھا جیسے سرد ہو چکا ہو۔ اس کی آدھی قمیض، بائیں بغل سے لے کر پتلون کی پیٹی تک، خون سے تر تھی اور سیاہ نظر آر ہی تھی۔ ارشاد دیوار سے ٹیک لگائے اور گھنٹے اُٹھائے ہوئے بیٹھا تھا مگر بے حس وحرکت دکھائی دیتا تھا۔ اُس کا ایک ہاتھ زمین پر الٹا پڑا تھا اور دوسرا سینہ پکڑے ہوئے تھا جس کی انگلیوں کے بیچ سے خون ابل ابل کر نکل رہا تھا۔ خون اتنا محرک اور جان دار تھا کہ مجھے یاد ہے اُسے دیکھ کر مجھے ایک لمحے کے لیے حیرت ہوئی تھی کہ ارشاد اتنا بے جان کیوں دکھائی دے رہا ہے۔ اُس کا سر چھاتی کے اُوپرڈھلکا ہوا تھا۔ ثاقب ان دونوں کے درمیان کھڑا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں میری کی گوشت کاٹنے والی چھری پکڑی ہوئی تھی جس سے خون ٹپک رہا تھا۔ ثاقب دونوں گھائل آدمیوں کی طرف دیکھ رہا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں پہچان نہ تھی۔ میری اپنے بچے کو سینے سے چمٹائے ایسے چیخ رہی تھی جیسے اب کبھی چپ نہ کر ے گی۔ ہم سب دروازے میں کھڑے پھٹی پھٹی نظروں سے اندر کا منظر دیکھتے رہے۔ کسی کی ہمت نہ پڑی کہ داخل ہو کر میری کو چپ کراتے یا ثاقب کے ہاتھ سے چھری پکڑے۔ اچانک ہم میں سے ایک آدمی نکل کر پیچھے کو بھاگا اور د بڑد بڑ کرتا ہوا سیڑھیاں اُتر گیا۔ کسی دوسرے کی آواز آئی ؟
’’ یہاں سے بھاگو - پکڑے جاؤ گے۔‘‘
بھاگم دوڑ مچ گئی۔ ہم جو لوگ گھر میں موجود تھے انہیں اپنا سامان اٹھانے کا موقع مل گیا۔ جو گھر میں نہیں تھے وہ باہر ہی باہر سے غائب ہو گئے۔ میں نے کچھ کپڑے اور جوتوں کا ایک جوڑا ٹرنک میں ڈالا، نقدی جیب میں رکھی اور ٹرنک اٹھا کر دو منٹ کے اندر اندر گھر سے باہر ہو گیا۔
باہر اندھیرا ہو چکا تھا۔ گھر کا دروازہ بار بار کھل رہا تھا اور بند ہو رہا تھا۔ ہمارے ساتھی ایک ایک کر کے بھاگتے ہوئے گھر چھوڑ رہے تھے۔ میں ابھی تیسری گلی میں چلا جار ہا تھا کہ ایک پولیس کی گاڑی شور مچاتی ہوتی میرے پاس سے گزری۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ وہ دن اور آج کا دن میں نے اُس طرف کا رخ نہیں کیا۔ مگر وہ رخصت کا منظر مجھے آج بھی یاد ہے۔ جب تک میں نے اپنی گلی کو پار نہیں کر لیا پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتا رہا۔ دروازہ کھلتا تو اندر سے بجلی کی یہ روشنی پڑتی اور کوئی تیزی سے باہر نکلتا۔ دروازہ بند ہوتا تو اندھیرا ہو جاتا۔ پھر گلی کی مدھم روشنی میں وہ سایہ ادھر ادھر کہیں غائب ہو جاتا۔ دو سال کے پرانے ساتھیوں سے یہ میری آخری ملاقات تھی۔ اُن میں سے کتنے بچ گئے اور کتنے پکڑ لیے گئے، کتنے یہاں پر ہیں اور کتنے نکالے گئے، مجھے کچھ خبر نہیں۔ آج اگر کسی سے میرا سامنا ہو جائے تو شاید پہچان بھی نہ سکوں۔ اتنا عرصہ گزر گیا ہے، مگر ایک بات کا مجھے یقین ہے، کہ آج وہ بھی مجھے اسی طرح سے یاد کر تے ہوں گے جس طرح میں ان کو کرتا ہوں۔ وہ وقت ہی ایسا تھا۔ گویا ایک جنگ تھی اور ہم اس کے سپاہی تھے۔ کئی جنگ میں کام آئے ہیں، جو بچ جاتے ہیں ان کی زندگی کی رفتار تھم جاتی ہے۔ پھر اس کے بعد جیسی بھی گزرتی ہے گویا روز مرہ کی بات ہوتی ہے۔
میں کیسے گرتا پڑتا اور جگہ جگہ سر چھپاتا ہو اسکاٹ لینڈ جا نکلا اور وہاں مجھ پہ کیا بیتی، یہ ایک الگ کہانی ہے۔ وہاں پر مجھے ایک چھوٹے سے گم نام کا رخانے میں نوکر ہی مل گئی۔ میں نے ڈاڑھی بڑھالی تاکہ حلیہ کچھ تبدیل ہو جائے۔ اس طرح چھپ چھپا کہ دن گزار نے لگا۔ مجھے گلاسکو میں رہتے ہوئے کئی سال ہو گئے تھے کہ ایک روز شہر میں پھرتے ہوئے ایک چھوٹے سے کیفے کے اندر مجھے ایک مانویس شکل دکھائی دی۔ میں رک گیا۔ دروازے کے شیشے میں سے غور سے دیکھا تو مجھے یاد آیا کہ یہ آدمی برمنگھم میں ہمارے ساتھ والے مکان میں رہا کرتا تھا۔ اُس کا نام گل محمد تھا۔ وہ ایک میز پر اکیلا بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ میں جا کر اُس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اُس نے اس طرح میری جانب دیکھا جیسے میں کوئی اجنبی ہوں۔ میں نے اپنا تعارف کرایا تو پھر اس کو گزرا ہوا زمانہ یاد آگیا۔ وہ بھی کچھ عرصے سے گلاسکو میں رہ رہا تھا۔ ہم پرانی باتیں کر نے لگے۔ گل محمد سے مجھے سارے حالات کا پتا چلا۔ اُس نے بتایا کہ جب واردات ہوئی تھی اُس وقت وہ اپنے گھر میں موجود تھا۔ اس نے پولیس کو آتے ہوئے دیکھا۔ سب لوگ گھر سے بھاگ چکے تھے سوائے بنگالیوں کے۔ بنگالی بھی دروازے تک پہنچ چکے تھے جب پولیس آگئی۔ دونوں بنگالی پکڑ لیے گئے۔ رات تک وہاں پر مجمع لگا رہا۔ ثاقب کو حراست میں لے لیا گیا۔ مالک مکان بھی وہاں پہنچ گیا۔ ہر طرف سے پولیس کی کاریں وہاں آتی اور جاتی رہیں۔ آخر کئی گھنٹے کی کارروائی کے بعد پولیس والے ثاقب کو ایک کار میں، میری کو دوسری میں اور بنگالیوں کو تیسری کار میں بٹھا کر لے گئے۔ مردہ خانے کی ایک ایمبولینس گاڑی دونوں لاشوں کو اُٹھا کر لے گئی۔ مکان کو تالا لگا دیا گیا۔ مگر کئی دن تک یہاں ایک سپاہی کا پہرہ لگا ر ہا اور پولیس افسر گھر کے اندرآتے جاتے رہے۔ پھر پہرہ ہٹا لیا گیا، مگر مکان بند پڑا رہا۔ اس کے بعد جتنا عرصہ گل محمد وہاں رہتا رہا وہ گھر آباد نہ ہوا۔ محلے کے بچوں نے پتھر مار مار کر اس کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے۔ ان کے راستے پرندوں نے اندر داخل ہو کر گھونسلے بنا لیے اور بلیاں ان کی تاک میں پھلانگ پھلانگ کر اندر باہر آتی جاتی رہتیں۔ مالک مکان نے کبھی اس کی خبر نہ لی۔ مکان کھڑا کا کھڑا ویران ہو گیا۔ ایک سال کے بعد گل محمد اُس شہر سے کوچ کر آیا۔ مگر مقدمے کی کارروائی ان دنوں خوب مشہور ہوئی اور سب اخباروں میں چھپتی رہی۔ گل محمد نے بتایا کہ وہ اسی خبر کو پڑھنے کے لیے اخبار خریدا کرتا تھا اور اسے ساری کارروائی کا علم تھا۔ اس نے بتایا کہ دونوں بنگالیوں نے پولیس کی طرف سے وعدہ معافی ملنے پر اس گھر میں رہنے والے ایک ایک آدمی کا نام، پتا، اور اس ملک کے اند ر اُن کے رشتہ دار وں، عزیزوں اور ملنے والوں کے نام پتے وغیرہ درج کروا دیے تھے۔ اس کے بدلے میں اُن کو چھ مہینے تک کا ویزا لگوا دیا گیا تا کہ وہ کام وغیرہ کا ثبوت مہیا کر کے مستقل طور پر بسنے کی کارروائی شروع کر سکیں۔ اس طرح ہم سب کے نام پولیس ریکارڈ میں چلے گئے۔ میری کی گواہی بھی ہوئی۔ اُس نے صاف صاف اگلے پچھلے سارے حالات بیان کر دیے۔ البتہ اس نے ثاقب کو مجرم نہ ٹھہرایا۔ مگر ثاقب نے عدالت کے سامنے اقبالِ جرم کر لیا۔ اس پر عدالت نے اُس کا دماغی معائنہ کروانے کا حکم دے دیا۔ دماغی معائنے کی رپورٹ کے مطابق ثاقب کا دماغ ہل گیا ہوا تھا۔ چناں چہ یہاں کے قانون کے مطابق عدالت نے ثاقب کو ایک ڈاکٹری جیل میں بھیج دیا۔ یہ جگہ صرف ان ملکوں میں میں نے دیکھی ہے۔ یہ جیل خانہ بھی ہوتا ہے اور ہسپتال بھی، اور یہاں صرف دماغی مجرم رکھے جاتے ہیں۔ گل محمد کو کسی سے پتا چلا تھا کہ ثاقب کو لندن کے قریب ایک ایسی ہی ڈاکٹری جیل میں رکھا گیا ہے۔ میں نے گل محمد سے پوچھ کر اس جگہ کا نام ایک کاغذ کے پرزے پر لکھا اور بٹوے میں ڈال لیا۔ گل محمد او ر میں دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے ایک دوسرے سے رُخصت ہوئے۔ مگر گلاسکو بہت بڑا شہر ہے، سالوں سال ایک محلے سے دوسرے کا گزر نہیں ہوتا۔ گل محمد سے اُس دن کے بعد میری ملاقات نہیں ہوئی۔
زندگی کی اچھائیاں اور برائیاں آدمی کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں۔ اپنے ہی ایک آدمی نے دشمنی میں آکر میری مخبری کر دی اور میں پکڑ لیا گیا۔ تین مہینے تک میں نے جیل کاٹی اور مقدمہ لڑتا رہا۔ آخر سر خرو ہوا۔ کچھ قدرت نے بھی میری مدد کی۔ اس ملک کا قانون بدل گیا اور ہم لوگوں کو یہاں پر بس جانے کی آزادی مل گئی۔ میرے پاس جو جمع پونجی تھی سب خرچ ہو گئی۔ لیکن ہم لوگ جو بے وطنی میں آکر زندگی بسر کرتے ہیں محنت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ مجھ سے جتنی جلدی ہو سکا سکاٹ لینڈ سے نکل آیا۔ وہاں کی سردی نے میری جان عذاب میں ڈال رکھی تھی۔ آخر پھرتا پھراتا میں لندن کے قریب اس چھوٹے سے شہر میں آپہنچا۔ یہ بڑا پر فضا مقام ہے سمندر کے کنارے پر ہے اور لوگ یہاں پر گر میوں کی چھٹیوں میں سیرتفریح کے لیے آتے ہیں۔ یہاں پر مجھ کو پوسٹ آفس میں ڈا کیے کی ملازمت مل گئی۔ نوکری سخت ہے مگر پکی ہے اوور ٹائم مل ملا کر تنخواہ اچھی بن جاتی ہے۔ دن رات محنت کر کے میں نے ایک سال کے اندر یہاں اپنا مکان خرید لیا اور بیوی بچوں کو ادھر منگوانے کا بندوبست شروع کر دیا۔ ایک روز چھٹی کے دن میں اکیلا گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے اچانک ثاقب کی یاد آئی۔ میں نے بٹوہ کھول کر دیکھا۔ بٹوے کے ایک کونے میں ابھی تک کا غذ کا وہ پرزہ موجود تھا جس پر میں نے گل محمد سے پوچھ کر ثا قب کے جیل خانے کا پتا لکھا تھا۔ وہ جگہ اس شہر سے زیادہ دور واقع نہیں ہے۔ میں نے اُسی وقت ثاقب کو جا کر ملنے کا ارادہ کر لیا۔ پندرہ دن کے بعد جب دوبارہ میری چھٹی کا دن آیا تو میں نے صبح سویرے گھر کے کام ختم کیے اور بس پر سوار ہو کر چل نکلا۔
اُس ڈاکٹری جیل کی بہت بڑی عمارت تھی جس کے گرد نیچی سی فصیل بنی ہوئی تھی۔ جب میں نے دروازے پر پہنچ کر اپنا مدعا بیان کیا تو اس وقت مجھے پتا چلا کہ ثاقب سے ملنا اتنا آسان کام نہیں جتنا کہ میں نے سمجھ رکھا تھا۔ دربان مجھے اپنے ساتھ ایک چھوٹے سے دفتر میں لے گیا۔ وہاں پر میں کافی دیر تک بیٹھا انتظار کرتا رہا۔ پھر اندر سے ایک افسر نکل کر آیا اور میرا نام پکا ر کر مجھے اپنے پیچھے پیچھے ایک دوسرے دفتر میں لے گیا۔ وہاں پر اس نے لمبی چوڑی پوچھ گچھ شروع کردی۔ میں کون ہوں، کیا کرتا ہوں ، کہاں سے آیا ہوں، ثاقب سے میرا کیا تعلق ہے، کیوں ملنا چاہتا ہوں، کیا مجھ کو ثاقب کی حالت کا علم ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ میں نے صاف صاف ساری باتوں کے جواب دے دیے اور ساتھ ہی اپنے کاغذات بھی دکھا دیے جن پر درج تھا کہ اب میں قانونی طور پر آزا د ہوں اور سرکاری ملاز مت کرتا ہوں۔ اُس افسر نے شریفانہ طور پر مجھ سے کہا کہ یہ ساری کارروائی ضروری ہے اور امید ہے کہ میں اس کا برا نہیں مناؤں گا۔ بعد میں جب وہ ساری تفتیش مکمل کرچکا تو کہنے لگا، ’’ہم بہت خوش ہیں کہ تم ثاقب سے ملنے کے لیے آئے ہو، آج تک اُس کا کوئی واقف کا ر اُس سے ملنے نہیں آیا ۔ہو سکتا ہے تمہارے ساتھ ملاقات کرنے کا ثاقب پر بہت اچھا اثر پڑے ۔‘‘ اس کے بعد اُس نے کہا کہ اب میں جا سکتا ہوں، مجھے چند دنوں تک خط کے ذریعے اطلاع دے دی جائے گی۔ میں اُس کا شکریہ ادا کر کے وہاں سے چلا آیا۔ ایک مہینہ گزر گیا اور کوئی اطلاع نہ آئی۔ میں اس بارے میں تقریباً ما یوس ہو چکا تھا کہ ایک روز اچانک اُن کا خط آپہنچا۔ اُس میں لکھا تھا کہ ثاقب کے ساتھ ملاقات کے لیے میرا نام منظور ہو گیا ہے، اور میں فلاں فلاں یا فلاں تاریخ کو اتنے بجے آکر اُس سے ایک گھنٹے کی ملاقات کر سکتا ہوں۔ مگر جس دن آنا چاہوں اُس کی اطلاع پہلے خط کے ذریعے پہنچا دوں۔ یہ اشد ضروری ہے نیچے جیل کے گورنر کے دستخط تھے۔ ان تین تاریخوں میں سے ایک پر میری چھٹی آتی تھی۔ چناں چہ میں نے خط کے ذریعے ان کو اطلاع دے دی کہ میں فلاں دن کو صبح گیارہ بجے ملاقات کے لیے حاضر ہوجاؤں گا۔ خط ڈاک کے حوالے کر کے میں اُس دن کا انتظار کرنے لگا۔
سُنا ہے کہ جیل خانوں میں ملاقات سلاخوں کے آر پار ہوتی ہے۔ مگر یہ جیل مختلف تھی۔ مجھے ایک چھوٹے سے کمرے میں لے جاکر بٹھا دیا گیا جہاں قالین بچھا تھا اور صوفے پڑے تھے، جیسے کسی گھر کی بیٹھک ہو۔ وہاں پر میں چار پانچ منٹ تک اکیلا بیٹھا انتظار کرتا رہا۔ اس کے بعد دروازہ کھلا اور ثاقب ایک اور شخص کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوا۔ کمرے میں داخل ہو کر وہ شخص ثاقب سے بولا:
’’ ثاقب ۔یہ تمہارا دوست ہے۔ تم سے ملنے آیا ہے۔ ‘‘
ثاقب نے سر ہلا کر اپنا ہاتھ آگے کر دیا۔ میں نے ثاقب سے ہاتھ ملایا۔
وہ شخص پھر بولا :’’ثاقب ، ٹھیک ہے ؟ اب میں جاؤں ؟“
ثاقب نے سر ہلا کر جواب دیا : ’’ ہاں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ وہ آدمی بولا۔ ’’اب میں جاتا ہوں۔ تم یہاں بیٹھ کر اپنے دوست سے باتیں کرو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔ جاتی دفعہ اس نے دروازہ آہستہ سے بند کر دیا۔
ثاقب کو میں نے کئی سال کے بعد دیکھا تھا۔ اُس کا حلیہ بدل چکا تھا۔ اُس نے کوٹ پتلون پہنا ہوا تھا اور گلے میں ٹائی لگا رکھی تھی۔ اس کے بوٹ پالش سے چمک رہے تھے اور بالوں میں تیل ڈال کر کنگھی کی ہوئی تھی۔ یوں دکھائی دیتا تھا جیسے وہ کہیں جانے کے لیے تیار ہو کر آیا ہے۔ وہ بہت موٹا ہو گیا تھا۔ اُس کی عمر اس وقت چھبیس ستا ئیس سے زیادہ کی نہ ہو گی مگر دیکھنے میں وہ اپنی عمر سے بہت بڑا لگنے لگا تھا۔ گوشت بڑھ جانے کی وجہ سے اس کے چہرے پر پختگی آگئی تھی۔
’’ثاقب “ میں نے کہا۔ ’’ مجھے پہچانا ؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ ثاقب نے سر ہلا کر جواب دیا۔ مگر اس کے چہرے پر اور آنکھوں میں پہچان پیدا نہ ہوئی۔
’’کیا حال چال ہے ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ اب ٹھیک ہوں۔ ‘‘ وہ خوش ہو کر بولا۔ وہ انگریزی بولے جا رہا تھا۔ اس کی زبان بدل گئی تھی۔ میں بھی انگریزی میں بات چیت کرنے لگا۔
’’کیا کر رہے تھے ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہم فٹ بال کا میچ دیکھ رہے تھے۔‘‘
’’میچ دیکھ رہے تھے ؟‘‘
”ہاں۔“ وہ بولا۔ ” ہمارے پاس کلر ٹیلی ویژن ہے۔“
’’ رسالے پڑھتے ہو ؟“ میں نے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘ ثاقب نے جواب دیا۔ ’’ کار پنٹر ی میں کام کرتا ہوں۔‘‘
’’ اچھا ؟ کیا بناتے ہو؟‘‘
’’سب چیزیں۔‘‘ ثاقب نے کہا، ’’ میز کرسیاں۔ “
ہماری گفتگوختم ہو گئی۔ ہم کافی دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔ ثاقب میری طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں کچھ ایسی ہی بے مدعاسی کیفیت تھی۔ ایک جگہ پر ٹھہری رہتی تھیں۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ ثاقب سے پرانے زمانے کی باتیں کروں، شاید اُس کی پہچان کچھ ابھرے، مگر ہمت نہ پڑتی تھی۔ آخر میں نے دل مضبوط کر کے کہا :
’’ثاقب برمنگھم یاد ہے ؟‘‘
وہ خوشی سے سر ہلا کر بولا : ” ہاں‘‘ اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا۔ کچھ دیر کے بعد اچانک بولا، ’’ ہم لندن گئے تھے۔‘‘
’’لندن کیا کرنے گئے تھے ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’بس میں بیٹھ کر گئے تھے۔‘‘ثاقب نے کہا، ’’سیر کرنے کے لیے ۔‘‘اُس نے پھر بات ختم کر دی اور میری طرف دیکھنے لگا۔
میرے دل کی عجیب کیفیت تھی۔ ایک طرف تو میرا جی نہ چاہتا تھا کہ ثاقب کو وہ ناخوش گوار باتیں یاد دلاؤں۔ دوسری طرف زبر دست خواہش تھی کہ کوئی ایسی بات کروں جس سے اُس کے چہرے کا پتھر ٹوٹے۔ اُسے دیکھ دیکھ کر میرا دل گھبرانے لگا تھا۔
’’ ثاقب۔ “ میں نے کہا۔ ’’تمہیں میری یاد ہے ؟‘‘
میری کا نام لے کر میں نے غور سے ثاقب کے چہرے پر اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ مگر ثاقب کے چہرے پر رنگ تک نہ آیا، گو میری بات کا جواب اُس نے فوراً دیا۔
” ہاں۔“ اس نے کہا۔ وہ کمرے میں ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ اس کی نظر دیوار پر لگی ہوئی ایک تصویر سے گزری جس میں چند مزدور ننگے بدن کھدائی کا کام کر رہے تھے۔
’’لنچ کے بعد ریسلنگ ہوگی۔‘‘ثاقب نے کہا۔
’’کہاں ؟‘‘
’’ٹیلی ویژن پر۔‘‘ وہ خوشی سے بولا۔’’ آج لنچ میں فش ہے۔“
جب ہمارا وقت ختم ہو گیا تو وہ آدمی، جو پہلے ثاقب کے ہمراہ آیا تھا، دوبارہ کمرے میں داخل ہوا۔ میں اپنی کرسی سے اُٹھا تو ثاقب جلدی سے ہاتھ بڑھا کہ اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’کل پھر آؤ گے؟‘‘ وہ مجھ سے ہاتھ ملا کر بولا۔
’’ کل نہیں۔‘‘ میں نے کہا۔’’ کچھ دیر کے بعد آؤں گا۔‘‘
’’ اچھا۔‘‘ ثاقب خوشی سے بولا۔ ” اچھا۔‘‘
واپسی پر میں وہاں سے دوسری بس پر سوار ہوا۔ بڑا خوش گوار دن تھا۔ آسمان پر بادل کا نشان نہ تھا۔ تیز دھوپ ہر طرف سرسبز زمینوں پر اور نیلی سڑکوں پر پھیلی ہوئی تھی۔ ایسے چمک دار دن اس ملک میں کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں، اور جب آتے ہیں تو ان کا نقشہ دل پر ثبت ہو جاتا ہے۔ میں دل کا ہلکا نہیں ہوں۔ مگر میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں بس میں بیٹھا بیٹھا رونے لگوں۔ ثاقب کی دنیا ہر طرف سے بند ہو گئی تھی۔ وہ اس دنیا میں الگ تھلگ رہ رہا تھا۔ مجھے رہ رہ کر وہ وقت یا د آر ہا تھا جب وہ نیا نیا یہاں آیا تھا اور ہمارے ساتھ اُس مکان میں رہا کرتا تھا۔ اتنا پھر تیلا، اتنا البیلا، اتنا اعلیٰ دماغ۔ لکھائی پڑھائی کا شوقین۔ ہماری چھوٹی موٹی باتوں میں وقت ضائع نہ کرتا، اپنے اٹک میں لیٹا ادبی رسالے پڑھتا رہتا تھا۔ بتایا کرتا کہ پرانے زمانے میں ہمارے کیسے کیسے نامور ادیب اور دانش ور لندن کے شہر میں آئے اور وہاں رہ کر انہوں نے کیسے کیسے خیال افروز افسانے اور مضمون لکھے۔ اس کی آنکھوں میں بس وہی دنیا بسی ہوئی تھی۔ کہا کرتا تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ لندن پہنچ جائے گا۔ وہ دنیا ہماری نہ تھی، مگر پھر بھی ہم اس کی باتیں سن کر اپنا دکھ بھول جاتے تھے۔ نو جوانی کی عمر میں کشش ہی ایسی ہوتی ہے، جس ثاقب کو آج میں نے دیکھا تھا وہ ثاقب نہ تھا جو ہمارے مشکل دنوں کا ساتھی رہا تھا۔ ایک سوال بار بار میرے دل میں آرہا تھا، ثاقب نے کیا قصور کیا تھا؟ یہ سوچ سوچ کر میرا دل بند ہونے لگا تھا۔ آخر تنگ آکر میں نے سوچا اللہ کے بندے، دل مضبوط کر، جی ہلکا کر نے سے کس کی زندگی گزری ہے۔ اس خیال سے میرے دل کو کچھ تسلی ہوئی۔ میں نے سوچا یہ کیسا بیکار سوال ہے جو مجھے پریشان کر رہا ہے۔ جس سوال کا کوئی جواب ہی نہ ہو اُس سوال کا کیا فائدہ ؟ اُس وقت میں نے دل میں ارادہ کر لیا کہ اب کبھی اس طرف کا رخ نہیں کروں گا، ثاقب اب گیا، اب وہ ثاقب نہیں رہا، یہ کوئی اور ہی شخص ہے جس کا نہ کوئی نام ہے نہ نشان ہے۔ اب اس کو بھول جاؤ۔
کہتے ہیں کہ کہنے میں اور کرنے میں بڑا فرق ہے۔ یہ بات درست ہے۔ میں نے لاکھ کوشش کی کہ بھول جاؤں، مگر ثاقب کی شکل دل سے نہ اتری ۔ اُس کا بھاری چہرہ، ٹھہری ہوئی آنکھیں، بے حرکت وجود دمیری آنکھوں کے سامنےر ہا۔ آخر چھ مہینے کے بعد میں نے دوبارہ ملاقات کی درخواست روانہ کردی۔ در خواست منظور ہو کر آگئی۔ میں ملاقات کر نے کے لیے گیا اور مل کر واپس آ گیا۔ اب یہ میرا معمول ہو گیا ہے۔ سال میں ایک دوبار جا کر ثاقب سے ملاقات کر آتا ہوں۔ ایک سے دوسری ملاقات میں کوئی فرق نہیں ہوتا، ثاقب کی حالت وہی ہے۔ میں بھی اب کوئی لمبی چوڑی توقع لے کر نہیں جاتا۔ ثاقب جو باتیں کرتا ہے اُس کے ساتھ وہی باتیں کر تا رہتا ہوں۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ آخر کیوں میں بار بار اُس سے ملنے کے لیے جاتا ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آئی۔ مگر یہ ایک عجیب و غریب بات ہے۔ جب میں اُس سے ملتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ یہ آدمی مر چکا ہے۔ اس کی زندگی ختم ہو گئی ہے، اس کا احساس رک گیا ہے۔ اب اس میں اور ایک پتھر میں کوئی فرق نہیں رہا۔ اس کا مجھ سے کوئی سروکار نہیں۔ مگر جیسے ہی میں اس سے رخصت ہو کر آتا ہوں اور وہ میری نظروں سے اوجھل ہوتا ہے تو ایک بالکل مختلف صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ اُس کا چہرہ اور اس کا وجود ایک جیتے جاگتے ہوئے آدمی کی شکل میں میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور کبھی غائب نہیں ہوتا۔ ہر بار میری یہی کیفیت ہوتی ہے۔ اُس کی اس شباہت میں ایسی جان ہے کہ ہر وقت مجھے اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے۔ اس بات کی مجھے سمجھ نہیں آتی، شاید اسی لیے میں بار بار اس سے ملنے کے لیے جاتا ہوں۔
ہو سکتا ہے کہ اس بات کا راز اُس واقعے میں پوشیدہ ہو جو پچھلے سال میری نے مجھ سے بیان کیا تھا۔ میری کے ساتھ دوبارہ ملاقات بھی ایک عجیب اتفاق کی بات تھی۔ کس کے خیال میں تھا کہ زندگی میں ایک بار پھر میری سے سامنا ہو گا، اور سامنا بھی ایسا کہ بس راستہ چلتے چلتے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے سالوں سال اپنے عزیزوں سے ملاقات نہیں ہو پاتی، اور کبھی کسی نا واقف مقام پر کوئی بھولا بسرا ہوا آدمی اچانک مل جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں زندگی کا نہ کوئی نقشہ ہے نہ نمونہ، بس چھوٹے بڑے اتفاقات کا ایک جال ہے جو ایک ایک گرہ کر کے پھیلتا جاتا ہے۔ اپنے وطن سے ہمارا کوچ ہو یا میری سے دوبارہ ملاقات، سب اتفاق کی بات ہے، سینکڑوں لوگوں کے مجمعے میں میری کا چہرہ دکھائی دے جانا ایسا ہی حیران کن اتفاق تھا۔ مشرقی لندن کے علاقے میں اتوار کو ایک مارکیٹ لگتی ہے جہاں نئی اور پرانی اشیاء بہت سستی دستیاب ہوتی ہیں۔ کئی ہفتوں سے ارادہ کر رہا تھا کہ وہاں کا چکر لگاؤں، شاید کوئی اچھی چیز ہاتھ لگ جائے۔ یہاں کئی مختلف جگہوں پر ایسی مارکیٹیں لگتی ہیں۔ میں چھٹی کے دن ان مارکیٹوں میں جاتا رہتا ہوں۔ کچھ پسند آیا تو خرید لیا، ورنہ چیزیں دیکھ کر واپس آگیا۔ ایک اتوار کو کار میں بیٹھ کر اس مارکیٹ کو چل پڑا۔ بہار کا موسم تھا۔ سردیوں میں جب یہاں برف پڑتی ہے تو چاروں طرف ایک عجیب ساسناٹا طاری ہو جاتا ہے، جیسے زمین کی سانس رک گئی ہوا وہ ایک لمبی چوڑی لاش کی طرح برف کے کفن کے نیچے بے حس وحرکت پڑی ہوئی ہو۔ کئی کئی ہفتے گزر جاتے ہیں کوئی سبزہ نہیں اگتا ،کوئی پتا دکھائی نہیں دیتا، معلوم ہوتا ہے اس سرزمین سے کبھی حرارت نہیں نکلے گی اور نہ خوراک کا دانہ پیدا ہو گا جس طرف نظر ڈالور ایک ہی رنگ دکھائی دیتا ہے، سفید اور گدلا سفید ۔ مگر جب مارچ او را پریل اور مئی کا موسم آتا ہے تو سارا نقشہ بدل جاتا ہے۔ زمین سے بھاپ اُٹھنے لگتی ہے اور آسمان نکھر آتا ہے۔ اور بہار کے موسم میں تو ہوا کا بھی اپنا ایک رنگ ہوتا ہے، لمبی لمبی پینگوں والا رنگ ۔یہ رنگ صرف آنکھیں بند کریں تو دکھائی دیتا ہے۔ اس ملک میں رہتے ہوتے مجھے دس سال گزر گئے تو پھر پہلی دفعہ میں نے یہاں کے موسموں پر نظر ڈالی۔ اپنے وطن کے موسم تو شروع سے آدمی کے اندر موجود ہوتے ہیں، آنکھیں کھول کر دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ غیر وطن میں آکر سالہا سال گزر جاتے ہیں اور زندگی سے اتنی فرصت نہیں ملتی کہ آدمی دنیا پر نظر ڈالے۔ دس سال اندھیرے میں گزر گئے، اس کے بعد پہلی بار بے فکری سے باہر نکل کر میں نے اس ملک کے موسموں کو دیکھا ہم لوگوں کی ایک کھیپ کی کھیپ ہے جس کے اندر ان اندھیروں کے نشان موجود ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں آخر زمینوں پر خشک سالی بھی تو آتی ہے۔ زندگی نہ رکتی ہے نہ پیچھے کو جاتی ہے، آگے ہی آگے چلتی ہے۔ اس ملک کی بہار میں اتنے رنگوں کے پھول اور پتے ایک ساتھ کھلتے ہیں کہ دیکھ دیکھ کر نظر دنگ رہ جاتی ہے۔ رستے میں ایک جگہ پہ کار کو روک کر میں کافی دیر تک ایک کھیت کا نظارہ کرتا رہا۔ اس کھیت میں صرف گھاس اُگی تھی یا کوئی چارہ لگا تھا، مگر اس سبزے کا رنگ ایسا تھا کہ میری نظر اُس سے الگ نہ ہوتی تھی۔ اس دن کی دُھوپ انو کھی تھی یا وہ بہار کا موسم انوکھا تھا، یا کہ وہ سبزہ ہی نیا تھا، مگر ایسا سبزہ میں نے نہ نباتات کی اور نہ حیوانات کی دنیا میں کبھی دیکھا ہے۔ اُڑتے ہوئے پرندوں اور حشرات الارض اور پانی کے اندر رنگ برنگی مچھلیوں کا نظارہ میں نے کیا ہے، مگر ایسا دمکتا ہوا سبز رنگ کہیں پر نہیں دیکھا جس کے اندر سے روشنی نکلتی ہو۔ معلوم ہوتا تھا کہ ان پتوں کے اندر دوڑتی ہوئی زندہ جان ہے اور یہ رنگ اس جان کا رنگ ہے، اور اگر پیر کے نیچے لے کر ان پتوں کو مسل دیا جائے اور ان کی جان نکل جائے تو پیچھے سفید رنگ کے تنکے رہ جائیں گے۔ جب لمبے اندھیرے سے نکل کر آدمی کو آزادی ملتی ہے تو پھر دل میں ایک حرص پیدا ہوتی ہے۔ چلبلے رنگوں کی، ملائم جلد والی چیزوں کی حرص، ریشمی کپڑے کی، سونے کے زیور کی، روغنی مسالے اور دھات کے بنے ہوئے مشینی آلوں کی حرص۔ یہ بے وطنی کے نشان ہیں۔ مگر کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ اس کو ہلکی نگاہ سے دیکھے۔ یہ زندگی کی حرص ہی آدمی کو تازہ رکھتی ہے۔ اُس روز دھوپ میں اس گھاس کے کھیت کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خیالات پیدا ہوئے۔
مارکیٹ میں پہنچ کر میں مختلف سٹالوں پر پھرتا رہا۔ یہ سٹال لوگوں نے فٹ پاتھ پر تختے ڈال کر لگا رکھے تھے اور ایک میل کے فاصلے پر پھیلے ہوئے تھے۔ کئی ایک کے پاس ریڑھیاں تھیں۔ ہر کوئی چیخ چلا رہا تھا۔ بالکل ہمارے بازاروں کا سا منظر تھا۔ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ فٹ پاتھ پر چلنے پھرنے کی جگہ تنگ ہو گئی تھی اس لیے دھکے پڑ رہے تھے۔ عقب سے مجھے ایک ہلکا سا دھکا لگا تو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ایک بوڑھی عورت نے مسکرا کہ کہا، ” سوری‘‘۔ میں بھی مسکرا پڑا۔ جب آگے بڑھنے کے لیے مڑا تو میرے سامنے میری کھڑی تھی۔ ہمیں ایک دوسرے کو پہچاننے میں کچھ وقت لگا۔ ایک زمانہ گزر چکا تھا۔ کئی سیکنڈ تک ہم کھڑے ایک دوسرے کے منہ کو دیکھتے رہے۔ جب میں نے اچھی طرح سے اُسے پہچان لیا تو میں نے پکار کر کہا، ” میری !‘‘ میری خواہ کیسی بھی عورت تھی مگر ایک بات کی میں تعریف کروں گا، وہ میرے ساتھ بڑی محبت سے پیش آئی۔ ہم ہجوم سے نکل کر کھڑے ہو گئے۔ میری کے ساتھ چار بچے تھے۔ ایک صرف چند مہینے کا تھا جس کو میری نے بچہ گاڑی میں لٹایا ہو اتھا اور خود گاڑی کو دھکیل رہی تھی۔ ایک تین سال کا میری کی ٹانگوں کے ساتھ لگ کر کھڑا تھا۔ ایک چھ سات برس کا تھا۔ سب سے بڑا مائیکل تھا جس کو میں نے دیکھتے ہی پہچان لیا۔ بڑا خوبصورت لڑ کا نکلا تھا۔ میرے حساب سے تیرہ برس کا ہو گا، مگر پندرہ سولہ کا دکھائی دیتا تھا۔ اُس کے بال کالے گھنگھریالے تھے مگر ر نگ کافی گورا تھا اور اُس کا قد کاٹھ کالوں کی طرح لمبا چوڑا اور مضبوط تھا۔ میں نے ہیلو کر کے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ وہ اس وقت ایک سال کا بھی نہ تھا جب میں نے آخری بار اُس کو دیکھا تھا۔ اُس نے مجھے ہیلو کیا اور میری بات سن کر مسکراتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں میری کی جھلک تھی۔ چھ سات برس والا بچہ بھی اسی طرح ملی جلی نسل کا معلوم ہوتا تھا۔ چھوٹے دو بچوں کی شکل ایک دوسرے سے ملتی تھی اور کسی گورے کے دکھائی دیتے تھے۔ میری نے بتایا کہ وہ وہاں سے بالکل قریب ہی رہتی ہے۔ وہ مارکیٹ میں بچوں کے کچھ کپڑے خریدنے کے لیے آئی تھی جو اُس نے سستے داموں خرید لیے تھے۔ پھر اُس نے جھجکتے ہوئے مجھ سے کہا کہ اگر میں تھوڑی دیر کے لیے اُس کے گھر چلنا پسند کروں تو وہ ایک چائے کی پیالی مجھے پیش کر سکتی ہے۔ میں چند لمحے تک میری کے منہ کی طرف دیکھتا رہا۔ وقت گزر نے پر بڑے سے بڑا صدمہ بھی اپنا اثر زائل کر دیتا ہے۔ اس وقت میری کے لیے میرے دل میں کوئی بغض نہ تھا۔ میں نے شکریہ کہہ کر اس کی دعوت قبول کر لی۔
میری کا گھر کونسل کی طرف سے ملا ہوا ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا جس میں دو کمرے تھے۔ گھر میں صرف ضرورت کی چیزیں موجود تھیں۔ بستر، میزیں اور کرسیاں ۔ دیواروں کے اندر الماریوں کے خانے بنے ہوئے تھے جن میں دو چار چیزیں رکھی تھیں۔ فرش ننگے تھے۔ چند کھلونے ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے۔ تین سال کے بچے نے، جس کا نام ڈیوڈ تھا، گھر میں داخل ہوتے ہی فرش سے ایک بڑا سا پلاسٹک کا پیلا ہاتھی اُٹھا لیا۔ میری نے مائیکل کو چھوٹے بچے پر نگاہ رکھنے کی ہدایت کی اور مجھے ساتھ لے کر کچن میں چلی آئی۔ چھوٹے سے کچن کے کونے میں میز اور دو کرسیاں پڑی تھیں۔ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ میری چولہے کے آگے کھڑی ہو کہ چائے بنانے لگی۔ کچن میں ہر طرف گندے برتن پھیلے ہوئے تھے۔ مجھے وہ وقت یاد آیا جب میری ایک لمحے کے لیے بھی برتن گندے نہ چھوڑا کرتی تھی اور اُس کے کمرے میں ہر چیز صاف ستھری اپنی جگہ پر رکھی ہوئی ہوتی تھی۔ میری اب وہ میری نہ رہی تھی۔ ان بارہ تیرہ سالوں نے میری کا حلیہ بدل کے رکھ دیا تھا۔ اس کی عمر اب چالیں کے لگ بھگ ہو گی۔ اُس کا چہرہ ڈھل گیا تھا اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے مستقل نشان بن گئے تھے۔ ایک آنکھ کے قریب بڑا سا نیل پڑا ہوا تھا جیسے ضرب کا نشان ہو۔ وہ باتیں کرتی ہوئی بار بار ہا تھ سے اُس نشان کو چھوتی تھی۔ اس کے بدن پر گوشت نہ چڑھا تھا مگر ڈھیلے آٹے کی طرح ہر طرف سے گرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اب وہ پاؤں گھسیٹ گھسیٹ کر چلنے لگی تھی، جیسے تھکاوٹ سے چور ہو۔ میرا جی کر رہا تھا کہ اس سے اُس وقت کی باتیں کروں جب وہ جوان تھی اور اس کے چہرے پر تازگی اور چال میں لچک ہوا کر تی تھی۔ مگر وہ چائے بناتی ہوئی اپنی باتیں کر رہی تھی۔ ایک بات میری کی اُسی طرح قائم تھی، اس کی خوش مزاجی میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ اب ایک آئرش آدمی کے ساتھ رہ ر ہی ہے جو مکانوں کی تعمیر پر مزدوری کا کام کرتا ہے۔ اس آدمی کے اپنے بیوی بچے آئر لینڈ میں موجود ہیں۔ بہت محنتی آدمی ہے اور خوب کمائی کرتا ہے۔ مگر اس میں ایک نقص ہے۔ شراب بہت پیتا ہے۔ اور جب مست ہو جاتا ہے تو مرنے مارنے پر اُتر آتا ہے۔ کہنے لگی :
’’اس وقت وہ پب میں گیا ہوا ہے تو میں نے تمہیں گھر میں لانے کی جرأت کر لی ہے۔ اگر وہ گھر میں موجود ہوتا تو تم یہاں نہیں آسکتے تھے۔ حاسد طبیعت کا ہے۔‘‘ پھر میری طرف دیکھ کر ہنس پڑی، بولی، ’’ فکر کی کوئی بات نہیں۔ ایک گھنٹے سے پہلے گھر نہیں آئے گا۔ میں اُسے جانتی ہوں۔ جب تک پب کا دروازه بند نہ ہو جائے وہاں سے نہیں نکلتا۔“
میری نے دو چائے کی پیالیاں بنا کر میز پر لا رکھیں اور میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ چینی ڈالتے وقت پوچھنے لگی :
’’ تم اب بھی اتنی ہی چینی ڈالتے ہر جتنی پہلے ڈالا کرتے تھے؟‘‘
میں حیران رہ گیا۔ ’’ تمہیں اب تک یاد ہے ؟“ میں نے پوچھا۔
’’ میری یادداشت شروع سے اچھی ہے۔‘‘ وہ ہنس کر بولی، ’’چلو، میں نے اپنی بہت باتیں کر لی ہیں۔ اب تم سناؤ ۔ آج کل کیا کر رہے ہو۔ ‘‘
میں نے میری سے پچھلے بارہ تیرہ سالوں کی روداد مختصراً بیان کر دی۔ وہ یہ سن کر بہت خوش ہوئی کہ اب مجھ کو قانونی آزادی حاصل ہو گئی تھی۔ ہنس کر کہنے لگی :
’’ تمہاری زندگی بھی میری طرح جگہ جگہ پر دھکے کھاتے گزری ہے۔ اب شکر ہے کہ تمہیں آرام نصیب ہوا ہے۔‘‘
میری کی شکل دیکھ کر میرا دل نرم پڑ گیا۔ میں نے کہا، ’’ میری، برمنگھم میں ہم نے کیسا اچھا وقت گزا را تھا۔’’
’’ ہاں۔ “ وہ بولی۔ ’’ تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘
’’ میری‘‘، میں نے کہا، ’’ خدا تمہاری تکلیفیں بھی دور کر ے۔ یہ میری دلی دعا ہے۔‘‘ یہ سن کر وہ پھر ہنسنے لگی۔ بولی، ’’ میری زندگی اچھی بری گزر جائے گی۔ مجھے اس کی کوئی فکر نہیں۔‘‘
’’فکر کیوں نہیں۔‘‘ میں نے کہا،’’ آرام کی فکر سب کو ہوتی ہے۔ میری دعا یہی ہے کہ تمہیں آرام نصیب ہو۔ “
’’تمہارا بہت بہت شکریہ۔‘‘ میری نے کہا۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی۔ کافی دیر تک سوچتی رہی، پھر بولی، ” میں تمہیں ایک بات بتاؤں، شاید تمہیں اس بات کا علم نہ ہو۔ میرا ایک بھائی ہے جو عمر میں مجھ سے ایک سال بڑا ہے۔ جب ہم چھوٹے چھوٹے بچے تھے تو ایک ساتھ کھیلا کر تے تھے۔ کبھی ہمارے گھر میں کوئی مہمان آتا تھا تو میرا باپ میرے بھائی سے کہتا تھا، ان کو فٹ بال کی کک لگا کر دکھاؤ۔ میرا بھائی فٹ بال کو کک لگاتا تھا۔ فٹ بال سٹرک کے پار جا گرتا تھا۔ اس پر مہمان میرے بھائی کی پیٹھ ٹھونکتا تھا اور شاباش دیتا تھا۔ جب میری باری آتی تھی تو میری ماں مجھے خوبصورت لباس پہنا کر اس کے سامنے لے جاتی تھی اور کہتی تھی، دیکھو یہ میری بیٹی ہے۔ کیسی خوبصورت لگ رہی ہے! وہ مہمان مجھے دیکھ کہ میری خوبصورتی کی تعریف کرتا تھا، مجھے اپنے پاس بلا کر گود میں بٹھاتا تھا اور پیار کر کے خوش ہوتا تھا۔‘‘ بات کرتے کرتے میری رک گئی اور آنکھیں کھول کر مجھے دیکھنے لگی۔ پھر بولی، ’’ تو یہ بات ہے بھائی۔ ہم لوگ اسی طرح پل کہ بڑی ہوتی ہیں۔ مجھے پتا ہے کہ مجھے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں۔میرا کام لوگوں کو خوش کرنا ہے ہمارے اندر ایک خاص چالا کی نشو و نما پا جاتی ہے۔ مجھے کبھی کل کی فکر نہیں ہوئی۔ میرے دل میں تسلی رہتی ہے کہ میں جہاں بھی جاؤں گی میرا وقت گزر جائے گا۔ ہاں، مگر تم نے ایک بات بالکل صحیح کی ہے۔ برمنگھم میں ہم نے بڑا اچھا وقت گزارا تھا۔ وہاں پر میں بہت خوش تھی مجھے یاد ہے ایسا خوشی کا وقت میں نے عمر بھر کہیں نہیں گزارا۔ تم سب بے وطن لوگ تھے۔ میں بھی تمہارے جیسی ہی تھی۔ میں تم لوگوں میں گھل مل گئی تھی۔ ‘‘
میری کا بیٹا ڈیوڈ روتا ہوا کچن میں داخل ہوا۔ اُس کا اپنے بڑے بھائی سے جھگڑا ہو گیا تھا۔ میری نے اُسے گود میں لے کر پھسلایا اور پھر مجھ سے باتیں کرنے لگی۔ میری سے باتیں کرتے کرتے مجھے ثاقب کی یاد آنے لگی۔ آخر مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے ثاقب کا ذکر کر دیا۔ میں نے بتایا کہ ثا قب کہاں پر ہے اور کیسے میں کبھی کبھار اس سے ملنے کے لیے جایا کرتا ہوں۔ ثاقب کی بات سن کر میری کچھ دیر کے لیے بالکل خاموش ہو گئی۔ خالی پیالی میں چمچہ چلاتی ہوئی پیالی کے اندر دیکھتی اور کچھ سوچتی رہی۔ پھر سر اٹھا کر بولی :
’’ ثاقب نے بہت بے و قوفی کی تھی۔ ایسا کرنے کی اسے کوئی ضرورت نہیں تھی۔ وہ دونوں آپس میں ہی ایک دوسرے کا کام تمام کر دیتے۔‘‘
مجھے اُس کی بات سمجھ میں نہ آئی۔ میں نے دہرا کر پوچھا تو بولی، ’’ تمہیں علم نہیں کہ کیا واقعہ ہوا تھا ہے ؟‘‘
میں نے سر ہلا کہ کہا نہیں، تو بولی، ’’ عجیب بات ہے۔ میرا آج تک یہی خیال تھا کہ تم نے سارا واقعہ دیکھا تھا۔“
’’کیا واقعہ ہوا تھا ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
میری ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر مجھے دیکھتی رہی، جیسے یاد کر رہی ہو،یا بیان کرنے کی کوشش میں ہو۔
’’پیسوں کے اُوپران دونوں کا جھگڑا چل رہا تھا‘‘۔ وہ بولی۔ ’’ارشاد نے ناغے کرنے شروع کر دیے تھے۔ آخر اس دن ارشاد نے میز سے چھری اُٹھا کر حسین شاہ کے پیٹ میں گھونپ دی۔ حسین شاہ نے وہی چھری اُس کے ہاتھ سے چھین کر ارشاد پر وار کر دیا۔ دونوں کو وار کاری آیا تھا، تڑپ تڑپ کر جان دینے لگے۔ جب ثاقب نے چھری زمین سے اُٹھائی تو میں نے اُس کی منت کی، اُس کے آگے ہاتھ جوڑے، کہا کہ چھری پھینک دو اور کمرے سے نکل جاؤ، تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ مگر اس کے دماغ میں خدا جانے کیسا فتور پیدا ہو گیا تھا۔ ان دونوں کے او پر حملہ آور ہو گیا۔ میری طرف دیکھتا جاتا تھا اور ان دونوں پر وار کرتا جاتا تھا، جیسے کوئی کرتب دکھا رہا ہو۔ کیا احمق نکلا۔ اب سزا بھگت رہا ہے۔‘‘
مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ میں دیر تک سن ہو کر بیٹھا رہا۔ آخر ثاقب نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ کیا دکھانا چاہتا تھا ؟
’’ تم نے پولیس کو یہ بات بتائی ؟“ میں نے میری سے پوچھا۔
’’میں نے اپنی گواہی میں ساری بات کھول کر بیان کر دی تھی۔‘‘ میری نے کہا۔ ’’مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘
میرا دل بہت برا ہو گیا تھا۔ میری کے اوپر میں سارا الزام نہیں دیتا، مگر اُس وقت میرا دل کر رہا تھا کہ میں اُس کے ساتھ باتیں ختم کر دوں اور وہاں سے اُٹھ کر نکل جاؤں۔ قدرت نے میری مدد کی۔ میری کا چھوٹا بچہ دو سرے کمرے میں رونے لگا۔ میری نے اُس کے لیے بوتل میں دُودھ تیار کرنا شروع کیا تو میں اُٹھ کھڑا ہوا۔
میری کے طریقے میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔ اُس نے اُسی طرح خوش دلی سے ہنستے ہوئے مجھے گڈ بائی کہا، اور جب تک میں گلی پار کر کے مڑ نہ گیا دروازے پر کھڑی رہی اور ہاتھ ہلاتی رہی۔ اس کے اندر ابھی بڑا دم تھا۔ میں راستہ بھر ثاقب کے بارے میں سوچتا رہا۔ کئی روز تک یہ بات میرے دل میں چبھی رہی اور مجھے بیتاب کرتی رہی۔ آخر آہستہ آہستہ اس کا اثر کم ہوتا گیا۔
ابھی چند روز ہوئے میں ثاقب سے مل کر آیا ہوں۔ یہ ملاقات ہماری آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ مجھے کچھ ایسا خیال تھا کہ پچھلی بار وہاں کسی نے ثاقب کی واپسی کا ذکر کیا تھا۔ مگر جب میں اُس سے ملنے کے لیے گیا تو یہ بات بھول چکا تھا۔ وہاں پہنچ کر مجھے پتا چلا کہ ثاقب کی واپسی میں چند ہی روز رہ گئے ہیں۔ ملاقات سے پہلے جیل کا ایک افسر مجھے اپنے دفتر میں لے گیا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ ثاقب کی واپسی کا وقت آگیا ہے۔ ثاقب کو عدالت کی جانب سے جو سزا ملی تھی اس میں لکھا تھا کہ اُسے کم از کم دس سال تک اس جگہ پر بند رکھا جائے، اس کا علاج کیا جائے، اور عرصہ ختم ہونے کے بعد اُسے ملک بدر کر دیا جائے۔ جیل کے افسر نے مجھے بتایا کہ دس سال سے اوپر مدت گزر چکی ہے، اور اگر ثاقب کی دماغی حالت میں مزید کچھ ترقی کا امکان ہوتا تو اس کا قیام بڑھایا جا سکتا تھا۔ مگر ڈاکٹروں نے لکھ دیا ہے کہ اس امر کا کوئی امکان نہیں، اس لیے حکومت کی جانب سے احکام وصول ہوئے ہیں کہ اس کی واپسی کا بند وبست کر دیا جائے۔ جیل کے افسر نے مجھے تسلی دی کہ ثاقب کی واپسی کے سفر کے اخراجات تمام تر حکومت برداشت کرے گی، اور جیل کی کارپینٹری میں کام کرنے پر جو تھوڑی بہت رقم اس کو ہفتہ وار ملتی رہی ہے اس کے نام پر جمع ہے، وہ رقم بمعہ سود ثاقب کے ہاتھ میں دے دی جائے گی۔ مزید براں حکام کی طرف سے خط و کتابت کے ذریعے پیچھے ملک میں ثاقب کے وارثین کا پتہ نکالا گیا ہے۔ ثاقب کی ماں فوت ہو چکی ہے، مگر اس سے ایک چچا نے ثاقب کو وصول کرنے کی حامی بھر لی ہے۔ اس چچا کو ثاقب کا گارڈین تسلیم کر لیا گیا ہے اور اس کو رقم کا پورا حساب لکھ دیا گیا ہے۔ جیل کے افسر نے مجھے پوری تسلی دلائی کہ ثاقب کی بہتری کے لیے حکومت سب کچھ کر رہی ہے۔ مگر میرا دل یہ سُن کر سخت رنجیدہ ہوا۔
جب میں ثاقب سے ملا تو وہ خوش بخوش تھا۔
’’ میں گھر جار ہا ہوں۔‘‘ وہ بولا، اُس کی جیب میں کچھ نقدی تھی۔ وہ بار بار جیب میں ہاتھ ڈال کہ نقدی نکالتا اور اسے دیکھتا تھا۔
’’آج تم نے نیا سوٹ پہنا ہوا ہے۔‘‘ میں نے بات کرنے کی غرض سے کہا۔
’’ ہاں۔‘‘ ثاقب بولا۔’’ دو سوٹ ملے ہیں۔ اور بوٹ جرا بیں۔ ‘‘وہ دیر تک اسی طرح خوشی خوشی گھر جانے کی باتیں کرتا رہا۔ اسے دیکھ کہ میرے دل کو بہت صدمہ پہنچا۔ مجھ سے زیادہ دیر تک وہاں ر کا نہ گیا۔ میں جلد ہی ثاقب کو آخری بار الوداع کہہ کر اور اس سے گلے مل کر وہاں سے چلا آیا۔
میں اسی رنجیدہ حالت میں گھر پہنچا تھا کہ یہ حادثہ ہوا جس کے نتیجے کے طور پر میں اس وقت ہسپتال میں پڑا ہوا ہوں۔ اس کو حادثے کا نام ہی دینا چاہیے، کیوں کہ یہ معمول کی بات نہیں۔ ہوا یہ کہ میں تھکا ہارا گھر میں داخل ہوا تھا۔ بیوی نے اپنے بکھیڑے شروع کر دیے۔ میرے دل میں ثاقب کا رنج بیٹھا ہوا تھا۔ بیوی نے چلا کہ کوئی بات کی تو میرا ہاتھ اُس پر اُٹھ گیا۔ میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ بس اتنی بات تھی۔ کئی بار ایسا موقعہ آیا ہے۔ بات خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ مگر اُس روز میری بیوی کے دماغ میں پتا نہیں کیا فتور اُٹھا، اُس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ شیشے کا جگ اُٹھا کہ میرے اوپر پھینک دیا۔ میں ہکا بکا اسے دیکھتا رہ گیا۔ مجھے اتنی ہوش بھی نہ رہی کہ اپنے سر سے بہتے ہوئے خون کو بند کروں۔ پھر میری بیوی چیخیں مار کر رونے لگی۔
وہ دن اور آج کا دن، میں یہاں پڑا ہوا ہوں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ میری کھوپڑی پر ایک جگہ باریک سا کریک آگیا ہے۔ اسے جُڑنے میں کئی دن لگیں گے۔ ایکس رے کی تصویریں لیتے رہتے ہیں۔ میرا چھوٹا بیٹا مجھ سے مذاق کرتا ہے، کہتا ہے ڈیڈی تم کریک ہو گئے ہو، میرے سر کو انہوں نے پلستر میں جکڑا ہوا ہے۔ کیسی کیسی تفتیش نہیں ہوتی۔ اور تو اور پولیس تک آئی۔ میں نے ہزار کہا کہ بھئی میاں بیوی کا معاملہ ہے، کوئی باہر کی بات نہیں۔ مگر وہ اپنا کام مکمل کر کے گئے۔ اب میری بیوی ہر روز آکر میرے پاس بیٹھی رہتی ہے۔ رو رو کر تاسف کرتی ہے۔ میں اسے تسلی دیتا رہتا ہوں، کہتا ہوں تیرا کوئی قصور نہیں، یہ تو ایک حادثہ ہے، ہونا تھا ہو گیا۔ تیرا اس میں کیا قصور ہے۔ مگر وہ روتی رہتی ہے۔ مجھے اپنی بیوی سے کوئی گلہ نہیں۔ بڑی خدمتی ہے۔ مگر پتا نہیں اس کو کسی بات کا غم کھائے جاتا ہے۔ جب سے آئی ہے اس کو خوشی نصیب نہیں ہوئی۔ ہر طرح کا آرام ہے۔ اپنا گھر ہے، کار موجود ہے، ٹیلی ویژن لے کر دیا ہوا ہے، اسے دیکھتی رہتی ہے۔ ہر چیز وافر موجود ہے، فراغت کی زندگی ہے، بچے سکول جاتے ہیں۔ مگر اس کے چہرے پر میں نے خوشی کی لہر نہیں دیکھی۔ میں پوچھتا ہوں کیا تیرا دل نہیں لگتا۔ کہتی ہے میرے دل کا کیا ہے، جدھر آپ کا دل اُدھر میرا دل۔ مجھے سمجھ نہیں آتی پھر اسے غم کس بات کا ہے۔ کبھی کبھی مجھے میری کی بات یاد آتی ہے۔ میں سوچتا ہوں میری ٹھیک ہی کہتی ہوگی، شاید عورتیں بھی بے وطن ہوتی ہیں۔ مجھے اپنی ماں اور بہن کا چہرہ یاد آتا ہے۔
میں کہتا ہوں عورتیں ہوں یا مرد، سب اس دنیا میں قدم جمانے کی کوشش کر ر ہے ہیں۔ ہم نے یہاں پر ایک پودا لگایا ہے۔ ہم چھوٹے چھوٹے لوگ ہیں، مگر جنگ ہو یا جلوس نکلے، اس میں کام ہم لوگ ہی آتے ہیں۔ زندگی آگے ہی آگے چلتی جاتی ہے کبھی ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے خواب کی حالت ہو، جیسے وقت گزر نہیں رہا بلکہ رک گیا ہے، اور زمین میں کسی کالے سوراخ کے اندر غائب ہوتا جا رہا ہے۔ خدا جانے یہ کیسی کیفیت ہے۔ اب تو دل میں ایک ہی خواہش ہے، کہ جلدی سے جلدی ہسپتال سے نکلوں اور اپنے گھر پہنچوں، دل کو کچھ چین آئے۔ باقی تو سب آرام ہے۔