معراجِ وفا
صورت گر ِجلالتِ اسلام ہےحسینؑ اک مرکز ِروابط ِاقوام ہے حسینؑ فکر و نظر مشیت و الہام ہےحسینؑ محبوبِ اہل درد بس اک نام ہے حسینؑ دریا مخالفت کے چڑھے اور اُتر گئے باقی رہا یہ نام حوادث گزر گئے انسانیت کو جس نے سنوارا ہے وہ حسینؑ جو حُسنِ معنوی کا سہارا ہے وہ حسینؑ جس نے دلوں میں درد اُبھارا ہے وہ حسینؑ روحِ بشر کو جس نے پکارا ہے وہ حسینؑ آواز جس کی دُور کے انسان تک گئی بجلی سی سامعہ کی فضا میں چمک گئی خود دار زندگی کا جو حامی ہے وہ حسینؑ عزت کی موت کا جو پیامی ہے وہ حسینؑ جو خالقِ شعور ِعوامی ہے وہ حسینؑ ہر قوم کی نظر میں گرامی ہے وہ حسینؑ واقف نہیں بشر جو پیمبرؐ کے نام سے مانوس ہیں حسین علیہ السلام سے آئینہ ہے جبینِ ازل جس کا وہ حسینؑ ممکن نہیں جہاں میں بدل جس کا وہ حسینؑ ہے گیسوئے حیات میں بل جس کا وہ حسینؑ حُسن آفریں ہے دخل و عمل جس کا وہ حسینؑ ہر منزل اس کی منزلِ صبر آزما بنی مکہ بنا مدینہ بنا کربلا بنی معراجِ فکر جس کی ہر اک بات وہ حسینؑ قرآن کی شرح جس کے ہیں حالات وہ حسینؑ جس کے تصورات ہیں آیات وہ حسینؑ ممکن ہیں جس کے آگے محالات وہ حسینؑ جس کی وغا نے وقت کے اسرار حل کیے صدہا برس کے عقدهٔ دشوار حل کیے جو حق کی معرفت کا ہے مفہوم وہ حسینؑ جس کا خیال و خواب ہے معصوم وہ حسینؑ جس کے ثباتِ عزم کی ہے دھوم وہ حسینؑ جس کا ہے نام قوتِ مظلوم وہ حسینؑ مظلومیت کو عزم دیا حوصلہ دیا اظہارِ حق کا جس نے سلیقہ سکھا دیا اقدام جس کا سب سے نرالا ہے وہ حسینؑ جو غم کی تیرگی کا اُجالا ہے وہ حسینؑ ملت کا جو سنبھالنے والا ہے وہ حسینؑ جو فاطمہؑ کی گود کا پالا ہے وہ حسینؑ دوش پیمبریؐ پہ جو معراج پا گیا جو زیرِ تیغ اتنی بلندی سے آگیا جو آج بھی ہے رہبرِ افکار وہ حسینؑ ذہنوں کو کر رہا ہے جو بیدار وہ حسینؑ دنیا تھی جس کے درپئے آزار وہ حسینؑ اب بھی بہت ہیں جس کے گنہگار وہ حسینؑ جس نے دیا ہے درسِ عمل حق کی راہ میں ہم جیسے بے عمل بھی ہیں جس کی نگاہ میں جس کی نگاہ قوم کی فکر و نظر پہ ہے جس کی نگاہ مصرفِ ہر خیر و شر پہ ہے جس کی نگاہ اپنے لہو کے اثر پہ ہے جو بے خبر ہے اس پہ نہیں با خبر پہ ہے امروز ہے نگاہ میں فردا ہے سامنے ایک ایک فردِ قوم کا چہرا ہے سامنے جس نے امورِ خیر کو بخشی حیاتِ نو جس کی نوائے درد میں ہے زندگی کی رَو صدیوں سے جس کے نقشِ قدم دے رہے ہیں ضَو جو سوگیا بڑھا کے چراغِ وفا کی لَو بدلی عمل کی شکل ارادے بدل دیے جس نے مطالبات کے جادے بدل دیے تاریخِ روزگار پہ تنقید جس نے کی ہر اک غلط اصول کی تردید جس نے کی قدرت کے نظم و ضبط کی تائید جس نے کی اسلام کے پیام کی تجدید جس نے کی پھر بڑھ چلا تھا زور جو باطل کا گھٹ گیا پردہ سا ایک روئے حقیقت سے ہٹ گیا جس نے کیے مقاصد ِصبر و رضا بلند جس نے کیے معانیِ حرفِ وفا بلند جس نے کیسے منازلِ درد آزما بلند ممنون سب اسی کے ہیں کیا پست کیا بلند منعم کو شکر ِنعمتِ حق کا سبق دیا جس نے غریب قوم کو جینے کا حق دیا بگڑی ہوئی تھی صورتِ دنیاے آب و گِل چہروں پہ رنگ و روپ تھا روحیں تھیں مضمحل وہ خبثِ نفس تھا کہ شرافت تھی منفعل اخلاق کے نظام میں اغراض تھے مخل خود داریِ حیات کی پائندگی نہ تھی جینے کو جی رہے تھے مگر زندگی نہ تھی زندہ کیے حسینؑ نے اسلام کے اصول اُس نے عوض نبیؐ کے شہادت بھی کی قبول مستجمع الصفات ہوئے اس طرح رسولؐ ادراک دم بہ خود ہوں کہ حیران ہوں عقول اک آیۂ جلی ہے یہ سرِّ خفی نہیں منصب تو ہے نبیؑ کا اگر وہ نبیؑ نہیں وہ عارفِ جلیل تھا آگاهِ رسم و راہ جو کہہ گیا حسینؑ کو بنیادِ لا الٰہ اسلام دینِ مصطفوی ؐہے خدا گواہ لیکن اک اہلِ دل نے کہا یہ بہ اشک و آه کہنے میں بات آتی ہے چُپ کیوں رہے کوئی برحق ہے اب جو دینِ حسینیؑ کہے کوئی ہر قوم میں ہے جس کی شہادت کا احترام دُنیا میں جس کا نام ہے اک مستقل پیام اس درجہ اس کا ذکر ہے مقبولِ خاص و عام ہر اک زباں کے شعر و ادب میں ملا مقام تقریر و نظم و نثر کی کچھ انتہا نہیں اب تک کسی کا تذکرہ اتنا ہوا نہیں جس کی وِلا میں ہیں لبِ انسانیت پہ بین ہر عہد میں بلند ہے آوازِ شورد شین لاکھوں عزا کو اس کی سمجھتے ہیں فرض عین ہر روز ہے کہیں نہ کہیں مجلسِ حسینؑ اس شان کا غم اور مثالی نہیں کوئی لمحہ بھی اس کے ذکر سے خالی نہیں کوئی صدیوں سے جس کی مدح سرائی کا دَور ہے ہر دَور میں یہ مسئلۂ فکر و غور ہے اس باب میں سکوت طبیعت پر جَور ہے محروم ِدرد ہو کوئی یہ بات اور ہے جو اہلِ دل ہے دست نگر کربلا کا ہے ہر ملک کے ادب پہ اثر کربلا کا ہے توریت میں بھی جس کی شہادت کا ہے بیاں ہوتا ہے کچھ زبور سے بھی ماجرا عیاں انجیل بھی ہے جس کے منازل کی ترجماں یہ جملہ انبیاؑ کے صحائف ہیں ہم زباں تنظیمِ کائنات کا قلبِ صمیم ہے قرآن میں وہ معنیِ ذبحِ عظیم ہے جو ظلم کر رہے ہیں علوم و فنون پر غدّار متحد ہیں حقائق کے خون پر تصنیفِ ابن تیمیہ و خلدون پر کیا تبصرہ کرے کوئی ان کے جنون پر اُس عہد میں نہ تھے یہ تقاضے اِسی کے ہیں یہ بھی شریک خون میں سبطِ نبیؐ کے ہیں بے امتیاز مذہب و ملت ہے جس کا سوگ اکثر مٹادیا ہے تعصب کا جس نے روگ کتنے ہیں اب قریب بہت دور تھے جو لوگ نا مسلموں نے عشق میں جس کے لیا ہے جوگ بھارت نواسیوں کو خطاب اک نیا دیا کتنے برہمنوں کو حسینیؑ بنا دیا حیرت میں عقل اس کے نظامِ عمل پہ ہے حق میں نگاہِ حُسن دوامِ عمل پہ ہے دل بے قرار دردِ پیامِ عمل پہ ہے کتنا بلند اپنے مقامِ عمل پہ ہے قوموں کے رہبروں کو ہے فخر انتساب سے سب نور لے رہے ہیں اسی آفتاب سے حاصل یہ جس کے غم کو ہوئی عظمتِ گراں قیدِ زماں ہے اور نہ پابندیِ مکاں اب تک جو ہے محبتِ برحق کا ترجماں خود واجب الوجود ہے جس کا نگاہباں ہر غم کا زور چار ہی اشکوں میں بہہ گیا یہ غم جہاں میں حق کی اشاعت کو رہ گیا آدمؑ نے کی ہے نشرِ حقیقت کی ابتداء یہ سلسلہ ازل سے ہے تاختمِ انبیاءؑ کیا کیا پیمبروں نے دکھایا ہے حوصلہ پر تکملہ حسینؑ کی تبلیغ نے کیا جاری ہے اُس کے بعد بھی پیغام آج تک غم اُس کا کر رہا ہے وہی کام آج تک اثنائے راہ میں یہ کہا اُس نے بارہا اندازہ ٔغلط میں نہ ہو کوئی مبتلا یہ وہ سفر ہے موت کا ہے جس میں سامنا یہ انکشافِ راز کلیجہ اُسی کا تھا یو ں بے نیازِ وقت ہو کس کی مجال ہے پہلی اور آخری یہ انوکھی مثال ہے اکثر ٹھٹک کے رہ گئے منزل کی راہ میں دُنیا کا طمطراق تھا جن کی نگاہ میں جو فرق کر سکے نہ سپید و سیاہ میں جن کی جگہ نہ تھی دلِ ایماں پناہ میں حُسنِ عمل کا بار اٹھانے سے ڈر گئے حق کے قریب رہ کے زمانے سے ڈر گئے غیر از امامؑ کون ہے اُس دن کا راز داں کیا کیا تھے معرکے حق و باطل کے درمیاں حجت تمام کرنے کا یہ بھی ہے اک نشاں اُس روز ہم شبیہہِ پیمبرؐ نے دی اذاں فوجِ عدوے دیں میں جو غفلت کا راج تھا یہ لہجۂ رسولؐ میں اک احتجاج تھا تکبیر کی صدا میں وہ توحید کا وقار اک لفظ میں جلالت و عظمت کا اختصار وہ اعترافِ رحمت و انعامِ کردگار صحرائے بے گیاہ میں تسبیح کی بہار سجدوں کی رفعتوں سے وہ دل بھی ملے ہوئے پیشانیوں کے نور سے چہرے کھلے ہوئے کیا منصبِ عظیم تھا کیا حُسنِ انتخاب پیشِ خدا ابھی تھا وہ سجدے میں باریاب نکلی ہٹا کے پردۂ شب صبحِ انقلاب دیتی ہوئی دعا کہ ترا عزم کامیاب معبد اسی زمیں پہ محبت بنائے گی ظلمت چھٹے گی عقل بشر جگمگائے گی کچھ حُسن کی نمود تھی کچھ عشق کا مزاج آیا نظر جو صبر و شجاعت کا امتزاج حق نے رکھا شہادتِ عظمیٰ کا سر پہ تاج ملتا ہے آنسوؤں کا جسے مستقل خراج مٹھی میں تھا لیے ہوئے موت اور حیات کو کس دبدبے سے فتح کیا کائنات کو وہ کر بلائے دیدہ ٔو دل ساحلِ فرات وہ منزلِ جمال و مقامِ تجلیات ہونی تھی جس زمین پہ مابین کائنات ایسی عظیم جنگ جو ہو مقصدِ حیات قائم ہو جس سے عزتِ معیار زندگی ہو جائیں بے نقاب اداکارِ زندگی یہ جنگ انتظامِ شریعت کی جنگ تھی باطل کی قوتوں سے حقیقت کی جنگ تھی سرمایہ دار و صاحبِ محنت کی جنگ تھی یہ حکمتِ بشر سے مشیت کی جنگ تھی یہ جنگ آخری تھی ہدایت کی راہ میں مہدیؑ کا انتظار ہے اب رزم گاہ میں انسانیت شرافتِ غم سے تھی بے خبر مظلومیِ حسینؑ کا اللہ رےاثر ہر سانس خوشگوار ہے ہر آہ معتبر ہر عیش سے ہے آج یہ جذبہ بلند تر غم تھے ہزار غم کو یہ عظمت ملی نہ تھی آنسو تھے آنسوؤں میں حرارت کبھی نہ تھی سمجھا نہ کوئی حق کی مشیت کا مدعا کیا چار اشک ہیں یہ محبت کا مدعا ایسے عظیم کار شہادت کا مدعا بربادی و تباہیِ عترت کا مدعا اک لمحہ بھی نہ صَرف کیا فکر و غور میں یہ بات سوچنے کی تھی ہر ایک دور میں یا لیتنی کا ذوق اور احساسِ کمتری محروم ارتقا سے ہیں تنظیم سے بری عزم و عمل ہے وہ نہ وہ ایثار پروری مانی ہے کیا زبان ہی سے ان کی سروری دیتے ہیں مشکلوں میں فقط ان کے واسطے قربانیاں ہوئی تھیں اسی دن کے واسطے جب سے ہوئی ہے خلقتِ دنیائے انس و جن جب سے بشر کے ذہن میں تاریخ کا ہے سن بھاری ہر ایک دن سے ہے عشرے کا ایک دن کتنی قیامتوں میں تھا وہ نفسِ مطمئن کیا منزلِ جہادِ شہِؑ مشرقین ہے اُس دن کے میں نثار جو یومِ حسینؑ ہے پیشانیِ سحر پہ وہ خاکسترِ ملال تقریر وہ امام کی رَو جس کا تھا محال لحنِ پیمبریؐ میں وہ کرّار کا جلال اقدامِ حُر وہ حریت ِعزم کی مثال خطبے کے لفظ لفظ میں تھی جانِ حریت جاری کیا حسینؑ نے فرمانِ حریت کیا ربط آج موت کو ہے زندگی کے ساتھ کتنے ادا شناس ہیں سبطِ ؑنبی کے ساتھ پھر یہ ہجومِ شوق نہ ہوگا کسی کے ساتھ مرنے کو یوں نہ جائیں گے انساں خوشی کے ساتھ سن کر سفیر ِمرگ کے قدموں کی آہٹیں ہونٹوں پہ جمع ہوں گی نہ پھر مسکراہٹیں انصار تھے حسینؑ کے کیا کیا وفا پسند تیور نبیؐ پسند ادائیں خدا پسند پہلو میں دل ہر ایک کے تھا کربلا پسند یہ دین کا فروغ تھا دنیا کو ناپسند گل ہے چراغِ طور پہ قدرت خدا کی ہے روشن جہاں میں شمع مگر کربلا کی ہے سو سے بھی کم تھے اتنی جماعت تھی مختصر لشکر کے اعتبار سے تنظیم کی مگر آگے علم بدوش تھے عباسؑ نام ور ممکن ہے ہو یہ مقصدِ سلطانِؑ بحر و بر قلت میں بھی یہ سطوت و اجلال چاہیے تنظیم کا خیال بہر حال چاہیے انصار میں حبیب کا بھی ہے عجب مقام کوفے سے کیسا وقت پہ آیا ہے تیز گام ہوتا ہے یوں خلوصِ عقیدت کا احترام بنتِ نبیؐ کے خیمے سے آیا اُسے سلام یہ فخر اپنے ساتھ وہ جاں باز لے گیا اس تحفۂ سلام کا اعزاز لے گیا آیا جو وقت ظہر کا مابینِ کارزار آگے بڑھا نماز کو حیدرؑ کا ورثہ دار تیر آرہے تھے لشکرِ اعدا سے بار بار صف میں بڑھے ظہیر و سعیدِ وفا شعار یہ جاں نثاریاں تھیں جو رُتبے بڑے ہوئے الله یہ امامؑ سے آگے کھڑے ہوئے دنیائے صبر و ضبط میں کیا معتبر رہے سو زخم کھائے اپنی جگہ پر مگر رہے کچھ دیر اپنے حال سے بھی بے خبر رہے جب تک ہوئی نماز یہ سینہ سپر رہے واجب سے جو اہم تھے فرائض ادا کیے یہ شیر ِدل نمازِ مودّت پڑھا کیے وہ ابن عوسجہ کی شہادت خدا کی شان وہ سو برس کی عمر کا جنگ آزما جوان کم سن پسر نے جس کی دکھائی یہ آن بان بابا کے بعد بڑھ کے فدا کردی اپنی جان انصار بے مثال عمل بے عدیل ہیں یہ معرکے حسینؑ کے حق کی دلیل ہیں انصار کو جہاد کی پہلے ملی رضا خاموش تھے ادب سے عزیز اور اقربا یہ مسئلہ ہے گرچہ بظاہر عجیب سا شاید امامِؑ وقت کے پیش نظر یہ تھا مرنا ہی سب کو ہے تو یہ پہلے نہ جائیں کیوں کچھ دیر اور پیاس کی ایذا اٹھائیں کیوں دل ایک عزم ایک تھا اور ایک رہ گزار لیکن تھا راه بر پہ ہر اک راز آشکار ممکن ہے صبر و ضبط کی قوت پہ ہو مدار یہ بات ہے اگر تو پھر اے دشتِ کار زار اصغرؑ کے ہاتھ معرکۂ تشنگی رہا یہ جاں نثار سبطِؑ نبی آخری رہا انصار ہو چکے جو شہادت سے سرفراز رخصت کو اقربا نے جھکائے سرِ نیاز کیا کیا وفا پرست تھے عمر ِوفا دراز مسلمؑ کے لاڈلوں کو یہ حاصل ہے امتیاز جانیں پدر کی شان سے دیں کیا سعید ہیں سنتے ہیں اقربا میں یہ پہلے شہید ہیں بنتِ علیؑ کے لال وہ گل ہائے جعفری کچھ سِن پہ منحصر نہ تھی جن کی غضنفری طفلی نے کی ہے جنگ کے میداں کی رہبری اس کم سنی میں موت سے کھیلے ہیں کیا جری دنیا سے ہنستے کھیلتے دونوں چلے گئے آتے ہوئے شباب کو لوٹا کے لے گئے قاسمؑ وہ خانوادہ ٔہاشم کا خوش جمال کیا بچپنے میں تیغ زنی کی ہے بے مثال دولھا بنا ہوا تھا وہ زخموں سے تھا یہ حال سہرا وفا کا اس کی جبیں پر ہے لازوال دولھا جہاں میں پھر کوئی ایسا نہیں بنا میدانِ کار زار کا دولھا نہیں بنا کیا لرزہ خیز تھی علیؑ اکبر کی جنگ بھی تنہا پہ وار کرتے تھے ہر سمت سے شقی سینہ فگار کر گئی برچھی کی اک اَنی ملت نے کیا شبیہہ پیمبرؐ کی قدر کی قبلِ ظہور وقت پلٹ کر نہ آئے گا اب کوئی ہم شبیہہ پیمبرؐ نہ آئے گا عباس کو فرات پہ جانے کا حکم تھا پانی لبِ فرات سے لانے کا حکم تھا مشک و علَم کا بار اٹھانے کا حکم تھا خود اپنے تیوروں کو بجھانے کا حکم تھا بابا کی طرح گرچہ شجاعت میں فرد تھا وقت آ پڑا تو صبر کے میداں کا مرد تھا پرچم وہ سوئے نہر اُڑاتا ہوا چلا دیوار اپنی کو گراتا ہوا چلا تیغوں کو برچھیوں کو ہٹاتا ہوا چلا حیدرؑ کا زور یاد دلاتا ہوا چلا جھک کر ذرا اٹھی جو نظر کائنات کی لپٹی تھیں اس کے پاؤں سے موجیں فرات کی عباسؑ اور وفا میں کچھ ایسا ہے اتحاد ذکر وفا کے ساتھ ہی آتی ہے اس کی یاد مشکیزہ بھر لیا یہی پیاسے کی تھی مراد آئی لبِ فرات سے آواز ”زندہ باد‘‘ اونچا علَم سے بھی یہ وفا کا نشاں رہا دریا پہ ہاتھ ڈال کے تشنہ وہاں رہا کتنا عظیم ہے علیؑ اصغر کا ماجرا اس دور میں یہ درد کی تاثیر دیکھنا اک سرزمینِ عیش کا شاعر تڑپ اٹھا اپنی زباں میں نظم کیا جس نے مرثیا یہ شاہکار نذر بہ عجز و ادب دیا معصوم ہستیوں کا ستاره لقب دیا جو کربلا کی عظمتِ غم کو بڑھا گیا جو محنتِ حسینؑ کو محکم بنا گیا قربانیوں پہ سارے شہیدوں کی چھا گیا دنیا کی جدوجہد پہ جو مسکرا گیا احساس جس کے سامنے ہر غم کا سرد ہے کیا دل گداز اس کے تبسم کا درد ہے ایسی بِنائے ظلم ہے اس کے گلے کا تیر جس سے نگاہِ غیر میں اسلام تھا حقیر ہوتی ہی جارہی تھیں غلط فہمیاں کثیر روکی ہمارے اشکِ عزا نے یہ دار و گیر ماتم نے راز فاش کیے اہلِ شام کے ہم نے بتا دیا وہ مسلماں تھے نام کے خیمے میں کیا عجب ہے جو مادر کو ہو نہ چین عالم یہ تھا کہ جیسے فضا کر رہی ہو بین میت تھی شیر خوار کی اور شاہِؑ مشرقین اصغر ؑکو دفن کر کے زمیں سے اٹھے حسینؑ اُٹھ کر عنانِ صبر بس اک بار کھینچ لی کیا دل پہ گزری ہوگی جو تلوار کھینچ لی ہمت فزا ہے آج بھی سبطِؑ نبی کی جنگ ماحولِ درد و غم میں یہ تیغِ افگنی کے ڈھنگ کٹ کٹ کے گر رہے تھے سر و نیزه و خدنگ بالکل بدل چلا تھا زمیں آسماں کا رنگ کچھ خوش نہ تھا وہ موت کی اس ترک و تاز میں رخ سوئے فوج دل تھا خیالِ نماز میں آپہنچا وقتِ عصر جو کچھ اور دِن ڈھلا اُترا فرس کو روک کے سلطانِؑ کربلا وہ پیاس کیا تھی اور وہ لشکر تھا کیا بلا مارا گیا نماز میں زہراؑ کا لاڈلا جرأت تھی لازوال وغا بے مثال تھی کرتا اُسے شہید یہ کس کی مجال تھی وہ عصر ِتنگ اور وہ دھندلکا سا شام کا سورج غمِ حسینؑ میں وہ ڈوبتا ہوا وہ دل گداز عالمِ ارواح ِانبیاءؑ فرطِ الم سے لرزہ براندام کربلا قدسی سر ِنیاز و ادب خم کیے ہوئے آغوش میں نواسے کو نانا لیے ہوئے اہلِ حرم کو پہلے ہی کچھ کم نہ تھے ملال خیمے جلے تو اور ہُوا سب کا غیر حال سجادؑ فرشِ خاک پہ تھے جس جگہ نڈھال زینبؑ نے یہ بھتیجےسے آکر کیا سوال جل جائیں پردہ دار کہ نکلیں خیام سے پوچھا گیا یہ مسئلہ پہلا امامؑ سے باہر ہوئے جو خیموں سے ماتم زدہ حرم آیا قلق سے گردنِ انسانیت میں خم تھی لاڈلی بتولؑ کی تصویر ِدرد و غم تپتی ہوئی زمیں تھی لرزتے ہوئے قدم توفیق صبر و ضبط سے آنسو پیے ہوئے تطہیر کا جلال تھا پردہ کیے ہوئے خیمے تھے شعلہ بار تو میدان خوں چکاں سویا ہُوا تھا رات کا بیدار کارواں سب کے لبوں پر موجِ تبسم تھی ضو فشاں ہم ایسے منچلے ہیں یہ چہروں سے تھا عیاں دنیا نشان حوصلہ مندی بھی دیکھ لے سر برچھیوں پہ ہیں یہ بلندی بھی دیکھ لے بے سر وہ جسم ذوقِ شہادت کی آبرو بکھرے ہوئے تھے چاند ستارے سے چار سو زینبؑ نے کی نہ بیٹوں کے لاشوں کی جستجو مقتل کی سمت لے چلی بھائی کے خوں کی بو جس راہ کی تلاش تھی وہ راہ پاگئی آواز جیسے حلق بُریدہ سے آگئی پہنچی جو قتل گاہ میں دیکھا یہ ماجرا بے سر ہے فرشِ خاک پہ زہراؑ کا مہ لقا خیبر کشا کی بیٹی کا اللہ رے حوصلا لاشہ اٹھا کے ہاتھوں پہ زینبؑ نے کی دعا قربانیِ حسین کا مقصد حصول ہو يارب یہ نذر آلِ پیمبرؐ قبول ہو اللہ یہ نبیؐ کے نواسے کی موت تھی زینبؑ کا غم شریک ہو اتنا نہ تھا کوئی برسا فلک سے خون زمیں تھر تھرا گئی جو موج اُٹھی فرات سے سر پیٹتی اُٹھی ماتم کا اہتمام کیا شش جہات نے پُرسہ دیا امامؑ کا کُل کائنات نے کس درجہ درد ناک تھا وہ وقت وہ مقام خاموش فرطِ غم سے تھے اہل حرم تمام غیرت سے بیکسوں کو نہ تھی طاقتِ کلام بے رحم کررہے تھے اسیری کا اہتمام آواز تھی بلند سکینہؑ کے بین کی مقتل میں ہورہی تھی یہ مجلس حسینؑ کی ہر دور میں رہے گی مجالس کی زیب و زین بدلے یہ کائنات دبیں گے نہ دل کے بین ہوگا نئے اصول سے پھر ماتمِ حسینؑ سمجھیں گے اہلِ درد زیارت کو فرضِ عین فرق آئے گا نہ ولولۂ اشتیاق میں لاکھ انقلاب آئیں مزاجِ عراق میں اہلِ زمیں کی آج ستاروں پہ ہے نظر ممکن ہے کامیاب رہے چاند کا سفر ہیں اپنی اپنی فکر میں ہر قوم کے بشر مردانِ حق پرست کا جانا ہوا اگر عباسؑ نام ور کاعلَم لے کے جائیں گے ہم چاند میں حسینؑ کا غم لے کے جائیں گے رخصت طلب ہےنجم کی اب عارضی حیات ستر برس کی عمر میں کچھ کم نہیں یہ بات پچپن برس کے ملکِ سخن پر تصرفات تیری ثنا گری ہے مرے گھر کی کائنات مولاؑ مرے سہیل کو بھی یہ مقام دے دونوں کی خدمتوں کو حیاتِ دوام دے