میر حسن

میر حسن

سحر البیان

    کروں پہلے توحیدِ یزداں رقم

    جھکا جس کے سجدے کو اول قلم

    سرِ لوح پر رکھ بیاضِ جبیں

    کہا: دوسرا کوئی تجھ سا نہیں

    قلم ، پھر شہادت کی انگلی اٹھا

    ہوا حرفِ زن یوں کہ رب العلا!

    نہیں کوئی تیرا، نہ ہو گا شریک

    تری ذات ہے وحدہ لاشریک

    پرستش کے لائق ہے تو، اے کریم

    کہ ہے ذات تیری غفور الرحیم

    رہِ حمد میں تیری، عزوجل

    تجھے سجدہ کرتا چلوں سر کے بل

    وہ، الحق، کہ ایسا ہی معبود ہے

    قلم جو لکھے، اُس سے افزود ہے

    سبھوں کا وہی دین و ایمان ہے

    یے دِل ہیں تمام، اور وہی جان ہے

    تروتازہ ہے اس سے گلزارِ خلق

    وہ ابرِ کرم، ہے ہوا دارِ خلق

    اگرچہ وہ بے فکر و غیور ہے

    ولے پرورش سب کی منظور ہے

    کسی سے بر آوے نہ کچھ کامِ جاں

    جو وہ مہرباں ہو، تو کل مہرباں

    اگرچہ یہاں کیا ہے اور کیا نہیں

    پر، اُس بن تو، کوئی کسی کا نہیں

    موئے پر، نہیں اُس سے رفت و گذشت

    اُسی کی طرف سب کی ہے بازگشت

    رہا کون، اور کس کی بابت رہی!

    موئے اور جیتے، وہی ہے وہی

    نہاں سب میں، اور سب میں ہے آشکار

    یے سب اُس کے عالم ہیں ہژوہ ہزار

    ورے سب ہیں اس سے وہی سب سے پیش

    ہمیشہ سے ہے ، اور رہے گا ہمیش

    چمن میں ہے وحدت کے یکتا وہ گل

    کہ مشتاق ہیں اُس کے سب جزو ، کل

    اسی سے ہے کعبہ، اُسی سے کنشت

    اُسی کا ہے دوزخ، اُسی کی بہشت

    جسے چاہے، جنت میں دیوے مقام

    جسے چاہے، دوزخ میں رکھے مدام

    وہ ہے مالک الملک دنیا و دیں

    ہے قبضے میں اُس کے زمان و زمیں

    سدا بے نمودوں کی اس نے نمود

    دل بستگاں کی ہے اس سے کشود

    اُسی کی نظر سے ہے ہم سب کی دید

    اُسی کے سخن پر ہے سب کی شنید

    وہی نور ہے سب طرف جلوہ گر

    اُسی کے لیےذرے ہیں شمس و قمر

    نہیں اُس سے خالی غرض کوئی شے

    وہ کچھ شے نہیں، پر ہر اک شے میں ہے

    نہ گوہر میں ہے وہ، نہ ہے سنگ میں

    ولیکن چمکتا ہے، ہر رنگ میں

    وہ ظاہر میں ہر چند ظاہر نہیں

    پہ، ظاہر کوئی،، اس سے باہر نہیں

    تامل سے کیجے اگر غور کچھ

    تو سب کچھ وہی ہے نہیں اور کچھ

    اُسی گل کی بو سے، ہے خوشبو، گلاب

    پھرے ہے لیے ساتھ دریا و حباب

    پر اِس جوش میں آ کے، پہنا نہیں

    سمجھنے کی ہے بات، کہنا نہیں

    قلم گو زباں لاوے اپنی ہزار

    لکھے کس طرح حمدِ پروردگار

    کہ عاجز ہے یاں انبیاں کی زباں

    زبانِ قلم کو یہ قدرت کہاں!

    اِس عہدے سے کوئی بھی نکلا کہیں

    سوا عجز، درپیش یاں کچھ نہیں

    وہ معبود یکتا، خداے جہاں

    کہ جس نے کیا ، کن میں کون و مکاں

    دیا عقل و ادراک اس نے ہمیں

    کیا خاک سے پاک اُس نے ہمیں

    پیمبر کو بھیجا ہمارے لیے

    وصی اور امام اس نے پیدا کیے

    جہاں کو انہوں نے دیا انتظام

    بڑائی بھلائی سجھائی تمام

    دکھائی انہوں نے ہمیں راہِ راست

    کہ تاہو نہ اُس راہ کی باز خواست

    سو وہ کون سی راہ؟ شرعِ نبیؐ

    کہ رستے کو جنت کے سیدھی گئی

    نعت حضرت رسالت پناہ کی

    نبی کون؟ یعنی، رسولِ کریم

    نبوت کے دریا کا دُرِّ یتیم

    ہوا گو کہ ظاہر میں امی لقب

    پہ، علم لدنی کھلا دل پہ سب

    بغیر از لکھے، اور کیے بے رقم

    چلے حکم پر اُس کے لوح و قلم

    ہوا علم دین اُس کا جو آشکار

    گذشتہ ہوئے حکم تقویمِ پار

    اُٹھا کفر، اِسلام ظاہر کیا

    بتوں کو خدائی سے باہر کیا

    کیا حق نے نبیوں کا سردار اُسے

    بنایا نبوت کا حق دار اُسے

    نبوت جو کی اُس پہ حق نے تمام

    لکھا اشرف الناس ، خیر الانام

    بنایا سمجھ بوجھ کر خوب، اُسے

     خدا نے کیا اپنا محبوب اُسے

    کروں اُس کے رتبے کا کیا میں بیاں

    کھڑے ہیں، جہاں باندھ صف مرسلاں

    مسیح اُس کی خرگاہ کا پارہ دوز

    تجلیِ طور، اُس کی مشعل فروز

    خلیل اُس کے گلزار کا باغباں

    سلیماں سے کئی مہر دار اُس کے ہاں

    خضر اُس کی سرکار کا آب دار

    زرہ ساز، داؤد سے دس ہزار

    محمد کے مانند جگ میں نہیں

    ہوا ہے نہ ایسا، نہ ہو گا کہیں

    یہ تھی رمز، جو اُس کے سایہ نہ تھا

    کہ رنگ دوئی واں تک آیا نہ تھا

    نہ ہونے کا سایے کے، نہ یہ سبب

    ہوا صرف پوشش میں کعبے کی سب

    وہ قد اس لیے تھا نہ سایہ فگن

    کہ تھا کل وہ اِک معجزے کا بدن

    بنا سایہ اُس کا لطیف اِس قدر

    نہ آیا لطافت کے باعث نظر

    عجب کیا کہ اُس گل کا سایہ نہ ہو

    کہ تھا وہ، گلِ قدرتِ حق کی بو

    خوش آیا نہ سایے کو ہو نا جدا

    اُسی نورِ حق کے رہا زیرِ پا

    نہ ڈالی کسی شخص پر اپنی چھا نو

    کسی کا نہ منہ دیکھا، دیکھ اُس کے پانو

    وہ ہوتا زمیں گیر کیا فرش پر

    قدم اُس کے سایے کا تھا عرش پر

    نہ ہونے کی سایے کے اِک وجہ اور

    مجھے خوب، سوجھی، پہ ہے شرط غور

    جہاں تک کہ تھے یاں کے اہل نظر

    سمجھ مایۂ نور، کحل البصر

    سبھوں نے لیا پتلیوں پر اُٹھا

    زمیں پر نہ سایے کو گرنے دیا

    وگرنہ یہ تھی چشم اپنی کہاں

    اُسی سے یہ روشن ہے سارا جہاں

    نظر سے جو غائب وہ سایا رہا

    ملائک کے دل میں سمایا رہا

    نہیں ہم سر اُس کا کوئی جز علی

    کہ بھائی کا بھائی، وصی کا وصی

    ہوئی جو نبوت نبی پر تمام

    ہوئی نعمت اُس کے وصی پر تمام

    جہاں [1] فیض سے اُن کے ہے کام یاب

    نبی، آفتاب و علی، ماہتاب

    منقبت حضرت امیر المومنین کی

    علی دین و دنیا کا سردار ہے

    کہ مختار ہے گھر کا مختار ہے

    دیارِ امامت کے گلشن کا گُل

    بہارِ ولایت کا باغِ سبل

    علی، رازدارِ خدا و نبی

    خبردارِ سرِ خفی و جلی

    علی، بندۂ خاصِ درگاہِ حق

    علی، سالک و رہ روِ راہِ حق

    علی ولی، ابن عم رسول

    لقب شاہ مردان و زوجِ بتول

    کہے یوں جو چاہے کوئی بیر سے

    پہ، نسبت علی کو نہیں غیر سے

    خدا، نفسِ پیغمبرش خواندہ است

    دگر افضلیت بہ کس ماندہ است؟

    یہاں بات کی بھی سمائی نہیں

    نبی و علی میں جدائی نہیں

    نبی و علی ، ہر دو نسبت بہم

    دو تاویکے چوں زبانِ قلم

    علی کا عدد، دوزخی، دوزخی

    علی کا محب: جنتی ، جنتی

    نبی اور علی، فاطمہ اور حسن

    حسین ابن حیدر، یے ہیں پنج تن

    ہوئی اُن پہ دو جگ کی خوبی تمام

    انہوں پر درود اور انہوں پر سلام

    علی سے لگاتا بہ مہدیِ دیں

    یے ہیں ایک نورِ خداے بریں

    اُنہوں سے ہے قائم امامت کا گھر

    کہ بارہ ستوں ہیں یہ اثنا عشر

    صغیرہ، کبیرہ سے یے پاک ہیں

    حسابِ عمل سے یے بے باک ہیں

    ہوا یاں سے ظاہر کمالِ رسول

    کہ بہتر ہوئی سب سے آلِ رسول

    تعریفِ اصحابِ پاک رضوان اللہ علیہم [2]

    سلام اُن پہ جو اُن کے اصحاب ہیں

    وو اصحاب کیسے کہ احباب ہیں

    خدا نے انہوں کو کہا مومنین

    وو ہیں زینتِ آسمان و زمیں

    خدا اُن سے راضی رسول اُن سے خوش

    علی اُن سے راضی، بتول اُن سے خوش

    ہوئی فرض اُن کی ہمیں دوستی

    کہ ہیں دل سے وو جاں نثارِ نبی

    مناجات

    الٰہی! بہ حق رسولِ امیں

    بہ حقِ علی و بہ اصحابِ دیں

    بہ حق بتول و بہ آلِ رسول

    کروں عرض جو میں، سو ہووے قبول

    الٰہی! میں بندہ گنہگار ہوں

    گناہوں میں اپنے گراں بار ہوں

    مجھے بخشیو، میرے پروردگار

    کہ ہے تو، کریم اور آمرزگار

    مری عرض یہ ہے کہ جب تک جیوں

    شرابِ محبت کو تیری پیوں

    سوا تیری الفت کے اور سب ہے ہیچ

    یہی ہو، نہ ہو اور کچھ ایچ پیچ

    جو غم ہو، تو ہو آلِ احمد کا غم

    سوا اُس الم کے ، نہ ہو کچھ الم

    رہے سب طرف سے مرے دل کو چین

    بہ حقِ حسن، اور بہ حقِ حسین

    کسی سے نہ کرنی پڑے التجا

    تو کر خود بہ خود، میری حاجت روا

    صحیح اور سالم سدا مجھ کو رکھ!

    خوشی سے ہمیشہ خدا! مجھ کو رکھ!

    مری آل اولاد کو شاد رکھ!

    مرے دوستوں کو تو، آباد رکھ!

    میں کھاتا ہوں جس کا نم اے کریم!

    سدا رحم کر اُس پہ تو اے رحیم!

    جیوں آبرو، اور حرمت کے ساتھ

    رہوں، میں عزیزوں کی عزت کے ساتھ

    بر آویں مرے دین دنیا کے کام

    بہ حقِ محمد، علیہ السلام

    تعریف سخن کی

    پلا مجھ کو ساقی، شرابِ سخن

    کہ مفتوح ہو جس سے بابِ سخن

    سخن کی مجھے فکر دن رات ہے

    سخن ہی تو ہے، اور کیا بات ہے

    سخن کے طلب گار ہیں عقل مند

    سخن سے ہے نام نکویاں بلند

    سخن کی کریں قدر مردانِ کار

    سخن نام اُن کا رکھے برقرار

    سخن سے وہی شخص رکھتے ہیں کام

    جنہیں چاہیے ساتھ نیکی کے نام

    سخن سے سلف کی بھلائی رہی

    زبانِ قلم سے بڑائی رہی

    کہاں رستم و گیو و افراسیاب

    سخن سے رہی یادیہ نقلِ خواب

    سخن کا صلہ یار دیتے رہے

    جواہر سدا مول لیتے رہے

    سخن کا سدا گرم بازار ہے

    سخن سنج اُس کا خریدار ہے

    رہے جب تلک داستانِ سخن

    الٰہی! رہیں قد دانِ سخن

    مدح شاہ عالم بادشاہ کی

    خدیو فلک، شاہِ عالی گہر

    زمیں بوس ہوں جس کے شمس و قمر

    جہاں، اُس کے پر تو سے ہے کام یاب

    وہ ہے برجِ اقلیم میں آفتاب

    اُسی مہر سے ہے منور یہ ماہ

    جہاں ہوئے اور ہو جہاں دار شاہ

    وہ مہر منور، یہ ماہِ منیر

    اور اُس کا یہ نجم سعادت، وزیر

    مدح وزیر آصف الدولہ کی

    فلک رتبہ، نواب علی جناب

    کہ ہے آصف الدولہ جس کا خطاب

    وزیر جہاں، حاکم عدل و داد

    ہے آبادیِ ملک جس کی مراد

    جہاں، عدل سے اُس کے آباد ہے

    غریبوں، فقیروں کا دل شاد ہے

    پھر سے بھاگتا مور سے فیل مست

    زبردست ، ظالم پہ ہے ، زیر دست

    کناں پر کرے مہ اگر بد نظر

    تو آدھا ادھر ہووے، آدھا اُدھر

    کسی کا اگر مفت لے زلف، دل

    تو کھایا کرے پیچ وہ متصل

    وہ انصاف سے جو گزرتا نہیں

    کسی پر کوئی شخص مرتا نہیں

    تو ہو باگ بکری میں کچھ گفت و گو

    اگر اس کا چیتا نہ ہووے کبھو

    گر آواز سن صید کی کچھ کہے

    تو باز آے چپک کہ بہری رہے

    پھرے شمع کے گرد، گر آ کے چور

    صبا کھینچ لے جاوے اُس کہ بہ زور

    نہ لے جب تلک شمع پر وانگی

    پتنگے کے پر کو نہ چھیڑے کبھی

    اگر آپ سے اُس پہ وہ آ گرے

    تو فانوس میں شمع چھپتی پھرے

    گر احیاناً اُس کے جلیں بال و پر

    تو گلگیر لے، شمع کا کاٹ سر

    اُسے عدل کی جو طرح یاد ہے

    کسے یاد ہے، یہ خدا داد ہے

    وہ گرمی کے چہرے کہ جوں آفتاب

    جسے دیکھ کر دل کو ہوا اضطراب

    چمکنا گلوں کا صفا کے سبب

    وہ گردن کے ڈورے قیامت غضب

    کبھی منہ کے تئیں پھیر لینا ادھر

    کبھی چوری چوری سے کرنا نظر

    دوپٹے کو کرنا کبھی منہ کی اوٹ

    کہ پردے میں ہو جائیں دل لوٹ پوٹ

    ہر اک تان میں اُن کو ارمان یہ

    کہ دل لیجیے تان کی جان یہ

    کوئی فن میں سنگیت کے شعلہ رو

    برم جوگ لچھمی کے لے پر ملو

    کوئی ڈیڑھ گت ہی میں پاؤں تلے

    کھڑی عاشقوں کے دلون کو ملے

    کوئی دائرے میں بجا کر پرن

    کوئی ڈھمڈھمی میں دِکھا اپنا فن

    غرض ہر طرح دل کو لینا اُنہیں

    نئی طرح سے داغ دینا انہیں

    کبھی مار ٹھوکر کریں قتل عام

    کبھی ہاتھ اٹھا، لیویں گرتوں کو تھام

    کہیں دھر پت اور گیت کا شور و غل

    کہیں قول و قلبانہ، و نقش و گل

    کہیں بھانڈ کے ولولوں کا سماں

    کہیں ناچ کشمیریوں کا وہاں

    منجیرا، پکھاوج، گلے ڈال ڈھول

    بجاتے تھے اُس جا کھڑے باندھ غول

    محل میں جو دیکھو   تو اِک اژدحام

    مبارک سلامت کی تھی دھوم دھام

    وہاں بھی تو تھی عیش و عشرت کی دھوم

    پری پیکروں کا ہر اک جا ہجوم

    چھٹی تک غرض تھی خوشی ہی کی بات

    کہ دن عید اور رات تھی شب برات

    بڑھے ابرہی ابر میں جوں ہلال

    محل میں لگا پلنے وہ نونہال

    یہ کیا دخل آواز دے جو گدا

    چٹکنے کی گل کے نہ ہووے صدا

    قدح لے کے نرگس جو ہووے کھڑی

    تو خجلت سے جاوے زمیں میں گڑی

    نہ ہو اُس کا شامل جو ابرِ کرم

    اثر ابرِ نیساں سے ہووے عدم

    ہر اک کام اُس کا، جہاں کی مراد

    فلاطوں، طبیعت، ارسطو نژاد

    جب ایسا وہ پیدا ہوا   ہے بشر

    تب اُس کو دیا ہے یہ کچھ مال و زر

    لکھوں گر شجاعت کا اُس کی بیاں

    قلم ہو مرا، رستم داستاں

    غضب سے وہ ہاتھ اپنا جس پر اٹھائے

    اجل کا تماچا قسم اُس کی کھائے

    کرے جس جگہ زو ر اُس کا نمود

    دلِ آہن اُس جا پہ ہووے کبود

    چلے تیغ گر اُس کی روزِ مصاف

    نظر آوے دشمن سے میدان صاف

    اگر بے حیائی سے کوئی عدو

    ملا دیوے اُس تیغ سے منہ کبھو

    تو ایسے ہی کھا کر گرے سر کے بل

    کہ سر پر کھڑی اُس کے رو دے اجل

    نہ ہو کیوں کے وہ تیغ برقِ غضب

    کہ برش کی تشدید، جو ہر ہیں سب

    ہوئی ہم قسم اُس سے تیغِ اجل

    نکل آئے یہ، گر پڑے وہ اُگل

    لگا دے اگر کوہ پر ایک بار

    گزر جائے یوں جیسے صابن میں تار

    غضب سے غضب اُس کے کانپا کرے

    تہور بھی ہیبت سے اُس کی ڈرے

    اور اُس زور پر، ہے یہ حلم و حیا

    کہ ہے خلق کا جیسے دریا بہا

    جہاں تک کہ ہیں علم و کسب و کمال

    ہر اک فن میں ماہر ہے وہ خوش خصال

    سخن داں، سخن سنج، شیریں بیاں

    وزیرِ جہاں و وحیدِ زماں

    سخن کی نہیں اُس سے پوشیدہ بات

    غوامض ہیں سب سہل اُس کے نکات

    سلیقہ ہر اِک فن میں، ہر بات میں

    نکلتی نئی بات دن رات میں

    سدا سیر پر اور تماشے پہ دل

    کشادہ دلی اور خوشی متصل

    نہ ہو اس کو کیوں کر ہو اے شکار

    تہور شعاروں کا ہے یہ شعار

    دلیروں کےتئیں ہے دلیروں سے کام

    کہ رہتا ہے شیروں کو شیروں سے کام

    شہاں را ضرور است مشق شکار

    کہ آید پی صید دلہا بکار

    کھلے بند جتنے ہیں صحرا میں صید

    ہیں نواب کے دامِ الفت میں قید

    زمہرش دلِ آہواں سوختہ

    بفتر اک اور چشم ہا دوختہ

    شجاعت کا، ہمت کا یہ کام ہے

    درم ہاتھ میں ہے کہ یادام ہے

    نہ ہوتا اگر اُس کو عزِ شکار

    درندوں سے بچتا نہ شہر و دِیار

    نہ بچتے جہاں بیچ خرد و بزرگ

    یہ ہوجاتے   سب لقمۂ شیر و گرگ

    یہ انسان پر اُس کا احسان ہے

    کہ بے خوف انسان کی جان ہے

    بنائی جہاں اُس نے نخچیر گاہ

    رہے صیدواں آ کے شام و پگاہ

    رکھا صید بحری پہ جس دم خیال

    لیا پشت پر اپنی ماہی نے جال

    مگر اپنا دیتے ہیں جی، جان کر

    کہ ٹاپو، پہ گرتے ہیں آن آن کر

    نہ سمجھو نکلتی ہیں دریا میں سوس

    خوشی سے اچھلتی ہیں دریا میں سوس

    چرندوں کا دل اس طرف ہے لگا

    پرندوں کو رہتی ہے اُس کی ہوا

    پلنگوں کا ہے بلکہ چیتا یہی

    کمر آبندھاوے ہماری وہی

    کھڑے آرنے ہوتے ہیں سر جوڑ جوڑ

    کہ جی کون دیتا ہے بد بد کے ہوڑ

    خبر اُس کی سن کر نہ گینڈا چلے

    کہ ہاتھی بھی ہو مست اینڈا چلے

    جو کچھ دل میں گینڈے کے آوے خیال

    تو بھاگے اُس آگے سپر اپنی ڈال

    اطاعت کے حلقے سے بھاگے جو فیل

    پلک اُس کی آنکھوں میں ہو تفتہ میل

    سو وہ تو اطاعت میں یک دست ہیں

    نشے میں محبت کے سب مست ہیں

    اُسی کے لیے گو کہ ہیں وے پہاڑ

    قدم اپنے رکھتے ہیں سب گاڑ گاڑ

    کہ شاید مشرف سواری سے ہوں

    سرافراز چل کر عماری سے ہوں

    چلن جب یہ کچھ ہوویں حیوان کے

    تو پھر حق بہ جانب ہے انسان کے

    کسے ہو نہ صحبت کی اُس کی ہوس

    ولے کیا کیا کرے جو نہ ہو دست رس

    فلک بار گاہا، ملک درگہا!

    جدا میں جو قدموں سے تیرے رہا

    نہ کچھ عقل نے اور نہ تدبیر نے

    رکھا مجھ کو محروم تقدیر نے

    پر اب عقل نے میرے کھولے ہیں گوش

    دیا ہے مدد سے تری مجھ کو ہوش

    سو میں اک کہانی بنا کر نئی

    درِ فکر سے گوندھ لڑیاں کئی

    لے آیا ہوں، خدمت میں بہرِ نیاز

    یہ امید ہےپھر کہ ہوں سرفراز

    مرے عذر تقصیر ہوویں قبول

    بہ حق علی و بہ آلِ رسول

    رہے جاہ و حشمت یہ تیری ....

    بہ حق محمد علیہ السلام

    رہیں شاد آباد کل خیرخواہ

    پھریں اس گھرانے کے دشمن تباہ

    اب آگے کہانی کی ہے داستاں

    ذرا سنیو دل دے کے اُس کا بیاں

    آغازِ داستان

    کسی شہر میں تھا کوئی بادشاہ

    کہ تھا وہ شہنشاہِ گیتی پناہ

    بہت حشمت و جاہ و مال و منال

    بہت فوج سے اپنی فرخندہ حال

    کئی بادشاہ اُس کو دیتے تھے باج

    خطا اور ختن سے وہ لیتا خراج

    کوئی دیکھتا آ کے جب اُس کی فوج

    تو کہتا کہ ہے بحر ہستی کی موج

    طویلے کے اس کے جو ادنیٰ تھے خر

    انہیں نعل بندی میں ملتا تھا زر

    جہاں تک کہ سرکش تھے اطراف کے

    وہ اُس شہہ کے رہتے تھے قدموں لگے

    رعیت تھی آسودہ و بے خطر

    نہ غم مفلسی کا، نہ چوری کا ڈر

    عجب شہر تھا اُس کا مینو سواد

    کہ قدرت خدائی کی آتی تھی یاد

    لگے تھے ہر اک جا پہ واں سنگ و خشت

    ہر اک کوچہ اُس کا تھا رشکِ بہشت

    زمیں سبز و سیراب عالم تمام

    نظر کو طراوت وہاں صبح و شام

    کہیں چاہ و منبع، کہیں حوض و نہر

    ہر اک جا پہ آبِ لطافت کی لہر

    عمارت تھی گچ کی وہاں بیشتر

    کہ گر رے صفائی سے جس پہ نظر

    کروں اس کی وسعت کا کیا میں بیاں

    کہ جوں اصفہاں تھا وہ نصفِ جہاں

    ہنر مندواں اہل حرفہ تمام

    ہر اک نوع کی خلق کا ازدحام

    یہ دل چسپ بازار تھا چوک کا

    کہ ٹھہرے جہاں، بس وہیں دِل لگا

    جہاں تک کہ رستے تھے بازار کے

    کہے تو کہ تختے تھے گلزار کے

    وہ پختہ دکانوں کے دیوار و در

    سفیدی پہ جن کی نہ ٹھہرے نظر

    صفا پر جو اُس کی نظر کر گئے

    اُسے دیکھ کر سنگ، مر مر گئے

    کہوں قلعے کی اُس کے میں کیا شکوہ

    گئے دب بلندی کو دیکھ اُس کی کوہ

    وہ دولت سرا، خانۂ نور تھا

    سدا عیش و عشرت سے معمور تھا

    ہمیشہ خوشی، رات دن سیر باغ

    نہ دیکھا کسی دل پہ جز لالہ داغ

    سدا عیش و عشرت ، سدا راگ و رنگ

    نہ تھا زیست سے اپنی کوئی بہ تنگ

    غنی واں ہوا جو کہ آیا تباہ

    عجب شہر تھا وہ، عجب بادشاہ

    نہ دیکھا کسی نے کوئی واں فقیر

    ہوئے اُس کی دولت سے گھر گھر امیر

    کہاں تک کہوں، اُس کا جاہ و حشم

    محل و مکاں اُس کا رشکِ اِرم

    سدا ماہ رویوں سے صحبت اُسے

    سدا جامہ زیبوں سے رغبت اُسے

    ہزاروں پری پیکر اُس کے غلام

    کمر بستہ خدمت میں حاضر مدام

    کسی طرف سے وہ نہ رکھتا تھا غم

    مگر ایک اولاد کا تھا الم

    اِسی بات کا اُس کے تھا دِل پہ داغ

    نہ رکھتا تھا وہ اپنے گھر کا چراغ

    دلوں کا عجب اس کے یہ پھیر تھا

    کہ اس روشنی پر یہ اندھیر تھا

    وزیروں کو اِک روز اس نے بلا

    جو کچھ دل کا احوال تھا، سو کہا

    کہ میں کیا کروں گا یہ مال و منال

    فقیری کا ہے میرے دل کو خیال

    فقیراب نہ ہوں تو کروں کیا علاج؟

    نہ پیدا ہوا وارثِ تخت و تاج

    جوانی مری ہو گئی سب بسر

    نمودار پیری ہوئی سر بسر

    دریغا کہ عہد جوانی گذشت

    جوانی مگو، زندگانی گذشت

    بہت ملک پر جان کھویا کیا

    بہت فکر دنیا میں رویا کیا

    زہے بے تمیزی و بے حاصلی

    کہ از فکر دنیا ز دیں غافلی

    وزیروں نے کی عرض اے آفتاب!

    نہ ہو تجھ کو ذرہ کبھی اضطراب

    فقیری جو کیجے، تو دنیا کے ساتھ

    نہیں خوب جانا اُدھر خالی ہاتھ

    کرو سلطنت لے کے اعمالِ نیک

    کہ تا دو جہاں میں رہے حالِ نیک

    جو عاقل ہوں وہ سوچ میں ٹک رہیں

    کہ ایسا نہ ہووے کہ پھر سب کہیں:

    ’’تو کارِ زمیں را نکو ساختی

    کہ بر آسماں نیز پرداختی‘‘

    یہ دنیا جو ہے مزرعِ آخرت

    فقیری میں ضائع کرو اس کو مت

    عبادت سے اس کشت کو آب دو

    وہاں جا کے خرمن ہی تیار لو

    رکھو یاد عدل و سخاوت کی بات

    کہ اس فیض سے ہے تمہاری نجات

    مگر ہاں، یہ اولاد کا ہے جو غم

    سو اس کا تردد بھی کرتے ہیں ہم

    عجب کیا ہے ہووے تمہارے خلف

    کرو تم نہ اوقات اپنی تلف

    نہ لاؤ کبھی یاس کی گفت گو

    کہ قرآں میں آیا ہے لا تقنطوا

    بلاتے ہیں ہم اہل تنجیم کو

    نصیبوں کو اپنے ذرا دیکھ لو

    تسلی تو دی شاہ کو اِس نمط

    ولے اہل تنجیم کو بھیجے خط

    نجومی و رمال اور برہمن

    غرض یاد تھا جن کو اس ڈھب کا فن

    بلا کر انہیں شہہ کنے لے گئے

    جو ں ہی رو بہ رو شہہ کے سب دے گئے

    پڑا جب نظر وہ شہِ تاج و تخت

    دعادی کہ ہوں شہہ کے بیدار بخت

    کیا قاعدے سے نہڑ کرسلام

    کہا شہہ نے میں تم سے رکھتا ہوں کام

    نکالو ذرا، اپنی اپنی کتاب

    مرا ہے سوال، اُس کا لکھو جواب

    نصیبوں میں دیکھو تو میرے کہیں

    کسی سے بھی اولاد ہے یا نہیں؟

    یہ سن کر دے رنال طالع شناس

    لگے کھینچنے ، زائچے بے حساب

    دھرے تختے آگے ، لیا قرعہ ہاتھ

    لگا دھیان اولادکا اس کے ساتھ

    جو پھینکیں تو شکلیں کئی بیٹھیں مل

    کئی شکل سے دل گیا اُن کا کھل

    جماعت نے رمال کی عرض کی

    کہ ہے گھر میں امید کی کچھ خوشی

    یہ سن ہم سے اے عالموں کے شفیق!

    بہت ہم نے تکرار کی ہر طریق

    بیاض اپنی دیکھی جو اس رمل کی

    تو ایک ایک نقطہ ہے فردِ خوشی

    ہے اس بات پر اجتماع تمام

    کہ طالع میں فرزند ہے تیرے نام

    زن و زوج کے گھر میں ہے کی فرح

    پا کر مے وصل کا تو قدح

    نجومی بھی کہنے لگے در جواب

    کہ ہم نے بھی دیکھی ہے اپنی کتاب

    نحوست کے دن سب گئے ہیں نکل

    عمل اپنا سب کر چکا ہے زحل

    ستارے نے طالع کے بدلے ہیں طور

    خوشی کا کوئی دن میں آتا ہے دور

    نظر کی جو تسدیس و تثلیث پر

    تو دیکھا کہ ہے نیک سب کی نظر

    کیا پنڈتوں نے جو اپنا بچار

    تو کچھ انگلیوں پر کیا پھر شمار

    جنم پترا شاہ کا دیکھ کر

    تلا اور برچھک پہ کر کر نظر

    کہا: رام جی کی ہے تم پر دیا

    چندرماں سا بالک ترے ہووے گا

    مہاراج کے ہوں گے مقصد شتاب

    کہ آیا ہے اب پانچواں آفتاب

    نکلتے ہیں اب تو خوشی کے بچن

    نہ ہو گر خوشی ، تو نہ ہوں برہمن

    نصیبوں نے کی آپ کی یاوری

    کہ آئی ہے اب ساتویں مشتری

    مقرر ترے چاہیے ہو پسر

    کہ دیتی ہے یوں اپنی پوتھی خبر

    ولیکن مقدر ہے کچھ اور بھی

    کہ ہیں اس بھلے میں برے طور بھی

    یہ لڑکا تو ہو گا، ولے کیا کہیں

    خطر ہے اُسے بارھویں برس میں

    نہ آوے یہ خورشید بالائے بام

    بلندی سے خطرہ ہے، اس کو تمام

    نہ نکلے یہ بارہ برس رشکِ مہ

    رہےبرج میں یہ مہ چار دہ

    کہا سن کے شہہ نے یہ اُن کے تئیں

    کہو، جی کا خطرہ تو اُس کو نہیں؟

    کہا: جان کی ہر طرح خیر ہے

    مگر دشتِ غربت کی کچھ سیر ہے

    کوئی اُس پہ عاشق ہو جن و پری

    کوئی اُس کی معشوق ہو استری

    کچھ ایسا نکلتا ہے پوتھی میں اب

    خرابی ہو اس پر کسی کے سبب

    ہوئی کچھ خوشی شہہ کو اور کچھ الم

    کہ دنیا میں تو عام ہیں شادی و غم

    کہا شہہ نے: اس پر نہیں اعتبار

    جو چاہے کرے میرا پروردگار

    یہ فرما: محل میں درآمد ہوئے

    منجم وہاں سے برآمد ہوئے

    خدا پر زبس اُس کو تھا اعتقاد

    لگا مانگنے اپنی حق سے مراد

    خدا سے لگا کرنے وہ التجا

    لگا آپ مسجد میں رکھنے دیا

    نکالا مرادوں کا آخر سراغ

    لگائی اُدھر لَو، تو پایا چراغ

    سحابِ کرم نے کیا جو اثر

    ہوئی کشت اُمید کی باردَر

    اُسی سال میں یہ تماشا سنو

    رہا حمل اِک زوجۂ شاہ کو

    جو کچھ دل پہ گزرے تھے رنج و تعب

    مبدل ہوے دے خوشی ساتھ سب

    خوشی سے پلا مجھ کو ساقی شراب

    کوئی دن میں بجا ہے چنگ و رباب

    کروں نغمۂ تہنیت کو شروع

    کہ اِک نیک اختر کرے ہے طلوع

    داستانِ تولد ہونے کی شاہ زادہ بے نظیر کے

    گئے نو مہینے جب اس پر گزر

    ہوا گھر میں شہہ کے تولد پسر

    عجب صاحب حسن پیدا ہوا

    جسے مہر و مہ دیکھ شیدا ہوا

    نظر کو نہ ہو حسن پر اُس کے تاب

    اُسے دیکھ ، بے تاب ہو آفتاب

    ہوا وہ جواُس شکل سے دل پذیر

    رکھا نام اُس کا شہِ بے نظیر

    خواصوں نے، خواجہ سراؤں نے جا

    کئی نذریں گزرانیاں اور کہا:

    مبارک تجھے اے شہ نیک بخت

    کہ پیدا ہوا وارثِ تاج و تخت

    سکندر نژاد اور دارا حشم

    فلک مرتبت اور عطارد رقم

    رہے اُس کے اقلیم زیر نگیں

    غلامی کریں اُس کی خاقانِ چیں

    یہ سنتے ہی مژدہ، بچھا جا نماز

    کیے لاکھ سجدے کہ اے بے نیاز!

    تجھے فضل کرتے نہیں لگتی بار

    نہ ہو تجھ سے مایوس امیدوار

    دوگانہ غرض شکر کا کر ادا

    تہیہ کیا شاہ نے جشن کا

    دے نذریں خواصوں کی، خوجوں کی لے

    اُنہیں خلعت و زر کا انعام دے

    کہا: جاؤ، جو کچھ کہ درکار ہو

    کہو خانساماں سے تیار ہو

    نقیبوں کو بلوا کے یہ کہ دیا

    کہ نقار خانے میں دو حکم جا

    کہ نوبت خوشی کی بجا دیں تمام

    خبر سن کے یہ شاد ہوں خاص و عام

    یہ مژدہ جو پہنچا تو نقارچی

    لگا ہر جگہ بادلہ و زری

    بنا ٹھاٹھ نقار خانے کا سب

    مہیا کر اسبابِ عیش و طرب

    غلاف اُن پہ باناتِ پرزر کے ٹانک

    شتابی سے نقاروں کو سینک سانک

    دیا چوب کو پہلے بم سے ملا

    لگی پھیلنے ہر طرف کو صدا

    کہا زیر سے بم نے بہرِ شگوں

    کہ دوں، خوشی کی خبر کیوں نہ دوں

    بجے شادیانے جو واں اُس گھڑی

    ہوئی گرد و پیش آ کے خلقت کھڑی

    بہم مل کے بیٹھے جو شہنا نواز

    بنا منہ سے پھرکی، لگا اُس پہ ساز

    سروں پہ وہ سر پیچ معمول کے

    خوشی سے ہوئے گال، گل پھول کے

    لگے لینے اُپچیں خوشی سے نئی

    اَڑانا لگا بجنے اور سگھڑئی

    ٹکوروں میں نوبت کی شہنا کی دھن

    سگھڑ سننے والوں کو کرتی تھی سُن

    ترھی اور قرناے شادی کے دم

    لگے بھرنے زیل اور کھرج میں بہم

    سنی جانجھ نے جو خوشی کی نوا

    تھرکنے لگا تالیوں کو بجا

    نئے سرسے عالم کو عشرت ہوئی

    کہ لڑکے کے ہونے کی نوبت ہوی

    محل سے لگا تابہ دیوانِ عام

    عجب طرح کا اِک ہوا اژدحام

    چلے لے کے نذریں وزیر و امیر

    لگے کھینچنے زر کے تودے فقیر

    دیے شاہ نے شاہ زادے کے نانو

    مشایخ کو اور پیر زادوں کا گانو

    امیروں کو جاگیر، لشکر کو زر

    وزیروں کو الماس و لعل و گہر

    خواصوں کو، خوجوں کو جوڑے دیے

    پیادے جو تھے اُن کو گھوڑے دیے

    خوشی میں کیا یاں تلک زر نثار

    جسے ایک دینا تھا، بخشے ہزار

    کیا بھانڈ اور بھگتیوں نے ہجوم

    ہوئی ’’آہے آہے مبارک‘‘ کی دھوم

    لگا کنچنی، چونہ پزنی تمام

    کہاں تک میں نوںِ نرت کاروں کے نام

    جہاں تک سازندے تھے ساز کے

    دھنی دست کے اور آواز کے

    جہاں تک کہ تھے گایک اور تنث کار

    لگے گانے اور ناچنے ایک بار

    لگے بجنے قانون و بین و رباب

    بہا ہر طرف جوے عشرت کا آب

    لگا تھاپ طبلوں پہ مردنگ کی

    صدا اونچی ہونے لگی چنگ کی

    کمانچوں کو، سارنگیوں کو بنا

    خوشی سے ہر اک اُن کی تربیں ملا

    لگاتار پر موم، مرچنگ کے

    ملا سر طنبوروں کے یک رنگ کے

    ستاروں کے پردے بنا کر درست

    بجانے لگے سب وے چالاک و چست

    گئی بین کی آسماں پر کمک

    اٹھا گنبدِ چرخ سارا دھمک

    خوشی کی زِبس ہر طرف تھی بساط

    لگے ناچنے اُس پہ اہل نشاط

    کناری کے جوڑے چمکتے ہوئے

    دو پاؤں میں گھنگرو جھنکتے ہوئے

    وہ گھٹنا، وہ بڑھنا اداؤں کے ساتھ

    دکھانا وہ رکھ رکھ کے چھاتی پہ ہاتھ

    وہ بالے، چمکتے ہوئے کان میں

    پھڑکنا وہ نتھنے کا ہر آن میں

    کبھی دلوں کو پاؤں سے مل ڈالنا

    نظر سے کبھی دیکھنا بھالنا

    دکھانا کبھی اپنی چھب مسکرا

    کبھی اپنی انگیا کو لینا چھپا

    کسی کے وہ مکھڑے پہ نتھ کی پھبن

    کسی کے چمکتے ہوئے نو رتن

    وہ دانتوں کی مسی، وہ گل برگِ تر

    شفق میں عیاں جیسے شام و سحر

    ستم اُس کے ہاتھوں سے رویا کرے

    سدا فتنۂ دہر سویا کرے

    گھروں میں فراغت سے سوتے ہیں سب

    پڑے گھر میں چور اپنے روتے ہیں سب

    وہ ہے باعث امن خرد و کلاں

    کہ ہے نام سے اُس کے مشتق اماں

    بیانِ سخاوت کروں گر رقم

    تو ڈر ریز کاغذ پہ ہووے قلم

    نظر سے توجہ کی دیکھا جدھر

    دِیا مثل نرگس اُسے سیم و زر

    سخاوت یہ ادنیٰ سی ایک اس کی ہے

    کہ اِک دن دوشالے دیے سات سے

    سوا اُس کے، ہے اور یہ داستاں

    کہ ہو جس پہ قربان حاتم کی جاں

    ہوئی کم جو اک بار کچھ بر شکال

    گرانی سی ہونے لگی ایک سال

    غریبوں کا دم سا نکلنے لگا

    توکل کا بھی پانو چلنے لگا

    وزیر الممالک نے تدبیر کی

    خدا کی دیا راہ پر مال و زر

    محلے محلے کیا حکم یہ

    کہ باڑے کی اس غم کی کھولیں گرہ

    یہ چاہا کہ خلقت کسی ڈھب جیے

    ٹکے لاکھ لاکھ، ایک دن میں دیے

    یہ لغزش پڑی ملک میں جو تمام

    لیا ہاتھ نے اس کے گرتوں کو تھام

    یہ بندہ نوازی، یہ جاں پروری

    یہ آئینِ سرداری و سروری

    ہوئی ذات پر اُس سخی کی تمام

    تکلف ہے آگے سخاوت کا نام

    فقیروں کی بھی یاں تلک تو بنی

    کہ یک یک یہاں ہو گیا ہے غنی

    ١ ۔ ٢ یہ اشعار نسخہ فورٹ ولیم میں موجود نہیں

    برس گانٹھ جس سال اس کی ہوئی

    دل بستگاں کی گرہ کھل گئی

    وہ گل جب کہ چوتھے برس میں لگا

    بڑھایا گیا دودھ اُس ماہ کا

    ہوئی تھی جو کچھ پہلے شادی کی دھوم

    اُسی طرح سے پھر ہوا وہ ہجوم

    طوائف وہی او وہی راگ و رنگ

    ہوئی بلکہ دونی خوشی کی ترنگ

    وہ گل، پانوسے اپنے جس جا چلا

    وہاں آنکھ کو نرگسوں نے ملا

    لگا پھرنے وہ سرو جب پانو پانو

    کیے بردے آزاد تب اس کے نانو

    داستان تیاری میں باغ کی

    مے ارغوانی پلا ساقیا!

    کہ تعمیر کو باغ کی دل چلا

    دیا شہہ نے ترتیب اک خانہ باغ

    ہوا رشک سے جس کے، لالہ کو داغ

    عمارت کی خوبی، دروں کی وہ شان

    لگے جس میں زربفت کے سائبان

    چقیں اور پردے بندھے زرنگار

    دروں پر کھڑی دست بستہ بہار

    کوئی ڈور سے در پہ اٹکا ہوا

    کوئی زِہ پہ خوبی سے لٹکا ہوا

    وہ مقیش کی ڈوریاں سر بسر

    کہ مہ کا بندھا جن میں تارِ نظر

    چقوں کا تماشا، تھا آنکھوں کا جال

    نگہ کو وہاں سے گزرنا محال

    سنہری مغرق چھتیں ساریاں

    وہ دیوار اور در کی گل کاریاں

    دیے چار سو آئنے جو لگا

    گیا چوکنا لطف اس میں سما

    وہ مخمل کا فرش اس میں ستھرا کہ بس

    بڑھے جس کے آگے نہ پاے ہوس

    رہیں لخلخے اُس میں روشن مدام

    معطر شب و روز جس سے مشام

    چھپر کھٹ مرصع کا دالان میں

    چمکتا تھا اس طرح ہر آن میں

    زمیں پر تھی اس طور اُس کی جھلک

    ستاروں کی جیسے فلک پر چمک

    زمیں کا کروں واں کی کیا میں بیاں

    کہ صندل کا اِک پارچہ تھا عیاں

    بنی سنگِ مرمر سے چو پڑ کی نہر

    گئی چار سو اس کے پانی کی لہر

    قرینے سے گرد اُس کے سروِ سہی

    کچھ اِک دور دور اس سے سیب ذہی

    کہوں کیا میں کیفیت دار بسنت

    لگائے رہیں تاک واں مے پرست

    ہواے بہاری سے گل لہلہے

    چمن سارے شاادب اور ڈہڈ ہے

    زمرد کی مانند سبزے کا رنگ

    روش کا، جواہر ہوا، جس سے سنگ

    روش کی صفائی پہ بے اختیار

    گل ِاشرفی نے کیا زر نثار

    چمن سے بھرا باغ، گل سے چمن

    کہیں نرگس و گل، کہیں یاسمن

    چنبیلی کہیں اور کہیں موتیا

    کہیں راے بیل اور کہیں موگرا

    کھڑے شاخِ شبو کے ہر جا نشان

    مدن بان کی اور ہی آن بان

    کہیں ارغواں اور کہیں لالہ زار

    جدی اپنے موسم میں سب کی بہار

    کہیں جعفری اور گیندا کہیں

    سماں شب کو داؤدیوں کا کہیں

    عجب چاندنی میں گلوں کی بہار

    ہر اک گل سفیدی سے مہتاب دار

    کھڑے سرو کی طرح چمپے کی جھاڑ

    کہے تو کہ خوشبوئیوں کے پہاڑ

    کہیں زرد نسریں، کہیں نسترن

    عجب رنگ پر زعفرانی چمن

    پڑی آبجو  ہر طرف کو بہے

    کریں قمریاں سر و پر چہچہے

    گلوں کا لب نہر پر جھومنا

    اُسی اپنے عالم میں منہ چومنا

    وہ جھک جھک کے گرنا خیابان پر

    نشے کا سا عالم گلستان پر

    لیے بیلچے ہاتھ میں مالنے

    چمن کو لگیں دیکھنے بھالنے

    کہیں تخم پاشی کریں کھود کر

    پنیری جما دیں کہیں گو دکر

    کھڑے شاخ در شاخ باہم نہال

    رہیں ہاتھ جوں مست گردن میں ڈال

    لب جو کے آئنے میں دیکھ قد

    اکڑنا کھڑے سرو کا جد نہ تد

    خراماں صبا صحن میں چار سو

    دماغوں کو دیتی پھر ے گل کی بو

    کھڑے نہر پر قا اور قرقرے

    لیے ساتھ مرغابیوں کے پرے

    صدا قرقریوں کی، بطوں کا وہ شور

    درختوں پہ بگلے، منڈیروں پہ مور

    چمن آتش گل سے دہکا ہوا

    ہوا کے سبب باغ مہکا ہوا

    صبا جو گئی ڈھیریاں کرکے بھول

    پڑے ہر طرف مولسریوں کے پھول

    وہ کیلوں کی اور مولسریوں کی چھانو

    لگیں جائیں آنکھیں لیے جن کا نانو

    خوشی سے گلوں پر صدا بلبلیں

    تعشق کی آپس میں باتیں کریں

    درختوں نے برگوں کے کھولے ورق

    کہ لیں طوطیاں، بوستاں کا سبق

    سماں قمریاں دیکھ اس آن کا

    پڑھیں بابِ پنجم گلستان کا

    دوا، دائیاں اور مغلانیاں

    پھریں ہر طرف اس میں جلوہ کناں

    خواصوں کا اور لونڈیوں کا ہجوم

    محل کی وہ چہلیں، وہ آپس کی دھوم

    تکلف کے پہنے پھریں سب لباس

    رہیں رات دن شاہ زادے کے پاس

    کنیزانِ مہ رو کی ہر طرف ریل

    چنبیلی کوئی، اور کوئی راے بیل

    شگوفہ کوئی، اور کوئی کامروپ

    کوئی چت لگن، اور کوئی شیام روپ

    کوئی کیتکی اور کوئی گلاب

    کوئی مہ رتن، اور کوئی ماہتاب

    کوئی سیوتی، اور ہنس مکھ کوئی

    کوئی دل لگن، اور تن سکھ کوئی

    کہیں اپنی پٹی سنوارے کوئی

    اری اور تری کہ پکارے کوئی

    ادھر اور ادھر آتیاں جاتیاں

    پھریں اپنے جوبن میں اتراتیاں

    کہیں چٹکیاں اور کہیں تالیاں

    کہیں قہقہے اور کہیں گالیاں

    بجاتی پھرے کوئی اپنے کڑے

    کہیں ہوے رے، اور کہیں وا چھڑے

    دکھاوے کوئی گوکھرو موڑ موڑ

    کہیں سوت بوٹی، کہیں تار توڑ

    ادا سے کوئی بیٹھی حقہ پیے

    دم دوستی کوئی بھر بھر جیے

    کوئی حوض میں جا کے غوطہ لگائے

    کوئی نہر پر پانو بیٹھی ہلائے

    کوئی اپنے توتے کی لیوے خبر

    کوئی اپنی مینا پہ رکھے نظر

    کسی کو کوئی دھول مارے کہیں

    کوئی جان کو اپنی وارے کہیں

    کوئی آر سی اپنے آگے دھرے

    ادا سے کہیں بیٹھی کنگھی کرے

    مقابا کوئی کھول، مسی لگائے

    لبوں پر دھڑی کوئی بیٹھی جمائے

    ہوا ان گلوں سے دوبالا سماں

    اُسی باغ میں یہ بھی باغِ رواں

    غرض لوگ تھے یہ جو، ہر کام کے

    سو سب واسطے اُس کے آرام کے

    پلا جب وہ اس ناز و نعمت کے ساتھ

    پدر اور مادر کی شفقت کے ساتھ

    ہوئی اُس کے مکتب کی شادی عیاں

    ہوا پھر اُنہیں شادیوں کا سماں

    معلم، اتالیق، منشی ، ادیب

    ہر اک فن کے استاد بیٹھے قریب

    کیا قاعدے سے شروعِ کلام

    پڑھانے لگے علم اُس کو تمام

    دیا تھا زبس حق نے ذہن رسا

    کئی برس میں علم سب پڑھ چکا

    معانی و منطق، بیان و ادب

    پڑھا اُس نے منقول و معقول سب

    خبردار حکمت کے مضمون سے

    غرض جو پڑھا اُس نے، قانون سے

    لگا ہیئت و ہندسہ تا نجوم

    زمیں آسماں میں پڑی اُس کی دھوم

    کیے علم نوکِ زباں حرف حرف

    اسی نحو سے عمر کی اُس نے  صرف

    عطارد کو اُس کی لگی آنے ریس

    ہوا سادہ لوحی میں وہ خوش نویس

    ہوا جب کہ نو خط وہ شیریں رقم

    بڑھا کے لکھے سات سے، نو قلم

    لیا ہاتھ جب خامۂ مشکبار

    لکھا نسخ و ریحان و خطِ غبار

    عروس الخطوط اور ثلث و رقاع

    خفی و جلی مثل خط شعاع

    شکستہ لکھا اور تعلیق جب

    رہے دیکھ حیراں اتالیق سب

    کیا خطِ گلزار سے جب فراغ

    ہوا صفحۂ قطعہ گلزار باغ

    کروں [3] علم اس کا کہاں تک عیاں

    کہ ہے خوب اب مختصر یہ بیاں

    کماں کے جو درپے ہوا بے نظیر

    لیا کھینچ چلے سے سب فن تیر

    صفائی میں سوفار، پیکاں کیا

    گیا جب کہ تو دے پہ، طوفاں کیا

    رکھا چھوٹتے ہی جو لکڑی پہ سن

    لیا اپنے قبضے میں سب اُس کا فن

    ہوئیں دست و بازو کی سرسائیاں

    اڑائیں کئی ہاتھ میں گھائیاں

    رکھا موسیقی پر بھی کچھ جو خیال

    کیے قید سب اُس نے ہاتھوں میں تال

    طبیعت گئی کچھ جو تصویر پر

    رکھے رنگ سب اُس نے مدنظر

    کئی دن میں سیکھا یہ کسبِ تفنگ

    کہ حیراں ہوئے دیکھ اہلِ فرنگ

    سوا ان کمالوں کے کتنے کمال

    مروت کی خو، آدمیت کی چال

    رذالوں سے، نفروں سے نفرت اسے

    سدا قابلوں ہی سے صحبت اُسے

    گیا نام پر اپنے وہ دل پذیر

    ہر اک فن میں سچ مچ ہوا بے نظیر

    داستان سواری کی تیاری کے حکم میں

    پلا ساقیا، مجھ کو اِک جامِ مل

    جوانی پہ آیا ہے اَیامِ گُل

    غنیمت شمر صحبتِ دوستاں

    کہ گل پنج روز ست در بوستاں

    ثمر لے بھلائی کا گر ہو سکے

    شتابی سے بولے، جو کچھ بو سکے

    کہ رنگِ چمن پر نہیں اعتبار

    یہاں چرخ میں ہے خزان و بہار

    پڑی جب گرہ بارھویں سال کی

    کھلی گل جھڑی غم کے جنجال کی

    کہا شہہ نے بلوا نقیبوں کو شام

    کہ ہوں صبح حاضر سبھی خاص و عام

    سواری تکلف سے تیار ہو

    مہیا کریں جو کہ درکار ہو

    کریں شہر کو مل کے آئنہ بند

    سواری کا ہو لطف جس سے دوچند

    رعیت کے خوش ہوں امیر و کبیر

    کہ نکلے گا کل شہر میں بے نظیر

    یہ فرما محل میں گئے بادشاہ

    نقیبوں نے سن حکم، لی اپنی راہ

    ہوئی شب، لیا مہ نے جامِ شراب

    گیا سجدہ ٔشکر میں آفتاب

    خوشی میں گئی جلد شب جو گزر

    ہوئی سامنے سے نمایاں سحر

    عجب شب تھی وہ جوں سحر و سپید

    عجب روز تھا مثل روزِ اُمید

    گیا مژدہ صبح لے ماہتاب

    اٹھا سورج آنکھوں کوملتا شتاب

    کہا شاہ نے اپنے فرزند کو

    کہ بابا! نہا دھو کے تیار ہو

    داستان حمام میں نہانے کی لطافت میں

    پلا آتشیں آب پیر مغاں!

    کہ بھولے مجھے گرم و سردِ جہاں

    اگر چاہتا ہے مرے دل کا چین

    نہ دینا وہ ساغر جو ہو قلتین

    کدورت مرے دل کی دھو ساقیا!

    ذرا شیشۂ مے کو دھو دھاکے لا

    کہ سرگرمِ حمام ہے بے نظیر

    گیا ہے نہانے کو ماہِ منیر

    ہوا جب کہ داخل وہ حمام میں

    عرق آگیا اُس کے اندام میں

    تنِ نازنیں نم ہوا اُس کا کل

    کہ جس طرح ڈوبے ہے شبنم میں گُل

    پرستار باندھے ہوئے لنگیاں

    مہ و مہر سے طاس لے کر وہاں

    لگے ملنے اُس گل بدن کا بدن

    ہوا ڈہڈہا آب سے وہ چمن

    نہانے میں یوں تھی بدن کی دمک

    برسنے میں بجلی کی جیسے چمک

    لبوں پر جو پانی پھر اسر بسر

    نظر آئے جیسے  گلِ برگِ تر

    ہوا قطرہ ٔآب یوں چشم بوس

    کہے تو، پڑی جیسے نرگس پہ اوس

    لگا ہونے ظاہر جو اعجازِ حسن

    ٹپکنے لگا اُس سے اندازِ حسن

    گیا حوض میں جو شہِ بے نظیر

    پڑا آب میں عکسِ ماہِ منیر

    وہ گورا بدن اور بال اس کے تر

    کہے تو کہ ساون کی شام و سحر

    نمی کا تھا بالوں کی عالم عجب

    نہ دیکھی کوئی خوب تر اُس سے شب

    کہوں اُس کی خوبی کی کیا تجھ سے بات

    کہ جوں بھیگتی جاوے صحبت میں رات

    زمیں پر تھا اِک موجۂ نور خیز

    ہوا جب وہ فوارہ سا آب ریز

    زمرد کے لے ہاتھ میں سنگِ پا

    کیا خادموں نے جو آہنگِ پا

    ہنسا کھلکھلا وہ گلِ نو بہار

    لیا کھینچ پاؤں کو بے اختیار

    عجب عالم اُس نازنیں پر ہوا

    اتر گدگدی کا جبیں پر ہوا

    ہنسا اِس ادا سے کہ سب ہنس پڑے

    ہوئے جی سے قربان چھوٹے بڑے

    دعائیں لگے دینے بے اختیار

    کہا خوش رکھے تجھ کو پروردگار

    کہ تیری خوشی سے ہے سب کی خوشی

    مبارک تجھے روز و شب کی خوشی

    نہ آوے کبھی تیری خاطر پہ میل

    چمکتا رہے یہ فلک کا سہیل

    کیا غسل جب اس لطافت کے ساتھ

    اُڑھا کھیس، لائے اُسے ہاتھوں ہاتھ

    نہا دھو کے نکلا وہ گل اس طرح

    کہ بدلی سے نکلے ہے مہ جس طرح

    غرض، شاہ زادے کو نہلا دُھلا

    دِیا خلعتِ خسروانہ پنھا

    جواہر سراسر پنھایا اُسے

    جواہر کا دریا بنایا اُسے

    لڑی، لٹکن اور کلغی اور نورتن

    عدد ایک سے ایک زیبِ بدن

    مرصع کا سرپیچ جنوں آفتاب

    مصفا یہ شکلِ گُلِ آفتاب

    وہ موتی کے مالے پہ صد زیب   زین

    کہیں جن کو آرامِ جاں، دل کا چین

    جواہر کا تن پہ عجب تھا ظہور

    کہ اِک اِک عدد اُس کا تھا کوہ طور

    غرض ہو کے اس طرح آراستہ

    خراماں ہوا سروِ نو خاستہ

    نکل گھر سے جس دم ہوا وہ سوار

    کیے خوان گوہر کے اُس پر نثار

    زبس تھا سواروں کا باہر ہجوم

    ہوا جب کہ ڈنکا، پڑی سب میں دھوم

    برابر برابر کھڑے تھے سوار

    ہزاروں ہی تھی ہاتھیوں کی قطار

    سنہری رپہری تھیں عماریاں

    شب و روز کی سی طرحداریاں

    چمکتے ہوئے بادلوں کے نشان

    سواروں کی غٹ اور بانوں کی شان

    ہزاروں تھی اطراف میں پالکی

    جھلا بور کی جگمگی نا لکی

    کہاروں کی زربفت کی کرتیاں

    اور اُن کے دبے پانو کی پھرتیاں

    بندھیں پگڑیاں تاش کی سر اوپر

    چکا چوندھ میں جس سے آوے نظر

    وہ ہاتھوں میں سونے کے موٹے کڑے

    جھلک جن کی ہر ہر قدم پر پڑے

    وہ ماہی مراتب، وہ سر و رواں

    وہ نوبت کہ دولھاکا جس سے سماں

    وہ شہنائیوں کی صدا خوش نوا

    سہانی وہ نوبت کی اُس میں صدا

    وہ آہستہ گھوڑوں پہ نقارچی

    قدم با قدم بالباسِ زری

    بجائے ہوئے شادیانے تمام

    چلے آگے آگے ملے شاد کام

    سوار اور پیادے، صغیر و کبیر

    جلو میں تمام ی امیر و وزیر

    وے نذریں کہ جس جس نے تھیں ٹھانیاں

    شہہ و شاہزادے کو گزرانیاں

    ہوئے حکم سے شاہ کے پھر سوار

    چلے پھرقرینے سے باندھے قطار

    سجے اور سجائے سبھی خاص و عام

    لباسِ زری میں ملبس تمام

    دق کے طرق اور پرے کے پرے

    کچھ ایدھر اُدھر کچھ درے کچھ پرے

    مرصع کے سازوں سے کوتل سمند

    کہ خوبی میں روح القدس سے دوچند

    وہ فیلوں کی اور میگ ڈمبر کی شان

    جھلکتے وہ مقیش کے سائبان

    چلے پایۂ تخت کے ہو قریب

    بہ دستور شاہانہ نپتے جریب

    سواری کے آگے کیے اہتمام

    لیے سونے روپے کے عاصے تمام

    نقیب اور جلو دار اور چوب دار

    یہ آپس میں کہتے تھے ہر دم پکار

    اُسی اپنے معمول و دستور سے

    ادب سے، تفاوت اور دور سے

    یَلو! نوجوانو! بڑھے جائیو

    دو جانب سے باگیں لیے آئیو

    بڑھے جائیں آگے سے چلتے قدم

    بڑھے عمر و دولت قدم با قدم

    غرض اس طرح سے سواری چلی

    کہے تو کہ بادِ بہاری چلی

    تماشائیوں کا جدا تھا ہجوم

    ہر اک طرف تھی ایک عالم کی دھوم

    لگا قلعے سے شہر کی حد تلک

    دکانوں پہ تھی بادلے کی جھلک

    کیا تھا زبس شہر آئنہ بند

    ہوا چوک کا لطف واں چار چند

    منڈھے تھے تمامی سے دیوار و در

    تمامی وہ تھا شہر سونے کا گھر

    رعیت کی کثرت ہجوم سپاہ

    گزرتی تھی رک رک کے ہر جانگاہ

    ہوئے جمع کوٹھوں پہ جو مردوزن

    ہر اک سطح تھا جوں زمین چمن

    یہ خالق کی سن قدرتِ کاملہ

    تماشے کو نکلی زنِ حاملہ

    لکا لنج سے تاضعیف و نحیف

    تماشے کو نکلے وضیع و شریف

    دحوش و طیوروں تلک بے خلل

    پڑے آشیانوں سے اپنے نکل

    نہ پہنچا جو اک مرغ قبلہ نما

    سو وہ آشیانے میں تڑپا کیا

    زبس شاہزادہ بہت تھا حسیں

    ہوئے دیکھ عاشق کہین و مہین

    نظر جس کو آیا وہ ماہِ تمام

    کیا اُس نے جھک جھک کے اُس کو سلام

    دعا شاہ کوری کہ بارِ الٰہ!

    سدا یہ سلامت رہیں مہر و ماہ

    یہ خوش اپنے مہ سے رہے شہر یار

    کہ روشن رہے شہر، پروردگار

    غرض شہر سے باہر اک سمت کو

    کوئی باغ تھا شہہ کا اُس میں سے ہو

    گھڑی چار تک خوب سی سیر کی

    رعیت کو دکھلا کے اپنا پِسر

    اُسی کثرتِ فوج سے ہو سوار

    پھرا شہر کی طرف وہ شہریار

    سواری کو پہنچا گئی فوج اُدھر

    گئے اپنی منزل میں شمس و قمر

    جہاں تک کہ تھیں خادمانِ محل

    خوشی سے وہ ڈیوڑھی تک آئیں نکل

    قدم اپنے حجروں سے باہر نکال

    لیا سب نے آپیشوا حال حال

    بلائیں لگیں لینے سب ایک بار

    کیا جی کو یک دست سب نے نثار

    گیا جب محل میں وہ سردِ رواں

    بندھا ناچ اور راگ کا پھر سماں

    پہر رات تک پہنے پوشاک وہ

    رہا ساتھ سب کے طرب و ناک وہ

    قضارا، وہ شب تھی شب چاردہ

    پڑا جلوہ لیتا تھا ہر طرف.....

    نظارے سے تھا اس کے دل کو سرور

    عجب عالمِ نور کا تھا ظہور

    عجب لطف تھا سیر مہتاب کا

    کہے تو دریا تھا سیماب کا

    ہوا شاہزادےکا دِل بے قرار

    یہ دیکھی جو واں چاندنی کی بہار

    کچھ آئی جو اُس مہ کے جی میں ترنگ

    کہا: آج کوٹھے پہ بچھے پلنگ

    خواصوں نے جا شاہ سے عرض کی

    کہ شہہ زادے کی آج یوں ہے خوشی

    ارادہ ہے کوٹھے پر آرام کا

    کہ بھایا ہے عالم لبِ بام کا

    کہا شہہ نے: اب تو گئے دن نکل

    اگر یوں ہے مرضی، تو کیا ہے خلل

    پر، اتنا ہو، اُس سے خبردار ہوں

    جنہوں کی ہے چوکی وہ بیدار ہوں

    لبِ بام پر جب یہ سوئے صنم

    کریں سورہ ٔنور کو اُس پہ دم

    تمہارا مرا بول بالا رہے

    یہ اِس گھر کا قائم اجالا رہے

    کہا تب خواصوں نے: حق سے اُمید

    یہی ہے کہ ہم بھی رہیں رو سفید

    پھریں حکم لے واں سے پھر شاہ کا

    بچھونا کیا جا کے اُس ماہ کا

    قضارا، وہ دن تھا اُسی سال کا

    غلط وہم ماضی میں تھا حال کا

    سخن مولوی کا یہ سچ ہے قدیم

    کہ ’’آگے قضا کے، ہو احمق حکیم‘‘

    پڑے اپنے اپنے جو سب عیش بیچ

    نہ سوجھی زمانے کی کچھ اونچ نیچ

    یہ جانا کہ یوں ہی رہے گا یہ دور

    زمانے کو سمجھا انہوں نے نہ طور

    کہ اس بے وفا کی نئی ہے ترنگ

    یہ گرگٹ بدلتا ہے ہر دم میں رنگ

    کِرا بادہ ٔ عیش در جام ریخت

    کہ صد شام بر فرقِ صبحش نہ بیخت

    نہ داری تعجب ز نیرنگ دہر

    کہ آردز یک حقہ تر یاک و زہر

    داستان شاہ زادے کے کوٹھے پر سونے کی اور پری کے اڑا کر لے جانے کی

    شتابی سے اٹھ ساقیِ بے خبر!

    کہ چاروں طرف ماہ ہے جلوہ گر

    بلوریں گلابی میں دے بھر کے جام

    کہ آیا بلندی پہ ماہِ تمام

    جوانی کہاں اور کہاں پھر یہ سن

    مثل ہے کہ ہے چاندنی چار دن

    اگر مے کے دینے میں کچھ دیر ہے

    تو پھر جان یہ تو، کہ اندھیر ہے

    وہ سونے کا جو تھا جڑاؤ پلنگ

    کہ سیمیں تنوں کو ہو جس پرامنگ

    کھنچی چادر اِک اُس پہ شبنم کی صاف

    کہ ہو چاندنی جس صفا کی غلاف

    دھرے اُس پہ تکیے، کئی نرم نرم

    کہ مخمل کو ہو جس کے دیکھے سے شرم

    کہاں تک کوئی اس کی خوبی کو پائے

    جسے دیکھ آنکھوں کو آرام آئے

    کسے اُس پہ کسنے وہ مقیش کے

    کہ جھبوں میں تھے جس کے موتی لگے

    سراسر ادقچے زری باف کے

    کہ تھے رشک آئینۂ صاف کے

    وہ گل تکیے اُس کے جو تھے رشکِ ماہ

    کہ ہر وجہ تھی اُن کو خوبی میں راہ

    کبھی نیند میں جب کہ ہوتا تھا وہ

    تو رخسار رکھ اپنا سوتا تھا وہ

    چھپائے [4] سے ہوتا نہ حسن اس کا ماند

    کہے تو لگائے تھے مکھڑے پہ چاند

    زبس نیند میں تھا جو وہ ہو رہا

    بچھونے پہ آتے ہی وہ سو رہا

    وہ سویا جو اس آن سے بے نظیر

    رہا پاسباں اُس کا ماہِ منیر

    ہو اُس کے سونے پہ عاشق جو ماہ

    لگا دی اُدھر اُس نے اپنی نگاہ

    وہ مہ، اُس کے کوٹھے کا بالا ہوا

    غرض واں کا عالم دوبالا ہوا

    وہ پھولوں کی خوشبو وہ ستھرا پلنگ

    جوانی کی نیند اور وہ سونے کا رنگ

    جہاں تک کہ چوکی کے تھے باری دار

    ہوا جو چلی سو گئے ایک بار

    غرض سب کو واں عالمِ خواب تھا

    مگر جاگتا ایک مہتاب تھا

    قضارا، ہوا اک پری کا گزر

    پڑی شاہ زادے پہ اُس کی نظر

    بھبھوکا سا دیکھا جو اُس کا بدن

    جلا آتشِ عشق سے اُس کا ن

    جو دیکھا تو عالم عجب ہے یہاں

    منور ہے سارا زمیں آسماں

    دوپٹے کو اُس مہ کے منہ سے اٹھا

    دِیا گال سے گال اپنا ملا

    اگرچہ ہوئی تھی زیادہ ہوس

    ولیکن حیا نے کہا اُس کو، بس

    مے عشق میں پھر یہ سوجھی ترنگ

    کہ لے چلیے اس کا امانت پلنگ

    محبت کی آئی جو دِل پر ہوا

    وہاں سے اُسے لے اڑی دل ربا

    ہوا جب زمیں سے وہ شعلہ بلند

    ہوا میں ستارہ سا چمکا دو چند

    شب مہ میں یوں وہ زمیں سے اُٹھا

    چلے شیر جس طرح سے جوش کھا

    جلے رشک سے اُس کے شمع و چراغ

    کہ اُس مہ کا پہنچا فلک پر دماغ

    غرض لے گئی آن کی آن میں

    اڑا کر وہ اس کو پرستان میں

    کبھی خوش ہے دل اور کبھی دردمند

    زمانے کی جب سے ہے پست و بلند

    شتابی مجھے ساقیا! دے شراب

    کہ یہ حال سن کر ہوا دِل کباب

    داستان وہاں سے اُس کے غائب ہونے کی اور غم سے ماں باپ اور سب کے حالت تباہ کرنے کی

    یہاں کا تو قصہ میں چھوڑا یہاں

    ذرا اب سنو غم زدوں کا بیاں

    کروں حال ہجراں زدوں کا رقم

    کہ گزرا جدائی سے کیا ان پہ غم

    کھلی آنکھ جو ایک کی واں کہیں

    تو دیکھا کہ وہ شاہ زادہ نہیں

    نہ ہے وہ پلنگ اور نہ وہ ماہ رو

    نہ وہ گل ہے اُس جا نہ وہ اُس کی بو

    رہی دیکھ یہ حال حیران کار

    کہ یہ کیا ہوا، ہائے پروردگار

    کوئی دیکھ یہ حال رونے لگی

    کوئی غم سے جی اپنا کھونے لگی

    کوئی بلبلاتی سی پھرنے لگی

    کوئی ضعف ہو ہو کے گرنے لگی

    کوئی سر پہ رکھ ہاتھ، دل گیر ہو

    گئی بیٹھ ماتم کی تصویر ہو

    کوئی رکھ کے زیرِ زنخداں چھڑی

    رہی نرگس آسا کھڑی کی کھڑی

    رہی کوئی انگلی کو دانتوں میں داب

    کسی نے کہا: گھر ہوا یہ خراب

    کسی نے دیے کھول سنبل سے بال

    تپانچوں سے جوں گل کیے سرخ گال

    نہ بن آئی کچھ اُن کواِس کے سوا

    کہ کہیے یہ احوال اب شبہ سے جا

    سنی شہہ نے القصہ جب یہ خبر

    گرا خاک پر کہہ کے: ہائے پسر!

    کلیجا پکڑ ماں تو بس رہ گئی

    کلی کی طرح سے بکس رہ گئی

    ہوا گم وہ یوسف ، پڑی یہ جو دھوم

    کیا خادمانِ محل نے ہجوم

    کہا شہہ نے: واں کا مجھے دو پتا

    عزیزو! جہاں سے وہ یوسف گیا

    گئیں لے وہ شہہ کو لبِ بام پر

    دکھایا کہ سوتا تھا یاں سیم بر

    یہی تھی جگہ وہ جہاں سے گیا

    کہا: ہائے بیٹا! تو یاں سے گیا

    مرے نوجواں! میں کہاں جاؤں پیر؟

    نظر تو نے مجھ پہ نہ کی بے نظیر!

    عجب بحر غم میں ڈبویا ہمیں

    غرض ، جان سے تو نے کھویا ہمیں

    کروں اس قیامت کا کیا میں بیاں

    ترقی میں ہر دم تھا شور و فغاں

    لبِ بام کثرت جو یکسر ہوئی

    تلے کی زمیں ساری اوپر ہوئی

    شب آدھی وہ جس طرح سوتے کٹی

    رہی تھی جو باقی، سو روتے کٹی

    عجب طرح کی شب تھی ہیہات وہ

    قیامت کا دن تھا، نہ تھی رات وہ

    سحر نے کیا جب گریبان چاک

    اڑانے لگے سر پہ سب مل کے خاک

    اٹھا شہر میں ہر طرف شور و غل

    کہ غائب ہوا اس چمن سے وہ گل

    غم و درد سے دل جو سب کا بھرا

    ہوا باغ سارا وہ ماتم سرا

    گیا جب کہ وہ سرو اس باغ سے

    نظر پھول آنے لگے باغ سے

    اکڑنا گئے سرو سب اپنا بھول

    اڑانے لگیں قمریاں سر پہ دھول

    صدا اب جو کوئی انہوں کی سنے

    تو کو، کو سے اُن کی، جگر تک بھنے

    ہوئے خشک اور زرد سارے نہال

    ثمر لگ کے پاتوں ہوئے پائے مال

    ترانے سے بلبل کا جی ہٹ گیا

    گلوں کا جگر، درد سے پھٹ گیا

    تبسم کلی حزن سے بھول گئی

    پیا غم سے ازبس لہو، پھول گئی

    اڑا نور نرگس کی آنکھوں کا سب

    ہوئے بال سنبل کے ماتم کی شب

    لب جو کے اڑنے لگی گرد، گرد

    گلِ اشرفی کا ہوا رنگ زرد

    لگی آگ لالہ کے دل کو تمام

    دیا آگ میں پھینک عشرت کا جام

    پڑا ماتم اُس باغ میں بس کہ سخت

    ہوئے نخلِ ماتم، تمامی درخت

    گرے غم سے انگور مدہوش ہو

    پڑے سایے سارے سیہ پوش ہو

    لگے تھے جو پتے درختوں کے ساتھ

    وہ ہل ہل کے ملتے تھے آپس میں ہاتھ

    وہ لب ریز جو نہر تھی جا بہ جا

    سو، آنکھوں کو وہ رہ گئی ڈبڈبا

    اچھلتے تھے فوارے اُس کی جو واں

    کئی سب نکل اُن کی تاب و تواں

    مژہ پر جو کچھ اشک تھے، جھڑ گئے

    غرض، روتے روتے گڑھے پڑ گئے

    ہوا حال چشموں کا یاں تک تباہ

    کیا رخت پانی نے اپنا سیاہ

    کہاں دے کنویں اور کدھر آبشار

    کوئی دل میں روئے کوئی دھاڑ مار

    نہ بکلوں کا عالم نہ وہ قرقرے

    نہ وے آبجو، نہ سبزے ہرے

    جہاں رقص کرتے تھے طاؤسِ باغ

    لگے بولنے اُن منڈیروں پہ زاغ

    سہانی وہ چھائیں جو دل چسپ تھیں

    سو کیا ہو کہ اب دل لگے واں کہیں؟

    منقش جہاں تھے وہ رنگیں مکاں

    ہوئے سب وہ جوں دیدہ خونچکاں

    گلوں کی طرح کھل رہے تھے جو دل

    سووے سب خزاں   سے ہوئے مضمحل

    خزاں کا علم واں جو آ کر گڑا

    جگر، برگ کی طرح جھڑ پڑا

    نہ غنچہ ، نہ گل، نے گلستاں رہا

    فقط دل میں اِک خارِ ہجراں رہا

    وزیروں نے دیکھا جو احوالِ شاہ

    کہ ہوتی ہے اب اس کی حالت تباہ

    کہا سب نے سمجھا کے اُس شاہ کو

    کہ دیکھو گے تم اپنے اس ماہ کو

    اگرچہ جدائی گوارا نہیں

    ولیکن خدائی سے چار ا نہیں

    سدا ایک ساون گزرتا نہیں

    کوئی ساتھ مرتے کے، مرتا نہیں

    نہیں خوب اتنا تمہیں اضطراب

    نصیبوں سے شاید ملے وہ شتاب

    خدا جانے اب اس میں کیا بھید ہے؟

    یہ کہتے ہیں، جیتوں کو امید ہے

    نہ دانم کہ تا کردگارِ جہاں

    دریں آشکارا چہ دارد نہاں

    خدا کی خدائی تو معمور ہے

    غرض اُس کے نزدیک کیا دور ہے؟

    نہیں ایک صورت پہ کوئی مدام

    اُسی کی غرض ذات کو ہے قیام

    یہ کہ اور شہہ کو بٹھا تخت پر

    بہ ہر نوع رہنے لگے یک دگر

    لٹایا بہت باپ نے مال و زر

    ولیکن نہ پائی کچھ اس کی خبر

    ذرا خضرِ رہ تو ہی ہو   ساقیا!

    مجھے دے کے مے کھوج اس کا بتا

    نہ پائی کہیں یاں جو اس گل کی بو

    کروں اب پرستان کی جست و جو

    داستان پرستان میں لے جانے کی:

    اڑی جو پری واں سے لے کر اُسے

    اتارا پرستاں کے اندر اُسے

    وہاں ایک تھا سیر کا اُس کی باغ

    کہ جس کے گلوں سے ہو تازہ دماغ

    رِیاحین و گل اُس میں انواع کے

    طلسمات کل اُس میں انواع کے

    طلسمات کے سارے دیوار و در

    نہ یاں کے سے کوٹھے، نہ یاں کے سے گھر

    مطلا، منقش ، مشبک تمام

    یہ کیا ہو جو ہو دھوپ کا اُس میں نام

    گر [5]ے چھن کے واں اس لطافت سے دھوپ

    کہ زردی کا جوں زعفراں پر ہو روپ

    نہ آتش کا خطرہ نہ باراں کا ڈر

    نہ سردی ، نہ گرمی کا اس میں خطر

    جدے اور ملے سب کلوں کے مکاں

    جہاں چاہیے جا کے رکھ دیں وہاں

    درخشندہ ہر سقف دالان کی

    ہو دیوار جیسی چراغان کی

    زمیں ساری واں کی جواہر نگار

    ادھر میں چمن اور ہوا میں بہار

    کسی کو ہو جس چیز کا اشتیاق

    نظر آوے وہ چیز بالائے طاق

    جواہر کے ذی روح وحش و طیور

    خراماں پھریں صحن میں دور دور

    پھریں دن کو سارے وہ حیوان ہو

    کریں رات کو کام ، انسان ہو

    لگے ہر طرف گوہر شب چراغ

    وہی دن کو گوہر، وہی شب چراغ

    بنائے ہوئے جاہل باہم نہال

    گل و غنچہ سب واں کے دور از خیال

    صدا آپ سے آپ گھڑیال کی

    کہیں ناچ کی اور کہیں تال کی

    رہے واں کے حجروں کا جو در کھلا

    تو دنیا کے باجوں کی آوے صدا

    وگر بند کر دیجیے ایک بار

    توجوں ارغنوں، راگ نکلیں ہزار

    مکانوں میں مخمل کا فرش و فروش

    بہ خط سلیمانی اس پر نقوش

    طلسمات کے پردے اور چلو نیں

    ارادے پہ دل کے اٹھیں اور گریں

    خواصیں پری زاد اس میں تمام

    پھریں گرد گرد اس پری کے مدام

    سر تہر بنگلا مرصع نگار

    سراپا بہ رنگ گہر آب دار

    رکھا شاہزادے کا اُس میں پلنگ

    کھلا حسن سے اس کے بنگلے کا رنگ

    قضارا کھلی آنکھ اُس گل کی جو

    نہ پائی وہاں شہر کی اپنے بو

    نہ وے لوگ دیکھے، نہ وہ اپنی جا

    تعجب سے ایک ایک کوتک رہا

    اچنبھے کا یہ خواب دیکھا جو واں

    لگا کہنے: یارب ! میں آیا کہاں؟

    زبس تھا وہ لڑکا، تو سہماں بھی کچھ

    ہوا کچھ دلیر، اور حیران بھی کچھ

    سرہانے جو دیکھی مہ چار وہ

    کہ ہے اجنبی سی وہ اک رشکِ مہ

    کہا: کون ہے تو، یہ کس کا ہے گھر؟

    لے آیا مجھے کون گھر سے اِدھر؟

    پھرا منہ کو، اور لے اُدھر سے نقاب

    دیا اُس پری نے یہ ہنس کر جواب

    خدا جانے تو کون، میں کون ہوں؟

    مجھے بھی تعجب ہے میں کیا کہوں؟

    پر اب تو، تو مہمان ہے میرے گھر

    لے آئی ہے تجھ کو قضا و قدر

    یہ گھر گو کہ میرا ہے، تیرا نہیں

    پر اب گھر یہ تیرا ہے، میرا نہیں

    ترے عشق نے مجھ کو شیدا کیا

    ترا غم، مرے دل میں پیدا کیا

    چھڑا کر ترا تجھ سے شہر و دیار

    یہ بندی ہی لائی ہے تقصیر وار

    پری ہوں میں اور یہ پرستان ہے

    یہاں سب یہ قوم بنی جان ہے

    کہاں صورت جن کہاں شکل انس

    غرض قہر ہے صحبت غیر جنس

    پری کو ہوئی شادی، اس مہ کو غم

    پہ لاچار کیا کر سکے وہ صنم

    کبھی یوں بھی ہے گردشِ روزگار

    کہ معشوق عاشق کے اور اختیار

    یہ جبراً دل اپنا لگایا وہاں

    کہا اُس نے جو کچھ کہا اُس کو ہاں

    ولیکن نہ عقل و نہ ہوش و حواس

    رہے وحشیوں کی طرح وہ اداس

    کبھی اشک آنکھوں میں بھر لائے وہ

    کبھی سانس لے کر کہے ہائے وہ

    وہ محلوں کی چہلیں وہ گھر کا سماں

    رہے رو بہ رو دھیان میں ہر زماں

    وہ شفقت جو ماں باپ کی یاد آئے

    تو راتوں کو رو رو کے دریا بہائے

    کبھی اپنی تنہائی پر غم کرے

    کبھی اپنے اوپر دعا دم کرے

    کرے یاد جب اپنے ناز و نعم

    فغاں زیر لب وہ کرے دم بہ دم

    بہانے سے دن رات سویا کرے

    نہ ہو جب کوئی، تب وہ رویا کرے

    غرض اضطراب اس کو ہر حال میں

    کہ جوں مرغ تڑپھے، نیا جال میں

    غرض، ماہ رخ اس پری کا تھا نام

    پدرسے کیا تھا یہ پوشیدہ کام

    کبھی گھر میں رہتی ، کبھی رہتی واں

    کہ تا، راز اُس کا نہ ہووے عیاں

    وہ پریوں میں ازبس کہ تھی ذی شعور

    نئی چیز لاتی تھی اس کے حضور

    عجائب غرائب پرستان کے

    دکھاتی تھی ہر شب اُسے آن کے

    نئے کھانے اور میوے اقسام کے

    مہیا سب اسباب آرام کے

    نئی کشتیاں روز پوشاک کی

    خوشامد سدا جانِ غم ناک کی

    نئے سانگ داں کے، نئے راگ و رنگ

    کہ تا دِل لگے ، اور نہ ہو جی بہ تنگ

    شرابوں کے شیشے، چنے طاق میں

    گزک وہ کہ نکلے نہ آفاق میں

    شراب و کباب و بہار و نگار

    جوانی و مستی و بوس و کنار

    نہ تھا اور کچھ غم تو اس کو وہاں

    بغیر از غم دوریِ دوستاں

    اسی غم سے گھل گھل کے مرتا تھا وہ

    سدا شمع ساں آہ کرتا تھا وہ

    پری وہ جو ھی دل لگائے ہوئے

    وہ بیٹھی تھی اُس کو اڑاے ہوئے

    وہ تھی نازنیں بھی بہت عقل مند

    نہ کھلنے سے کچھ اس کے ہوتی تھی بند

    کہا ایک دن اس نے: سن، بے نظیر!

    مرے دام میں تو ہوا ہے اسیر

    تو اک کام کر، اک پہر پھر کہیں

    کیا کر ٹک اِک سیر روے زمیں

    تو رک رک کے دل کو نہ کرا پنے بند

    نہ پہنچے کہیں تیرے دل کو گزند

    سرِ شام جات ہوں میں باپ پاس

    اکیلا تو رہتا ہے اس جا اداس

    یہ گھوڑا میں دیتی ہوں کل کا تجھے

    ولیکن، یہ دے تو مچلکا مجھے

    کہ گر شہر کی طرف جاوے کہیں

    دیا، دل کسی سے لگا دے کہیں

    تو پھر حال ہو جو گنہہ گار کا

    وہی حال ہو تو تجھ سے دل دار کا

    کہا: کیوں کے میں تجھ جو جاؤں گا بھول

    مجھے جو کہا تم نے، سو سب قبول

    کہا ماہ رخ نے کہ تھے تیرے بخت

    کہ بخشا تجھے میں سلیمان ؑ کا تخت

    جو ارے تو کل اس کی یوں جوڑیو

    جو برعکس چاہے تو، ووں موڑیو

    زمیں سے لگا اور تا آسماں

    جہاں چاہیو، جائیو تو وہاں

    داستان گھوڑے کی تعریف میں

    کہوں کیا میں اس اسپ کی خوبیاں

    پرندوں میں کب ہوں؟ یہ مجبوریاں

    ذرا کل کے موڑے فلک پر ہوا

    جو کہیے تو کہیے اُسے باد پا

    نہ کھاوے، نہ پیوے، نہ سووے کبھی

    نہ ٹاپے، نہ بیمار ہووے کبھی

    نہ حشری، نہ کمری، نہ شب کور وہ

    نہ وہ کہنہ لنگ، اور نہ منہ زور وہ

    نہ ہڈون کا، نے موثروں کا خلل

    نہ پیشاق اوپر ستارے کا بل

    نہ ساپن، نہ ناگن، نہ بھونری کا ڈر

    ہراک عیب سے وہ غرض بے خطر

    یہ گھوڑا جو اُس گل کے تھا بخش کا

    فلک سیر تھا نام اُس رخش کا

    سرِ شام وہ بے نظیر جہاں

    اُسی رخش پہ ہوے جلوہ کناں

    ہر اِک طرف سے ہو گزرتا تھا وہ

    وہی اک پہر سیر کرتا تھا وہ

    پہر جب کہ بجتا ، تو پھر تاشتاب

    کہ پھر قہر تھا ماہ رخ کا عتاب

    داستان وارد ہونے بےنظیر کے بدرمنیر کے باغ میں اور شاہ زادی کے عاشق ہونے میں

    کدھر ہے تو، اے ساقیٔ شوخ رنگ!

    کہ آیا ہوں میں بیٹھے بیٹھے بہ تنگ

    پلا مجھ کو دارو کوئی تیز و تند

    کہ ہوتا چلا ہے مرا ذہن کند

    مرے توسن طبع کے پر لگا

    مجھے یاں سے لے چل فلک پر اڑا

    سنو ایک دن کی یہ تم واردات

    اٹھا سیر کو بے نظیر ایک رات

    ہوا ناگہاں اس کا اک جاگزر

    سہانا سا اِک باغ آیا نظر

    سفید ایک دیکھی عمارت بلند

    کہ تھی نور میں چاندنی سے دوچند

    وہ چھٹکی ہوئی چاندنی جا بہ جا

    وہ جاڑے کی آمد، وہ ٹھنڈی ہوا

    وہ نکھرا فلک اور مہ کا ظہور

    لگا شام سے صبح تک وقت نور

    یہ عالم جو بھایا تو کوٹھے پہ آ

    اتر اپنے گھوڑے سے اور سر جھکا

    لگا جھانکنے اُس مکاں کےئیں

    کہ دیکھوں تو، یاں کوئی ہے ، یا نہیں

    جو دیکھے تو ایسا کچھ آیا نظر

    کہ سب کچھ گیا اُس کےجی سے اتر

    کہا جی سے، اب تو جو کچھ ہو سو ہو

    ذرا چل کے اس سیر کو دیکھ لو

    یہ کہہ، نیچے اترا دبے پاؤں وہ

    نظر سے بچائے ہوئے چھانو وہ

    الگ کھول، ہاتھوں سے واں کا کواڑ

    چلا سایہ سایہ درختوں کی آڑ

    تھے اِک طرف گنجان باہم درخت

    کہ لپٹے ہوں جس طرح مشتاق سخت

    لگا واں سے چھپ چھپ کے کرنے نظر

    درختوں سے جوں ماہ ہو جلوہ گر

    جو دیکھے تو صحبت عجب ہے وہاں

    عجب چاندنی ہے عجب ہے سماں

    عجب صورتیں اور طرفہ محل

    چلا دیکھتے ہی دل اس کا نکل

    ملی جنس کی اپنی جو اس کو بو

    لگا تکنے حیرت سے حیران ہو

    نظر آئی واں چاندنی کی بہار

    کہ آنکھوں نے کی خیرگی اختیار

    در و بام اِک لخت سارے سفید

    ہر اِک طاق ، محراب، صبح امید

    مغرّق زمیں پر تمامی کا فرش

    جھلک جس کی لے فرش سے تابہ عرش

    زمیں کا طبق، آسماں کا طبق

    سنہری، روپہلی ہو جیسے ورق

    بلوریں دھرے ہر طرف سنگِ فرش

    کہ جس سے منور رہے رنگِ فرش

    گئی اُس کے عالم پہ جس دم نگاہ

    اور آیا نظر اس کو اک رشکِ ماہ

    طرح اس کی ہر دل کی مانوس تھی

    کہ گویا وہ شیشے کی فانوس تھی

    کہیں دیکھ اُس کے تئیں ہوش مند

    پری کو کیا ہے گاشیشے میں بند

    ہر اک سمت واں نور، کا ازدحام

    لگے آئنے قدِ آدم تمام

    لپیٹے ہوئے بادلوں سے درخت

    زمیں و ہوا، صاحبِ تاج و تخت

    ملبب وہ چوپڑ کی پاکیزہ نہر

    پڑے چشمۂ ماہ میں جس سے لہر

    لبِ نہر پہ صاف جو غور کی

    تو پڑی تھی وہ ایک بلور کی

    پڑے اُس میں فوارےچھٹتے ہوئے

    ہوا بیچ موتی سے لٹتے ہوئے

    مقرض پڑا اس پہ مقیش جو

    گرا ماہ واں رشک سے پرزے ہو

    لیے ود مقیش چھوٹے بڑے

    سبھی مہ، ستارے اڑا دیں کھڑے

    غرض، اپنی صنعت سے تاروں کو توڑ

    زمیں کو فلک کا بناتے ہیں جوڑ

    ہوا میں وہ جگنو سے چمکیں بہم

    ملیں جلوہ مہ کو زیر قدم

    فقط چاندنی میں کہاں طور یہ

    کہ طرہ نہ جب تک ملے اور یہ

    زمانہ زر افشاں ہوا زر فشاں

    زمیں سے لگا تا زماں زرفشاں

    گل و غنچہ نسرین و تاجِ خروس

    زمینِ چمن سب جبینِ عروس

    خراماں زری پوش ہر ماہ وش

    کریں دیکھ کر مہر و مہ جن کو غش

    کھڑا ایک نمگیرہ ٔ زرنگار

    کہ تھے جس کی جھالر پہ موتی نثار

    جڑاؤ وہ استاد سے الماس کے

    ڈھلے ایک سانچے کے اِک راس کے

    کھنچی ڈور ہر طرف زرتار کی

    لڑی جوں کناری کے ہوں ہار کی

    کہوں کیا میں جھالر کی اس کی پھبن

    کہ سورج کے ہوگرد جیسے کرن

    مغرّق بچھی مسند اِک جگمگی

    کہ تھی چاندنی جس کے قدموں لگی

    نہ پھولے سماتے تھے تکیے دھرے

    کہ تھے وے فقط حسن ہی سے بھرے

    بلوریں صراہی، وہ جامِ بلور

    دل و دیدہ وقفِ تماشائے نور

    زمین نور کی، آسماں نور کا

    جدھر دیکھو اودھر سمان نور کا

    چمن سارے داؤ دیوں سے بھرے

    جوانانِ شبو کے ہر جا پرے

    ستاروں کا مہتاب میں حال یوں

    کہ چونے میں پانی کے قطرے ہوں جوں

    اگر کیجیے سایے اوپر نگاہ

    تو ہے وہ بھی جوں سایۂ مہر و ماہ

    کرے ہے نگہ جس طرف کو گزر

    بہ جز نور آتا نہیں کچھ نظر

    کروں کون سے حسن کو انتخاب

    ہر اِک آئنے میں وہی ماہتاب

    نظر جس طرف جائے نزدیک و دور

    اُسی ایک مہ کا ہے ہر جا ظہور

    نکل اپنی وحدت سے ، کثرت میں آ

    وہی نور ہے جلوہ گر جا بہ جا

    نئے رنگ سےہر طرف ماہتاب

    وہی ایک نکتہ کہ جس کی کتاب

    حقیقت کی لیکن بصارت بھی ہو

    کہ دیکھے نہ اُس کے سوا غیر کو

    داستانِ بدر منیر کی تعریف میں

    گلابی مرے سامنے ساقیا!

    مہ چار دہ کو دکھا کر ہلا!

    کہ دیکھے سے جو جس کے، دل کو سرور

    نظر کام کر جائے نزدیک و دور

    کروں اس مکاں کی مکیں کا بیاں

    کہ ہے بعد خانم، نگیں کا بیاں

    وہ مسند جو تھی موجِ دریائے حسن

    وہاں دیکھی اِک مسند آرائے حسن

    برس پندرہ ایک کا سن و سال

    نہایت حسیں اور صاحب جمال

    دیے کہنی تکیے پہ اک ناز سے

    سر نہر بیٹھی تھی انداز سے

    خواصیں کھڑیں ایدھر اودھر تمام

    ستاروں کا جوں ماہ پر ازدحام

    وہ بیٹھی تھی سج دھج بنائے ہوئے

    دِل اس چاندنی پر لگائے ہوئے

    ادھر آسماں پر درخشندہ مہ

    ادھر یہ زمیں پر مہِ چار دہ

    پڑا عکس دونوں کا جوں نہر میں

    لگے لوٹنے چاند ہر لہر میں

    نظر آئے اتنے جو اِک بار چاند

    زمانے کے منہ کو لگے چار چاند

    عجب طرح کا حسن تھا جاں فزا

    کہ مہ، روز بہ رو جس کے تھا ٹھیکرا

    کہوں اس کی پوشاک کا کیا بیاں

    فقط ایک پشوازِ آبِ رواں

    زبس موتیوں کی تھی، سنجاف کُل

    کہے تو، وہ بیٹھی تھی موتی میں تل

    اور اِک اوڑھنی جوں ہوا یا جباب

    جسے دیکھ، شبنم کو آوےحجاب

    صباحت، صفا اُس میں جھلکی ہوئی

    پڑی سر سے کاندھے پہ ڈھلکی ہوئی

    گریباں میں تکمہ اِک الماس کا

    ستارہ سا مہتاب کے پاس کا

    وہ کرتی، وہ انگیا جواہر نگار

    نیا باغ اور ابتدا کی بہار

    وہ چھب تختی اور اس کی کرتی کا چاک

    تڑاقے کی انگیا کسی ٹھیک ٹھاک

    جھلک پایجامے کی دامن سے یوں

    نظر آئے آئنے میں ماہ جوں

    صفائی پہ پوشاک کی دیکھیو

    نظر سوچ میں ہے کہ میلی نہ ہو

    وہ ترکیب اور چاند سا وہ بدن

    وہ بازو، پہ ڈھلکے ہوئے نورتن

    جڑاؤ دو بالے کہ ہالے کا رشک

    وہ موتی کے مالے کہ عاشق کا اشک

    وہ آنکھوں کی مستی وہ مژگاں کی نوک

    کرن پھول کی اور بالے کی جھوک

    وہ موتی کا دلڑا وہ موتی کا ہار

    سدا اشکِ غم دیدہِ جس پر نثار

    لگا ڈھکڈھکی ، پچ پڑا، ست لڑا

    سراسر گلے حسن اس کے پڑا

    جڑاؤ دمکتی وہ چمپا کلی

    رہے جس سے الماس کو بے کلی

    تلے اُس کے موتی لگے گرد کُل

    کہ جوں شبنم آلودہ ہو برگِ گل

    جہاں گیریوں کا کروں کیا بیاں

    کہ اٹھتا تھا ہاتھوں سے اُس کے فغاں

    جواہر سے مینے کی ہیکل جڑی

    کمر اور کولہے کے نیچے پڑی

    فقط موتیوں کی پڑی پائے زیب

    کہ جس کے قدم سے گہرہائے زیب

    کسی کے کہاں ہاتھ وہ پانو آئے؟

    جواہر جہاں پاؤں پڑ پڑ کے جائے

    سراپا اگر ہو زباں، میرا تن

    سراپا میں اُس کے کروں کیا سخن

    سب اعضا بدن کے موافق، درست

    ہر اک کام میں اپنے چالاک وچست

    جہاں راستی چاہیے ، راستی

    کجی جس جگہ چاہیے، واں کجی

    وہ مکھڑا، جسے دیکھ، مہہ داغ کھائے

    وہ نقشہ کہ تصویر کو حیرت آئے

    جو کچھ چاہیے ٹھیک نک سکھ سے انگ

    نزاکت بھرا سیوتی کا سا رنگ

    کچھ اک تمکنت اور کچھ اِک بانکپن

    غرض، ہر طرح میں انوکھی پھبن

    کرشمہ، ادا، غمزہ ہر آن میں

    غرض، دل بری اُس کے فرمان میں

    تغافل، حیا، ناز، شوخی، غرور

    ہر اِک اپنے موقع سے وقتِ ضرور

    تبسم، تکلم، ترحم، ستم

    موافق ہر اک حوصلے کے کرم

    وہ ابرو کے ایوانِ محرابِ حسن

    جھکی شاخِ نخلِ گلستانِ حسن

    نگہ: آفت و چشم: عینِ بلا

    مژہ، دے صفوں کو الٹ برملا

    درگوش جب اس کا تابندہ ہو

    صدف کا دلِ صاف شرمندہ ہو

    وہ بینی کہ جس کی نہیں کچھ نظیر

    ہے انگشتِ قدرت کی سیدھی لکیر

    وہ رخسارِ نازک کہ ہو جائے لال

    اگر اُس پہ بوسے کا گزرے خیال

    نہیں رطب و یابس کا یاں کچھ حساب

    بیاضِ گلو، سب کی سب انتخاب

    وہ ساعد وہ بازو بھرے گول گول

    برابر ہو الماس کے جن کامول

    وہ دستِ حنا بستہ، خوبی کے باب

    شفق میں ہوں جوں پنجۂ آفتاب

    زبس مثل آئنہ تھا اُس کا تن

    کہے تو کہ تھی ناف، عکس ذقن

    کمر کو کہوں کیوں کے میں اُس کے بیچ

    نہ آوے نظر، تو ہے قسمت کا پیچ

    وہ زانو کہ آجائے گر اُس پہ ہاتھ

    تو پھر عمر بھر ہاتھ زانو کے ساتھ

    وہ ساقِ بلوریں، وہ اندازِ پا

    پھرے ہر سحر چشمِ و دل میں سدا

    قد و قامت آفت کا ٹکڑا تمام

    قیامت کرے جس کو جھک کر سلام

    وہ اٹھکھیلیاں اور اس کی وہ چال

    کہ دل جس سے عالم کا ہو پائے مال

    بنا کبک کیسی ہی گو چال لائے

    کہاں پر وہ رفتار کو اس کی پائے

    الگ چال اُس کی، کوئی کیا چلے؟

    یہ انداز سب اُس کے پاؤں تلے

    عجب پشتِ پا، صاف انگشتِ پا

    کفِ پا دکھاوے، سر پشتِ پا

    مغرق جواہر سے اِک جفت کفش

    نہ وہ مفتِ پا، بلکہ پا مفت کفش

    یہ قدرت کا دیکھا جو اس نے خیال

    کہا شاہزادے نے یا ذوالجلال

    درختوں سے وہ دیکھتا تھا نہاں

    کسی کی نظر جا پڑی ناگہاں

    جو دیکھے تو ہے اِک جوانِ حسین

    درختوں کی ہے اوٹ، ماہِ مبیں

    یہ سن ایک سے ایک واں سب کی سب

    بھریں برگِ گل کی طرح غنچہ لب

    جو دیکھیں، تو شعلہ سا روشن ہے کچھ

    درختوں کا روشن سا آنگن ہے کچھ

    کسی نے کہا: کچھ نہ کچھ ہے بلا

    کسی نے کہا: چاند ہے یاں چھپا

    کسی نے کہا: ہے پری یا کہ جن

    کسی نے کہا: ہے قیامت کا دن

    لگی کہنے ماتھا کوئی اپنا کوٹ

    ستارا پڑا ہے فلک پر سے ٹوٹ

    ہوئی صبح، شب کا گیا اٹھ حجاب

    درختوں میں نکلا ہے یہ آفتاب

    کسی نے کہا: دیکھیو اے بوا!

    کھڑا ہے کوئی صاف یہ مردوا

    کسی نے کہا: یہ تو دِل دار ہے

    کسی نے کہا: کچھ یہ، اسرار ہے

    یہ آپس میں باتیں جو ہونے لگیں

    اشاروں سے گھاتیں جو ہونے لگیں

    گئی بات یہ شاہ زادی کے گوش

    یہ سنتے ہی جاتا رہا اُس کا ہوش

    کہا: میں تو دیکھوں، یہ کہہ کر اٹھی

    گیا سننا جی، تو رہ کر اٹھی

    خواصوں کے کاندھے پہ دھر اپنا ہاتھ

    عجب اک ادا سے چلی ساتھ ساتھ

    کچھ اِک خوف سے ہول کھاتی ہوئی

    دھڑک اپنے دِل کی دکھاتی ہوئی

    کئی حمدمیں تھیں جو کچھ کچھ پڑھیں

    دعائیں وہ پڑھ پڑھ کے آگے بڑھیں

    گئیں جب دے کرکے دل اپنا کرخت

    وہاں، جس جگہ تھے وے باہم درخت

    لگیں جھانکنے سب کی سب وے شریر

    یکایک نظر واں پڑا بے نظیر

    جو دیکھیں تو ہے اک جوانِ حسیں

    کھڑا ہے وہ آئنہ سا مہ جبیں

    برس پندرہ یا کہ سولہ کا سن

    مرادوں کی راتیں، جوانی کے دن

    سرکنے کی واں سے....جاگہ، نہ ٹھانو

    دیے حیرتِ عشق نے گاڑ پا نو

    ہوئی پشت لب سے مسوں کی نمود

    بنا آتشِ لعلِ شیریں کا دود

    گلے میں پڑا نیمہ شبنم کا ایک

    بدن سے عیاں نور عالم کا ایک

    تمامی کی سنجاف جلوہ کناں

    کہ جوں عکس مہ زیرِ آبِ رواں

    طرح دار اِک سر پہ پھینٹا سجا

    تمامی کاٹپکا کمر سے بندھا

    عجب پیچ سے پیچ بیٹھے تھے مل

    کہ ہر پیچ پر پیچ کھاتا تھا دِل

    جواہر کا تکمہ گلے میں لگا

    ستارہ ہو جوں صبح کا جگمگا

    وہ موتی کی لٹکن، زمرد کی ہر

    لٹک جس کی زینبدہ دستار پر

    وہ گورا بدن صاف ترکیب دار

    بھرے ڈنڈ پر نورتن کی بہار

    اِک الماس کی ہاتھ انگشتری

    سراسر حنا دست و پا پر لگی

    عیاں چستی و چابکی گات سے

    نمود جوانی ہر اک بات سے

    بدن آئنہ ساں دمکتا ہوا

    گلِ باغِ خوبی لہکتا ہوا

    اکڑ زلف کی، اور کاکُل کا بل

    جوانی کی شب کا سماں برمحل

    قیافے سے طاہر سراپا شعور

    جبیں پر برستا شجاعت کا نور

    ولے، عشق کی تیغ کھائے ہوئے

    کھڑا، دل کسی پر لگائے ہوئے

    یہ دیکھا جو عالم تو غش کر گیں

    وہ جتنی کہ آئی تھیں سب مر گئیں

    شتابی سے جا کر کہاں واں کا حال

    کہ اے شاہ زادیِ صاحب جمال

    عجب سیر ہے سیر مہتاب میں

    یہ عالم تو دیکھا نہیں خواب میں

    کہے سے ہمارے نہ مانو گی تم

    جو دیکھو گی آنکھوں، تو جانو گی تم

    اٹھایا ئے گلگوں کو جلدی نگار!

    نہ جاوے کہیں ہاتھ سے یہ بہار

    نہیں، اور کچھ تم نہ کیجو ہراس

    چلی آؤ ٹک ان درختوں کے پاس

    گئی اُس جگہ جب یہ بدرِ منیر

    اور اُس نے جو دیکھا شہِ بے نظیر

    گئے دیکھتے ہی سب آپس میں مل

    نظر سے نظر، جی سے جی، دل سے دل

    غرض بے نظیر اور بدرِ منیر

    گرے دونوں آپس میں ہو کر اسیر

    رہی کچھ نہ من کی سدھ بدھ اُسے

    نہ کچھ اپنے تن کی رہی سدھ اُسے

    تھی ہمراہ ایک اُس کے دخت وزیر

    نہایت حسین اور قیامت شریر

    زبس تھی ستارہ سی وہ دِل رُبا

    اُسے لوگ کہتے تھے نجم النسا

    شتابی سے لا اُس پہ چھڑکا گلاب

    تب آئی تنوں میں ذرا اُن کے تاب

    وہ اٹھتے، تو اٹھی   پہ حیران سی

    گلِ شبنم آلودہ، گریانِ سی

    وہ شہزادہ ٔ دِل شدہ تو ٹھٹھک

    دو نہیں رہ گیا نقش پا سا بھچک

    کہ وہ نازنین کچھ جھجھک، منہ چھپا

    کمر اور چوٹی کا عالم دکھا

    چلی اُس کے آگے سے منہ موڑ کر

    وہیں نیم بسمل اُسے چھوڑ کر

    وہ گدی، وہ شانے، وہ پشت کمر

    وہ چوٹی کا کولھے پہ آنا نظر

    داستان زلف اور چوٹی کی تعریف و صحبت اول کے بیان میں

    پلا ساقیا، ساغر مشک بو

    کہ ہے مجھ کو درپیش تعریف مو

    سرِ شام دے یہاں تک شراب

    کہ مستی میں دیکھوں رخِ آفتاب

    کروں اُس کے بالوں کا کیا میں بیاں؟

    نہ دیکھا کسی رات میں یہ سماں

    وہ زلفیں کہ دل جن میں الجھا رہے

    الجھنے سے جی جن کے سلجھا رہے

    وہ کنگھی وہ چوٹی کھنچی صاف صاف

    کناری کا پیچھے چمکتا سباف

    کہوں اُس کی خوبی کا کیا رنگ ڈھنگ

    کہ جوں آخری شب جوجھمکے کا رنگ

    نمایاں تھی یوں اوڑھنی سے جھلک

    کہ جوں ابر میں برق کی ہو چمک

    مبافِ زری نے کیا ہے غضب

    دیا ہے گرہ دن کو، دنبالِ شب

    سنگاروں میں گو سب سے ہے وہ اتار

    یہ کہتے ہیں چوٹی کا اس کو سنگار

    نہ ہو کیوں کے چوٹی کا رتبہ بڑا

    کہ اِک نور ہے اُس کے پیچھے پڑا

    گل سنبل اُس پر سے قربان ہے

    کہ اُس کی لٹک میں عجب آن ہے

    لڑی تھی زبس سحر سے اُس کی سانٹھ

    شب و روز کو دے رکھا اُس نے گانٹھ

    ولے، ہاتھ آنا ہے اُس کا کٹھن

    کہ ہے فی الحقیقت وہ کالے کا من

    الٹ کر نہ دیکھے اُسے ہوشیار

    کہ وہ اِک ستارہ ہے دنبالہ دار

    وہ پیٹھ اُس کی شفاف آئینہ ساں

    تس اوپر وہ چوٹی کا پڑنا وہاں

    کہوں اس کے عالم کا کیا ماجرا

    کہ جوں ہوئے دریا پہ کالی گھٹا

    بھری تھی دلوں سے زبس اس کی مانگ

    بہت دل لے اس سے کنگھی نے مانگ

    دِل عاشق اُس پر سے قربان ہے

    کہ مشاطہ کا سر پہ احسان ہے

    کشاکش میں تھا ورنہ جینا تو ہیچ

    بھلے کو رکھا اُس نے ڈھیلا ہی پیچ

    غرض، حسن کا اس کے ہے سب یہ بھید

    جو چاہے کرے وہ سیاہ و سفید

    کرے سرخ جو کوئی اُس میں معاف

    کرے خونِ دِل اپنا اُس کو معاف

    کیا قتل گو اُس نے دل کو تو، کیسا

    شفق کا نہیں شام پرخوں بہا

    کہاں تک کہوں اُس کی چوٹی کی بات

    کہ تھوڑا ہے سانگ اور بڑی ہے یہ رات

    دیا شعر کو گرچہ ہر بار طول

    ولیکن یہ ہو عرض میری قبول

    بہت موشگافی جو کی میں نے یاں

    گھٹانے کی جا گہہ نہ تھی درمیاں

    تس اوپر جو پوری نہ بیٹھی مثال

    ہوئی ہے مری فکر، مجھ پر وبال

    اب اس پیچ سےباہر آتا ہوں میں

    سماں ایک تازہ سناتا ہوں میں

    غرض وہ مڑی جب دکھااپنے بال

    تو گویا کہ مارا محبت کا جال

    ادائیں سب اپنی دکھاتی چلی

    چھپا منہ کو اور مسکراتی چلی

    غضب منہ پہ ظاہر ولے دل میں چاہ

    نہاں، آہ آہ اور عیاں واہ واہ

    یہ ہے کون کم بخت آیا یہاں

    میں اب چھوڑ گھر اپنا جاؤں کہاں؟

    یہ کہتی ہوئی، آن کی آن میں

    چھپی جا کے اپنے وہ دالان میں

    دیا ہاتھ سے چھوڑ پر وہ شتاب

    چھپا ابرِ تاریک میں آفتاب

    کہ اتنے میں آئی وہ دختِ وزیر

    فسوں پڑھ کے بولی، کہ بدرِ منیر!

    مجھے چونچلے تو خوش آتے نہیں

    ترے نازِ بے جا یہ بھاتے نہیں

    میری طرف ٹک دیکھ تو ہائے ہائے

    مثل ہے کہ: من بھائے، منڈ یا ہلائے

     کیا ہے اگر تو نے گھائل اُسے

    تو مت چھوڑ اب نیم بسمل اُسے

    ٹک اِک حظ اُٹھا زندگانی کا تو

     مزہ دیکھ اپنی جوانی کا تو

    مے عیش کا جام اب نوش کر

    غمِ دین و دنیا فراموش کر

    یہ حسن و جوانی یہ جوش و خروش

     غفورست ایزو، تو ساغر بنوش

    کہاں یہ جوانی ؟ کہاں یہ بہار؟

     یہ جو بن کا عالم بھی ہے یادگار

     سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں

     گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

    سبھی یوں تو دنیا کے ہیں کاروبار

    و لے ، حاصلِ عمر ہے وصلِ یار

    خوشا وہ زمانہ !کہ دو اِک جگہ

     کریں اِک جگہ جلوہ مہر و مہ

    کہاں چاہ والے ہیں یوسف ،عزیز

     اری با ولی ! چاہ میں کر تمیز!

     ترے گھر میں آیا ہے مہماں غریب

     یہ ہے واردات عجیب و غریب

     شتا بی سے مجلس کو تیار کر

     تو اس گُل سے گھر رشکِ گلزار کر

     بلاسا قیانِ گُل اندام کو

     نگہ ساتھ گردش میں لا جام کو

    شب و روز پی مل کے جام شراب

     مہ و مہر کو رشک سے کر کباب

     یہ سن سن کے، وہ نازنیں مسکرا

     لگی کہنے: اچھا، بھلاری بھلا!

    میں سمجھی، تراجی گیا ہے اُدھر

    بہانے تو کرتی ہے کیوں مجھ پہ دھر

     لگی کہنے ہنس ہنس کے وہ ماہ وش :

    ہوئی تھی اُسے دیکھ میں ہی توغش

    مجھی پر تو چھڑکا تھا تم نے گلاب

    بھلا میری خاطر بلاؤ شتاب

    یہ، آپس میں رمزوں کی باتیں ہوئیں

    اشاروں کی باہم جو گھاتیں ہوئیں

    بلا لائی جا اُس جواں کے تئیں

    کیا میزباں ، میہماں کے تئیں

    بلا، اِک مکاں میں بٹھایا اُسے

    محل کا سمایاں سب دکھایا اُسے

    پھر اُس نازنیں کا پکڑ اُس نے ہاتھ

    بٹھایا ہی لا آخر اُس گل کے ساتھ

    پلا ساقیا! مجھ کو صہبائے عیش

    ملی ہے نصیبوں سے یاں جائے عیش

    بہم مل کے بیٹھے ہیں وہ رشکِ مہ

    قرانِ مہ و مہر ہے اس جگہ

    ہر اِک برج ، رشکِ گلستان ہے آج

    بہارِ وصالِ غریباں ہے آج

    زور اُس کو لا کر بٹھایا جو واں

    نہ پوچھ اس گھڑی کی ادا کا بیاں

    وہ بیٹھی عجب ایک انداز سے

    بدن کو چرائے ہوئے ناز سے

    منہ آنچل سے اپنا چھپائے ہوئے

    لجائے ہوئے، شرم کھائے ہوئے

    پسینا پسینا ہوا سب بدن

    کہ جوں شبنم آلودہ ہو یاسمن

    گھڑی دو تلک وہ مہ و آفتاب

    رہے شرم سے پائے بندِ حجاب

    اُنہوں کے رُکے بیٹھنے   سے خفا

    ہوئی دل میں اپنے وہ نجم النسا

    گلابی کو لا اُس کے آگے دھرا

    پیالے کو پھر جلد اُس نے بھرا

    کہا شاہ زادی کو: بیٹھی ہے کیا؟

    یہ پیالہ تو، اس بت کے منہ سے لگا

    ذرا میری خاطر سے ہنس بول تو

    لبِ لعلِ شیریں کو ٹک کھول تو

    میں صدقے ترے، تجھ کو میری قسم

    کئی ساغر اِس کو پلا دم بہ دم

    یہ دیکھ اُس کی من پیالہ اٹھا

    ادھر سے پھرا منہ کو، اور مسکرا

    کہا: بادہ نوشی سے ہو جس کو ذوق

    پیے وہ پیالہ، نہیں اس کا شوق

    کہا شاہ زادے نے ہنس کرکے یوں:

    پیوں میں کسی کے نہورے سے کیوں؟

    غرض، ہو کے آپس میں راز و نیاز

    پیے دو پیالے بہ صد امتیاز

    پھر آخر کو شہہ زادے نے بھی اُٹھا

    دِیا ساغر اُس مہہ کے منہ میں لگا

    جب آپس میں چلنے لگے جامِ مل

    مندے غنچہ ساں دِل، کھلے مثل گُل

    ہوئی یک دگر پھر تو تفتیشِ حال

    لگے ہونے آپس میں قال مقال

    کھلا، بند جس دم درِ گفتگو

    جواں نے حقیقت کہی مو بہ بہ مو

    کہی ابتدا سے جو گزری تھی سب

    جتایا سب اپنا حسب اور نسب

    پری کا بھی احوال ظاہر کیا

    چھپے راز سے اُس کو مایر کیا

    کہا: اِک پہر کی ہے رخصت مجھے

    زیادہ نہیں اس سے فرصت مجھے

    یہ سن، دل ہی دل بیچ کھا پیچ و تاب

    دیا شاہ زادی نے اُس کو جواب:

    مرو تم پری پر، وہ تم پر مرے

    بس اب تم ذرا مجھ سے بیٹھو پرے

    میں اس طرح کا دل لگاتی نہیں

    یہ شرکت تو بندی کو بھاتی نہیں

    میں سمجھی ہوں تم کو بہت دور ہو

    چلو اب کہیں، یاں سے کافور ہو

    عبث مجھ سے دل کیوں لگاوے کوئی

    بھلے چنگے دل کو جلاوے کوئی

    بہے شمع ساں کیوں کوئی اشک سے

    جلے کس لیے آتشِ رشک سے

    یہ سن پانوں پر گر پڑا بے نظیر

    کہا: کیا کروں؟ آہ بدرِ منیر!

    کوئی لاکھ جی سے ہو مجھ پر فدا

    میں تجھ پر فدا ہوں مجھے اس سے کیا؟

    کہا: چل سر اپنا قدم پر نہ دھر!

    کسی کے مجھے دل کی کیا ہے خبر؟

    یے رمز و کنایے جو ہونے لگے

    تو آپس میں ہنس ہنس کے رونے لگے

    رہی دل ہی دل میں آخرش دل کی بات

    پہر بھر گئی اتنے عرصے میں رات

    خبر رات کی سن، اٹھا بے نظیر

    کہا: اب میں جاتا ہوں بدرِ منیر!

    اگر قید سے چھوٹنے پاؤں گا

    تو پھر آج کے وقت کل آؤں گا

    یہ مت سمجھیو ہوں میں آرام میں

    کروں کیا، پھنسا ہوں عجب دام میں

    دل اُس جا سے اٹھنے کو کرتا نہیں

    کوئی آپ سے جان مرتا نہیں

    کرم مجھ پہ رکھیو ذرا میری جاں

    میں دل چھوڑے جاتا ہوں اپنا یہاں

    یہ کہہ، اس طرف وہ روانہ ہوا

    دل اِس طرف اِس کا دِوانہ ہوا

    گیا اپنے معمول سے بے نظیر

    اِدھر کا ہوا قیدی، اودھر اسیر

    پری ساتھ کاٹی وہ جوں توں کے رات

    اٹھا صبح، ملتا ہوا اپنے ہات

    سماں شب کا آنکھوں میں چھایا ہوا

    مزہ دل میں سارا سمایا ہوا

    اٹھے جو کوئی وصل کا دیکھ خواب

    نہ ہو وصل اور دل کو ہواضطراب

    نئی بات کا لطف پانا غضب

    وہ پہلے پہل دل لگانا غضب

    قلق دِل پہ، یعنی کٹے روز کب؟

    ملے مجھ سے شمعِ شب افروز کب؟

    محبت میں زلفِ سیہ فام کی

    لگا دیکھنے راہ پھر شام کی

    وہ دن رات کا روزِ شامت ہوا

    اُسے کاٹنا دن قیامت ہوا

    اِدھر کا تو احوال تھا اس طرح

    کہا میں نے کر، مختصر جس طرح

    وَلے اب سنو تم اُدھر کا بیاں

    ہوا طرفِ ثانی پہ کیا حال وَاں

    وہ شب اُس کو اندوہ و غم میں کٹی

    گھڑی جو کی، سو الم میں کٹی

    رہی صورت آنکھوں میں جو یار کی

    ہوئی یاد میں صبح، رخسار کی

    کچھ امید دل میں، کچھ اک جی کو یاس

    لبوں پہ ہنسی، لیک ِ چہرہ اداس

    لگا اُس کو باتوں میں نجم النسا

    لگی کہنے: جی چاہتا ہے مرا

    کہ تو آج کر خوب اپنا سنگار

    مجھے حسن کی اپنے دکھلا بہار

    لگی کہنے، چل ری، دوانی نہ ہو

    کوئی چیز اپنی، بگانی نہ ہو

    کروں کس کی خاطر میں اپنا سنگار

    وہ ہے کون جس کو دکھاؤں بہار

    غرض، شاہزادی بہت دور تھی

    یہ شکل اُس کو پہلے ہی منظور تھی

    نہا دھو کے اس روز ایسی بنی

    کہ دودن کی سچ مچ ہو جیسے بنی

    وہ مکھڑے کا عالم وہ کنگھی کا رنگ

    شبِ ماہ ہو دیکھ کر جس کو دنگ

    وہ مسی، اور اُس کے لبِ لعل فام

    سوادِ دیارِ بدخشاں کی شام

    وہ آنکھوں کا عالم وہ کاجل غضب

    کہے تو پڑی نرگستاں میں شب

    ستم تس پہ سرمے کی تحریر سی

    کھنچی ہاتھ کافر کے شمشیر سی

    لکھوٹا وہ پانوں کا مسی کے ساتھ

    کہ جوں دامنِ شب شفق کے ہو ہاتھ

    وہ پشواز اک ڈانک کی جگمگی

    ستاروں کی تھی آنکھ جس پر لگی

    اور اِک اوڑھنی جالی مقیش کی

    پڑی چاندنی سی مہِ عیش کی

    جو دیکھے وہ انگیا جواہر نگار

    فرشتہ ملے ہاتھ بے اختیار

    وہ باریک کرتی مثال ہوا

    عیاں مو بہ مو جس سے تن کی صفا

    ڈھلک سرخ نیفے کی ابھری ہوئی

    گلابی سی گرد ایک تہہ دی ہوئی

    جھلک پایجامے کی دامن سے یوں

    کہ روشن ہو فانوس میں شمع جوں

    مغرق زری کا وہ شلوار بند

    ثریا سے تابندگی میں دوچند

    پڑی پانو میں کفش زریں نگار

    ستاروں کی جس کے، زمیں پہ بہار

    لگا پاسے، وہ نازنین، تابہ فرق

    سراپا جواہر کے دریا میں غرق

    گٹھی ہوئی وہ ترکیب اور وہ بدن

    وہ پوشاک و زیور کی اُس پہ بھپن

    وہ چھپ تختی اُس کی نزاکت نژاد

    چمن زارِ قدرت کا نخل مراد

    بھری مانگ موتی سے جلوہ کناں

    نمایاں شبِ تیرہ میں کہکشاں

    وہ ماتھے پہ ٹیکے کی اُس کے جھلک

    سحر چاند تاروں کی جیسے چمک

    ہوس ہو نہ دیکھ اُس کے زیور کو پھر

    کہے تو، کہ ٹیکا تھا سب اُس کے سر

    وہ بالے کی تابندگی زیرِ گوش

    جسے دیکھ، اُڑ جائیں بجلی کے ہوش

    وہ ہیرے کا تکمہ بصد آب و تاب

    وہ صبح گلو، مطلع ِآفتاب

    وہ تکمے پہ چمپا کلی کی پھبن

    کہ سورج کے آگے ہو جیسے کرن

    وہ چھاتی پہ الماس کی دھکدھکی

    رہے آنکھ سورج کی جس پر جھکی

    وہ موتی کے مالے لٹکتے ہوئے

    رہیں دل جہاں سر ٹپکتے ہوئے

    وہ الماس کی ہیکل اِک خوش نما

    تصور رہے جس کا دل سے لگا

    وہ بھج بند بازو کے اور نورتن

    کہ جوں ، گل سے ہو شاخ، زیب چمن

    وہ پہنچی زمرد کی اور دست بند

    نزاکت میں تھے شاخِ گل سے دوچند

    وہ لعلوں کی پازیب، آویزہ دار

    سدا اشکِ خونیں ہو جس پر نثار

    وہ مینے کے پاؤں میں چھلے تھے کُل

    کہ آنکھوں سے دل اُن پہ کھاتے تھے گُل

    وہ بالوں کی بو رشکِ مشکِ ختن

    وہ ڈوبا ہوا عطر میں تن بدن

    زمیں سے معطر ہوا تا فلک

    زمانہ گیا اُس کی بو سے مہک

    کیا اس طرح سے جب اس نے سنگار

    ہوئے مہر و مہ اس کے منہ پر نثار

    فلک تک گئی حسن کی اس کے دھوم

    لیا ہاتھ مشاط نے اپنا چوم

    خواصوں نے گھرکو دیا انتظام

    تمامی کے پردے لگائے تمام

    بچھا فرش اور کر چھپر کھٹ کو صاف

    مرصع کا اُس پر اُڑھا کر غلاف

    وہ نرگس کے دستے، جو آفاق میں

    نہ نکلیں، سو لا کر چنے طاق میں

    ولایت کے میوے دھرے ہر طرف

    کہ لے جاوے بو اُن کی گُل پر شرف

    دھرے لخلخے جو اُس ایوان میں

    ہوا ہو گئی عطر، دالان میں

    دھریں کشتیاں اِک طرف بے شمار

    چنی ایک طرف ڈالیوں کی قطار

    اچار [6] اور مربے دھرے خوش نما

    وہ باہر کے دالان میں جا بہ جا

    چھپر کھٹ کے پاس ایک مسند بچھا

    اور اس پر تمامی کے تکیے لگا

    چنگیریں بنا اور رکھ پان دان

    قرینے سے اُس میں رکھے ہار پان

    مرصع کے تھے عطر داں کئی دھرے

    انوٹھی گھڑت کے کئی چو گھرے

    سرہانے مجلد دھری اِک کتاب

    ظہوری، نظیری کا کل انتخاب

    قلم دان بھی اِک نزاکت بھرا

    قرینے سے زیرِ چھپرکھٹ دھرا

    دھری اِک بیاض اور رشک چمن

    پر از شعر سودا و میر و حسن

    دھرا اِک طرف گنجفہ خوش قماش

    دھری چوپڑ اِک طرف کو غم تراش

    صراحی و ساغر، شراب و کباب

    دھرا اُس پہ ساقی نے کر انتخاب

    وَلے اُس کو رکھا چھپائے ہوئے

    کہ چھپتے نہیں منہ کو لگائے ہوئے

    کہا: خاصہ پر کو خبردار کر

    کہ رکھیو تو خاصے کو تیار کر

    یہ سب کچھ ہوا جب کہ آراستہ

    خراماں ہوئی سردِ نو خاستہ

    سرِ شام لے ہاتھ میں اِک چھڑی

    ولیکن چھڑی وہ کہ جگنو جڑی

    روش پر لگی پھرنے ایدھر اُدھر

    کہ چھپ جائے سورج اُسے دیکھ کر

    داستان دوبارہ بے نظیر کے آنے اور باہم بے تکلف ملاقات کرنے کی:

    پلا مجھ کو ساقی! شرابِ وصال

    کہ اب ہجر سے تنگ ہے میرا حال

    تڑپھتا تھا اودھر جو وہ بے نظیر

    ہوئی شام بارے ، تو چھوٹا اسیر

    پر اُس نے بھی اتنا تکلف کیا

    کہ اِک دن میں جوڑے کو دھانی رنگا

    تمامی کی سنجاف کرکے درست

    بنا جلد جلد اور پہن تنگ و چست

    پہن لعل و یاقوت کے نو رتن

    وہ گل اس طرح ہو کے رشکِ چمن

    فلک سیر پر ہو شتابی سوار

    ہوا آسماں پر ہوا ایک بار

    یکایک جو وارد ہوا اس جگہ

    کہ جس جا خراماں تھی وہ رشکِ مہ

    نظر نازنیں کی جو اس پرپڑی

    ہوئی جا درختوں کے اوجھل کھڑی

    کیا چھپ کے عالم پہ اُس کے جو دھیان

    تو دیکھا عجب رنگ سے وہ جوان

    کہے تو کہ شب چاند نے آن کے

    نکالا تھا منہ کھیت سے دھان کے

    وہ حسن اور پوشاک اور وہ شباب

    زمرد میں جوں جلوہ ٔآفتاب

    سماں دیکھ اُس شعلہ ٔ سبز کا

    ہوئی اور جلنے کی اُس کو ہوا

    خواصیں جو تھیں دم بہ خود جان کر

    کہا ایک ہم راز نے آن کر

    کہ اب کس طرف ان کو لے جائیے

    جہاں حکم ہو جا کے بٹھلائیے

    کہا:وہ جو آراستہ ہے مکاں

    ادھر سے تووں ہو کے، لے جاؤ ہاں

    کہے کہ بہ موجب اڑھا کر نقاب

    چھپا اس کو لا کر بٹھایا شتاب

    ہو بیٹھا جو خلوت میں آ بے نظیر

    اور ایدھر سے آئی جو بدرِ منیر

    اُسے دیکھ، اُس نے تو پھر عش کیا

    لباس اور زیور سے عش عش کیا

    زبس حوصلے نے جو تنگی سی کی

    حیا، عشق نے خانہ جنگی سی کی:

    پکڑ ہاتھ، مسند پہ کھینچا اُسے

    محبت کے رشتے میں انیچا اُسے

    لگی کہنے: ہے ہے، مرا چھوڑ ہاتھ!

    یہ گرمی ہے جس سے، رہے اس کے ساتھ

    کہا [7]:ہائے پیاری! جلایا مجھے

    رُکھائی نےتیری ستایا مجھے

    اری ظالم ! اِک دم تو تو بیٹھ جا

    ذرا میرے پہلو سے تکیہ لگا

    تڑپھتا ہے کب سے پڑا میرا دِل

    ذرا کھول آغوش اور مجھ سے مِل

    غرض آخرش بعدِ راز و نیاز

    وہ مسند پہ بیٹھی بہ صد امتیاز

    ہوا پھر جو صہبائے گل گوں کا دور

    ہوا اور ہی اور کچھ وَاں کا طور

    ہوئے جب وے بدمست دو ماہ رو

    لگی ہونے ان میں عجب گفتگو

    کہ دستے جو نرگس کے تھے وَاں ہزار

    لگے ڈھانپنے آنکھ بے اختیار

    خواصیں جو تھیں رو بہ رو ہٹ گئیں

    بہانے سے ہر کام کے ہٹ گئیں

    غرض، رفتہ رفتہ وہ مدہوش ہو

    چھپر کھٹ میں لیٹے ہم آغوش ہو

    لگے پینے باہم شرابِ وصال

    ہوا نخلِ امید سے وہ نہال

    لبوں سے ملے لب، دہن سے دہن

    دلوں سے ملے دل، بدن سے بدن

    ملیں آنکھ سے آنکھ خوشحال ہو

    گئیں حسرتیں دِل کی پامال ہو

    لگی جا کے چھاتی جو چھاتی کے ساتھ

    چلے ناز و غمزے کے آپس میں ہاتھ

    کسی کی گئی چولی آگے سے چل

    کسی کی گئی چین ساری نکل

    غم و درد، دامن کشیدہ ہوئے

    وہ گل نارسیدہ، رسیدہ ہوئے

    لیا کھینچ اُنہوں نے جو پردہ شتاب

    چھپے ایک جادہ مہ و آفتاب

    لگی ہونے بے پردہ جو چھیڑ چھاڑ

    درِ حسن کے کھل گئے دو کواڑ

    اٹھے پی کے باہم شرابِ امید

    کوئی سرخ رو اور کوئی رو سفید

    نشے سے وہ لذت کے بے ہوش ہو

    گئے بیٹھ مسند پہ خاموش ہو

    عرق میں ادھر غرق وہ مہ جبیں

    کیے نیچے آنکھیں ادھر نازنیں

    لیے بیٹھے تھے خوش ہو کے باہم ادھر

    کہ اتنے میں اودھر سے باجا پہر

    پہر کے وہ بجتے اٹھا بے نظیر

    ہوئی غم کی تصویر بدرِ منیر

    نہ بولی، نہ کی بات، نے کچھ کہا

    نہ دیکھا اُدھر آنکھ اپنی اُٹھا

    کہا: مجھ سے، پیاری! نہ بیزار ہو

    پھر آؤں گا، بولی کہ مختار ہو

    خفا ہونے سے اُس کے ، وہ نوجواں

    گیا تو، ولے، منہ پہ آنسو رواں

    ہوئے دل جو دونوں کے آپس میں بند

    لگے ہجر سے جی میں آنے گزند

    بندھا پھر تو معمول اس کا مدام

    کہ ہر روز آنا ادھر اُس کو شام

    پہر رات تک ہنسنا اور بولنا

    درِ عشق اور حسن کو کھولنا

    کبھی ہجر سے ان کو ہونا ملول

    کبھی وصل سے بیٹھنا پھول پھول

    داستان پری کے دریافت کرنے کی:

    پلا جلد ساقی! مجھے بھر کے جام

    کہ ہے چرغ بھی در پے انتقام

    یہ دو دل کو اِک جا بٹھاتا نہیں

    کسی کا اسے وصل بھاتا نہیں

    یہ ہے دشمنِ وصل و دلِ سوزِ ہجر

    کرے ہے شب وصل کو روزِ ہجر

    جدائی اُنہوں کی خوش آئی اِسے

    یہ اتنی بھی صحبت نہ بھائی اِسے

    کسی دیو نے دی کو خبر

    کہ معشوق عاشق ہوا اور پر

    یہ سن کر وہ شعلہ بھبوکا ہوئی

    لگی کہنے: ایں، یہ بلا کیا ہوئی؟

    قسم مجھ کو حضرت سلیمانؑ کی

    ہوئی دشمن، اب اُس کی میں جان کی

    کہا دیو سے: دے مجھے تو پتا

    کہا! وہ کسی باغ میں تھا کھڑا

    کوئی نازنیں سی تھی اِک اس کے ساتھ

    کھڑی تھی دیے ہاتھ میں اُس کے ہاتھ

    قضارا، اڑا میں جو ہو کر اُدھر

    وہ دونوں مجھے وَاں پڑے تھے نظر

    یہ اڑتی سی اُس کی خبر سن، پری

    کہا: دیکھنے پاؤں اُس کو ذری

    تو کھا جاؤں کچا اُسے موت ہو

    لگی ہے مری اب تو وہ سوت ہو

    وہ آوے تو آگے مرے نابکار

    گریباں کو اُس کے کروں تار تار

    یہی قول و اقرار تھا میرے ساتھ

    بھلا، دامن اُس کا ہے اور میرا ہاتھ

    ہماے بزرگوں نے سچ ہے کہا

    کہ ہیں آدمی زاد کل بے وفا

    غضب ناک بیٹھی تھی یہ   تو اِدھر

    کہ اتنے میں آیا وہ رشک قمر

    اُسے دیکھ غصے میں وہ ڈر گیا

    کہے تو کہ جیتے ہی جی مر گیا

    بلا سی وہ دیکھ اُس کے پیچھے لگی

    کہا: سن تو اے موذی و مدعی!

    تجھے سیر کو میں نے گھوڑا دیا

    کہ اُس مال زادی کو جوڑا دیا

    الگ مجھ سے یوں رہنا اور چھوٹنا

    یہ اوپر ہی اوپر مزے لوٹنا

    مچلکا دیا تھا نہ تو نے یہی!

    بھلا اُس کا بدلا نہ لوں ، تو سہی

    پھرا جیسے راتوں کو دِل شاد تو

    کرے گادِنوں کو بہت یاد تو

    تجھے جی سے ماروں تو کیا اے غریب

    وَلے چاہتے تھے ، یہ تیرے نصیب

    کہ چاہِ الم میں پھنساؤں تجھے

    ہنسا ہے تو جیسا، رلاؤں تجھے

    یہ کہہ اور بلا اِک پری زاد کو

    کہا: سنیو اِس کی نہ فریاد کو

    اِسے کھینچتا یاں سے لے جا شتاب

    وہ صحرا، جو ہے در د و محنت کا باب

    کنواں اُس میں جو ہے مصیبت بھرا

    کئی من کا پتھر ہے اُس پر دھرا

    اِسے جا کے اُس چاہ میں، بند کر

    وہی سنگ پھر اُس کے منہ پر تو دھر

    سرِ شام کھانا کھلانا اِسے

    اور اِک جام پانی پلانا اِسے

    نہ دیجیو سوا اس کے، جو کچھ کہے

    یہی اِس کا معمول دائم رہے

    گری اُس پہ جو آسمانی بلا

    دِل اُس نازنیں کا ہوا ہو چلا

    یہ سن دیو اُس گل کے نزدیک آ

    پکڑ ہاتھ، اس کا فلک پر اڑا

    ہوا یوں جو اُس بختِ واژوں کا اوج

    چلی آہ و نالے کے ساتھ، اس کی فوج

    کہا: دل! یہ رتبہ جو کچھ آج ہے

    یہی عشق کی جان معراج ہے

    کیا بند پھر جا کے اُس چاہ میں

    کنواں وہ جو تھا قاف کی راہ میں

    وہ یوسف کنویں میں ہوا جب کہ بند

    ہوا اُس سے پستی کا رتبہ بلند

    کھلے اُس کنویں کے یکایک نصیب

    کہ آیا وہ اس میں مہ دل فریب

    منور وہ گھر اُس کا سارا ہوا

    کنویں کی وہ پتلی کا تارا ہوا

    اندھیرا پڑا تھا سو روشن ہوا

    شب تیرہ میں، سانپ کا من ہوا

    ولے، پانو جب اُس کا تہ پر گیا

    کنواں، اُس کے اندوہ سے بھر گیا

    زمیں میں سمایا تحیر سے آب

    گئے سوکھ آنسو کنویں کے شتاب

    ہوا واں سے اوپر گئی کانپ کانپ

    کنویں نے لیا سنگ سے منہ کو ڈھانپ

    دِل اُس نازنیں کا دھڑکنے لگا

    جگر ٹکڑے ہو کر پھڑکنے لگا

    اندھیرے اجالے نہ نکلا تھا جو

    ہوا قید، آ، اِس اندھیرے میں سو

    اندھیرے نے اُس کا کیا دم خفا

    کہ جوں، لے سیاہی کسی کو دبا

    نکلنے کی سوجھی نہ واں اُس کو راہ

    ہوا اُس کی آنکھوں میں عالم سیاہ

    فغاں کی بہت اور، پکارا بہت

    سر اپنے کو ہر طرف مارا بہت

    پکارا وہ جس تس کو فریاد کر

    نہ پہنچا کوئی کارواں بھی اُدھر

    نہ مونس، نہ غم خوار اُس کا کوئی

    نہ تھا جز خدا، یار اُس کا کوئی

    وہی چاہِ تاریک ، اُس کا رفیق

    وہی سنگ سر پر بجائے شفیق

    ہوا بھی نہ وَاں، جس سے کچھ دھیان ہو

    کنویں کی سنے کون آواز کو

    کنواں ہی مدام اُس کا ہمدم رہے

    جو اُس سے، وہ ہی اُس سے کہے

    کنواں اُس کو پوچھے، وہ پو چھے اُسے

    اندھیرے سوا کچھ نہ سوجھے اُسے

    سیاہی میں جیسے وہ کافر کا دل

    صعوبت میں اُس سے جہنم خجل

    نہ شب کی سیاہی نہ وَاں دِن کا نور

    سدا ظلمتِ شب کا اُس جا ظہور

    غم و دردِ الفت کو کھا کھا جیے

    لہو پانی اپنا کنویں میں پیے

    اس اندھیر کو کیا لکھوں اب میں آہ

    قلم کے نکلتے ہیں آنسو سیاہ

    نہ تھا وہ کنواں، تھا ستونِ الم

    نشانِ شبِ آفت و درد و غم

    کروں مختصر یاں سے اب غم کی بات

    لگا رہنے اُس میں، وہ آبِ حیات

    نہیں مخلصی سوجھتی اب اُسے

    نکالے خدا، دیکھیے کب اُسے

    پھنسا اِس طرح سے جو واں بے نظیر

    پڑی بے قراری میں بدرِ منیر

    بہم دو دلوں میں جو ہوتی ہے چاہ

    تو ہوتی ہے دل کے تئیں دِل میں راہ

    قلق وَاں جو گزرا تو یاں غم ہوا

    رُکا جی وہاں، یاں خفا دم ہوا

    کئی دن جو آیا نہ وہ رشکِ ماہ

    نظر میں ہوا اُس کی عالم تباہ

    لگی کہنے: نجم النساء سے : بوا!

    خدا جانے اُس شخص پر کیا ہوا؟

    کہا اُس نے بی! تم کو سودا ہے کچھ

    وہ معشوق ہے اُس کو پروا ہے کچھ

    خدا جانے کس شغل میں لگ گیا

    مری چڑ ہے اتنا بھی ہونا فدا

    وہ رہ رہ کے تم کو دلاتا ہے چاہ

    عبث آپ کو تم کرو مت تباہ

    رکے جو کوئی، اُس سے رک جائیے

    جھکے آپ سے وہ تو جھک جائیے

    تفول بھلا کچھ نکالا کرو

    ذرا آپ کو تم سنبھالا کرو

    یہ سن، چپ رہی، دل میں کھا پیچ و تاب

    دیا کچھ نہ اس بات کا پھر جواب

    گئے اُس پہ جب دن کئی اور بھی

    بگڑنے لگے پھر تو کچھ طور بھی

    دوانی سی ہر طرف پھرنے لگی

    درختوں میں جا جا کے گرنے لگی

    ٹھہرنے لگا جان میں اضطراب

    لگی دیکھنے وحشت آلودہ خواب

    تپِ ہجر گھر دِل میں کرنے لگی

    دُرِ اشک سے چشم بھرنے لگی

    خفا زندگانی سے ہونے لگی

    بہانے سے جا جا کے سونے لگی

    تپ غم کی شدت سے پھر کانپ کانپ

    اکیلی لگی رونے، منہ ڈھانپ ڈھانپ

    وہ اگلا سا ہنسنا، نہ وہ بولنا

    نہ کھانا، نہ پینا، نہ لب کھولنا

    جہاں بیٹھنا، پھر نہ اٹھنا اُسے

    محبت میں دن رات گھٹنا اُسے

    کہا گر کسی نے کہ بی بی چلو

    تو اُٹھنا اُسے کہ کے، ہاں جی چلو!

    جو پوچھا کسی نے کہ کیا حال ہے

    تو کہنا، یہی ہے جو احوال ہے

    کسی نے جو کچھ بات کی، بات کی

    پہ، دن کی جو پوچھی، کہی رات کی

    کہا گر کسی نے کہ کچھ کھائیے

    کہا: خیر، بہر ہے، منگوائیے

    کسی نے کہا: سیر کیجے ذرا

    کہا: سیر سے دل ہے میرا بھرا

    جو پانی پلانا، تو پینا اُسے

    غرض غیر کے ہاتھ جینا اُسے

    نہ کھانے کی سدھ اور نہ پینے کا ہوش

    بھرا دِل میں اُس کے محبت کا جوش

    چمن پر نہ مائل، نہ گل پر نظر

    وہی سامنے صورت آٹھ پہر

    نہفتہ اُسی سے سوال و جواب

    سدا روبرو اُس کے غم کی کتاب

    جو آجائے کچھ ذکر شعر و سخن

    تو پڑھنا یہ دو تین شعر حسن

    غزل

    یہ کیا عشق آفت اٹھانے لگا

    مرے دل کو مجھ سے چھڑانے لگا

    ملا میرے دلبر کو مجھ سے خدا!

    نہیں تو مرا جی ٹھکانے لگا

    گنہ چشم خوں بار کا کچھ نہیں

    مرا دل ہی مجھ کو ڈبانے لگا

    فلک نے تو اتنا ہنسایا نہ تھا

    کہ جس کے عوض یوں رلانے لگا

    نہیں مجھ کو دشمن سے شکوہ حسن

    مرا دوست مجھ کو ستانے لگا

    غزل یا رباعی و یا کوئی فرد

    اُسی ڈھب کی پڑھنا کہ ہو جس میں درد

    سو یہ بھی جو مذکور نکلے کہیں

    نہیں تو کچھ اس کی بھی خواہش نہیں

    سبب کیا کہ دِل سے تعلق ہے سب

    نہ ہو دل تو پھر بات بھی ہے غضب

    گیا ہو جب اپنا ہی جیوڑا نکل

    کہاں کی رباعی؟ کہاں کی غزل؟

    داستان بدر منیر کے غم و اندوہ میں اور حسن بائی کے بلانے میں

    گلابی میں غنچے کی بھر کر شتاب

    پلا ساقیا! کیتکی کی شراب

    پیالے میں نرگس کے دے میری جاں!

    کہ دیکھوں میں کیفیتِ بوستاں

    حکایت کروں ایک دن کی رقم

    کہ دُنیا میں توام ہیں شادی و غم

    اُٹھی سوتے اِک دن وہ رشکِ پری

    کہا: جا کے دیکھوں چمن کو ذری

    مگر، غنچہ ساں کچھ کھلے میرا دل

    کہ غم نے کیا ہے نپٹ مضمحل

    زبس گُل سے آتی ہے بو یار کی

    ہوا پھر ہوئی اُس کو گلزار کی

    پہر ایک دن تھا، کہ منہ ہاتھ دھو

    چلی اُٹھ کے دالان سے سیر کو

    زمرد کو مونڈھا چمن پر بچھا

    وہ بیٹھی عجب آن سے دِل ربا

    کہ زانو پہ اِک پانو کا رکھ لیا

    اور اک پانو مونڈھے سے لٹکا دیا

    نہ پوچھ اس کے پائے نگاریں کا حال

    زبانِ حنا، وصف میں جس کے لال

    کفک اور فندق سے لالے کو داغ

    نہ ہو ایسی کیفیت پائیں باغ

    طلائی کڑے اور کفک کا وہ رنگ

    سنہری شفق ، جس کو ہو دیکھ دنگ

    جواہر کے چھلے بھرے پور پور

    زری کی ٹکی جیسے مخمل پہ قور

    زبس سوئے اٹھی تھی وہ نازنیں

    پڑی تھی عجب ڈھب سے چیں جبیں

    خماری وہ آنکھیں، وہ انگڑائیاں

    وہ جوبن کے عالم کی سرسائیاں

    جوانی کا موسم، شروعِ بہار

    وہ سینے سے جوبن کا اُس کے ابھار

    نشے میں وہ آ حسن کے بیٹھنا

    وہ چھپ تختی اپنی کو دیکھ، اینٹھنا

    خواص ایک حقہ لیے تھی کھڑی

    کہ لالے کی پتی تھی اُس میں پڑی

    وہ شیشے کا حقہ، مرصع کا کام

    مغرق زری کا وہ نیچہ تمام

    وَلے، ایک اُس پر پڑا تھا جو پیچ

    یہ سب، اُس کے آگے تھا گویا کہ ہیچ

    لبِ نازک اوپر وہ منہنال دھر

    نکالے تھی پردے میں دودِ جگر

    ادھر اور ادھر ہر طرف تھی نگاہ

    کسی کی کوئی جیسے تکتا ہو راہ

    خواصیں کھڑیں اُس کے سب گردوپیش

    جو تھیں اپنے دہے پہ حاضرِ ہمیش

    کوئی مورچھل لے، کوئی پیک دان

    کوئی لے چنگیر، اور کوئی ہارپان

    رسیلی چھبیلی بنی تنگ و چست

    لباس اور زیور سے ہر اک درست

    کھڑیں نیچی آنکھیں کیے با ادب

    اُسی شرم سے پر قیامت غضب

    وہ آنکھیں کہ کرتی تھیں جیدھر نگاہ

    اُدھر غش میں آتے تھے دِل کرکے آہ

    کئی ہم دم اُس کی جو تھیں ماہ رو

    بچھائے ہوئے کرسیاں سو بہ سو

    برابر برابر اِدھر اور اُدھر

    وہ گرد اُس کے بیٹھی تھیں بایک دِگر

    سماں اُس گھڑی کا کہوں کیا میں آہ!

    ستاروں میں آوے نظر جیسے ماہ

    عجب حسن تھا باغ میں جلوہ گر

    کہ ہر گل کی تھی اُس کے منہ پر نظر

    چمن اُس گھڑی برسر جوش تھا

    گل و غنچہ جو تھا، سو بے ہوش تھا

    زمین عطر میں تھی وہ ڈوبی ہوئی

    دوبالا ہر اِک گل کی خوبی ہوئی

    معطر ہوا، اور گُل کا دماغ

    کہ مہکا تمام اُس کی خوشبو سے باغ

    پڑا عکس جو اُس کا طرفِ چمن

    ہوا لالہ گل، اور گُل نسترن

    درختوں پہ اُس کی پڑی جو جھلک

    زمرد کو دی اور اُس نے چمک

    ہوئی اُس کے بیٹھے سے گلشن کو زیب

    گیا اڑ صبا کا بھی صبر و شکیب

    چمن نے جو اُس گُل کی دیکھی بہار

    ہوا دیکھ اپنے گُلوں کی فگار

    گل و غنچہ و لالہ آپس میں مل

    لگے کہنے: اِس باغ کا تھا یہ دل

    گئی جی سے بلبل کے گلشن کی چاہ

    ہوئی سرو کی شکل،قمری کو آہ

    ہوئے واں  کے آئنہ دیوار و در

    وہ مہ سب کے دل میں ہوئی جلوہ ٔگر

    کہ اتنے میں کچھ جی میں جو آگیا

    ادا سے لگی کہنے وہ دل ربا:

    اری کوئی ہے؟ وَاں ذرا جائیو!

    مری حسن بائی کو لے آئیو!

    عجب وقت ہے اور عجب ہے سماں

    کرے دو گھڑی آ کے مجرا یہاں

    خفا ہوں، مرا جی بھی مشغول ہو

    کوئی دم تو داغِ جگر ، پھول ہو

    کسی طرح سے دل تو لگتا نہیں

    جلے ہے جگر، دل سلگتا نہیں

    یہ سنتے ہی دوڑی گئی اِک نگار

    لیا حسن بائی کو اُس نے پکار

    وہ آنے لگی کافر اس آن سے

    کہ جانے لگا جی مسلمان سے

    عجب حال سے وہ چلی نازنیں

    کہ مستی میں پاؤں کہیں کا کہیں

    وہ خلقت کی گرمی وہ ڈومن پنا

    نشے میں بھبھوکا کا سا چہرہ بنا

    لٹیں منہ پہ چھوٹی ہوئی سر بہ سر

    کہ بدلی ہو جوں مہ کے ایدھر اُدھر

    وہ بن پونچھی ہونٹوں کی مستی غضب

    کہ منہ پر تھی گویا قیامت کی شب

    فقط کان میں ایک بالا پڑا

    کہے تو کہ تھا مہ کے ہالا پڑا

    وہ پشو از اگر سی وہ نرگس کا ہار

    وہ کمخاب کی بند، رومی ازار

    بندھا سر پہ جوڑا، پڑی زرد شال

    کمر کی لچک اور مٹک کی وہ چال

    وہ شبنم کی انگیا، بنی تنگ و چست

    کناروں پہ مینا بنت کا درست

    وہ اُٹھی ہوی چین پشواز کی

    وہ مسکی ہوئی چولی انداز کی

    وہ مہندی کا عالم وہ توڑے چھڑے

    وہ پاؤں میں سونے کے دو دو کڑے

    چلی واں سے دامن اٹھاتی ہوئی

    کڑے سے کڑے کو بجاتی ہوئی

    عجب ایک عالم تھا بے ساختہ

    کہ عالم تھا اِک اُس پے جاں باختہ

    کئی کافریں اور بھی دِل نواز

    لیے ساتھ ساتھ اُس کے سب اپنے ساز

    چلیں ایک اغماض اور ناز سے

    کھڑی ہوئیں وہاں ایک انداز سے

    روش پر جو تھا فرش اُس کے حضور

    ادب سے وہاں بیٹھیاں دور دور

    ہوا حکم گوری کا جو برملا

    لیے ساز اپنے سبھوں نے اُٹھا

    دیا آسماں پر جو طبلوں کو کھینچ

    ہر اِک تھاپ میں دل لیا سب کا اینچ

    لگی گانے ٹپا وہ اس آن سے

    نکلنے لگی جان ہر تان سے

    عجب تان پڑتی تھی انداز سے

    کہ بے کل تھی ہر تان، آواز سے

    وہ تھی گٹکری یا لڑی نور کی

    مسلسل تھی اِک پھلجھڑی نور کی

    گل و غنچہ کی طرف محبوب تھی

    کلی او مندی دل کو مرغوب تھی

    غرض کیا کہوں اُس کا میں ماجرا

    عجب طرح کی بندھ گئی تھی ہوا

    وہ گانے کا عالم، وہ حسن بتاں

    وہ گلشن کی خوبی، وہ اُن کا سماں

    گھڑی چار، دن باقی اُس وقت تھا

    سہانا ہر اک طرف سایہ ڈھلا

    درختوں کی کچھ چھاؤں اور کچھ وہ دھوپ

    وہ دھانوں کی سبزی ، وہ سرسوں کا روپ

    لپیٹے ہوئے پوستوں پر تمام

    پہرے سنہرے ورق صبح و شام

    وہ لالے کا عالم ہزارے کا رنگ

    وہ آنکھوں کے ڈورے، نشے کی ترنگ

    گلابی سا ہو جانا دیوار و در

    درختوں سے آنا شفق کا نظر

    وہ چادر کا چھٹنا، وہ پانی کا زور

    ہر اِک جانور کا درختوں پہ شور

    وہ سروِ سہی، اور وہ آبِ رواں

    وہ مستی سے پانی کا پھرناوہاں

    وہ اڑتی سی نوبت کی دھیمی سدا

    کہیں دور سے گوش پڑتی ہے آ

    وہ رقصِ بتاں اور وہ ستھری الاپ

    وہ گوری کی تانیں ، وہ طبلوں کی تھاپ

    وہ دل پیسنا، ہاتھ پر دھر کے ہاتھ

    اچھلنا وہ دامن کا ٹھوکر کے ساتھ

    نہ انسان ہی کا تھا دِل اُس میں بند

    ہوئے محو حسن کر چرند اور پرند

    غرض جو کھڑی تھی ، کھڑی رہ گئی

    اڑی جس جگہ، سو اڑی رہ گئی

    جو پیچھے تھی، آگے نہ وہ چل سکی

    جو بیٹھی سو بیٹھی، نہ پھر ہل سکی

    لگی دیکھنے آنکھ نرگس اٹھا

    کلوں نے دیے کان اودھر لگا

    لگے ہلنے آوجد میں سب درخت

    کھڑے رہ گئے سرو ہو کر کرخت

    درختوں سے گرنے لگے جانور

    بنے مثل آئنہ دیوار و در

    ہوئیں قمریاں شوق سے نعرہ زن

    بھرا اشک سے بلبلوں کے چمن

    ہوئے نہر کے ننگ، پانی ، پگھل

    پڑے سارے فوارے اُس کے اچھل

    عجب راگ کو بھی دیا ہے اثر

    کہ ہو جائے پتھر کا پانی، جگر

    بندھا اِس طرح کا جو اُس جا سماں

    ہوا سب کے   دل کا عجب حال واں

    و لیکن جو کچھ دل گیوں پر گیا

    کہ بن آئی ہر اِک وہاں مر گیا

    لگا تھا زبس عشق کا اُس کو تیر

    لگی کھینچنے آہ بدرِ منیر

    بندھا اُس کو عاشق کا اپنے خیال

    لگی رونے آنکھوں پر دھر کر رومال

    کہیں کا کہیں لے اڑا اُس کو راگ

    ہوا سے ہوئی اور دونی وہ آگ

    لگی کہنے: ہے ہے یہ دیکھوں میں سیر

    نہ ہو پاس میرے وہ، یادش بخیر

    وہی جانے، ہو جس کے کچھ دل کو لاگ

    کہ معشوق بن، سب ہے گلزار، آگ

    بھلا کیونکے جی اُس کا خوش حال ہو

    کہ ہجراں کا غم، جس کے دنبال ہو

    جگر میں اگر آہ کی سول ہو

    لگے خار، کیسا ہی کو پھول ہو

    درختوں کے عالم سے کیا ہو نہال

    جسے یاد شمشاد کی ہو کمال

    کرے گلشن و گل پہ کیا وہ نظر

    جسے اپنے گل کی نہ ہو وے خبر

    یہ کہہ کر اٹھی واں سے، وہ دِل رُبا

    چھپر کھٹ پہ جا کر گری، منہ چھپا

    خوشی کا جو عالم تھا، ماتم ہوا

    ورق کا ورق ہی وہ برہم ہوا

    سب اٹھتے ہی بس اُس کے جاتی رہیں

    طوائف کہیں اور خواصیں کہیں

    مِری عقل اِس جا پہ حیران ہے

    کہ یارب! یہ کیسا گلستان ہے!

    ہر اِک وقت ہے اِس کا عالم جدا

    جو چاہو، یہ پھر ہو، تو امکان کیا

    یہ شعر نسخہ فورٹ ولیم میں نہیں ہے۔

    کبھی ہے خزاں اور کبھی ہے بہار

    نہیں اِک و تیرے پہ لیل و نہار

    داستان بے نظیر کے غم ہجر سے بدرِ منیر کی بے قراری میں

    پلا ساقی اِک جام مجھ کو شتاب

    کہ پردے میں شب کے گیا آفتاب

    شبِ ہجر کی پھر علامت ہوئی

    غرض عاشقوں پر قیامت ہوئی

    گری جب چھپر کھٹ میں وہ رشکِ حور

    سبھوں کو کہا: تم رہو دور دور

    اکیلی وہ روتی تھی زار و نزار

    اُسی اپنے عالم میں بے اختیار

    گرے چشم سے اُس کے اتنے گہر

    کہ دھویا اُسی آب سے منہ سحر

    صبوحی تو دے ساقیِ لعل فام

    کہ رو دھو کے میں رات کاٹی تمام

    ہوا آفتابِ الم جو طلوع

    اُداسی کا ہونے لگا دن شروع

    ذرا آمنہ لے کر دیکھا جو رنگ

    تو جوں آئنہ رہ گئی وہ بھی دنگ

    بدن کو جو دیکھا تو زار و نزار

    کسی کو کوئی جیسے دیوے فشار

    فلک کی طرف دیکھ اور شکر کر

    لگی دل کو بہلانے ایدھر اُدھر

    زباں پر تو باتیں، وَلے دِل اُداس

    پراگندہ حیرت سے ہوش و حواس

    نہ منہ کی خبر اور نہ تن کی خبر

    نہ سر کی خبر، نے بدن کی خبر

    اگر سر کھلا ہے تو کچھ غم نہیں

    جو کرتی ہے میلی، تو محرم نہیں

    جو مستی ہے دو دن کی، تو ہے وہی

    جو کنگھی نہیں کی تو یوں ہی سہی

    جو سینہ کھلا ہے تو، دِل چاک ہے

    غم آلود صبحِ طرب ناک ہے

    نہ منظور سرمہ، نہ کاجل سے کام

    نظر میں وہی تیرہ بختی کی شام

    ولیکن یہ خوبوں کا دیکھا سبھاد

    کہ بگڑے سے دو ناہو اُن کا بناد

    نہیں حسن کی اِس طرح بھی کمی

    جو بگڑی ہے بیٹھی، تو گویا بنی

    غرض، بے ادائی ہے یاں کی ادا

    بھلوں کو ، سبھی کچھ لگے ہے بھلا

    جو ماتھے یہ چین جبیں غم سے ہے

    تو وہ بھی ہے اِک موج دریائے لے

    وہ آنکھیں جو روئی ہیں بس پھوٹ پھوٹ

    تو گویا کہ موتی بھرے کوٹ کوٹ

    تپِ غم سے یاں تمتمائے ہیں گال

    کہ جوں رنگِ لالہ ہو وقتِ زوال

    گریبان سینے پہ ہے جو کھلا

    تو گویا وہ ہے صبحِ عشرت فزا

    نقاہت سے چہرہ اگر زرد ہے

    دِیا آہ ہونٹوں پہ کچھ سرد ہے

    ادا سے نہیں یہ بھی عالم جُدا

    کہ ہے چاندنی اور ٹھنڈی ہوا

    داستان بے قراری بدرِ منیر کی بے نظیر کے فراق میں اور نجم النساء کے تسلی دینے میں:

    پلا ساقیا! ساغر بے نظیر

    پھنسی دامِ ہجراں میں بدرِ منیر

    وہ حسن و جوانی اور اس پہ یہ غم

    ستم ہے، ستم ہے، ستم ہے ستم

    جہاں بیٹھنا، آہ کرنا اُسے

    بہانہ نزاکت پہ دھرنا اُسے

    کبھی خون آنکھوں سے رو ڈالنا

    کسی کو کبھی دیکھ دھو ڈالنا

    خواصوں کو بالا بتانا اُسے

    اکیلے درختوں میں جانا اُسے

    وَلے اُن درختوں میں، جن میں وہ ماہ

    سرِ شام چھپ چھپ کے کرتا نگاہ

    سو یہ بھی پہر دن سے آواں مدام

    اُسی چھانو میں بیٹھ کر کرتی شام

    گیا اِس طرح جب مہینا گزر

    کہ وہ ماہ، مطلق نہ آیانظر

    اور اِس کا اِدھر رنگ گھٹنے لگا

    جگر خوں ہو مژگاں پہ بٹنے لگا

    لگی رہنے تپ جانِ بے تاب میں

    لگا فرق آنے خور و خواب میں

    محبت کا سودا سا ہونے لگا

    جنوں تخم وحشت کا بونے لگا

    سرکنے لگا، پاسِ ناموس و ننگ

    لگی عقل اور عشق میں ہونے جنگ

    خموشی اٹھانے لگی دل میں شور

    جتانے لگی ناتوانی بھی زور

    یہ احوال دیکھ اُس کا دخت وزیر

    لگی جل کے کہنے کہ بدرِ منیر

    تو، وہ ہے کہ سب کےتئیں دے وقوف

    کدھر دِل گیا تیرا؟ اے بے وقوف

    مسافر سے کرتا ہے کوئی بھی پیت

    مثل ہے کہ ’’جوگی ہوئے کس کے میت‘‘

    اری! چار دِن کے ہیں یے آشنا

    ملا دل کو، آخر کریں ہیں جدا

    گہے آسماں، گہہ زمیں کے ہیں یے

    جہاں بیٹھے ہیں، بس وہیں کے ہیں یے

    تو بھولی ہے کس بات پر اے بوا!

    خبر لے دِ وانی! تجھے کیا ہوا؟

    سنو جانی! اپنے پہ جو کوئی مرے

    تو دِل پہلے اپنا بھی صدقے کرے

    اگر آپ پر کوئی شیدا نہ ہو

    تو پھر چاہیے اُس کی پروا نہ ہو

    وہ خوش ہو گا اپنی پری کو لیے

    عبث اُس پہ بیٹھی ہو جی دیے

    تمہاری اُسے چاہ ہوتی اگر

    تو اب تک وہ تم کو نہ آتا نظر؟

    لگی کہنے تب اُس کو بدرِ منیر

    کہ سنتی ہے اے میری دُختِ وزیر!

    کسی کی بدی تو نہ کر عیب ہے

    کہ اُس کا خدا عالم الغیب ہے

    وہ اپنے دلوں سے تو ہے نیک ذات

    ہوئی اُس پہ کیا جانیں، کیا واردات؟

    ہوا قید، یا آنے پایا نہ وہ

    گئے اتنے دن، اب تک آیا نہ ہو

    مجھے رات دن اس کا رہتا ہے ڈر

    پری نے سنی ہو نہ یاں کی خبر

    نہ باندھا ہو اُس کو کسی شید میں

    کیا ہو نہ اُس کےتئیں قید میں

    پری نے کہیں طیش کھا لاف میں

    دیا ہو نہ پھینک اُس کو کہ قاف میں

    پرستان سے بی نکالا نہ ہو

    کسی دیو کے منہ میں ڈالا نہ ہو

    نہ ملنے کے دکھ اُس کے سب میں سہے

    بھلا اپنے جی سے وہ جیتا رہے

    یہ کہ حالِ دِل اپنا، رونے لگی

    گہر آنسوؤں کے پرونے لگی

    گئی منڈ کری مار آخر کو لیٹ

    چھپر کھٹ کے کونے میں سر منہ لپیٹ

    خواب دیکھنے میں بدرِ منیر کے بے نظیر کو کنویں میں

    پلا ساقیا! جامِ جم سے وہ مل

    کہ غائب کا احوال ظاہر ہو کل

    کسی کے تو آ کام فرخندہ فال

    کہ آخر یہ دنیا ہے خواب و خیال

    ذرا آنکھ لگ گئی جو اُس حال میں

    تو دیکھا پھنسا اُس کو جنجال میں

    قضا نے دکھایا عجب اُس کو خواب

    کہ دشمن نہ دِیکھے وہ حالِ خراب

    یہ دیکھا کہ صحرا ہے اِک لق و دق

    کہ رُستم جسے دیکھ ہو جاوے فق

    نہ انسان ہے واں، نہ حیوان ہے

    فقط اِک کف دست میدان ہے

    مگر بیچ میں اُس کے ہے اِک کنواں

    کہ اٹھتا ہے آہوں کا واں سے دھواں

    کنویں کا ہے منہ بند، اُس سے اڑی

    کئی لاکھ من کی ہے اِک سل پڑی

    صدا وَاں سے یہ ہے کہ بدرِ منیر!

    ترے چاہِ غم میں ہوا ہوں اسیر

    میں بھولا نہیں تجھ کو اے میری جاں!

    کروں کیا کہ ہے مجھ پہ قیدِ گراں

    پر، اِس قید میں بھی ترا دھیان ہے

    فقط تیرے ملنے کا ارمان ہے

    تو اپنی جو صورت دکھا دے مجھے

    تو اِس قیدِ غم سے چھڑادے مجھے

    نہیں مجھ کو مرنے سے کچھ اپنے ڈر

    یہ غم ہے کہ تجھ کو نہ ہووے خبر

    تجھے کاش اس وقت میں دیکھ لوں

    جیوں میں، اگر تیرے آگے مروں

    ولیکن یہ ہے خام میرا خیال

    نہیں وصل ممکن بغیر از وصال

    کوئی دم کا مہمان ہوں آج کل

    اِسی چاہ میں جائے گا دم نکل

    یہ سن وارداتِ شہِ بے نظیر

    جو چاہے کرے بات بدرِ منیر

    یہ ہرگز میسر نہ آئی اُسے

    قضا نے اِس کی سنائی اُسے

    یکایک گئی آنکھ اتنے میں کھُل

    بھرے اشک رُخشار پر آئے ڈھل

    نہ وہ چاہ دیکھا، نہ ہم راز وہ

    پڑی گوش میں پھر نہ آواز وہ

    صدا اپنے یوسف کی سن خواب سے

    اُٹھی باؤلی جانِ بے تاب سے

    کہا گو کسی سے نہ اُس نے یہ بھید

    وَلے جوں مہِ صبح چہرہ سفید

    ڈھلے منہ پہ آنسو ہوا بس کہ رنج

    چھٹے چاندنی میں ستاروں کے گنج

    وہ مہتاب سا چہرہ، ہوزرد زرد

    سراپا ہوا شکلِ اندوہ ودرد

    زِبس آہِ پنہاں سے گھٹنے لگی

    تو منہ پر ہوائی سی چھٹنے لگی

    مژہ وہ نکیلی جو تھی تیز سی

    ہوئی اشکِ خونیں سے گل ریز سی

    بھچمیا سا قد تھا جو رشکِ انار

    نکلنے لگے اُس سے شعلے ہزار

    جلیں اُس کی آہوں سے کل صورتیں

    ہو میں سب وہ ٹٹی کی جوں مورتیں

    چھپایا بہت اُس نے ، پر ہم نشیں!

    چھپائے سے آتش چھپے ہے کہیں

    کسی سے کسی کو جو ہوتی ہے لاگ

    بغیر از کہے اور لگتی ہے آگ

    خواصیں کئی دے جو ہمراز تھیں

    بڑی خدمتوں میں سر افراز تھیں

    کہا اُن سے رو رو کے احوالِ خواب

    رُلایا اُنہیں پڑھ کے غم کی کتاب

    سنا جب کہ نجم النساء نے یہ حال

    ہوئی بے قراری تب اُس کو کمال

    داستان نجم النساء کے جوگن ہونے میں:

    لگی کہنے وہ: یوں نہ آنسو بہا

    ترے واسطے میں نے سب دکھ سہا

    بس اب سر بہ صحرا نکلتی ہوں میں

    اُسے ڈھونڈ لانے کو چلتی ہوں میں

    جو باقی رہا کچھ مرے دم میں دم

    تو پھر آ کے میں دیکھتی ہوں، قدم

    وگر مر گئی تو بلا سے موئی

    تو یوں جانیو! مجھ پہ صدقے ہوئی

    کہا: شاہ زادی نے: سُن اے رفیق!

    ہوئی میں تو اِس چاہِ غم میں غریق

    بھلی چنگی اپنی نہ کھو جان تو

    کہ وہ ہے پری اور انسان تو

    رسائی تری کیوں کے ہو گی وہاں

    مجھے بھی نہ دے ہاتھ سے میری جاں!

    میں جیتی ہوں اِس آسرے پر فقط

    کہ ہوتا ہے تجھ سے مرا غم غلط

    وگرنہ میں رک رک کے مر جاؤں گی

    اِسی طرح جی سے گزر جاؤں گی

    کہا اُس نے: کیا کیجیے پھر بھلا

    پڑی سر پہ یہ ناگہانی بلا

    میں اِس عشق کا یہ نہ سمجھی تھی ڈول

    ترے غم سے آنے لگا، مجھ کو ہول

    تجھے دیکھنا یوں گوارا نہیں

    اِس اندوہ کا مجھ کو یارا نہیں

    یہ کہ ، اس نے رو رو اتارا سنگار

    کیا اپنی پشواز کو تار تار

    گریبان کو مثلِ گُل چاک کر

    دِیا خاک پر پھینک ایدھر اُدھر

    پھر آئے جو کچھ اس کو ہوش و حواس

    سجا تن پہ جو گن کا اُس نے لباس

    پہن سیلی ، اور گیروا اوڑھ کھیس

    چلی بن کے صحرا کو جوگن کے بھیس

    کئی سیر موتی جلا راکھ کر

    بھبھوت اپنے تن پر ملا سر بہ سر

    پہن ایک لہنگا زری باف کا

    وہ پردہ سا کر اُس تنِ صاف کا

    زری کے دوپٹے سے چھاتی کو باندھ

    بدن کو چھپا اور گائی کو باندھ

    زمرد کے مندرے لگا کان میں

    کہ جوں سبزہ و گل گلستان میں

    گلے بیچ ڈال اپنے مالوں کے تئیں

    پریشان کر اپنے بالوں کے تئیں

    زری کا بنا حلقہ سر پر رکھا

    کیا سنبلستان کو جگمگا

    لٹیں دے کے بل دوش پر موڑ دیں

    وہ باگیں سی شبدیز کی چھوڑ دیں

    مئے غم سے آنکھوں کو کرلال لال

    رکھا چشم میں خونِ دِل کو نکال

    زمرد کی سمرن کو ہاتھوں میں ڈال

    اور اِک بین کاندھے پر اپنے سنبھال

    جو منکے تھے من کے اُنہیں کر درست

    پہن اپنے موقع سے چالاک و چست

    چلی بن کے جوگن جو باہر کے تئیں

    دکھاتی ہوئی چال ہر ہر کے تئیں

    تفِ سوزِ دل کا عیاں منہ سے حال

    اڑاتی چلی اپنی آہوں سے رال

    اُس آئینہ رو کا کروں کیا بیاں

    صفا، راکھ سے اور چمکی وہاں

    کرے حسن کو کس طرح کوئی ماند

    چھپے ہے کہیں خاک ڈالے سے چاند

    چھپانے کو سانگ اُس نے جو جو کیے

    غرض حسن نے اور جلوے دیے

    وہ موتی کی سلی وہ ن کی دمک

    شبِ تیرہ میں کہکشانِ فلک

    زری کا وہ حلقہ سر اوپر دھرے

    کہ جوں شب میں کوئی نبیٹی کرے

    زمانے کو بھائی جو اُس کی ادا

    تو اُس رات پر، دِن کو صدقے کیا

    کرے جو کہ تقویمِ دل سے حساب

    کہے سنبلہ میں گیا آفتاب

    یہ برق دیہ ابر سیہ ہے اگر

    تو دامان عشاق ہوویں گے تر

    زمرد کے مندرے وہ اِس آن پر

    کہوں کیا کہ جیسے کھلے پان پر

    وہ مندرے، وہ تن اس کا خاکستری

    ہوئی حسن کی اور کھیتی ہری

    اڑے سبزہ و گل کے دیکھ اُس کو ہوش

    وے دونوں ہوئے اُس کے حلقہ بگوش

    نظر کر صفائی کو اُس گوش کی

    زمرد کو اُس گوش کی لو لگی

    بڑھے کیوں نہ ہر دم زمرد کی شان

    جب ایسے کسی کے لگے جا کے کان

    وہ موتی کے مالے وہ مونگے کے ہار

    گل و نسترن کی چمن میں بہار

    گُلابی سی وہ نرگسِ شوخ رنگ

    بھرے جس میں لالہ نے لالا کے رنگ

    وہ قشقہ کھنچا سرخ ماتھے پہ یوں

    پڑے نور پر لعل کا رنگ جوں

    ادا اُس کو دیکھے جو عاشق کبھو

    تو رویا کرے چشم سے وہ لہو

    یہ بین اُس کے کاندھے پہ تھی خوش نما

    چلے جوں کوئی مست شیشہ اٹھا

    دیارِ محبت میں مہنگی تھی وہ

    نہ تھی بین، عشرت کی بہنگی تھی وہ

    نہ تھی بین، تھے قمقمے رنگ کے

    دیا تھے سبو بجر آہنگ کے

    سو وہ بین کاندھے پہ رکھ یوں چلی

    کہ لادے کوئی جیسے گنگا جلی

    ہر اِک تار تھا بین کا رودِ نیل

    وہ تھی ہند کے راگ کی سلسبیل

    نہ عاشق ہوئے اُس کے عالم پہ لوگ

    دِوانہ ہوا جوگ، دیکھ اُس کا جوگ

    بنی جب کہ جوگن وہ اِس رنگ سے

    لگے پھوڑنے دوست سر سنگ سے

    وہ رخصت جو اس طرح ہونے لگی

    تو وہ صاحب خانہ رونے لگی

    وہ رو رو کے دو ابرِ غم یوں ملے

    کہ جس طرح ساون سے بھادوں ملے

    یہاں تک بندھا اُس کے رونے کا تار

    بہے پھوٹ دیوارِ و در ایک بار

    کھڑے تھے وہ جوگن کے جو گرد کل

    وہ رو رو ہوئے شبنم آلودہ گُل

    نہ دیکھا کسی نے جو کچھ اختیار

    کہا: حق کو سونپا تجھے، لے سدھار!

    چلی جس طرح پیٹھ اپنی دکھا

    اسی طرح دِکھلا ہمیں منہ پھر آ!

    کسی نے کہا: بھولیو مت مجھے

    خدا کے تئیں میں نے سونپا تجھے

    کہا اُس نے  خیر اب تو جاتی ہوں میں

    جو ملتا ہے، تو اُس کو لاتی ہوں میں

    تمہیں بھی خدا کو میں سونپا سنا!

    مرا بخشیو تم، کہا اور سنا

    جدا ہو کے القصہ روتوں کو چھوڑ

    چلی اپنے گھر بار سے منہ کو موڑ

    نہ سدھ بدھ کی لی اور نہ منگل کی لی

    نکل شہر سے راہ جنگل کی لی

    لیے بین بھرتی تھی صحرا نورد

    تنِ خاک خاک اور رو گرد گرد

    کہ شاید کوئی شخص ایسا ملے

    کہ جس سے وہ شیدا کا شیدا ملے

    جہاں بیٹھ کر وہ بجاتی تھی بین

    تو سننے کو آتے تھے آہوئے چین

    بجاتی وہ جوگن جہاں جو گیا

    تو واں بیٹھتی خلق دھونی لگا

    اُسے سن کے آتا تھا صحرا کو جوش

    صدا سے درختوں کو، کرنا خروش

    گلِ نغمہ جو اُس سے گرتے ہزار

    تو لیتا اُنہیں دشت، دامن پسار

    کہیں حلقہ حلقہ، کہیں لخت لخت

    کھڑے ہو کے گرد اُس کے سنتے درخت

    بجاتی تھی جوں جوں وہ بن بن کے بین

    خس و خار سنے تھے بن بن کے بین

    نظر جو کہ پڑتی تھی بوٹی جڑی

    ہر اِک عالم شوق میں تھی کھڑی

    تماشا نہ دیکھا تھا جو یہ کبھی

    در و دشت غش ہو پڑے تھے سبھی

    یہاں تک کہ رہ میں جو تھے نقش پا

    وہ بیٹھے کان اپنے اودھر لگا

    گُل نغمۂ تر کی تھی یہ بہار

    کہ صحرا کے گل اُس کے آگے تھے خار

    سن آواز کی اُس کی شان و شکوہ

    کچھ اِک دب کے بیٹھے تھے سننے کو کوہ

    نہ پانی ہی سن شور اُس کا چلے

    کنویں کے دلوں میں ہوے ولولے

    نہ چشمے ہی کچھ آب دیدہ رہے

    گریبان کر چاک دریا بہے

    گئی جو صدا گوش میں راگ کے

    تو سننے کو سوتے اٹھے جاگ کے

    سمجھ بین کو اُس کی انسان ، سار

    گریبان کرنے لگے تار تار

    فقط بلبل و گل کا کب تھا ہجوم

    کہ گرتی تھیں واں ڈالیاں جھوم جھوم

    تحیر کا تھا واں ہر اِک کو مقام

    زباں کا نکلتا تھا ہاتھوں سے کام

    چمن کرتی پھرتی تھی جنگل کے تئیں

    بساتی تھی جنگل میں دنگل کے تئیں

    یہ ہر جا پہ تھا اُس کے دم سے طلسم

    بندھا تھا اُسی دم قدم سے طلسم

    شب و روز سرگشتہ مثل صبا

    اِسی طرح پھرتی تھی وہ جا بہ جا

    داستان فیروز شاہ، جنوں کے بادشاہ کے بیٹے کے عاشق ہونے میں جوگن پر

    کدھر ہے تو اے ساقیٔ گل عذار!

    کہ صحرا سے اب دل ہوا خار خار

    کوئی پھول سی دے شتابی شراب!

    کہ شہرِ مطالب کو پہنچوں شتاب

    وہ دارو پلا، دل کو جو راس ہو

    کہ جینے کی بیمار کو آس ہو

    مسبب کے اسباب دیکھو ذرا!

    کہ قدرت میں ہے اُس کی کیا کیا دھرا؟

    سفید و سیہ اُس کے ہے اختیار

    بنایا ہے اُس نے یہ لیل و نہار

    جہاں میں ہے اندوہ عشرت بہم

    کہیں صبحِ عیش و کہیں شامِ غم

    دو رنگی زمانے کی مشہور ہے

    کبھی سایہ ہے یاں، کبھی نور ہے

    قضارا سہانا سا اِک دشت تھا

    کہ اِک شب ہوا اُس کا وَاں بسترا

    وہ تھی اتفاقاً شبِ چار وہ

    ادا سے وہ بیٹھی تھی واں رشکِ مہ

    بچھی ہر طرف چادر نور تھی

    یہی چاندنی اُس کو منظور تھی

    بچھا مرگ چھالے کو اور لے کے بین

    دوزانو سنبھل کر وہ زہرہ جبین

    کدارا بجانے لگی شوق میں

    لگی دست و پا مارنے ذوق میں

    کدارا لگا بجنے یہ اُس کے ہاتھ

    کہ مہ نے کیا دائرہ لے کے ساتھ

    بندھا اس طرح کا جو اُس جا سماں

    صبا بھی لگی رقص کرنے وہاں

    وہ سنسان جنگل وہ نورِ قمر

    وہ براق ماہر طرف دشت و در

    وہ اجلا سا میداں چمکتی سی ریت

    لگا نور سے چاند تاروں کا کھیت

    درختوں کے پتے چمکتے ہوئے

    خس و خار سارے جھمکتے ہوئے

    درختوں کے سایے سے مہ کا ظہور

    گرے جیسے چھلنی سے چھن چھن کے نور

    دیا یہ کہ جوگن کا منہ دیکھ کر

    ہوا نور، سایے کا ٹکڑے جگر

    گیا ہاتھ سے بین سن کر جو دل

    گئے سایہ و نور آپس میں مل

    وہ صورت خوش آئی جو اُس نور کی

    دِل اپنے پہ سایے نے منظور کی

    ہوا بندھ گئی، اُس گھڑی اِس اصول

    بسیرا گئے جانور اپنا بھول

    درختوں سے لگ لگ کے بادِ صبا

    لگی وجد میں بولنے واہ واہ!

    کدارے کا عالم یہ تھا اُس گھڑی

    کہ تھی چاندنی ہر طرف غش پڑی

    یہاں تو یہ عالم تھا، اور طور یہ

    تس اوپر مزہ تم سنو اور یہ

    کہ تھا اِک پری زاد فرخ سیر

    جنوں کا وہ تھا بادشہ کا پسر

    نہایت طرح دار، صاحبِ جمال

    برس بیس اکیس کا سن و سال

    ہوا پر اڑائے ہوئے اپنا تخت

    کسی طرف جاتا تھا بیدار بخت

    وہ جاتا تھاکرتے ہوئے سیر ماہ

    اُسے خلق کہتی تھی فیروزشاہ

    یکایک سنی بین کی جو صدا

    وہاں تخت لا اُس نے اپنا رکھا

    جو دیکھے ، تو جوگن ہے اِک رشکِ حور

    کہ چشم فلک نے نہ دیکھا یہ نور

    نظرکرکے حسن اُس کا غش کر گیا

    تعشق کے عالم میں بس مر گیا

    کہا: کچھ بناوٹ کا یہ بھیس ہے

    لگا کہنے: جوگی جی، آدیس ہے

    پڑا تم پر اتنا کہو کیا بجوگ

    لیا واسطے کس کے تم نے یہ جوگ؟

    کدھر سے تم آئے، کہاں جاؤ گے؟

    دیا اپنی ہم پر بھی فرماؤ گے؟

    وہ سمجھی کہ اِس کا دِل آیا اِدھر

    کہ دل بھی تو رکھتا ہے دِل کی خبر

    خس و خار ہے عشق، حسن آگ ہے

    سدا عشق اور حسن میں لاگ ہے

    ولے، را ہے اور اس میں ہوا

    کہ دونوں طرف آگ وے ہے لگا

    کہا ہنس کے جو گن نے: ہر بول! ہر!

    جہاں سے تو آیا، چلا جا اُدھر

    کہا تب پری زاد نے: واہ جی

    بہت گرم ہیں آپ، اللہ جی!

    نہ روکے ہواتنا، بھلا جاؤں گا

    ذرا بین سن کر چلا جاؤں گا

    کہا نہ ہوتے سوتوں سے اپنے کہو!

    فقیروں کو چھیڑو نہ، بیٹھے رہو!

    یے دو دو لطیفے جو باہم ہوئے

    اُسی لطف     میں یہ تو بے دم ہوئے

    کہا بیٹھ آ سامنے ریت میں

    رہا کھیت پہ تو اُسی کھیت میں

    نظر حسن پر گاہ، گہ بین پر

    سراپا دل اُس بعتِ چین پر

    رہا تن بدن کا کا نہ کچھ اُس کو ہوش

    بنا کل وہ جوں نقش پا چشم و گوش

    وہ جوگن جو تھی درد و غم کی اسیر

    ہوا غم میں جوگن کے یہ بھی فقیر

    نہ سدھ گھر کی لی اور نے راہ کی

    جب آئی ذرا سدھ، تو پھر آہ کی

    بجاتی رہی بین وہ صبح تک

    یہ رویا کیا سامنے بے دھڑک

    اُدھر تان پر بین کی تھی بہار

    بندھا تھا اِدھر اُس کے رونے کا تار

    دھری اپنے کاندھے پہ جب اُس نے بین

    اٹھی لے کے انگڑائی زہرہ جبین

    پری زاد نے تب پکڑ اُس کا ہاتھ

    شتابی بٹھا تخت پر اپنے ساتھ

    زمیں سے اڑا آسماں کے تئیں

    وہ کتنا کہا کی: نہیں مارے نہیں!

    نہ مانا ور اس نے اڑایا اُسے

    پرستان میں لا بٹھایا اُسے

    یہ مژدہ گیا باپ پاس اپنے لے

    کہا: عرض رکھتا ہوں میں آپ سے

    یہ جوگن جو ہے ایک صاحب کمال

    ذرا بین سنیے اور اس کے خیال

    بہت آپ اِس سے اٹھاویں گے حظ

    بہت بین سے اس کے پاویں گے حظ

    کہا: اُس نے ، بابا، بہت خوب ہے

    ہمیشہ سے راگ اپنا مرغوب ہے

    کہا: آؤ جوگی جی! بیٹھو اِدھر

    کرو روشن اپنے قدم سے یہ گھر

    کھلے بخت بیٹے کے اور باپ کے

    سر اوپر ہمارے قدم آپ کے

    بہت اُس کی تعظیم و تکریم کی

    جگہ ایک پاکیزہ رہنے کو دی

    پلا مجھ کو ساقی محبت کا جام

    کہ مہمانیون میں ہوا دن مام

    داستان فیروز شاہ کی مجلس آرائی اور جوگن کے بلانے میں

    یہ جوگن جو بیٹھی، بر و گن ہوئی

    کہ اتنے میں رات آئی جو گن ہوئی

    بھبھوت اپنے منہ پر شتابی سے مل

    رکھ انڈ دے کومہ کے، شب آئی نکل

    دکھائی ہوئی سوزِ دل دور سے

    اڑاتی ہوئی رال کو نور سے

    ستاروں کے مالے گلے بیچ ڈال

    وہ پہنچی پرستان میں حال حال

    ہوئی شب جو وہ بزمِ انجم فروز

    چھپا رشک سے اس کے پردے میں روز

    ملک نے پرستاں میں مجلس بنا

    بلایا اُسے ، جس کی تھی یہ ثنا

    پری زاد سارے ہوئے جمع واں

    کہ دیکھیں تو جوگن کا چل کر سماں

    وہ جوگن جو سچ مچ تھی زہرہ جبین

    سو مجلس میں آئی لیے اپنی بین

    بہت منتوں سے بلایا اُسے

    بڑی عزتوں سے بٹھایا اُسے

    کہا: کچھ بجانا نہیں اپنا کام

    ہر اک طرح لینا ہمیں ہر کا نام

    ہیں بے زار فرمائشوں سے فقیر

    وَلے کیا کریں؟ اب ہوئے ہیں اسیر

    کہا: جوگی صاحب ! یہ کیا بات ہے؟

    کرم آپ کا ہم پہ دن رات ہے

    جو مرضی ہو تو تم کو تکلیف دیں

    نہیں، جس میں راضی ہو تم، سو کریں

    کہا: اِس طرح سے جو فرماؤ گے

    تو ہاں بندگی ہی میں کچھ پاؤ گے

    یہ کہہ، اُس نے بین اپنے کاندھے پہ دھر

    یہاں تک بجائی کہ دیوار و در

    کھڑے رہ گئے ہوش کھوئے ہوئے

    نظر جو پڑے واں، سو روئے ہوئے

    گیا اہل مجلس کا جو دل پگھل

    تو جوں شمع اشک آئے سب کے نکل

    ہویں بین پر انگلیاں یوں دواں

    کہ ہاتھوں سے اُس کے ہوا دِل رواں

    روان و دواں کر دیا جان کو

    رُلایا ہر اک جن و انسان کو

    ہوا حال پر اُس کا جو کچھ باہ

    وہ عاشق جو تھا اُس پہ فیروز شاہ

    کبھی سامنے آ کے کرتا نظر

    کبھی دیکھتا چھپ کے ایدھر اُدھر

    ستوں کی کبھی اوٹ میں ہو کے وہ

    کھڑا دیکھتا اُس کو رو رو کے وہ

    وہ گو کچھ نہ سنتی، نہ کہتی اُسے

    کن انکھیوں سے پر دیکھ رہتی اُسے

    نظر اُس کی جب آن پڑتی اِدھر

    تو یہ اور کی طرف کرتی نظر

    اِس آن دادا پر وہ فیروز شاہ

    دِل و جاں سے کرتا تھا ہر لمحہ آہ

    کبھی ایدھر اودھر سے پھر پھر کے آ

    چھپے اُس کے مکھڑے کی لیتا بلا

    اگر کوئی جوگن کی کرتا ثنا

    تو کھا رشک کہتا کہ پھر تم کو کیا

    غرض تھی یہ صحبت کی میں کیا کہوں

    یہی دل تھا اُس کا کہ دیکھا کروں

    بجی پہلی صحبت میں واں ایسی بین

    کہ غش کر گئے وے جو تھے نکتہ چین

    سراہا پری زاد کے باپ نے

    کہا: کہ دیا جوگی جی! آپ نے

    اسی طرح ہر شب کرم کیجیے

    مری بزم رشک ارم کیجیے

    مقدم ہمارا رجھانا کرو

    ہمیں اپنا مشتاق جانا کرو

    یہ گھر بار ہے آپ ہی کا تمام

    ہوے آج سے ہم تمہارے غلام

    تکلف کو موقوف کر دیجیے

    جو کچھ تم کو درکار ہو لیجیے

    کہا اُس نے : مطلب نہیں کچھ ہمیں

    تمہارا مبارک رہے گھر تمہیں

    کہا ہم، کہاں تم، ہوا جو یہ ساتھ

    یہ تھی بات سب آب و دانے کے ہاتھ

    یہ کہ، وَان سے اٹھی وہ جوگن اُدھر

    دِیا تھا جہاں اُس نے رہنے کو گھر

    لگی رہنے اُس میں شب و روز وہ

    سمجھ جی میں کچھ کچھ دِل افروز وہ

    کہا اپنے جی سے کہ سنتا ہے جی!

    نہ گھبرائیو اپنے دل میں کبھی

    ....... کہ تاکردگارِ جہاں

    دریں آشکارا، چہ دارد نہاں

    غرض اِس طرح اُس کا معمول تھا

    کہ اُس شاہِ پریوں کی خدم میں جا

    پہر رات تک ہنستی اور بولتی

    ہر اِک بات میں قند تھی گھولتی

    بجا بین، سب کو رجھاتی تھی وہ

    پہر کے ، بجے گھر میں آتی تھی وہ

    وَلے، کیا کہوں حالِ فیروز شاہ

    کہ تھی دِن بہ دن اُس کی حال تباہ

    نہ دنیا کی اُس کو، نہ دیں کی خبر

    اُسی کے تصور میں شام و سحر

    اُسی شمع کے گرد پھرنا اُسے

    پتنگے کی مانند گرنا اُسے

    بہانے سے ہر کام کے روز و شب

    وہیں کاٹنے آ کے اوقات سب

    اُسی طرح اوقات کھونا اُسے

    سدا بین سن سن کے رونا اُسے

    وہ جوگن بھی سو سو طرح کر ادا

    ہر اِک آن میں اُس کو لیتی لبھا

    وَلے کچھ بھی پاتی جو حسنِ طلب

    تو عاشق پہ غصہ وہ کرتی غضب

    کیا اُس نے پردے میں جب کچھ سوال

    دِوانہ کیا اُس کو باتوں میں ڈال

    کبھی خوش کیا اور کیا گہ اداس

    کبھی دور بیٹھی، کبھی اس کے پاس

    کبھی تیکھی نظروں سے گھائل کیا

    کبھی میٹھی باتوں سے مائل کیا

    کبھی ٹیڑھی باتوں سے مارا اُسے

    کبھی سیدھے دِل سے پکارا اُسے

    کبھی ہنس کے دیکھا، ذرا خوش کیا

    کبھی ہو کے غم گین، ناخوش کیا

    کبھی منہ دکھایا، چھپایا کبھی

    کبھی مار ڈالا، جلایا کبھی

    لٹوں میں کبھی دل کو لٹکا دیا

    کبھی ساتھ بالوں کے جھٹکا دیا

    وہ ہر چند آنکھیں دکھاتی رہی

    پہ نظروں میں دل کو لبھاتی رہی

    بچارا پری زاد وہ سادہ دِل

    ادائیں یہ انسان کی متصل

    اِسی طرح مدت گئی جب اُسے

    چڑھی گرمیِ عشق کی تپ اُسے

    نہ [8] منہ پر وہ عالم رہا اور نہ نور

    کئی دن میں دِل ہو گیا چور چور

    جگر خوں ہو، آنکھوں سے آیا ابل

    گیا دِل سب اندر ہی اندر پگھل

    یہ دی پردہ ٔدِل سے جی نے صدا

    کہ ہے صبر کی اپنے بس انتہا

    جو کہنا ہے اُس سے تو کہ حالِ دل

    کہ اب تنگ ہے اپنا احوالِ دِل

    سنبھلتا ہے اب بھی تو ظالم سنبھل!

    نہیں، کوئی دم میں چلا میں نکل

    ملا کر تو اب دستِ افسوس کو

    پڑا رہ لیے ننگ و ناموس کو

    یہ سن جی کا پیغام مجبور ہو

    کہا اپنے نزدیک گو دور ہو

    بلا سے ، اگر آن رہتی نہیں

    کہ اب بن کہے، جان رہتی نہیں

    غرض، ایک دن بات یہ ٹھان کر

    لگا گھات پر اپنی وہ آن کر

    نہ تھا اُس گھڑی کوئی ایدھر اُدھر

    اکیلی پڑی جوگن اُس کی نظر

    اکیلی اُسے دیکھ ہو بے قرار

    گرا اُس کے پاؤں پہ بے اختیار

    گرا اِس طرح سے قدم پر جو وہ

    تو کہنے لگی مسکرا اُس کو وہ

    کہ ہے آج کیا یہ خلافِ قیاس

    گرا اتنا تو ہو کے کیوں بے حواس؟

    کسی نے ترا دل ستایا کہیں؟

    دیا، جی کو تیرے لبھایا کہیں؟

    مرے بیٹھنے سے اذیت ہوئی

    کہ مہمانیوں کی مصیبت ہوئی

    فقیروں سے اتنا نہ ہو تو خفا

    چلے ہم، بھلا جا ترا ہو بھلا!

    اذیت مگر ہم سے پاتا ہے تو

    کہ اب پانو پڑ پڑ اٹھاتا ہے تو

    لگا کہنے رو رو کے فیروز شاہ

    کہ بس بس ، یہی تو کہو گی نہ ، واہ!

    تمہاری سمجھ نے تو مارا ہمیں

    یے باتیں نہیں اب گوارا ہمیں

    ستائے ہوئے کو ستاتے ہو کیا!

    جلے دِل کو ، ناحق جلاتے ہو کیا!

    ہوئے تم نہ واقف مرے حال سے

    فدا میں رہا جان او رمال سے

    تم اپنا سا مجھ کو سمجھتے رہے

    بھلا تم کو اب یاں کوئی کیا کہے؟

    تم ایسے ہی بے رحم و بے درد ہو

    غرض، اپنے عالم میں تم فرد ہو

    یہ سن ہنس کے بولی وہ، کہ اپنا حال

    کہ تو کیوں گرا؟ سر کو پاؤں پہ ڈال

    کہا تب پری زاد نے: میری جاں!

    کہاں تک کروں رازِ دِل کو نہاں

    بھلا ہجر میں کب تلک ہوں ملول

    غلامی میں اپنی مجھے کر قبول

    لگی ہنس کے کہنے کہ اِک طور سے

    جو میری کہانی سنے غور سے

    مطالب اگر میرے بر لائے تو

    تو شاید مراد اپنی بھی پائے تو

    کہا اُس نے: پھر جلد فرمائیے

    جو کچھ آپ سے ہو بجا لائیے

    کہا اُس نے: یہ ہے مری داستاں

    کہ شہر سراندیپ ہے اِک مکاں

    ملک ایک وَاں کا ہے مسعود شاہ

    کہ بیٹی ہے ایک اُس کی مانندِ ماہ

    جہاں میں ہے بدرِ منیر اُس کانام

    میں رہتی تھی خدم   میں اُ س کی مدام

    بنایا تھا اُس نے الگ ایک باغ

    کہ فردوس کا تھا وہ چشم و چراغ

    جدا باپ سے تھی وہ اُس جا مقیم

    سدا سیر کرتی تھی بے خوف و بیم

    میں نجم النسا، اُس کی دختِ وزیر

    ہمیشہ سے ہمراز تھی اور مشیر

    جدا ایک دن اُس سے ہوتی نہ تھی

    سلائے بغیر اُس کے، سوتی نہ تھی

    خوشی سے سروکار ، غم سے فراغ

    بہ رنگِ چمن رہتی تھی باغ باغ

    کسی طرح کا غم نہ تھا دھیان میں

    ترقی خوشی کی تھی ہر آن میں

    ہوئی ایک دن یہ عجب واردات

    کہ اِک شخص وارد ہوا آ کے رات

    کہاں تک کہوں؟ اُس کا قصہ ہے دور

    نہ تھا آدمی ، تھا وہ اِک رشک حور

    گیا اُس پہ اُس شاہ زادی کا دِل

    گئے ایک دونوں وہ آپس میں مل

    وَلے، اُس پہ عاشق کوئی تھی پری

    محبت میں تھی اُس کی وہ بھی بھری

    وہاں اُس کے آنے کی سن کر خبر

    خدا جانے پھینکا ہے اُس کو کدھر

    دیا، قید میں اُس کو ڈالا کہیں

    کہ مدت سے اُ س کی خبر کچھ نہیں

    سو میں کھوج میں اُس کے جوگن ہوئی

    یہاں تک تو پہنچی بروگن ہوئی

    پری زاد آپس میں تم ایک ہو

    اگر تم ذرا کھوج اُس کا کرو

    تو شاید دد سے تمہاری ملے

    تو پھر آرزو بھی ہمارے ملے

    دِل آباد ہو، جی کو آرام ہو

    تمہارا بھی اِس کام میں کام ہو

    کہا تب پری زاد نے: ہاتھ لا!

    انگوٹھا دِکھایا کہ اِترا نہ جا!

    کہا: پھر یہی کچھ نہیں مہ جبیں!

    لگی ہنس کے کہنے: نہیں رے نہیں

    یہ سن قوم کو اُس نے اپنی بلا

    تقید سے سب کو سنا کر کہا

    کہ جاؤ تو ڈھونڈو، کرو مت کمی!

    کہ ہے اِک پرستاں میں قید آدمی

    جو تم میں سے لاوے گا اُس کی خبر

    جواہر کے دوں گا لگا اُس کو پر

    یہ سن اپنے سردار کا وہ کلام

    تجسس میں پھرنے لگے صبح و شام

    ہوا ناگہاں ایک کا وَاں گزر

    جہاں قید میں تھا وہ خستہ جگر

    وہ روتا تھا جو نالہ وآہ سے

    تو کچھ آئی اُس کو صدا چاہ سے

    کہا: کچھ تو ملتا ہے یاں سے سراغ

    کہ آئی ہے یاں بوئے گلزارِ داغ

    وے چوکی کے جو دیو تھے جا بہ جا

    لگا پوچھنے: کس کی ہے یہ صدا؟

    کہا: ماہ رخ کا ہے قیدی یہاں

    کنویں میں تڑپھتا ہے اِک نوجواں

    وہ تحقیق کر اور لے وَاں کا بھید

    اڑا شہر کو اپنے دیوِ سفید

    کیا جا کے فیروز شہ کو سلام

    جو کچھ دیکھ آیا سنایا تمام

    کہا: میرا مجرا ہے، اب لائیے

    جو دینے کہا تھا، سو دلوائیے

    جو معمول تھا وَاں کے انعام کا

    جواہر کے اُس کو دیے پر لگا

    داستان پیغام بھیجنے میں فیروزشاہ کے ماہ رُخ کو

    یہ بھیجا پھر اُس ماہ رخ کو پیام

    کہ کیوں زیست کرتی ہے اپنی حرام

    بنی آدمی کو تو چوری سے لا

    بٹھاتی ہے گھر میں تعشق جتا

    ترے باپ کو گر لکھوں تیرا حال

    تو کیا حال تیرا ہو؟ پھر اے چھنال!

    عزیز اپنی رکھتی نہیں جان کو؟

    ابھی ہے کہ پھونکوں پرستان کو

    ترا رنگ غیرت سے اڑتا نہیں

    تجھے کیا پری زاد جڑتا نہیں؟

    ہمارا گئی بھول خوف و خطر؟

    لگی رکھنے انسان پر تو نظر

    بھلا چاہتی ہے ، تو اُس کو نکال

    کنویں میں جسے تو نے رکھا ہے ڈال

    اور اِس کی قسم کھا کے پھر گر کہیں

    لیا نام اُس کا ، تو پھر تو نہیں

    گیا ماہ رخ کو یہ فرمان جب

    ہوئی خوف سے وہ پریشان تب

    کہا: مجھ سے تقصیر اب تو ہوئی

    کہو، اُس کو لے جائے یاں سے کوئی

    اگر اب میں لاگو ہوں اُس کی کبھی

    تو پھر پھونک دیجو پرستان سبھی

    پر اتنا یہ احسان مجھ پر کرو

    کہ اس کا پرستاں میں چرچا نہ ہو

    مرے باپ کو یہ نہ ہووے خبر

    کہ پھر میں ایدھر کی ہوں، نے اُدھر

    یہ سن کر جواب اُس کا، فیروز شاہ

    چلا، حب سے اپنی ، جہاں تھا وہ ماہ

    سرِ چاہ پر جب وہ پہنچا شفیق،

    کہا: اُن کو تھے وے جو اُس کے رفیق

    کہ ، یہ سنگ اکھڑے یہاں سے ہلے

    کسی چھائی سے پتھر ٹلے

    کھڑے تھے جو وے دیووَاں جوں پہاڑ

    انہوں نے دیا اپنے سینے کو گاڑ

    وہ پتھر جو تھا کوہ سا سنگِ راہ

    دیا پھینک وَاں سے اُسے مثلِ کاہ

    وہ بادل سا سرکا جو اُس چاہ سے

    تو اِک نور چمکا سبِ ماہ سے

    اندھیرے سے اُس چاہ کے، اس کا تن

    نظر یوں پڑا، جیسے کالے کامن

    وہ من ڈالے اُس میں پڑا تھا جو واں

    کہا اُس پری زاد نے سب کو : ہاں

    نکالو امانت اِسے، اِس نمط

    کہ لیتے ہیں بو   مشک سے جس نمط

    تمہیں احتیاط اِس کی ہے اب ضرور

    سمجھیو اِسے اپنی پتلی کا نور

    داستان کنویں سے نکلنے میں بے نظیر کے:

    قدح بھر کے لا ساقیِ با تمیز!

    کنویں سے نکلتا ہے یوسف عزیز

    گئے دن خزاں کے ، اور آئی بہار

    مئے لعل گوں سے دکھا لالہ زار

    گلابی جھمکتی دِلا دے! مجھے

    سماں کوئی ایسا دکھا دے! مجھے

    کہ وہ ماہِ نخشب کنویں سے نکل

    منازل کو اپنی پھرے بر محل

    کوئی دیو تھا واں سکندر نژاد

    کنویں میں اتر کر بہ حسب مراد

    الگ یوں لے آیا کنویں سے نکال

    کہ فوارہ جوں آب کو دے اُچھال

    لے آیا وہ جوں خضر سو گھات سے

    نکال آبِ حیواں کو ظلمات سے

    ہوئے مست اُس ناز بو سے وہ کُل

    کہ نکلا وہ سنبل سے مانند گُل

    اندھیرے سے نکلا وہ روشن بیاں

    کہ حرفوں سے جوں ہوویں معنی عیاں

    وہ جیتاتو نکلا، وَلے اِس طرح

    کہ بیمار ہو نزع میں جس طرح

    زِبس اوپر آنے کا تھا اُس کو غم

    کہے تو کہ بھرتا تھا اوپر کا دم

    جمی خاک تن پر بہ رنگِ زمیں

    گڑا جیسے نکلے ہے پتلا کہیں

    نہ آنکھوں میں طاقت، نہ تن میں تواں

    کہ جوں خشک ہو نرگسِ بوستاں

    وہ تن سرخ جو تھا مو پیلا ہوا

    وہ جوڑا جو تھا سبز، نیلا ہوا

    وہ سر میں جو تھے اُس کے سنبل سے بال

    ہوئے لاغری سے بدن کی وبال

    فقط پوست باقی تھا یا استخواں

    نہ تھا خون کا رنگ بھی درمیاں

    بدن سے رگوں کی تھی اِس ڈھب نمود

    کہ الجھی ہو جوں ریسمانِ کبود

    بدن خشک و زرد اس طرح تھا وہ کُل

    خزاں دیدہ ہو جس طرح برگِ گُل

    وہ ناخن جو تھے اُس کے مثلِ ہلال

    سو وہ ہو گئے بڑھ کے بدرِ کمال

    یہ دیکھا جو احوال اُس کا تباہ

    تو روتا ہوا جلد فیروز شاہ

    بٹھا تخت پر اپنے اُس کو وہاں

    لے آیا، وہ بیٹھی تھی جوگن جہاں

    رکھا تخت اک جا پہ اس کا چھپا

    کہا پھر یہ جا کر نجم النساء

    چل اب تو کر میں اس کو لایا یہاں

    یہ سنتے ہی گھبرا کے بولی : کہاں؟

    دِوانی تھی ازبس وہ اُس نانو کی

    نہ سر کی رہی سدھ، نہ کچھ پانو کی

    کہا: چل کہاں ہے، بتا تو مجھے

    ذرا اُس کی صورت دِکھا تو مجھے

    کہا: رہ کے چلیو، ذرا تم رہو

    کہ شادی بڑی ہے، کہیں غم نہ ہو

    یہ کہ اور لے ہاتھ میں اس کا ہاتھ

    لے آیا وہ جوگن کو واں ساتھ ساتھ

    گیا آپ اُس تخت پر بیٹھ اور

    دکھایا اُسے اور کہا: کر تو غور

    جسے ڈھونڈتی تھی ، سو یہ ہے وہی

    کہا: ہائے، ہاں یہ وہی ہے وہی

    یہ کہ، اور اُس تخت کے پاس آ

    کہا: اے پری زاد! تو اُٹھ ذرا

    کہ اس تخت کے گرد ایک دم پھروں

    بلائیں میں دِل کھول کر اِس کی لوں

    کہااُس نے ہنس کر: بھلا دیکھ تو

    تو اِس بات پر میرے صدقے بھی ہو

    کہا اُس نے تب اپنی جوتی دِکھا

    ارے دیو، تو کیوں دِوانہ ہوا؟

    غرض، وہ پری زاد نیچے اتر

    کھڑا ہو گیا تخت سے ہو اُدھر

    یہ اُس تخت کے گرد پھرنے لگی

    بلا اُس کی لے لے کے گرنے لگی

    گلے لگ کے رونے لگی زار زار

    کیا اپنے تن من کو اُس پہ نثار

    وہ دیکھے جو ٹک آنکھ اٹھا بے نظیر

    تو نجم النساہے یہ دُخت وزیر

    کہا: تو کہاں اور کس کا یہ جوگ؟

    کہاں یہ لباس اور کہاں تم یہ لوگ؟

    کہا: تیرے غم نے دِوانہ کیا

    کہ عالم سے اپنے بِگانہ کیا

    بغل کھول کر، دونوں آپس میں مل

    وے رویا کیے دیر تک متصل

    بیاں دونوں اپنا جو کرنے لگے

    درِ اشک سے چشم بھرنے لگے

    کہی سرگزشت اُس نے اُس دم تلک

    کہ اِس طرح پہنچے ہو تم، ہم تلک

    یہ سن بے نظیر اپنی دِل سوز سے

    لگا شاد ہونے اُسی روز سے

    کیا ایک دن تو اُنہوں نے مقام

    چلے دوسرے دِن وہ نزدیک شام

    اڑے بیٹھ کر تخت پر وہ اُدھر

    کہ تھا نقشِ مطلوب اُن کا جدھر

    وہ جوگن، وہ فیروزشاہ ، اور وہ ماہ

    چلے تخت پر بیٹھ اوپر کی راہ

    پڑھے حرفِ مطلب زبس سوچ کر

    تو بے کنسر بیٹھے مثلث کے گھر

    مربع نشیں تھی وہ بدرِ منیر

    وہاں اُس کو لائی وہ دُختِ وزیر

    اُتارا انہیں ، لا درختوں میں تخت

    دوبارا کھلے اُن درختوں کے بخت

    اکیلے اتر وَاں سے آئی اُدھر

    لیے سوگ بیٹھی تھی وہ مہ جدھر

    یکایک جو وہ آ قدم پر گری

    تو جھجکی وہ شہ زادی اور کچھ ڈری

    پھر آخر جو دیکھا ، تو جوگن ہے یہ

    مرے درد و غم کی بروکن ہے یہ

    کہا: ہائے نجم النسا تو ہے جان

    اری تیرے صدقے، مری مہربان!

    ہمیں تیرے ملنے کی کب آس تھی؟

    کہ جینےسے اپنے ہمیں یاس تھی

    بہت اُس نے چاہا کہ ہووے کھڑی

    کھڑے ہوتے ہوتے دونہیں گر پڑی

    کہا: بارِ غم سے افاقت نہیں

    اری کیا کروں! مجھ میں طاقت نہیں

    بلائیں لگی لینے نجم النسا

    لگی گرد پھرنے بہ رنگِ صبا

    اُسے شاہ زادے کا تھا حال یاد

    جو دیکھا تو یاں اُس سے کچھ ہے زیاد

    نہ گھر کی وہ رونق، نہ اُس کا وہ حال

    گُلوں سے لگا دِل تلک پائے مال

    پڑے سارے بے داشت دیوارو در

    محل کو جو دیکھا تو ٹوٹا سا گھر

    خواصیں جو تھیں پاس، وہ نازنیں

    سو میلی کچیلی، کہیں کی کہیں

    نہ چوٹی گندھی، اور نہ کنگھی درست

    جو چالاک تھی، بن گئی وہ بھی سست

    ہر اِک اپنے عالم میں دیکھو تو دنگ

    اڑا رنگ چہرے کا مثل پتنگ

    نہ آپس کی چہلیں، نہ وہ چہچہے

    نہ گانا بجانا، نہ وہ قہقہے

    غم آلود ہر ایک زار و نزار

    نہ آرام جی کو نہ دل کو قرار

    جو بیٹھیں تو رونا جو اُٹھیں تو غم

    غرض بیٹھتے اٹھتے اُن پر ستم

    چمن سارے ویران سے ہیں پڑے

    شجر گُل کے اِک جھاڑ سے ہیں کھڑے

    جو خود ہے تو حیراں و بیمار سی

    کہ جوں زرد شیشے کی ہو آرسی

    نہ تاب و تواں اور نہ ہوش و حواس

    ضعیف و نحیف و پریشاں اُداس

    یہ دیکھ اُس کا احوال، نجم النسا

    جلی شمع کی طرح آنسو بہا

    وَلیکن محل میں پڑی جب یہ دھوم

    کیا مثل پروانہ اُس پر ہجوم

    سنی ایک نے ایک سے یہ خبر

    مبارک سلامت ہوئی یک دِگر

    کوئی غنچے کی طرح کھلنے لگی

    کوئی دوڑ کر اُس سے ملنے لگی

    ٹکے کوئی صدقے کے لانے لگی

    کوئی سِر سے روٹی چھوانے لگی

    کوئی آئی باہر سے، گھر سے کوئی

    لگی کرنے آپس میں چرچا کوئی

    حقیقت لگی پوچھنے آ کوئی

    اِدھر سے کوئی اور اُدھر سے کوئی

    ہوا سر پہ اُس کے زبس ازدحام

    لگی کرنے گھبرا کے سب کو سلام

    کہا: بی بیو! کل کہوں گی میں حال

    کہ اب راہ کی ماندگی ہے کمال

    وہ انبوہ، جو کچھ ہوا بر طرف

    تو پھر دیکھ نجم النسا ہر طرف

    کہا: شاہ زادی! تو آتی نہیں

    اِدھر اپنی تشریف لاتی نہیں

    چلو، چل کے آرام ٹُک کیجیے

    کچھ اِک تم سے کہنا ہے سن لیجیے

    گئی جب کہ خلوت میں بدرِ منیر

    کہا: میں لے آئی تِرا بے نظیر

    یہ سنتے ہی، پہلے تو غش کر گئی

    کہے تو کہ حیرت میں آ، مر گئی

    تعجب سے پوچھا کہ سچ مچ ہے یہ

    وَ یا ، چھیڑنے کو مِرے کچھ ہے یہ

    کہا: مجھ کو سوگند اِس جان کی

    غلط کہنے والی، میں قربان کی

    نشاط و خوشی کی خبر یک بہ یک

    نہیں منہ پہ کہ بیٹھے بے دھڑک

    کہا: کیوں کے لائی؟ کہا: اِس طرح

    وہ سب کہ دیا حال تھا جس طرح

    کہا: پھر وہ دونوں کہاں ہیں؟ کہا:

    درختوں میں اُن کو رکھا ہے چھپا

    ترا قیدی جا کر چھڑا لائی ہوں

    پر اِک اور بندھوا اُڑا لائی ہوں

    عجب وقت میں میں ہوئی تھی جُدا

    کہ دِل بر کو تیرے دیا لا ملا

    مگر ایک یہ آ پڑی بے بسی

    کہ میں تیری خاطر بلا میں پھنسی

    سوا ب ایک کو تو لے آتی ہوں میں

    ہوا دوسرے کو بتاتی ہوں میں

    یہ سن شاہ زادی ہنسی کھلکھلا

    کہا: کیوں اڑاتی ہے نجم النسا

    اری، ایک ہی تو بڑی قہر ہے

    کہیں تو ہے امر، کہیں زہر ہے

    چل اب چوچلے بس زیادہ نہ کر

    شتابی اُنہیں جا کے لے آ اِدر

    کہا پھر: پری زاد کے رو بہ رو

    بغیر از کسی کے کہے، ہو گی تو؟

    کہا وہ تو ایسا دِوانہ نہیں

    وہ اس بات کو کیا کہے گا، نہیں

    اگردِل میں کچھ تیرے وسواس ہے

    نہیں دور وہ بھی تِرے پاس ہے

    ذرا پوچھ لیجو تو اس بات کو

    کہ وہ روبہ رو اُس کے ہو یا نہ ہو؟

    یہ سن کر شتابی گئی وہ نِگار

    لیا جا کے آہستہ اُن کو پکار

    چھپائے ہوئے لا بٹھایا وہاں

    وہ خلوت کا جو تھا قدیمی مکاں

    پھر اُس سے یہ پوچھا کہ اے بے نظیر!

    کہے تو چلی آوے بدرِ منیر

    کہا: خیر ہے تجھ کو رشکِ چمن

    چھپے ہے کہیں بھائی سے بھی بہن

    مرا جان و مال اِس پہ قربان ہے

    کہ اِس کے سبب سے مِری جان ہے

    مِرا تو ہم دم ہے دِن رات کا

    مجھے اِس سے پردہ ہے کس بات کا؟

    داستان بے نظیر اور بدرِ منیر کے ملنے اور اُس کے باپ کو بیاہ کا رقعہ لکھنے میں

    مِرے منہ سے ساقی ملا دے شراب!

    کہ ملتے ہیں باہم مہ و آفتاب

    یہ سن سن کے باتیں وہ پردہ نشیں

    چلی آئی اِک ناز سے نازنیں

    حیا سے پھر آ کر وہ بیٹھی جو پاس

    پھر آئے گویا اُس کے ہوش و حواس

    نظر سے نظر جو ملی ایک بار

    کیے چشم نے لعل و گوہر نثار

    اُدھر اِکِ خونیں اِدھر چشم نم

    اُسے اِس کا غم اور اِسے اُس کا غم

    نہ وہ زنگ اُس کا، نہ وہ اِس کا حال

    تن زرد زرد اور رخِ لال لال

    بہم دو خزاں دیدہ گلزار سے

    ملے جیسے بیمار بیمار سے

    عجب صحبت آپس میں اُس دم ہوئی

    کہ ایسی بھی صحب بہت کم ہوئی

    وہ نجم النسا اور فیروز شاہ

    حیا سے کیے اپنی نیچی نگاہ

    سرشک محبت   بہانے لگے

    اِس احوال پر حیف کھانے لگے

    اور اِک طرف کو شاہ زادہ نڈھال

    لگا رونے وہ منہ پہ دھر کے رومال

    وہ مجروح دِل تھی جو بدرِ منیر

    لگی کھینچنے اپنی آہوں کے تیر

    چھپا منہ کو اُس طرف سے نازنیں

    لگی کرنے تر امن و آستیں

    پڑیں غم کی باتیں جو آ درمیاں

    یہ روئے کہ لگ لگ گئیں ہچکیاں

    غرض دیر تک مل کے روتے رہے

    جدائی کے داغوں کو دھوتے رہے

    رُخِ زرد   پر اشکِ گل گوں بہا

    بہار و خزاں کو کیا ایک جا

    کلیجوں پہ جو داغ تھے بے شمار

    سو آنکھوں نے اُن کو دکھائی بہار

    پھر آخر کو نجم النسا وہ شریر

    لگی کہنے: سنتی ہے بدرِ منیر!

    کیا چاہتی ہے تو اب قہر کیا!

    زیادہ نہ بس اپنی الفت جتا

    مگر تیری خاطر یہ رویا ہے کم

    کہ تو اور رو رو کے دیتی ہے غم

    ذرا سن میں آنے دے اس کو تواں

    ابھی اِس کو رونے کی طاقت کہاں؟

    یہ مُردہ سا لائی ہوں میں اس لیے

    کہ دیکھے سے تیرے شتابی جیے

    وہاں میں نے اِس کو نہیں کی دوا

    کہ ہے خانۂ یار دارالشفاء

    لے آئی ہے اِس کو محبت کی دُھن

    جیا ہے فقط تیرے ملنے کی سن

    اِسے وصل کی اپنے دارو پلا

    کسی طرح اِس نیم کو جلا

    بس اب کچھ خوشی کی کرو گفتگو

    خدا پھر نہ تم کو رُلا دے کبھو

    نہیں خوش نما، پاس آئے ہوئے

    رہیں دو جنے منہ پھلائے ہوئے

    یہ سن ہنس پڑے تب وہ آپس میں مل

    پڑیں جس طرح پھول گلشن میں کھِل

    بہم پھر تو ہونے لگے اختلاط

    اپجنے لگے دل سے عیش و نشاط

    شب آدھی گئی جب، تو خاصہ منگا

    تکلف سے ہر اِک کے آگے دھرا

    وہیں خوان نعمت کے، آپس میں مِل

    کیے نوش حسب ِ تمناے دِل

    پھر آخر کو دو دو جُدا ہو گئے

    الگ خواب گاہوں میں جا سو گئے

    اُٹھائے تھے جو جو کہ رنج و   ملال

    ہوئے اِس مزے میں وہ خواب و خیال

    الگ ہو کے لیٹے وے دو ماہ رو

    ہوئی لیٹے لیٹے عجب گفتگو

    وہ گزرا ہوا یاد کرکرکے حال

    لگے رونے آنکھوں پہ دھر کے رومال

    کہا شاہ زادے نے احوال سب

    کنویں میں جو گزرے تھے رنج و تعجب

    کہ یوں میں اندھیرے میں رویا کیا

    کنویں میں تن اپنا ڈبویا کیا

    نہ پہنچا کوئی میرا فریاد رس

    تڑپھتا رہا دِل بہ رنگِ جرس

    وہ تاریک خانہ مرا گھر رہا

    سدا میری چھاتی پہ پتھر رہا

    محبت نے یہ چاشنی زور دی

    کہ تن کے تئیں جیتے جی گور دی

    زمیں سے نکلنے کی کب آس تھی

    فلک کی مجھے ہاتھ سے یاس تھی

    عجب طرح سے زیست کرتا رہا

    تری جان سے دور مرتا رہا

    خدا ہی نے تجھ سے ملایا مجھے

    اٹھا قبر سے ، پھر جلایا مجھے

    دیا شاہ زادی نے رو رو جواب

    کہ میں نے بھی اِک شب یہ دیکھا تھا خواب

    تِرے داغ کی دِل میں جو بو گئی

    میں اِک رات روتی ہوئی سو گئی

    تو کیا دیکھتی ہوں کہ صحرا ہے ایک

    اور اُس دشت ہو میں کنواں سا ہے ایک

    صداؤں سے آتی ہے بدرِ منیر!

    اِدھر آ! کہ یاں قید ہے بے نظیر

    میں ہر چند چاہا کروں تجھ سے بات

    وَلے، کی گئی وَاں نہ کچھ مجھ سے بات

    مری جان گو اُس طرف ڈھل گئی

    اُسی دم مِری آنکھ پھر کُھل گئی

    عجب اُس گھڑی مجھ پہ گزرا قلق

    کہ دِل اور جگر ہو گیا میرا شق

    اُسی دِن سے یہ حال پہنچا مِرا

    کہ مرتی رہی نام لے لے تِرا

    نہ دیتا تھا گو کوئی تیری خبر

    وَلے تھا تِرے غم سے دِل کو اثر

    گزرتا تھا وَاں تجھ پہ جو صبح و شام

    وہ اندھیر تھا مجھ پہ روشن تمام

    نہ کہتی تھی میں گرچہ دردِ نہاں

    شب و روز جلتی تھی میں شمع ساں

    عجب طرح سے زیس کرتی تھی میں

    کہ اُس زِیست کرنے سے مرتی تھی میں

    اُسی غم میں رہتی تھی لیل و نہار

    کہ کیوں کر ملا وے گا پروردگار

    مِری شکل پر رو کے نجم النسا

    گئی اس طرح حال اپنا بنا

    پھر آگے تو معلوم ہے تم کو سب

    کہ ہم تم ملے پھر اُسی کے سبب

    یہ آپس میں کہ حالِ دِل، رو اُٹھے

    وہ کہنے کو سوئے تھے، بس سو اٹھے

    جو ملتے ہیں بچھڑے ہوئے ایک جا

    اُنہیں نیند باتوں میں آتی ہے کیا!

    پری زاد، نجم النسا وَاں جدے

    الگ خواب گاہوں میں جا سو گئے

    گئی رات حرف و حکایت میں

    سحر ہو گئی بات کی بات میں

    شبِ [9] وصل کی جو سحر ہوگئی

    تو سوتوں کو گویا خبر ہو گئی

    لیا ماہ نے اپنے منہ پر نقاب

    اُٹھا بسترِ خواب سے آفتاب

    صبوحی کو اُٹھتا ہے جیسے مدام

    شرابِ شفق سے بھرے اپنے جام

    ملنے روز کو ساتھ آنے لگا

    وہ سوتوں کو شب میں جگانے لگا

    ہوا چشم واجب وہ مژگاں دراز

    سپید و سیہ میں ہوا امتیاز

    گیا عقدہ ٔصبح اُس دم جو کھل

    نکل آئے ایدھر اُدھر سے وہ گُل

    اُٹھے جب کہ آپس میں گُل فام وہ

    گئے باری باری سے حمام وہ

    دوبارا کیا اُس نے اپنا سنگار

    چمن میں نئے سر سے آئی بہار

    وہ جوگن ہوئی تھی جو نجم النسا

    جمی گرد وہ اپنے تن کی چھڑا

    نہا دھو کے نکلی عجب آن سے

    کہ الماس نکلے ہے جوں کان سے

    نہانے سے نکلا عجب اُس کا روپ

    نکل آئے بدلی سے جس طرح دھوپ

    وَلے آگ اُس نے لگائی یہ اور

    کہ پوشاک کی طرح لالے کے طور

    جلانے کو عاشق کے ، دکھلا پھبن

    لیا سرخ لاہی کا جوڑا پہن

    تمامی کی سنجاف اُس کو لگا

    طِلا کی طرح سے دیا جگمگا

    اُسی رنگ کے ساتھ کا سب لباس

    تصور میں ہو سرخ جس کے قیاس

    بھبھوکا سا تن اور وہ منہ کی دمک

    کہ جوں شعلہ آتش سے اٹھے بھڑک

    نکیلی وہ اٹھی ہوئی چھاتیاں

    پھریں اپنے جوبن پہ اتراتیاں

    گلے کی صفائی وہ کُرتی کا چاک

    تڑاقے کی انگیا کسی ٹھیک ٹھاک

    وہ کنچن سی اُس میں کچیں لال لال

    بھرے رنگ کے قمقمے کی مثال

    نلاہٹ وہ بھٹنی کی اُس سے نمود

    کہ جوں سرخ چہرے پہ خالِ کبود

    کہے تو لیے اپنے منہ پر نقاب

    شفق میں چھپے جوں مہ و آفتاب

    بنت گرد اُس کے نہ کیوں کر پھرے

    کہ وَاں گو کھرو لہر کھا کر گرے

    وہ پاجامۂ سبز کم خاب اور

    وہ پٹا بنارس کا، سورج کے طور

    جواہر سجا اپنے موقع سے کُل

    ترشح میں ہو جیسے نَم دیدہ گُل

    وہ کنگھی کھنچی اور وہ ابرو کھنچے

    ہر اک اینٹھ میں اپنے ہر سو کھنچے

    کھجوری وہ چوٹی، زری کا معاف

    کہ جوں دود کے بعد ، شعلہ ہو صاف

    عروسانہ اُس نے کا جو لباس

    تو آنے لگی خون کی اُس میں باس

    بنی جب کہ اِس رنگ وہ رشکِ حور

    چلی آئی فیروزہ کے حضور

    پری زاد تو قتل ہی ہو گیا

    کہے تو کوئی جان ہی کھوگیا

    حیا سے نہ کی بات، نے کچھ کہا

    وَلے، جی سے قربان اُس پر رہا

    وہ بن ٹھن کے آپس میں رہنے لگے

    بہم رازِ دِل اپنا کہنے لگے

    خوشی سے ہوئے بس کے سرسبز دِل

    لگے سبزیاں پینے آپس میں مِل

    ضیافت بہم مل کے کھانے لگے

    وہ غم کھانے، اُن کے ٹھکانے لگے

    چھپے عیش و عشرت وہ کرتے رہے

    پہ غیروں کے چرچے سے ڈرتے رہے

    اگرچہ ہر اِک وصل سے شاد تھا

    وَلے ہجر کا غم اُنہیں یاد تھا

    یہ ٹھہرا کے نکلے وہ دو ماہ رو

    کہ اس بات کو کیجیے ایک سو

    غضب ہے جو یوں ہی دوبارہ رہیں

    چھپے کب تلک آشکارا رہیں

    سہی ہے یہ تکلیف، آرام کو

    یے ناکامیاں ورنہ کِس کام کو

    نصیب اس طرح سے جو یاری کریں

    عیاں کیوں نہ ہم خواست گاری کریں؟

    جب آپس میں یہ مشورے ہو گئے

    اِدھر اور اُدھر مل کے وے دو گئے

    وہ نجم النسا اور وہ بدرِ منیر

    کچھ اک کر بہانہ وے دونوں شریر

    رہیں گھر میں پھر جا کے ماں باپ کے

    کہ دیکھیں گے اب ہم قدم آپ کے

    نکل بے نظیر اور فیروز شاہ

    کسی شہر میں رکھ کے فوج و سپاہ

    کر اسباب سب سلطنت کا درست

    پھر آئے اسی جا پہ چالاک و چست

    وہاں کا جو تھا شاہ انجم سپاہ

    جسے لوگ کہتے تھے مسعود شاہ

    کیا نامہ یوں ایک اُس کو رقم

    کہ اے شاہِ شاہاں واے فخرِ جم!

    فریدوں مثال و سکندر نژاد

    مرادِ جہاں و جہاں را مُراد

    جہانِ شجاعت، زمانِ کرم

    دلِ رستمِ گرد، حاتم ہمم

    میں وارد ہوا اِک مکاں سے غریب

    لے آئے ہیں مجھ کو مرے یاں نصیب

    نوازش سے اپنی کرم کیجیے

    غلامی میں اپنی مجھے لیجیے

    ہمیشہ سے ہے راہ و رسمِ جہاں

    کہ وابستہ یوں ہی ہے کارِجہاں

    جہاں پر ہے روشن کہ میں ماہ ہوں

    ملک زادہ ابن ملک شاہ ہوں

    ہر اک مجھ سے واقف ہے برنا و پیر

    کہ ہے نام میرا شہِ بے نظیر

    بیاں سب کیا ماضی و حال کا

    تجمل لکھا فوج و اموال کا

    جتا کر بہت عجزر اور انکسار

    لکھا یہ بھی اک حرف آخر کی بار

    کہ جو ہوے برعکسِ شرعِ شریف

    وہ ہے اپنے مذہب میں اپنا حریف

    اگر مانیے خیر تو مانیے

    نہیں، آپ آیا ہمیں جانیے

    گیا یہ جو مسعود شہ کو پیام

    سنا اور پڑھا خط کا مضموں تمام

    سمجھ اس کا مضمون مسعود شاہ

    کہ اتنی ہے فوج اور یہ کچھ ہے سپاہ

    اگر جنگ ہو تو بڑی جنگ ہو

    پھر اس میں خدا جانے کیا رنگ ہو

    اور آخر یہی ہے زمانے کی چال

    کہ پیوند ہوتے ہیں باہم نہال

    نہ تازی یہ کچھ رسمِ پیوند ہے

    ہمیشہ سے عالم برومند ہے

    لکھا نامہ اس کے دو نہیں در جواب

    کہ عاقل کو نکتہ لگے ہے کتاب

    لکھا بعدِ حمد و ثنائے خدا

    پس از نعتِ احمدؐ، شہِ انبیا

    کہ نامہ تمہارا جو سر بستہ تھا

    وہ رازِ نہاں اپنے ہاتھوں کھُلا

    شریعت کے عالم میں مجبور ہیں

    نہیں، اپنے نزدیک ہم دور ہیں

    اگر ہم کبھی اپنی بانی پہ آئیں

    تمہارے فلک کو نہ خاطر میں لائیں

    ابھی گھر سے نکلے ہو لڑکے کے طور

    نہیں نیک و بد پر تمہیں اپنے غور

    کسی پاس دولت یہ رہتی نہیں

    سدا ناؤ کاغذ کی بہتی نہیں

    ولے کیا کریں، رسمِ دنیا ہے یہ

    وگرنہ گھمنڈ آپ کا کیا ہے یہ

    زبس ہم کو ہے پاسِ شرعِ رسولﷺ

    سو اس واسطے کرتے ہیں ہم قبول

    خلافِ پیمبر کسے رہ گزر

    کہ ہرگز بہ منزل نہ خواہد رسید

    اک اچھی سی تاریخ ٹھہرائیے

    دیا حکم ہم نے تمہیں، آئیے

    گیا ایلچی لے کے نامہ اُدھر

    اڑی ہر طرف یہ خوشی کی خبر

    سنی یہ جو نامے کی گفت و شنید

    ہوئی شاہ زادے کو گویا کہ عید

    کشادہ ہوئے دل، جو تھے غم سے تنگ

    اُسی دن سے ہونے لگے راگ و رنگ

    ہوئیں ہر طرف سب دل آزاریاں

    لگیں ہونے شادی کی تیاریاں

    بلاشگنیوں کو، بتا سال و سن

    مقرر کیا نیک ساعت کا دن

    داستان بے نظیر اور بدرمنیر کے بیاہ اور اس کے تجمل میں

    کدھر ہے تو اے ساقیٔ گل بدن!

    دھری آج اس شمع رو کی لگن

    بلا مطربانِ خوش آواز کو

    کہ آویں لیے اپنے سب ساز کو

    وہ اسباب شادی کا تیار ہو

    مکرر نہ پھر جس کی تکرار ہو

    بڑی خواہشوں سے جب آیا وہ روز

    چڑھا بیاہنے وہ مہ شب فروز

    محل سے نکل، جب ہوا وہ سوار

    بجے شادیانے بہم ایک بار

    کروں اس تجمل کا کیوں کر بیاں

    کہ باہر ہے تقریر سے وہ سماں

    وہ دولہا کے اٹھتے ہی وہ غل پڑا

    لگا دیکھنے اٹھ کے چھوٹا بڑا

    کوئی دوڑ گھوڑوں کو لانے لگا

    کوئی ہاتھیوں کو بٹھانے لگا

    لگا کہنے کوئی: اِدھر آئیو

    ارے، رتھ شتابی مری لائیو

    کسی نے کسی کو پکارا کہیں

    نہ لانے پہ میانے کو مارا کہیں

    کوئی پالکی میں چلا ہو سوار

    پیادوں کی رکھ اپنے آگے قطار

    جو کثرت میں دیکھا کہ گاڑی نہیں

    کوئی مانگے تانگے پہ بیٹھا کہیں

    سپر اور قبضے کھڑکنے لگے

    سواروں کے گھوڑے بھڑکنے لگے

    ٹکورے و نوبت کے اور ان کے بعد

    گرجنا وہ دھونسوں کا مانند رعد

    وہ شہنائیوں کی سہانی دھنیں

    جنہیں گوش زہرہ مفصل سنیں

    ہزاروں تمامی کے تختِ رواں

    اور اہلِ نشاط اُن پہ جلوہ کناں

    وہ طبلوں کا بجنا اور ان کی صدا

    وہ گانا کہ ’’اچھا بنا لاڈلا‘‘

    وہ نوشے کا گھوڑے پہ ہونا سوار

    وہ موتی کا سہرا، جواہر کا ہار

    ٹھہر کر وہ گھوڑے کا چلنا سنبھل

    ہما کے وے دونوں طرف مورچھل

    وہ فانوسیں آگے زمرد نگار

    کہ ہو سبز مینا جنہوں پر نثار

    دو دستہ جو روشن چراغاں ہوے

    پتنگے خوشی سے غزل خواں ہوے

    ہوا دل جو روشن چراغان سے

    پڑھے شعر نوری کے دیوان سے

    چراغوں کے تر پولیے جا بہ جا

    اور ان میں وہ بازاریوں کی صدا

    کوئی پان بیچے، کھلونے کوئی

    کوئی دال موٹھ اور سلونے کوئی

    تماشائیوں کا جدا اک ہجوم

    پتنگے گریں جوں چراغاں پہ جھوم

    کڑکنا وہ نوبت کا باجوں کے ساتھ

    گرجنا وہ دھونسوں کا ڈنکوں کے ہاتھ

    براتی اِدھر اور اُدھر جوق جوق

    وہ آواز سر نا وہ آواز بوق

    وہ کالے پیادے وہ ان کے نفیر

    کہ تاچرخ پہنچے صدا دل کو چیر

    وہ آرایش اور گل کئی رنگ کے

    وہ ہاتھی کہ دو دیو تھے جنگ کے

    وہ ابرک کے گنبد، وہ مینے کے جھاڑ

    کہے تو کہ تنکے کے اوجھل پہاڑ

    دو رستہ برابر برابر وہ تخت

    کسی پر کنول اور کسی پر درخت

    وہ رنگیں کنول اور وہ چشم و چراغ

    کھلے جس طرح لالۂ نور باغ

    جہاں تک نظر آوے اُن کی قطار

    طلسمات کی سی ہوا پر بہار

    اناروں کا دغنا، بھچمپے کا زور

    ستاروں کا چھٹنا پٹاخوں کا شور

    اڑیا [10] ستاروں کو جو آگ نے

    تو ہاتھی لگے بن کو پھر بھاگنے

    وہ مہتاب کا چھوٹنا بار بار

    کہ ہر رنگ کی جس سے دونی بہار

    دھواں چھپ گیانور میں نور ہو

    سیاہی اڑی شب کی کافور ہو

    سراسر وہ مشعل کی ہر طرف جھاڑ

    کہ جوں نور کے مشتعل ہوں پہاڑ

    زری پوش سردار سب یک دگر

    پھریں برق کی طرح ایدھر اُدھر

    کہے تو کہ نزدیک اور دُور سے

    زمین و زماں بھر گیا نور سے

    جب آئی وہ دلہن کے گھر پر برات

    کہوں واں کے عالم کی کیا تجھ سے بات

    ہوا واں کی صحبت کی رشکِ بہشت

    دھرے لخلخے گرد عنبر شرشت

    کھڑے بادلوں کے وہ خیمے بلند

    کریں عالم ِنور جس کو پسند

    عجب مسند اک جگمگی اور فرش

    تمامی کے عالم کا چوکور فرش

    بلوریں دھرے شمع واں بے شمار

    چڑھیں بتیاں موم کی چار چار

    نئے رنگ کے اور نئے طور کے

    دھرے ہر طرف جھاڑ بلور کے

    تماشائیوں کی یہ کثرت کہ بس

    ملے ایک سے ایک سب پیش و پس

    دوزانو زری پوش بیٹھے تمام

    شرابِ خوشی کے کئے نوش جام

    وہ دولھا کا مسند پہ جا بیٹھنا

    برابر رفیقوں کا آ بیٹھنا

    طوائف کا اٹھنا اِک انداز سے

    دِکھانی وہ آ صورتیں ناز سے

    کروں راگ اور ناچ کا کیا بیاں

    قدیمی کسی وقت کا سا سماں

    وہ اربابِ عشرت کا آپس میں میل

    جمانا کھڑے راگ کا دے کے دل

    وہ ایمن کی لہریں اِدھر اور اُدھر

    ملے سر طنبوروں کے بایک دِگر

    وہ اس صف سے اک چھوکری کا نکل

    جتانا ہنر اپنا پہلے پہل

    الٹنا دوپٹے کا دے دے کے تال

    وہ بوٹا سا قد اور وہ گھنگروکی چال

    کبھی پر ملو میں دکھانی ادا

    کہ جوں لوٹ کے ہوے بجلی ہوا

    کبھی گت سری ناچنا ذوق سے

    کہ تیورا کے عاشق گرے شوق سے

    ادھر کی تو یہ گت ادھر کا سبھاؤ

    ادھر اوٹ میں نا یکاکا بناؤ

    کھڑی ہو کے دو گھونٹ حقے کی لے

    چبا پان اور رنگ ہونٹوں پہ دے

    انگوٹھے کی لے سامنے آرسی

    وہ صورت کو دیکھ اپنی گلزار سی

    الٹ آستیں اور مہری کے چاک

    نئے سر سے انگیا کو کر ٹھیک ٹھاک

    بنا کنگھی اور کرکے ابر و درست

    جھٹک دامن اور ہو کے چالاک و چست

    دوپٹے کو سر پر الٹ اور سنبھل

    یکایک وہ صف چیرآنا نکل

    پکڑ  کان اور گھنگروؤں کو اٹھا

    پہن پانو میں اور سر سے چھوا

    ادھر اور ادھر رکھ کے کاندھے پہ ہاتھ

    چلے ناچنے آنا سنگت کے ساتھ

    فتح چند کے ہاتھ کی مورت ایک

    لجائی ہوئی چاند سی صورت ایک

    کبھی ناچنا اور گانا کبھی

    رجھانا کبھی اور بتانا کبھی

    خوش آوازیاں اور گانا خیال

    دکھانا ہر اک دم میں اپنا کمال

    وہ شادی کی مجلس وہ گانے کا رنگ

    وہ جی کی خوشی اور وہ دِل کا ترنگ

    وہ پھولوں کے گہنے، کناری کے ہار

    وہ بیٹھی ہوئی رنڈیوں کی قطار

    وہ بیڑوں کے پتے پڑے ہر طرف

    غمِ دل جسے دیکھ ہو بر طرف

    ادھر کا تو یہ رنگ تھا اور یہ راگ

    محل میں ادھر گھوڑیاں اور سہاگ

    وہ گہرے سے شادی مبارک کے ڈھول

    وہ ٹونے سلونے، وہ میٹھے سے بول

    اترنے کی واں سمدھنوں کی پھبن

    کھلیں پھول ، جیسے چمن در چمن

    گلوں میں پہننا وہ ہنس ہنس کے ہار

    سٹاسٹ وہ پھولوں کی چھڑیوں کی مار

    دکھانا وہ بن بن کے اپنا بناؤ

    وہ آپس کی رسمیں، وہ آپس کے چاؤ

    قہاقے، ہنسی ، شور و غل، تالیاں

    سہائی سہانی نئی گالیاں

    غرض کیا کہوں تاب مجھ میں نہیں

    نہ دیکھے گا عالم کوئی یہ کہیں

    داستان بے نظیر کے براتیوں کے ہار پان کی تقسیم میں

    چھکا ہوں نشے میں بہت ساقیا!

    مجھے بدلے اب مے کے شربت پلا

    کسی پر نہ ایسا ہو جو بار ہوں

    کہ پھر میں گلے کا ترے ہار ہوں

    ہوا جب نکاح اور بٹے ہار پان

    پلا سب کو شربت، دیے پان دان

    اٹھا پھر تو نوشہِ وہ بعد از نکاح

    محل میں بلانے کی ٹھہری صلاح

    چلا یوں وہ دولہا، دلہن کی طرف

    پھرے جیسے بلبل چمن کی طرف

    وہاں تک پہنچتے ہوئے کیا کہوں

    ہوے ٹوٹکے لاکھ بہر شگوں

    ہوا لیکن اس وقت دوگنا مزا

    کہ دولہا دلہن جب ہوئے ایک جا

    عروسی وہ گہنا، وہ سوہا لباس

    وہ مہندی شہانی، وہ پھولوں کی باس

    ملا سرخ جوڑے پہ عطرِ سہاگ

    کھلے مل کے آپس میں دونوں کے بھاگ

    دکھا مصحف اور آرسی کو نکال

    دھرا بیچ میں سر پہ آنچل کو ڈال

    نہ تھا وصل اس طرح کا دھیان میں

    خدا نے کیا آن کی آن میں

    عجب قدرتِ حق نمایاں ہوئی

    جسے آرسی دیکھ حیراں ہوی

    وہ جلوے کا ہونا وہ شادی کی دھوم

    وہ آپس میں دولہا دلہن کی رسوم

    کسی نے پسائی سرونج آن کر

    کوئی گالی ہی دے گئی جان کر

    گئی کوئی واں گال سے کچھ لگا

    گئی کوئی دلہن کو جوتی چھوا

    وہ شیریں جو بیٹھی تھی شیریں بنی

    نبات اُس کی چنی بنے کو بنی

    چنائی نبات اس کو اس گھات سے

    کہ ڈہکا دیا ہر گھڑی بات سے

    زبس دِل و تھااس کا ہر جا پہ بند

    سبھی جا سے اُس نے چنی کر پسند

    اٹھائی ڈلی اس کی آنکھوں سے یوں

    کریں نوش بادام شیریں کو جوں

    ڈلی وہ جو ہونٹوں کی تھی لب ملی

    وہ مصری کہ منہ سے اٹھا لی ڈلی

    کمرے سے اٹھائی ڈلی اِس طرح

    کہ ہاں ہوں نہیں کی نہیں جس طرح

    ذرا پانو پر کی اٹھاتے اڑا

    نہیں اور ہاں کا عجب غل پڑا

    یہ ظاہر کا تکرار تھی بار بار

    وگرنہ دل اس پانو پر تھا نثار

    عجب طرح کی رنگ رلیاں ہوئیں

    کہ باتیں وہ مصری کی ڈلیاں ہویں

    وہ سب ہو چکی جب کہ رسم و رسوم

    سواری کی ہونے لگی پھر تو دھوم

    سحر کا وہ ہونا وہ ٹونے کا وقت

    وہ دلہن کی رخصت ، وہ رونے کا وقت

    کھڑے سب کا لاچار منہ دیکھنا

    کہ یارب، یہ کیا ہے جہاں پیکھنا

    وہ دلہن کا رو رو کے ہونا جدا

    وہ ماں باپ کا اور رونا جدا

    نکلتے وہ جانا محل سے جہیز

    کہ جوں چشم سے اشک ہو موج خیز

    یہاں موت ہے اہل عرفان کو

    کہ جانا ہے اک دن یوں ہی جان کو

    وے جو دردمندی سے ہیں آشنا

     وے شادی کا لیتے ہیں غم سے مزا

    وہ دولھا کا دلہن کو گودی اُٹھا

    بٹھانے محافے میں آخر کو لا

    چلے لے کے چوڈول جس دم کہار

    کیا دو طرف سے زر اس پر نثار

    کھڑے تھے جو واں چشم کو تر کیے

    سو موتی انہوں نے نچھاور کیے

    ادھر اور ادھر اپنے سہرے کو چیر

    وہ اک چاند سا منہ دکھا بے نظیر

    دکھاتا ہوا حشمت و عظم و شان

    لیے ساتھ ساتھ اپنے نوبت نشان

    وہ پیچھے تو چو ڈول میں رشکِ ماہ

    اور آگے وہ خورشید ِعالم پناہ

    پھر ا گھر کو اپنے قدم با قدم

    سواری لگا گھر میں اُترا صنم

    غرض اس طرح جب وہ دلہن بیاہ

    لے آیا جہاں اس کی تھی عیش گاہ

    ہوئی وہ جو ہونی تھی رسم و رسوم

    کہ ظاہر میں تھی یہ بھی درکار دھوم

    اٹھایا اسی دھوم میں لگتے ہاتھ

    پری زاد کا بیاہ چوتھی کے ساتھ

    وہ نجم النساء جو تھی دختِ وزیر

    گیا اس   کے والد   کنے بے نظیر

    کہا باپ کو اس کے اے خیرخواہ!

    مرا بھائی ہے ایک فیروزشاہ

    سو میں تجھ سے رکھتا ہوں اک التجا

    کہ تو اس کو فرزندی میں اپنی لا

    غرض ہر طرح کر رضامند اسے

    کیا جال میں اپنے پابند اسے

    پری زاد تھا وہ جو فیروزشاہ

    دیا اس کو نجم النسا سے بیاہ

    اسی دھوم سے اور اسی فوج سے

    اسی شان سے اور اسی اوج سے

    وہی سب تجمل، وہی سب رسوم

    ہوئی تھی جو کچھ بیاہ میں اس کے دھوم

    دقیقہ نہ چھوڑا کسی بات میں

    برابر رکھی چہل دن رات میں

    اسی طرح اس کوبیاہا غرض

    جو کچھ قول تھا سو نباہا غرض

    خدارا ست لایا انہوں کے جو کام

    بر آے دلوں کے مطالب تمام

    ہوئیں متصل یہ جو دو شادیاں

    بسیں ایک جا چار آبادیاں

    پھرے دن تو، اپنے وطن کو پھرے

    وہ آشفتہ بلبل، چمن کو پھرے

    خوشی سے لیے حرمتِ جان و مال

    چلے شہر کو اپنے وہ حال حال

    وہ نجم النسا اور وہ فیروز شاہ

    فلک پر سے ہو مثلِ خورشید ماہ

    رضا ان سے لے کر اسی آن میں

    گئے شاد و خرم پرستان میں

    یہ اقرار چلتے ہوئے کر گئے

    کہ گو، تم ادھر اور ہم ایدھر چلے

    تم اس غم سے مت ہو جیو سینہ ریش

    کہ ہم تم سے ملتے رہیں گے ہمیش

    سلی وہ یہ دے کے اودھر چلے

    یے ایدھر   لیے اپنا لشکر چلے

    داستان بے نظیر کے بدرمنیر کو اپنے وطن لے جانے   ماں باپ سے ملاقات کرنے اور کتاب کی تمامی میں

    پلا ساقیا! آخری ایک جام

    کہ ہوتی ہے بس یہ کہانی تمام

    وے نزدیک پہنچے جب اس شہر کے

    کیا پاس جا خیمہ اِک نہر کے

    کیا جب کہ خلقت نے تفتیشِ حال

    اور آنکھوں میں دیکھا وہ بدرِ کمال

    پڑا شہر میں یک بہ یک پھر یہ غل

    کہ غائب ہوا تھا، سو آیا وہ گُل

    خبر یہ ہوئی جب کہ ماں باپ کو

    کیا گم انہوں نے دو نہیں آپ کو

    زبس دِل تو تھا یاس ہی سے بھرا

    یہ سن، ہاتھ اور پانو گئے تھرتھرا

    لگے رونے آپس میں زار و نزار

    کہا: ہائے، ہم کو نہیں اعتبار

    ملاویں گے ہم سے ہمارا حبیب

    یہ دُشمن نہیں اپنے ایسے نصیب

    یہ ہو گا کوئی دشمن ملک و مال

    سو میں آپ ہی ہوں گرفتارِ حال

    کوئی اس کا وارث تو آخر نہیں

    وہی لے کے جاوے یہ جھگڑا کہیں

    کہا سب نے: صاحب! چلو تو سہی

    یہ بیٹا تمہارا وہی ہے وہی

    مکرر سنا جب کہ بیٹے کا نانو

    چلا پھر تو روتا ہوا ننگے پانو

    وہ آتا تھا جیسے کہ بیٹا اِدھر

    پڑی باپ پر جو یکایک نظر

    جو ہیں اپنے کعبے کو دیکھا رواں

    چلا سر کے بھل بے نظیرِ جہاں

    گرا پانو پر کہ کے یہ باپ کے:

    خدا نے دکھائے قدم اپ کے

    سنی یہ صدا جو نہیں اُس ماہ کی

    تو اُس غم رسیدہ نے ایک آہ کی

    اُٹھا سر قدم پر سے چھاتی لگا

    لپٹ کے گھڑی دو تلک خوب سا

    یہ رویا، یہ رویا کہ غش کر چلا

    کہے تو کے آنسو کا لشکر چلا

    ملے پھر تو آپس میں وہ خوب سے

    کہ یوسفؑ ملا جیسے یعقوب ؑسے

    وہ گل گل شگفتہ ہوا گُل کی طرح

    یہ گُل کی طرح اور وہ بلبل کی طرح

    ہوئے شاد و خرم امیر و کبیر

    ملے لے لے نذریں امیر و وزیر

    مئے عیش سے سب کو مستی ہوئی

    نئے سرے سے آباد بستی ہوئی

    بڑی دھوم سے اور بڑی آن سے

    بجاتے ہوئے نوبتیں شان سے

    وہ پھولا جو تھا ہجر کے داغ میں

    ہوئے جا کے داخل اُسی باغ میں

    زنانی سواری اتروا کے ساتھ

    پکڑ اُس گلِ نو شگفتہ کا ہاتھ

    درآمد ہوا گھر میں سروِ رواں

    لیے ہاتھ اپنے وہ غنچہ وہاں

    کہ اتنے میں آگے نظر جو پڑی

    تو دیکھا کہ ماں راہ میں ہے کھڑی

    بہی چشم سے آنسوؤں کی قطار

    گراماں کے پاؤں پہ بے اختیار

    وہ ماں، خوب بیٹے کے لگ کے گلے

    یہ روئی کہ آنسو کے نالے چلے

    بہو، اور بیٹے کو چھاتی لگا

    اور اُن دونوں کے ہاتھ باہم ملا

    ہوئی جان اور جی سے اُن پر نثار

    پیا پانی اُن دونوں پہ وار وار

    جگر پر جو تھے درد اور غم کے داغ

    بجھے وصل سے ہجر کے وے چراغ

    سب آپس میں رہنے لگے مل ملا

    پھر آئے چمن میں وہ گُل کھل کھلا

    وہ آنکھیں جو اندھی تھیں روشن ہوئیں

    زمینیں جو تھیں خشک، گلشن ہوئیں

    زبس باپ ماں کو تھی سہرے کی چاہ

    دوبارہ اُنہوں نے کیا اُس کا بیاہ

    لکھوں گر میں اُس بیاہ کی دھوم دھام

    تو پھر یہ کہانی نہ ہووے تمام

    بنا اُن کی تقدیر کا جو بناؤ

    نکالے اُنہوں نے یہ سب دِل کا چاؤ

    وہ جیسی کہ اُس باغ میں تھی خِزاں

    بسے آ کے پھر اُس میں سب گُل رُخاں

    محل میں عجائب ہوئے چہچہے

    وہ مرجھائے گُل، پھر ہوئے لہلہے

    ہوا شہر پر فضلِ پروردگار

    وہی شاہ زادہ، وہی شہر یار

    وہی لوگ اور دو ہی چرچے تمام

    وہی ناز و انداز کے اپنے کام

    وہی بلبلیں اور وہی بوستاں

    شگفتہ گُل و مجمع دوستاں

    اُنہوں کے جہاں میں پھرے جیسے دن

    ہمارے تمہارے پھریں ویسے دِن

    ملیں سب کے بچھڑے الٰہی! تمام

    بہ حقِ محمد علیہ السلام

    ہوئے جیسے وہ شاد، ہوں شاد ہم

    رہیں شہر میں اپنے آباد ہم

    رہے شاد نوابِ عالی جناب

    کہ ہے آصف الدولہ جس کا خطاب

    خوشی اس کی ہے سروِ باغِ مراد

    رہے روشن اس کا چراغِ مراد

    بہ حق حسینؑ و امام حسنؑ

    رہوں شاد میں بھی غلامِ حسن

    ذرا منصفو! داد کی ہے یہ جا

    کہ دریا سخن کا دیا ہے بہا،

    زبس عمر کی اِس کہانی میں صرف

    تب ایسے یہ نکلے ہیں موتی سے حرف

    جوانی میں جب بن گیا ہوں میں پیر

    تب ایسے ہوئے ہیں سخن بے نظیر

    نہیں مثنوی، ہے یہ اک پھلجھڑی

    مسلسل ہے موتی کی گویا لڑی

    نئی طرز ہے اور نئی ہے زباں

    نہیں مثنوی ہے یہ سحر البیاں

    رہے گا جہاں میں مرا اس سے نام

    کہ ہے یادگارِ جہاں یہ کلام

    ہر اِک بات پر دِل کو میں خوں کیا

    تب اس طرح رنگیں یہ مضموں کیا

    اگر واقعی غور ٹک کیجیے

    صلہ اس کا کم ہے جو کچھ دیجئے

    غرض جس نے اس کو سنا یہ کہا:

    حسن! آفریں، مرحبا مرحبا!

    جو منصف سنیں گے کہیں کے سبھی

    نہ ایسی ہوئی ہے، نہ ہو گی کبھی

    مرے اک مشفق ہیں مرزا قتیل

    کہ ہیں شاہ راہِ سخن کی دلیل

    سنی مثنوی جب یہ مجھ سے تمام

    دیا اس کی تاریخ کو انتظام

    زبس شعر کہتے ہیں وہ فارسی

    ہر اک شعر ان کا ہے جوں آرسی

    انہوں نے شتابی اٹھا کے قلم

    یہ تاریخ کی فارسی میں رقم:

    ’’بہ تفتیش تاریخِ ایں مثنوی

    کہ گفتش حسن، شاعرِ دہلوی

    زوم غوطہ در بحرِ فکرِ رسا

    کہ آرام بہ کف گوہرِ مدعا

    ١١٩٩ ھ

     

    میاں مصحفی کو جو بھایا یہ طور

    انہوں نے بھی کر فکر ازراہِ غور

    کہی اس کی تاریخ یوں بر محل

    ’’یہ بت خانۂ چین ہے بے بدل

    ١١٩٩ ھ

     

    سنی جب کہ ماہر نے یہ مثنوی

    تو محظوظ ہو فکرِ تاریخ کی

    یہ مصرع پڑھا و وہیں پا کر فرح:

    ہے اس مثنوی کی یہ نادر طرح

    ١١٩٩

    [1] یہ شعر نسخہ فورٹ ولیم کالج میں موجود نہیں

    [2] یہ عنوان نسخہ فورٹ ولیم میں نہیں ہے۔

    [3] یہ شعر نسخہ فورٹ ولیم میں نہیں ہے۔

    [4]   نوٹ صفحہ ٤٦ پر دیکھیے۔

    نوٹ صفحہ ٤٥۔

    نسخہ نظامی پریس میں اس شعر کے بعد یہ شعر بھی ہے

    ہوئی دونوں کے حسن کی ایک جوت

    کہ جیسے ہوں دو چشموں کی ایک سوت

    بظاہر یہ شعر یہاں غیر متعلق سا معلوم ہوتا ہے ۔ اس لیے شامل متن نہیں کیا گیا۔

    یہ شعر نسخہ فورٹ ولیم میں موجود نہیں۔

    [5] یہ شعر نسخہ فورٹ ولیم میں موجود نہیں ہے۔

    [6] یہ شعر نسخۂ فورٹ ولیم میں موجود نہیں۔

    [7] یہ شعر نسخہ فورٹ ولیم میں موجود نہیں۔

    [8] یہ شعر نسخہ فورٹ ولیم میں موجود نہیں۔

    [9] یہ شعر نسخہ فورٹ ولیم میں موجود نہیں۔

    [10]     یہ شعر نسخۂ فورٹ ولیم میں موجود نہیں۔