ڈوب جائیں گے ستارے اور بکھر جائے گی رات
ڈوب جائیں گے ستارے اور بکھر جائے گی رات دیکھتی رہ جائیں گی آنکھیں، گزر جائے گی رات رات کا پہلا پہرہے، اہلِ دل خاموش ہیں صبح تک روتی ہوئی آنکھوں سے بھر جائے گی رات آرزو کی بے حسی کا گر یہی عالم رہا بے طلب آئے گا دن اور بے خبر جائے گی رات روشنی کیسی اگر عالم اندھیرا ہو گیا دل میں بس جائے گی، آنکھوں میں اتر جائے گی رات کوئی آہٹ بھی نہ سن پائے گا خوابیدہ چمن خشک پتوں سے دبے پاؤں گزر جائے گی رات دل میں رہ جائیں گے تنہائی کے قدموں کے نشاں اپنے پیچھے کتنی یادیں چھوڑ کر جائے گی رات شام ہی سے سو گئے ہیں لوگ آنکھیں موند کر کس کا دروازہ کھلے گا کس کے گھر جائے گی رات ہم تمناؤں کے سورج بھی فروزاں کر چکے اب یہ سیلِ تیرگی لے کر کدھر جائے گی رات دھڑکنیں رک جائیں گی اور گردشیں تھم جائیں گی تم جہاں آواز دے دو گے ٹھہر جائے گی رات دیر تک شہزادؔ آنکھوں میں پھرے گی چاندنی کٹ تو جائے گی مگر کیا کچھ نہ کر جائے گی رات