پھر بیت گئی شام سہانی مرے مولا
پھر بیت گئی شام سہانی مرے مولا پتوں پہ ٹھہرتا نہیں پانی مرے مولا جب تو متوجہ نہیں، تو ہی نہیں سنتا پھر کون سنے میری کہانی مرے مولا جو کچھ مجھے مطلوب ہے تو خود ہی سمجھ لے میں کیسے کہوں اپنی زبانی مرے مولا میں صاحبِ ادراک ہوں، افلاک ہوں یا خاک کھلتے نہیں کیوں مرے معانی مرے مولا! میں ذرہ سہی پھر بھی میں تخلیق ہوں تیری تو نے ہی مری قدر نہ جانی مرے مولا تو نے مجھے خود اپنی ہی صورت پہ بنایا میرا بھی نہیں ہے کوئی ثانی مرے مولا جس قہر کی پیری کو مجھے سونپا ہے تو نے ویسی تو نہ تھی میری جوانی مرے مولا دن رات مرا ذوقِ طلب مجھ کو جلائے ٓآئے نہ مجھے آگ بجھانی مرے مولا پھر لکھ ہی دیئے تو نے مقدر میں اندھیرے سکھلا کے مجھے شمع جلانی مرے مولا آتا ہے عجب لطف مجھے گریۂ شب میں یہ بھی ہے مری شعلہ بیانی مرے مولا وہ سب سے نئی، سب سے نئی، سب سے نئی ہے جو شے مرے اندر ہے پرانی مرے مولا تو نے جو عطا کی مجھے خاص اپنے کرم سے میں نے بھی وہی بات نہ مانی مرے مولا اس دہر میں عبرت کے مناظر تو بہت ہیں جاتی نہیں آنکھوں کی گرانی مرے مولا رکتا ہوں نہ میں لوٹ کے جا سکتا ہوں، شہزادؔ ہے مجھ میں بھی ہے دریا کی روانی مرے مولا