تنہائیوں میں کوئی در آیا تو کیا ہوا
تنہائیوں میں کوئی در آیا تو کیا ہوا تھا مدتوں سے دل کا دریچہ کھلا ہوا دیوار کس طرف سے بڑھے، کچھ خبر نہیں ہے بے شمار شہروں میں جنگل گھرا ہوا چلتی ہے زیرِ دشت بھی پانی کی ایک لہر آتا ہے شہر میں بھی ہرن ناچتا ہوا کرتے ہو بے سبب اسے دریاؤں میں تلاش پھولوں کی پتیوں میں ہے موتی چھپا ہوا سرمہ ہماری آنکھ کا، مٹی سفر کی ہے ہے سنگِ میل، راہ میں پتھر پڑا ہوا آگے نکل گئے وہ مجھے دیکھتے ہوئے جیسے میں آدمی نہ ہوا، نقشِ پا ہوا بے برگ و بار خود کو سمجھتا رہا تھا میں جب جل بجھے درخت تو کچھ حوصلہ ہوا ڈرتا ہوں میرے سر پہ ستارے نہ آپڑیں چلتا ہوں آسماں کی طرف دیکھتا ہوا لغزش ذرا سی اور سزا ساری عمر کی شہزادؔ دوستی نہ ہوئی، خوں بہا ہوا