شہزاد احمد

شہزاد احمد

جوں جوں قدم بڑھائے ہیں جنگل گھنا ہوا

    جوں جوں قدم بڑھائے ہیں جنگل گھنا ہوا اب سر پہ تیرگی کا ہے پردہ تنا ہوا پتھر نہ پھینک، دیکھ ذرا احتیاط کر ہے سطحِ آب پر کوئی چہرہ بنا ہوا پھرتا رہا ہوں سایۂ غم کی تلاش میں مدت کے بعد اپنی طرف جھانکنا ہوا پہلے تو تھیں حریفوں سے زور آزمائیاں اب کے تو اپنے آپ سے ہی سامنا ہوا گر ہے مسافروں کی یہی پا شکستگی چلنا بھی، آپ اپنا قدم ناپنا ہوا صحرائے یاس میں کوئی تصویر بھی نہیں دیکھیں گے خاک ہم کو اگر دیکھنا ہوا کاٹی کسی کی بات تو ٹھہرے گناہگار رہنا خموش اپنی زباں کاٹنا ہوا اپنے نصیب میں نہ ہوئی لذتِ سحر جب سر پہ دھوپ آئی تو پھر جاگنا ہوا جب خاک ہی بدن ہے مرا، خاک زندگی پھر خاک چاٹنا ہو تو لہو چاٹنا ہوا موجود جو بھی ہے، وہ دسترس میں ہے تو کون تھا؟ کہ تجھ سے نہ میں آشنا ہوا دشتِ طلب میں شبنمِ امید کا خیال پتھر سے زندگی کی دعا مانگنا ہوا شہزادؔ آرزو کے دریچے نہ بند کر کیسے نکل سکے گا، اگر بھاگنا ہوا