شہزاد احمد

شہزاد احمد

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی

    چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی بولتی ہے تو بدل جاتی ہے رنگت اس کی سیڑھیاں چڑھتے اچانک وہ ملی تھی مجھ کو اس کی آواز میں موجود تھی حیرت اس کی ہاتھ چھو لوں تو لرز جاتی ہے پتے کی طرح وہی نا کردہ گناہی پہ ندامت اس کی کسی ٹھہری ہوئی ساعت کی طرح مہر بہ لب مجھ سے دیکھی نہیں جاتی یہ اذیت اس کی آنکھ گررکھتے ہو تو آنکھ کی تحریر پڑھو منہ سے اقرار نہ کرنا تو ہے عادت اس کی خود وہ آغوش کشادہ ہے جزیرے کی طرح پھیلے دریاؤں کی مانند ہے محبت اس کی روشنی روح کی آتی ہے مگر چھن چھن کر ست رو ابر کا ٹکڑا ہے طبیعت اس کی ہے ابھی لمس کا احساس مرے ہونٹوں پر ثبت پھیلی ہوئی بانہوں پہ حرارت اس کی وہ اگر جا بھی چکی ہے تو نہ کھولو آنکھیں ابھی محسوس کئے جاؤ رفاقت اس کی دل دھڑکتا ہے تو وہ آنکھ بلاتی ہے مجھے سانس آتی ہے، تو ملتی ہے، بشارت اس کی وہ کبھی آنکھ بھی جھپکے تو لرز جاتا ہوں مجھ کو اس سے بھی زیادہ ہے ضرورت اس کی وہ کہیں جان نہ لے، ریت کا ٹیلہ ہوں میں میرے کاندھوں پہ ہے تعمیر عمارت اس کی بے طلب جینا بھی شہزادؔ طلب اس کی ہے زندہ رہنے کی تمنا بھی شرارت اس کی