شہزاد احمد

شہزاد احمد

بگڑی ہوئی اس شہر کی حالت بھی بہت ہے

    بگڑی ہوئی اس شہر کی حالت بھی بہت ہے جاؤں بھی کہاں اس سے محبت بھی بہت ہے ہر سمت نظر آتے ہیں سوکھے ہوئے چہرے اور تذکرۂ جود و سخاوت بھی بہت ہے کیا جانیے مقدور بلندی ہے کہ پستی اونچی ہیں عمارات بھی، غربت بھی بہت ہے بس ایک قدم کا ہے سفر منزل مقصود رک جائیں تو اتنی سی مسافت بھی بہت ہے کیا مانگتے ہو اپنی دعاؤں میں شب و روز سوچو تو شب و روز کی دولت بھی بہت ہے مشکل ہے بہت جادہ و منزل کا تعین اور مجھ کو بھٹک جانے کی عادت بھی بہت ہے یہ کیا کہ تڑپتے ہی رہیں حشر تلک ہم مل جائے تو اک سانس کی مہلت بھی بہت ہے میں آنکھ سے ٹپکے ہوئے اک اشک کی مانند بے مایہ بھی ہوں اور مری قیمت بھی بہت ہے تاروں کی طرح یادوں کے محور بھی جدا ہیں دو ایک قدم کی یہ رفاقت بھی بہت ہے کافی ہے شبِ غم کے لئے ایک دیا بھی اس دور میں چھوٹی سی صداقت بھی بہت ہے وہ شخص جو گزرا ہے ابھی آنکھ بچا کر شہزاذ اسے میری ضرورت بھی بہت ہے