شہزاد احمد

شہزاد احمد

دھوپ نکلی ہے تو بادل کی ردا مانگتے ہو

    دھوپ نکلی ہے تو بادل کی ردا مانگتے ہو اپنے سائے میں رہو، غیر سے کیا مانگتے ہو میرا وہ جادہ ہے جس پر نہ چلا تھا کوئی تم ہر اک راہ میں نقشِ کفِ پا مانگتے ہو راہ سے کیسی ہٹے گرد میں لپٹا موسم روشنی چاہتے ہو تم نہ ہوا مانگتے ہو خود ہی ویران کیا تم نے دیارِ دل اب یہاں کوئی نہیں کس کا پتہ مانگتے ہو یوں تو اس شہر میں ہر اک سے محبت ہے تمہیں جانے تنہائی میں کس کس کا برا مانگتے ہو روز و شب اس سے گلہ مند تو رہتے ہو مگر تم نے یہ بھی نہیں سوچا ہے کہ کیا مانگتے ہو؟ میرے سینے میں ہے وہ دکھ جو کسی نے نہ سنا اور تمہاری یہی پہچان سدا مانگتے ہو عرصۂ حشر میں بخشش کی تمنا ہے تمہیں تم نے جو کچھ نہ کیا اس کا صلہ مانگتے ہو اس کو سب علم ہے شہزاد وہ سب جانتا ہے کس لئے ہاتھ اٹھاتے ہو دعا مانگتے ہو