شہزاد احمد

شہزاد احمد

جس سے تو بات کرے جو ترا چہرہ دیکھے

    جس سے تو بات کرے جو ترا چہرہ دیکھے پھر اسے شہر نظر آئے، نہ صحرا دیکھے روشنی وہ ہے کہ آنکھیں نہیں کھلنے پاتیں اب تو شاید ہی کوئی ہو جو اجالا دیکھے اس بھرے شہر میں کس کس سے کہوں حال اپنا میری حالت تو کوئی دیکھنے والا دیکھے دیکھتا رہتا ہوں میں نقشِ کفِ پا کی طرف اور اگر میری طرف نقشِ کفِ پا دیکھے سب گئے وقت کو ہمراہ لئے پھرتے ہیں کوئی ایسا بھی کہ جو ساعتِ فردا دیکھے چھوڑنے میں نہیں جاتا اسے دروازے تک لوٹ آتا ہوں کہ اب کون اسے جاتا دیکھے عجب اک خانہ خرابی ہے کہ یہ دل خود کو رات بھر جمع کرے صبح کو لٹتا دیکھے اپنی رسوائی کے منظر تو بہت دیکھ لئے نہیں معلوم کہ یہ آنکھ ابھی کیا کیا دیکھے خاک ہو جائیں بھرے شہر میں عزت والے اور روندی ہوئی مخلوق تماشا دیکھے منہ چھپانے کا بھی موقع نہ میسر آئے اہلِ دنیا کی وہ ذلت ہو کہ دنیا دیکھے سائے کی طرح مرے ساتھ ہے دنیا شہزاد کیسے ممکن ہے کہ کوئی مجھے تنہا دیکھے