شہزاد احمد

شہزاد احمد

واپس اس در سے اگر آیا ہوں

    واپس اس در سے اگر آیا ہوں آنکھیں دہلیز پر دھر آیا ہوں ابھی وہ شخص مرے دھیان میں ہے میں کہاں لوٹ کے گھر آیا ہوں میں نے کاٹا ہے سفر رو رو کر اپنے ہی خون میں تر آیا ہوں میں کچھ ایسا بھی تہی دست نہیں لے کے آنکھوں میں گہر آیا ہوں اس سے مجھ کو محبت ہے کہ نہیں مگر اظہار تو کر آیا ہوں اب مجھے سمت کا احساس نہیں نہیں معلوم کدھر آیا ہوں دل نے پھر کھینچ لیا اپنی طرف آ نہ سکتا تھا مگر آیا ہوں آگ سی دل میں لگی رہتی ہے جل گیا ہوں جو ادھر آیا ہوں اب کہاں جانا ہے معلوم نہیں اس گلی سے تو گزر آیا ہوں میرا مقصود تھی پستی شاید آسمانوں سے اتر آیا ہوں میرے ہمراہ اداسی بھی نہیں میں اکیلا ہوں جدھر آیا ہوں اس کے آنے کی توقع بھی نہیں اور میں جانبِ در آیا ہوں نہ کیا مجھ کو سمندرنے قبول جب بھی ڈوبا ہوں ابھر آیا ہوں نقشِ پا آئے ہیں ملنے کے لئے میں سر راہگزر آیا ہوں کون پہچانے گا مجھے شہزاد مدتوں بعد نظر آیا ہوں