شہزاد احمد

شہزاد احمد

کون کہتا ہے دریا میں روانی کم ہے

    کون کہتا ہے دریا میں روانی کم ہے میں جہاں ڈوب رہا ہوں وہاں پانی کم ہے تیرگی کاش شگوفوں کی طرح کھل اٹھے تیرے ہوتے ہوئے یہ رات سہانی کم ہے بھول کر بھی کوئی سنتا نہیں روداد مری واقعہ اس میں زیادہ ہے کہانی کم ہے اے خدا پھر مرے جذبوں کو فروانی دے زندگی بھر کے لئے ایک جوانی کم ہے یہی کہتا ہوں کہ آخر مجھے نیند آ ہی گئی داستانِ شبِ غم اس کو سنانی کم ہے میری آنکھوں میں یہ آنسو تو عطا ہیں اس کی اس سے مل جائے تو کیا ایک نشانی کم ہے میرے لہجے سے مرے درد کا اندازہ کر میری باتوں میں اگر تلخ بیانی کم ہے یہ محبت ہے کہ احساس ہے محرومی کا میری آنکھوں میں بہت کچھ ہے، زبانی کم ہے مجھے الزام دئیے جاتے ہیں کیا کیا شہزادؔ میری کیفیتِ دل آپ نے جانی کم ہے