مرزا غالب

مرزا غالب

عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آ سکا

    عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آ سکا گر اک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں حلقے ہیں چشم ہا ۓ کشادہ بہ سوئے دل ہر تار زلف کو نگۂ سرمہ سا کہوں میں اور صد ہزار نوا ۓ جگر خراش تو اور ایک وہ نا شنیدن کہ کیا کہوں ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں