گمشدہ آواز
تمہارے واسطے میں ان گنت صدیوں سے بھٹکا ہوں جہاں لامنتہا کے پاؤں سے سورج نکلتا تھا فرشتے سجدہ کرتے تھے تمہیں میں نے وہاں سوچا جہاں جیون پنگھوڑے میں پڑے بچے کی صورت اُونگھتا رہتا انگوٹھا چوستا رہتا تمہیں میں نے وہاں ڈھونڈا جہاں شیشم کے پیڑوں پر پڑے جھولوں پہ بیٹھی لڑکیاں ہجرت بھرے نغمے سناتی تھیں تمہیں میں نے وہاں چاہا جہاں چوپال میں بیٹھے ہوئے بوڑھے کسی برگد کی آسودہ غنودہ چھاؤں جیسے تھے تمہاری گوری رنگت پر کئی نظمیں تراشیں اور سمندر میں بہائی تھیں دھنک کے سات رنگوں اور سروں کے سات پوروں پر کئی پیغام بھیجے تھے تمہیں مل تو گئے ہوں گے