ارشد معراج

ارشد معراج

مسافت جبر ہوتی ہے

    دِیے کی لو جو شب بھر کپکپاتی رقص کرتی ہے تو حیرت ٹمٹماتی صبح کے در پر صدائیں دینے لگتی ہے مگر یہ تیرگی یہ تیرگی پھر بھی نہیں چھٹتی (زمیں اپنی نہ ہو جب تک خلاؤں میں چہل قدمی نہیں ہوتی پرندے اجنبی موسم میں ہجرت اوڑھ لیتے ہیں) ہمارے زرد چہروں پر جمی یہ گرد کی تہہ کیوں نہیں دھلتی ہمیں یوں پا برہنہ اجنبی رستوں پہ کتنی دور جانا ہے!