ارشد معراج

ارشد معراج

اُداسی ساتھ چلتی ہے

    وہی اُداسی تمہاری ساتھی تمہارے بچپن سے ساتھ کھیلی اور جوانی میں ساتھ ہو لی وہی اُداسی جو آنکھ سے اب چپک گئی ہے لبوں پہ آ کر رُکی ہوئی ہے جو شکلِ خوش پر ٹھہر گئی ہے