ارشد معراج

ارشد معراج

نوبت بجنے والی ہے

    آندھی ہو تو شہر پہ گرد کا خیمہ تن ہی جاتا ہے دستر خوان سمیٹو ورنہ سالن میں کنکر بھی کھانا پڑ سکتے ہیں ہوا اُکھڑ جائے تو چہروں پر لکھے روپ سروپ بکھر جاتے ہیں شہر کی گلیوں میں چلتی پھرتی آوازیں کہتی ہیں ”اپنے اپنے حصے کی خوراک ذخیرہ کر لینا سرد رُتوں سے پہلے چیونٹیاں ایسا ہی کرتی ہیں“