نصیر احمد نصیر

نصیر احمد نصیر

ابھی اک خواب باقی ہے

    ابھی جگنو نہیں رُوٹھے ابھی آنسو نہیں ٹُوٹے ابھی سورج نہیں جاگا ابھی تارے نہیں ڈوبے ابھی مہتاب باقی ہے ابھی اک خواب باقی ہے ابھی منزل نہیں آئی ابھی رستہ نہیں ٹھہرا ابھی جنگل نہیں گزرا ابھی دریا نہیں اُترا ابھی گرداب باقی ہے ابھی اک خواب باقی ہے ابھی طوفاں نہیں ٹھہرا ابھی آنکھوں میں جل تھل ہے ابھی سینے میں ہلچل ہے ابھی کھڑکی میں بارش ہے ابھی کمرے میں بادل ہے ابھی برفاب باقی ہے ابھی اک خواب باقی ہے ابھی قصہ ادھورا ہے ابھی پوری کہانی ہے ابھی سارا بڑھاپا ہے ابھی آدھی جوانی ہے ابھی اس پار جانا ہے ابھی جھیلوں میں پانی ہے ابھی رستے میں دلدل ہے ابھی پایاب باقی ہے ابھی اک خواب باقی ہے ابھی اک خواب باقی ہے