کوئی کشتیوں کی ہم سفری نہ کرے
میں سمجھتا تھا محبت کا سب سے بڑا تحفہ ابدیت ہے مگر تعلق کو ابدیت دینے سے پہلے ہمیں ایک نفرت پالنا پڑتی ہے نفرت پالنے کے لیے رقیب ضروری ہوتا ہے لیکن رقابت داری بناتے ہوئے علم ہونا چاہیے کہ آپ کی ہم خواب بھی آپ سے سمندر کے پانیوں کے جتنی محبت کرتی ہے ساحل میرا رقیب تھا میں لا علمی میں بہتا رہا اور کبھی نفرت نہ کر سکا سردیوں کی ایک شام آبی پرندوں کے پروں کے ساتھ میں نے اسے ابدیت تحفہ دی جواباً اس نے مجھے سمندری سفر کی تنہائی پہنا دی میں بے منزل کشتیوں کا ہم سفر ہو گیا اس نے آباد ساحلوں سے دوستی کر لی