ابو الکلام قاسمی

ابو الکلام قاسمی

فیض احمد فیض: نوکلاسیکیت اور ترقی پسندی میں نقطۂ اتصال کی تلاش

    فیض کی شاعری کے بارے میں جب بھی کچھ سوچنا چاہا ایک سوال خاموشی سے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے یہ کہ کیا صرف جزبے اور احساس کی مدد سے لمبی عمر پانے والے کسی شعری تجربے کی دریافت ہو سکتی ہے؟ یہ ایک نشان کرنے والا سوال ہے کیوں کہ وہ شاعری جسے ہم بڑی شاعری کہتے ہیں بالعموم صرف حسی اور جذباتی واردات کے بیان تک محدود نہیں رہتی۔ اقبال کے حوالے سے اس مسئلے کا جائزہ لیتے ہوئے سلیم احمد نے لکھا تھا کہ کھرا جذبہ اور کھری آگہی تخلیقی تجربے کی کسی نہ کسی سطح پر ایک ہو جاتے ہیں۔ ان میں فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ اسی لیے اقبال کی شاعری میں تجربے کی فکری بنیادیں اوراس سے وابستہ حسی کیفیتوں کی بنیادیں ایک دوسرے کو سہارا دیتی ہیں۔ ان کی شاعری کو ہم نہ تو صرف خیالات کے کسی مجموعے کی شکل میں دیکھتے ہیں نہ ہی یہ شاعری صرف احساسات کے دائرے میں گردش کرتی ہے۔ فیض خود بھی اقبال کے بہت قائل تھے اور ایک ایسے دور میں انہوں نے اقبال سے اپنی ارادت و عقیدت کا اظہار کیا جو ترقی پسندوں کے جذباتی ابال اور فکری انتہا پسندی کا دور کہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ کیا اختر حسین رائے پوری اور مجنوں گورکھپوری اور کیا سردار جعفری کلاسیکی شاعری کا رچا ہوا ذوق رکھنے کے بعد بھی ان میں سے کسی نے اقبال کی شاعری کا حق ادا نہیں کیا۔ اس کے برعکس اقبال کے انتقال پر فیض نے جو شخصی مرثیہ کہا ہے اس کے مصرعوں میں اقبال کے مجموعی تخلیقی رویے ان کی شاعرانہ انفرادیت کی سچی تحسین اور تعبیر و تفہیم کے بہت سے نکتے بھی چھپے ہوئے ہیں۔ اس نظم کے کچھ مصرعوں کو غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً پہلے بند کے یہ چار مصرعے: 

    آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیر 

    آیا اور اپنی دھن میں غزل خواں گزر گیا 

    تھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں 

    پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اُتر گیا 

    اور اس کے بعد نظم کا تیسرا بند:

    اس گیت کے تمام محاسن ہیں لازوال 

    اس کا وفور اس کا خروش اس کا سوز و ساز

    یہ گیت مثلِ شعلہ جوالہ تند و تیز 

    اس کی لپک سے بادِ فنا کا جگر گداز

    جیسے چراغ وحشتِ صر صر سے بے خطر

    یا شمع بزم صبح کی آمد سے بے خبر 

    اس نظم میں شاعری خاص کر اقبال کی شاعری کے جن عناصر کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے انہیں مختصراً یوں بیان کیا جا سکتاہے:

    1۔اقبال کی شاعری کا پہلا وصف ان کی خوش نوائی ہے۔ یعنی وہ غنائی آہنگ جس نے بیانات کی شاعری کو فنی اعتبار تک پہنچایا۔

    2۔اقبال کی شاعری میں جذب اور قلندری کی ایک فضا بھی سموئی ہوئی ہے، ان کی شاعری صر ف ہمارے دماغ سے رشتہ قائم نہیں کرتی،ہمارے حواس پر وارد بھی ہوتی ہے۔ 

    3۔ اقبال کے شعری امتیازات تک رسائی ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ تاہم اس کا جادو سب پر چلتا ہے۔ 

    4۔اقبال کے محاسنِ کلام میں سب سے نمایاں حیثیت اس کے جذباتی و فور اس کے خروش اور اس کی شعلہ سامانی کی ہے۔ 

    5۔یہ شاعری اپنے اندر دوام اور ہمیشگی کے پہلو بھی رکھتی ہے۔ 

    6۔یہ شاعری آپ اپنا دفاع ہے۔ اس پر وقت کے کسی مخصوص سیاق کی گرفت نہیں، مذاق اور میلان کی تبدیلی اس شاعری کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی۔ 

    نظریاتی غلو کے دور میں اردو کی کلاسیکی شاعری اور خاص طور پر اقبال کی شاعری کے سلسلے میں جو تشدد آمیز رویے سامنے آئے (اختر حسین رائے پوری، سردار جعفری) انہیں دیکھتے ہوئے فیض کی تخلیقی بصیرت کے ساتھ ساتھ ان کی تنقیدی بصیرت کا بھی ایک بہت بہتر اور ترقی یافتہ نقشہ مرتب ہوتا ہے۔ اپنے مضمون (”اقبال اپنی نظر میں“) میں اقبال کے اشعار کی روشنی میں فیض نے جو شبیہ دریافت کی ہے ”اس میں فراق نصیب عاشق کا سوز وساز اور حسرت ہے۔ بادشاہ کا ساغر اور گدا کا سا حلم صوفی کا سا استغنا بھائی کی سی محبت اور ندیم کی سی مروت ہے۔ گویا کہ فیض کلام کی مدد سے شاعری کی جو تصویر مرتب کرتے ہیں اس کے وہ اوصاف نہیں ہیں جب پر ان کے ترقی پسند ہم عصر زور دیتے تھے ”میزان“ میں فیض کی جو نثری تحریریں یکجا کی گئی ہیں ان میں جا بجا ایسے اشارے بکھرے ہوئے ہیں جن سے فیض کی ترجیحات اور شاعری یا شاعر کی شخصیت کی طرف فیض کے رویے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وضاحت کے لیے یہ کچھ مثالیں دیکھیے: 

    ”ہر وہ چیز جس سے ہماری زندگی میں حسن یا لطافت یا رنگینی پیدا ہو جس کا حسن ہماری انسانیت میں اضافہ کرے جس سے تزکیہئ نفس ہو جو ہماری روح کو مترنم کرے جس کی لو سے ہمارے دماغ کو روشنی اور جلا حاصل ہو صرف حسین ہی نہیں مفید بھی ہے۔ اسی وجہ سے جملہ غنایہ ادب (بلکہ تمام اچھا آرٹ) ہمارے لیے قابلِ قدر ہے۔ یہ افادیت محض ایسی تحریروں کا اجارہ نہیں جن میں کسی دور کے خاص سیاسی یا اقتصادی مسائل کا براہ راست تجزیہ کیا گیا ہو“ (مضمون: شاعر کی قدریں، میزان ص32)

    تشبیہہ یا استعارہ منزل نہیں راستہ ہے اور راستے کی اہمیت محض منزل کی وجہ سے ہوتی ہے اور ایک منزل ہی اہم نہیں ہے تو اس کا راستہ بھی ناقابلِ اعتنا ہو گا۔ شاعر یا لکھنے والے کی منزل تو اس کا مضمون یا خیال ہے اور اگر یہ منزل بالکل بنجر ہے تو راستہ رنگینی اسے دل فریب نہیں بنا سکتی۔ (مضمون: ہماری تنقیدی اصطلاحات میزان ص 42)

    کسی تحریر کی سلاست کو الفاظ کی نوعیت سے بہت کم تعلق ہے۔ اگر خیال لکھنے والے کے ذہن میں صاف ہے اور اس نے اسے سہولت سے آپ تک پہنچا دیا ہے تو اس کی تحریر میں فارسی کی بجائے لاطینی تراکیب ہوں تو بھی ہم اسے سلیس ہی کہیں گے۔ (حوالہ ایضاً میزان ص43) 

    فنی تخلیق کے سب ہی عناصر اہم ہیں۔ مشاہدہ بھی تجربہ بھی جذبہ بھی تصور بھی اور فکر بھی صناعت اور قدرتِ اظہار بھی لیکن ان میں اولیت یقینا تخیل ہی کو حاصل ہے۔ (مضمون: فنی تخلیق اور تخیل میزان ص 54) 

    تخیل وہ پراسرار شے جس تن مردہ میں جان پڑتی ہے اسے آپ دم عیسیٰ تصور کیجیے یا حرف کن فیکوں۔ (حوالہ ایضاً میزان 55) 

    اچھے ادب میں موضوع اور طرز ادا اصل میں ایک ہی شے کے دو پہلو ہوتے ہیں اور ان میں دوئی کا تصور غلط ہے الفاظ اور ان کے معانی الگ الگ اور یکے بعد دیگرے نہیں ایک ساتھ اور بہ یک وقت ہم تک پہنچتے ہیں۔ (مضمون: موضوع اور طرز ادا میزان ص 69) 

    ہمارے ذاتی اور عمومی تجربات کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جن کے اظہار کے لیے اب بھی غزل ہی سب سے موثر اور سب سے مقبو ل صنفِ سخن ہے۔ (مضمون: جدید فکرو خیال کے تقاضے اور غزل، میزان ص 113) 

    جملہ اہلِ فن و ہنر کی صف میں ادیب کی حیثیت سب سے زیادہ معتبر ہی نہیں سب سے زیادہ ذمے دار بھی ہے۔ وہ بہ یک وقت اپنے کلچر کی تخلیق بھی ہوتا ہے اور خالق بھی اس کی آیت بھی اس کا مفسر بھی اپنی ہی ذات میں اپنے عہد کی تصویر اور مصور بھی۔  (مضمون: ادب اور ثقافت میزان ص 127) 

    انقلابی شاعر پر حسن وعشق یا مے و جام حرام نہیں اور اس پر یہ حکم نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ انقلابی مضامین کے علاوہ اپنے دوسرے تجربات اور دوسری وارداتوں کا ذکر ہی نہ کرے۔ (مضمون: جوش شاعر انقلاب کی حیثیت سے میزان ص 210)

    چوں کہ جوش نے اپنے طبقاتی نظریے کی تنظیم نہیں کی اس لیے ان کا نظریہئ انقلاب بھی ایک حد تک نادرست ہے۔ اوہ انقلاب کا تصور ہمیشہ کسان یا مزدور کی نظر سے نہیں بلکہ ایک خوشحال شہری کی نظر سے کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے شعرمیں انقلاب ایک پرہول مہیب اور دہشت ناک سانحے کی صورت اختیار کر لیتاہے۔ (حوالہ ایضاً میزان ص 215) 

    عام انقلابی شاعرانہ انقلاب کے متعلق گرجتے ہیں للکارتے ہیں سینہ کو ٹتے ہیں انقلاب کے متعلق گا نہیں سکتے۔ ان کے ذہن میں انقلاب کا تصور طوفان برق ورعد سے مرکب ہے۔ نغمہئ ہزار اور رنگینی بہار سے عبار ت نہیں۔ وہ صرف انقلاب کی ہولناکی کو دیکھتے ہیں اس کے حسن کو نہیں پہچانتے۔ (مضمون آہنگ مجاز کے مجموعے کا تعارف میزان ص 236)

    ان مضامین (مشرق و مغرب کے نغمے میراجی) کی نکھری ہوئی شفاف سطح پر ان مبہم سا یوں اور غیر مجسم پر چھائیوں کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ جو ان کے شعر کی امتیازی کیفیات ہیں۔ ان کی تخلیق کا یہ حصہ تمام تر اسی پاسبان عقل کی رہ نمائی میں لکھا گیا ہے جسے وہ بہ ظاہر عملِ شع کے قریب نہیں پھٹکنے دیتے۔ 

    ان مضامین کا ٹھہراؤ ان کی سلاست بیان اور سلاستِ خیال میں ان کا (میرا جی کی ادبی زندگی کے غالباً سب سے زیادہ مطمئن اور سب سے زیادہ پر سکون دور کا) سراغ بھی ملتا ہے۔ یہ اندوہ گیں احساس بھی ہوتا ہے کہ اگر ہمارے اہل فن کی اجاڑ زندگیوں میں داخلی در دو کرب کے علاوہ جسم و جاں کے تقاضے پر گلی گلی خاک چھاننا اور دردر صدا دینا نہ ہوتا تو شاید جدید ادب کی تاریخ قدرے مختلف اور اس کے بعض دل کش ابواب اتنے تشنہ اور مختصر نہ رہ جاتے۔

    (مضمون:میرا جی کافن (مشرق و مغرب کے نغمے دیباچہ) میزان ص 253-54)

    ان میں سے ہر اقتباس میں کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور کہی گئی ہے جس سے فیض کی انفرادی فکر کا اظہار ہوتا ہے اور صاف پتہ چلتا ہے کہ فیض عام ترقی پسندوں کے برعکس شعرو ادب کے معاملات میں اپنی مخصوص بصیرت پر زیادہ بھروسہ کرتے تھے۔ ادب میں افادیت کا تصور ان کے نزدیک سیاسی اور اقتصادی مسائل کے بیان کا پا بند نہیں تھا۔ اسی طرح فیض شاعری میں مواد اور ہیئت کے ثنویت کے قائل نہیں تھے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستگی کے باوجود غزل کی صنف کواز کا ررفتہ نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا انقلابی شاعری کا تصور بھی اپنے ہم مسلک شاعروں سے مختلف تھا۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ ترقی پسند نظریہئ ادب سے اختلاف کرنے والے اور ترقی پسند حلقوں میں باضابطہ طور پر معتوب راشد اور میرا جی جیسے شعرا کی اہمیت کے بھی فیض منکر نہیں تھے۔ فیض کے وجدان میں لچک اور شعور میں وسعت بہت تھی۔ ادب کی طرف ان کا رویہ polemical نہیں تھا۔ اپنی پیش رو روایت کے سلسلے میں ان کا انداز نظر حریفانہ نہیں تھا اور جیسا کہ جوش، مجاز، میراجی، راشد کی بابت ان کی رایوں سے ظاہر ہوتا ہے فیض ان سے اختلاف کرتے ہوں یا اتفاق۔ کسی بھی معاملے میں وہ انتہا پسند نہیں تھے۔ ایک سوچا سمجھا دھیما پن ان کی تخلیقی سرشت کا حصہ بن گیا تھا۔ 

    ظاہر ہے کہ فیض کی صلح پسندی نے اور اس کے ساتھ ساتھ گروہی مصلحتوں کی سطح سے اوپر اٹھ کر مخالفانہ زاویہئ نظر رکھنے والوں کو بھی قبول کرنے کی روش نے فیض کو خود اپنے حلقے میں بھی کسی قدر مشکوک اور معتوب بنا دیا تھا۔ فیض کے شعری رویوں میں جیسا کہ پچھلے صفحات پر ان کی نثری تحریروں کے اقتباس سے اچھی طرح واضح ہے کوئی بڑی پیچیدگی نہیں تھی۔ فیض کی عمومی شخصیت کی طرح ان کے فنی تصورات اور ضابطے بھی ایک سیدھی سادی منطق رکھتے تھے کسی قدر سہل پسندانہ راشد نے اپنے ایک انٹرویو (مصاحبے)میں کہا تھا کہ فیض کی شاعری اور ذہن میں فکری تساہل نے ایک ناگزیر عنصر کی شکل اختیار کر لی ہے۔ وہ کسی بھی مسئلے کے بارے میں گہرائی سے نہیں سوچ سکتے۔ ان کی طبیعت میں تجزیہ کاری کی صلاحیت تقریباً مفقود ہے۔ ہو سکتا ہے حقیقت یہی رہی ہو۔ مگر اس ”دریافت“ پر خوش ہونے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حقیقتوں کی تعبیر کا ایک راستہ اعصاب اور احساسات سے ہو کر بھی جاتا ہے۔ تعقل کی سطح تاثر کے طور پر بھی سامنے آتی ہے۔ فیض کے مزاج میں بے شک باریک بینی اور دوررسی کی طلب کم زور تھی چنانچہ اپنی نثر و نظم میں بھی فیض کسی غیر معمولی نکتے کی تلاش میں سرگرداں نظر نہیں آتے۔ وہ چیزوں کو دیکھتے ہیں ان سے ایک تاثر قبول کرتے ہیں اس تاثر کو اپنی شاعرانہ بصیرت میں جذب کرتے ہیں اور داؤں پیچ سے خالی اسلوب اور صبح کے ساتھ اجالے کی طرح دھیرے دھیرے پھیلتی ہوئی ستھری، سلجھی، سوہنی زبان میں اس تاثر کو بیان کر دیتے ہیں کلاسیکیوں میں سودا کے منطقی اسلوب کی داد فیض نے خوب دی ہے۔ خواجہ حافظ شیرازی کی حیثیت بھی فیض کیلئے اپنے شخصی شاعرانہ وجدان کے ایک سر چشمے کی تھی۔ اور ان کے مجموعی شعور پر اردو کی قدیم کلاسیکی روایت اور عجمی شعر کی روایت کے اثرات تاعمر قائم رہے۔ انہوں نے اپنے اجتماعی حافظے اور ثقافتی ورثے سے برأت کا دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ جیلانی کامران کا خیال ہے (استانزے کا دیباچہ) کہ شاعروں کی 1940 کے آس پاس رونمائی کرنے والی نسل کا اصل مرحلہ اپنے آپ کو شعر العجم کے غلبے سے محفوظ رکھنے کا تھا۔ ان کا خیال یہ بھی ہے کہ فیض اور راشد دونوں نے اپنی تاریخ کے اس آسیب کا مقابلہ نہیں کیا اور اس کے سامنے سپر ڈال دی۔ دوسری طرف فیض راشد کو تو اس معاملے میں خطاکار سمجھتے ہیں اور خود کو صاف بچا لے جاتے ہیں۔ ایک انٹرویو (طاہر مسعود: یہ صورت گر کچھ خوابوں کے) کے دوران انہوں نے کہا تھا:

    ”راشد صاحب کی تو زبان فارسی ہے اور نہایت مشکل فارسی، جن افراد کو (انگریزی اور فارسی)دونوں زبانیں نہیں آتیں وہ تو انہیں سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ راشد صاحب اس ملک (پاکستان) میں رہے ہی نہیں۔ یہاں کے لوگوں سے ان کا رابطہ کٹ گیا۔ ان کو یہ دریافت کرنے کا موقع ہی نہیں ملا کہ ان کی بات لوگوں تک پہنچی یا نہیں“

    (”یہ صورت گر کچھ خوابوں کے“ص30)

    ترقی پسندعہد اور جدیدعہد شاعری کے عام طالب علم کی مشکل یہ ہے کہ فیض کو ان ادوار کے منظر نامے میں متعین کرنا یا زمانے کے ایک مخصوص منطقے میں فیض کی PLACINGکرنا آسان نہیں ہے۔ فیض کی شاعری سے ایک ساتھ تین چہرے جھانکتے ہیں۔ ایک تو نو کلاسیکی شاعر کا چہرہ ہے جو خیال اور تجربے کی نئی آب و ہوا میں سانس لیتا ہے مگر گزرے ہوئے زمانوں سے اپنا تعلق نہیں توڑتا۔ دوسرا چہرہ سماجی ذمے داری اور وابستگی کا احساس رکھنے والے ایک خاموش انقلابی کا ہے جو وقت کے محور کی تبدیلی کے ساتھ ثقافت شعور کی تبدیلی کے عمل کو سمجھتا تو ہے لیکن اپنے آپ کوبے قابو نہیں ہونے نہیں دیتا اور اپنے ہم چشموں میں بھی موردِ الزام (کبھی کبھی موردِ دشنام) بھی ٹھہرتا ہے۔ اور تیسرا چہرہ اپنی محدود وفاداریوں کے حصار کو توڑتے ہوئے اپنی نظریاتی ترجیحوں اور تعصبات کو عبور کرتے ہوئے ایک صلح جو شاعر کا ہے جو بدلتے ہوئے حالات کی تہ سے نمودار ہونے والی حسیت کے ترجمانوں میں شامل ہونے سے نہیں ڈرتا۔ فیض کے انتقال پر اپنی نظم (مشمولہ اور نظمیں ص ۲۸۔۱۸) میں جیلانی کامران نے فیض کو اپنے احساسات میں شامل خوش بو کی ایک لہر کے طور پر یاد کیا ہے:

    جابسی عرش کے قریے میں کہانی اس کی 

    اک مہک دل میں ہے اب یاد سہانی اس کی 

    اور افتخار جالب جیسے آوارہ گرد شاعر اور نقاد نے ”نئی لسا نی تشکیلات“ کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے لفظ کی شئیت (thingness) کے نمونے نثر میں منٹو کی کہانی سے اور شاعری میں فیض کے کلام سے بر آمد کیے۔ (یاد کیجیے فیض کی نظم منظر کا تجزیہ رہ گزر سائے شجر منزل دور حلقہئ بام

    بام پر سینہئ مہتاب کھلا آہستہ 

    جس طرح کھولے کوئی بند قبا آہستہ 

    جھیل میں چپکے سے تیر ا کسی پتے کا حباب

    ایک پل تیرا چلا پھوٹ گیا آہستہ

    بہت آہستہ بہت ہلکا خنک رنگ شراب

    میرے شیشے میں ڈھلا آہستہ  

    شیشہ و جام صراحی ترے ہاتھوں کے گلاب 

    جس طرح دور کسی خواب کا نقش

    آپ ہی آپ بنا اور مٹا آہستہ 

    (وغیرہ وغیرہ مضمون مشمولہ ”نئی شاعری“ مرتبہ افتخار جالب) تفصیل میں طوالت ہے۔ ایک دوسرے سے مختلف اور کبھی کبھی تو متضاد اور متصادم حلقوں میں ایک دوسرے سے قطبین کی دوری رکھنے والے ادیبوں مختلف زمانی مکانی نظریاتی ثقافتی پس منظر رکھنے والی جماعتوں کے افراد کا ایک سی آمادگی کے ساتھ فیض کو قبول کرنا عجیب بات ہے۔ تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ فیض کی شاعری اپنا کوئی متعین مزاج نہیں رکھتی یا یہ کہ ان کا اپنا مخصوص رنگ نہیں ہے۔ یہ کیسی قبا ہے جو ہر جسم پر ٹھیک بیٹھ جاتی ہے اور فیض کہیں اجنبی اور بیگانے دکھائی نہیں دیتے۔ فیض کی شاعرانہ سرشت کو سب سے پہلے اس کے اپنے قریبی حلقے سے باہر فراقؔ نے پہچانا تھا اور ”اردو کی عشقیہ شاعری“ (پہلی اشاعت جونی 1945) میں فیض کی دو نظموں ”رقیب سے اور“ تنہائی کا تذکرہ مبالغے کے ساتھ کیا تھا۔ فراقؔ نے لکھا تھا:

    ”پروفیسر فیض احمد فیض کی نظم جس کا عنوان ہے ”رقیب سے اور“ جو ہمایوں کے فروری 1938کے نمبر میں نکل چکی ہے اس کا ذکر ضرور کروں گا میں بہت کم اشعار غزلوں یا نظموں کے متعلق یہ احساس کرتاہوں کہ میرے دل دماغ کا چور نکلا۔ لیکن یہ نظم ایسی ہی نظم تھی۔ اردو کی عشقیہ شاعری میں اب تک اتنی پاکیزہ اتنی چٹیلی اور اتنی دور رس اور مفکرانہ نظم وجود میں نہیں آئی۔ نظم نہیں بلکہ جنت اور دوزخ کی وحدت کا راگ ہے۔ شیکسپیئر، گوئٹے، کالی داس اور سعدی بھی اس سے زیادہ رقیب سے کیا کہتے۔۔۔۔ عشق اور انسانیت کے لطیف اور اہم ربط کو سمجھنا ہو تو یہ نظم دیکھئے“

    (اردو کی عشقیہ شاعری، ص 64-65)

    اور اب یہ دوسرا اقتباس بھی دیکھئے:

    ”پروفیسر فیض کا مجموعہ نقش فریادی کے نام سے نکلااور اگرچہ بہت مختصر تھا لیکن اس کا بہت زبردست اثر ہماری شاعری پر پڑا ہے فیض نے فکرو احساس کی ایک نئی تکنیک اس میں دی جو اس دور کی ترجمانی کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اس کے مصرعوں کی لے میں جو کھٹک یا زمزمہ (lilt) ہے اور ان کی فقرہ سازی (phrasing) میں جو تازگی و موزونیت ہے وہ ان کے اسلوب میں ایک خلاقانہ انفرادی خصوصیت پیدا کردیتی ہے۔ فیض نے ایک نیا مدرسہ شاعری قائم کر دیا۔ انہوں نے جس بصیرت افروز احساس خلوص اور فن کا رانہ چابک دستی سے عشقیہ واردات کو دوسے اہم سماجی مسائل سے متعلق کر کے پیش کیا یہ اردو کی عشقیہ شاعری میں ایک ناقابلِ فراموش کارنامہ ہے اور یہ نظم ایک زندہ جاوید کلاسک ہے۔ (اردو کی عشقیہ شاعر ص 124-25)

    گویا کہ فیض ادب کے افق پر نمودار تو ہوئے ایک شرمیلے، کم سخن اور نستعلیق قسم کے نوجوان ترقی پسند شاعر کی حیثیت سے مگر ان کی شناخت قائم ہوئی ایک رومانی شاعر کی حیثیت سے۔ فیض کے بارے میں یہ جو بہ ظاہر توصیفی لیکن اصل میں کسی قدر معترضانہ انداز کی رائیں سامنے آئیں مثلاً یہ کہ (بہ قول عزیز احمد) ”عاشقی اور انقلاب کا خطِ فاضل جس کو وہ پار کرنا چاہتے ہیں کسی طرح پار نہیں ہوتا۔“ اور یا یہ کہ ”ان کی شاعری عشق اور انقلاب کے درمیان ایک گریز مسلسل بن گئی ہے“ یا پھر راشد کی یہ رائے کہ ”نقشِ فریادی ایک ایسے شاعر کی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ ہے جو رومان اور حقیقت کے سنگم پر کھڑا ہے“ (دیباچہ نقشِ فریادی) تو ان رویوں میں فیض کی شاعرانہ شخصیت پر ایک مخفی طنز کے ساتھ ساتھ سچائی کا عنصر بھی شامل ہے۔ پروفیسر مجتبیٰ حسین اپنی ترقی پسندی کے زعم میں یہ فیصلہ صادر کر بیٹھتے تھے کہ ”فیض کی شاعری جہاں ختم ہوتی ہے وہاں سردار جعفری کی شاعری کا آغاز ہوتا ہے۔“ اور خود سردار جعفری بھی کم سے کم ترقی پسندی کے معاملے میں فیض کو اپنے کیا اشتراکی حقیقت نگاری کے خاصے کم زور اور سطحی ترجمانوں (مثلاً کیفی اعظمی مظفر شاہ جہاں پوری) تک کے برابر کا مرتبہ دینے پر آمادہ نہیں ہوئے (ترقی پسند ادب اشاعت 1952)بے شک فیض کی شاعری میں فلسفیانہ گہرائی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ مگر اس کمی کو وہ بڑی حد تک اپنے شاعرانہ احساس گرفت میں آنے والے تجربے سے شدید جذباتی وابستگی اپنے مدھم ملائم میٹھے لہجے اور غنائیت سے چھلکتے ہوئے اسلوب و اظہار کی مدد سے اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتے۔ یہ کیفیتیں جنہیں ہم فیض کے تخلیقی تشخص کی بنیادیں کہہ سکتے ہیں ان کے اکثر معاصرین کی نظر میں ناپسندیدہ اور معیوب تھیں اور اس معاملے میں من و تو کی تفریق نہیں تھی۔ فیض کے عم عصروں میں راشد نے فیض کی شاعری میں آرائشی عناصر پر جتنے وار کیے ہیں اس سے کم وار سردار جعفری نے نہیں کیے اور بعد کے لکھنے والوں میں ایک معروف نقاد (ڈاکٹر وزیر آغا: نظم جدید کی کروٹیں) نے فیض کی شاعری کو ”انجماد کی مثال“ قرار دے کر ہمیشہ کے لیے اس پر زوال اور کہولت کی مہر لگا دی۔ راشد کا خیال تھا کہ فیض کی سب سے بڑی کم زوری ان کا فکری تساہل یا تن آسانی ہے۔ وہ اعلیٰ  دماغ طاقتوں سے یاتو محروم ہیں یا انہیں اچھی طرح کام میں نہیں لاتے۔ چنانچہ راشد نے پیشن گوئی بھی کی تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فیض کی شاعری میں تجربے کی بیرونی چمک دمک ماند پڑتی جائے گی اور یہ شاعری بالآخر اپنی کشش کھو بیٹھے گی۔ میں راشد کے شعری وجدان کی وسعت اور ان کی برق پاش تخیل کی درّا کی کا بہت قائل ہوں اور اپنا شمار راشد کی شاعری کے ان اکادکا قارئین میں نہیں کرتا جو راشد کی فارسی آمیز زبان اور ان کے تخلیقی تجربوں کے ابہام پر اتنا زور صرف کرتے ہیں کہ راشد کی شاعری ان کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ خود فیض بھی راشد کی زبان پر فارسی کے غیر متوازن اثر کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے اور اختر الایمان نے بھی راشد کے آہنگ میں بلندی اور جلال کے پہلو کو ان کے ”بڑبولے پن“ سے تعبیر کیا تھا۔ لیکن فیض پر تخلیقی تجربے یا تفکر کی تسہیل کے جو اعتراضات ترقی پسندوں اور غیر ترقی پسندوں نے تقریباً ایک سی شدو مد کے ساتھ وارد کیے اسے فیض کی مقبولیت نے ان کے زمانے کے بہت سے شاعروں کو پریشان اور سراسیمہ کیا۔ ترقی پسند شاعر حلقہئ ارباب ذوق کے شاعر کلاسیکی مزاج و مذاق رکھنے والے شاعر اور نقاد (مثلاً اثر لکھنوی اور رشید حسن خاں) یہاں تک کہ بعض ایسے شاعر اور نقاد بھی جو مذہبی میلان رکھتے تھے ترقی پسند ی سے انہیں اللہ واسطے کا بیر تھا، ترقی پسند نظم و نثر میں انہیں کوئی خوبی نظر ہی نہیں آتی تھی اور فیض سے ان کا اختلاف بہ ظاہر نظریات تھا (مثلاً سلیم احمد) ان سب نے فیض کی فکری اور لسانی کو تاہیوں نقائص حدود کا شعور عام کرنے کی جی توڑ کوششیں کیں۔ ترقی پسندوں کی روایتی فکر کے لیے نرم گوشہ تو باقر مہدی بھی نہیں رکھتے مگر فیض پر اپنے مضمون (”فیض ایک نیا تجزیہ“۔ مشمولہ شعری آگہی، 2000) میں انہوں نے ایک معنی خیز بات یہ کہی ہے کہ ”فیض نے (اپنی نظم) موضوع سخن میں اپنا جو مرکز دریافت کیا تھا اس سے بہت آگے کبھی نہ گئے اور اس طرح فیض نے اپنی شاعرانہ شخصیت کو ریزہ ریزہ ہونے سے بچائے رکھا۔“ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فیض کے لیے عشق کے دونوں محور (نظم ”دو عشق“) نا گزیر تھے دونوں سے انہیں ایک سی ذہنی اورجذباتی مناسبت تھی۔ غم عشق اور غم روزگار دونوں انکی شخصیت کی خلقی ترکیب کا حصہ تھے، فیض ان میں سے ایک کو بھی ترک کرنے کے لیے تیار نہیں تھے چنانچہ اپنے اس موقف سے وہ کبھی دست بردار نہیں ہوئے کہ شاعر کو تجربوں کے انتخاب میں اپنے آپ پر اوپر سے کوئی شرط عاید نہیں کرنی چاہیے۔ ہر تجربہ چاہے وہ عشق کا ہو یا سیاست کا، دھیان کی کسی رومانی لہر کا ہو یا سماجی انصاف سے وابستہ مسئلوں کا شاعر کا تجربہ ہے۔ سجاد ظہیر کے نام اپنی اسیری کے دوران انہوں نے لکھا تھا کہ ”ہمارا جی چاہے گا تو عشقیہ ضرور کہیں گے“ فیض نے بیرونی احکام کے مطابق شعر کہنے سے ہمیشہ گریز کیا۔ چنانچہ ابتدائی دور کی نظم ”تنہائی“ پر ڈاکٹر تاثیر کے مضحک ردعمل یا ”صبح آزادی“ پر سردار جعفری کے نہایت سنجیدہ اعتراضات میں تمسخر اور تنگ نظری کی جو فضا پیدا ہو گئی ہے اس کا اصل سبب یہی ہے کہ دونوں فیض کے اپنے شاعرانہ وجدان کی خود مختاری کا احترام کرنے کے بجائے اپنی ترجیحات کو ان پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔ دوسری طرف فیض کی تخلیقی خود اعتمادی کا حال یہ تھا کہ نہ تو وہ کسی اعتراض کا جواب دیتے تھے نہ اعتراض کرنے والوں کے بارے میں گفتگو کرتے تھے نہ ہی اپنے شعری رویوں کی تشریح کرتے تھے، فیض نے جواباً اگر کچھ کیا تو بس یہ کہ انتہائی سادگی کے ساتھ معترض کی بات مان لی مگر اپنی روش سے ذرا انحراف بھی نہیں کیا۔ ”نقش فریادی“ کی نظمیں مجموعے کی اشاعت 1941 سے پہلے موضوع بحث بن چکی تھیں۔ مگر مجموعے کی اشاعت ایک طرح کا اعترافِ شکست ہے۔ اس میں دوچار نظمیں قابل برداشت ہیں۔“ ان قابل برداشت نظموں میں وہ دو نظمیں ”تنہائی“ اور ”رقیب سے“ بھی شامل ہیں جنہیں فراق صاحب عالمی ادب کے شہ پاروں میں شمار کرنے کے لیے تیار تھے۔ اس مجموعے کی دوسری کئی نظمیں (مثلاً موضوعِ سخن، ہم لوگ) نئی نظم کے ارتقا میں آج بھی ایک ناقابلِ فراموش تجربے کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔تنہائی اپنی ساخت کے لحاظ سے نظم کی نئی شعریات کا خود مکتفی نمونہ کہی جا سکتی ہے اور جہاں تک اس نظری گرفت میں آنے والے تجربے او ر اس نظم کی فکری بنت کا تعلق ہے تو بہ قول راشد اپنی ”حجرو تاثیر“ کے باعث اور ڈاکٹر تاثیر کے لفظوں میں اپنی علامتی فضا کی وجہ سے اسے ہمیشہ نئی نظم کے سنگ میل کی حیثیت حاصل رہے گی۔ فیض نہ تو ان معنوں میں بڑے شاعر کہے جا سکتے ہیں جن معنوں میں ہماری حسیّت اقبال سے ربط قائم کرتی ہے۔ نہ فیض پرجلال عظیم اور مہیب تجربوں کے شاعر ہیں۔ وہ نہ تو بڑے کینوس پر برش چلاتے ہیں نہ بے محابا strokesاور اظہارات سے کام لیتے ہیں۔

    ان کی طبع نازک مینا ور بنانے والے مصوروں کی جیسی ہے جو حساس نقطوں، لکیروں اور خاکوں کی مدد سے اپنے باطنی منظر نامے (inner landscape) کی تشکیل کرتے ہیں اور ٹھہر ٹھہر کر دھیمے پرخیال انداز میں اپنے سمجھے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ایک انٹرویو کے دوران فیض نے یہ ذاتی بیان دیا تھا کہ ان کی نظر میں اپنی سب سے پسندیدہ نظم ”ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے“ ہیں۔ زنداں نامہ (1965) کی اس نظم کے یہ زباں زد مصرعے۔۔۔۔۔۔

    جب گھلی تیری راہوں میں شام ستم 

    ہم چلے آئے لائے جہاں تک قدم 

    لب پہ حرفِ غزل دل میں قندیلِ غم 

    اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی 

    دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم 

    ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے 

    فکری اعتبار سے فیض کے ان شاعرانہ رویوں کی توسیع کہے جا سکتے ہیں جن کی نشان دہی فیض نے موضوع سخن نام نظم کے آخری بند میں اس طرح کی تھی کہ: 

     

    یہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہو ں گے 

    لیکن اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹ

    ہائے اس جسم کے کم بخت دل آویز خطوط 

    آپ ہی کہیے کہیں ایسے بھی افسوس ہوں گے 

     

    اپنی موضوعِ سخن ان کے سوا اور نہیں 

    طبع شاعر کا وطن ان کے سوا اور نہیں 

    ”نئی نظم اور پوراا ٓدمی“ میں سلیم احمد نے ”مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ“ کے ان دو مصرعوں: 

    لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے

    اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجیے

    کا بہت مذاق اڑایا ہے جو اس بندکے آتے ہیں کہ: 

    اَن گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم 

    ریشم و اطلس و کم خواب میں بنوائے ہوئے 

    جابجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم 

    خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے 

    اور سلیم احمد کی دل زدگی کا سبب یہ ہے کہ ”اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجیے“ میں ایک محتاج تفصیل اور بے ضرر سا لفظ ”مگر“ شعری تجرے کی سفاکی اور سنگینی کا اعلامیہ ہے۔ یعنی یہ کہ فیض کے لیے جائے رفتن اور پائے ماندن دونوں کوئی نہ کوئی مشکل کھڑی کر دیتے ہیں۔ اصل میں شاعری کا مطالعہ اگر پڑھنے والا اپنی شرطوں، عادتوں، ضرورتوں اور مصلحتوں کے حساب سے کرے گا تو اسی طرح کے مسئلے پیدا ہوتے رہیں گے۔ تجربے کا تحرک فیض کو اگر اپنے مرکز سے آگے لے جائے تو غلط اور اگر وہ ایک مرکز پر ساکت اور پا بستہ دکھائی دیں تو تجربے کے تعطل کا الزام سامنے ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ فیض کی شاعری کے ساتھ ”بہ مقام در نہ سازد“ والا معاملہ ہے۔ ان کا دلِ ناصبور ایک مرکز پر انہیں ٹھہرنے نہیں دیتا۔ فیض احساسات کی آتی جاتی لہروں یا swing of Moods کے شاعر ہیں، ایک اندرونی اضطراب کی ماری ہوئی بھٹکتی ہوئی روح جس کا دارالامان کبھی اپنی محبت بنتی ہے کبھی گردوپیش کی دنیا میں بسی ہوئی مخلوق کی محبت۔ یہ صورت حال یا میلانات کی یہ دو رخی فیض کے لیے توپریشان کن نہیں تھی مگر ان کے واحد المرکز معترضین کے لیے ڈائیلیما بن گئی۔ نظریاتی تنقید کے ضابطوں یا اپنی ذاتی پسند و ناپسند کے مطابق شعر و ادب کے مطالعے میں پڑھنے والے کو اصل دلچسپی کی تخلیقی تجربے سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے ہوتی ہے اور وہ صرف اپنی تائید یا اپنے عکس کی تلاش کا متمنی ہوتا ہے۔ 

    ترقی پسند شاعری کی روایت کا جائزہ لیتے ہوئے جیلانی کامران نے (”استانزے“  کا دیباچہ1957)میں لکھا تھا کہ اشترا کی معاشرے میں دل کی ویرانی کا مذکورممکن نہیں اور صرف زمینی دکھ کی کہانی ایک ادھوری کہانی ہے۔ فیض کی شاعری میں دل رفتگی اور ملال کا عنصر طمانیت اور سر خوشی کے احساس پر غالب ہے۔ ایسا شاید اسی لیے ہے کہ فیض اجتماعی آشوب کی عکاسی کے باوجود بنیادی طور پر تخلیقی تنہائی کے تجربے سے بالعموم کنارہ کش نہیں ہوتے۔ ان کا احتجاج بھی جس کے واسطے سے وہ انسانوں کے ایک گروہ کی ترجمانی کرتے ہیں اور صرف اپنی ہستی کے پابند نہیں رہ جاتے بڑی حد تک ایک زیرِ لب بلکہ خاموش احتجاج کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ اونچی کھلی ڈلی آواز میں بہت کم بات کرتے ہیں۔ جن نظموں میں ان کا آہنگ قدرے اونچا محسوس ہوتا ہے مثال کے طور پر آجاؤ افریقہ (Africa come back)یا زندگی زندگی کے آخری دور کی نظم ”ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے“ تو اس نوع کی نظموں میں بھی اداسی کی ایک لہر جوشیلے جذبات کی ہم رکاب دکھائی دیتی ہے:

    آ جاؤ میں نے دھول سے ماتھا اٹھا لیا 

    آجاؤ میں نے درد سے بازو چھڑا لیا 

    آجاؤ میں نے نوچ دیا بے کسی کا جال 

    آجاؤ افریقہ 

    پنجے میں ہتھکڑی کی کڑی بن گئی ہے گرز 

    گردن کا طوق توڑ کے ڈھالی ہے میں نے ڈھال 

    جلتے ہیں ہر کچھار میں بھالوں کے مِرگ نین

    دشمن لہو سے رات کا کالک ہوئی لال 

    آجاؤ افریقہ 

    نظم چاہے بلند آہنگ اور انقلابی ہو آہستہ روی اور نرمی کا تاثر برقرار رہتاہے۔ نعرہ نغمے میں ڈھل جاتا ہے اور برہمی سرگوشی بن جاتی ہے۔ یہ دراصل جبر ہے فیض کی اپنی طبیعت کا۔ ان کا ایک مصرعہ ہے ”اک کڑا درد کہ جو گیت میں ڈھلتا ہی نہیں!“ مگر فیض کے کلام میں نغمگی کا عنصر سخت اور درشت تجربوں اور آتش فشاں احساسات میں بھی نرمی اور دھیما پن پیدا کر دیتا ہے۔ فیض ہیجان بپا کرنے والے ذہنی تجربوں کو بھی اکثر تصویروں میں منتقل کردیتے ہیں اور یہ تصویریں جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ مدھم اور سیال رنگوں سے بنتی ہیں۔ ان میں تندی نوکیلے پن بے حجابی کی کیفیت نہیں ملتی۔ ایک منظر یہاں سے شہر کو دیکھو، زنداں کی ایک شام، زنداں کی ایک صبح، ایرانی طلبا کے نام، سر وادیئ سینا، خواب بسیرا لفظوں اور آوازوں میں ڈھلی ہوئی تصویریں ہیں جن کا بہتا پھیلتا ہوا رنگ آنکھوں کے راستے ہمارے دل میں اترنے کے بعد ہمارے شعور کا حصہ بنتا ہے۔ یہ ایک گریزاں اور متحرک کیفیت ہے چنانچہ فیض کے کلام میں طوالت کلام کے صرف اِکّا دُکّا نمونے ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر ”شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں“ مگر اس قسم کی نظموں میں فیض تخلیقی تھکن سے پیدا شدہ نثریت کا شکار ضرور ہوئے ہیں۔ ان کا ہنر جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے چھوٹے پیمانوں میں اور مختصر کینوس پر اپنی بہار دکھاتا ہے۔ فیض کی شاعری اپنے قاری سے جو رشتہ قائم کرتی ہے وہ فکر سے زیادہ احساس کا رشتہ ہے۔ اسی لیے تصوراتی (conceptual) سطح پر راشد فیض سے آگے ہیں اور راشد کے یہاں بہت نمایاں طور پر اپنی انا کا سایہ گہرا دکھائی دیتا ہے۔ سپردگی کی وہ حجاب آمیز شائستہ کیفیت جس کاانحصار فیض کے تجربوں کی نرم آثاری پر ہے ان کے کسی بھی معاصر کے یہاں اس حد تک نمایاں نہیں ہوئی۔ اس لیے فیض کے ہم عصر شعری منظر نامے پر نظر ڈالتے وقت میں اپنے آپ کو اس تاثر سے الگ نہیں کر سکتا کہ اس دور کے باکمالوں میں میراجی، راشد، اختر الایمان، سردار جعفری میں تقریباً ہر ایک کا رنگ مختلف ہے اور ان کا آپس میں موازنہ کرنا اور ایک دوسرے کے حساب سے ان کے مرتبے کا تعین کرنا معقول بات نہیں ہے۔ ایک ہی عہد کی فضا میں سانس لینے والے شاعر مقابلے کی دوڑ میں شامل کھلاڑی نہیں ہوتے خاص کر اس وقت جب ان کی تخلیقی سر شت جداگانہ ہو اور ان کے ادراک و اظہار کے قرینے ایک دوسرے سے مماثل نہ ہوں۔پھر اگر فیض کے شعری منظر نامے کا مجموعی خاکہ ذہن میں مرتب کیا جائے تو اس کے دائرے میں مختلف ہندوستانی (پاکستانی؟) زبانوں کا ادب اور دنیا کا وہ ادب بھی آجائے گا جو فکر کی سطح پر سماجی وابستگی کا احساس رکھنے والے تمام ادیبوں کی مشترکہ وراثت ہے۔ لور کا لوئی آراگان مائکا فسکی پابلونیر و دا ناظمِ حکمت یوتیشنکومکتی بودھ کسی نہ کسی لحاظ سے ایک ہی منزل کی جستجو میں سرگرداں ایک دوسرے کے ہم سفر بھی کہے جا سکتے ہیں۔ فیض کا اپنے زمانے کے اردو شاعروں میں ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ نیرودا کی طرح ان کی شاعری بھی جادوئی لمس کی غیبی صلاحیت سے بہرہ ور ہوئی ہے اور جس ٹھہری ہوئی بہ ظاہر بے جان شے یا منظر اور مظہر کیفیت کو وہ ہاتھ لگاتے ہیں اس میں جان سی پڑ جاتی ہے۔ 

    شخصیت کا تناظر چاہے مختصر ہو لیکن اگر اس کی سچائی ہے تو اپنا اثر قائم کرنے کے لیے وہ بیرونی سہاروں کی محتاج نہیں ہوگی سچی شخصیت کی طرح سچی شاعری کا بھی ایک اپنا جادو ہوتاہے۔ فیض بڑے شاعر ان معنوں میں تو نہیں کہے جاسکتے جن کے حساب سے ہم کالی د اس، فردوسی، رومی، غالب اور اقبال کا جائزہ لیتے ہیں لیکن اس سطح تک تو ہمارے زمانے کا کوئی دوسرا شاعر بھی نہیں پہنچتا۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ فیض کی شاعری سچی شاعری کی ایک نمائندہ مثال ہے اور اس کا یہ کارنامہ کیا کم وقیع ہے کہ اس نے ترقی پسند شاعری کو بے اعتبار نہیں ہونے دیا اور اسے بہت سی خرابیوں سے بچا لیا۔ اس طرح فیض کی شاعری نے ایک اہم تاریخی رول بھی انجام دیا جس کی قدر و قیمت ہر زمانے میں تسلیم کی جائے گی۔