مظفر علی سید

مظفر علی سید

افسانہ ساز منٹو

    صدرِ محترم جناب اخلاق احمد دہلوی اور معزز خواتین و حضرات:

    کراچی سے لاہور آکر حلقہ اربابِ ذوق کی گولڈن جوبلی کے موقع پر منٹو جیسے باکمال فنکار کے بارے میں باذوق لوگوں سے مخاطب ہونا، میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں اور اس سلسلے میں کار پردازانِ حلقہ، خصوصاً ڈاکٹر سہیل احمد خاں کا تشکر واجب ہے جن کی عنایت سے مجھے اس کا مستحق سمجھا گیا۔

     

    حلقہ اربابِ ذوق سے منٹو کا اور خود اس خاکسار کا تعلق تقریباً ایک ہی زمانے میں رہا ہے یعنی قیامِ پاکستان کے فوراً بعد کے پانچ چھ برسوں میں۔ منٹو اس وقت اپنے فن کے نقطہئ عروج کو چھو رہا تھا اور ہم مبتدیانِ ادب میں شامل تھے۔ منتہی تو خیر اب بھی نہیں کہے جاسکتے اس لیے کہ عشق کی طرح ادب کی بھی کوئی انتہا نہیں۔

    راہ میں تیری شب و روز بسر کرتا ہوں 

    وہی میل اور وہی سنگِ نشاں ہے کہ جو تھا

    اس دوران میں منٹو کے ادبی کمال کی شہرت برِصغیر کی حدود سے گزر کر عالمگیر سطح تک جا پہنچی لیکن منٹو کی ذاتی زندگی کا تانا بانا بکھر کر رہ گیا۔ یہاں تک کہ راہ چلتے کترانے لگے اور بہت سے تو اب بھی اس کے ذکر سے کتراتے ہیں حالانکہ اسے مرحوم ہوئے پینتیس ایک برس ہونے کو آتے ہیں اور کسی مرحوم ادیب سے اتنا دانستہ تغافل برتنے کا یہی مفہوم ہو سکتا ہے کہ وہ اب بھی ایک خطرے کی طرح ہمارے آس پاس منڈلا رہا ہو اور ہم میں اتنا حوصلہ نہ ہو کہ اس کے فن کو اس کے ماحول سے الگ کرکے دیکھ سکیں۔

    میرا یہ مطلب نہیں کہ منٹو پر اس کی جسمانی موت کے بعد لکھا نہیں گیا یا اسے پڑھنا موقوف ہو چکا ہے۔ اگر آپ نقوش سے لے کر دانشور تک ادبی جرائد کے خصوصی شماروں کو نظر میں رکھیں، اس کی منتخب تحریروں پر چھوٹی بڑی کتابوں پر توجہ کریں، دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم کا شمار کریں، اس کے بارے میں لکھی ہوئی کتابوں کا جائزہ لیں اور منتشر مقالات کی فہرست تیار کریں تو شاید آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ منٹو کے معاصرین میں سے کسی ایک پر بشمول کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی اتنا کچھ نہیں لکھا گیا۔ لیکن ہماری یونیورسٹیوں میں اور سرکاری سطح پر منٹو ابھی تک شجرِ ممنوعہ ہے اور سیاسی سطح پر لیفٹ ہو یا رائٹ، علی سردار جعفری ہوں یا نعیم صدیقی، اب تک اسے ایک غلاظت نگار کہتے چلے جاتے ہیں حالانکہ اس کے باہوش اور بالغ نظر قاری ممتاز شیریں کے الفاظ گواہی دیں گے کہ منٹو یقینا فحش نگار نہیں تھا جس طرح شیکسپیئر، ہارڈی اور لارنس، سعدی، رومی اور جامی، سودا، نظیر اور اکبر الہ آبادی فحش نگار نہیں تھے، ان کے کلام پر کتنے ہی نقطے کیوں نہ لگائے جائیں، ساری زندگی اس پر مقدمے چلتے رہے یا چلائے جاتے رہے اور کسی نہ کسی شکل میں اب بھی چل رہے ہیں۔ ان مقدموں نے اس کی زندگی اجیرن کر دی اور وہ ملول ہو کر بار بار خود فراموشی کی طرف لپکتا رہا۔ چنانچہ کہنا پڑتا ہے کہ فن کی دنیا میں وہ جتنا بھی کامیاب رہا ہو ذاتی زندگی میں وہ یقینا ناکام رہا۔ فیض کے الفاظ میں ہمارے دور کے شرفا جنہیں دورِ حاضر کے فنکار کی شکستہ دلی کا نہ احساس ہے نہ کوئی ہمدردی، غالباً یہی کہیں گے کہ منٹو کے انجام میں اس کا اپنا قصور تھا۔ بقول یگانہ

    کون دیتا ہے دادِ ناکامی

    خون فرہاد بر سرِ فرہاد

    اسی طرح یہ کہنا بھی آسان ہے کہ سارا قصور معاشرتی حالت کا تھا۔ دونوں قسم کی توجیہات سادہ لوحی کی مختلف صورتیں جبکہ فیض صاحب کے نزدیک فن اور زندگی کے درمیان پیکار کی صورت میں بہترین راستہ یہ ہے کہ دونوں کو یکجا کر کے جدوجہد کا مضمون پیدا کیا جائے جو صرف عظیم فنکاروں کا حصہ ہے، ان کی رائے میں منٹو عظیم نہیں تھا لیکن بہت دیانتدار، بہت ہنر مند اور راست گو ضرور تھا۔

    ظاہر ہے کہ فیض صاحب بھی منٹو کی جدوجہد سے کماحقہ واقف نہیں تھے۔ لیکن انہوں نے یہ تو بالکل نہیں بتایا کہ منٹو عظیم نہیں تھا، تو پھر ان کے دور میں کسی اور کو یہ حیثیت دی جاسکتی ہے یا نہیں۔ خود کو عظیم کہنا اور کہلوانا اس دور میں بہت عام تھا لیکن ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ فیض صاحب بیسویں صدی میں صرف اقبال کو یہ حیثیت دیتے تھے اور بقول احمد فراز، انہوں نے ایک بار سرخوشی کے عالم میں بھی اپنے آپ کو دوسرے درجے کا ایک اچھا شاعر کہنے سے زیادہ دعویٰ نہیں کیا، یہ ان کا انکسار تھا یا خود آگاہی کا ایک حیران کن کرشمہ لیکن اقبال کی عظمت پر اتنا اصرار بعد میں آنے والوں کا راستہ بھی روک سکتا ہے جیسا کہ پنجاب کی پریس برانچ کے مہتمم اور مشیر خان بہادر چوہدری محمد حسین کی صورت میں ہوا، جو اقبال سے جتنا عشق کرتے تھے، منٹو پر اتنی ہی شدید پرسیکیوشن، انہوں نے روا رکھی، چنانچہ منٹو نے لذتِ سنگ کا انتساب ان ہی کے نام کیا، اقبال ہی کا ایک مصرع لگا کر:-

    مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر

    لیکن اسی پرسیکیوشن کی بہت سی جہتیں ہیں اور اس میں برطانوی سرکار کے اہل کار کے ادبی نظریات کے علاوہ دوسرے عناصر بھی شامل ہیں۔ پنجاب کے اخبار تو چودھری صاحب کی مٹھی میں تھے لیکن دہلی اور بمبئی کے اخبارات نے کس کے زیرِ اثر یہی پرسیکیوشن کیوں اختیار کی؟ اور پھر انجمن ترقی پسند مصنّفین کے عہدے داروں نے یہی رویہ کیوں اختیار کیا۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی اور مولانا ماہر القادری کی مخالفت کو کس کھاتے میں ڈالا جائے جو منٹو کی موت کے بعد مزید شدت اختیار کر گئی اور اب تک ان کے پیروکاروں میں مروّج ہے۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے معلمین اخلاق تو منٹو کو ترقی پسندی کے بنام پر شہید کرتے ہیں اور سکّہ بند ترقی پسند، ترقی پسندی سے انحراف کے نام پر ماسوا جناب صفدر میر کے جو نہ صرف منٹو کو ترقی پسند آرٹ کے بہترین نمائندوں میں شمار کرتے ہیں بلکہ رسمی طور پر بھی اس کو ۶۳ء؁ کے منشور سے متفق بنا دیتے ہیں۔

    اب بھی عام تاثر یہی ہے کہ منٹو کبھی ترقی پسند تنظیم کا حصہ تھا اور بعد میں حلقے کا آدمی بن گیا بلکہ لیزلی فلیمنگ نے منٹو پر اپنی کتاب میں یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ن۔م۔ راشد کے حلقہ اربابِ ذوق میں شامل ہو گیا۔ راشد کا حلقہ کہنا اسی طرح ہے جیسے کوئی کہے کہ مولانا صلاح الدین احمد کا حلقہ یا احمد علی اور اختر حسین رائپوری کی انجمن ترقی پسند مصنّفین۔ منٹو کی موت پر حلقے کی تعزیتی قرارداد اخباروں میں اسی طرح شائع ہوئی، کہ مرحوم اس تنظیم کے بنیادی رکن تھے۔

    ایسے اعلانات بالعموم کسی نہ کسی تنظیمی مصلحت کی بنا پر ادا کیے جاتے ہیں۔ اصل میں منٹو فنکار کی آزادی کا نقیب تھا۔ جہاں تک سماجی، سیاسی رجحانات کا تعلق ہے وہ ۶۳ء؁ کا منشور شائع ہونے سے پہلے بھی اتنا ترقی پسند تھا جتنا کہ آخر دم تک رہا اور جہاں تک فنی اقدار اور انسانی وابستگی کا تعلق ہے تو یہ رجحان بھی اس کے یہاں حلقہ اربابِ ذوق سے پہلے موجود تھا۔ اس کی وابستگی دیوانگی کی حد تک تو پہنچ سکتی تھی، آسودگی کی صورت اختیار نہیں کرتی تھی۔ 

    جس وقت ہمایوں کا فرانسیسی ادب نمبر اور عالمگیر کا روسی ادب نمبر اس نے مہمان کے طور پر ترتیب دیئے، روسی افسانے اور گورکی کے افسانے کتابی شکل میں شائع کیے، اپنے افسانوں اور ترجموں کا مخلوط مجموعہ ”آتش پارے“ طبع کیا اور اس میں شامل اپنی تخلیق ”تماشا“ میں جلیانوالہ باغ کو موضوع بنایا، اس وقت تک دونوں میں سے کوئی تنظیم وجود میں نہیں آئی تھی۔ اس لحاظ سے اس انجمن اور حلقے دونوں کا ہراول کہہ سکتے ہیں اور دونوں کا اتصال بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ عسکری اور ممتاز شیریں کی پاکستانیت اور اسلامیت سے بھی رشتہ خاصا مضبوط ہے اور ان میں سے کوئی رابطہ موقع پرستی کا رابطہ نہیں تھا۔

    حلقے میں اس نے یونس جاوید صاحب کے دیئے ہوئے اعداد و شمار کے مطابق ۰۵ء؁ تک کم و بیش ۷۱ تخلیقات پڑھ کر سنائیں اور کئی مرتبہ دوسروں کی تحریروں پر بحث میں حصہ لیا، کبھی اس نے کسی کو چپ کرا دیا اور کبھی کسی نے اس کو۔ عظیم قریشی جو شہر بھر میں اپنی وارفتگی کے لیے مشہور تھے جب ان کی ایک نظم پر منٹو نے دل لگی کرنا چاہی تو قریشی صاحب نے کہا، منٹو صاحب، سنبھل کے۔ ادب کا معاملہ ہے تو منٹو صاحب واقعی سنبھل گئے لیکن ”سرکنڈوں کے پیچھے“ سننے کے بعد جب مولانا اصلاح الدین احمد نے یوں بات شروع کر نا چاہی کہ ”اصل میں عورت کی نفسیات۔۔۔“ تو منٹو نے ٹوک دیا کہ مولانا اب آپ عورت کی نفسیات سمجھائیں گے؟ مولانا شرما گئے اور محفل محظوظ ہوئی لیکن افسوس کہ مولانا نے افسانے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔

    کہنے کا مطلب یہ ہے کہ منٹو کسی بھی ادبی تنظیم کی پیداوار نہیں تھا نہ کوئی سماجی نہ کوئی سماجی یا ادبی، اشاعتی یا سرکاری ادارہ کسی سچے ادیب کو جنم دے سکتا ہے ادبی اور فکری تنظیم ایک تربیتی کردار یقینا اداکر سکتی ہے اور یہ فریضہ حلقہ اربابِ ذوق نے اپنی آزاد بحث کے ذریعے ضرور انجام دیا ہے اور شاید یونس جاوید صاحب کا یہ کہنا بھی درست ہو کہ خود منٹو نے اس بحث سے کچھ نہ کچھ حاصل ضرور کیا ہوگا لیکن اس کی سیاسی تربیت اس سے بہت پہلے باری علیگ کے ہاتھوں امرتسر میں ہو چکی تھی جنہوں نے اسے تحریرو تصنیف کے راستے پر ڈالا ورنہ بقول منٹو:

    ”ہوسکتا ہے کہ میں ایک غیر معروف آدمی کی حیثیت سے مر کھپ گیا ہوتا یا چوری ڈکیتی کے جرم میں لمبی قید کاٹ رہا ہوتا۔“

    ۲ <br />  <br /> ُٓاپنے معاصرین  میں   منٹو کا پہلا امتیاز یہ ہے کہ اس کی جدوجہد، داخلی اور خارجی دونوں  جہتوں  پر محیط ہے ۔  جہاں  وہ اشک کے الفاظ  میں   اپنے دور کا سب سے بڑا باغی ہے، وہاں  وہ عسکری کے الفاظ  میں   اپنے آپ سے مصروفِ جنگ ہے ۔  بعض اوقات یہ دونوں  قسم کی جدوجہد اس طرح بہم پیوست ہو جاتی ہے کہ اسے محض داخلی کہا جاسکتا ہے نہ خارجی ۔  دوسرے لفظوں   میں   وہ ایک ایسا انقلابی ہے جو سماجی اور انفرادی دونوں  سطحوں  پر انقلاب لانا چاہتا ہے اور اس کے باوجود انقلاب کی ضرورت اور اس کے نتاءج پر تنقیدی رویہ بھی اختیار کر سکتا ہے ۔  <br />  <br /> جنس اور سیاست کے رجحانات اس کے یہاں  شروع شروع  میں   متبادل روّیوں  کے طور پر آتے ہیں  ۔  ’’تماشا‘‘ اور ’’انقلاب پسند‘‘ اور ’’نیا قانون‘‘ لکھنے والا دوسرے عالم  میں   ’’پھاہا‘‘ اور ’’بلاوَز‘‘ اور ’’دھواں ‘‘ بھی لکھتا ہے ۔  جو لوگ ایک طرح کے افسانے پسند کرتے ہیں  چاہتے ہیں  لکھنے والا اسی طرح کے افسانے لکھتا رہے لیکن ’’کالی شلوار‘‘ اور ’’ہتک‘‘ اور ’’بو‘‘ کس قسم کے افسانے ہیں ;238; عام طور پر ان کو جنسی افسانے سمجھا جاتا تاہم ’’کالی شلوار‘‘ پر جنگ کا سایہ کتنا گہرا ہے اور ’’ہتک‘‘ کا جنسی مفت خورا پولیس کی وردی  میں   کیوں  آتا ہے;238; سجاد ظہیر صاحب ’’بو‘‘ پر وہی اعتراض کرتے ہیں  جو پریس برانچ والوں  کو تھا لیکن وہ اس کے طبقاتی تقابل کو کیوں  نہیں  دیکھتے;238; اور اتنی سی بات اس دور  میں   کسی نے کیوں  نہ سوچی کہ کسی ادب پارے  میں   جنس اور سیاست کا اجتماع ہوتو مقدمہ بہرحال جنس کی بنیاد پر ہی چلے گا جیسے علی گڑھ  میں   طالب علمی کے دوران جب اس کے باغیانہ خیالات علم  میں   آئے اور ٹی ۔ بی کے جراثیم بھی پائے گئے تو حفظانِ صحت کی بنیاد پر اسے کتنی آسانی سے نکال دیا گیا ۔  <br />  <br /> سوال یہ بھی ہے کہ کیا منٹو کو اپنی اس قانونی کمزوری کا علم نہیں  ہے ۔  کہا جاتا ہے کہ اس نے جنسی افسانے ضد کی بنا پر لکھے کیونکہ اسی بناپر اس کے خلاف کارروائی کی گئی ’’نیا قانون‘‘ پر مقدمہ چلتا تو وہ صرف سیاسی افسانے لکھتا ۔  لیکن سیاسی افسانے اس نے کب نہیں  لکھے;238;شاید آخری دور  میں   کم لکھے ہوں  لیکن اس وقت بھی اس نے جو خطوط ’’چچا سام کے نام‘‘ لکھے وہ افسانے نہ سہی، ہیں  تو منٹو ہی کی تحریر ۔  <br />  <br /> تخلیقی فنکاری کا کمال یہ ہے کہ متصادم رجحانات مجتمع ہو جائیں  ۔  فکری سطح پر ان کا اجتماع نسبتاً آسان ہے اسی لیے فرینکفرٹ سکول کا فلسفہ پہلے پیدا ہوا اور میلان کنڈیرا کے ناول بعد  میں   آئے ۔  منٹو کے بعد نئے افسانے  میں   انقلابی فکر کے لیے انقلابی اسلوب اختیار کرنے پر اصرار ہوا لیکن منٹو  میں   یہ اجتماع پہلے سے موجود تھا ۔  اسی جیسے منٹو کے دور  میں   منٹو کے سوا کسی اور لکھنے والے اساطیر سے کوئی دلچسپی نہیں  تھی ۔  روسی ادب کے پڑھنے والے فرانسیسی ادب کو بہت پڑھتے تھے اور اسی طرح بالعکس ۔  <br />  <br /> کرشن چندر نے منٹو کی ’’ہتک‘‘ کو اپنی جگہ اردو کی بہترین کہانی کہا ہے ۔  یہ بھی کہ ’’ میں   نے روسی شاہکار یا ما بھی پڑھا ہے اور اس موضوع پر کئی ایک فرانسیسی کہانیاں  بھی پڑھی ہیں  لیکن ہتک کی ہیروئن کی ٹکر کا ایک کردار بھی مجھے ان ناولوں  اور افسانوں   میں   نظر نہیں  آیا ۔ ‘‘ وہ منٹو کی اس کہانی  میں   افسانہ نگار کے بے دردی اور سفاکی کا ذکر بھی کرتے ہیں  اور یہ بھی کہ ’’اس بدصورت خاکے کا ہر رنگ بدصورت ہوتے ہوئے بھی ایک نئے حسن کی تخلیق کرتا ہے ۔  طواءفیت سے محبت نہیں  ہوتی ۔  سوگندھی اور اس کی زندگی پر رحم بھی نہیں  آتا ۔  لیکن سوگندھی کی معصومیت اور عورت پنے پر اور اس لیے زندگی اور اس کی چاہت اور اس تخلیق پر اعتقاد پیدا ہوتا ہے اور یہی سچے اور لافانی ادب کا جوہر عظیم ہے ۔ ‘‘ <br />  <br /> کرشن چندر کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ منٹو ادب  میں   حسن نہیں ، اقلیدس کا قائل ہے، ہرچیز نپی تلی رکھتا ہے، وہ اپنے استعماروں  کے مفہوم، تاثر اور حدود اربعہ سے بخوبی واقف ہے اور لاشعوری حُسنسے  نہیں ، ایک متعین ترتیب اور جیومیٹری کی اشکال سے تاثر پیدا کرنا چاہتا ہے اور اکثر اوقات رومانیت پسندوں  سے کہیں  زیادہ کامیاب رہتا ہے ۔ ‘‘

    لیکن رومانیت پسندوں  کی اپنی مشکل ہے جہاں  کسی طواءف کا ذکر آیا، ان کی رال ٹپکنے لگتی ہے اور منٹو کے یہاں  رنگینی نہیں  ملتی تو سوگندھی کا استعارہ بھی سمجھ  میں   نہیں  آتا ۔  کرشن چندر کے بعد بلراج منیرا کے ’’شعور‘‘ کا سوگندھی نمبر اسی ایک استعارے کی تشریح پیش کرتا ہے، پھر بھی لگتا ہے کہ اس کی گرہیں  پوری طرح نہیں  کھل پائیں  ۔  اسی افسانے کی تحریر کے زمانے  میں   ندیم کے نام منٹو کے خطوط سے پتا چلتا ہے کہ اس کی ایک ذاتی جہت بھی ہے، سماجی اور سیاسی جہت تو سامنے کی بات ہے لیکن اس کی ایک حکیمانہ جہت جس طرف کرشن چندر نے اشارہ کیا ہے اس کا اہم ترین نکتہ ہے ۔  <br />  <br /> منٹو نے ایک جگہ گورکی کو حکیم لکھا ہے، جیسے اقبال نے ٹالسٹائی کے لیے یہی لقب برتا تھا ۔  مشرقی روایت  میں   فردوسی، اور نظامی اور سعدی کے لیے یہی لفظ صدیوں  تک استعمال ہوتا رہا ۔  اور یہ لوگ اپنے وقت کے بہت بڑے افسانہ نگار تھے ۔  لیکن آج ہم منٹو;207; یا بیدی;207; بلکہ انتظار حسین اور انور سجاد کو بھی حکیم لکھ دیں  تو لوگ ہنسیں  گے، ان پر بھی اور ہم پر بھی ۔  درست ہے کہ لفظوں  کے معنے بدلتے رہتے ہیں  لیکن یہ بات کہ فن افسانہ نگاری کی ایک فکری جہت بھی ہوتی ہے جو اس کی تہہ داری کا تعین کرتی ہے، تقریباً فراموش ہوچکی ہے ۔  ہمارے زمانے  میں   ایک طرف سطحی اور تفریحی افسانہ ہے اور دوسری طرف بھاری بھر کم مقالہ نما ضد افسانہ (اینٹی سٹوری) جس  میں   دانشوری تو بہت بگھاری جاتی ہے لیکن حکمت اور بصیرت بہت کم ہوتی ہے ۔  <br />  <br /> غالب نے کہا ہے کہ داستاں  طرازی منجملہ فنونِ سخن ہے ۔  غالب کے شارح نظم طباطبائی کے نزدیک شاعری کی معراج یہ ہے کہ افسانہ بن جائے لیکن ہم بیانیہ کے فن کی تہہ داریوں  سے قطع نظر کرتے ہیں  اور ’’واقعیّت‘‘ یا حقیقت پسندی کا صرف اتنا مفہوم سمجھتے ہیں  اس  میں   سماجی حقیقت مشاہدے کی سطح پر دیکھی اور دکھائی جاتی ہے ۔  یعنی رئیلزم کہا جاتا ہے کہ منٹو ایک حقیقت پسند تھا جو کچھ دیکھتا لکھ دیتا تھا لیکن کیا وہ متخیلہ کی قوت سے کام نہیں  لیتا تھا یا سرے سے یہ قوت ہی نہیں  رکھتا تھا یا پھر ہمارے نزدیک افسانہ نگاری حقیقت نگاری بن جائے تو افسانہ نہیں  رہتی ۔  <br />  <br /> منٹو میں   شعور و دانش کی سطح خاصی مضبوط تھی اور معروضی مشاہدہ بھی غضب کا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہ میں   یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ شعور و دانش سے افسانہ بن سکتا تو ہمارے زمانے  میں   کیوں  نہ بن جاتا;238; معروضی مشاہدہ سوشل سائنس والوں  کا خصوصی طریق کار ہے لیکن وہ منٹو نہیں  بن سکتے ۔  اس لیے کہ ان کا مشاہدہ، مجاہدہ نہیں  بننے پاتا ۔  وہ معروض کو دیکھنے والے کی نفسیات سے الگ کر دیتے ہیں ، ان کے یہاں  خارج خارج ہی ہے، داخل  میں   کچھ بھی نہیں  ۔  افسانہ نگار کی قوت متخیلہ اشیاء کے ظاہر ہی کو نہیں  دیکھتی، اشیاء کے باطن کو بھی دیکھتی ہے اور اپنے باطن کی شناخت اشیاء کے حوالے سے کرتی ہے ۔  افسانے کا فن ایک تخیلاتی فن ہے ۔  افسانہ نگار محض اپنی سرگزشت نہیں  سناتا، قابلِ تصدیق سچی کہانیاں  نہیں  کہتا لیکن اس طرح سناتا ہے کہ کسی تصدیق کی ضرورت محسوس نہیں  ہوتی اور نہ کسی خارجی شہادت کی ۔  <br />  <br /> لوکاچ نے کتنی پتے کی بات کہی ہے، رئیلزم کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ افسانہ نگار کا تخیّل، تعقّل سے جا ملے ۔  یہ نہیں  کہ آپ کوچہ و بازار  میں   تلاش کرتے پھریں  کہ فلاں  فلاں  چیز کہاں  پائی جاتی ہے ۔  سید عابد علی عابد نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ سوگندھی جو کام کرتی تھی اس  میں   تو قدم قدم پر عورت کی توہین ہوتی ہوگی پھر وہ اتنی سیخ پا کیوں  ہوئی;238; لیکن منٹو نے سوگندھی کی زندگی کا وہ لمحہ منتخب کیا ہے جب یہ تجربہ اسے پہلی بار ہوا اور اس کے بعد اس کی آنکھیں  کھلنے لگیں ، کوئی بھی انسانی تجربہ ہو، پہلی بار ایک مرتبہ تو آئے گی ہی ۔  اسی طرح اشک نے اعتراض کیا ہے کہ ’’خوشیا، حقیقی کردار نہیں  ۔  مصنف کے دماغ کی اختراع ہے پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں   میں   نے تو اس بازار  میں   کبھی جھانک کر نہیں  دیکھا لیکن میرے ایک دوست جو ایک زمانے  میں   وہاں  کی باقاعدہ سیر کیا کرتے تھے بتاتے ہیں  کہ بھڑوے ایسے نہیں  ہو سکتے، یہ بھی کہ ان دنوں  کسی چیز پر اتنی سنجیدگی سے غور کرنے کی عادت نہ تھی اس لیے جو منہ میں   آیا کہہ دیا پھر بھی وہ زد کرتے ہیں کہ حقیقی دنیا  میں  ایسا نہیں  ہوتا جبکہ افسانے کی حقیقی دنیا سے انہیں  براہِ راست کوئی واقفیت بھی نہیں  ۔  منٹو تلملا کر بولا’’ہاں ، ہاں   میں   وہ دلال ہوں ، منٹو وہ دلال ہے، لیکن تمہیں  افسانہ نویسی کا علم بھی ہے;238;‘‘ <br />  <br /> شاید ایسے ہی مواقع پر فلوبئیر نے کہا تھا ’’ میں   خود ہی مادام بواری ہوں  ۔ ‘‘ <br />  <br /> ہمارے محترم وزیر آغا لکھتے ہیں  کہ منٹو نے صرف ایک محدود سے میدان کو اپنے لیے منتخب کیا ہے بلکہ زندگی کو بھی غسل خانے کے روزن سے دیکھا تھا چنانچہ اسے زندگی کا صرف ایک خاص پہلو ہی نظر آیا لیکن اس  میں   بھی شک نہیں  کہ اس خاص پہلو کی عکاسی  میں   منٹو نے دیانت، خلوص اور گہری نظر کا ثبوت دیا ۔  <br />  <br /> اس کے بعد وہ منٹو کو انکشاف و عرفان کے مراحل سے نا آشنا بتاتے ہیں  اور زندگی کے مخفی کروٹوں  کا نباض نہیں  سمجھتے ۔  ساتھ  میں   یہ بھی کہ ایسا خود آغا صاحب کی بجائے قاری صاحب کو محسوس ہوتا ہے جن کا نام معلوم نہیں  ۔  <br />  <br /> اس مضمون  میں   آگے چل کر وہ یہ بھی کہہ دیتے ہیں  کہ (ایک صاحب) رحمان مذنب نے اپنے لیے وہ میدان منتخب کیا تھا جو منٹو کا تھا لیکن ایک مضبوط گرفت نیز وسیع تر پس منظر کو ملحوظ رکھ کر اس خاص میدان  میں   منٹو کی نسبت بہتر فن کا مظاہرہ کیا ہے ۔  اس میدان کو وہ طواءف کے کردار سے پیش کش سمجھتے ہیں  حالانکہ منٹو کو شورش کاشمیری کی طرح بقول عبدالمجید سالک ’’انسائیکلوپیڈیا رنڈیکا‘‘ نہیں  کہا جاسکتا ۔  ۔  اس نے تو کرشن چندر کے الفاظ  میں   استعارے تخلیق کئے ہیں ، جن کی معنویت معلوم کرنا علامت پسندی کی تبلیغ کرنے والوں  کے لیے لازمی ہے ۔ 

    یہ بات کہ منٹو کی دنیا محدود ہے، منٹو کو کوئی ذمہ دار قاری نہیں  کہہ سکتا پھر بھی کئی لوگوں  نے یہ بات کہی ہے اور کئی مرتبہ اس کا جواب بھی دیا جا چکا ہے ۔  یہ درست ہے کہ بہت سے لوگ اس کے وہی افسانے پڑھتے ہیں  جن پر مقدمے چلے یا بار بار انتخاب  میں   آئے ۔  لیکن اس کے علاوہ منٹو کے دو ایک سو افسانے اور بھی ہیں  جن  میں   طواءف یا بھڑوے پیش نہیں  کیے گئے ۔  جس قاری نے تماشا، نعرہ، نیا قانون، آم، سوراج کے لیے، پڑھیے کلمہ، ترقی پسند، فرشتہ، نکی، خالد میاں  اور ٹو بہ ٹیک سنگھ اور ٹیٹوال کا کتا جیسے افسانوں  کو نہیں  پڑھا، پڑھنے کے بعد ان کو بھی منٹو کا خاص میدان نہیں  سمجھا، آپ کہہ سکتے ہیں  کہ وہ منٹو سے واقف نہیں  ۔  یہ بھی کہ جس قاری نے دھواں ، کالی شلوار، ہتک، بو، بابو گوپال ناتھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، موذیل، ممی، ننگی آوازیں ، سرکنڈوں  کے پیچھے اور پھندنے کو جنسی افسانے سمجھ کر پڑھا ہے ۔  جنس اور افسانہ دونوں  کے بارے  میں   اس کی رائے محل نظر ہے ۔  <br />  <br /> دھواں  کے سلسلے  میں   سب سے پہلے ڈاکٹر رشید جہاں  کو شکایت پیدا ہوئی تھی کہ نہایت غلیظ ہے ۔  منٹو نے اپنے افسانے کے ’’عملِ جراحی‘‘ کی طرف توجہ دلائی اور یہ بھی واضح کیا کہ میں   نے اس بے نام سی لذت  میں   جو مسعود کو محسوس ہو رہی تھی خود کو یا قارئین کو کہیں  شریک نہیں  کیا ۔  انتظار حسین نے ناصر کاظمی کے ساتھ ایک مکالمے کے دوران دھواں  کو ادب ماننے سے انکار کردیا معلوم نہیں  کس وجہ سے;238; شاید اس لیے کہ اس وقت تک انہوں  نے ’’نرناری‘‘ جیسا افسانہ نہیں  لکھا تھا، دوبارہ پڑھ کے دیکھیں  تو ممکن ہے رائے تبدیل کرنی پڑے ۔  حال ہی  میں   بقول خود منٹو کے دشمن اشک صاحب کو یہ بات سن کر تعجب ہوا کہ وہ ’’دھواں ‘‘ کو ایک نازک افسانہ سمجھتے ہیں  ۔  خوشیا کے بارے  میں   ان کی رائے اس لیے صائب نہیں  تھی کہ تخلیقی حقیقت نگاری کے تقاضوں  کے مطابق نہیں  تھی ۔  لیکن یہ رائے اس لیے درست ہے کہ منٹو کے اسلوبِ بیان اور لہجے کا تعین کرتی ہے ۔  <br />  <br /> اس بات پر بھی خاصی توجہ صرف کی گئی ہے کہ منٹو کے چند مشہور یا بدنام افسانوں   میں   طواءف کی تکرار کیوں  ہے اور وہ جنس زدہ کیوں  ہے;238; ہندوستان کے ایک نفسیات دان ڈاکٹر محمد محسن اور ہمارے یہاں  انیس ناگی صاحب اپنے اپنے طور پر تقریباً ایک ہی نتیجے پر پہنچے ہیں  کہ اس کے پس پردہ منٹو کے بچپن کا ماحول ہے اور باپ کی نسبت ماں  سے زیادہ ہمدردی ۔  اس سادہ دلانہ تعبیر سے ایک تو یہ معلوم نہیں  ہوتا کہ اس  میں   منٹو کی تخصیص کیا ہے ۔  دوسرے منٹو کے والدین کے سلسلے  میں   ہم جو کچھ جانتے ہیں  منٹو کے ذریعے جانتے ہیں  اس لیے بات وہیں  کی وہیں  رہتی ہے کہ آپ نے ایسی کون سی چیز دریافت کی جو منٹو کے شعور  میں   نہیں تھی ۔  یا اس کے پڑھنے والے اس سے بے خبر تھے تاہم اس سے اتنا معلوم ہو سکتا ہے کہ منٹو نے جو افسانے لکھے ہیں  کسی نہ کسی نفسیاتی کمٹمنٹ کے ساتھ لکھے ہیں  ۔  لیکن پتا نہیں  چلتا کہ جوتجزیاتی انداز اور کٹیلا پن اس کے بیانیہ اسلوب  میں   پایا جاتا ہے، اس کی توجیہہ کیسے ہو;238; منٹو کو بالعموم موپاساں ، اوہنری اور سمر سٹ کا مقلد بتایا جاتا ہے، ان  میں   سے اوہنری او ہم سے اس کی مشابہت بہت تھوڑے افسانوں  تک محدود ہے اور اس کے کسی بھی اہم افسانے  میں   نہ تو اوہنری کی میکانکی فارمولائی ساخت ملتی ہے اور نہ باہم مردم بیزاری اور منفیت ۔  منٹو ایک بے درد اور سفاک حقیقت نگار ضرور ہے لیکن اس کے متعدد افسانوں  کی تہہ میں   ایسی عمیق اور نازک دردمندی پائی جاتی ہے جو رقیق القلب قسم کے جذباتی افسانہ نگاروں   میں   نہیں  ملتی ۔  بابو گوپی ناتھ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے افسانوں   میں   بظاہر مرکزی کردار کے ساتھ استہزائی لہجہ روا رکھا جاتا ہے لیکن بالآخر جب شخصیت کی پرتیں  کھلتی ہیں  تو ان کا دکھ ہمارا دکھ بن جاتا ہے ۔  ظہیر دہلوی نے داستانِ غدر  میں   ایک جگہ پٹیالہ سرکار کے ایک لکھ لٹ راجکمار کا ذکر کیا ہے جو ہرسال دہلی  میں   ایک چھوٹا موٹا دربار لگاتا تھا اور اس کے بعد فقیر بن بیٹھتاتھا حتیٰ کہ اس کے بھائی بند آ کر اسے لے جاتے تھے ۔  بابو گوپی ناتھ نہ تو ایسا خود فریب ہے نہ کوئی محفوظ آدمی ۔  فریب کھانے کا جو انداز اس نے دیدہ دانستہ اختیار کیا ہے اس  میں   کسی رشی مُنی کی جھلک پڑتی ہے ۔  منٹو کو طالسطائی اور بیدی کو پریم چند کی مہماتمائی سے الجھن ہوتی تھی مگر دونوں  کے کردار خدمتِ خلق کے ذریعے بخود مہاتمائی کے درجے تک پہنچ جاتے تھے مگر وہ کوئی اپدیش نہیں  دیتے اور یہی فرق نئی اور پرانی فکشن کا ہے کہ یہاں  حکمت، حکایت کے اندر کچھ اس طرح جذب ہوجاتی ہے کہ نہ تو لاگ سے بتانی پڑتی ہے اور نہ سطح اتنی قریب ہوتی ہے کہ الجھن ہو ۔  <br />  <br /> یوں  سطح کے الجھاوے منٹو کے یہاں  بہت کم ملتے ہیں ، کم ہی کسی نے ایسی شفاف اور بلاواسطہ اور اس کے باوجود ایسی کٹیلی اور نوکیلی نثر لکھی ہو ۔  منٹو نثر نگاری کا کمال اس کی افسانہ سازی کا لازمی حصہ ہے کہ افسانے  میں   جو کچھ لکھا جاتا ہے نثر کے ذریعے ہی لکھا جاتا ہے، شاید اسی لیے افسانے اور شاعری کی جدائی لازمی تھی کہ صوتیاتی ترنم اور شاعرانہ تراکیب کے تقاضوں   میں   افسانے کی رفتار کو قائم رکھنا بہت مشکل ہے ۔  اُردو  میں   بھی کم مثنویاں  ہیں  جو بیانیہ کا واقعاتی سانچہ کم سے کم الفاظ  میں   قائم رکھ سکیں  اور اس کے باوجود نہ مطالب کی کھینچ تان ہو نہ لفاظی کی ۔  نظم چھوڑ کے یہ بات تو یلدرم اور نیاز کی نثر کے لیے بھی کہی نہیں  جاسکتی اور پریم چند  میں   سادگی ہے بھی تو اس  میں   زورِ بیاں  کی کمی محسوس ہوتی ہے ۔  شاید منٹو اور بیدی دونوں   میں   مایوس ہو چکے ہوں  گے ۔  <br />  <br /> بالعموم منٹو کا افسانہ ایک جہاں  دیدہ اور گرگ باراں  چشیدہ شخص کا تصور پیدا کرتا ہے ۔  یہ افسانہ سازی کا کمال ہے کہ وہ ان دیکھی اور ان بیتی کو بھی دیکھی بھالی اور سر پر بیتی بنا کے ایسی بے ساختگی سے پیش کرے کہ انشاپردازی کا گمان بھی نہ گزرے ۔  اس نے کہا ہے کہ میں   عورتوں  سے زیادہ واقف نہیں ، ایک خاص طبقے کی عورتیں   میں   نے دیکھی ہیں  اور ان کے بارے  میں   چند افسانے لکھے، باقی جو کچھ ہے دماغی عیاشی ہے لیکن اس کے باوجود اس کے یہاں  بھی اتنی لذتیت نہیں  جتنی مثلاً عصمت چغتائی کے یہاں  ہے ۔  ’’بو‘‘ کے پہلے حصے  میں   جو سرشاری ہے، وہ دوسرے حصے کے ساتھ تقابل کے لیے نہایت ضروری تھی ۔  <br />  <br /> پھر بھی حیرانی کی بات ہے کہ منٹو، عورت کے انسانی حقوق کا بے حد خیال رکھتا ہے اتنا کہ شاید عورتیں  بھی نہ رکھتی ہوں  ۔  چند ایک بے درد اور سفاک عورتیں  بھی اس نے تخلیق کی ہیں  جو شیطان کی بھی خالہ معلوم ہوں  ۔  ’’پڑھیے کلمہ‘‘ کی رکما اور ’’سرکنڈوں  کے پیچھے‘‘ کی حکومت آسانی سے ہضم ہونے والی مخلوقات نہیں  لیکن جس تخیل نے انہیں  تخلیق کیا ہے وہ کوئی یک تہہ قسم کا نعرے باز نہیں  تھا ۔  کیا وہ عورت سے خوف کھانے لگ گیا تھا، اس کی توجیہہ یہاں  اور وہاں  کسی ماہرِ نفسیات یا شوقیہ نفسیات داں  نے نہیں  بتائی ۔  ممتاز شیریں  نے البتہ عورت کی اساطیری تصویر ’’کالی ماتا‘‘ اور مغرب کے بعض ادب پاروں   میں   پیش کردہ ابلیس نما عورت کی مثالیں  پیش کی ہیں  ۔  یوں  بھی ابلیس کا اثر سب سے پہلے حوا پر ہی ہوا تھا اور ’’حجرہ بفت بلا‘‘ کی عورت بھی سب جادوگروں  سے بڑھی ہوئی تھی ۔  پہلے کہا جا چکا ہے کہ منٹو کو اساطیر سے دلچسپی تھی لیکن کیا یہ عورتیں  محض اساطیری ہیں ;238; ہیں  بھی تو ان کو اساطیری انداز  میں   پیش کرنے کی بجائے ایک عصری صورتحال کے حیران کن لیکن لازمی عنصر کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔  یوں  لگتا ہے جیسے منٹو نے انہیں  اپنی آنکھ سے دیکھا ہے اور ان کے ہاتھوں  خود بھی مقتول ہوتے ہوتے بال بال بچاہے ۔  <br />  <br />  <br />  <br /> ۴ <br />  <br /> یہ بھی کہا جاتا ہے کہ منٹو نے یوں  تو ڈرامے اور خاکے، مضامین اور ترجمے بھی خاصے لکھے ہیں  لیکن اس کا خاص کمال مختصر افسانہ کا فن ہے جو بقول شمس الرحمن فاروقی چاول کے دانے پر قل ہو اللہ لکھنے کا باریک ہنر ہے یا زیادہ سے زیادہ رباعی کی طرح کی ایک صنفِ کلام ۔  کچھ مہینے ہوئے عبداللہ حسین نے بتایا کہ انہوں  نے حال ہی  میں   چیخوف کو تسلسل سے پڑھا ہے اور مختصر افسانے  میں   کمالِ فن حاصل کرنے کی مشکلات کا اندازہ کیا ہے ۔  ایسا ہی اندازہ ان سے پہلے ٹامس مان نے بھی کیا تھا اور اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ ایک عمدہ اور زور دار افسانہ ایک عمدہ اور زور دار ناول لکھنے سے شاید زیادہ ہی مرتبے کا حامل ہو لیکن اس  میں   کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں  ۔  کونریڈایکن نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ چیخوف کے بہت سے افسانے مل ملا کر ایک نئی وحدت بناتے ہیں  اور مجموعی طور پر ایک ایسا تنوع پیش کرتے ہیں  جو شیکسپیئر کے سوا شاید ہی کہیں  پایا جاتا ہو ۔  <br />  <br /> منٹو نے بھی کہا ہے وہ افسانے کے فن کو بے حد کڑا سمجھتا ہے اور بقدرِ کفایت الفاظ کو برتنے کی صلاحیت بڑی مشکل سے پیدا ہوتی ہے اور ہر مرتبہ اس کے لیے نئی جنگ لڑی جاتی ہے لیکن یہ جنگ وہ اپنے دفاع  میں   لڑتا ہے، افسانہ لکھتے ہوئے اس کی روانی  میں   بہت کم کوئی رخنہ پیدا ہوتا تھا اور وہ فلوبئیر کی طرح کسی تفصیل کو گرفت  میں   لانے کے لیے طویل عرصے تک رکتا بھی نہیں  تھا ۔  صحافیانہ اور نشریاتی تربیت اور تجربے نے اسے یہ مثبت بات سکھائی تھی کہ ڈیڈ لائن، انسپائر بھی کر سکتی ہے اور اپنی قائم کی ہوئی نہایت قریب کی ڈیڈ لائن سے پہلے ہی اس کا افسانہ مکمل ہو جاتا ہے ۔  جیسا کہ کسی مشین سے برآمد ہوا ہو ۔  لیکن اس کے باوجود یہ افسانے کسی مشینی فارمولے یا طریقِ کار سے برآمد نہیں  ہوتے تھے، اس کے تخیل کی تہوں   میں   لڑنے بھڑنے کے بعد ترتیب اور تنظیم کے ساتھ باہر نکلتے تھے ۔  <br />  <br /> لیکن جب منٹو کی اپنی نظم حیات  میں   انتشار پیدا ہوا تو کیفیت خال خال ہی برقرار رہ سکی اور وہ کسی قسم کے دباوَ  میں   آکر اپنے طریقِ کار کو میکانکی بنانے لگا، پھر بھی جب صفیہ نے اس کی مے نوشی پر تہدید کرتے ہوئے یہ کہا کہ اس مردود کے زیرِ اثر آپ نے افسانے بھی بہت خراب لکھے ہیں  تو اس نے کہا: فکر نہ کرو صفیہ، میرے دس بارہ افسانے ہمیشہ زندہ رہیں  گے ۔  ظاہر ہے کہ ہمیشہ کی شرط ہو تو دس بارہ افسانے مستقلاً وہی دس بارہ نہیں  رہ سکے ۔  منٹو کے اچھے افسانوں  کی تعداد کتنی ہے یہ بھی وہی بہتر نشتر والا مضمون ہے کہ جب کوئی پھڑکتا ہوا شعر سنایا جاتا ہے تو سننے والے کہتے ہیں  یہ بھی انہیں   میں   سے ایک ہے ۔  <br />  <br /> ویسے منٹو کے متعدد افسانے کے گروہ بن چکے ہیں  ۔  فن کے لحاظ سے اور مقامی فضا کے لحاظ سے ۔  کئی افسانے امرتسر کی کوئی نہ کوئی تصویر پیش کرتے ہیں ، جو جلیانوالہ باغ سے شروع ہوئی ہے جب منٹو چھ سات سال کا رہا ہوگا ۔  ’’تماشا‘‘ اس کا ابتدائی افسانہ ہے لیکن یہ ایک طیارے سے شروع ہوتا ہے جو اپنی جگہ ایک یادگار چیز ہے ۔  کیا انگریز نے اپنی رائل ایئر فورس کے طیارے ۹۱۹۱ء  میں   یہاں  بھی استعمال کیے تھے;238; مجھے لگتا تھا کہ شاید خونی آندھیوں  اور کتوں  کے بھونکنے کی طرح یہ بھی منٹو کا تخیل ہو لیکن جلیانوالہ باغ اور فضائی تاریخ کی دستاویزات سے معلوم ہوا کہ ننھے خالد جو طیاروں  کو ہراس پھیلاتے اور تہدیدی اشتہار گراتے دیکھا تھا وہ ایک تاریخی واقعہ تھا ۔  حالانکہ باری صاحب نے لکھا کہ اس افسانے کا محل وقوع امرتسر کی جگہ ماسکو نظر آتا ہے ۔  <br />  <br /> 

    ’’سوراج کے لیے‘‘ کا محلِ وقوع بھی پہلے حصے  میں   اس زمانے کا امرتسر ہے جس کی کھوکھلی انقلابیت کی تصویر منٹو نے شدید استہزائی لہجے  میں   کھینچی ہے ۔  منٹو اس افسانے سے خوش نہیں  تھا کہ اس کے خیال  میں   بابا جی کی صورت  میں   گاندھی جی کی شخصیت پوری طرح اس کی گرفت  میں   نہیں  آسکی ۔  لیکن ایسا ایک طویل افسانے  میں   بھی شاید نہ ہو سکتا ۔  ۹۱۹۱ء کے گاندھی کو ۶۴۹۱ء  میں   گرفت  میں   لانا مشکل تھا ۔  اوّل تو افسانہ نگار مسلمان اور پھر گاندھی کی ستیاگرہ اور عدم تعاون کو ایک حقیقت پرست کی نظر سے دیکھنا ۔  یہی بات ہے کہ گاندھی کی جو شبیہ بڑے احترام سے اور زیرِ لب تنقید کے ساتھ یہاں  پیش کی گئی ہے وہ اپنی جگہ یادگار ہے ۔  البتہ ستیاگرہ کا جو جذباتی اثر ایک نوجوان جوڑے پر ہوا، اور باہمی آسودگی کی بجائے ہر شے کے ربڑ بن جانے کا جو عذاب انہوں  نے دیر تک سہا وہ انسانی فطرت کے خلاف بغاوت کا انجام بھی دکھاتا ہے اور ملکی آزادی کے اتنی دیر ملتوی رہنے کی توجیہہ کا اشارہ بھی کرتا ہے ۔  <br />  <br /> منٹو کے بھانجے مرحوم حامد جلال جو منٹو کے مترجم تھے اور اس کی شخصیت کے بقول فیض ایک سخت گیر محتسب بھی، انہوں  نے بتایا کہ امریکہ میں   کئی پروفیسروں  اور ادیبوں  سے منٹو کے جو افسانے بحث  میں   آئے ان سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک ’’سوراج کے لیے‘‘ مختصر یا طویل افسانے کا مناسب موضوع نہیں  تھا اور اسی لیے اس کا ترجمہ شاءع نہیں  ہوا ۔  لیکن افسانہ اپنی جگہ مکمل ہے اور انتہائی استہزائی لہجے کو انتہائی ہمدردی اور فنی مہارت اور ڈرامائی کیفیت کے ساتھ منتقل کرتا ہے ۔  اس کی فلم تو کوئی سویڈن یا فرانس کا جیالا ہی بنا سکتا ہے لیکن یہاں  منٹو کے متخیلہ نے جس طرح متحرک تصویری انداز جو اپنایا ہے اور جس طرح ہجوم کو فضا بنانے کے لیے استعمال کیا ہے وہ کوئی نیا سرگئی آئزنسٹائن اور میخائل پپدوفکن ہی پیش کر سکے تو کر سکے لیکن شہزادہ غلام علی کے نفسیاتی احتجاج کی تصویر شاید کوئی روسی فلم ڈائریکٹر گورباچوف کے گلاسنوسٹ  میں   بھی نہ کھنچ سکے کہ آخر ہندو روس کے تعلقات بھی تو ہموار رکھنے ہیں  ۔  <br />  <br /> ہمارے محترم رالف رسل صاحب نے اردو کے افسانہ نگاروں  پر ترس کھاتے ہوئے ناول کی بجائے افسانے پر زور دینے کو ان کی معاشی مجبوری بتایا ہے ۔  ممکن ہے بات کسی حد تک درست ہو کہ اس دور  میں   ناول لکھنے کا چیلنج تقریباً ہر ایک کو درپیش تھا اور کوئی بھی حتیٰ کہ عصمت چغتائی بھی اس سے بہت کم عہدہ برآں  ہو سکیں  ۔  بعد  میں   حساب چکانے کے لیے کئی کئی جلدوں  پر مشتمل ناول تو لکھے گئے لیکن وہ حساب زیادہ چکاتے ہیں  ۔  اور ناول کے فن سے ان کی مناسبت ظاہر نہیں  ہوتی ۔  منٹو کو ایسی پریشانی کبھی نہ ہوئی شاید اس لیے کہ اس کے نزدیک مختصر افسانے کے مطالبات بھی اپنی جگہ ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے تھے جس سے عہدہ برآں  ہونا کوئی آسان کام نہیں  تھا اور اس نے اس پر اپنی بہترین توجہ مرکوز کردی تھی ۔  اپنی جوانی  میں   اس نے ایک ناولٹ سا ’’بغیر عنوان کے‘‘ ضرور لکھا تھا جس کا اشتہار بھی اس زمانے  میں   نکلتا رہا لیکن غالباً وہ منٹو کو پسند نہیں  آیا ۔  اس لیے مدت تک رکا رہا اور بالآخر کسی ضرورت کے دباوَ  میں   آ کر اس نے اسے چھپنے کے لیے بھی دیا ۔  اسے پڑھ کر منٹو کے فنی مقام  میں   کوئی کمی ہو تو ہو، کوئی اضافہ نہیں  ہوتا ۔  صرف اتنا پتا چلتا ہے کہ ’’نیا قانون‘‘ کے علاوہ اس نے لاہور کو محلِ وقوع بنا کر کچھ لکھا تو یہی تھا ۔  <br />  <br /> لاہور کی طرح دہلی اور علی گڑھ  میں   بھی اس کا قیام رہا اور جموں  کے قریب ایک پرفضا قصبے ٹبوت  میں   بھی جہاں  وہ اپنی ٹی ۔ بی کے علاج کے لیے گیا تھا اور ایک دوسرا روگ لگا لایا، جس کے خلاف اسے اتنی جدوجہد کرنی پڑی کہ بقول کرشن چندر اس نے اپنے آپ کو سنگدل بنا کر رکھنے  میں   ہی مصلحت سمجھی ۔  علی گڑھ میگزین  میں   اس کا ایک ابتدائی افسانہ انقلاب پسند تو ضرور شاءع ہوا لیکن علی گڑھ کے قیام کی تصویر اس نے شاید ہی کبھی کھینچی ہو لیکن دہلی  میں   اپنی بے بسی کی تصویر ا س نے بہت نزاکت سے کھینچی ہے جہاں  اس کے اکلوتے بیٹے کا انتقال ہوا ۔  اس کے بعد مرنے والے اور خود اپنی حالت کا جو نازک تجزیہ اس نے ’’خالد میاں ‘‘  میں   پیش کیا ہے ۔  شاید بچے کی موت اور باپ کی نفسیاتی کیفیت پر لکھی ہوئی کسی مغربی فن پارے کے مقابلے  میں   رکھی جاسکتی ہے ۔  اور ہمارے یہاں  خاقانی کے مرثیہ فرزند کے سوا اس موضوع سے عہدہ برآ ہونے کی کسی اہم فنی کوشش کا سراغ نہیں  ملتا ۔  یہ افسانہ اس لحاظ سے بھی یادگار ہے کہ منٹو اسے حلقہ اربابِ ذوق  میں   سناتے ہوئے کانپتے پایا گیا ۔  اور ہم بھی اسے پڑھ کر رونے دھونے کی بجائے کانپنے پر مجبور ہو جاتے ہیں  ۔  <br />  <br /> سب سے زیادہ جو محلِ وقوع منٹو کے افسانوں   میں   نظر آتا ہے ۔  بمبئی کا شہر ہے جو لارس ڈرل کے اسکندریہ سے بہت پہلے وجود  میں   آیا تھا ۔  یزید کے اختتامیہ، ’’جیبِ کفن‘‘ جو منٹو کی صورت حال کا بہترین بیان ہے، بمبئی شہر کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے لیکن یہ بمبئی، آغا حشر کے بمبئی سے مختلف ہے ۔  یہاں  بارہ برس رہنے کے بعد منٹو نے اس سے بے پناہ محبت کی ۔  اپنے آپ کو ایک چلتا پھرتا بمبئی قرار دیا ۔  اور اپنی تحریروں   میں   اس شہر کو دوبارہ تعمیر کر کے رکھ دیا ۔  بمبئی منٹو کے لیے شہرِ طرب ہے، شہرِ مسابقت ہے یا شہرِ گناہ ۔  شاید یہ سب کچھ ہے لیکن سب سے پہلے یہ تیسری دنیا کا ایک ایسا نمونہ ہے جس  میں   استعماری حکومت کے دوراں  بھی ایشیائی پن اور مغرب آپس  میں   گلے ملتی ہیں  اور منٹو اس ملغوبے سے اپنی کہانیاں  بناتا ہے، ایسی کہانیاں  جو مل جل کر ایک مجموعی تصویر بناتی ہیں  جو چار جلدی ناولوں   میں   بھی چند ارغوانی قطعوں  کی صورت  میں   ملتی ہے جبکہ منٹو کے یہاں  یہ تصویر ہر لحظہ متحرک اور ہمیشہ انسانی بے بسی کے باوجود انسانی آرزووَں  سے دھڑکتی رہتی ہے ۔  منٹو نے یہ دنیا خود تخلیق کی ہے یا بمبئی حقیقت  میں   ایسی ہی ہے یہ تو وہی بات ہوگی کہ ’’خوشیا‘‘ منٹو کے ذہن کی اختراع ہے یا خارج  میں   بھی اس کا وجود کہیں  مل سکتا ہے ۔ 

    ۵ <br />  <br /> ایک قصباتی لائبریری  میں   منٹو کی کتاب ’’بادشاہت کا خاتمہ‘‘ نظر آئی ۔  چونکہ مجھے اس بات سے بہت دلچسپی ہے کہ ہمارے قارئین لائبریری کی کتابوں   میں   اپنے کیا تاثرات رقم کرتے ہیں  ۔  اس لیے کھول کر دیکھا ۔  عنوان سے پہلے کسی پڑھنے والے نے اپنے قلم سے لکھاتھا ’’منٹو کی‘‘ اور بعد  میں   اس قسم کی باتیں  ایک سرگوشی کی مہم کے طور پر لاہور کے ادبی مرکز  میں   بھی سنائی دیں  اور ان کی تائید  میں   چند ایک اخباری مضامین بھی ۔  افسوس بس اتنا ہوا کہ اس قصباتی قاری نے جو کسی نفسیاتی ردعمل کے تحت لکھ دیا تھا ۔  ہمارے ممتاز دانشور اس سے کچھ زیادہ آگے نہ جاسکے اور منٹو کا ازسرِ نو مطالعہ کرکے اس کی بازیابی کی زحمت گوارا نہ کی گئی ۔  یقینا ہ میں   منٹو کو اپنے حساب سے دیکھنا ہوگا جس طرح ہمارے لیے لازم ہے کہ کسی بھی کلاسیکی فنکار کو دیکھیں  اور پرکھیں  ۔  تاریخیت کا یہ مفہوم کہ ہر چیز اپنے اپنے زمانے  میں   ٹھیک تھی ادب اور تہذیب پر اس کا اطلاق ہو تو ان دونوں  کا وجود ہی خطرے  میں   پڑ جائے گا ۔  تاتیانا تالستایا نے کہا ہے کہ اپنے عصر کی ہر ایک ضرورت ہوتی ہے لیکن جو لوگ عصرِ حاضر سے مسخر ہو جاتے ہیں  وہ اسی  میں   غرق ہو کر رہ جاتے ہیں  ۔   <br />  <br /> منٹو کوئی بادشاہ نہیں  تھا کہ اس کے تخت کا وارث مقرر کیا جائے اور ہم کسی نئے سورج کو سلام کریں  ۔  تخلیقی ادب صدیوں  تک پڑھا جاتا ہے اور ہمیشہ نئے طریقے سے پڑھا اور پرکھا جاتا ہے ۔  منٹو کسی اور کی نسبت ہمارے افسانے کی اوّلین کلاسیک بن چکا ہے ۔  عسکری کے الفاظ  میں   اردو زبان کا بہترین افسانہ نگار اور ایک بھارتی نقاد کے نزدیک ایشیا کا بہترین افسانہ نگار ۔  تیسری دنیا  میں   اس کے ہم مرتبہ پیدا ہوئے ہیں  لاطینی امریکہ میں   پیدا ہوئے ۔  <br />  <br /> پھر بھی انتظار صاحب پوچھتے ہیں  کہ تم نے لارنس کا ترجمہ کیا ہے جو لکھتا ہے کہ اپنی قریبی معاصرین سے منافرت برتنا لازمی ہے ۔  درست ہے لیکن آپ یہ ابتدائے کار کی منافرت کتنی دہائیوں  تک چلاتے رہیں  گے;238; کبھی اعتماد سے مڑ کر دیکھنا ہوگا ۔  پتھر بن جانے کا خوف کب تک جاری رہے گا;238; آخر آپ سرشار کی الف لیلہ مرتب کرتے ہیں  ۔  انشاء کی کہانیوں  پر توجہ دلاتے ہیں  ۔  طلسم ہوشربا کا بوجھ لادے پھرتے ہیں  ۔  خطوطِ غالبِ اور آبِ حیات  میں   ناول کی ابتدائی شکل ڈھونڈھتے ہیں  پھر ایک منٹو غریب نے کیا بگاڑا ہے;238; دیکھیے تو سہی شاید تھوڑی بہت جاتکیں ، چند ایک بتیال کتھائیں  اور کتھا سرت ساگر کی ایک آدھ ڈبکی منٹو کے ہاتھ بھی لگ گئی ہو ۔  آخر وہ ایک آزاد ذہن کے مالک تھے اور اپنے دور کے ادبی اور نظریاتی تعصبات کو انہوں  نے حرزِ جاں  نہیں  بنایا تھا ۔  مثلاً ذرا ’’پڑھیے کلمہ‘‘ کو ایک بار پھر پڑھ جائیے ۔  کوئی بلا وہاں  کھڑکی سے اڑ کر غائب ہوتی ہے یا نہیں  اور ذرا سوچیے کہ وہ بلا کون ہے اور کیسے اور کہاں  غائب ہوئی;238; <br />  <br /> آج کل بہت سے لوگ یہ بھی جاننا چاہیں  گے کہ منٹو کا پیغام کیا ہے;238; اس کی فکر پریس برانچ والے چودھری محمد حسین کو بھی تھی جو چاہتے تھے کہ سب لوگ صرف اقبال ہی کے پیغام کی تبلیغ کیا کریں  جنہوں  نے کہہ رکھا ہے: <br />  <br /> ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس <br />  <br /> آہ بے چاروں  کے اعصاب پہ عورت ہے سوار <br />  <br /> جبکہ منٹو کا کہنا یہ تھا کہ مرد کے اعصاب پر عورت سوار نہیں  ہو گی تو کیا ہاتھی گھوڑے سوار ہوں  گے ۔  ترقی پسند دوستوں  کا کہنا ہے کہ منٹو کے یہاں  کوئی مثبت ہیرو نہیں  ملتا اور یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ اس کے یہاں  مسائل کی نشاندہی تو ہوجاتی ہے مسائل کا حل نہیں  ملتا ۔  اسلام کے نام لیواؤں  کا خیال ہے کہ منٹو نے حیا اور پاکیزگی کی بجائے بے حیائی اور گندگی کو اچھالا ہے لیکن یہ سب چھپے ہوئے الفاط کو کاغذ کی سطح پر نظروں  سے چھو کر گزرنے کے بعد کہا گیا ہے، ان کی تہہ میں   اترنے کے بعد یہ نہیں  کہا جاسکتا کہ منٹو کو کیا تکلیف تھی اور اس کا مداوا کیسے ہو;238; <br />  <br /> منٹو کے یہاں  ایک وسیع انسانی ہمدردی کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار اور نزاکت ِ احساس کا جو احترام پایا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ عورت کی اہمیت اور اس کی ہیبت کو جس طرح اس نے نمایاں  کیا ہے، کیا یہ کسی پیغام سے کم ہیں ;238; پھر سب سے زیادہ ایک آزاد تیسری آواز کی ساخت و پرداخت اس نے جس طرح کی اور سرد جنگ کے زمانے  میں   دونوں  سپر طاقتوں  کی تہذیبی بالادستی کو جس قوت کے ساتھ روکا، ہم  میں   آج بھی ایسا کرنے کی ہمت کتنے لکھنے والوں   میں   ہے;238; اس نے اپنے دور کے برعکس اسلام کے بارے  میں   کبھی کوئی سستا جملہ نہیں  کسا بلکہ اس نے ’’یزید‘‘  میں   بڑی باریکیوں  سے بتایا ہے کہ آدمی کس طرح سنگدل اور بے درد ہو جاتا ہے ۔  آخر  میں   ہم کہہ سکتے ہیں  کہ بات اتنی زور دار اور مضبوط نہیں  رہتی بلکہ کسی قدر trivialize ہو جاتی ہے ۔  مگر کیا ہم نے خود سے بھی trivialize نہیں  کر دیا;238; <br />  <br /> بہرحال منٹو کا یہ کمال جلد یا تادیر ماننا پڑے گا کہ وہ اپنے دور سے اٹھ کر ہم سے آکر ملنے والوں  کی قطار  میں   شاید سب سے پہلا فنکار تھا ۔  بمبئی کی طرح پاکستان سے بھی اس نے ٹوٹ کر محبت کی تھی ۔  یہ محبت قبول نہیں  کی گئی جس سے وہ بے حد افسردہ ہوا اور بسترِ مرگ پر اس نے کہا کہ اب یہ ذلّت ختم ہونی چاہیے ۔  وہ اس دنیا کے دھتکارے ہوئے لوگوں  کا ایک ایسا خود منتخب نمائندہ تھا جس نے ان لوگوں  سے کبھی دغا نہیں  کی ۔  عسکری کے الفاظ  میں   منٹو نے اپنے خواب سے کبھی غداری نہیں  کی ۔  اس کا خواب ہم تھے ۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس سے غداری کرتے ہیں  یا اس کے خواب کو سچا ثابت کرتے ہیں  ۔  اس کے محبوب شاعر غالب نے کہا تھا: <br />  <br /> ہجوم سادہ لوحی، پنبہَ گوش حریفاں  ہے <br />  <br /> وگرنہ خواب کی مضمر ہیں  افسانے  میں   تعبیریں  <br />  <br /> (وائی ۔ ایم ۔ سی اے ہال  میں   ۹۸۹۱ء کو پڑھا گیا ۔  <br />  <br /> صدارت: اخلاق احمد دہلوی) <br />  <br />