حسن عزیز الحق

حسن عزیز الحق

بیٹی اور کنیر کا پیڑ

    انگریزی ترجمہ، کلپنا بردھن: اردو ترجمہ، مسعود اشعر

    سردیوں کی بے رحم رات ہے۔ کھلے آسمان سے پالے کی ٹھنڈی چادر نیچے اتر رہی ہے۔ دھیمی دھیمی ہوا میں کیلے کا ایک پتہ آہستہ اور بھاری پن کے ساتھ پلٹتا ہے، پہلے باہر کا حصہ سامنے لاتا ہے  پھر اندر کا۔ پھر اندر باہر پلٹنے لگتا ہے۔

    اس سے آگے جہاں بازار کی طرف جانے والی سڑک ہے وہاں راحت خاں کے گھر پر بڑا ٹین کا سائبان پالے میں بھیگی چاندنی میں چمک رہا ہے۔

    ایک لومڑی کالو کی ماں کی جھونپڑی کے چبوترے پر اپنے اگلے پنجے ٹکاتی ہے اور ہوا ہوا کی آواز نکالتی ہے۔ پھر ایک دم جھاڑیوں ، اینٹوں کے چٹوں اور سکول کے کھرنچے والے راستے کے آس پاس بنے جھونپڑوں کے پیچھے سے ہوا ہوا کی اور بہت سی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ گاؤں کے اتر پچھم سے بہت سے لوگ چیختے ہوئے دوڑتے ہیں ’’پکڑوں پکڑو، مارو مارو، اچانک اٹھنے والی یہ آوازیں خاموش ٹھنڈی رات میں اندھیرے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ہلچل مچا دیتی ہیں۔ چاندنی جو اس وقت تک ٹین کے سائبان پر سکون کے ساتھ چمک رہی تھی یکلخت ان آوازوں سے جیسے ہڑبڑا  جاتی ہے۔

    چور لومڑی اب بازار کی سڑک پر نظر آتی ہے۔ اس کے منہ میں مرغی کا چوزہ دبا ہوا ہے۔ چوزہ زور زور سے پر مار رہا ہے، سڑک پر اس کے پھڑپھڑاتے پروں کا سایہ پڑ رہا ہے۔ چاندنی میں لومڑی کا سایہ بھیڑیے کا سایہ معلوم ہو رہا ہے۔ لومڑی ٹھہرتی ہے، چاندنی کی طرف دیکھتی ہے، کچھ سوچتی ہے اور پھر سکول والے راستے کے ساتھ جھاڑیوں میں گھس جاتی ہے۔ چندا منی کے گھر والے ہاتھوں میں لاٹھیاں لیے سامنے آتے ہیں۔ وہ چلا رہے ہیں ’’کدھر گئی حرام زادی؟ کدھر گئی؟‘‘

    پالے کی چادر برابر گر رہی ہے۔

    سردار کی چھوٹی بیوی کا سب سے بڑا لڑکا انعام ٹھہرے پانی کے پل پر جاتا ہے۔ وہ پانی کی چاندی جیسی سطح پر اپنا عکس دیکھتا ہے، ایک ایک چیز کو غور سے دیکھتا ہے، آنکھیں ، ناک، ہر چیز۔ اس کے ساتھ ہی وہ پالا گرنے کی ملکوتی آواز سنتا ہے۔ ہوا کی لہر آتی ہے اور مونگ پھلی کے چند چھلکے بہہ جاتے ہیں۔ نہر کے کنارے کھڑے پیڑ کے ایک چمک دار پتے سے سیال چاندنی ٹپکتی نظر آرہی ہے۔ کٹھل کی ایک ٹہنی پانی میں اٹک گئی ہے اور بری طرح جھکولے کھا رہی ہے۔ دور کہیں ڈھول کی آواز بتاتی ہے کہ کہیں سنگیت کی محفل شروع ہو چکی ہے۔

    انعام پل پار کرتا ہے، دھول سے بھری پگڈنڈی پر چلتا ہے اور سوکھی ندی کے پاس کھڑا ہو جاتا ہے۔ ندی میں کہیں کہیں تھوڑا پانی ہے۔ وہ انتظار کرتا ہے۔ سامنے پگڈنڈی چاندنی میں سانپ کی طرح لیٹی دکھائی دے رہی ہے۔ اسی وقت پگڈنڈی پر بہت سے سائے آگے بڑھتے ہیں، وہ زور زور سے بول رہے ہیں۔ فیکوکا موٹے بھدے شیر کا سا بھاری جسم سامنے آتا ہے۔ اس کے ساتھ سہاش بھی ہے۔

    وہ باتیں کر رہے ہیں لیکن یہ بات نہیں کہ سردیوں میں اتنی رات گئے وہ یہاں کیوں مل رہے ہیں۔ سہاش لوچی اور مٹھائیوں کا ذکر کر رہا ہے جو اس نے اپنے چاچا کے بیاہ میں کھائی تھیں۔ وہ دولہا کے ساتھ گیا تھا۔ فیکو کی بغل میں دبے ٹرانزسٹر سے کوئی گانا ہو رہا ہے جسے وہ نہیں سن رہے ہیں۔ گانے کی خوبصورت المناک آواز کوئی گیت گا رہی ہے جس میں تنہائی کی راتوں کا ذکر ہے۔ وہ ٹھنڈی رات میں سوکھی ندی کے کنارے گا رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس گانے نے پیڑوں پر سونے والی چڑیوں کو بھی پریشان نہیں کیا۔ لیکن انعام اس سے بے کل ہو اٹھا۔

    ’’ریڈیو بند کر۔‘‘ وہ قریب آئے تو انعام نے سخت روکھے انداز میں کہا۔

    ’’اچھا تو ادھر ہے؟‘‘ انہوں نے اسے دیکھا اور وہ رک گئے۔ سہاش منہ کھول کر اتنی زور سے ہنسا کہ سگریٹ پی کر کالے پڑ جانے والے اس کے دانت باہر آگئے۔ اس سے انعام کو اور غصہ آیا۔ ’’ریڈیو بند کر۔‘‘

    ’’اسے کوئی نہیں سن رہا ہے اور اگر سن بھی لیا تو اس وقت کوئی باہر نہیں آئے گا۔‘‘ فیکو نے کہا۔ ’’ریڈیو سے مجھے الجھن ہو رہی ہے۔ لوگوں کا ڈر نہیں ہے۔‘‘

    فیکو کا نکا کی آواز کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔ اور ریڈیو سہاش کو دے دیتا ہے۔ پھر کہتا ہے۔ ’’جلدی چلو کہیں وہ سو نہ جائے۔‘‘

    ’’کون؟‘‘ سہاش ریڈیو لیتے ہوئے پوچھتا ہے۔

    ’’بڈھا اور کون۔ شام پڑے ہی وہ کھانس کھانس کر سو جاتا ہے۔ ‘‘ فیکو یہ کہہ کر زمین پر تھوکتا ہے۔ وہ چلتے ہیں تو ہوا کچھ تیز ہو جاتی ہے۔ شاید وہ سوکھی ندی سے آ رہی ہے۔ سوکھے پتوں کی کھڑکھڑاہٹ سنائی دے رہی ہے ۔ وہ قاضی کے پچھواڑے سے گزرتے ہیں اور تالاب میں مچھلی کی چھپاک سنتے ہیں۔ وہ باڑ کے جنگلے سے قاضی کے آنگن میں جھانکتے ہیں۔ وہاں چاول ابالے جا رہے ہیں۔ وہ قاضی کے گھر کی عورتوں کے خوبصورت چہرے دیکھتے ہیں جو جھک کر چولہے میں پھونکیں مار رہی ہیں۔ یہ چہرے آگ کی روشنی میں کبھی کبھی چمکتے ہیں۔

    ’’آج کل تو سکول نہیں جاتا؟‘‘ سہاش انعام سے پوچھتا ہے۔

    ’’نہیں۔‘‘

    ’’تو پڑھنا نہیں چاہتا؟‘‘

    ’’پڑھنے کا فائدہ؟‘‘

    ’’تو اچھی نوکری کرنا نہیں چاہتا؟‘‘

    ’’کیوں نہیں چاہتا۔ نوکریاں تو جیسے پیڑ پر لٹک رہی ہیں کہ پڑھائی کی اور پیڑ سے اتار لی۔‘‘

    سہاش اس بے کار کی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا۔ وہ ریڈیو کی سوئی ادھر ادھر گھماتا ہے جس سے الٹی سیدھی آوازیں نکلتی ہیں۔ اس کے بڑے بڑے بھدے جوتے دھول اڑاتے ہیں۔

    انعام کو اس دھول میں سوکھی زمین کی خوشبو آتی ہے۔

    اسے منڈی کی سہ پہر اور مچھلی یاد آجاتی ہے۔ مچھلی سے اسے ندی یاد آتی ہے جو اب قریب قریب سوکھ چکی ہے اس کے کناروں پر ریت ہی ریت ہے، اس کی تہہ میں بھی ریت ہی بھری ہے۔ لوگ بیل گاڑیوں میں ندی سے ریت بھر کے لوٹ رہے ہیں۔ اس کا دماغ ندی کے ساتھ کھڑے پامپا گھاس سے ریت کے بادل اٹھتے دیکھ رہا ہے۔ ندی کے اس طرف سکول کی عمارت ہے جس کے ساتھ سانجھنے کا پیڑ کھڑا ہے۔ چڑیاں اس کی شاخوں پر بیٹھی اپنی لمبی لمبی دمیں ہلا رہی ہیں۔ وہ لوہے کی سلاخ ریل کی پٹری کے ٹکڑے پر پڑتے سنتا ہے۔ سکول کا گھنٹا ٹوٹ چکا ہے اس لیے وہ نہیں بجتا۔ پھر اسے بے وقوف مسخرہ کی شکل کا ہیڈماسٹر اور پھر ماسٹر تراپد نظر آتے ہیں۔ تراپد   نے چادر رسی کی طرح گلے میں لپیٹ رکھی ہے ہر وقت بولتے رہنے کی وجہ سے اس کا پوپلا منہ تھوک سے بھرا رہتا ہے۔ یہ شکلیں اس کی آنکھوں کے سامنے اس طرح آتی ہیں جیسے پروائی چلنے پر نیم کے سوکھے پتے اونچی شاخوں سے گر کر ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں۔ یہ شکلیں اس کے سامنے سے یوں گزرتی ہیں جیسے وہ ایک ننگا بچہ ہے اور اکیلا کھڑا پل پر سے گزرتی ریل گاڑی کو دیکھ رہا ہے۔ ریل گاڑی پل سے اترتی میدان میں دوڑی چلی جا رہی ہے۔

    شکلوں کی یہ ریل گاڑی انعام کے دماغ سےغائب ہو تی ہے  تو وہ ہنستا ہے ......سہاش پھر چاچا کے بیاہ میں جانے اور طرح طرح کی چیزیں کھانے کا ذکر کر رہا ہے۔ فیکو لگتا ہے اس کی ایک بات بھی نہیں سن رہا ہے۔ وہ رکتا ہے اور سگریٹ سلگاتا ہے۔ ماچس کی تیلی کی نوک پر ابھرنے والا شعلہ جو چاندنی میں پیلا دکھائی دیتا ہے، فیکو کا بھونڈا چہرہ روشن کرتا ہے۔ اس کے ماتھے پر زخم کا نشان ہے، مرغی کی طرح گول گول آنکھیں ہیں، نچلا کالا ہونٹ گھوڑے کی طرح لٹکا ہوا ہے۔ ’’پئے گا؟‘‘ فیکو کہتا ہے۔ سہاش ٹھہر کر ایک اور سگریٹ سلگاتا ہے اور پھر اپنی کہانی شروع کر دیتا ہے۔ ’’ہم سٹیم بوٹ میں بیٹھ کر مدھومتی ندی پار کرکے وہاں گئے تھے۔ وہاں اتنا اندھیرا تھا اور جنگل بھی اتنا گھنا تھا کہ ندی سے کچھ نظر نہیں آتا تھا کہ اس پار کوئی گاؤں بھی ہے۔ ایسا لگتا تھا جیسے ہم سندربن میں ہیں۔‘‘

    انعام کو لگا جیسے سہاش کل سے یہی کہانی سنا رہا ہے اور اسی طرح کل تک سناتا رہے گا۔ یہ سالا نائی خاموش کیوں نہیں ہو جاتا؟ اس کی اس بیہودہ کہانی سے بے شمار کہانیاں پھوٹ ر ہی ہیں۔ وہ اپنے چاچا اور دولہا کی صورت بیان کرنے لگتا ہے کہ وہ کیسے لگ رہے تھے۔ پھر دلہن کی تلاش کا قصہ سنانے لگتا ہے۔ پھر جو لڑکی آخر کار چن لی جاتی ہے اس کا بیان ہوتا ہے پھر دلہن کے چاچا اور دولہا کے باپ میں جو جھگڑا ہو جاتا ہے اس کی تفصیل سناتا ہے۔ پھر یہ بتاتا ہے کہ بیاہ کے دن دھوبی سے اچکن کرایہ پر لینے میں کتنی مشکل پیش آئی۔ وہ کوئی بات چھوڑتا نہیں۔ ایک ایک بات بتانے پر تلا ہوا ہے۔ انعام کو غصہ آجاتا ہے۔

    ’’تو یہ بتا۔ تیرے چاچا کو اس بیاہ کے چکر میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟‘‘

    سہاش اس کی بات نظرانداز کر دیتا ہے۔ ’’صبح کو مدھومتی ندی دھوپ میں خوب چمک رہی تھی۔ ناؤ سے اترتے ہوئے میرے تایا کا پاؤں پھسلا اور وہ ندی میں چاروں شانے چت گر گئے۔ اور ہاں، میری ہونے والی چاچی کی جو بہنیں ہیں وہ اتنی سندر اتنی سندر ہیں کہ بس میں بتا نہیں سکتا۔‘‘

    ’’تیرا چاچا کہاں رہتا ہے؟ اس کی سالیاں آئیں تو مجھے بتانا۔‘‘ فیکو محض کچھ کہنے کے لیے کہتا ہے۔

    ’’تیرا کوئی چانس نہیں ہے۔‘‘ سہاش دل ہی دل میں مزے لیتے ہوئے کہتا ہے۔

    ’’اچھا ...... اب سمجھ میں آیا۔ تو اسی لیے اپنے چاچا کی سسرال کے چکر لگاتا رہتا ہے۔ وہاں جانے میں کچھ خرچ بھی نہیں ہوتا۔ خوب مزے کر رہے ہو بیٹا۔‘‘ فیکو آنکھ مارتا ہے۔

    اب راحت خاں کا چمکتا ہو اٹین نظر نہیں آرہا۔ پل بھی دکھائی نہیں دیتا۔ سوکھی ندی دور رہ گئی ہے۔ چاند منی کے گھر میں ہلچل بھی ختم ہو چکی ہے۔ وہ چوزے کا صدمہ بھول چکے ہیں۔ کل کو باسوجی کے بھٹے کے قریب یا سرکار کے گھر ے ٹوٹے پھوٹے حصے کے زینے کے ساتھ اس چوزے کے پر یا پیلے پنجے یا چونچ پڑی  مل جائے گی۔ لوگ رات کے کھانے کے بعد اپنی اپنی کھاٹ پر پڑ گئے ہیں۔ وہ خاموش  ہیں۔صرف بوڑھی عورتیں دیے میں سے کڑوا تیل نکال کر اپنے پھٹے پیروں پر مل رہی ہیں۔ دیا کسی نہ کسی طرح جلے جا رہا ہے۔ ’’اوہو، یہاں کتنی سردی ہے۔ نہیں بہو، مجھے ایک لحاف اور دے دے۔میں تو ٹھنڈ سے مری جا رہی ہوں۔‘‘ بڑھیا بڑبڑا رہی ہے اور اس کی بہو اندر کمبھا کرن کی طرح سو رہی ہے۔ اس کا بیٹا بڑبڑاتا ہے۔’’یہ مر کیوں نہیں جاتی۔‘‘ بڑھیا پھر لحاف مانگتی ہے مگر اچانک ہوا تیز ہو جانے سے اس کی لرزتی آواز اس شور میں دب جاتی ہے۔

    زندگی چلتی رہتی ہے۔

    فیکو کے موٹے ہونٹ سختی کے ساتھ بند ہیں۔ سہاش بے خیالی میں ریڈیو پھر کھول دیتا ہے اور پھر فوراً ہی بند کر دیتا ہے۔ انعام سر جھکائے چل رہا ہے جیسے کچھ سوچنے کی کوشش کر رہا ہو۔

    اب وہ کچی پگڈنڈی سے ہٹ جاتے ہیں۔ گھاس پر اپنے جوتے جھاڑتے ہیں اور تنگ گلی میں مڑ جاتے ہیں۔ فوراً ہی اندھیرا انہیں نگل لیتا ہے ۔پھر ایک بیل کی شاخ کوڑے کی طرح ان پر پڑتی ہے۔ فیکو گالی دیتا ہے۔ پھر آرام سے انہیں بتانے لگتا ہے کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔ ’’سمجھ میں نہیں آتا آج کل میں پکڑا کیوں جاتا ہوں؟‘‘

    اس پر سہاش کی آنکھوں میں تجسس کی چمک پیدا ہوتی ہے۔ ’’اگر تو برا نہ مانے تو تجھ سے ایک بات پوچھوں؟‘‘ پھر فیکو کے بولنے سے پہلے ہی وہ بولتا ہے۔ ’’یہ بتا۔ تو اتنی مار کیسے کھا لیتا ہے؟ میرے تو ایک تھپڑ بھی لگ جائے تو میں بے ہوش ہو جاتا ہوں۔‘‘

    ’’پیارے بھائی ، پٹائی سہنے کے لیے سیکھنا پڑتا ہے۔ ایسے ہی جیسے سکول میں پڑھائی کرنا پڑتی ہے۔‘‘

    انعام کو پھر طیش آجاتا ہے۔’’ لگتا ہے سکول اس طرح پڑھائی کو جنم دیتا ہے جیسے بچے پیدا ہوتے ہیں...... وہ حرامی ماسٹر ......‘‘ انعام گندی گالی دیتا ہے۔

    فیکو سہاش کو سمجھاتا ہے۔’’اگر تم بدھو ہو اور مار کھانے کی ہمت نہیں ہے تو بازار میں کبھی کسی کی جیب کے پاس نہ جانا، چاہے جیب سے روپے گر ے ہی پڑ رہے ہوں۔‘‘

    روپے کے نام پر انعام ایک دم افسردہ ہو جاتا ہے۔ کل ہی کی بات ہے ٹنڈو ڈرائیور کے کہنے پر اس نے ایک آدمی کی جیب میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ ابھی ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ کاغذوں کے سرسرانے کی زور دار آواز آئی اور پھر جیسے طوفان آگیا۔ دراصل اس آدمی نے کھنکار کر گلا صاف کیا تھا۔ اس لیے انعام کے پاس ایک بھی پیسہ نہیں ہے۔ وہ اپنے گھر سے وہ ناریل چرا کر بیچ سکتا ہے جو اس کے گھر والے بیچ کر چاول خریدتے ہیں مگر وہ جانتا ہے کہ بھوکا رہنا زیادہ مشکل کام ہے۔

    راستے میں اندھیرا کول تار کی طرح گاڑھا ہو گیا ہے۔ اوپر کوئی بیل چھتری کی طرح یہاں سے وہاں تک چھائی ہوئی ہے۔ فیکو باتیں کرتے کرتے سہاش کے پیر پر چڑھ جاتا ہے۔ سہاش چیخ مارتا ہے۔ اس پر فیکو کہتا ہے۔ ’’ریڈیو نہ پھینک دینا۔‘‘ اور پھر شرو ع ہو جاتا ہے۔ ’’تم یقین نہیں کرو گے کل کیا ہوا۔ بس لوگوں سے بھری ہوئی تھی اور وہ چالیس پچاس میل کی رفتار سے جا رہی تھی۔ ایک آدمی کے جیب سے روپے جھانک رہے تھے۔ میں نے اس کی جیب پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ پھر اس نے پیٹنا شروع کر دیا۔ وہ میرے اوپر ایسے پل پڑے جیسے گائے کی کھال کھینچنے کے لیے لوگ اس پر پل پڑتے ہیں۔ یہ دیکھو میرے ماتھے پر وہی نشان ہے۔ ابھی تک یہ ٹھیک نہیں ہوا ہے۔

    ’’اب یہ سالا بولتا رہے گا۔‘‘ انعام سوچتا ہے۔

    ان باتوں میں سہاش ریڈیو چلاتا ہے مگر ایک بھیانک آواز ٹھنڈے اندھیرے کو چیر ڈالتی ہے۔ ’’کتے کا بچہ پکا گانا گا رہا ہے۔‘‘ سہاش تھوکتا ہے اور ریڈیو پر کوئی اور اسٹیشن لگا دیتا ہے۔ ’’تم میری زندگی میں آئے۔‘‘ ایک احاطے سے کتا نکلتا ہے۔ پہلے بھونکنےکی کوشش کرتا ہے پھر سوچتا ہے کہ اس سردی میں بھونک کر اپنی طاقت کیا برباد کرنا اس لیے وہ انعام کے پاس کھڑا ہوکر اپنا پورا پچھلا دھڑ ہلانا شروع کر دیتا ہے۔’’کتے کا بچہ ریاض کر رہا ہے۔‘‘ فیکو کہتا ہے او رپھر وہ بتانے لگتا ہے کہ اس کی زندگی کیسے برباد ہوئی، کس نے برباد کی، جیب کترنے کے گر کیا ہیں، اس کی اپنی کامیابی کن گروں کی وجہ سے ہوئی، کیسے وہ ناکام ہوا اور کہاں کہاں اس کی پٹائی ہوئی۔‘‘

    ’’میں اور کر بھی کیا سکتا ہوں۔ اگر میں پڑھا ہوتا تو ......‘‘

    ’’پیشاب کرو پڑھائی پر ......‘‘ انعام کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔

    فیکو تھوڑی دیر سوچتا ہے اور پھر پورے زور کے ساتھ جواب دیتا ہے۔ ’’آؤ ہم ٹیلے پر کھڑے ہو کر ہر چیز پر پیشاب کرتے ہیں؟ ظاہر ہے ہم اور کر کیا سکتے ہیں؟ زمین پر کام کرنے کے لیے زمین چاہیے، کاروبار کے لیے پیسہ چاہیے۔ مگر یہ سب کہاں ہے؟‘‘

    پیڑوں کے پتوں میں چھپی چڑیاں، جو دھند اور کہرے میں دبکی بیٹھی ہیں، پھنسی پھنسی سی آواز نکالتی ہیں۔ دن بھر وہ جس طرح چہچہاتی  رہی ہیں یہ آواز اس سے مختلف ہے۔ ایک بلی ان کا راستہ کاٹتی ہے۔ اس کی صرف آنکھیں چمکتی نظر آتی ہیں۔ سہاش، فیکو اور انعام خاموش ہیں۔ سہاش بغل میں ریڈیو دباتا ہے۔ فیکو مفلر سے اپنا منہ چھپا لیتا ہے۔ انعام زور زور سے ہتھیلیاں مل کر اپنے ہاتھ گرم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

    دائیں طرف پال صاحب رہتے ہیں۔ وہ مٹی کے برتن بناتے ہیں مگر وہ اپنے آپ کو ہمیشہ مسٹر پال کہتے ہیں۔ مکان کی دیواروں سے پلاسٹر اکھڑ گیا ہے۔ کیونکہ اصل میں یہ مکان سین گھرانے کا تھا۔ وہ مشرقی پاکستان چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے تو مسٹر پال اس میں آگئے۔ یہ 1950ء کی دہائی کا قصہ ہے۔ انعام چلتے چلتے لیموں کے پیڑ سے ایک پتہ توڑتا ہے۔ وہ ٹھنڈے برآمدے کو دیکھ رہا ہے۔ وہ جلی ہوئی مٹی کی خوشبو سونگھتا ہے اور آنگن میں مٹی کے بہت سے برتن بکھرے دیکھتا ہے۔ ٹوٹے دروازے سے سونےوالوں کی عجیب و  غریب آوازیں آتی ہیں۔

    ’’سب سو رہے ہیں۔‘‘ سہاش کہتا ہے اور فیکو گردن ہلاتا ہے۔

    ’’ہمیں اتنی رات کو نہیں آنا چاہیے تھا۔‘‘ سہاش کہتا ہے ۔ ’’مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘

    فیکو اس کی نقل اتارتا ہے۔ ’’ڈر لگ رہا ہے ...... ننھا بچہ ہے نا۔ دوھو پئے گا؟‘‘

    سہاش اس کی نہیں سنتا اور اپنے ڈر کی بات کرتا رہتا ہے۔’’اس بڈھے کی تو صورت دیکھ کر ہی مجھے ڈر لگتا ہے۔ کبھی تو لگتا ہے جیسے وہ ابھی مر جائے گا اور کبھی لگتا ہے وہ ہمیں مار ڈالے گا۔ ہم جب اس کے گھر کے اندر گئے تھے تو تم نے اس کی شکل دیکھی تھی؟‘‘

    ’’ہاں میں نے دیکھی تھی۔ تو فکر نہ کر۔ اسے اس وقت دیکھ جب وہ پیسے لیتا ہے۔‘‘

    انعام غصے میں کھول رہا ہے۔ وہ اس حرامی فیکو کی گردن مار دینا چاہتا ہے۔

    مگر فیکو کی اس بات سے سہاش کا موڈ بدل جاتا ہے۔ وہ فیکو کے ساتھ مزے لینے لگتا ہے۔ لڑکی کا بدن تو بالکل ایسا ہے جیسے ناریل کا گودا۔ میں غلط تو نہیں کہہ رہا ہوں۔‘‘

    انعام کو پھر طیش آتا ہے۔ وہ اسے بھی مار ڈالنا چاہتا ہے۔

    وہ دونوں اب خوش ہو رہے ہیں ، ہنس رہے ہیں او رمزے لے رہے ہیں۔ وہ ڈاکٹر کے گھر کے قریب سے گزرتے ہیں۔ اس کا موٹا بدن دیوار کی جھریوں سے نظر آرہا ہے۔ وہ لالٹین کی روشنی کے دائرے میں بیٹھا ہے۔ آگے تالاب ہے اس کی پکی سیڑھیوں پر ایک سوکھا پتا سرسراتا اڑا جا رہا ہے۔  اس کے بعد خالی میدان ہے جس میں سوکھی گھاس کھڑی ہے جو اس وقت چاندنی اور کہر کی ملی جلی روشنی میں عجیب سی نظر آرہی ہے۔ اس کے پیچھے جامن کا پیڑ کسی کالے دیو کی طرح کھڑا ہے۔ اس کے پیچھے  اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ وہ چلتے رہتے ہیں۔ وہ کھلے میدان کے پاس سے گزرتے ہیں جہاں جھاڑیاں اگی ہوئی ہیں۔ پھر پانوں کے گودام کے پاس پہنچتے ہیں۔ پھر دلدلی زمین آجاتی ہے جہاں لمبی لمبی گھاس اور خس کھڑی ہے۔ اس جگہ بانسوں سے بنا ایک دروازہ ہے جو رسیوں سے باندھا گیا ہے۔ اس کے اندر جو احاطہ ہے وہ بالکل خالی ہے۔ اس میں کچھ بھی نہیں اگا ہوا ہے۔

    انعام پیچھے رہ گیا ہے۔ ان سے کافی پیچھے۔ وہ اپنے پیچھے دیکھتا ہے جیسے واپس جانے کی سوچ رہا ہو اور کسی بھی پل میں لوٹ جانا چاہتا ہو۔ اندر جلنے والی لالٹین کی مدھم روشنی سے کھڑکی کی سلاخیں صاف نظر آرہی ہیں۔ دلدل میں دو آنکھیں چمک رہی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں لومڑی بیٹھی ہے۔ پیڑ پر بیٹھا گدھ پہلو بدلتا ہے تو شاخ چر سے بولتی ہے، گدھ گھوڑے کی طرح ہنہناتا ہے۔

    فیکو نے بانسوں کا دروازہ اٹھا لیا ہے اور سہاش کو اشارے کر رہا ہے اندر گھس جا۔ مگر سہاش جیسے پتھر کا بن گیا ہے۔ وہ ایک ہاتھ میں ریڈیو لیے اور دوسرا ہاتھ اپنے منہ پر رکھے کھڑا ہے۔

    اچانک انعام آگے بڑھتا ہے اور فیکو سے پیسے مانگتا ہے۔ ’’صرف دو روپے۔ میں کل دے دوں گا۔‘‘

    فیکو دروازہ چھوڑ دیتا ہے۔ ’’اچھا تو یہاں پیسے لینے آیا ہے ۔ محنت کے بغیر پیسے لینے؟‘‘

    انعام اپنے خیالوں میں ایک سنہری بازو دیکھتا ہے۔ اس کی چمکیلی بھڑک مدھم روشنی میں کوندا بن کر لپکتی ہے وہ ہاتھ سر پر جاتا ہے، بال ٹھیک کرتا ہے پھر انگلیوں پر لگا تیل اپنی ساری سے صاف کرتا ہے۔ انعام نے وہ سستی ساری اسے خرید کر دی تھی۔ مگر اس کے پیسے ادا نہیں کیے تھے۔ وہ لجاجت کے ساتھ پھر کہتا ہے۔ ’’یار صرف دو روپے دے دے۔ میں کل ضرور دے دوں گا۔‘‘

    فیکو اپنے بڑے بڑے دانت دکھاتا ہے۔’میری جیب میں صرف دو روپے ہیں۔ اس طرح پھینکنے کو نہیں ہیں پیسے۔‘‘

    انعام جیسے کسی تکلیف سے پاگل ہوا جا رہا ہے۔’’اچھا سہاش تو ہی دے دے۔ میں کل ضرور دے دوں گا۔ تیری کالی ماتا کی قسم کھاتا ہوں۔‘‘

    اس کے اندر اچانک جو بے چینی پیدا ہو گئی ہے اس سے وہ تلملایا جا رہا ہے۔

    سہاش فیکو کے ساتھ مل کر اس کا مذاق بناتا ہے۔ وہ بھی ہنستا ہے۔ ’’دیکھ تو راستے بھر اس نے ایک لفظ بھی نہیں کہا اور اب ایک دم اسے پیسے یاد آگئے ہیں۔ ‘‘ پھر وہ انعام کی طرف مڑتا ہے ۔ اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ ’’تو بھی کیسا بدھو ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں میرے پاس صرف وہ دو روپے ہیں جو میں نے اپنے بھائی کی جیب سے نکالے ہیں۔ تو تلاشی لے لے۔‘‘

    اس کے بعد انعام خاموش ہو جاتا ہے۔ اچانک اسے سکون آجاتا ہے۔

    فیکو اور سہاش بانس کے دروازے کے پاس کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ انتظار کرتے ہیں۔

    اب بڈھے کا چہرہ کھڑکی کی سلاخوں میں نمودار ہوتا ہے۔ ’’کون ہے؟‘‘ پھر سرخی مائل روشنی سامنے سے ہٹ جاتی ہے اور ٹوٹا ہوا دروازہ چرچرا کر کھلتا ہے۔ آدمی لالٹین لیے خالی آنگن سے دروازے کی طرف آتا ہے۔ اس کا سایہ سارے آنگن میں پھیل جاتا ہے۔ اس کی ٹانگیں پتلی چھتری کی طرح ہیں اور اس نے گھٹنوں اوپر تہہ بند باندھ رکھا ہے۔ وہ کنیر کے پیڑوں کے پاس ٹھہر جاتا ہے اور لالٹین اوپر کرتا ہے۔ لالٹین کی مدھم روشنی میں اس کا جھریوں بھرا چہرہ دکھائی دیتا ہے جیسے بارش سے پہلے چٹخی ہوئی سوکھی زمین۔ وہ ترش نظروں سے انعام کو، سہاش اور فیکو کو دیکھتا ہے۔ کافی دیر اس طرح دیکھتا رہتا ہے۔ اپنی تیز نظروں سے انہیں ٹٹولتا ہے۔

    پھر کپکپاتے ہاتھ سے لالٹین کی بتی اونچی کرتا ہے اور کہتا ہے: ’’اچھا ، تم ہو؟ آجاؤ میں سوچ رہا تھا اس وقت کون ہو سکتا ہے۔ کون ہے جو جب جی چاہے یہاں آ سکتا ہے۔ میں سویا نہیں تھا۔ تم جانتے ہو اس عمر میں نیند آسانی سے نہیں آتی۔‘‘ وہ بولے چلا جا رہا ہے۔’’اندر آجاؤ باہر سردی ہے۔اندر بھی تو سردی ہے اندر یا باہر ایک ہی ہے۔ جو لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر آئے ہیں ان کے لیے اندر باہر ایک ہی ہے ...... کوئی فرق نہیں ہے۔‘‘

    وہ جیسے ہی اندر جاتے ہیں کنیر کی پتوں بھری شاخوں میں سے ہوا زور سے گزرتی ہے اور وہ جھول جاتی ہیں اندر ٹھنڈے فرش پر انعام کو ٹوٹے جوتے سے باہر  نکلی اپنی ایڑی کا احساس ہوتا ہے۔

    اندر پرانی کالی کھاٹ پڑی ہے جس پر کوئی بستر نہیں ہے۔ اور اندر کہیں سے مرغیوں کے کڑکڑانے کی ہلکی سی آواز آتی ہے۔ باہر بہت سے گیدڑ اکٹھے چلانے لگتے ہیں۔ اور پھر سوکھی ندی کے بیچ سے اٹھنے والی ہوا چیخ پڑتی ہے۔ بوڑھا آدمی ٹوٹی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ لالٹین زمین پر رکھ دیتا ہے۔ وہ تینوں اس چبوترے پر بیٹھ جاتے ہیں جس پر بستر بچھائے جاتے ہیں۔ بوڑھا آدمی دمہ کی وجہ سے لمبے لمبے سانس لے رہا ہے۔ اس کے منہ سے نکلنے والے بے معنی الفاظ بند ہو گئے ہیں اور اس کا منہ کھل گیا ہے۔ جیسے دھونکنی چل رہی ہے۔

    بوڑھے کے دھنسے ہوئے گالوں اور سوکھی ٹھوڑی پر داڑھی کے سفید بال بڑھ گئے ہیں۔انگلیوں کی نکلی ہوئی ہڈیاں کرسی کے ہتھے کو زور سے پکڑے ہوئے ہیں۔ ہاتھوں پر کالی کالی رگیں ابھری ہوئی ہیں۔ لگتا ہے ناخن صدیوں سے نہیں کاٹے گئے۔ اس کے حلق میں بلغم جمع ہو رہا ہے اس سے اس کے لیے سانس لینا دشوار ہو رہا ہے۔ انعام کا جی چاہتا ہے وہ کہیں سے نالی لے کر اس کا بلغم نکال دے۔ لیکن بوڑھا پھر ٹھیک ہو جاتا ہے اور پھر لڑکھڑاتی آواز میں بے معنی باتیں شروع کر دیتا ہے۔ ’’کیا حال ہے تمہارا؟ سب ٹھیک ہے نا؟ رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اب تو مرنے کا وقت آگیا ہے۔ کیا خیال ہے؟ اگر میں ایک دم چھومنتر ہو گیا؟ پھر؟ میرے لیے تو آزادی ہو گی۔ بڑھیا کو پھر اپنی فکر خود کرنا پڑے گی۔ وہ اور اس کے بچے ...... تم لوگوں کی مہربانی ہے کہ کبھی کبھی دیکھنے آجاتے ہیں۔ تم وقت کی پروا نہیں کرتے، جب جی چاہتا ہے آجاتے ہو۔ اب ہماے لیے تو تم ہی سب کچھ ہو۔ میری بیوی تمہاری بہت تعریف کرتی ہے۔‘‘

    فیکو اب پریشان ہو جاتا ہے۔ وہ بوڑھے کے چہرے کو غور سے دیکھ کر حالات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا بھاری بدن سکڑتا جا رہا ہے۔ سہاش اپنی گول گول آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور سوچ رہا ہے۔ ’’آج یہ بڈھا یونہی ہمیں مار ڈالے گا۔ آج رات ہم یہاں کیوں آئے؟‘‘

    بوڑھا بولتا رہتا ہے۔ ’’اگر تمہارا سہارا نہ ہوتا تو ہم جنگل میں پڑے پڑے بھوکے مر جاتے۔ ہم اپنے احاطے میں اناج نہیں بو سکتے۔ ہم کو یہ کام آتا ہی نہیں۔ تم جانتے ہو یہ کام؟ ہم لوگ سہو کے علاقے کے رہنے والے ہیں، یہاں کی تو ہر چیز مختلف ہے، رہنے سہنے کا طریقہ ہی اور ہے۔ تم لڑکے نہ ہوتے تو ہم مر جاتے۔ میرے بچے تمہیں بہت چاہتے ہیں۔ بیٹی چائے بنا رہی ہے تمہارے لیے۔‘‘

    بلغم کے ایک لوتھ نے اس کی آواز بند کر دی ہے اور پھر کھانسی کا دورہ پڑ گیا ہے۔ اس کی آنکھیں باہر نکل آئی ہیں۔ جو آدمی چند لمحے پہلے بولے جا رہا تھا، رکنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا اب لگتا ہے جیسے ابھی مر جائے گا۔

    سہاش اور فیکو ایک ساتھ بول پڑے ہیں۔ ’’ہم چائے نہیں پئیں گے۔‘‘

    کھانسی تھم جاتی ہے اور بوڑھا کہتا ہے: ’’اچھا تم چائے نہیں پیو گے؟ ٹھیک ہے۔‘‘

    اچانک ندی سے اٹھنے والی تیز ہوا برگد کے پتوں پر تلوار کی طرح چلتی ان کے قریب آ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مجیروں اور طبلے کے ساتھ گانے کی آواز آتی ہے۔ وہ گانا وساکھا اور تمل پیڑ کے بارے میں ہے۔ پھر وہ گانا ہوا کے ساتھ ہی واپس چلا جاتا ہے۔ ہوا اسے اپنے ساتھ ہی اڑا کر لے جاتی ہے۔ اب سہاش کی دھوتی میں نوٹوں کی سرسراہٹ سنائی دیتی ہے۔ فیکو سہاش سے دو روپے لیتا ہے۔ اور اپنے بھی دو روپے نکالتا ہے۔ نوٹ ہاتھ میں مروڑتے ہوئے وہ کچھ سوچتا ہے۔ ہچکچاتا ہے جیسے اسے کچھ خیال آرہا ہو۔ پھر بوڑھے کی طرف جھکتا ہے اور وہ نوٹ اس کی طرف بڑھاتا ہے۔ ’’یہ میری اور سہاش کی طرف سے ہیں۔‘‘

    بوڑھا اس سے ایسا گھبراتا ہے کہ کرسی سے گرتے گرتے بچتا ہے۔ اس کے گھٹنے آپس میں بجنے لگتے ہیں۔ ’’تم مجھے دے رہے ہو؟ تم اور سہاش؟ تم جانتے ہو میں تم سے کتنے لے چکا ہوں؟ تم سے کتنے اور لوں گا؟ سمجھ نہیں آتا میں کیسے لوٹاؤں گا انہیں۔ یہ سارا قرضہ کیسے ادا کروں گا؟‘‘

    سہاش کھڑا ہو جاتا ہے۔ مگر اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کدھر جائے۔

    بوڑھا اوپر دیکھتا ہے ’’تم جا رہے ہو؟ اتنی جلدی ؟ رکو تو وہ بہت ناراض ہو گی۔ تم نے اسے چائے بھی نہیں بنانے دی۔اگر تم اس سے ملے بغیر چلے گئے توپھر وہ تم سے کبھی بات نہیں کر ےگی۔ ایک منٹ ٹھہرو......‘‘

    بوڑھا اندر جاتا ہے۔ لالٹین وہیں چھوڑ جاتا ہے۔ اس کا سایہ چھوٹے سے چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔  پھر غائب ہو جاتا ہے۔سوئی ہوئی مرغیاں اچانک کڑکڑاتی ہیں اور پھر خاموش ہو جاتی ہیں۔ ایک بوڑھی عورت کی آواز آتی ہے۔ وہ کچھ کہہ رہی ہے۔ پھر کسی کے ڈانٹنے کی آواز آتی ہے، ’’چپ رہ، چپ ہو جا‘‘ پھر سب طرف خاموشی چھا جاتی ہے۔

    بوڑھا واپس آتا ہے۔ اس کا سر جھکا ہوا ہے اور کندھے لٹکے ہوئے ہیں۔ وہ ان کے پاس آتا ہے اور کھسر پھسرکرتا ہے۔ ’’اب تم اندر چلے جاؤ اور اس سے بات کر لو۔ وہ برابر والی کوٹھری میں ہے۔ انعام تو میرے پاس ٹھہر۔ تو واپس کہاں جا رہا ہے۔ بیٹھ میرے پاس باتیں کر۔‘‘

    بوڑھا اپنی بات جاری رکھنے کی بہت کوشش کرتا ہے۔ اسے سردی لگ رہی ہے، وہ کانپ رہا ہے۔ اس نے چادر لپیٹ رکھی ہے پھر بھی اس پر کپکپی طاری ہے۔ مگر سردی سے زیادہ اس کے حلق میں پھنسنے والا بلغم اسے باتیں کرنے سے روک رہا ہے۔ وہ پھر بھی جلدی جلدی کچھ بولنے کی کوشش  کر رہا ہے۔’’تم جانتے ہو میں جب یہاں آیا۔ میں یہاں آیا تو میں نے پہلا کام یہ کیا کہ کنیر کا پودا لگایا......‘‘

    وہ ٹھہرتا ہے۔ پھر ایک دم وہ رونے اور سسکیاں لینے کی آواز سنتا ہے۔ بوڑھی عورت بے طرح رو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی چوڑیوں کی چھن چھن اور ساری کی سرسراہٹ بھی سنائی دیتی ہے۔ انعام نرم سنہری بدن کی گرمی اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ سہاش کا ننگا قہقہہ بھی سنتا ہے۔ بوڑھا بول رہا ہے۔’’پھر میں نے کنیر لگایا۔ سمجھے؟‘‘

    بوڑھا پھر ٹھہرتا ہے، سسکیوں اور قہقہے کی طرف سے توجہ ہٹاتا ہے اور بولنے لگتا ہے۔ ’’اس کے پھولوں کے لیے نہیں۔ اس کے بیجوں کے لیے۔ کنیر کے بیجوں سے بہت اچھا زہر بنا ہے۔ بہت طاقتور زہر۔‘‘

    اندر سے پھر سسکیوں کی آواز ابھرتی ہے۔

    بوڑھا اپنی بات بھول جاتا ہے۔ اب اس کا چہرہ بھی آنسوؤں کے طوفان میں غرق ہو گیا ہے اور اس کی آواز بھی ڈوب جاتی ہے۔ وہ بے تحاشا رو رہا ہے اور کہے جا رہا ہے۔’’پہلا کام میں نے یہ کیا کہ کنیر بویا۔ اس کے بیجوں کے لیے ...... کڑوے بیجوں کے لیے۔ انعام اس کڑوے بیجوں کے لیے۔‘‘

    انعام ایک دم اچھل کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ’’تم رو رہے ہو؟ کیوں رو رہے ہو؟ تم کیوں رو رہے ہو؟ کیوں رو رہے ہو تم؟‘‘