حسن عزیز الحق

حسن عزیز الحق

خوشی کی تلاش

    انگریزی ترجمہ، کلپنا بردھن: اردو ترجمہ، مسعود اشعر

    ٹھنڈا سایہ مجھے بلا رہا ہے۔ کم کم بستر پر کروٹ بدل کر تکیہ اپنے سینے کے ساتھ چمٹاتی ہے۔ اور کھڑکی سےباہر دیکھتی ہے۔ سامنے لیموں کے پیڑ کے نیچے کنویں کی پکی منڈیر نظر آرہی ہے۔ پھر وہ آسمان پر اڑتی چیل کی کرخت آواز سنتی ہے۔ چیل ٹیکا ٹیک دوپہر میں اپنی سلطنت کے قیام کا اعلان کر رہی ہے۔ ایک گندا سا کوا لیموں کے پیڑ کے سایہ میں کنویں کی منڈیر پر آتا ہے اور وہاں کھڑے پانی میں نہانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی گردن اور پر گیلے کرتا ہے پھر اڑ کر پیڑ پر جا بیٹھتا ہے۔ اور آرام سے اپنی چونچ اور پر صاف کرنے لگتا ہے۔

    کم کم اپنے اندر ایک عجیب سی بے چینی محسوس کرتی ہے۔ جیسے کوئی چیخ اس کے اندر اترتی چلی جا رہی ہو اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر رہی ہو۔ جیسے اسے خوش خبری سنانے والا سکے کا رخ اچانک غیر متوقع طو رپر دوسرے رخ پر پلٹ گیا ہو اور عجیب انداز میں اس کی طرف دیکھ رہا ہو۔

    اپنے اندر اس حیرت ناک تبدیلی پر وہ پریشان ہو جاتی ہے، الجھن میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ وہ اس کی وجہ تلاش کرنے کے لیے اپنے ماضی کی طرف مڑ جاتی ہے۔ جیسے کوئی پرانے خطوط کا ڈبہ کھول کر بیٹھ جائے۔ جیسے ہی وہ پرانی باتیں یاد کرتی ہے اسے گزری چیزوں کی گرم گرم سانس اپنے اوپر محسوس ہوتی ہے، جیسے اپنی سب سے پیاری ساری یا مری ہوئی ماں کے پرانے گہنوں کا لمس۔ اس سے ایک سکون اور اطمینان سا ملتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے۔ ابھی وہ دکھ اور بے چینی کے طوفان میں گھری ہوئی تھی اور ابھی اس نے  اس کا سبب معلوم کرنے کی کوشش کی تو اپنے بچپن یا جوانی کے آغاز کے دنوں میں اسے ایسی کوئی با ت ہی نہیں ملی۔

    اس کی زندگی ایسی ہی بے چینی اور پریشانی کی منہ زور لہروں میں گھری رہتی ہے جس کا کوئی سبب اور جس کی کوئی بنیاد دکھائی نہیں دیتی۔

    کم کم بستر سے اتر کر کھڑکی کے پاس کھڑی ہو جاتی ہے۔ وہ یونہی بے خیالی میں باہر آنگن میں پھیلی دوپہر کی خاموشی کو تاک رہی ہے۔ احاطے کے پورب میں کھڑے آم کے پیڑ پر بیٹھی فاختہ کی آواز اسے یکدم پھر حال میں لے کر آتی ہے۔ اس کے موجودہ ماحول میں...... لیکن وہ کھڑی رہتی ہے، اس کا چہرہ کھڑکی کی سلاخوں کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ پہلے وہ یونہی کھڑی رہتی ہے پھر وہ کچھ سوچنا شروع کر دیتی ہے۔ دوپہر جیسے ایک ہی جگہ جم گئی ہے۔

    بائیس برس کی کم کم اس بات سے تنگ آگئی ہے کہ اچانک کبھی اس پر خوشی کے احساسات غالب آجاتے ہیں اور کبھی دکھ اور بے چینی کے اور ان دونوں کی وجہ سے اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ لگتا ہے کہ پل بھر کے لیے اس کی وجہ اس کا سبب اس کے سامنے آتا ہے مگر پھر چھلاوے کی طرح غائب ہو جاتا ہے۔ اس کی گرفت میں نہیں آتا۔ اس کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ یوں ہوتا ہے کہ جب وہ کسی ایسی چیز کی طرف بڑھتی ہے جو اسے خوشی کا احساس دلاتی ہے تو یکلخت ایک خالی پن کا احساس اسے گھیر لیتا ہے، اس کی آرزوؤں اور امنگوں کو ایک افسردگی سی اپنے پنجے میں جکڑ لیتی ہے ۔ اور پھر ایک کرب کی کیفیت اس پر چھا جاتی ہے۔ اس کے سر میں پھر ایسا درد ہوتا ہے کہ وہ بے وقت ہی بستر پر گر جاتی ہے۔ یہ کیفیت کچھ عرصے سے ہے اور اس میں شدت ہی پیدا ہو تی جارہی ہے۔ کبھی کبھی تو یہ کرب اتنا بڑھتا ہے کہ وہ بے ہوش ہو جاتی ہے۔

    پہلی بار جب اس کی یہ کیفیت ہوئی تو اس کے پتی راجیب نے بھویں چڑھا کر اسے غور سے دیکھا۔ اس کے گورے ماتھے پر کئی بل پڑ گئے تھے۔ اس نے اسے اپنی بانہوں میں اس طرح دبایا جیسے اس کا جسم سہلا کر اس کی روح کی تکلیف دور کر دے گا پھر مذاق کرتے ہوئے بولا ’’لگتا ہے تمہیں ہسٹریا ہو رہا ہے۔‘‘

    ’’سمجھ میں نہیں آتا مجھے کیا ہو گیا ہے۔‘‘ کم کم نے دکھ بھری آواز میں کہا۔ ’’ایسی بیماری تو مجھے کبھی نہیں ہوئی۔ سکول میں تھی تو میرے سر میں درد ہوتا تھا۔ میں نے عینک لگا لی تھی ۔ پھر درد جاتا رہا۔ کالج میں تھی تو ایک آدھ مرتبہ پھر ایسا ہی درد ہوا۔ ایک بار میں نے ایک اندھے کنویں کی تاریکی میں ایک پتھر پھینکا تھا۔ جب وہ پتھر نیچے سوکھی تہہ میں گرا تو ایک عجیب سی آواز آئی۔ میں ڈر گئی تھی۔ اس کے بعد سے مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں اندر سے خالی ہو گئی ہوں۔ مجھے کنویں کی گہری تاریکی میں پتھر گرنے کی آواز سی آتی ہے۔‘‘

    ’’اونہوں ...... یہ کیا احمقانہ باتیں ہیں۔ عورتوں کو اکثر اس قسم کی سنک بہت ہو جاتی ہے۔ مگر شادی کے بعد تو ختم  ہو جاناچاہیے۔‘‘

    راجیب نے یہ بات اتنے اعتماد سے کہی کہ کم کم کو اپنی اس حرکت پر شرمندہ ہو جانا چاہیے تھا۔ راجیب نے یہ کہہ کر تسلی دلانے کی کوشش کی۔ ’’پریشان نہ ہو۔ یہ تکلیف خود بخود ہی جاتی رہے گی۔‘‘

    اس تسلی کے باوجود یہ بیماری دور ہونے کے بجائے اس کے ساتھ چمٹی رہی۔ جس تسلسل کے ساتھ یہ اثرات ظاہر ہوتے ان سے پتہ چلتا کہ اس بیماری نے مستقل شکل اختیار کر لی ہے۔ مثلاً ایک بار راجیب دفتر سے جلدی آگیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پیکٹ تھا۔ اس نے پیکٹ سے جوگیا رنگ کی ساری نکالی اور کم کم کے نازک بدن کا جائزہ لینے لگا۔ کم کم نے اس کی آنکھوں میں چاہت دیکھی اور یہ ظاہر کیا کہ  وہ بھی بہت خوش ہے۔ آج اس کے سر میں درد بھی نہیں ہوا۔ لیکن ابھی وہ ساری پہن کر اور مہارانیوں کی طرح بن سنور کر کھڑی ہوئی ہی تھی کہ اس کے سر میں اتنا شدید درد اٹھا کہ وہ گر گئی۔  راجیب اس بنی ٹھنی ’’سلیپنگ بیوٹی‘‘ کا علاج کچھ اور نہیں کر سکا اور اپنی ساری لکھائی پڑھائی بھول کر جانور بن گیا۔

    لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب وہ پہلے کی طرح دفتر سے سیدھا گھر نہیں آتا۔ پہلے اکثر وہ وقت ختم ہونے سے پہلے ہی دفتر سے اٹھ آیا کرتا تھا۔ وہ دفتر میں اپنے کام میں مصروف ہوتا۔ اس کے آس پاس لوگ بیٹھے ہوتے تو اچانک اسے کم کم کا شہوانی بدن یاد آجاتا۔ اس کے اندر خواہش جاگ اٹھتی اور وہ سیدھا گھر آجاتا۔ وہی آدمی اب دیر سے گھر آتا ہے۔

    دھوپ نرم پڑتی جا رہی ہے اور ٹیرس پر سہ پہر کے سائے لمبے ہوتے جا رہے ہیں۔ سہ پہر کے یہ آخری پل ان کے گھل  مل کر باتیں کرنے کے پل ہوتے ہیں۔ ’’اس لیے میں نے شہر سے باہر فلیٹ لیا ہے۔ لوگوں کے ہجوم سے دور۔ اس پرسکون علاقے میں۔‘‘ راجیب مسکراتے ہوئے اس سے کہتا  ہے: ’’تاکہ میرا جب جی چاہے میں دفتر سے آ کر تمہیں خوب پیار کروں۔‘‘ انہوں نے خوبصورت مسہری ، لوہے کی الماری، بک شیلف، سنگار میز اور وہ تمام چیزیں خریدی ہیں جن کے سپنے کم کم دیکھا کرتی تھی۔ ستائیس سال اور بائیس سال کے اس جوڑے نے اس طرح اپنے فلیٹ کو ’’کہانیوں کے خوش قسمت جوڑوں کی طرح سنوارا تھا۔ اور وہ ہمیشہ خوش و خرم زندگی گزارنے کے منصوبے بنایا کرتے تھے۔

    لیکن نہ جانے کیوں اس گرد کی طرح ہر چیز پر اداسی چھاتی چلی گئی جو آہستہ آہستہ بکسوں، صندوقوں، چاول کے کنستروں اور بسکٹ کے ڈبوں پر جمی رہتی ہے۔ خوش و خم زندگی گزارنے کے لیے انہوں نے محنت کے ساتھ جو چیزیں اکٹھی کی تھیں ان پر ایک ان دیکھی انجانی تھکن سی طاری ہوتی چلی گئی اور اس نے ان کی زندگی میں ایسے سوراخ کرنا شروع کر دیے جیسے کیڑا اونی کپڑے میں سوراخ کرتا ہے۔

    ’’مجھے بتاؤ، تمہیں اصل پریشانی کیا ہے۔ کیا بیماری ہے؟ اگر مجھے بتاؤ گی نہیں تو میں کیسے اس کا علاج کراؤں گا۔‘‘

    لیکن کم کم راجیب کو کوئی وجہ نہیں بتا سکی سوائے اس کے کہ وہ اندھے کنویں کی تہہ میں پتھر گرنے کی آواز سنتی ہے۔ چنانچہ اب راجیب رات کو گیارہ بجے سے پہلے گھر نہیں آتا۔

    کم کم کھڑکی کے پاس کھڑی یہ ساری باتیں سوچ رہی ہے اور ڈھلتی سہ پہر کے سائے دیکھ رہی ہے۔ وہ سختی سے اپنے آپ کو سمجھاتی ہے کہ ایسی بے کار باتیں سوچنا بند کر دے ورنہ پاگل ہو جائے گی۔ وہ اپنے کپڑے اٹھاتی ہے اور نہانے کنویں پر چلی جاتی ہے۔

    کنویں کے پاس سائے والے حصے میں بالکل خاموشی ہے۔ وہ لیموں کے پیڑ کے پاس گم صم کھڑی ہے اور چاروں طرف پھیلی خاموشی کو سننے کی کوشش کر رہی ہے۔ پتوں سے بھری شاخوں کے نیچے گہرا سایہ ہے، اس میں کہیں شگاف نہیں ہے لیکن جن شاخوں پر پتے کم ہیں ان کے نیچے سایہ عجیب و غریب پیٹرن بنا رہا ہے۔ یہ پیٹرن بن رہے ہیں اور بگڑ رہے ہیں۔ کم کم نہانے کی جگہ کے قریب بنی اوٹ پر کپڑے ٹانکتی ہے اور کنویں میں جھانکتی ہے۔ کنویں کی تہہ میں کھڑا ٹھنڈا اور تاریک پانی اس کے سارے بدن میں پیاس پیدا کرتا ہے۔ اسے اس ٹھنڈے پانی میں نہانے کے خیال سے ہی جھرجھری آ جاتی ہے۔ مگر جب وہ چاروں طرف سے بانسوں کی باڑ میں گھرے غسل خانہ کے حصے میں داخل ہوتی ہے اور جھوٹا سا دروازہ بند کرتی ہے تو یکلخت اسے تنہائی کا احساس ہوتا ہے۔ لگتا ہے جیسے وہ ساری دنیا سے کٹ گئی ہے۔ مگر جب وہ کپڑے کو اتار کر بے دھیانی کی دنیا میں قدم رکھتی ہے تو احاطے اور کنویں کی خواب آلود خاموشی ایک دم بے شمار آوازوں میں بدل جاتی ہے۔ اکیلا کوا کائیں کائیں کرنے لگتا ہے او ر فاختہ کو کو کرتی ہے۔ وہ ایک اتھاہ سکون محسوس کرتی ہے کہ اس کا ننگا بدن آسمان نے دیکھ لیا ہے اور وہ آسمان اور ننگے پودوں اور پنچھیوں کے ساتھ یک جان ہو گئی ہے۔ وہ ایک ہزار پایہ اٹھا کر اپنی ہتھیلی پر رکھتی ہے اور اس کے اوپر پانی بہاتی ہے، پھر وہ دیکھتی ہے کہ ایک ٹڈا اپنا سر دونوں ٹانگوں کے بیچ لے کر رگڑتا ہے۔ ایک تتلی اندر آ کر اس کے بالوں پر بیٹھ جاتی ہے۔ وہ بے حس و حرکت کھڑی ہو جاتی ہےکہ کہیں تتلی اڑ نہ جائے۔ وہ اپنے آپ کو اس بے زبان دنیا کے سامنے کھول دیتی ہے اور اس کے ساتھ یکجان ہو جانے پر خوشی محسوس کرتی ہے۔

    نہانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں واپس آتی ہے تو حیران ہوتی ہے کہ راجیب واپس آگیا ہے اور اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے پلنگ پر پڑا ہے۔ وہ اس کی انگلیوں میں سے جھانکتا گورا ماتھا اور پتلی ناک دیکھتی ہے۔ اس نے دفتر سے آ کر کپڑے تبدیل نہیں کیے ہیں۔ جوتے بھی اسی طرح پہنے ہوئے ہیں۔ اس وقت اسے دیکھ کر اسے وہ دن یاد آجاتا ہے جب اس نے راجیب کو پہلی بار دولہا بنے دیکھا تھا۔ اس وقت اسے ایسا لگا تھا کہ وہ کہانیوں کے شہزادے سے بیاہ کر رہی ہے۔ اسے یقین نہیں آیا تھا کہ اتنا خوبصورت نوجوان ساری زندگی صرف اس کا ہو کر رہے گا۔

    ’’کیا طبیعت خراب ہے؟ آج اتنی جلدی آگئے؟‘‘

    راجیب اسے دیکھتا رہتا ہے۔ دو مہینے پہلے اگر وہ اس طرح جلدی آجاتا تو خوشی کے مارے اس کا برا حال ہو جاتا۔ اور راجیب بھی اس سے سوال کا انتظار کیے بغیر ہی بہانہ بناتا کہ ’’آج دفتر میں کام کرنے کو جی نہیں چاہا۔ سچی بات یہ ہے کہ میں تمہارے پاس رہنا چاہتا ہوں۔‘‘ لیکن آج اس نے کوئی بات کرنے کی تکلیف ہی نہیں کی۔ شاید آج اس کی طبیعت خراب ہے۔ سر میں درد ہو گا۔

    کم کم اپنی عارضی خوشی پر قابو پاتے ہوئے اس سے سوال کرتی ہے سرمیں درد ہے؟

    وہ خاموش  رہتا ہے۔

    ’’سر میں درد تھا تو تمہیں اس دھوپ میں نہیں آنا چاہیے۔‘‘ وہ ہمدردی کے ساتھ اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہتی ہے۔

    راجیب ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھتا ہے۔ ’’تم نے کھانا ابھی تک کیوں نہیں کھایا؟‘‘

    ’’میں کھانے ہی والی تھی۔‘‘

    ’’اب تک تم کیا کر رہی تھیں؟ میں صبح دس بجے گیا تھا اور اب ساڑھے تین بج رہے ہیں۔ اب تک کیا کر رہی تھیں کہ تمہیں کھانے کی فرصت بھی نہیں ملی؟‘‘

    راجیب کا لہجہ اتنا ترش ہے کہ اندازہ ہو جاتا ہے وہ سر درد کی وجہ سے گھر نہیں آیا۔ بلکہ یہ دیکھنے آیا ہے کہ اس کے پیچھے وہ کیا کرتی ہے۔ وہ اسے پکڑنے اور اس کی خبر لینے آیا ہے۔ کم کم کچھ نہیں بولتی۔ راجیب اسے ایسے دیکھتا ہے جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ اس نے کھانا کھائے بغیر اس طرح بے پروائی کے ساتھ دن گزار کر اسے ناراض کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ باورچی خانہ میں جاتی ہے اور ٹھنڈے چاولوں میں سبزی ملا کر اپنے حلق میں زبردستی ٹھونسنے کی کوشش کرتی ہے۔

    میں اپنے آپ کو نہیں سمجھتی، اس عورت کو نہیں سمجھتی جس کا نام کم کم ہے۔ میں جب چھوٹی سی تھی اور فراک پہنے تتلیوں کے پیچھے بھاگی پھرتی تھی اور گلا پھاڑ کر گانے گاتی تھی اس وقت میں نہیں جانتی تھی کہ خوشی کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ خوشی کیسی ہونا چاہیے مگر اس وقت میں خوش تھی، اس وقت میں گرم گرم نرم نرم خوشی میں نہائی ہوئی تھی۔

    کم کم باورچی خانے کی کھڑکی سے باہر اس چڑیا کو دیکھتی ہے جو پیڑ پر ادھر ادھر پھدک رہی ہے۔ وہ سوچتی ہے انسان جب خوش ہوتا ہے یا اسے تلاش کرتا ہے۔ وقت، موجودہ وقت اچانک داخل ہوتا ہے اور ہر چیز پر اپنے دانت گاڑ دیتا ہے۔ ہر چیز کو چیر پھاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ مگر ماضی دائم رہتا  ہے۔ یادداشت ان جانے طور پر ماضی کی ہر چیز کو خوشی کی نرم ملائم جھلی میں لپیٹ لیتی ہے۔

    کم کم اپنے آوارہ خیالوں کو یکجا کرتی ہے۔ میں جب بڑی ہوئی تو میں نے خوشی کے خواب دیکھنا شروع کیے خاص طور پر جب میں کالج میں گئی۔ اور حیرت کی بات ہے کہ میں نے جن چیزوں کے بھی خواب دیکھے تھے اور انہیں خوشی کے لیے ضروری سمجھا تھا وہ سب مجھے مل گئیں۔ مجھے راجیب مل گیا۔ مجھے آرام، آسائش مل گئی۔ میں نے اپنے خوابوں کی تمام چیزوں کو اچھی طرح سجایا۔ یہ اور بات ہے کہ کپڑوں کی الماری ٹھیک لکڑی کی نہیں ہے، کٹھل کی لکڑی کی بنی ہوئی ہے۔ باقی الماریاں بھی سستے قسم کی ہیں۔ میں نے جو بھی خواب دیکھا وہ پورا ہوا۔ لیکن یہ خوشی اس وقت تک رہی جب تک میں اس کے خواب دیکھتی رہی اور جونہی خواب کی تعبیر ملی اس کے ساتھ ہی وہ خوشی غائب ہو گئی۔ جو چیز مجھے خواب میں خوش کرتی ہے وہ حقیقت میں نہیں کرتی۔

    کم کم کھانا کھا کر باہر نکلی تو سورج ڈھلنے لگا تھا۔ وہ کھڑی آسمان کو زرد ہوتا اور چڑیوں کو آسمان کی طرف اڑتا دیکھتی رہی۔ سورج ڈوبنے سے پہلے کی خوبصورت سہ پہر کم کم کو محسوس ہوتا  ہے کہ اب اس کی زندگی میں جو خوشی باقی ہے وہ اسے اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ آسمان کو دیکھتی ہے، جب پیڑوں پر گلہریوں کو چھلانگیں لگاتے دیکھتی ہے، یہی اس کی خوشی ہے۔ فطرت کے ساتھ یک جان ہو جانے کا پرسکون احساس ہی اصل خوشی ہے۔ میں ساری زندگی کے لیے یہی خوشی چاہتی ہوں۔ یہ سوچ کر وہ کمرے کی طرف پلٹتی ہے۔ وہ دکھ اور افسردگی کے غار کی طرف مڑتی ہے۔ دروازے کے قریب اسے چھپکلی نظر آتی ہے، فحش حد تک لمبی چھپکلی، جو پلکوں کے بغیر آنکھوں سے ایک ننھے منے کیڑے پر شست باندھے بیٹھی ہے۔ کم کم ٹھہر جاتی ہے۔ وہ چھپکلی کو نشانہ لگانے اور ننھے کیڑے کو اس خطرہ سے بے خبر دیکھتی ہے تو اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے اچھل آتے ہیں۔ چھپکلی آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہے۔ ایک عریاں لہر اس کی پیٹھ سے دم کے سرے تک پھیل جاتی ہے۔ چھپکلی اب کیڑے کے قریب پہنچ چکی ہے اور دم سادھے کھڑی ہے۔ اس کی ٹھنڈی آہنی نظریں کیڑے پر پارے کے نقطے کی طرح جمی ہیں۔ کم کم آسمان کی جانب نظریں اٹھاتی ہے۔ پھر احاطے کی طرف دیکھتی ہے۔ فطرت بھی یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے، پلکیں جھپائے بغیر دیکھ رہی ہے۔ یہ تناؤ اس سے اور برداشت نہ ہو سکا اور جیسے ہی چھپکلی نے کیڑے پر چھلانگ لگائی وہ چیخ مار کر کمرے کے اندر گھس گئی۔

    راجیب بستر پر پڑا کم کم کو دیکھ رہا ہے۔ وہ اپنے آپ کو سنبھالنے کے لیے کرسی کا سہارا لیتی ہے۔ پھر وہ میز کی نرم سطح پر ہاتھ پھیرتی ہے، کتابوں کی الماری پر ہاتھ رکھتی ہے اور کمرے کی ہر چیز کو چھو کر دیکھتی ہے جیسے اپنے خوابوں کی ہر چیز کو اپنی حفاظت کے لیے جگا رہی ہو۔ پھر اچانک زمانہ حال کے بے رحم دانت سارے فرنیچر اور ساری چیزوں کو چیر پھاڑ کر بے جان اور جامد بنا دیتے ہیں۔ جیسے اس کے وجود کی اکتاہٹ سے وہ بے جان ہو گئے ہوں۔ وہ دیکھتی ہے کہ راجیب اسے اپنی بانہوں میں بھینچے کھڑا ہے اور اس کی آنکھوں میں جھانک رہا ہے۔ حیران پریشان اور پھر وہ نوجوان عورت اور کچھ نہیں دیکھ سکتی۔ اسے بے چینی اور نامرادی کا وہ تاریک پانی اپنی آغوش میں لے لیتا ہے جو اس کے اپنے وجود کی گہرائیوں سے پھوٹا ہے۔