روشن گاہ
ترجمہ :صغیر ملال
رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ کیفے تقریباً خالی ہو گیا تھا۔ صرف ایک بوڑھا گاہک اب تک برآمدے میں بیٹھا تھا۔ برآمدے کے درخت کے اوپر بجلی کا بلب تھا جس کی روشنی سے بننے والے پتوں کے سائے بوڑھے کے وجود پر پھیلے تھے۔ دن کے وقت برآمدے اور سڑک پر دھول منڈلاتی تھی، لیکن رات کو اوس کے سبب، گھاس اور پودے نم آلود ہو گئے تھے۔ اور بوڑھا صاف فضا میں دیر تک بیٹھنا پسند کرتا تھا۔ کیفے کے اندر موجود دونوں ویٹرز جانتے تھے کہ بوڑھا نشے میں ہے، اور انہیں ڈر تھا کہ اگر اسے زیادہ نشہ چڑھ گیا تو وہ بغیر بل ادا کیے چل دے گا۔ یوں تو بوڑھا گاہک تھا لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ مدہوشی میں وہ کیا کرے گا۔ یہی وجہ تھی کہ دونوں ویٹرز اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
’’گزشتہ ہفتے اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔ ‘‘ ایک ویٹر نے کہا۔
’’کیوں؟‘‘ دوسرے نے پوچھا۔
’’کوئی وجہ نہیں تھی۔‘‘
’’تم کیسے کہہ سکتے ہو؟‘‘
’’یہ بہت دولت مند ہے۔‘‘ پہلا ویٹر فیصلہ کن انداز میں بولا۔
دونوں ویٹرز دروازے کے ساتھ لگے بیٹھے تھے اور مستقل برآمدے کی جانب دیکھ رہے تھے۔ تمام میزیں خالی تھیں۔ بوڑھا پتوں کے سائے تلے بیٹھا تھا، اور پتے ہوا کے ساتھ مسلسل حرکت کر رہے تھے۔
بوڑھے نے اپنا خالی گلاس، میز سے ٹکرایا۔
نوجوان ویٹر اس کی بات سننے پتوں کے سائے میں چلا گیا۔
’’کیا چاہیے؟‘‘
بوڑھا کچھ دیر ویٹر کو دیکھتا رہا۔’’ایک اور...... برانڈی۔‘‘
’’تمہیں نشہ چڑھ جائے گا۔‘‘ ویٹر نے کہا۔
بوڑھا بدستور اسے دیکھتا رہا۔ ویٹر کیفے کے اندر چلا گیا۔
’’لگتا ہے ساری رات بیٹھے گا۔‘‘ وہ اپنے ساتھی کے پاس پہنچ کر بڑبڑایا۔ ’’مجھے تین بجے سے پہلے سونا نصیب نہیں ہوتا۔ کم بخت خودکشی میں کامیاب ہو جاتا تو اچھا تھا۔‘‘
ویٹر نے یوں ہی بڑبڑاتے ہوئے برانڈی کی بوتل اٹھائی اور کیفے سے نکل کر ایک مرتبہ پھر پتوں کے سائے میں پہنچا۔ اس نے برانڈی سے بوڑھے کا گلاس بھر دیا۔
’’تم خود کو مار ہی لیتے تو اچھا تھا۔‘‘ ویٹر نے آہستہ سے کہا۔
وہ جانتا تھا کہ بوڑھا اونچا سنتا ہے۔
’’ ......اور ڈالو۔‘‘ بوڑھے نے اپنی بات واضح کرنے کے لیے ہاتھ سے اشارہ بھی کیا۔
اس مرتبہ ویٹر نے گلاس اتنا بھر دیا کہ تھوڑی سی برانڈی گلاس سے چھلک کر میز کی سطح داغ دار کر گئی۔
’’شکریہ ۔‘‘ بوڑھے نے بغیر سر اٹھائے کہا۔
ویٹر کیفے میں واپس چلا گیا۔ وہ برانڈی کی بوتل الماری میں رکھ کر دوبارہ اپنے ساتھی کے پاس بیٹھ گیا۔
’’اب وہ نشے میں ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’وہ ہر رات نشے میں ہوتا ہے۔‘‘
’’اس نے خود کو مارنا کیوں چاہا تھا؟‘‘
’’مجھے کیا معلوم۔‘‘
’’طریقہ کیا تھا۔‘‘
’’گردن میں رسی ڈال کر۔‘‘
’’بچا کیسے؟‘‘
’’اس کی بھانجی پہنچ گئی تھی۔‘‘
’’اس کے پاس پیسے کتنے ہیں؟‘‘
’’بہت۔‘‘
’’اسی سال کا تو ہو گا۔‘‘
’’اتنا تو ہونا چاہیے۔‘‘
’’کاش اب یہ گھر چلا جائے۔ میں تین بجے سے پہلے نہیں سو پاتا۔ کیا مصیبت ہے۔‘‘
’’اس کو جاگنا پسند ہے۔‘‘
’’یہ اکیلا رہتا ہے۔ لیکن میں اکیلا نہیں ہوں۔ میری بیوی میرا انتظار کرتی ہے۔‘‘
’’ایک زمانے میں اس کی بھی بیوی تھی۔‘‘
’’اب اس کی بیوی ہوتی بھی تو اس کا کیا کر سکتی تھی۔‘‘
’’کیا کہہ سکتے ہیں۔ ممکن ہے بیوی کے ساتھ یہ خوش رہتا۔‘‘
’’اس کی بھانجی تو ہے جس نے اسے بچا یا تھا۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’میں کبھی بھی اتنا بوڑھا نہیں ہونا چاہوں گا۔ بوڑھا آدمی ایک مصیبت ہوتا ہے۔‘‘
’’سب کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ صاف ستھرا بوڑھا ہے۔ دیکھو اس وقت نشے میں ہے لیکن پھر بھی بغیر چھلکائے پی رہا ہے۔ دیکھو۔‘‘
’’دیکھ رہا ہوں۔کاش یہ اب گھر جائے۔ اسے کسی کا خیال نہیں ہے۔‘‘
بوڑھے نے سر اٹھایا اور کیفے کے اندرونی حصے کی طرف دیکھا۔ دونوں ویٹرز ساتھ بیٹھے تھے۔ ایک نوجوان تھا، دوسرے کی عمر ڈھل رہی تھی۔
بوڑھے نے ایک مرتبہ پھر میز پر گلاس بجایا۔ ’’برانڈی ...... ایک اور ......‘‘ اس نے گلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بلند آواز سے کہا۔
گھر جانے کے لیے بے چین ویٹر اس کے پاس آیا۔
’’ختم۔‘‘ اس نے نشے میں دھت بوڑھے کو سمجھانے کے لیے جملوں کی بجائے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ’’بند۔ بس۔‘‘
’’ ......ایک اور ...... ‘‘ بوڑھے نے دوہرایا۔
’’ختم، بس۔‘‘ ویٹر نے گلاس اٹھا کر میز کی سطح گیلے کپڑے سے پونچھتے ہوئے حتمی انداز میں کہا۔
بوڑھا کھڑا ہو گیا۔ جیب سے چمڑے کا بٹوا نکال کر اس نے لہراتے جسم کے ساتھ پیسے گنے، بل ادا کیا اور ایک چھوٹا سا نوٹ بخشش کے طور پر الگ سے ویٹر کے ہاتھ میں رکھ کر باہر کی جانب چل دیا۔
ویٹر اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ لڑکھڑانے کے باوجود اعتماد سے چلتا بوڑھا آدمی ضعیف اور اکیلا ، مگر باوقار۔
’’تم نے اسے مزید کچھ دیر کیوں نہیں ٹھہرنے دیا؟‘‘ ادھیڑ عمر ویٹر نے نوجوان ویٹر سے پوچھا۔ ’’ابھی ڈھائی نہیں بجے ہیں۔‘‘
’’میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اپنے بستر پر۔‘‘
’’ایک گھنٹہ کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ میرے لیے بہت ہے۔‘‘
’’ایک گھنٹہ تو ایک گھنٹہ ہی ہوتا ہے۔‘‘
’’تم خود بوڑھے آدمیوں کی طرح بات کرتے ہو۔‘‘ نوعمر ویٹر چڑ کر بولا۔ ’’اسے اتنا ہی شوق ہے تو بوتل خرید کر گھر لے جائے۔ صبح تک پئے ایک ہی بات ہے۔‘‘
’’ایک ہی بات تو نہیں ہے۔‘‘
’’ہاں، فرق تو ہے۔‘‘ شادی شدہ ویٹر نے خود اپنی ہی بات کی مخالفت میں سر لایا۔ وہ غلط بات پر اصرار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ صرف جلدی میں تھا۔
’’تمہیں وقت سے پہلے گھر پہنچنے پر کسی ناخوشگوار بات کا خدشہ نہیں ہوتا۔‘‘
’’تم میری بے عزتی کر رہے ہو۔‘‘ نوجوان سنجیدہ ہو گیا۔
’’نہیں ۔ نہیں۔ ‘‘ ادھیڑ عمر ویٹر نے مسکرا تے ہوئے وضاحت کی۔ ’’مذاق کر رہا ہوں۔ یقین کرو، محض مذاق۔‘‘
’’مجھے کسی ناخوشگوار بات کا ڈر نہیں۔‘‘ نو عمر ویٹر کیفے کے دروازے بند کرتے ہوئے بولا۔ ’’مجھے اعتماد ہے۔ میرا وجود اعتماد کی مٹی سے بنا ہے۔‘‘
’’تمہارے پاس نوجوانی ہے۔ اعتماد ہے۔ نوکری ہے۔‘‘
ادھیڑ عمر ویٹر نے ٹھنڈی سانس بھری۔ ’’تمہارے پاس ہر چیز ہے۔‘‘
’’تمہارے پاس کس چیز کی کمی ہے۔‘‘
’’سوائے نوکری کے، ہر چیز کی ...... میں کبھی بھی پراعتماد نہیں رہا اور اب میں نوجوان بھی نہیں ہوں۔‘‘
چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
’’ ...... میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ہوٹلوں میں دیر تک ٹھہرنا چاہتے ہیں۔‘‘ ڈھلتی عمر والے ویٹر کی نظریں خلا میں گڑ گئیں۔ ’’وہ لوگ جو بستر پر نہیں جانا چاہتے۔ جنہیں رات کے وقت صاف ستھری اور روشن جگہوں کی تلاش ہوتی ہے۔‘‘
’’میں تو گھر جا کر سونا چاہتا ہوں۔‘‘ چھوٹا اکتاہٹ سے بولا۔
’’ہم دو مختلف لوگ ہیں ...... اور یہ صرف نوجوانی اور اعتماد کی کمی کے باعث نہیں ہے۔ میں ہر رات کیفے بند کرنے سے پہلے سوچتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کوئی کیفے میں بیٹھنے آئے، اور اسے مایوسی ہو۔‘‘
’’لیکن پچھلی گلیوں کے شراب خانے تو رات بھر کھلے رہتے ہیں۔‘‘
’’تم سمجھ نہیں رہے۔ پچھلی گلیوں کے شراب خانے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ ایک صاف ستھرا اور روشن کیفے ہے۔ اس طرح کی جگہ رات کے اندھیرے اور تنہائی میں بہت خوشگوار محسوس ہوتی ہے اور خاص طور پر ایسے وقت جب پتوں کے سائے پڑ رہے ہوں۔‘‘
’’شب بخیر۔‘‘ چھوٹے نے جماہی لیتے ہوئے کہا۔
’’شب بخیر۔‘‘ بڑے نےجواب دیا۔ بتیاں بجھانے کے دوران وہ مستقل خود کلامی کرتا رہا۔ ’’اصل چیز تو روشنی ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ جگہ صاف ستھری ہو۔ موسیقی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ موسیقی کی قطعی ضرورت نہیں ہوتی۔ پچھلی گلیوں میں شراب خانوں میں تو آدمی صحیح انداز میں کھڑا بھی نہیں ہو سکتا حالانکہ رات بھر وہی کھلے رہتے ہیں۔‘‘
وہ کس چیز سے ڈر رہا تھا؟ نہیں اسے ڈرنا نہیں کہہ سکتے۔ یہ خوف نہیں تھا۔ یہ کچھ بھی نہیں تھا۔ کوئی کچھ بھی نہیں تھا۔ آدمی خود بھی کچھ نہیں تھا۔ بس اتنی سی بات تھی اور صرف روشنی کی ضرورت تھی۔ روشنی کی اور تھوڑی سی صفائی اور سلیقے کی۔ کچھ ناروا میں رہتے تھے، لیکن اسے محسوس نہیں کرتے تھے۔ مگر وہ جانتا تھا یہ سب ناروا ہے۔ ناروا، خالص ناروا۔ ہمارا ناروا جو ناروا میں ہیں۔ ناروا کی قسم، ناروا کی بستی میں ناروا ہو گا، جیسا کہ ناروا میں ہے۔ ہمیں ناروا دو۔ ہمارا روزانہ کا ناروا۔ اور ہمیں ناروا سے ناروا تک سبل کرو۔ اور ناروا میں ناروا کا عمل روک کرناروا سے نجات دلاؤ کہ ہم نارواؤں سے الگ ہو کر ناروا سے ایک ہو سکیں۔ قائم رہے کچھ بھی نہیں کہ جو بھرا ہوا ہے کچھ بھی نہیں ہے ، اور رہے گا تیرے ساتھ ہمیشہ کچھ بھی نہیں۔
وہ مسکرایا اور اس شراب خانے میں داخل ہو گیا جہاں کافی کی مشین نصب تھی۔
’’کیا چاہیے؟‘‘ کاؤنٹر کے پیچھے کھڑے شخص نے پوچھا۔
’’ناروا۔ ایک پیالہ۔‘‘
بار مین نے حیرت سے دیکھا اور اس کے لیے کافی انڈیلی۔
’’یہاں روشنی تو مناسب ہے۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’لیکن دیواوں کو سلیقے سے سجایا نہیں گیا۔ اور صفائی۔‘‘
بار مین اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں بولا۔ اتنی رات گئے، نئے موضوع پر گفتگو کا آغاز بے معنی تھا۔
’’کچھ اور چاہیے؟‘‘ بارمین نے پوچھا۔
’’نہیں، شکریہ۔‘‘ ویٹر نے کہا اور کافی ختم کرکے خاموشی سے روانہ ہو گیا۔ اسے پچھلی گلیوں کے شراب خانے یوں بھی اچھے نہیں لگتے تھے۔ کسی روشن اور صاف ستھری جگہ کی بات ہی اور ہوتی ہے۔ اب وہ مزید کچھ سوچے بغیر اپنے گھر جائے گا، بستر پر دراز ہو گا اور صبح کی روشنی کے ساتھ آنکھیں موندنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
’’مجھے بے خوابی کی شکایت ہے۔ ‘‘ اس نے خود کو یقین دلایا۔ ’’اکثر لوگوں کو یہ مرض ہوتا ہے۔‘‘