ارنسٹ ہیمنگوے

ارنسٹ ہیمنگوے

دیارِ غیر میں

    ترجمہ: خاقان ساجد

    موسم خزاں میں جنگ ہنوز جاری تھی مگر ہم اس میں حصہ نہیں لے رہے تھے۔میلان میں شدید سردی تھی اور اندھیرا جلدی پھیلنے لگا تھا۔ جب برقی قمقمے جلتے تو سڑکوں کے کنارے روشن کھڑکیاں دیکھنا اچھا لگتا۔ دکانوں پر بڑی رونق نظر آتی۔ لومڑیوں کی کھال میں برف کے ذ رے اٹکے دکھائی دیتے اور ان کی دمیں ہوا میں لہراتیں۔ بھوکے ہرن بظاہر بھاری معلوم ہوتے۔ فضا میں محو پرواز پرندوں کے پروں کو ہوا موڑنے لگتی۔ بہت سرد خزاں تھی اور پہاڑوں کی سمت سے یخ بستہ ہوا چل رہی تھی ۔

    ہر سہ پہر ہمیں ہسپتال جانا پڑتا تھا۔ وہاں جانے کے لیے شہر کے اندر سے کئی راستے تھے۔ نہر کے ساتھ دو راستے تھے مگر وہ طویل تھے۔ ہسپتال کسی بھی راستے سے جائیں نہر کو ضرور پار کرنا پڑتا۔ اس پر تین پل تھے۔ ان میں سے ایک پر مکئی کے دانے بیچنے والی عورت بیٹھی تھی۔ ہمیں اس کے چولہے کے قریب کھڑا ہونا بہت اچھا لگتا۔ گرم گرم دانے جیب میں ڈال کر چلتے ہوئے خوشگواری کا احساس ہوتا۔ ہسپتال بہت پرانا اور قابل دید تھا۔ صدر دروازے سے داخل ہوں تو سامنے وسیع احاطہ تھا۔ باہر نکلنے کا راستہ عقبی جانب تھا۔ احاطے میں سے اکثر جنازے نکلتے نظر آتے۔ پرانی عمار ت سے پرے اینٹوں سے بنے نئے کمرے تھے۔ جہاں ہم سہ پہر ملتے۔ درپیش صورت حال نے ہمیں نرم خو بنا دیا تھا اور ہم بڑے انہماک اور دلچسپی سے ان مشینوں کو استعمال کرتے جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ بہت فرق ڈالیں گی۔

    ڈاکٹر اس مشین کی طرف بڑھا جہاں میں بیٹھا تھا اور پوچھنے لگا:

    ’’ جنگ سے پہلے تمہیں کس چیز میں بہت دلچسپی تھی؟ کیا تم کوئی کھیل کھیلنا پسند کرتے تھے؟‘‘

    ’’ہاں۔ فٹ بال۔‘‘ میں نے جواب دیا۔

    ’’شاباش۔‘‘ وہ مسکرایا ’’تم دوبارہ فٹ بال کھیلنے کے قابل ہو جاؤ گے۔ پہلے سے بھی بہتر کھیلا کرو گے۔‘‘

    میرا گھٹنا مڑتا نہیں تھا۔ ٹخنے سے گھٹنے کے جوڑ تک تکلیف تھی۔ جس کے سبب ٹانگ سیدھی رکھنا پڑتی۔ مشین کے ذریعے میرے گھٹنے کو آہستہ آہستہ موڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی، جیسے سائیکل چلاتے ہوئے موڑا جاتا ہے۔ ابھی تک تو یہ اسی حالت میں تھا۔ تاہم ڈاکٹر روزانہ مجھے تسلی دیتا:

    ’’فکر نہ کرو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ تم جوان اور خوش قسمت ہو۔ تم دوبارہ ایک چیمپئن کی طرح کھیل سکو گے۔‘‘

    میرے پہلو میں رکھی مشین ایک میجر صاحب کے زیر استعمال تھی۔ ان کا ہاتھ چھوٹا سا تھا جیسے بچوں کا ہوتا ہے۔ اسے دو چرمی پٹیوں میں باندھا جاتا تھا جو اس کی اکڑی ہوئی انگلیوں کو اوپر نیچے حرکت دیتیں۔ جب ڈاکٹر ان کے ہاتھ کا معائنہ کرنے لگا تو انہوں نے مجھے آنکھ ماری اور ڈاکٹر سے پوچھنے لگے:

    ’’اور کیا میں بھی فٹ بال کھیلوں گا کپتان صاحب؟‘‘

    وہ ایک بہترین تلوار باز رہ چکے تھے اور جنگ سے پہلے اٹلی کے سب سے عظیم تلوار باز تھے۔ ڈاکٹر ملحقہ کمرے میں واقع اپنے دفتر میں گیا اور ایک تصویر اٹھا لایا۔ اس میں ایک ایسا ہی ہاتھ نظر آرہا تھا جیسا میجر صاحب کا تھا۔ دوسری تصویر میں جو مشین کے متواتر استعمال کے بعد اتاری گئی تھی ، وہ ہاتھ پہلے کی نسبت بڑا لگ رہا تھا۔ میجر صاحب نے اپنے درست ہاتھ میں تصویر پکڑی اور اسے غور سے دیکھا۔

    ’’زخم؟‘‘ انہوں نے سوال کیا۔

    ’’صنعتی حادثہ‘‘ ڈاکٹر نے جواب دیا۔

    ’’بہت دلچسپ۔ بہت دلچسپ‘‘ میجر صاحب نے تصویر ڈاکٹر کو واپس کرتے ہوئے کہا۔

    ’’اب یقین آیا ہے؟‘‘

    ’’نہیں!‘‘ میجر نے جواب دیا۔

    ہمارے علاوہ تین نوجوان روزانہ وہاں آتے تھے۔ وہ میرے ہم عمر تھے۔ تینوں کا تعلق میلان ہی سے تھا۔ ان میں سے ایک وکالت کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ ایک پینٹر بننا چاہتا تھا جبکہ ایک کا ارادہ فوج میں بھرتی ہونے کا تھا۔ جب ہم ورزش سے فراغت پاتے تو بسا اوقات ہم کیفے کو وا میں جا بیٹھتے۔ یہ سکالا سے متصل تھا۔ جب ہم چاروں اکٹھے ہوتے تو مختصر راستہ اختیار کرتے جو کمیونسٹوں کی آبادی کے اندر سے گزرتا تھا۔ لوگ ہم سے نفرت کرتے تھے کیونکہ ہم آفیسر تھے۔ بعض اوقات دکانوں کے اندر سے ہم پر پھبتیاں کسی جاتیں۔ ایک اور نوجوان بھی کبھی کبھار ہمارے ساتھ ہوتا۔ وہ اپنے چہرے کو ایک ریشمی نقاب سے چھپائے رکھتا تھا۔ اس کی ناک کٹی ہوئی تھی۔ جس کی پلاسٹک سرجری ہونا تھی۔ ملٹری اکیڈمی سے اسے سیدھا محاذ پر بھیج دیا گیا تھا جہاں وہ پہلے ہی گھنٹے میں شدید زخمی ہو گیا۔ ڈاکٹروں نے اس کا چہرہ ازسرنو درست کیا مگر ناک ٹھیک نہیں بن رہی تھی۔ وہ ایک پرانے خاندان سے تعلق رکھتا تھا جن کی ناک مخصوص طرز کی ہوتی ہے۔ پھر ایک روز وہ جنوبی امریکہ چلا گیا جہاں اسے کسی بینک میں ملازمت مل گئی تھی۔ لیکن یہ پرانی بات ہے۔ تب ہم میں سے کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ مستقبل میں کیا ہو گا۔ ہمیں صرف یہ پتا تھا کہ جنگ جاری ہے اور جاری رہے گی۔

    ہم سب کے سینے پر تقریباً ایک جیسے تمغے سجے ہوئے تھے۔ سوائے نقاب پوش نوجوان کے ۔ وہ محاذ پر رہا ہی کتنی دیر تھا کہ اسے تمغہ ملتا۔ وہ زرد رو قد آور نوجوان جووکیل بننا چاہتا تھا اردیتی میں لیفٹیننٹ رہا تھا۔ اس کے سینے پر ہمارے ایک تمغے سے مشابہ تین تمغے سجے ہوئے تھے۔ اس نے موت کے سائے میں لمبا عرصہ گزارا تھا اور قدرے الگ سا نظر آتا تھا۔ ویسے تو ہم سبھی ایسے تھے۔اگر کوئی قدر مشترک تھی تو یہی کہ ہم ہر سہ پہر ہسپتال میں اکٹھے ہوتے تھے۔ ہم جب عداوت رکھنے والوں کی آبادی سے اندھیرے راستے پر چلتے ہوئے کووا کی جانب بڑھتے تو شراب خانوں سے چھن کر باہر آتی روشنی میں عورتوں اور مردوں کے ہجوم سے ہمیں بڑی گھبراہٹ ہوتی۔ ہم ان کے درمیان کسی انجانے خوف اور عدم تحفظ کے احساس کے تحت ایک دوسرے سے جڑ کر چلتے۔ کھوے سے کھوا چھلتا۔ ہماری اندرونی کیفیات سے وہ لوگ جو ہمیں نا پسند کرتے تھے، آگاہ نہ ہو پاتے۔

    ہمیں کووا بہت پسند تھا جس کااندرونی درجہ حرارت خوشگوار رہتا۔اندر روشنی مناسب سی ہوتی۔ بعض اوقات سگریٹوں کا دھواں اور شور ضرور ہوتا تھا۔ میزوں پر لڑکیاں اور دیوار گیر ریک میں سلیقے سے رکھے رنگین تصویروں سے مزین اخبارات ہمیں بہت اچھے لگتے۔ کووا کی ویٹرس لڑکیاں بہت محب وطن تھیں۔ میں نے محسوس کیا کہ اٹلی میں سب سے زیادہ محب وطن ہوٹلوں اور چائے خانوں کی ویٹرس لڑکیاں ہیں۔ اور مجھے پختہ یقین ہے کہ اب بھی یہی صورت حال ہو گی۔

    پہلے پہل نوجوان میرے سینے پر سجے تمغوں کے بارے میں بہت متجسس تھے۔ وہ مجھ سے استفسار کرتے کہ میں نے انہیں حاصل کرنے کے لیے کیا کارنامے سر انجام دیے تھے۔ میں نے انہیں وہ کاغذات دکھائے جن پر بہت خوبصورت انداز میں تعریفی کلمات لکھے تھے مگر ہر سطر سے یہ حقیقت ٹپکتی تھی کہ مجھے محض اس لیے تمغوں کا مستحق سمجھا گیا کہ میں ایک امریکی تھا۔اس کے بعد میرے ساتھ ان کا رویہ خاصا بدل گیا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ میں مخالفوں کے مقابلے میں بہرحال ان کا ساتھی تھا۔ میں ان کا دوست تھا مگر سچی بات یہی ہے کہ تعریفی اسناد پڑھنے کے بعد وہ مجھے اپنا نہیں سمجھتے تھے۔ کیونکہ انہیں اپنے تمغے کمانے کے لیے مختلف حالات سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ میں زخمی ضرور ہوا تھا۔ مگر سب جانتے تھے کہ میرا زخمی ہونا تو ایک حادثاتی امر تھا۔ مگر مجھے اپنے تمغوں پر شرمندگی کا احساس نہیں ہوتا تھا بلکہ مہ نوشی کے بعد مجھے یہی خیال آتا کہ میں نے بھی ان کی طرح بہادری اور دلیری دکھا کر تمغے حاصل کیے تھے۔ مگر جب اندھیرے سنسان راستے سے گزر کر میں سرد ہوا کے تھپیڑوں سے بچتا، سٹریٹ لائٹ کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہوا اپنے ٹھکانے کا رخ کرتا تو انجانےخوف کا احساس دامن گیر رہتا۔ رات کو بستر پر لیٹے لیٹے میں موت کے ڈر سے لرز اٹھتا اور یہ سوچ میرے ذہن میں گردش کرنے لگتی کہ اگر دوبارہ محاذ پر بھیج دیا گیا تو میرا کیا بنے گا۔

    تینوں تمغہ یافتہ نوجوان شاہین صفت تھے۔ میرے اندر شاہینوں والی ایک صفت بھی نہیں تھی۔ وہ الگ بات کہ دیکھنے میں میں ان لوگوں کو شکاری عقاب ہی نظر آتا ہوں گا جنہوں نے کبھی شکار نہ کیا ہو۔ وہ تینوں حقیقت حال سے باخبر تھے۔ اس لیے ہم میں فاصلہ بڑھنے لگا۔ لیکن اس نوجوان سے میری اچھی دوستی رہی جو محاذ پر جاتے ہی زخمی ہو گیا تھا۔ اگر وہ محاذپر رہتا تو جرأت و بہادری کے حوالے سے کیا کرتا اس کا علم کسی کو نہیں تھا۔ اس لیے وہ اسے بھی درخوراعتنا نہیں سمجھتے تھے۔ تاہم میں اسے پسند کرتا تھا کیونکہ میرا یہی اندازہ تھا کہ میری طرح اس میں بھی عقابوں والی کوئی بات نہیں۔

    میجر صاحب جو تلوار باز رہے تھے بہادری پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ جب ہم مشینوں پر ورزش کر رہے ہوتے تو ان کا زیادہ وقت میری گرامر ٹھیک کرنے میں گزرتا۔ انہوں نے میری اطالوی زبان بولنے کی صلاحیت کی بہت تعریف کی تھی۔ ہم آسانی سے آپس میں بات چیت کر لیتے تھے ۔ ایک دن میں نے کہا کہ مجھے اطالوی زبان اتنی سہل لگتی ہے کہ میں اسے سیکھنے کے لیے مزید کوشش اور دلچسپی درست نہیں سمجھتا۔

    ’’صحیح کہہ رہے ہو ......‘‘ میجر صاحب نے کہا۔ ’’کیوں نہ اب تمہیں گرامر سکھائی جائے؟‘‘

    اور جب میں نے حامی بھری اور گرامر کے مطابق اطالوی بولنے کی مشق شروع کی تو مجھے اطالوی دنیا کی سب سے مشکل زبان لگنے لگی! پھر جب تک میری گرامر سیدھی نہیں ہوئی مجھے میجر صاحب سے اطالوی میں بات کرتے ہوئے ڈر سا لگتا۔

    میجر صاحب ہسپتال بہت باقاعدگی سے آتے تھے۔ شاید ہی کبھی ناغہ کیا ہو۔ مگر مجھے علم ہے انہیں ان مشینوں پر بالکل اعتماد نہ تھا۔ ایک وقت ایسا تھا جب ہم میں سے کسی کو بھی ان مشینوں پر اعتماد نہ تھا او رمیجر صاحب نے صاف کہا تھا کہ یہ سب بکواس ہے۔ تب مشینیں نئی تھیں اور ہم ہی نے ان کی افادیت ثابت کرنا تھی۔

    ’’یہ خیال ہی مضحکہ خیز ہے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’محض ایک خیالی نظریہ ...... دیگر بہت سے نظریات کی طرح۔‘‘

    میں گرامر نہیں سیکھ پا رہا تھا جس کے سبب وہ مجھے ملامت کرتے کہ میں نرا چغد ہوں، ایک نالائق شاگرد۔ وہ خواہ مخواہ مجھ پر احمقوں کی طرح وقت ضائع کرتے رہے۔ وہ قدرے پستہ قد تھے اور کرسی پر ایستادہ حالت میں بیٹھتے تھے۔ اپنا ہاتھ مشین میں مطلوبہ جگہ رکھنے کے بعد وہ سامنے دیوار پر نظریں جما کر کسی سوچ میں گم ہو جاتے اور چرمی پٹیوں میں بندھا ہوا ان کا ہاتھ میکانکی انداز میں اوپر نیچے حرکت کرتا رہتا۔

    ’’جب جنگ ختم ہو جائے گی، اگر واقعی ہو گئی تو تم کیا کام کرو گے؟‘‘ ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا۔ ’’جواب گرامر کے مطابق دینا......!‘‘

    ’’میں واپس امریکہ جاؤں گا۔‘‘

    ’’کیا تم شادی شدہ ہو؟‘‘

    ’’نہیں۔ مگر امید ہے جلدہی   شادی ہو جائے گی۔‘‘

    ’’تم واقعی چغد ہو۔‘‘ انہوں نے تبصرہ کیا۔ مجھے ان کے لہجے میں ناراضی محسوس ہوئی۔ ’’آدمی کو شادی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔‘‘

    ’’کیوں سینور میگورے؟‘‘

    ’’مجھے سینور میگورے مت کہو۔‘‘

    ’’آدمی کو شادی کیوں نہیں کرنی چاہیے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

    ’’نہیں کرنی چاہیے۔ ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے تلخ اور رنجیدہ ہو کر دہرایا۔ ’’اگر آدمی نے سب کچھ کھونا ہے تو اسے خود کو ایسی صورت حال میں ڈالنا ہی نہیں چاہیے۔ اسے صرف ان چیزوں کی تمنا رکھنی چاہیے جن کے کھونے کا ڈر نہ ہو۔‘‘

    وہ اس وقت رنج و اندوہ کی تصویر بنے ہوئے تھے اور سامنے دیوار کو گھور رہے تھے۔

    ’’یہ لازم تو نہیں کہ وہ انہیں کھوئے؟‘‘

    ’’لازم ہے، لازم ہے!‘‘ انہوں نے دیوار پر نظریں گاڑھے ہوئے کہا۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ چرمی پٹیوں کی گرفت سے آزاد کیا اور اسے اپنی ران پر مارتے ہوئےتقریباً چیخ کر کہا:

    ’’وہ اسے کھو کر رہے گا۔ مجھ سے بحث مت کرو!‘‘ پھر انہوں نے نگران کو بلایا اور بولے ’’اگر اس منحوس شے کو بند کر سکو ......‘‘

    پھر وہ ملحقہ کمرے میں ہلکے علاج اور مالش کے لیے چلے گئے۔ میں نے سنا وہ ڈاکٹر سے اس کا فون استعمال کرنے کی اجازت طلب کر رہے تھے۔ پھر انہوں نے دروازہ بند کر دیا۔ جب وہ واپس لوٹے تو میں دوسری مشین پر ورزش کر رہا تھا۔ انہوں نے ٹوپی پہن کر میری طرف قدم بڑھائے اور اپنا تندرست ہاتھ میرے کندھے پر رکھتے ہوئے اداس لہجے میں کہا۔

    ’’میں معذرت خواہ ہوں۔ میں اتنا ترش رو نہیں ۔ دراصل میری اہلیہ فوت ہو گئی ہیں۔ مجھے معاف کر دو۔‘‘ انہوں نے میرا کندھا تھپتھپایا۔

    ’’اوہ ......!‘‘ میں نے جذبۂ ترحم سے مغلوب ہو کر ان کی طرف دیکھا۔

    ’’مجھے یہ سن کر افسوس ہوا ہے۔‘‘

    وہ میرے قریب کھڑے ہو کر دل گرفتگی کے عالم میں اپنا نچلا ہونٹ چبانے لگے۔ ’’بہت مشکل ہے۔ یہ صدمہ سہنا میرے لیے آسان نہیں۔ ‘‘انہوں نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔

    وہ کھڑکی سے باہر دور خلا میں گھور رہے تھے۔ پھر وہ کراہنے لگے۔ میں نے دیکھا ان کے رخساروں پر آنسو بہہ رہے تھے۔ لمحہ بھر میں انہوں نے نچلا ہونٹ بھینچ کر سر اونچا کیا، جسم سیدھا کرکے چھاتی نکالی اور نپے تلے قدموں سے سپاہیانہ انداز میں چلتے ہوئے دروازے سے باہر نکل گئے۔

    ڈاکٹر کی زبانی مجھے علم ہوا کہ میجر صاحب اپنی جوان سال بیوی سے بے حد محبت کرتے تھے۔ انہوں نے اس وقت تک شادی موخر کیے رکھی تھی جب تک انہیں طبی وجوہ کی بنیاد پر محاذ سے ہمیشہ کے لیے واپس نہ بلا لیا گیا۔ مگر تقدیر گھات میں تھی۔ ان کی بیوی چند روز نمونیا میں مبتلا رہ کر فوت ہو گئی۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ یوں اچانک مر جائے گی۔

    میجر صاحب تین دن ہسپتال نہیں آئے۔ چوتھے روز جب وہ آئے تو انہوں نے وردی پہن رکھی تھی اور ایک بازو پر سیاہ پٹی باندھ رکھی تھی۔ میں نے دیوار پر بڑی بڑی فریم شدہ تصویریں آویزاں دیکھیں جن میں مختلف انسانی اعضا کی مذکورہ مشینوں کے ذریعے علاج سے پہلے اور بعد کی حالت کی عکاسی کی گئی تھی۔ اس مشین کے عین سامنے جو میجر صاحب کے زیراستعمال تھی ایسے ہاتھوں کی تصویریں آویزاں کی گئی تھیں جو کبھی ان کے ہاتھ کی طرح مجروح تھے۔ مگر پھر بالکل تندرست ہو گئے۔ پتا نہیں ڈاکٹر وہ تصویریں کہاں سے لے آیا تھا۔ جہاں تک مجھے علم تھا، ان مشینوں کو سب سے پہلے ہم ہی نے استعمال کیا تھا۔

    تاہم ان تصویروں نے میجر صاحب پر کوئی اثر مرتب نہیں کیا کیونکہ وہ نم آلود آنکھوں سے مسلسل کھڑکی سے باہر دیکھتے رہتے تھے۔