سیاہ روٹیاں
ترجمہ: وجاہت مسعود
’’تم نے اپنی حماقت کے لیے متاع دنیا کے انبار جمع کر رکھے ہیں اور ضرورت مندوں کو روٹی کا ایک ٹکڑا دینے میں بھی تمہیں عار ہے مگر وہ دن قریب ہے جب تمہیں دردناک شعلوں میں جلایا جائے گا اور تم ایک قطرۂ اب کے لیے التجائیں کرو گے!‘‘
Ship of fools: Sebastian brandt
یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب نکولس نیرلی نامی ایک شخص فلورنس کے عالی شان شہر میں بینکار تھا۔ صبح ہوتے ہی وہ اپنی میز کے سامنے جا بیٹھتا۔ سہ پہر کا گھڑیال بج اٹھتا مگر نکولس وہیں مورچہ لگائے پستکون میں درج اعداد و شمار سے الجھتا رہتا۔شہنشاہ سے لے کر پوپ تک سبھی اس کے مقروض تھے۔ اسے رقم ڈوبنے کا خدشہ نہ ہوتا تو وہ شیطان کو بھی قرض دیتا۔ نکولس نیرلی دھانسو قسم کا شخص تھا۔ دوسروں کی جمع جتھا پر ہاتھ صاف کرکے اس نے بے اندازہ دولت سمیٹ لی تھی۔ اسی لیے اسے فلورنس شہر میں بے حد عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس کا گھر ایک بڑے محل کی صورت میں وسیع و عریض قطعۂ اراضی پر پھیلا ہوا تھا جہاں دن کے وقت بھی سورج کی روشنی صرف تنگ کھڑکیوں کے ذریعے ہی اندر پہنچ پاتی تھی۔ یہ بھی اس کی عقل مندی کی دلیل تھی کیونکہ امیر آدمی کا گھر ایک قلعہ ہونا چاہیے تاکہ مکاری سے ہتھیائی ہوئی دولت کی حفاظت طاقت سے کی جا سکے۔
اسی طرح کھڑکیوں میں آہنی سلاخیں لگائی گئی تھیں اور دروازوں پر زنجیر سرشام ہی چڑھا دی جاتی تھی۔ گھر کی بیرونی دیواروں پر ذہین، ہنرمندوں سے نقاشی کرائی گئی تھی۔ اس میں نیکی کی نسوانی شبیہیں تھیں نیز قبائلی سرداروں ، بنی اسرائیل کے بادشاہوں اور پیغمبروں کی تصویر کشی کی گئی تھی، کمروں میں آویزاں پردوں پر سکندر اعظم اور اسی قبیل کے دیومالائی کرداروں کی عکاسی تھی۔ نکولس نیرلی نے پل ، چاہ اور تالاب کی صورت شہر میں نام کے اسباب کھڑے کر رکھے تھے۔ شہر پناہ سے باہر ایک عالی شان سرائے تعمیر کی تھی جس کی دیواروں پر اس کی اپنی زندگی کے کارہائے نمایاں کی عکاسی کی گئی تھی۔ سانٹا میریا کے گرجے کی تعمیر میں اس نے جس طور دل کھول کر چندہ دیا اس کی شکرگزاری کے لیے گرجا میں نمایاں جگہ پر اس کا مجسمہ نصب کیا گیا۔ اس مجسمے میں نکولس نیرلی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، مقدس مریم کے قدموں میں ، گھٹنوں کے بل جھکا تھا اور اپنی سرخ ٹوپی ، پشمینے کے عمامے اور شلجمی چہرے کے طول و عرض میں غرق گول گول آنکھوں سے صاف پہچانا جاتا تھا۔
اس کی نیک بیوی بھی مقدس مریم کے دوسری طرف سرنگوں تھی۔ اس خاتون کی صورت پر ایسی سوگواری برستی تھی کہ اس کی صحبت سے تلذذ اٹھانے کی خواہش ہی دیکھنے والوں کے دل میں دم توڑ دیتی تھی۔
نکولس نیرلی کو سرکار دربار میں بڑا رسوخ حاصل تھا۔ اس نے کبھی کسی قانون کے خلاف زبان نہیں کھولی تھی۔ غریب غربا سے اسے طبعاً تنفر تھا۔ ملک و قوم کے باغیوں سے اسے کوئی واسطہ نہیں تھا۔چنانچہ اپنی بے پناہ دولت کے بل پر اس نے جو عزت کمائی تھی، وہ روز بروز بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔
سردیوں کی ایک شام وہ گھر کو لوٹ رہا تھا۔ اسے معمول سے کچھ دیر ہو چکی تھی۔گھر کی دہلیز پر نیم عریاں درویشوں کے ایک ہجوم نے اسے گھیر لیا اور ہاتھ پھیلائے بھیک مانگنے لگے۔
اس نے سخت سست کہہ کر اپنی جان چھڑانا چاہی مگر وہ مارے بھوک کے بھیڑیوں کی طرح نڈر ہو رہے تھے۔ انہوں نے اس کے گرد دائرہ بنا لیا اور اپنی پھٹی ہوئی قابل رحم آوازوں میں روٹی کا مطالبہ کرنے لگے۔ وہ جھک کر انہیں مارنے کے لیے پتھر اٹھانا چاہتا تھا۔ اچانک اس کی نظر اپنے ملازم پر پڑی جو روٹیوں کی ٹوکری سر پر اٹھائے گھر سے نکل رہا تھا۔ یہ روٹیاں اصطبل کے سائیسوں، خانساموں اور مالیوں کے لیے جا رہی تھیں۔
اس نے ہاتھ کے اشارے سے ملازم کو بلایا اور دونوں ہاتھ ٹوکری میں ڈال کر کچھ روٹیاں نکالیں اور بھوکوں کی طرف اچھال دیں۔گھر میں داخل ہو کر وہ بستر کی طرف گیا اور تکیے پر سر رکھتے ہی اسے نیند آگئی۔ رات کے وقت اس پر مرگی کا حملہ ہو گیا۔ اس کی مو ت اس سرعت سے حملہ آور ہوئی کہ وہ اپنے خیال میں ابھی بستر پر ہی تھا کہ اس نے خود کو کال کوٹھڑی جیسی کسی جگہ پر پایا، جہاں فرشتہ مائیکل اپنے وجود سے نکلتی روشنی میں نہایا بڑے انہماک سے ترازو ہاتھ میں تھامے پلڑوں میں کچھ رکھ رہا تھا۔
نکولس نے دیکھا کہ نیچے جھکے پلڑے میں کچھ جواہرات تھے جو بیوہ عورتوں نے اس کے پاس رہن رکھوائے تھے، سونے کے وہ ٹکڑے تھے جو وہ گاہکوں کے زیورات سے چھیل لیا کرتا تھا۔ سونے کے سکے تھے جو اس نے سود یا دھوکا دہی سے کمائے تھے۔ نکولس نیرلی کو یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ خود اس کی زندگی کا مآل تھا، جس کی منصفی اس کی آنکھوں کے سامنے ہو رہی تھی۔
’’جناب عالی!‘‘ اس نے کہا۔ ’’اگر آپ کی طبیعت پر بار نہ ہو تو یہ عرض کروں کہ اگر آپ ایک پلڑے میں میرے افعال بد رکھ رہے ہیں تو دوسرے پلڑے میں میری وہ نیکیاں رکھنا نہ بھولیں جن کا ایک عالم میں شہرہ تھا۔ سانٹا میریا کے گرجا گھر کو مت بھولیے جس کی تعمیر کے ایک تہائی اخراجات میں نے برداشت کیے تھے اور پھر شہر پناہ سے باہر وہ سرائے جسے میں نے اپنی جیب سے تعمیر کروایا۔‘‘
’’فکر مت کرو ، نکولس نیرلی۔‘‘ فرشتے نے جواب دیا۔ ’’مجھے بھولنے کی عادت نہیں ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے سانٹا میریا کا گرجا اور منقش دیواروں والی سرائے اٹھا کر دوسرے پلڑے میں ڈال دی مگر پلڑے میں کوئی جھکاؤ پیدا نہ ہوا۔
فلورنس کا بینکار کچھ پریشان ہو گیا۔
’’محترم سینٹ مائیکل! دوبارہ توجہ فرمائیے! آپ نے پلڑے میں مقدس پانی کا وہ فوارہ تو رکھا ہی نہیں جو میں نے سان گیوانی کے گرجا گھر میں بنوایا تھا اور سینٹ اینڈریا کا وہ منبر بھی مجھے نظر نہیں آرہا جس پر یسوع مسیح کے بپتسمہ کی قد آدم عکاسی تھی۔ اس منبر کے لیے مجھے فنکار کو خاصی رقم دینا پڑی تھی۔‘‘
فرشتے نے منبر اور فوارہ اٹھا کر سرائے کے اوپر رکھ دیے مگر میزان میں کوئی جنبش پیدا نہ ہوئی۔ نکولس نیرلی کو لگا اس کا ماتھا ٹھنڈے پسینے سے بھیگتا جا رہا تھا۔
’’محترم! کیا آپ کو یقین ہے کہ میزان میں کوئی خرابی نہیں ہے؟‘‘
فرشتے نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ یہ پیرس کے آڑھتیوں یا وینس کے تاجروں کا میزان نہیں تھا لہٰذا اس کے درست ہونے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
’’خوب! نکولس نے گہری سانس لے کر کہا۔ اس کا رنگ چونے کی طرح سفید پڑتا جا رہا تھا۔ ’’گویا گرجا، فوارہ ، منبر اور بے شمار بستروں والی سرائے کا وزن کسی پرندے کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔‘‘
’’تم خود ہی دیکھ لو!‘‘فرشتے نے جواب دیا۔ ’’تمہاری گمراہیوں کے مقابلے میں تمہاری بر خود غلط نیکیاں پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتیں۔‘‘
پھر تو مجھے جہنم میں جانا ہو گا۔‘‘ نکولس تقریباً رو دیا۔ دہشت کے مارے اس کے دانت بجنا شروع ہو گئے۔
’’صبر! نکولس نیرلی، صبر!‘‘ منصف فرشتے نے بڑے رسان سے کہا۔ ’’ابھی ہمارا کام ختم نہیں ہوا۔ ابھی کچھ افعال کا وزن ہونا باقی ہے۔‘‘
یہ کہتے ہوئے اس نے وہ سیاہ روٹیاں اٹھائیں جو نکولس نے درویشوں میں بانٹی تھیں اور نیکیوں والے پلڑے میں ڈال دیں۔ یکایک میزان میں حرکت پیدا ہوئی۔ ایک پلڑا اوپر کو اٹھا دوسرا نیچے جھکا اور دونوں پلڑے متوازن ہو گئے۔ ترازو کی ڈنڈی افقی سطح کے عین متوازی تھی، عموداً کھڑی ہوئی ظاہر کر رہی تھی کہ دونوں پلڑے میں ایک جیسا وزن تھا۔
بینکار کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا مگر مہربان فرشتہ بڑی سنجیدگی سے گویا ہوا:
’’سنو نکولس نیرلی! تمہارے اعمال ظاہر کرتے ہیں کہ تم ابھی جنت اور جہنم میں سے کسی کے بھی حقدار نہیں ہو۔ فلورنس واپس چلے جاؤ اور شہر والوں میں وہی روٹیاں بانٹو جو تم نے پچھلی رات کے جھٹپٹے میں اس وقت گداگروں کو دی تھیں جب کوئی تمہیں دیکھنے والا نہیں تھا۔ تمہاری نجات ہو جائے گی۔ خدا کی رحمتیں لامحدود ہیں۔ اگر وہ توبہ کرنے والے چور کو بخش سکتا ہے ، آنسو بہانے والی فاحشہ کی مغفرت کر سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کوئی شخص محض اپنی دولت کے کارن جہنم میں چلا جائے۔ مگر وہ روٹیاں تقسیم کرنا نہ بھولنا جنہوں نے آج تیرے میزان کو تلپٹ کر دیا تھا۔ بس اب چلتے بنو!‘‘
اور نکولس اپنے بستر میں بیدار ہو گیا۔ اس نے اپنے دل میں عہد کیا کہ پوری ایمانداری سے فرشتے کی نصیحت پر عمل کرکے جنت میں داخلے کا استحقاق حاصل کرے گا۔
اس کی پہلی موت کے بعد وہ مزید تین برس جیا۔ اس عرصے میں وہ ناداروں کا دوست رہا اور دل کھول کر ان کی مدد کرتا رہا۔