اناطول فرانس

اناطول فرانس

نٹ

    ترجمہ: محمد رضا انصاری

    شاہی زمانے میں فرانس کے ایک شہر میں، برنا بانامی ایک نٹ رہا کرتا تھا۔ اس کا قاعدہ تھا کہ شہر شہر اور گاؤں گاؤں گھوم کر اپنے کرتب دکھایا کرتا اور لوگ اس کی مہارت اور صاحب کمال ہونے کا اعتراف کیا کرتے تھے۔ اس طرح اس کا نام دور دور پھیلا ہوا تھا۔

    بازار کے روز ، برنابا کسی کھلی جگہ اپنی پرانی اور بوسیدہ کملی بچھا کر بیٹھ جاتا اور دلچسپ اور مذاقیہ باتوں سے، جو اس نے ایک خاندانی نٹ سے سیکھی تھیں اور اپنی طرف سے ان میں کوئی ردوبدل نہیں کیا تھا، بچوں اور کھلنڈرا مزاج رکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کر لینے کے بعد، کھیل شروع کر دیتا اور اس میں عجیب عجیب حرکتیں کرتا ...... ناک کی پھنگی پر ایک بڑا سا طباق رکھ کر ناچتا، گھومتا، چکر لگاتا اور طباق اپنی جگہ سے نہ کھسکتا...... مگر مجمع اس وقت بے پروائی سے تماشا دیکھتا رہتا...... مگر جب دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک کر ، سر نیچے اور ٹانگیں اوپر کرکے ، چھ عدد گیند فضا میں اچھالتا اور ٹانگوں سے انہیں گوچتا ...... یا جس وقت وہ سر نیچے جھکاتا چلا جاتا، یہاں تک کہ ٹخنوں سے اسے ملا دیتا، اور جسم کو بالکل دائرے کی شکل دے کر دونوں ہاتھوں سے بارہ چھریاں گھماتا، ان سے کھیلتا، اور پھر فضا میں انہیں اچھال دیتا ...... اس وقت مجمع سے ایک شور بلند ہوتا ، نعرہ ہائے تحسین سے فضائیں معمور ہو جاتیں ...... اور اس کی پھٹی پرانی کملی پر بارش کی بوندوں کی طرح پیسے برسنے لگتے تھے۔

    اس کے باوجود برنابا بھی دوسرے فن کاروں کی طرح، جو صرف اپنے ہنر کے سہارے زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں، بہت تکلیف سے زندگی کے دن گزارتا تھا۔ سر کا پسینہ جب پیروں تک آتا تب اسے پیٹ بھر روٹی نصیب ہوتی تھی۔ آدم کی غلطی سے، انسانی بد نصیبیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اس سے برنابا کے حصے میں اتنا زیادہ بوجھ آگیا تھا جو اس سے اٹھائے نہیں اٹھتا تھا۔

    یہ تو وہ کر ہی نہیں سکتا تھا کہ جب چاہے کرتب دکھائے اور پیسے کما لے۔ صرف گرمیوں کے دنوں میں دھوپ کی حرارت اور دن کی روشنی میں وہ اپنے کمالات دکھا سکتا تھا،درختوں کی طرح، جو   گرمیوں میں پھل پھول دیتے ہیں ...... اور جاڑوں میں اس کی حال اس درخت کی سی ہو جاتی تھی جس کے سب پتے جھڑ چکے ہوں، اور اب وہ خود بھی گرنا ہی چاہتا ہو ...... اس زمانے میں برف سے پٹی زمین اسے کمالات دکھانے سے مانع ہوتی تھی ...... اس طرح جاڑے کے دنوں میں سردی اور بھوک کی مسلسل تکلیف، برنابا کو اٹھانا پڑتی تھی، مگر ذاتی شرافت اور فطری معصومیت کی وجہ سے ، صبر و شکر کے ساتھ یہ زمانہ بسر کر لیتا تھا۔

    اس کو پونجی جمع کرنے کا کبھی خیال تک نہ آتا تھا، آتا بھی کیسے ؟ اس کا تو عقیدہ یہی تھا کہ اس دنیا میں تکلیف اٹھا لینے کے بعد دوسری دنیا میں ضرور آرام ملے گا، اور اسی امید کے سہارے وہ جیتا اور خوش رہتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ برنابا ان لوگوں کی طرح جو اپنے کو شیطان کے ہاتھ بیچ ڈالتے ہیں، مال و دولت کا حریص تھا ہی نہیں! وہ خدا کو ہر وقت یاد رکھتا تھا۔ وہ صاف دل، نیک نیت اور شریف الطبع انسان تھا۔ باوجودیکہ اس نے شادی نہیں کی تھی مگر کبھی بھول کر بھی اس نے پڑوسی کی بیوی کو بری نظر سے نہیں دیکھا، دراصل اسے عورتوں سے نفرت تھی۔ وہ کہتا تھا کہ ’’عورتیں طاقتور مرد کی دشمن ہوا کرتی ہیں۔‘‘ جیسا کہ تورات میں جبار شمشون اور اس کی محبوبہ دلیلہ کے قصے سے ظاہر ہوتا ہے۔

    واقعہ یہ تھا کہ جسمانی لذتوں کی طرف اس کا ذہن جاتا ہی نہیں تھا۔ ایک عام شراب نہ ملنے کی اسے کہیں زیادہ تکلیف ہوتی تھی۔ بہ نسبت اس کے کہ وہ حسین عورت سے محروم رہے۔

    شراب پینے کو، وہ بھی گرمیوں کے زمانے میں ، جب اس کے پاس پیسے ہوتے تھے، وہ پسند کرتا تھا بشرطیکہ پینے میں اعتدال ملحوظ رہے...... غرض برنابا ایک پرہیزگار آدمی تھا، جو ہر وقت خدا کو یاد رکھتا۔ کنواری مریم کی پاکی اور طہارت بیان کیا کرتا اور ان کو اپنا پشت پناہ سمجھا کرتا تھا۔ اس کا قاعدہ تھا کہ جب کسی گرجے میں جاتا تو کنواری مریم کے مجسمے کے سامنے گھٹنے ٹیک کر خاص درد مندانہ شان سے یہ دعا مانگتا:

    ’’اے میری ملکہ! مجھے اپنی حفاظت میں رکھ، جب تک خدا کے حکم سے میری موت ، اپنی حفاظت میں نہ لے لے ۔‘‘

    ٭٭٭

    ایک شام کو ناخوشگوار بارش کے بعد،برنابا سر جھکائے ، اداس اداس ایک بازار سے گزر رہا تھا۔ اپنی بغل میں گیند ، چھریاں اور پھٹی پرانی کملی دبائے ، وہ ایسی سرائے کی تلاش میں تھا، جہاں رات بھر پڑا رہنے کا انتظام ہو۔ رات کے کھانے کا نہیں۔ اچانک ایک راہب سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ برنابا نے ادب کے ساتھ سرنگوں ہو کر اسے سلام کیا۔ دونوں ایک ہی طرف جا رہے تھے، راستے میں باتیں چھڑ گئیں، راہب نے پوچھا:

    ’’یہ رنگین لباس پہنے تم کہاں جا رہے ہو؟ کسی مذہبی تمثیل میں شرکت کرنے؟‘‘

    ’’نہیں اے باپ! میں جو آپ کے سامنے کھڑا ہوں، مجھ ہی کو لوگ برنابا کہتے ہیں۔ میں مداری کا پیشہ کرتا ہوں۔ یہ پیشہ تو دنیا کے تمام پیشوں سے بہتر ہے، اگر اس سے روزانہ پیسے ملتے رہیں۔‘‘

    ’’میرے بیٹے برنابا! سوچو تم کیا کہہ رہے ہو! ......تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ سب سے بہتر پیشہ دنیا میں صرف یہی ہے کہ تم راہب ہو جاؤ، ہم لوگ خدا کی اور کنواری مریم کی پاکی بیان کیا کرتے ہیں، ایک راہب کی زندگی مستقل نغمہ سرائی کے سوا اور کچھ نہیں۔‘‘

    برنابا نے جواب دیا:

    ’’محترم باپ! مجھے اعتراف ہے کہ میں نے ایک جاہل آدمی کی ایسی بات کہہ دی، آپ کے پیشے کا میرے اس ذلیل پیشے سے کیا مقابلہ ہو سکتا ہے، یہ کتنی ہی بڑی بات کیوں نہ ہو کہ میں اپنی ناک کی پھنگی پر لمبا سا بانس رکھ کر جس کے دوسرے سرے پر چھوٹا سا سکہ رکھا ہو، پہروں ناچتا ہوں اور سکہ گرنے نہیں پاتا، مگر یہ بات کبھی بھی آپ کی بزرگی اور عظمت کی برابری نہیں کر سکتی۔ کاش میں آپ کی طرح ہو جاؤں، روزانہ خدا کے حضور میں جاؤں، خاص کر کنواری مریم کی خدمت میں جن کے لیے میرے دل میں عقیدت اور احترام کا ایک دریا موجزن ہے، کاش! میں آپ کے پیشے میں شامل ہو سکتا! میرے لیے راہب بننے کی کوئی صورت نکل سکتی تو میں یہ پیشہ چھوڑ نے میں ذرا بھی پس و پیش نہ کرتا ...... یہ پیشہ جس کی بدولت آج میں چھ سو شہر اور گاؤں میں مشہور ہوں۔‘‘

    اس کی معصومیت اور بھولا پن ، راہب کے دل پر اثر کر گیا۔ اس نے بھانپنے والی نظر برنابا پر ڈالی اور یہ یقین کر لینے کے بعد کہ برنابا خدا کے نیک بندوں میں ہے، اس نے کہا:

    ’’تم میرے ساتھ چل سکتے ہو برنابا! میں تم کو اپنے گرجے میں رکھوں گا۔ خدا نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔‘‘

    اس طرح برنابا کی آرزو پوری ہو گئی اور وہ راہبوں میں شامل ہو گیا۔

    گرجے میں رہ کر اس نے دیکھنا شروع کیا کہ تمام راہب کس طرح کنواری مریم کی عبادت کرتے ہیں، کچھ لوگ ان کی فضیلت اور بزرگی بیان کرنے کے لیے لمبے چوڑے خطبے تیار کرتے ہیں۔ کچھ لوگ کنواری مریم کی چھوٹی چھوٹی خوبصورت تصویریں بناتے ہیں...... بعض تصویریں ایسی ہوتی ہیں جن کے سر پر نورانی ہالہ ہوتا ہے اور قدموں کے نیچے وہ روحیں ہوتی ہیں جو کنواری مریم کو اپنا شفیع بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، تاکہ خدا ان پر رحم فرمائے اور ان کی لغزشوں کو معاف فرما دے۔

    کچھ راہب ایسے بھی ہیں جو کنواری مریم کے مجسمے بنا کر کبھی فصیح و بلیغ لاطینی زبان میں اور کبھی اپنی ٹھیٹھ جادو بھری بولیوں میں   ان کی پاکی بیان کرتے ہیں ...... ہر ایک اپنے اپنے انداز میں عبادت میں لگا رہتا ہے۔

    برنابا یہ سب کچھ دیکھتا اور دل ہی دل میں اپنے ان پڑھ ہونے کا افسوس کیا کرتا اور کبھی کبھی یہ احساس زیادہ ستانے لگتا تو وہ گرجے کے پائیں باغ میں چلا جاتا، اور اپنے ہی آپ سے کہا کرتا:

    ’’کتنا بدنصیب ہوں میں! یہ بھی نہیں کر سکتا کہ اپنے ساتھیوں کی طرح کنواری مریم کی اس طرح عبادت کروں جو میرے پیشے اور کنواری مریم کی عظمت کے موافق ہو، افسوس میں بالکل گنوار ہوں! اے میری ملکہ ایسی دعائیں، ایسے خطبے، ایسی نادر تصویریں، ایسے حسین مجسمے اور ایسے ایسے عمدہ قصیدے، میں تیری خدمت میں پیش کرنے سے قاصر ہوں۔ آہ! میں جاہل ہوں ......ہائے افسوس مجھے کچھ نہیں آتا......!!‘‘

    ایک شام کو، جبکہ تمام راہب کسی تقریب میں گئے ہوئے تھے، برنابا نے ایک شخص کی زبانی ایک کہانی سنی:

    ’’ایک راہب تھا، جو بالکل پڑھا لکھا نہیں تھا، اپنے ان پڑھ ہونے پر دل ہی دل میں کڑھتا رہتا تھا اور اس کے ساتھی اسے طعنے دیا کرتے تھے ۔ اس نے خود ایک دعا بنائی تھی جو کنواری مریم کی عبادت کے وقت پڑھا کرتا تھا، جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے منہ سے چار خوبصورت پھول پھوٹ نکلے جو ان چار حرفوں کی طرف اشارہ کرتے تھے جن سے ’’مریم‘‘ کا لفظ بنا ہے ...... اس واقعے نے تمام راہبوں کو متاثر کیا اور وہ سب اس کی بزرگی کے قائل ہو گئے۔‘‘

    اس قصے نے برنابا کے دل پر بہت گہرا اثر ڈالا، وہ اور زیادہ کنواری مریم سے خوش عقیدگی کا اظہار کرنے لگا۔ لیکن اس ان پڑھ راہب کے مرنے اور اس کے منہ سے چار پھولوں کے پھوٹ نکلتے ہی جیسے اس کو کوئی خاص تسلی نہ ہوئی ...... دراصل وہ خود اپنے لیے کوئی ایسا ہی طریقہ تلاش کرنا چاہتا تھا جس کے پیچھے اس کی زندگی ایک مستقل عذاب بنی ہوئی تھی۔

    مگر ایک دن جب وہ سو کر اٹھا تو اس کا دل مسرت سے لبریز تھا...... وہ دوڑتا ہوا ’’ہیکل مقدس‘‘ تک گیا اور فوراً ہی واپس آگیا، پھر دوپہر کے وقت وہاں پہنچا ...... اب وہ خوش تھا، شاید وہ طریقہ اسے معلوم ہو گیا تھا ...... اب روزانہ وہ ایسے وقت ’’مقدس ہیکل‘‘ کی زیارت کو جاتا، جب گرجے میں چھٹی ہوتی تھی، اور تمام راہب اپنے اپنے کمروں میں ہوتے، اور وہ اتنی ہی دیر وہاں لگاتا جتنی اس کے ساتھی اپنی اپنی عبادت میں لگاتے تھے۔ برنابا کے دل سے تمام کلفتیں دور ہو چکی تھیں، اب وہ اپنی زندگی سے خوش تھا۔

    اس تبدیلی کا راز دوسرے راہبوں کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ ایک دوسرے سے پوچھا کرتے:

    ’’برنابا چھٹی کے وقت بھی گرجے ہی میں رہتا ہے ، اتنی زیادہ ریاضت کی کوئی وجہ بظاہر سمجھ میں نہیں آئی ہے۔‘‘

    بڑے پادری کے فرائض میں راہبوں کے طرز عمل اور ان کے حالات کی نگرانی کرتے رہنا ہے۔ برنابا کے موجودہ طرز عمل نے سب کو شبہ میں ڈال دیا تھا، ایک دن بڑے پادری نے دو راہبوں کے ساتھ ’’مقدس ہیکل‘‘ کے دروازے سے جھانک کر اندر دیکھا تو برنابا کنواری مریم کے مجسمے کے سامنے سر کے بل کھڑا اپنی بارہ چھریوں اور چھ گیندوں سے وہی کرتب دکھا رہا تھا جو لوگوں کو سب سے زیادہ پسند تھے۔

    دونوں راہب یہ منظر دیکھ کر کانپ اٹھے۔ ایک ساتھ دونوں نے کہا:

    ’’یہ تو صریحی کفر ہے!‘‘

    بڑا پادری جانتا تھا کہ برنابا نیک بخت اور بھولا بھالا معصوم انسان ہے۔ اسے خیال ہونے لگا کہ شاید اسے جنون کا دورہ پڑ گیا ہے ...... اس لیے دونوں ساتھیوں کو چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ واپسی کے لیے مڑنے لگا ...... اچانک تینوں کی نظریں کنواری مریم پر پڑیں۔ وہ ’’ہیکل مقدس‘‘ کی سیڑھیوں سے اترتی ہوئی برنابا کے پاس آئیں اور اپنی نیلی چادر کے کونے سے اس کے ماتھے سے پسینہ پونچھنے لگیں۔

    پادری ی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔ وہ نیم بے ہوشی کے عالم مین زمیں بوس ہو نے کے لیے جھکا ، وہ زیر لب کہہ رہا تھا:

    ’’خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو بھولے اور معصوم ہیں۔ وہ اپنے پروردگار کو دیکھ لیتے ہیں۔‘‘ دونوں ساتھیوں نے زمین بوس ہوتے ہوئے کہا:

    ’’سچ ہے اے محترم باپ!‘‘