پرل ایس بک

پرل ایس بک

چاہت (١)

    ترجمہ: خاقان ساجد

    ’’معلوم نہیں مجھے رونا کیوں آجاتا ہے؟ اس دکھی دنیا میں کسی کو خوش دیکھ کر میرا دل بھر آتا ہے۔‘‘ مس بارکلے نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔

    وہ ایک درزی کی دکان میں ملازمت کرتی تھی۔ گاہک کے ناپ کے مطابق جب کوئی لباس سلنے لگتا تو وہ پہلے کچی سلائی کے ساتھ اسے پہنا کر دکھاتی تاکہ کوئی نقص رہ گیا ہو تو اسے دور کیا جا سکے۔ مگر دکان خواہ شہر کی بہترین دکان ہی کیوں نہ ہو، آخر دکان ہوتی ہے۔ اس لیے دل بھر آنے کے مواقع کبھی کبھار ہی آتے۔

    اس کا منہ ان پنوں سے بھرا ہوا تھا جسے لباس کی تہیں کھولتے ہوئے اس نے عادتاً دانتوں تلے دبا لیا تھا۔ اس نے انہیں نکال کر ترتیب سے نیچے رکھا۔ اس کا میلا بھورا سر دیکھتے ہوئے ازابل مسکرا رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ یہ بڑھیا کتنی نرم دل ہے۔ اچھا کیا عروسی جوڑا سلوانے اس کے پاس آگئی۔ جانا تو اسے ’’برگ ڈاف‘‘ کی دکان پر تھا۔ مگر جہاں تک اس کی یادداشت کام کرتی تھی، بچپن سے لے کر اب تک ، مس بارکلے ہی اسے فراک پہنا کر دکھاتی رہی تھی۔ جونہی اس کی منگنی کا اعلان ہوا، مس بارکلے نے فون پر اس سے کہا تھا، ’’ابھی ابھی تمہاری منگنی کی اطلاع ملی ہے۔ کتنی مبارک خبر ہے! دل باغ باغ ہو گیا۔ ہم سب یہی سمجھتے ہیں کہ اتنا موزوں اور عمدہ جوڑ شاید ہی کبھی بنا ہو۔‘‘

    فون ازابل نے سنا تھا۔ جب بھی فون کی گھنٹی بجتی، ازابل ہی سنتی۔ کیا خبر، لیو ہی کا فون ہو!

    ’’شکریہ!‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا، گو جانتی تھی کہ مس بارکلے اسے دیکھ نہیں رہی۔

    لوگوں کا بار بار یہی ایک بات کہنا اسے لطف دے رہا تھا: ’’میری عزیز! تم اور لیو تو ایک دوسرے کے لیے بنے ہو، یہ ایک مثالی جوڑا ہے!‘‘

    ’’مجھے یقین ہے کہ تم اپنا عروسی جوڑا ہماری ہی دکان سے سلواؤگی۔‘‘ مس بارکلے نے ماں سے کہا تھا۔ ’’میں ہی ناپ لوں گی اور میں ہی پہنا کر دکھاؤں گی!‘‘

    ’’ہاں ہاں، ضرور! ازابل نے وعدہ کر لیا۔

    ’’تو پھر انتظار نہ کروانا! ‘‘ خوشی سے بارکلے کا سانس پھول گیا تھا۔ ’’کب ہو گی شادی؟‘‘

    ’’جون میں۔‘‘

    ’’جون کی دلہن! بہت خوب! خدا تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔‘‘ اس نے داد دی۔

    ازابل نے ایک بار پھر شکریہ ادا کیا۔ اسے یقین تھا کہ وہ ہمیشہ خوش رہے گی۔ اب تو اس نے ہر خوشی کو اپنا حق سمجھ لیا تھا۔ اس کے پاس ہمیشہ سے سبھی کچھ تھا۔

    مثالی جوڑے والی بات سے لیو نے بھی لطف اٹھایا۔

    ان کے خاندان ایک دوسرے کے پڑوسی تو نہ تھے۔ مگر تعلق بہت قریبی اور قلبی تھا۔ چھٹیوں میں ان کے بچے آپس میں ضرور ملتے جلتے تھے۔

    لڑکپن میں لیو کرسمس کے تہوار پر کسی اور لڑکی کو بطور مہمان   بلا لیتا۔ اچانک پچھلی گرمیوں میں اس کے دل میں ازابل کی محبت کا جذبہ پیدا ہوگیا۔ یہ واقعہ 21  جون کا تھا۔ اس کے ٹھیک ایک سال بعد ازابل نے اس کی درخواست پر شادی کی تاریخ بھی 21  جون ہی مقرر کی ۔ بچپن کے زمانے اور شادی کی درخواست کے درمیان ایک طویل عرصہ گزر چکا تھا۔ انہیں اس بات میں بڑا لطف آیا تھا کہ وہ دونوں، جو ایک دوسرے کو لڑنے جھگڑنے ، چھیڑنے اور ستانے والے بچوں کی حیثیت سے جانتے تھے،اب بالکل مختلف صورت میں سامنے آئیں گے۔ وہ ایک لمبا تڑنگا ، خوبصورت جوان، یہ ایک حسین و جمیل دوشیزہ۔ دونوں گورے چٹے، دونوں سنہرے بالوں والے اور بقول خود ، ایک ہی زبان بولنے والے۔

    شادی کی درخواست کرتے ہوئے لیو نے مذاق کیا ’’میں نے تم سے شادی کرنے کا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔‘‘

    ’’تو اب کیوں کر لیا؟‘‘ اس نے پوچھا۔

    میرے والدین کئی برس سے اشاروں میں کہتے رہے ہیں کہ اگر یہ رشتہ ہو جائے تو بہت اچھا ہو گا۔ جاؤ بھی! تم سب کچھ جانتی ہو، پھر بھی مجھ سے کہلوا رہی ہو۔‘‘

    ’’کتنی عجیب بات کی انہوں نے! میرا خیال ہے، تم نے بھی انہیں وہی جواب دیا ہو گا، جو میں نے امی کو دیا تھا!‘‘

    ’’کیا؟‘‘ لیو نے پوچھا۔

    ’’یہی کہ تم وہ آخری شخص ہو جس سے میں شادی کر سکتی ہوں!‘‘

    لیو کو تھوڑا سا جھٹکا لگا، ’’پھر بھی ہم دونوں تو ہم خیال ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ تم والدین کی خواہش سے نہیں اپنی مرضی سے شادی کر رہی ہو۔‘‘

    اس کا دل بری طرح دھڑکنے لگا تھا، کئی اضطراری باتوں نے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔

    جون کا وہ دن کتنا خوبصورت تھا۔ شفاف، نیلے آسمان پر بگلے کے پروں کی سی نازک ، سفید بدلیاں تیر رہی تھیں۔ وہ دونوں لیو کی کھلی کار میں بیٹھے پہاڑی کی بلندی سے نشیب کا نظارہ کر رہے تھے۔ ماحول تو بڑا پر سکون تھا، لیکن ازابل کے دل میں جذبات اور آرزوؤں سے ہلچل بپا تھی۔ اس نے محبت کے خواب کئی بار دیکھے تھے، لیکن اسے پانے کا موقع آج تک نہ ملا تھا۔ اس محبت کی ضرورت کا شدید احساس ، دل کی دھڑکن، خواہشوں کا طوفان، شادی کے بعد ایک نئی زندگی شروع کرنے کی آرزو، ان سب نے اسے بے کل کر رکھا تھا۔

    لیو سے محبت کرنا اتنا آسان تھا! وہ کتنا حسین اور خوش مزاج مرد تھا، اور سمجھ دار بھی تو کتنا تھا! ان کا جوڑ بالکل ٹھیک تھا۔ دونوں کے خاندان برابر کے امیر تھے، ایک کو دوسرے پر کوئی فوقیت نہ تھی۔ لیو اور ازابل ایک دوسرے کی محبت پر اعتماد کر سکتے تھے۔ وہ ایک سطح پر شانہ بہ شانہ کھڑے تھے۔ جتنی خوبیاں ایک میں تھیں، اتنی ہی دوسرے میں بھی تھیں، نہ وہ کم تھا، نہ یہ زیادہ۔ دولت کی کچھ زیادہ اہمیت نہ تھی، اگر تھی تو بس اتنی کہ اعلیٰ خاندانوں میں دولت بھی دیکھی جاتی ہے۔

    اس نے اپنے دل میں عہد کر رکھا تھا کہ وہ کسی ایسے مرد سے شادی نہیں کرے گی جس پر اعتماد نہ کر سکے۔ اعتماد ...... یہ لفظ بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ لیو پر ہر طرح اعتماد کر سکتی تھی۔

    ’’سوچے جا رہی ہو، سوچے جا رہی ہو!‘‘ لیو نے اسے بڑی نرمی سے سرزنش کی تھی۔ ’’یہ تو بتاؤ کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے بھی ، یا نہیں؟‘‘

    اس نے لیو کی فطری خوش طبعی کی تہہ میں ایک تشویش بھی موجزن پائی تھی، جس سے اسے اچانک پتا چل گیا تھا کہ اس کے اپنے دل میں کیا اندیشہ ہے۔

    اس نے کہا تھا ، ’’میرا خیال ہے کہ مجھے تم سے محبت ہے، البتہ معاملے کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو بہت قریب سے جانتے ہیں، ا س لیے ہمارے پاس ایک دوسرے کو بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہو گا۔‘‘

    ’’نہیں نہیں! ‘‘ وہ بول اٹھا تھا، ’’بہت کچھ ہو گا! چھوٹی چھوٹی باتیں تو ہم نے آپس میں کی ہیں، لیکن کوئی بڑی بات تو کبھی کی ہی نہیں۔ محبت کے بارے میں ہم نے کوئی بھی بات کبھی نہیں کی۔‘‘

    لیو اس روز دن بھر دیہات کی سڑکوں پر اپنی کار تیزی سے دوڑاتا پھرا۔ اسے خوشی میں اس کا احساس ہی کہاں تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے! شام کو جب وہ ازابل کے گھر کے قریب پہنچے تو لیو نے کہا، ’’اس معاملے میں مزے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ ہمارے والدین اس پر بہت خوش ہوں گے۔ میں انہیں خوش کرنے کے لیے تم سے شادی نہ کرتا، لیکن اب کر رہا ہوں تو یہ احساس میرے لیے باعث مسرت ہے کہ اس خبر سے انہیں کرسمس کی سی خوشی ہو گی!‘‘

    اور اب ازابل لباس پہن کر دیکھ رہی تھی، اور مس بارکلے وہ پنیں منہ میں بھری ہونے کے باوجود، جنہیں اس نے رونے کے بعد دوبارہ منہ میں رکھ لیا تھا، منہ کھولے بغیر کچھ کہہ رہی تھی۔

    ازابل نے سوچا کہ کیا اسے لیو سے کہنا چاہیے؟ نہیں۔ اس نے خود کو جواب دیا، نہیں کہنا چاہیے، مگر اپنے گھر کے لوگوں سے یا لیو کے گھر کے لوگوں سے کہنے سے تو   یہی بہتر ہے کہ لیو کو بتا دیا جائے۔

    اب یہ بات اس پر واضح ہو گئی تھی کہ انہیں اپنے خاندانوں میں منگنی کا اعلان فوراً نہیں کر دینا چاہیے تھا، انہیں اوروں کو بتائے بغیر ، پہلے اپنے طور پر ایک دوسرے کا عادی بننا چاہیے تھا، انہیں اپنے طور پر اس کا تجربہ کرنا چاہیے تھا۔ مہینے دو مہینے تک اس صورتحال کو پوشیدہ طور پر آزمانا چاہیے تھا، یہاں تک کہ اس کا اپنا دل مطمئن ہو جاتا۔ ا س کے بعد   وہ لیو سے بلاتامل کہہ سکتی تھی ، میرا خیال ہے لیو! میں جذبات کی رو میں کہہ گئی تھی۔ میں دراصل شادی کرنا نہیں چاہتی، کم از کم تم سے نہیں کرنا چاہتی۔ مجھے اس کا بے حد افسوس ہے، لیکن سچی بات یہی ہے! میں چاہتی ہوں کہ تم کوئی اور لڑکی ڈھونڈ لو! ہم دونوں ہمیشہ ویسے ہی رہیں گے، جیسے پہلے تھے۔‘‘

    سارا قصہ اسی کا تھا۔ اس کی امی نے بہت پہلے اسے بتا دیا تھا کہ قصور ہمیشہ لڑکی کا ہوا کرتا ہے۔ اس نے کہا تھا ، ’’فیصلہ لڑکی ہی کیا کرتی ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھو گی تو پھر تمہیں صرف خود سے شکایت ہو گی۔ اس سے معاملہ آسان ہو جاتا ہے۔‘‘

    لیکن اگر اس نے اب منگنی توڑی تو دونوں گھرانوں کے دل پر کیا گزرے گی۔ وہ اور لیو اپنے اپنے والدین کے اکلوتے تھے، اور اس کے والدین کو لیو کے والدین سے گہری انسیت بھی تھی۔ دونوں گھرانوں میں میل جول تو ہمیشہ سے تھا، لیکن منگنی کے بعد تو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے دونوں خاندان ایک ہو گئے ہیں۔ ان کی مائیں تو اپنے پوتوں اور نواسوں کے بارے میں بھی صلاح مشورے کرنے لگی تھیں۔ ایک دن اس نے اپنے کانوں سے سنا کہ ہونے والے بچوں کے نام رکھے جا رہے تھے۔ ’’پہلے لڑکے کا نام تو خیر، لیو کے باپ کے نام پر رکھا جائے گا، لیکن شاید پہلی لڑکی کا نام ......‘‘

    ’’تمہارے نام پر الزبتھ ہوگا۔‘‘ اس کی امی نے بڑے میٹھے لہجے میں لیو کی ماں سے کہا، ’’میرے نام پر کسی بچے کا نام بعد میں رکھا جا سکتا ہے۔ مجھے امید ہے، ان کے چار بچے ہوں گے۔‘‘

    ’’میں تو ہمیشہ سے چاہتی ہوں کہ چار بچے ہوں۔‘‘ لیو کی ماں نے کہا۔

    اس نے اس خواب میں خلل ڈالتے ہوئے کہا تھا ، ’’یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا روحوں کو بلایا جارہا ہے؟‘‘

    ان دونوں نے اس کی طرف چوروں جیسی نظروں سے کچھ اس طرح دیکھا کہ وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔

    واقعہ یہ تھا کہ اس نے اور لیو نے کبھی بچوں کے بارے میں کوئی بات ہی نہیں کی تھی۔ اسے اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہونے سے ہمیشہ نفرت رہی تھی، بلکہ اس نے اپنے دل میں فیصلہ کر رکھا تھا کہ اس کے ہاں چار ہی نہیں، بہت سے بچے ہوں گے، لیکن نہ جانے کیوں، اسے لیو سے اس بارے میں بات کرنے کی خواہش نہ ہوئی۔

    بعض اوقات تو وہ حیران ہو کر سوچنے لگتی کہ کہیں وہ لیو کے بجائے اس کی خاندانیت پر نہ ریجھ گئی ہو، اور کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ اب ان روایات کے بجائے اسے لیو نظر آنے لگا ہو۔ اور شاید اسی طرح لیو بھی اس کے بجائے اس کے خاندان کو دیکھ رہا ہو، گو اس نے اس بات کا کبھی ذکر نہیں کیا۔ وہ اس جتنا روایت پسند نہیں ہے، یا شاید یہ بات ہو کہ وہ لیو سے زیادہ نرم دل ہے۔ اگر وہ منگنی توڑنا چاہتا تو اسے صاف بتا دیتا۔ نہیں، وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ وہ اس بات پر شبہ کرنے کو تیار نہ تھی۔

    ’’یہ لو! ‘‘ مس بارکلے اپنے گھٹنے پکڑ کر بڑی دقت سے اٹھی، جن میں گٹھیا کی وجہ سے درد ہو تا تھا۔‘‘ میں نے دامن کو ٹھیک کر ہی دیا۔ اب یہ لٹکتے میں بڑا خوبصورت معلوم ہو گا۔ یہ بڑا اچھا ہوا کہ تم نے زرد کے بجائے گلابی مائل سفید کاٹن پسند کی۔ گلابی رنگ تم پر بہت کھلتا ہے۔ لاؤ، میں اسے اتارنے میں تمہاری مدد کروں۔‘‘

    ازابل نے گھڑی دیکھی۔ ’’لیو نے کہا تھا، میں بھی آؤں گا۔‘‘

    مس بارکلے چونکی۔ ’’ مگر ایسے شادی سے پہلے تمہیں عروسی جوڑا پہنے ہوئے نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ شگون اچھا نہیں ہوتا۔‘‘

    ازابل ہنس دی۔ اس کے بھرے بھرے گالوں میں دو پیارے پیارے گڑھے پڑ گئے۔’’وہ کہتا ہے کہ شادی کے وقت مجھے اچانک اس لباس میں دیکھ کے وہ گھبرا جائے گا، اس لیے پہلے سے دیکھ لینا چاہیے تاکہ اس سے مانوس ہو جائے۔‘‘

    مس بارکلے بھی ہنسی ......’’بے وقوف کہیں کا! خیر، میں پن نکال لیتی ہوں۔ تم ابھی کھڑی ہی رہنا، بیٹھ نہ جانا۔‘‘

    انہیں زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا۔ پانچ منٹ نہ گزرے تھے کہ ازابل نے لیو کے قدموں کی آہٹ سنی۔ اس نے اسے اپنی چہچہاتی آواز میں مس سٹار کا پتا پوچھتے سنا۔ پھر اس نے کارکن عورتوں میں پسندیدگی کی سرگوشیاں سنی۔ ’’یہ لیو آرنلڈ ہے، جو ازابل سٹار سے شادی کر رہا ہے۔‘‘

    ازابل نے دروازہ کھول کے اپناسر باہر نکالا۔ ’’لیو! میں یہاں ہوں۔ تم دیر سے آئے ہو۔ میں تو اپنا لباس اتارنے لگی تھی۔‘‘

    ’’مجھے بالکل بھی دیر نہیں ہوئی۔‘‘ اس نے عروسی جوڑا دیکھتے ہوئے کہا، ’’واہ، کیا بات ہے!‘‘

    ’’یہ مس بارکلے ہیں۔‘‘

    ’’کہیے مس بارکلے! آپ کا مزاج اچھا ہے؟ مجھے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ آپ نے میری ازابل کو خوابوں کی شہزادی بنا دیا ہے۔‘‘

    مس بارکلے شرما گئی۔ اس نے لجاتے ہوئے کہا، ’’اس پر ہر لباس جچتا ہے۔ خیر سے چودہ برس کا سن ہے۔ جو بھی جوڑا میں نے انہیں پہنایا، وہی سج گیا۔ خدا نظر بد سے بچائے۔‘‘

    یہ کہتے کہتے اس کی آنکھیں پھر ڈبڈبا گئیں، اس حالت میں وہ بڑی حسین نظر آرہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ یہ جوان خود بھی تو بڑا بانکا ہے۔ذرا اس کے کندھے تو دیکھو، پیڈ لگانے کی ضرور ہی نہیں ! پھر بھی اس نے کوئی اچھا درزی پکڑ رکھا ہے۔ بڑا وجیہہ اور خوبرو ہے یہ نوجوان! مقدر سے لڑکی بھی خوبصورت ہے، ورنہ اسے اپنے مرد کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا۔ آج کل عورتیں بن سنور کر پرائے مردوں کو رجھاتی پھرتی ہیں۔ وہ یہ باتیں اس لیے سوچ رہی تھی کہ پچیس سال پہلے اس کے شوہر کو ایک حسین لڑکی نے چھین لیا تھا، جو اس کی بہترین سہیلی تھی۔ وہ ایک دن بڑی مسمسی صورت بنا کر اس کے پاس آیا، اور کہنے لگا، ’’بیسی! بات تو بہت بڑی ہے، لیکن کیا کروں، میں لوزی کو دل دے بیٹھا ہوں۔‘‘ کیا کیا جا سکتا تھا، گو وہ ہفتوں روتی رہی تھی، اور اس کے بعد سے اب تک ذرا ذرا سی بات پر رو دیتی ہے۔

    ’’لیو کہہ رہا تھا، ’’مڑو!‘‘

    ازابل آہستہ سے مڑ گئی۔

    اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔

    مس بارکلے ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی، ’’حور کی طرح مسکرا رہی ہے اور اس کا دولہا! اسے کچھ اس طرح سے تکے جا رہا ہے جیسے بس چلے تو دل میں بٹھا لے‘‘۔

    محبت دل پر اثر کرتی ہے، خواہ اس کا مرکز کوئی اور ہی ہو!

    اس نے اپنی آنکھیں بازو پر بندھی ہوئی پنوں کی گدی کے کونے سے پونچھ ڈالیں۔

    ازابل نے اپنی لمبی، سنہری پلکیں اٹھا کے لیو سے پوچھا، ’’مطمئن ہو؟‘‘

    اس نے بڑے قطعی اور فیصلہ کن لہجے میں جواب دیا، ’’اگر نہ ہوں تو بڑا کم ظرف ہوں گا۔‘‘

    ازابل مسکراتی رہی، پھر بولی، ’’تو پھر میں بھی مطمئن ہوں۔ مس بارکلے ! مہربانی کرکے اب اسے اتروائیے! ابو اور امی ٹفافی کے ہاں ملیں گے۔ امی اپنے ہیرے میرے لیے پھر سے جڑوا رہی ہیں۔‘‘

    مس بارکلے نے ساٹن میں سے پن نکالتے ہوئے سوچا،’’کتنی خوش نصیب ہے یہ لڑکی! یہی نہیں کہ یہ جوان اسے دل و جان سے چاہتا ہے ، بلکہ محبت کے ساتھ ساتھ جواہرات بھی مل رہے ہیں!‘‘

    اس نے لیو سے کہا، ’’آپ ایک منٹ کے لیے باہر چلے جائیے۔‘‘

    وہ لپک کر دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے بلند آواز سے بولا، ’’میں معذرت چاہتا ہوں۔‘‘

    ازابل ہنسی۔ ’’کتنا پیارا نوجوان ہے! ہاں، لیو واقعی پیارا نوجوان ہے اور وہ کتنی بے وقوف ہے! اب کہیں ہو بھی چکے یہ شادی۔پھر چین ہی چین ہو گا، لیکن کیا آج کل شادی کرکے چین نصیب ہو جاتا ہے؟‘‘

    ’’شکریہ مس بارکلے! جوڑا بہت عمدہ سلا ہے!‘‘

    مس بارکلے نے رندھے ہوئے گلے سے کہا۔

    ’’شکریہ! میں نے اسے بڑی توجہ سے سلوایا ہے۔‘‘

    لیو نے اپنا ہاتھ ازابل کے بازو پر سے پھسلا کر اس کی دستانہ پوش انگلیاں پکڑ لیں۔ ’’مجھے خوشی ہے کہ تم نے مجھے یہاں بلایا اور عروسی جوڑا دکھایا۔‘‘ اس کی آواز میں ایک عجیب سا خلوص تھا۔

    ’’اس میں کچھ بناوٹ معلوم ہوتی ہے‘‘۔ یہ سوچ کر ازابل نے لیو کی طرف دیکھا۔

    وہ سامنے پر ہجوم گزر گاہ کو دیکھ رہا تھا۔ دوپہر ہو چکی تھی اور لوگ کھانے کےوقفے میں دھوپ سینک رہے تھے۔

    ’’کیوں؟‘‘ وہ پوچھنے لگی ’’خوشی کیوں ہے؟‘‘

    اس نے اسی طرح پر خلوص لہجے میں جواب دیا، ’’کیوں کہ اب مجھے یقین آگیا کہ ہماری شادی ضرور ہو گی۔‘‘

    ’’تمہیں پہلے اس کا یقین نہیں آیا تھا؟‘‘

    ’’قطعی طور پر نہیں آیا تھا۔‘‘ اس نے اقرار کیا، ’’یعنی کسی وقت شک بھی ہونے لگتا ہے، لیکن اب قطعی طور پر یقین آگیا کہ شادی ضرور ہو گی۔ دعوت نامےجا چکے ہیں۔ شادی کی انگوٹھی کندہ ہو چکی ہے، عروسی جوڑا سل کر تیار ہو گیا ہے۔‘‘

    ازابل نے مصرع اٹھایا، ’’پھولوں کے لیے کہہ دیا گیا ہے ۔ کیک اگرچہ تیار نہیں ہوا ہے، مگر اس کا نقشہ تیار ہے، اور پادری کو تاریخ دے دی گئی ہے۔‘‘

    ’’گویا شادی ضرور ہو گی!‘‘

    وہ ٹفافی کے دروازے پر رکے۔

    ’’تم کھانا میرے ساتھ نہیں کھاؤ گی؟‘‘

    ’’نہیں ......آج نہیں۔ ‘‘

    ’’میں آج رات آؤں ؟‘‘

    وہ بولی، ’’پوچھتے کیوں ہو؟ کیا ہر رات نہیں آتے؟‘‘

    ’’لیکن تم چاہتی ہو کہ آؤں؟‘‘

    ’’ہاں، میں چاہتی ہوں!‘‘

    ’’واقعی!‘‘

    ’’ہاں ......واقعی!‘‘

    اور وہ دروازے کے اندر داخل ہو گئی۔

    وہ سوچ رہی تھی، ’’میرے لیے جو یہ ہے، وہ اور کوئی نہیں، اور ہم دونوں کے والدین بھی سچ کہتے ہیں، اور مس بارکلے بھی، کہ ہمارا جوڑا مثالی ہے، اور ہم ایک دوسرے سے محبت کرنے کے لیے ہی بنے ہیں۔‘‘

    اس کے کالج کا پروفیسر کہا کرتا تھا کہ شادی اونچے خاندان میں کرنی چاہیے۔ اس بات کا خیال آتے ہی ازابل نے سوچا، ’’لیو خاندانی اعتبار سے بھی بلند ہے۔‘‘

    وہ اپنے دل میں اس بات پر خوش ہو کر ہنسنے لگی   کہ اس کے دولہے میں وہ ساری خوبیاں ہیں، جو کسی بر میں دیکھی جاتی ہیں۔

    پھر اس نے اپنے والدین کو دکان میں بہت بے صبری کے عالم میں اپنا منتظر پایا۔ چمکتے ہوئے جواہر کی ایک ڈھیری ان کے سامنے تھی۔

    لیو سڑک پر حسب معمول سر اٹھائے چلا جا رہا تھا۔ لڑکیاں کنکھیوں سے اسے دیکھتی ہوئی گزر رہی تھیں، مگر وہ ان کی طرف متوجہ نہ تھا۔ وہ خود سے ’بیزار‘ تھا۔ نہیں، یہ لفظ اس کی حالت کی صحیح ترجمانی نہیں کرتا۔ وہ خود پر بے حد خفا ہو رہا تھا۔ ازابل سے شادی کی درخواست اس نے کی تھی۔ قصور اسی کا تھا۔ اب اسے خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اگر وہ کسی اور قسم کی لڑکی ہوتی، اگر ان کے خاندان ایک دوسرے سے اتنا قریب نہ ہوتے، اگر ہر ممکن دلیل سے یہ بات مناسب اور صحیح نہ ہوتی کہ انہیں ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہیے تو وہ اس سے صاف صاف کہہ دیتا کہ دیکھو بی بی! مجھے بے حد افسوس ہے، مجھ سے لغزش ہو گئی ہے۔ میرے دل نے مجھے دھوکا دیا ، میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ مصیبت مول نہیں لینی چاہیے ...... نہیں، اس کی وجہ کوئی اور لڑکی نہیں، بلکہ خود میں ہوں۔ قصور مجھ سے سرزد ہوا ہے۔

    مگر ازابل سے یہ باتیں کہنا ممکن نہ تھا۔

    اس نے دیکھا کہ ازابل کے والدین کے ہمراہ، اس کے اپنے والدین بھی موجود ہیں، اس کی ماں ازابل کو اپنی بہو بنانے کے خیال سے کتنی مسرور تھی!

    ’’میرے پیارے بیٹے! میں تو ہمیشہ سے اسے چاہتی آئی ہوں۔ مجھے ہمیشہ سے یہی توقع تھی کہ ......‘‘

    اور اس کے باپ نے اس کا ہاتھ پدری شفقت سے دباتے ہوئے کہا، ’’بیٹے ! میں ایسی کسی اور لڑکی کا تصور بھی نہیں کر سکتا جسے ہم ازابل کی طرح اپنا بنا سکتے ہوں!‘‘

    اپنا بنانا ......! وہ اور ازابل ہر اعتبار سے ایک دوسرے کو اپنا بنا چکے تھے۔ کچھ یہ نہ تھا کہ وہ کسی اور لڑکی کی محبت میں مبتلا ہو گیا تھا۔ وہ کسی شناسا لڑکی کو ازابل کے برابر تو کیا، اس سے آدھی خوبصورت بھی نہ سمجھتا تھا۔

    وہ جوان ہو کر کتنی حسین ہو گئی تھی! لمبی لمبی ٹانگوں والی بدوضع لڑکی ہو کر کتنی دل کش بن گئی تھی۔ اس کی جلد شفاف تھی۔ اس کے چہرے کے نقش و نگار بے عیب تھے۔ وہ تعلیم سے فارغ ہو کے گھر آیا تو اسے دیکھ کے حیران رہ گیا، اور پہلی نظر میں اس پر فریفتہ ہوکر اس سے دل و جان سے محبت کرنے لگا۔ اس کے خیال میں یہ محبت دائمی تھی۔ ایک ایسی لڑکی سے محبت کرنا، جس سے سب خوش ہوں، بجائے خود مسرت انگیز ہوتا ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنی منگنی کا اعلان اسی دن کر دے جس دن اس نے ازابل سے شادی کی درخواست کی تھی۔ وہ اپنے والدین کی آنکھوں میں خوشی کی چمک دیکھنا چاہتا تھا۔ منگنی کو خفیہ رکھنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔

    اس سلسلے میں زیادہ پوچھ گچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو خوب اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ گرمیاں ایک ہی مقام پر گزارا کرتے تھے اور   مشترکہ محفلوں میں شریک ہوتے تھے۔ گو وہ اس سے اتفاق کرتا تھا کہ ازابل کو مخلوط محفلوں میں شرکت نہیں کرنی چاہیے، اور جس طرح ازابل کے والدین اس کا آزاد خیال لوگوں سے ملنا پسند نہ کرتے تھے، اسی طرح وہ بھی پسند نہ کرتا تھا۔ البتہ ازابل اپنے گھر میں موسیقی کے کمرے میں اس کے ساتھ شامیں گزارنے پر رضامند ہو جاتی تھی۔ گانے میں دونوں اچھے تھے، اس لیے ابتدا اسی سے ہوتی تھی۔

    ان کے لیے الگ مکان کا بندوبست بھی ہو گیا تھا۔ لیو اپنے باپ کے دفتر میں کام کرتا تھا، اس لیے شہر میں رہنے پر مجبور تھا۔ اس کے والدین نے ان دونوں کے لیے مشرقی دریا کے کنارے پر ایک عمدہ مکان لے لیا تھا۔ اسے شادی کے تحفے کے طور پر سجایا جا رہا تھا۔ لیو اور ازابل قالینوں اور پردوں کے بارے میں اتفاق رائے ، یا اگر چاہتے تو اختلاف رائے کر لیتے۔ وہ چاہتا   تھا کہ یہ گھر قدامت پسندانہ ہوتے ہوئے جدید ہو۔ وہ خود بھی ایسا تھا۔ اس کے سب جگری دوست بھی جدیدیت پسند مگر قدیم روایات کے اسیر تھے۔

    چونکہ لیو عقیدے کے لحاظ سے بھی قدامت پسند تھا، اس لیے وہ خود سے اس بنا پر بھی ناراض تھا کہ وہ ازابل سے شادی کا ارادہ کر لینے کے بعد اب کیوں پلٹ رہا ہے۔ اس قسم کی قلابازی تو گئے گزرے لوگ ہی لگا سکتے تھے کہ پہلے ایک لڑکی سے شادی کی درخواست کریں، اور پھر اپنی رائے بدل دیں۔

    شادی کے معاملے میں اس کی نیت کب بدلی، یہ اسے خود بھی معلوم نہ تھا۔ وہ کسی خاص گھڑی، یا بیزاری شروع ہونے کے کسی خاص لمحے کی نشان دہی نہ کر سکتا تھا۔ اصل میں تو بیزاری کا سوال ہی پیدا نہ ہوا تھا۔ ازابل ابھی تک اس کی حسیات کے لیے مسرت انگیز طور پر دل نواز تھی۔ اس کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑی کی طرح تازہ تھے۔ وہ ان پر بڑی خوبی سے لپ سٹک لگاتی تھی۔ وہ بڑی اچھی بیوی، بڑی اچھی ساتھی اور بڑی سگھڑ عورت ثابت ہو گی۔ کوئی وجہ نہ تھی کہ ان کی شادی کامیاب نہ ہو، سوائے اس کے کہ وہ خود ہی کوئی حماقت کر بیٹھے۔

    وہ کوئی پانچ منٹ تک خود سے بے حد بیزار رہا، پھر اسے یاد آیا کہ اس نے ناشتے کے بعد سے اب تک کچھ بھی نہیں کھایا۔ اسے بھوک محسوس ہونے لگی۔ وہ اپنی پسند کے ایک ریستوران میں داخل ہوا، اور ایک میز کے سامنے بیٹھ گیا۔ دفعتاً اس نے کسی کو اپنا نام لے کر پکارتے سنا، ’’لیو !......لیو!‘‘

    اس نے سر اٹھا کے دیکھا تو ساتھ کی چھوٹی میز پر اس کے تایا بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ بوڑھے ہونے کو آگئے تھے ، مگر اب تک شادی نہیں کی تھی۔ ان کے پاس کافی بے مصرف دولت تھی، اس لیے کام وام بھی نہ کرتے تھے۔ شہر کے تماش بینوں میں شمار ہوتے تھے اور دل بہلاوے کے طور پر گاہے بہ گاہے کوئی تمثیل پیش کرنے کے کام میں رقم لگا دیا کرتے تھے۔

    اس نے کہا ، ’’ہیلو فلپ!‘‘ تایا، کہنے کی ممانعت تھی۔

    ’’آؤ! ‘‘ تایا نے کہا ، ’’تھوڑے سے مچھلی کے کباب کھا لو، بڑے مزے کے ہیں!‘‘

    ’’شکریہ۔‘‘ لیو بولا۔ ’’میرا تو گائے کے تکے کھانے کو دل چاہ رہا ہے۔‘‘

    اس نے بیرے کو گائے کے تکے لانے کو کہا اور کرسی کی پشت سے لگ کر بیٹھ گیا، پھر اس نے اپنے تایا سے پوچھا، ’’کہیے، کیا حال ہے؟‘‘

    ’’اچھا ہوں۔‘‘ تایا نے جواب دیا۔ ’’پیرس جانے کی سوچ رہا ہوں۔ لیکن تمہاری والدہ چاہتی ہیں کہ میں تمہاری شادی تک ٹھہر جاؤں۔‘‘

    ’’ٹھہر کر کیا کریں گے۔‘‘ لیو نے کہا۔ ’’آپ چلے جائیں۔‘‘

    ’’کیوں؟‘‘ تایا چونکے۔ ’’کیا شادی نہیں ہو رہی؟‘‘

    لیو نے جلدی سے کہا۔ ’’نہیں نہیں! میرا مطلب یہ نہیں ہے، میں تو کہہ رہا تھا کہ میری شادی کو آپ کے مشاغل میں حائل ہونا ہی نہیں چاہیے۔‘‘

    ’’میں نے کبھی کسی کو ان میں حائل نہیں ہونے دیا۔‘‘ تایا نے بڑی متانت سے جواب دیا۔ وہ لمبے سے، پتلے سے، سوکھے سے آدمی تھے۔ کئی سال تک ان کی صورت دکھائی نہ دیتی تھی۔ پھر کسی دن اچانک آ نمودار ہوتے تھے۔ اور ہفتوں اکثر آتے رہتے۔ گھر آؤ تو لائبریری میں بیٹھے پڑھ رہے ہوتے، یا بیٹھک میں بیٹھے ہوئے کچھ سوچتے ہوتے۔

    وہ کہہ رہے تھے، ’’میں ایک کھیل دیکھنے کے لیے پیرس جانا چاہتا ہوں۔ پندرہ دن میں کیا فرق پڑ جائے گا! وہ کھیل بڑا مقبول ہو رہا ہے، اور میں سوچ رہا ہوں کہ آئندہ موسم خزاں میں اسے یہاں دکھایا جائے، غنائی طربیہ ہے۔‘‘

    لیو کہنے لگا ، ’’ازابل اور میں دونوں شادی میں آپ کی عدم موجودگی کو آپ کی معذوری سمجھ کر نظرانداز کر دیں گے۔‘‘

    تایا مچھلی کے لال کیے ہوئے قتلوں پر نظر جمائے ہوئے بولے، ’’اگرچہ خاندا ن سے میرا تعلق برائے نام ہی ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرے اکلوتے بھتیجے کی شادی پر مسرت ہو۔‘‘ انہوں نے ایک قتلہ کانٹے سے اٹھایا۔ ’’موزوں شادیاں شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں۔ مجھے ایسی کوئی شادی دیکھنے کی تمنا ہے۔‘‘

    لیو کے دل کو اچانک ان سے مشورہ لینے کی خواہش پیدا ہوئی۔ وضاحت کیے بغیر بھی مطلب کی بات تو پوچھی جا سکتی تھی۔ تایا سے اسے محبت نہ سہی، مگر وہ ان پر اعتماد تو کر سکتا تھا۔ اس چھیل چھبیلے انسان سے محبت کیسے ہو سکتی تھی۔ ان کا ذہن پوری طرح بیدار اور روشن تھا۔ گو دل مرجھا گیا تھا ، بلکہ شاید مر چکا تھا، مگر اس وقت لیو کو ان کے دل سے کیا کام تھا۔

    ’’عجیب بات ہے! اس نے کہنا شروع کیا، پھر رک گیا۔

    تایا نے پوچھا، ’’کیا بات عجیب ہے؟‘‘

    ’’شادی سچ مچ قریب ہے اور میں نےازابل کو عروسی جوڑے میں بھی دیکھ لیا ہے، جس میں وہ بلا کی حسین نظر آتی تھی، مگر میرے دل میں یہ عجیب سا احساس پیدا ہو گیا ہے کہ میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔‘‘

    وہ اس طرح رک گیا جیسے اسے کسی بات کی توقع ہو۔ مگر کس با ت کی، وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔ اس کی نگاہیں تایا پر مرکوز نہیں تھیں۔

    تایا نے زیر لب کہا، ’’یہ تو تعجب کی کوئی بات نہیں۔‘‘

    لیو نے جلدی سے کہا،’’میرے نزدیک تو ہے، کیوں کہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں یہ رشتہ ضرور ہو، اور اگر میں توڑنا بھی چاہوں تو ہمارے خاندان والے کب توڑنے دیں گے؟ آدمی کو ایک اپنا ہی خیال تو نہیں کرنا چاہیے!‘‘

    تایا نے اسی طرح پوچھا، ’’کیا تمہارے نزدیک یہ سمجھنے کا کوئی جواز ہے کہ ازابل بھی ہچکچا رہی ہے؟‘‘

    انہوں نے اشارے سے بیرے کو بلا کر اس سے کہا: ’’مچھلی میں مزہ نہیں آیا!‘‘

    بیرے کو تشویش لاحق ہوئی۔ ’’حضور، کچھ اور منگوانا پسند کریں گے؟‘‘

    ’’کوئی مزے دار مشروب لے آؤ۔‘‘

    لیو کے لیے گائے کے تکے لائے گئے۔ انہیں بھون بھون کر سرخ کر دیا گیا تھا اور وہ مکھن اور پیاز کے عرق سے تر بہ تر تھے۔ لیو بھوک سے بے تاب ہو رہا تھا۔ اس نے ایک بڑا سا تکا اٹھا کر کھانا شروع کر دیا۔ ’’میرا خیال ہے ......‘‘ اس نے بھرے ہوئے منہ سے کہا، ’’کہ آپ مچھلی کی تعریف کر رہے تھے۔‘‘

    ’’ہاں! ‘‘ تایا کہنے لگے، ’’وہ تھی تو خوب، مگر تمہاری باتوں سے بے مزہ ہو گئی! اگر صرف تمہاری اور ازابل کی بات ہوتی تو ...... تم سمجھتے ہو کہ ازابل شادی کرنے کو تیار ہے؟‘‘

    لیو نے کہا۔ ’’میرے نزدیک تو اس میں شبہے کی کوئی وجہ نہیں۔‘‘

    عروسی لباس میں ازابل کی فروزاں آنکھوں کی کیفیت وہ تایا سے بیان نہ کر سکتا تھا۔ اسے یہ آنکھیں یاد آئیں تو یوں محسوس ہوا جیسے دل میں رحم کا جذبہ پیدا ہو رہا ہے۔ اس نے سوچا، ’’اگر میں نے ازابل پر ظلم کرتے ہوئے شادی   سے انکار کر دیا تو بھی ان آنکھوں کو یاد رکھوں گا۔‘‘

    فرالش کے انگوروں کا سفید رنگ کا مشروب آیا۔ بیرے نے اسے آہستہ آہستہ گلاس میں انڈیلا تاکہ اس میں جھاگ پیدا ہو جائے۔ تایا نے اس کا ایک گھونٹ پیا، پھر بولے۔ ’’میرا خیال ہے، میں تمہیں وہ بات بتا ہی دوں۔ تمہارے والدین نے تو کیا بتائی ہو گی۔ اس زمانے میں یہ واقعہ بڑی رسوائی کا موجب ہوا تھا۔ میں نے اپنی منسوبہ سے گرجا میں عین نکاح کے وقت قطع تعلق کیا تھا۔ اس کا نام ایگنس وان پیلٹر ہے۔‘‘

    ’’ارے! ‘‘ لیو نے حیرت سے کہا۔

    مس وان پیلٹر کو کون نہیں جانتا تھا! وال سٹریٹ کے کروڑ پتی سرمایہ دار کی بہن، جو برسوں پہلے فوت ہوا تو اپنی تمام دولت بہن کے نام کر گیا۔ مس پیلٹر نے شادی نہیں کی تھی۔ اس نے شہر میں دو عظیم خیراتی ادارے قائم کیے تھے، اور وہی انہیں چلا رہی تھی۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران اس نے یورپ میں یتیم خانے اور ہسپتال کھولے تھے۔ دراز قد اور خوبصورت، اس کی سیاہ آنکھیں اس کے برف جیسے سفید بادلوں تلے دمکتی رہتی تھیں اور چہرے پر نور معلوم ہوتا تھا۔

    تایا پر سکون سوچ کے انداز میں بات کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ شراب کی چسکیاں بھی لیتے جا رہے تھے۔ ’’میں نے اپنے ارادے کی تبدیلی کا اعلان وقت سے پہلے کرنا چاہا تھا، مگر کر نہ سکا تھا۔‘‘

    ’’گویا ......‘‘ لیو نے کہا۔ ’’آپ اسے   نا پسند کرتے تھے! مگر میرا معاملہ تو یہ ہے کہ میں ازابل کو نا پسند نہیں کرتا۔ میں تو اس بیزاری کے احساس کے باوجود پسندیدگی کی اس فضا میں ہوں، جسے میں ہمیشہ سراہتا رہا ہوں۔‘‘

    تایا بولے۔ ’’ایگنس، ازابل سے بہت مختلف تھی۔ اس میں مرد کو دبا کر رکھنے کا جذبہ تھا۔ میں نے تاڑ لیا کہ وہ مجھے کچا کھا جائے گی، چنانچہ میں نے شادی سے انکار کرکے اپنی جان بچائی۔‘‘ انہوں نے سر ہلایا۔ ’’میں تو بچ گیا، لیکن یہ نہیں کہہ سکتا کہ شادی نہ ہونے کے صدمے سے بھی بچ گیا۔ میں نے آج تک کسی اور عورت سے شادی کی آرزو نہیں کی۔‘‘

    ’’اور نہ اس نے کی؟‘‘ لیو بولا۔

    ’’ہاں ......‘‘ تایا نے کہا۔ ’’اس نے بھی نہیں کی۔ ارے بھئی! ہم باتوں میں پڑ کے اتنا لذیذ کھانا ٹھنڈا کر رہے ہیں! یہ ٹھیک نہیں۔‘‘

    دونوں نے پھر کھانا شروع کر دیا۔

    لیو سوچ میں گم تھا۔

    تایا فرانسیسی پیسٹری میں سے اپنی پسند کا ٹکڑا تلاش کرنے لگے۔

    ’’اگر میں کوئی مشورہ دے سکتا ہوں ......‘‘ انہوں نے اس کام سے فارغ ہو کر کہا، ’’تو وہ یہی ہے کہ میری طرح نہ کرنا۔ اگر ممکن ہو تو شادی کر گزرو! میں تمہیں بتاتا ہوں، کئی جوانوں نے اس دوران مجھے رازدارانہ طور پر یہ بتایا ہے کہ ہر مرد پر شبہات کا دور آتا ہے اور جب یہ دور گزر جاتا ہے تو وہ پھر سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ مجھے خود اس کا علم نہیں۔ میں تو یہی جانتا ہوں کہ جو کچھ میں نے کیا اس پر مجھے کوئی ندامت نہیں ہے، حالانکہ معاشرے نے کافی عرصے تک مجھ پر لعن طعن کیا۔ آج کل یہ باتیں اتنی اہم نہیں سمجھی جاتیں جتنی میرے زمانے میں تھیں، اور یہ اچھا ہی ہے۔‘‘

    ’’ذرا صاف صاف کہیے!‘‘ لیو ان کا مطلب اچھی طر ح نہ سمجھا تھا۔

    ’’گرجا میں نکاح کے وقت تک انتظار نہ کرنا۔‘‘ تایا نے اچانک بڑے زور سے کہا۔’’انکار کرنا ہو تو ابھی کر دو، ورنہ چپ رہو!‘‘

    لیو کو یہ مشورہ کچھ زیادہ ٹھوس نہ معلوم ہوا۔ تیسرا پہر ہوتے ہوتے ا س نے یہ رائے قائم کر لی کہ اس میں کچھ وزن نہیں ہے۔ اس نے اپنے باپ کے ساتھ مل کر ایک مقدمے کی مسل پر کام کیا، جس سے اسے ابھی تک دلچسپی تھی۔ ایک شخص نے دوسرے پر اس لیے نالش کر دی تھی کہ دوسرے نے پہلے کو اس کی بیوی کی محبت سے محروم کر دیا تھا۔ لیو کے والد یہ مقدمہ نہیں لینا چاہتے تھے۔ ان کی رائے یہ تھی   کہ اتنی نجی ذلت کو منظر عام پر لانا اچھا نہیں معلوم ہوتا۔ ان کے نزدیک اصل میں اس شخص نے اپنی بیوی کو دوسرے شخص کے نمودار ہونے سے پہلے ہی ہاتھ سے کھو دیا تھا۔ جو عورت اپنے شوہر کی ہو وہ کسی اور کے عشق میں مبتلا نہیں ہوا کرتی۔ غرض، اس کے باپ کے نزدیک یہ مقدمہ فضول سا تھا۔

    اس کے برعکس لیو کی رائے یہ تھی کہ آج کل کوئی بھی معاملہ نجی نہیں ہوتا۔ مقدمہ جان دار ہے اور فیس بھی معقول ہی ملے گی۔

    لیکن اب جن حالات سے وہ گزر رہا تھا، ان میں یہ قضیہ خود اسے بھی مکروہ معلوم ہوا۔

    ادھر اس کا باپ مقدمے میں ذہن لڑا رہا تھا ......کیا کسی شخص کو کسی ایسی عورت تک پہنچنے کا حق ہے، جو قانوناً کسی اور کی ملکیت ہو؟ اور اگر نہیں ہے تو کیا قانون اسے سزا نہیں دے گا؟

    لیو نے مسل دیکھ چکنے کے بعد کہا، ’’عورت کا بیان ہے کہ اس نے اپنے شوہر کو کبھی نہیں چاہا۔ اس کے والدین نے اس کی دولت اور حیثیت وغیرہ کی وجہ سے اسے اس سے شادی کرنے پر مجبور کیا تھا۔ وہ اسے خاندانی مصلحت کا نام دیتی ہے۔‘‘

    ’’بکواس کرتی ہے!‘‘ باپ نے ایک قانون دان کی طرح پر زور لہجے میں کہا، ’’اس زمانے میں کسی مرد ، یا عورت کو شادی پر مجبور نہیں کیا جا سکا۔ اس کی مرضی تھی ، تبھی شادی ہوئی تھی۔‘‘

    (جاری ہے)