پرل ایس بک

پرل ایس بک

چاہت (٢)

    ترجمہ: خاقان ساجد

    دن ڈھلنے کی تیاری کر رہا تھا۔ سورج کی ترچھی کرنیں ان دونوں کے درمیان رکھے میز اور اس کے باپ کے جھریوں سے بھرے شفیق چہرے پر پڑ رہی تھیں۔

    لیو نے سوچا، ’’اگر میں بیزاری محسوس کرنے کی بات ان سے کہہ دوں تو کیسی رہے؟ زمانہ بدل چکا ہے، پرانی روایتی مجبوریاں اب کوئی معنی نہیں رکھیں، میرے دوست یہ سانحہ بھول جائیں گے، اور ازابل اتنی دلکش لڑکی ہے کہ کوئی اور اس سے فوراً شادی کر لے گا۔‘‘

    لیکن جوں ہی اس کی نظر اپنے باپ پر پڑی، اسے خیال آیا کہ یہ معاملہ محض روایات کا نہیں ہے۔ ان قدیم انسانی روایات کی گہرائیوں میں اور باتیں بھی ہیں، جو انسانی تجربات کا ثمرہ ہیں۔ ایک فرد بہتوں کے لیے خود کو قربان کرتا ہے۔ یہ ایثار ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ایک فرد اس لیے غم اٹھاتا ہے کہ اس کے سب متعلقین خوش ہوں۔ انسانیت کی بنیادیں اسی پر قائم ہیں۔

    نہیں، وہ اپنے باپ سے یہ بات نہیں کہہ سکتا، اس سے ماں کو بھی پتا چل جائے گا، اور پھر ازابل کی ماں اور اس کے باپ کو بھی معلوم ہو جائے گا اور اگر وہ والدین کی پروا نہ بھی کرے تو کیا ازابل کو بھی قربان کر سکتا ہے؟ وہ اسے اتنا چاہتی ہے۔

    عروسی جوڑا تیار ہو گیا، اور ایک بڑے صندوق میں رکھ کر پہنچا دیا گیا۔ جب ازابل نے اسے کھولا تو اس کی لیس کی تہوں کے نرم، باریک کاغذ میں سے خوشبو کی لپٹیں آئیں۔ مس بارکلے نے لیس میں ٹیلی ساٹن کی ایک کترن گلاب کے عطر میں بسا کر رکھ دی تھی۔ ایسا تحفہ دینے کی اسی کو سوجھ سکتی تھی۔ بات معمولی تھی، لیکن ازابل جانتی تھی کہ اس میں کتنے جذبات اور کتنی لطافتیں مضمر ہیں۔ انسانوں میں یہی تو ہے کہ اپنے جذبات ظاہر کیے بغیر نہیں رہتے۔

    دروازہ کھلا اور اس کی والدہ اندر آئیں۔ ان کا نرم، گلابی چہرہ پر مسرت اضطراب کی تصویر بنا ہوا تھا۔

    ’’بیٹا!‘‘ انہوں نے کہا، ’’لیو کی دادی جان نے ایک نہایت پیارا تحفہ تمہیں ابھی ابھی بھیجا ہے۔ وہی چاندی کا چائے کا سیٹ معلوم ہوتا ہے جو ان کے بزرگ انگلستان سے اپنے ساتھ لائے تھے۔ ارے ، تمہارا عروسی جوڑا آگیا! تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ اسے کھولنے کے وقت میں بھی موجود ہوتی!‘‘

    ’’مجھے خیال ہی نہیں آیا۔‘‘ ازابل کے منہ سے سچی بات نکل گئی۔

    اس کی ماں نے خوشبو کا وہ پلندا صندوق میں سے نکالا۔

    ’’یہ پیاری خوشبو کس شے کی ہے؟ مس بارکلے سے ایسی ہی دل لبھانے والی بات کی توقع تھی۔ اسے کہاں لٹکائیں؟...... ارے ہاں! پلاسٹک کے تھیلے میں ڈال کر مہمان خانے کی الماری میں لٹکا دیں، یا پھر اسی صندوق میں رہنے دیں؟‘‘

    ازابل نے کہا، ’’ٹکا دیجیے۔‘‘

    لیکن اس کی ماں اپنی شادی   کے دن کی یاد میں کھوئی ہوئی تھی۔ اس نے بیٹی کی بات سنی ہی نہیں۔

    وہ کہہ رہی تھی، ’’پتا نہیں، تم وہ بات جانتی ہو یا نہیں؟‘‘

    ’’کون سی بات؟‘‘ ازابل نے پوچھا۔

    ’’میں یہ جاننے کے لیے بے تاب ہوں کہ تم شادی کے بعد خوش بھی رہو گی یا نہیں۔ میرے لیے یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ مجھے اس بات کی اسی وقت سے فکر ہے جب تم پیدا ہوئی تھیں۔ عورت کے لیے غلط شوہر عذاب بن جاتا ہے اور صحیح مرد ایک رحمت ہوتا ہے۔‘‘

    ’’یہی موقع ہے ......‘‘ ازابل نے سوچا، ’’اب مجھے کہہ دینا چاہیے۔ اسی وقت کہہ دینا چاہیے کہ لیو اور سب طرح موزوں ہونے کے باوجود غلط قسم کا مرد ہے۔‘‘

    ’’میری پیاری پیاری بیٹی۔‘‘ ماں نے سرگوشی کی، ’’میں کتنی خوش ہوں!‘‘

    ازابل کچھ نہ کہہ سکی، وہ ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکال سکی۔ اس کی ماں کی آنکھیں سچ مچ بھیگی ہوئی تھیں۔

    حقیقت میں وہ لیو کو اس لیے بھی نا پسند کرنے لگی تھی کہ وہ کسی سے یہ نہ کہہ سکی تھی کہ وہ لیو سے محبت نہیں کرتی۔ یہ بات ناواجب تھی، اور نا مصنفانہ بھی۔ کیا وہ اس سے مختلف ہو گیا تھا جیسا ہمیشہ سے تھا؟ نہیں، وہ تو ویسا ہی تھا۔ اس نے سوچا۔ ’’وہ بالکل وہی انسان ہے جس سے میں نے محبت کی تھی، مگر مجھے اس سے بے زاری ہونے لگی ہے۔‘‘

    ایک شام وہ اس سے ملنے کے لیے زینے سے نیچے آئی۔ یہ شام شادی سے پہلے کی وہ آخری شام تھی جسے وہ مل کر گزار سکتے تھے۔ آئندہ دنوں میں تو ضیافتوں اور دعوتوں کا وہ تانتا بندھے گا کہ وہ ایک دوسرے سے مل بھی نہ سکیں گے۔ اس نے ہر دعوت میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔ کسی ضیافت میں لیو کی منسوبہ بن جانا اس کے لیے زیادہ آسان تھا۔ لڑکیاں داد بھی دیتیں اور حسد بھی ظاہر کرتیں۔ اسے اس بات کا پورا پورا شعور تھا کہ جب وہ دونوں ساتھ ہوتے ہیں تو کتنے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں کے قدم لمبے، رنگ کھلتے ہوئے، جسمانی طور پر دونوں ایک دوسرے کے لیے موزوں، لیکن جسم ہی تو بغاوت پر آمادہ تھا۔ یہ ایک عجیب ناقابل فہم الجھن تھی، ان کے ذہن ہم آہنگ تھے۔ ازابل اور لیوذہنی طور پر ایک دوسرے کو ہمیشہ سے سمجھتے آئے تھے، دونوں ذہنی طور پر ایک دوسرے کے قریب تھے۔ دونوں ہر اہم مسئلے میں، اور حد یہ ہے کہ مذہب اور سیاست کے باے میں بھی متفق تھے۔ وہ ایک سا لباس پسند کرتے تھے۔ ایک ہی رنگ دونوں کو پسند آتا تھا۔ ان میں کبھی تو تو میں میں نہ ہوئی تھی۔ وہ سچے دل سے لیو سے محبت کرنا چاہتی تھی۔

    پھر اس کا ذہن لیو سے برگشتہ کیوں تھا؟

    اگر وقت ہوتا تو وہ کسی ماہر نفسیات کے پاس جاتی اور اس کا سبب معلوم کرتی، مگر شاید اس کا سبب کوئی بھی نہ بتا سکتا۔

    دروازہ کھلا اور لیو اندر آیا۔ ہمیشہ کی طرح تروتازہ، عمدہ لباس پہنے ہوئے، شیو کیے ہوئے۔’’مجھے دیر تو نہیں ہو گئی؟‘‘

    ’’نہیں، میرا خیال ہے ، میں ہی جلدی آگئی ہوں۔‘‘

    وہ روز کی طرح اسی صوفے پر بیٹھ گیا جس پر وہ اس کی منتظربیٹھی تھی، لیکن اس سے لیو کے ساتھ بیٹھنا برداشت نہ ہوا، اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’لیو اگر تم برا نہ مانو تو آؤ، سیر کو چلیں۔ آج میرا دل بے چین سا ہو رہا ہے۔‘‘

    ’’ڈر تو نہیں رہی ہو؟‘‘

    ’’کس سے ؟ ...... تم سے ......بے وقوف نہ بنو!‘‘

    ’’تو پھر کیا ہوا ہے؟‘‘

    وہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

    ازابل نے سوچا،’’شاید اس نے تاڑ لیا کہ میرے دل میں کیا ہے۔‘‘

    ’’پتا نہیں۔ ‘‘ اس نے جواب میں کہا۔ ’’ویسے تو کچھ بھی نہیں ہوا، مگر دل بے چین سا ہے۔ شاید تھک گئی ہو، کیا تو کچھ بھی نہیں، بس! عروسی جوڑا پہن کر دیکھنے کے لیے کچھ دیر کھڑی رہی ہوں۔‘‘

    وہ ایک دم اٹھ کھڑا ہوا۔’’آؤ چلیں!‘‘

    ازابل کو یقین ہو گیا کہ لیو نے اس کی حالت کا اندازہ کر لیا ہے۔

    رات خاصی گرم تھی، مگر وہ شال لانے کا بہانہ کرکے اوپر کی منزل میں چڑھ گئی۔ سرخ اونی کوٹ ہاتھ میں اٹھا کے وہ آئینے کے سامنے اپنی ایک جھلک دیکھنے کے لیے رکی تو اسے اپنا چہرہ بھوت کی طرح سفید دکھائی دیا۔ واقعی اس کا چہرہ دھلے کپڑے کی طرح سفید پڑا ہوا تھا۔

    لیو دروازے پر کھڑا تھا۔ وہ کسی گہری سوچ میں تھا۔

    اب تو ازابل کو یقین ہی ہو گیا، وہ تاڑ گیا ہے۔ اسے بیک وقت افسوس بھی ہوا اور خوشی بھی، خوشی اس بات کی کہ اب مسئلہ آسانی سے حل ہو جائے گا، اور افسوس اس بات کا کہ بے چارے کو اس صدمے کا اندازہ نہ تھا، جو اسے پہنچنے کو تھا، لیکن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس وقت تک وہ بات نہیں کہے گی جب تک وہ کہیں   دور نہیں نکل جاتے۔ تاریک رات میں، کسی سنسان سڑک پر، وہ اسے بتائے گی کہ نہ جانے، کس طرح محبت کا جذبہ اچانک اس کے دل سے رخصت ہو گیا ہے۔ اس جذبے کے بغیر وہ خود کو سرد مہر اور خالی خالی محسوس کر رہی تھی۔ وہ تہہ دل سے چاہتی تھی کہ یہ جذبہ پھر سے پیدا ہو جائے۔ کاش، وہ اسے پھر سے پیدا کر سکے! اگر وہ جانتی ہوتی کہ محبت کیسے پیدا کی جاتی ہے تو ضرور پیدا کر لیتی، کیونکہ اس کے سوا باقی ہر بنا پر وہ اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ وہ اسے پھر سے پسند کرسکتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ اسے پسند کرے۔ پسندیدگی کا وہی پرانا تسلی بخش جذبہ پھر سے پیدا ہو جائے، جو دونوں کے دلوں میں ایک   دوسرے کے لیے ہمیشہ سے تھا، او رشاید ان کے لیے وہی کافی تھا۔

    جب وہ کارچلانے لگا تو اس نے پوچھا ،’’تم کس طرف جانا پسند کرو گی؟‘‘

    ’’بس، شہر سے باہر نکل چلو!‘‘

    گاڑی چلتی رہی، وہ دونوں خاموش بیٹھے رہے۔ وہ تاروں بھری، سیاہ رات میں شمال کی طرف روانہ ہوئے۔ رات کی ہلکی ہلکی گرم ہوا ان کے چہروں پر لگ رہی تھی، وہ ازابل کی گھنی زلفوں کو اڑا رہی تھی، اس کا سفید ریشمی فراک پھڑپھڑا رہا تھا۔ اس افراتفری کی وجہ سے ان دونوں کو بات نہ کرنے کا موقع مل گیا۔

    ازابل سوچ رہی تھی، اسے معلوم تو ہو ہی گیا ہے، اب تو بس ، منہ سے میرے کہنے کی کسر رہ گئی ہے۔

    اس کا گلا خشک ہو گیا اور دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ اس بات کو اس لمحے پر ٹالتی رہی جب اسے لیو سے کہنا ہی پڑ جائے گا کہ گاڑی کو یہاں تھوڑی دیر کے لیے روک لو، مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔

    اس اثناء میں ، جب وہ اس لمحے کا انتظار کر رہی تھی، اسے وہی ......تقریباً ویسے ہی الفاظ لیو کے منہ سے سن کر حیرت ہوگئی۔

    ’’ازابل! میں یہاں گاڑی روکتا ہوں۔ اس سے پہلے کہ وقت نکل جائے...... میں وہ بات تم سے کہہ دینا چاہتا ہوں۔‘‘

    اس نے سڑک کے کنارے ایک بڑے سے درخت کے نیچے گاڑی روک لی۔ اوپر ستارے تھے اور چاروں طرف ان قصبوں اور بستیوں کی روشنیاں جھلمل جھلمل کر رہی تھیں، جو شہرکے آس پاس آباد تھیں۔

    ’’ہاں لیو! ‘‘ ازابل نے کہا، لیکن وہ حیران تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔

    ’’میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ بات کیسے کہوں!‘‘

    وہ سگریٹ کے لیے جیب ٹٹول رہا تھا۔ آخر وہ مل گیا۔

    ’’پیو گی؟‘‘ اس نے ازابل سے پوچھا۔

    ’’نہیں ، شکریہ۔‘‘

    ’’پی لو، اس سے میرے لیے وہ بات کہنا آسان ہو جائے گا۔‘‘

    ازابل نے سگریٹ لے لیا ، لیو نے سلگا دیا۔

    شعلے کی روشنی میں اس نے دیکھا کہ لیو کا چوڑا چکلا ہاتھ کانپ رہا ہے۔

    ’’مجھے یہ بات ہفتوں پہلے کہہ دینی چاہیے تھی......‘‘ لیو نے کہنا شروع کیا اور اس کی آواز اچانک بھرا گئی۔ ’’مگر، چونکہ اس وقت نہیں کہہ سکا، اس لیے اب کہہ دینی چاہیے۔ اسی میں میرا اور تمہارا ، دونوں کا بھلا ہے۔ ازابل! میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکوں گا۔‘‘

    ضرب لیو نے لگائی۔ اس ضرب سے چوٹ ازابل کو لگی، مگر ازابل کو حیرت اس بات پر تھی کہ اسے چوٹ سے صدمہ کیوں ہوا۔ وہ سنانے میں آئی ہوئی بیٹھی تھی۔ اس تو یہ چاہیے تھا کہ فوراً چیخ اٹھتی، ’’لیو! کیا تم بھی یہی محسوس کر رہے ہو؟ میں تو تم سے یہ کہنے کی ہمت ہی کرتی رہ گئی۔‘‘

    لیکن اس کی زبان سے ایک حرف بھی نہ نکلا۔ وہ دم بہ خود تھی۔ وہ دل ہی دل میں کھول رہی تھی ...... اسے اذیت پہنچ رہی ہے تو پہنچنے دو، میں بھی تو اذیت میں ہوں!

    وہ اسی طرح بھرائی ہوئی آواز میں کہہ رہا تھا، ’’میری عقل کام نہیں کر رہی ہے۔ مجھے خود سے نفرت ہوتی جا رہی ہے۔ میں جانتا ہوں، اور محسوس بھی کر رہا ہوں کہ تم وہی پیاری پیاری اور حسین و جمیل لڑکی ہو جسے میں اپنی دلہن بنانا چاہتا ہوں۔ تم میں وہ سب کچھ ہے، جو مجھے پسند ہے۔ مجھے تم پر ناز ہے۔ تم جیسی خوبصورت، ذہین اور دل نواز بیوی سے میری زندگی کو چار چاند لگ جائیں گے، لیکن میں اس قابل نہیں ہوں۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔‘‘

    وہ بولی۔ ’’تم نے بڑا ظلم کیا کہ پہلے یہ بات نہ کہی! تمہیں جس وقت یہ محسوس ہوا تھا کہ مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہیے ، اسی وقت کہہ دینا چاہیے تھا۔‘‘

    اس نے بڑبڑاتے ہوئے کہا، ’’ہاں ، یہ میری زیادتی تھی، لیکن اس وقت میرا خیال یہ تھا کہ یہ احساس عارضی ہے۔ میں نے سنا تھا کہ اکثر لوگوں پر شادی سے پہلے ایسی حالت طاری ہوا کرتی ہے، مگر گزر جاتی ہے۔ میں سمجھا، میری یہ حالت بھی بدل جائے گی۔ میرا خیال ہے، گزشتہ ہفتے عشرے ہی میں ......‘‘

    ’’کیا اس دن، جب تم نے مجھے عروسی جوڑا پہنے دیکھا تھا؟‘‘ ازابل نے پوچھا۔

    لیو نے پہلے تو تامل کیا ، پھر بولا۔ ’’اف! ہاں، اسی دن، میرا خیال ہے، وہی لمحہ تھا، جب مجھے پتا چلا کہ میرے دل میں کیا ہے۔‘‘

    ’’جب تم نے مجھے دلہن بنی ہوئی دیکھا؟‘‘ ازابل بولی۔

    اس نے عجز و انکسار سے کہا۔ ’’مجھے خود سے نفرت ہو رہی ہے۔ سارا الزام مجھی پر آتا ہے۔ میں سب کے سامنے اعتراف قصور کر لوں گا۔‘‘

    ’’نہیں ......‘‘ ازابل   جلدی سے بولی۔ ’’تم ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘

    سچ مچ، وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے فوراً محسوس کیا کہ اسے چاہیے، ازابل کو پہل کرنے دے۔ منگنی توڑنے کا حق اسی کو حاصل ہونا چاہیے، لیکن کیا وہ ایسا کرے گی؟

    ’’میں وہی کروں گا، جو تم چاہو گی۔‘‘ لیو نے کہا۔

    وہ بولی۔ ’’مہربانی کرکے مجھے گھر پہنچا دو۔‘‘

    لیو نے کار موڑی اور اسے بڑی تیز رفتاری سے سنسان سڑک پر دوڑانے لگا۔ دونوں پہلو بہ پہلو خاموش بیٹھے تھے، لیو افسردہ ، ازابل غصہ ضبط کیے ہوئے۔ کیوں؟...... آخر کیوں وہ فوراً نہ بول سکی؟ اور کیوں نہ اس نے اپنی مدافعت کی؟ اس لیے کہ یہ صدمہ تو ہمیشہ رہے گا۔ وہ یہ بات کس طرح بھول سکے گی کہ اس نے لیو کی محبت اپنے دل سے نکال دی تھی، اور پھر جب کبھی یہ محبت اس کے د ل میں پیدا ہو گی تو اسے قبول کرنے میں ا س بنا پر دشواری ہو گی کہ خود میں کسی کوتاہی کا غم اسے کھاتا رہے گا، جس کی وجہ سے لیو کی محبت سرد ہوئی۔ یہ سچ ہے کہ اب وہ لیو سے محبت نہیں کرتی تھی، لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی تھی۔ اس میں اور کسی مرد کے کسی عورت کو ٹھکرا دینے میں بڑا فرق ہے۔ عورت اس قسم کا حادثہ زندگی بھر نہیں بھولتی۔ اب اس میں اور لیو میں کبھی دوستی نہیں ہو سکتی۔ اسے لیو کا وہ پہلو نظر آگیا تھا، جو ناقابل فراموش تھا۔ محبت کے لیے نہ سہی، اس کے نسائی غرور کے لیے تو یہ زخم سدا ہرا رہے گا، اور ہمیشہ رستا رہے گا۔

    ’’مجھے ہمیشہ خود سے نفرت رہے گی۔‘‘ وہ تاریکی میں خود سے بڑبڑایا۔

    ازابل نے جواب میں کچھ بھی نہ کہا ...... یہ خود سے نفرت کرتا رہے گا تو کرتا رہے۔ اسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس نے ایک نفرت انگیز حرکت کی تھی، لیکن اسے یہ با ت یاد رکھنے کا حق بھی پہنچتا ہے کہ مرد ماضی کا نہیں، حال کا خیال کیا کرتے ہیں، لیکن حیرت ہے کہ پرانی روایات کتنی پائیدار ہیں۔ یہ تصور قرین انصاف بھی ہے اور اس میں رحم دلی بھی ہے کہ کسی مرد کو منگنی توڑنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ اسے شرافت سے کام لے کر یہ حق اپنی منگیتر کو استعمال کرنے دینا چاہیے، کیونکہ اس کے پاس محبت اور نسائی غرور کے سوا اور ہوتا بھی کیا ہے۔ مرد کا فرض ہے کہ ان دونوں کو عورت ہی کے پاس رہنے دے۔ باقی دنیا تو اس کی ہوتی ہی ہے۔ وہ یہ سوچ کر جھلا اٹھی کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی، مگر مرد کا یہ غلبہ اب بھی برقرار ہے۔

    میل پر میل گزرتے چلے گئے۔ ایک گھنٹے بعد وہ ازابل کے گھر کے دروازے پر پہنچ گئے۔ اوپر کی منزل کی کھڑکیاں تاریک تھیں۔ ازابل کے والدین سو چکے تھے۔ وہ بھی اس دل خراش خبر کا اعلان ملتوی کرکے اپنے کمرے میں جا کر سو سکتی تھی۔

    ’’ازابل! میں اندر چلوں؟‘‘ لیو نے افسردہ انکسار سے پوچھا۔

    ’’نہیں ......‘‘ ازابل نے کہا۔ ’’شکریہ ۔‘‘

    ’’کوئی بات ہے کہ تمہیں جانے دینے کو دل نہیں چاہتا۔‘‘

    ’’لیکن تم نے مجھے چھوڑ دیا ہے ...... ہے نا؟ اب اندر چلنے، یا نہ چلنے سے کیا فرق پڑے گا! شب بخیر!‘‘

    ’’ازابل!‘‘

    ’’لیو ! میں سمجھنے کی کوشش کروں گی، مجھے کار سے باہر نکلنے دو۔‘‘

    لیکن لیو نے گاڑی کا دروازہ نہ کھولا۔ وہ اسے اس طرح روکے رہا جیسے وہ اسے تنہا نہیں جانے دینا چاہتا ہو۔

    ’’میرا جی چاہتا ہے کہ ...... ازابل! میں تم سے بہت مانوس ہوں۔ میں   تمہیں سب سے زیادہ پسند کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ تم مجھ سے نفرت کرو...... اور اگر تم نے مجھ سے نفرت کی تو میں یہ برداشت نہیں کر سکوں گا۔ ہمیں باتیں کرنی چاہئیں، یا پھر کچھ اور کرنا چاہیے۔ میری تمہاری ساری عمر دوستی رہی ہے۔ میں تمہیں کھو نہیں سکتا، مجھے اس سے شدید صدمہ پہنچے گا...... اور اگر ہم دونوں دوست نہ رہے ازابل! تو ہمارے خاندان کیونکر دوست رہ سکیں گے۔ ہم ان کی دل شکنی نہیں کر سکتے! کیوں؟ ...... کرسکتے ہیں؟‘‘

    وہ اتنے خلوص سے ، اتنے جذبے سے اور معقولیت کی تڑپ لیے ہوئے بات کر رہا تھا کہ ازابل کو اس پر پیار سا آنے لگا، مگر محبت کی حد تک نہیں۔

    وہ ساکت بیٹھی سامنے کی روشن سڑک کو دیکھ رہی تھی، اور اپنے جذبات سے پر، غضب ناک دل پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی......لیو ٹھیک کہہ رہا تھا کہ سب کی دل شکنی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر اس نے لیو کو اس وقت اس خیال میں رہنے دیا کہ قصور سراسر اس کا ہے تو پھر عمر بھر یہ بات نبھانی پڑے گی، اور اگر اس نے صاف دلی سے اسے معاف کر دیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ ان کے تعلقات پہلے جیسے رہیں گے، اور منگنی ٹوٹنے سے ان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا تو بھی اوروں کے لیے تو صورتحال بدلے گی ہی۔ اس کے والدین آئندہ نہ تو لیو کی صورت تک دیکھنے کے روادار ہوں گے، اور نہ اس کے خاندان سے میل جول رکھنا پسند کریں گے، وہ یہ نہیں چاہتی تھی۔ وہ تو یہ چاہتی تھی کہ صورت حال ویسی ہی رہے جیسی منگنی سے پہلے تھی، اس کا تو ایک ہی راستہ تھا کہ وہ لیو کو ساری بات من و عن بتا دے۔ محض نسائی غرور کے لیے اسے سزا دینا مناسب نہ تھا۔ اور یہ غرور بھی تو فرسودہ تھا، ان عورتوں کا غرور، جو مر کھپ چکی تھیں۔ یہ وراثت ایسی تھی ، جسے قبول کرنے کے لیے وہ تیار نہیں تھی، خس کم، جہاں پاک!

    ’’لیو!‘‘ اس نے اچانک کہا۔ ’’ایک حد تک میں بھی قابل نفرت ہوں۔ میں بھی تمہیں وہی بات بتانے کو تھی جو تم نے مجھے بتائی ...... کہ...... میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکوں گی۔‘‘

    لیو کو یہ بات سمجھنے میں کافی دیر لگی۔

    ’’حد ہو گئی! اس نے ایک دم نعرہ مارا۔ تم نے پہلے یہ بات کیوں نہ کہہ دی؟ میرا خون خشک ہوتا رہا۔‘‘

    ’’مجھ سے بڑی بھول ہوئی۔‘‘ ازابل نے اپنی غلطی تسلیم کی۔ ’’لیکن تم نے اچانک یہ بات کہہ کر مجھے حیران کر دیا۔ مجھے گمان تک نہ تھا کہ تم ......‘‘

    ’’بس کرو! اس نے جیسے حکم دیا۔’’محبت ہونے نہ ہونے کے بارے میں کچھ نہ کہنا۔ میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔ میں ایک ایسی ہستی کو کھونے کی ہمت نہیں رکھتا جسے میں اتنا چاہتا ہوں۔‘‘

    ’’میں بھی تمہیں کھونا نہیں چاہتی۔‘‘ وہ بولی۔ ’’ہمیں ان سے یہی کہنا پڑے گا کہ ہم نے یہ فیصلہ باہمی رضامندی سے کیا ہے ...... اور لیو! ......‘‘

    ’’ہاں۔‘‘

    ’’ہمیں اسی طرح ایک دوسرے سے ملتے رہنا چاہیے جس طرح منگنی سے پہلے ہم ملتے جلتے رہے ہیں، اور ہمیں اپنے خاندانوں کو بھی پہلے کی طرح ایک دوسرے کے قریب رکھنا ہوگا، کم از کم کچھ ہی عرصے کے لیے ......اور جب ہماری شادیاں ہو جائیں گی، تمہاری کسی اور لڑکی سے ......ا ور ......‘‘

    ’’میرا خیال ہے، اس میں بہت دیر لگے گی۔‘‘ لیو نے کہا اور رومال جیب سے نکال کر پیشانی کا پسینہ پونچھنے لگا۔

    ’’پگلا ......!‘‘ ازابل کے منہ سے نکلا اور وہ ہنسی۔ آج وہ کئی دن بعد ہنسی تھی، پھر بات پوری کرتے ہوئے کہنے لگی۔ ’’میں کسی اور سے بیاہ دی جاؤں گی۔ پھر ہم اگلی نسل تک دوست بنے رہیں گے۔ لیو! کیا بتاؤں، میں تمہیں کتنا پسند کرتی ہوں!‘‘

    لیو اٹھا، اس نے دروازہ کھولا اور باہر نکلا۔ پھر دونوں ساتھ ساتھ سیڑھیاں چڑھے۔

    لیو نے گھنٹی بجائی تو دروازہ، جیسے پذیرائی کے لیے فوراً کھل گیا۔ یہی اس کا معمول تھا۔ جہاں تک اسے یاد تھا۔ دروازہ ہمیشہ اسی طرح کھلتا تھا۔ ازابل کی سالگرہ کی تقریب میں شریک ہونے کے لیےوہ جب بھی آتا، اس دروازے کی دہلیز پر اسی طرح کھڑا ہوتا۔ اس وقت دروازہ کسی قلعے کے پھاٹک کی طرح بند ہوتا، لیکن اس کے لیے کھل جاتا، اور وہ اندر داخل ہو جاتا، کیونکہ اس گھر کے سب لوگ اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے۔

    ’’اندر آجاؤ!‘‘ ازابل نے کہا۔ ’’محض اس لیے کہ ہم شادی نہیں کر رہے، اتنی جلد رخصت ہوجانے کی ضرورت نہیں۔‘‘

    ’’ہش ......!‘‘ لیو نے آہستہ سے کہا۔ ’’کہیں وہ سن نہ لیں!‘‘

    ’’کون؟‘‘ ازابل نے پوچھا۔

    ’’تمہارے گھر کے لوگ۔‘‘

    ’’انہیں تو معلوم ہو ہی جائے گا؟‘‘ ازابل نے یوں کہا جیسے اسے ایسا ہونے کا یقین ہی نہیں ہے۔

    اس وقت وہ بلوریں شمع دان کے نیچے کھڑا تھا۔ ازابل اسے تعجب سے گھور رہی تھی۔

    ’’لیو! ......‘‘ اس نے پوچھا ۔ ’’تمہیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘

    ’’پتا نہیں۔‘‘ لیو نے جواب دیا۔ ’’البتہ کچھ عجیب سا ضرور محسوس ہو رہا ہے۔‘‘

    ’’کیسے؟‘‘ ازابل نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔

    واقعی لیو اس وقت عجیب سا نظر آرہا تھا۔ اس کا چہرہ اچانک سفید پڑ گیا تھا۔

    ’’ہم گھنٹے بھر تک کس کے بارے میں باتیں کرتے رہے ہیں ازابل؟‘‘ اس نے پوچھا۔

    ’’شادی نہ کرنے کے بارے میں۔‘‘ازابل نے جھٹ سے جواب دیا۔

    ’’مجھے معلوم ہے ......‘‘ لیو بولا۔ ’’لیکن پہلے یہ بتاؤ...... ہم شادی کیوں کرنا چاہتے تھے؟‘‘

    ’’تمہیں ہی معلوم ہو گا۔‘‘ ازابل نے جواب میں کہا۔ ’’تمہی نے مجھ سے شادی کی درخواست کی تھی۔‘‘

    ’’اس کی بہت سی وجوہات تھیں۔‘‘ کہہ کر لیو ذرا رکا، پھر اچانک جوش سے کہنے لگا۔ ’’اور وہ مناسب تھیں، اور اب بھی ہیں، ایک تو یہ کہ ہمارے خاندان ایک دوسرے سے اتنے گھلے ملے ہوئے ہیں، پھر ہم دونوں ایک دوسرے کو جانتے پہچانتے ہیں۔ کیا تم بھی نہیں جانتیں کہ میں کسی اجنبی عورت سے شادی   کرنا نہیں چاہتا۔ میں کسی ایسی عورت سے شادی کرنا چاہتا ہوں، جسے میں جانتا ہوں ...... اور میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ تمہیں جانتا ہوں۔‘‘

    ازابل نے منہ پھیر لیا۔

    ’’اجنبی ......‘‘ لیو بڑبڑایا ......’’اجنبی گھر میں شادی کرنا مجھے پسند نہیں۔‘‘

    ’’میں بھی کسی اجنبی سے شادی کرنا نہیں چاہتی۔‘‘

    ’’کئی باتیں قابل غور ہیں۔‘‘لیو نے بات جاری رکھتے ہوئے اس طرح کہا جیسے کسی مسئلے پر بحث کر رہا ہو۔’’ مجھے ایک فائدہ یہ ہے کہ کسی ایسی عورت سے شادی کروں گا جسے پہلے سے نہ جانتا ہوں گا تو اسے بعد میں جاننا پڑے گا، اس کے بعد ہی شادی کو حققی معنوں میں شادی کہا جا سکے گا۔ ٹھیک ہے نا؟‘‘

    ’’تمہیں ہی معلوم ہو گا۔‘‘ ازابل نے کہہ دیا۔

    ’’ہاں، مجھے معلوم ہے۔ ‘‘ لیو نے بڑے جوش سے کہا۔ ’’تمہارے دروازے پر پہنچنا، اور میں سیکڑوں ہی دفعہ آیا ہوں، تو اپنے لیے دروازہ کھلا پانا، اس کا کچھ مطلب ہوتا ہے، یہ ہال، یہ قدیمی شمع دان ، اور تمہارا یہاں کھڑے ہونا، ہم دوسرے جوڑوں سے برسوں آگے ہو گئے ...... ہو گئے یا نہیں؟‘‘

    ازابل نے سوچا اس کی یہ کیفیت ایسی ہے کہ دیکھنے والے کا دل پگھل جائے۔ اگر وہ بڑا نہ ہوتا تو رو دیتا۔ پہلے اس نے اسے کن اکھیوں سے دیکھا پھر نگاہ بھر کر اور پھر دھیمی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیلنے لگی۔ یک لخت اس نے قہقہہ لگایا۔

    ’’لیو! میں بے وقوف ہوں یا تم چغد ہو؟‘‘

    ’’دونوں!‘‘ اس نے دانت نکالے۔ اس لمحے اسے محسوس ہوا کہ پیار کرنے والوں کی دنیا ایک ہی ہوتی ہے۔ آخر پیار کیا ہوتا ہے؟ دو دلوں کا ایک ہو جانا۔

    سیڑھیوں پر انہوں نے قدموں کی آہٹ سنی تو چونکے۔ ازابل کی ماں شب خوابی کے لباس میں کھڑی مسرت سے لبریز لہجے میں کہہ رہی تھی۔ ’’شمع دان کے نیچے تم دونوں کھڑے کس قدر خوبصورت لگ رہے ہو، میں مسرت کے ان لمحات میں مخل نہیں ہونا چاہتی تھی مگر کیا تمہارے خیال میں ......‘‘

    ’’یقیناً۔ میں رخصت ہونے ہی کو تھا‘‘ ، لیو نے جلدی سے کہا۔

    ’’تم دونوں کی جوڑی سلامت رہے۔ ایسی بہت سی راتیں آئیں گی۔ خدا تمہیں لمبی عمر عطا کرے۔ ‘‘ انہوں نے دعا دی۔

    ازابل نے لیو سے کہا۔ ’’اچھا ! شب بخیر!‘‘

    ’’شب بخیر! میں حسب معمول کل پھر آؤں گا۔‘‘

    ’’ضرور! ‘‘ ازابل نے جواب دیا۔