مرگ(١)
ترجمہ: خاقان ساجد
’’پاپا...... او پاپا...... چلو اب اٹھ بیٹھو۔ سنا نہیں تم نے۔ بہت ہو گئی، اب چلتے پھرتے نظر آؤ۔‘‘
’’آہ ! ہائے! خدایا! مقدس مریم!‘‘ ضعیف آدمی درد سے کراہنے لگا۔ اس کا ستا ہوا نڈھال چہرہ بھیڑ کی کھال کے لبادے سے نمودار ہوا۔ اس کا رنگ اس زمین کی طرح مٹیالا تھا جس پر اس نے سالہا سال کاشت کاری کی تھی۔ سر کے بالوں کی رنگت برف سے ڈھکی منڈیروں کی طرح سفید تھی جن میں خزاں کے موسم میں ہل چلایا گیا تھا۔ اس نے ایک لمبا اور گہرا سانس لیا۔ اس کی آنکھیں ابھی تک بند تھیں۔ ہونٹ سردی سے نیلے پڑے ہوئے تھے اور ان پر پپڑیاں جمی ہوئی تھیں۔ ادھ کھلے منہ سے زبان باہر نکلی ہوئی تھی۔
’’اے ۔اٹھ بھی چکو۔‘‘ اس کی بیٹی زور سے چلائی۔
’’نانا!‘‘ بستر کے قریب کھڑی بچی نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔ اس کی قمیص پر سوتی ایپرن کسا ہوا تھا۔ وہ ریں ریں کرتے ہوئے ایڑیوں کو اٹھا کر اپنے ناناکا چہرہ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
’’نانا!‘‘ وہ بلک کر بولی۔ اس کی نیلی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ چہرے پر اداسی کھنڈی تھی۔
’’نانا!‘‘ اس نے ایک بار پھر اسے پکارا اور اس کا تکیہ کھینچنے لگی۔
’’چپ ہو جاؤ!‘‘ اس کی ماں کی چنگھاڑ سنائی دی۔ اس نے بچی کو گدی سے پکڑ کر چولہے کی طرف دھکا دیا۔
’’دفع ہو۔ خبیث کتیا!‘‘ وہ گھریلو پالتو کتیا پر چلائی جو بوڑھی اور نیم اندھی تھی اور اس کے قریب کھڑی بستر سونگھتے ہوئے عورت سے ٹکرا گئی تھی۔
’’دفع بھی ہو جاؤ مردار۔ جاتی ہو یا ......‘‘ اس نے لکڑی کی کھڑاویں اٹھا کر اسے اتنے زور سے ماریں کہ وہ لڑھکتی چلی گئی اور چیاؤں چیاؤں کرتی ہوئی چولہے کے پاس جا کھڑی ہوئی۔ وہ بری طرح کراہ رہی تھی۔ وہ مٹھی سے ناک اور آنکھیں ملتے ہوئے دوبارہ پھنکاری۔
’’پاپا ! میرا موڈ خراب ہونے سے پہلے اٹھ جاؤ۔‘‘
بیمار بوڑھا خاموش پڑا تھا۔ اس کا سر ایک طرف ڈھلکا ہوا تھا اور سانس بتدریج بھاری ہو رہا تھا۔ اس میں زندگی کے آثار زیادہ نہیں تھے۔
’’چلو اٹھو کیا ارادہ ہے؟ کیا یہاں مرنے کا پروگرام ہے؟نہیں میں سب جانتی ہوں۔ جولینا کے پاس جا کر مرو بوڑھے کتے! جسے ساری جائیداد دے دی ہے۔ وہی تمہاری تیمارداری بھی کرے گی ......چل اٹھ...... میں اب بھی تمہیں نرمی سے کہہ رہی ہوں۔‘‘
’’اوہ میرے پروردگار ...... مقدس مسیح! ہائے مقدس مریم ......‘‘
اس کا پسینے اور اضطراب میں بھیگا ہوا چہرہ تشنج کے ایک اچانک جھٹکے سے کھنچ گیا۔ اس کی بیٹی نے وحشیانہ طریقے سے لحاف کھینچ لیا اور بوڑھے کو کمر کی دونوں اطراف سے پکڑ کر بستر سے باہر گھسیٹا۔ وہ آدھا بستر کے اندر اور آدھا باہر ہو گیا۔ نچلا دھڑ نیچے لٹک رہا تھا جبکہ شانے اور سر بستر پر ڈھے گئے تھے۔ وہ چوبی تختے کی طرح بے حس و حرکت تھا بے جان سا، اکڑا ہوا!
’’پادری ......ہائے خدایا!‘‘ بھاری سانسوں کے درمیان وہ بدبدایا۔
’’میں ابھی تمہارے پادری کو بلاتی ہوں بوڑھے کم بخت! تم سورخانے میں مرو گے شیطان ......کسی کتے کی طرح۔‘‘ اس نے بوڑھے کی بغل میں ہاتھ دے کر اسے اوپر اٹھایا، لیکن فوراً ہی نیچے چھوڑ دیا اور رضائی سے اچھی طرح ڈھک دیا۔ کیونکہ کھڑکی میں اس نے کسی کی جھلک دیکھ لی تھی ......کوئی گھر کی طرف آرہا تھا۔ اس کے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ بوڑھے کے پیر دوبارہ بستر میں دھکیل سکے۔ اس کا چہرہ نیلا پڑ گیا۔ غصے سے پاگل ہوتے ہوئے اس نے بستر پر زور سے لات رسید کی اور بستر کو اطراف سے دبا دیا۔
وجیاک نامی کسان کی بیوی اندر آئی ’’یسوع مسیح رحم کرے!‘‘
’’تاابد!‘‘ سامنے والی بدبدائی اور اپنی آنکھوں کے گوشے سے وجیاک کی بیوی کو مشتبہ نگاہوں سے دیکھا۔
’’کیا حال ہیں؟ کیا ہو رہا ہے؟‘‘
’’شکر ہے خدا کا ......گزر رہی ہے......‘‘
’’بوڑھے کا کیا حال ہے؟ ٹھیک تو ہے؟‘‘ وہ دروازے کے قریب کھڑی اپنی چوبی جوتیوں سے برف جھاڑ رہی تھی۔
’’آہ! وہ کیسے ٹھیک ہو گا! اب تو بے چارہ اچھی طرح سانس بھی نہیں لے سکتا۔‘‘
’’نہ بہن! ایسے مت کہو ...... نہ نہ ...... ‘‘ یہ کہہ کر وہ بوڑھے کو دیکھنے کے لیے اس کے بستر پر جھک گئی۔
’’پا ......دری......‘‘بوڑھا کراہا۔
’’اوہ خدایا ...... دیکھو تو ...... وہ مجھے پہچان ہی نہیں رہا ...... بے چارہ پادری کو بلانا چاہتا ہے۔ یہ تو مر رہا ہے ...... اسے اب ختم ہی سمجھو۔ کیا تم نے کسی کو پادری لانے کے لیے بھیجا ہے؟‘‘
’’کیا میرے پاس کوئی ہے جسے بھیجوں؟‘‘
’’کہیں تمہاری یہ مراد تو نہیں کہ ایک عیسائی کو بغیر مذہبی رسوم کے مرنے دیا جائے؟‘‘
’’میں اسے اکیلے چھوڑ کر کہاں بھاگتی پھروں؟ اور ممکن ہے ......یہ ٹھیک ہو جائے!‘‘
’’کیا تمہیں یقین نہیں ...... ہو ہو ...... ذرا اس کے سانسوں کی آواز تو سنو! اس کا مطلب ہے یہ اندر سے مرجھا گیا ہے۔ اس کی حالت بالکل میرے مالک جیسی ہے جب وہ گزشتہ برس اس طرح بیمار ہو گیا تھا۔‘‘
’’ٹھیک ہے ......اچھا ...... سنو۔ تم ذرا جلدی سے پادری کے پاس چلی جاؤ۔ جاؤ گی؟‘‘
’’ٹھیک ہے ، ٹھیک ہے۔ بے چارہ! لگتا ہے کہ اب یہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکے گا۔ میں جلدی جاتی ہوں ......میں چلی!‘‘ اس نے اپنے ایپرن کو سر پر زیادہ کس کر باندھ لیا۔
’’خدا حافظ! اشکووا!‘‘
’’خدا کی امان میں۔‘‘
جب وہ باہر نکل گئی تو دوسری عورت کمرے کی درستی میں لگ گئی۔ اس نے فرش پر جمی مٹی کھرچی ، جھاڑو دی، لکڑیوں کی راکھ جھاڑی اور اپنے برتن صاف کرکے انہیں قطار میں سجا دیا۔ وقفے وقفے سے وہ نفرت بھری نگاہوں کے ساھ بستر کی طرف بھی دیکھ لیتی تھی۔ وہ نفرت سے تھوکتی اور اپنی مٹھیاں بھینچتی اور مایوسی و بے بسی کے عالم میں اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیتی۔
’’پندرہ ایکڑ زمین، سور، تین گائیں، فرنیچر، کپڑے ......ان میں سے آدھا حصہ یقینا چھ ہزار کا تو ہو گا ......میرے خدا!‘‘
اور جیسے ایک بڑی رقم کے خیال نے اس میں غصے کی نئی لہر بھر دی ہو، اس نے دیگچیاں اتنے زور سے رگڑیں کہ شور سے دیواریں گونج اٹھیں۔ پھر اس نے دیگچیوں کو زور سے تختے پر پٹخ دیا۔
’’تمہیں تو ......تمہیں تو ......‘‘ اس نے اپنی گنتی جاری رکھی۔ ’’مرغیاں ، بطخیں، بچھڑے، کاشت شدہ زمین! سب کا سب اس چھنال کو ملا ......تم پرخدا کا عذاب، تمہاری قبر میں کیڑے پڑیں۔ تم نے میرے ساتھ کھلی زیادتی کی اور مجھے ایک یتیم کی طرح کر دیا۔‘‘
اس کا غصہ ساتویں آسمان کو چھونے لگا۔ وہ طیش کے عالم میں لپک کر بستر کی طرف بڑھی اور پوری قوت سے چیخی۔
’’اٹھ جاؤ کم بخت۔‘‘
جب بوڑھے نے کوئی حرکت نہ کی تو اس نے اپنی مٹھیاں لہراتے ہوئے اسے دھمکایا اور چہرے کے اوپر منہ کرکے چیخی۔
’’تم اس لیے یہاں آئے ہو کہ آرام سے مرو اور مجھے تمہارا کفن دفن کرنا پڑے۔ یہی سوچا تھا ناں تم نے؟ لیکن میں اس طرح نہیں سوچتی۔ تم مجھے یہ سب کچھ کرتے دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہو گے۔ اگر جولینا تمہیں اتنی ہی عزیز ہے تو تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ جلدی سے اٹھو اور اس کے پاس چلے جاؤ۔ اس ضعیفی میں تمہاری دیکھ بھال کو میں ہی رہ گئی تھی! وہ تمہاری پیاری ہے اور اگر تم سمجھتے ہو کہ ......‘‘
اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی کیونکہ اسے گھنٹی کی آواز سنائی دی تھی۔ چند ثانیے بعد مذہبی رسوم کے لیے درکار سازوسامان کے ساتھ پادری اندر آگیا۔
اشکووا اپنے قدموں پر جھک گئی۔ غصے کے سبب آنکھوں میں آجانے والے آنسوؤں کو اس نے پونچھا، پھر شکستہ تسلے میں پاکیزہ پانی انڈیلا، موصلی کا برش قریب رکھا اور باہر گلی میں نکل گئی جہاں پادری کے ساتھ آنے والے کچھ لوگ انتظار میں تھے۔
’’یسوع مسیح رحم فرمائیں!‘‘
’’تاابد!‘‘
’’کیا ہوا ہے؟‘‘
’’اوہ، کچھ نہیں! بس یہی کہ وہ مرنے کے لیے یہاں چلا آیا ہے ......ہمارے پاس ...... جن کے ساتھ اس نے زیادتیاں ہی کی ہیں...... اور اب وہ مر کے نہیں دے گا ......ہائے ......میں دکھیاری!‘‘
’’یہ تو سچ ہے ۔ وہ سسک سسک کر مرے گا اور تم کڑھ کڑھ کر جیو گی۔‘‘ ان سب نے یک زبان ہو کر کہا اور اپنے سر ہلائے۔
’’وہ بھی اپنا ہی باپ!‘‘ وہ پھر شروع ہو گئی۔ ’’کیا ہم نے ......انتیک اور میں نے اس کا خیال نہیں رکھا؟ اس کے لیے کام نہیں کیا؟ اس کے لیے پسینہ نہیں بہایا؟ اتنا ہی جتنا کہ دوسروں نے؟ ایک انڈہ تک میں نے نہ بیچا نہ کبھی مکھن کا ایک آدھ پونڈ! بلکہ سب اس کے حلق میں ٹھونسا۔ اپنی بچی کے منہ سے دودھ کا ایک ایک قطرہ چھین کے میں نے اسے دیا کیونکہ یہ بوڑھا ہے اور پھر میرا باپ...... اور اسے دیکھو! گیا اور سب کچھ تومک کو دے آیا۔ پندرہ ایکڑ زمین ......مکان...... گائیں...... سارے سور...... بچھڑے...... بیل گاڑیاں...... سارے کا سارا فرنیچر...... کیا یہ کچھ بھی نہیں؟ مجھ پر رحم کرو ......کیا اس دنیا میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ؟ ......ہائے ......اف!‘‘
وہ دیوار کے ساتھ لگ گئی اور اونچی آواز میں سسکیاں لینے لگی۔
’’نہ رو، بہن نہ رو! خدا رحیم و کریم ہے۔ ایک دن وہ تمہاری فریاد ضرور سنے گا۔‘‘
’’بے وقوف! اس طرح کی باتیں کرنے سے کیا فائدہ؟‘‘ بولنے والی کے شوہر نے اس کی بات کاٹ دی۔ ’’جو غلط ہے، وہ غلط ہے۔ بوڑھا چلا جائے گا ، لیکن غریبی موجود رہے گی۔‘‘
’’جب بیل پیر اٹھانے کو تیار نہ ہو تو اس سے ہل جتوانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ‘‘ ایک اور آدمی نے دانشمندانہ انداز میں کہا۔
’’آہ ...... وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آدمی ہر چیز کا عادی ہو جاتا ہے حتیٰ کہ جہنم کا بھی۔‘‘ ایک تیسرا شخص بڑبڑایا اور اپنے دانتوں کے درمیان خلا میں سے تھوک کی پچکاری پھینکی۔
اس کے بعد اس مختصر سے ہجوم پر سکوت چھا گیا۔ تیز ہوا سے دروازہ ہلنے لگا۔ درزوں میں سے برف اڑ کر اندر فرش پر آگئی۔ کسان کسی گہری سوچ میں غرق کھڑے تھے اور پیروں کو گرم رکھنے کی خاطر بار بار زمین پر مار رہے تھے۔ عورتیں جن کے ہاتھ ان کی سوتی ایپرنوں میں دبکے ہوئے تھے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی، بے چینی سے رہائشی کمرے کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
آخر کار گھنٹی بجی اور انہیں کمرے میں آنے کی اجازت ملی۔ وہ ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے ایک ایک کرکے کمرے میں داخل ہونے لگے۔ جاں بہ لب بوڑھا پشت کے بل لیٹا ہوا تھا۔ اس کا سر تکیے میں دھنسا ہوا تھا۔ اس کا زرد سینہ سفید بالوں سے ڈھکا ہوا تھا اور کھلی قمیص میں سے دکھائی دے رہا تھا۔ پادری اس کے اوپر جھک گیا اور عشائے ربانی کی ٹکیا اس کی باہر لٹکتی ہوئی زبان پر رکھ دی۔ کمرے میں موجود سبھی افراد گھٹنوں کے بل جھک گئے۔ ان کی آنکھیں چھت کی طرف اٹھی ہوئی تھیں او روہ اپنی چھاتیاں پیٹتے ہوئے، آہیں بھرتے ہوئے ، گریہ و زاری کر رہے تھے۔ عورتیں زمین پر جھک گیں اور بین کرنے لگیں۔’’یسوع مسیح کی بھیڑ، جس نے دنیا کو گناہوں سے نجات دلانے کی خاطر اپنی جان دے دی۔‘‘
اندھی کتیا گھنٹی کی مسلسل ٹن ٹن سے پریشان ہو کر کمرے کے ایک کونے میں جا کر غرانے لگی۔ پادری نے آخری رسم ادا کی اور قریب المرگ بوڑھے کی بیٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا:’’تمہارا آدمی کہاں ہے اشکووا؟‘‘
’’وہ کہاں ہو گا مقدس باپ ! اپنے روزانہ کے کام پر ہی گیا ہے۔‘‘
ایک پل کے لیے پادری متامل کھڑا رہا۔ اس نے اپنے اردگرد لوگوں کے اجتماع کو دیکھا ، اپنے قیمتی فر کے فرغل کوشانوں پر کھینچا، لیکن وہ موقع کی مناسبت سے بولنے کے لیے کوئی موزوں الفاظ نہ سوچ سکا اور فقط سر ہلا کر رہ گیا۔ کمرے سے باہر نکل کر اس نے اپنا سرخ و سپید ہاتھ اجتماع کی طرف بڑھا دیا۔ سب گھٹنوں کے بل جھک کر اس کے ہاتھ کو باری باری عقیدت سے بوسہ دینے لگے۔ اس کے بعد پادری باہر چلا گیا۔
پادری کے جاتے ہی سارا اجتماع منتشر ہو گیا۔ دسمبر کا مختصر سا دن اپنے اختتام کو پہنچ رہا تھا۔ ہوا کی تیزی میں سب کمی آگئی تھی، لیکن برف موٹے موٹے بھاری گالوں کی صورت میں گر رہی تھی۔ شام کا دھندلکا کمرے میں اتر آیا تھا۔ اشکووا آگ کے سامنے بیٹھی تھی اور خشک لکڑیوں کو ایک ایک کرکے توڑتی ہوئی بے دھیانی سے آتش دان میں پھینکتی جا رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی کسی خاص پہلو پر غور کر رہی ہے۔ کیونکہ گاہے گاہے اس کی نگاہیں کبھی بستر اور کبھی کھڑکی کی طرف اٹھ جاتی تھیں۔ بیمار آدمی خاصی دیر سے بے حس و حرکت تھا۔وہ بے چین ہو گئی، اپنی جگہ سے اٹھی، تھوڑی دیر تک ساکت کھڑی رہی، اردگرد کا جائزہ لیا، کچھ سن گن لینے کی کوشش کی اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔
رات تیزی سے اتر رہی تھی۔ کمرے میں گہرا اندھیرا ہو گیا تھا۔ ننھی لڑکی آتش دان کے قریب سمٹی بیٹھی اونگھ رہی تھی۔ آتش دان میں آگ مدھم پڑتی جا رہی تھی۔ دہکتے کوئلوں سے خارج ہونے والی سرخ روشنی عورت کے گھٹنوں اور فرش کے ایک حصے پر پڑ رہی تھی۔ اندھی کتیا چیاؤں چیاؤں کرکے دروازہ کھرچنے لگی۔ سیڑھی پر بیٹھی مرغیاں بھی کبھی آہستہ اور کبھی اونچی آواز میں کڑکڑ کرنے لگتیں۔ اب کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔ گیلے فرش سے ٹھنڈ کا اخراج ہو رہا تھا۔ اچانک اشکووا اٹھی اور کھڑکی کے قریب جا کر باہر گلی میں جھانکنے لگی۔ گلی ویران تھی۔ شدید برف باری ہو رہی تھی جس کے سبب چند قدم کے فاصلے پر موجود چیزیں بھی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی تھیں۔ بے خیالی میں وہ مڑی اور ایک بار پھر بستر کے قریب آ کر رک گئی، لیکن فقط ایک ثانیے کے لیے، پھر اچانک ہی اس نے بڑی بے رحمی سے رضائی کھینچی اور اسے دوسرے بستر پر اچھال دیا۔ اس نے قریب المرگ بوڑھے کی بغلوں میں ہاتھ دے کر اسے اوپر اٹھا لیا۔
’’ماگدا! دروازہ کھولو!‘‘
ماگدا خوفزدہ ہو کر اپنی جگہ سے اچھلی اور دوڑ کر دروازہ کھول دیا۔
’’یہاں آؤ ...... اسے پیروں سے پکڑو!‘‘
ماگدا نے آگے بڑھ کر اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے نانا کے پیر تھام لیے اور سوالیہ نگاہوں سے اپنی ماں کی جانب دیکھا۔
’’چلو ......اسے اٹھا کر لے جانے میں میری مدد کرو ...... اس طرح مت گھورو ...... چلو......ا ٹھاؤ اسے ...... بس تمہیں یہی کرنا ہے۔‘‘ اس نے سختی کے ساتھ حکم دیا۔
بوڑھا آدمی وزنی تھا، لیکن مکمل طور پر لاچار! صاف دکھائی دے رہا تھا کہ وہ ہوش سے بیگانہ ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ کیا ہو رہا تھا، وہ اس احساس سے بے خبر دکھائی دیتا تھا۔ عورت نے اسے سختی سے تھام رکھا تھا۔ اس نے بوڑھے کو اٹھایا اور تقریباً گھسیٹتے ہوئے لے چلی کیونکہ ننھی لڑکی نے دہلیز سے ٹھوکر کھائی تھی۔ نانا کے پیر اس کے ننھے ننھے ہاتھوں سے چھوٹ گئے تھے اور برف پر دو لکیریں کھینچتے جا رہے تھے۔
اس وقت ہڈیوں تک میں سرایت کر جانے والی ٹھنڈ کے باعث جاں بہ لب بوڑھے کو ہوش آگیا۔ صحن میں آ کر اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بڑبڑانا شروع کر دیا۔ ’’جولیشا ...... اوہ خدا ...... جو......‘‘
’’تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ تم چیخو ...... جتنا چیخ سکتے ہو چیخو، کوئی تمہاری آواز نہیں سنے گا۔ چاہے گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخو۔‘‘ وہ اسے صحن کے پاس گھسیٹ کر لے گئی اور اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے سور خانے کا دروازہ کھولا، بوڑھے کو اندر کھینچا اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا دیا۔ سورنی گھر گھراتی ہوئی آگے بڑھی، اس کے پیچھے اس کے پلے لپکے۔
’’مالوشیا! مالو، مالو، مالو!‘‘
سور، باڑے میں سے باہر نکل آئے اور عورت نے دروازہ ایک دھماکے سے بند کر دیا، مگر پھر فوراً پلٹی اور بوڑھے کی قمیص پھاڑ کر اس کے سینے پر آویزاں تھیلی کھینچ کر علیحدہ کی اور اسے اپنے لبادے میں چھپا لیا۔
’’اب یہاں مرو کوڑھی!‘‘ اس نے بوڑھے کی برہنہ پنڈلی پر زور کی لات رسید کی جو دروازے میں اٹکی ہوئی تھی۔ پھر دروازہ بند کیا اور واپس ہو لی۔
سور صحن میں اودھم مچا رہے تھے۔ اس نے مڑ کر نہ دیکھا۔
’’مالوشا، مالو، مالو، مالو!‘‘
سور بھاگتے ہوئے اس کے پاس گئے۔ وہ آلوؤں کا تسلا بھر کر لائی اور سوروں کے آگے خالی کر دیا۔ سورنی نے وحشیانہ انداز سے آلوؤں پر منہ مارنا شروع کر دیا۔ سورنی کے بچے بھی اپنی گلابی تھوتھنیاں گھسیڑ رہے تھے۔ ان کی کھینچا تانی اس وقت تک جاری رہی جب تک سب کچھ ختم نہ ہو گیا۔ اب ان کے چٹخارے لینے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ اشکووا نے آتش دان کے اوپر بنی کارنس پر ایک چھوٹا سا لیمپ جلایا اور تھیلی کھول کر دیکھنے لگی۔ وہ کھڑکی کی طرف پشت کیے کھڑی تھی۔ تھیلی کھولتے ہی اس کی آنکھوں میں ایک چمک ابھر آئی۔ چاندی کے دو روبل اور کچھ بنک نوٹ تھیلی میں سے برآمد ہوئے تھے۔
’’اس کا مطلب ہے وہ یونہی نہیں کہتا تھا ۔ وہ ٹھیک ہی کہتا تھا کہ اس نے اپنی تجہیز و تکفین کے لیے پیسے رکھے ہوئے ہیں۔‘‘ اس نے نوٹ اور سکے کپڑے میں لپیٹے اور صندوق میں رکھ دیے۔
’’دھوکے باز! خدا کرے تم ہمیشہ کے لیے اندھے ہو جاؤ۔‘‘ عورت نے بد دعا دی۔ اس نے برتنوں کو سیدھا کیا اور دھیمی ہوتی ہوئی آگ کو تیز کرنے کی کوشش کی۔
’’لعنت ہو اس منحوس لڑکے پر! اس کی وجہ سے گھر میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں۔‘‘ وہ باہر آئی اور حلق پھاڑ کر چیخنے لگی۔
’’اگنات!‘‘
لیکن لڑکے کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہ تھا۔ تقریباً نصف گھنٹہ گزرنے کے بعد چوری چوری اٹھتے قدموں تلے برف چرمرائی۔ ایک پرچھائیں کھڑکی کے قریب دکھائی دی۔ اشکووا نے آدھ جلی لکڑی اٹھائی اور نیم وا دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی۔ تقریباً نو برس کا ایک لڑکا کمرے میں داخل ہوا۔
’’حرام خور، کاہل! آوارہ! سارے گاؤں میں کتے کی طرح گھومتے پھرتے ہو اور گھر میں پانی کی ایک بوند نہیں۔‘‘ لڑکے کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر دوسرے ہاتھ میں تھامی ہوئی لکڑی سے وہ اسے بری طرح پیٹنے لگی۔
’’اوئی ماں! اب نہیں جاؤں گا...... ماں، مجھے چھوڑ دے ...... ماں ......‘‘
ماں نے اچھی طرح اس کی دھنائی کی اور اپنا سارا غصہ اس پر نکال دیا۔
’’ماں ......اوئی ......ہائے...... کوئی مجھے بچائے...... یہ مجھے مار دے گی!‘‘
’’کتے، آوارہ، سارا دن پھرتے رہتے ہو اور گھر میں پانی کی ایک بوند بھی نہیں اور نہ جلانے کی لکڑی ...... کیا میرا یہی کام رہ گیا ہے کہ تم نکمے کو پیٹ بھرنے کو دیتی رہوں اور اس کے بدلے میں تم مجھے پریشان کرتے رہو؟‘‘ اس نے زور سے لکڑی کی ایک اور ضرب لگائی۔
آخر کار لڑکے نے خود کو چھڑا یا، کھڑکی میں سے باہر کودا اور آنسوؤں بھری آواز میں ماں پر چلایا۔
’’کتی، کمینی! خدا کرے تیرے ہاتھ کہنیوں تک گل سڑ جائیں۔ تم سورنی! خدا کرے تم پر بجلی گرے! جب تک میں تمہارے لیے پانی لاؤں، تم انتطار کرتے کرتے مر جاؤ اور مٹی کا ڈھیلا بن جاؤ...... کتی ماں!‘‘
وہ روتا چیختا گاؤں کی طرف بھاگ گیا۔
کمرہ اچانک ہی عجیب طرح سے خالی خالی لگنے لگا۔ آتش دان کے اوپر بنی کارنس پر رکھے لیمپ کی لو کپکپا رہی تھی۔ ننھی لڑکی سسکیاں لے رہی تھی۔
’’تم کیوں ٹسوے بہا رہی ہو؟‘‘
’’ماں ...... وہ ...... وہ...... نانا......‘‘
وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔ لگتا تھا اسے بخار ہے۔ اس نے اپنی ننھی ننھی مٹھیوں سے اپنی آنکھیں ملیں اور نیند میں ڈوب گئی۔ نیند میں بھی وہ گاہے گاہے ہچکیاں لے رہی تھی۔
اس کے تھوڑی ہی دیر بعد شوہر گھر لوٹ آیا۔ وہ ایک لحیم شحیم شخص تھا۔ اس نے بھیڑ کی کھال کا لبادہ پہن رکھا تھا اور مفلر اپنی ٹوپی کے گرد لپیٹ رکھا تھا۔ سردی سے اس کا چہرہ نیلا ہو رہا تھا اور مونچھیں برف کی تہہ جمنے سے کسی برش کی طرح دکھائی دے رہی تھیں۔ اس نے اپنے بوٹوں سے برف جھاڑی ، سر سے ٹوپی اور مفلر اتارے اور لبادے پر سے برف گرائی۔ اس نے سردی سے سن اپنے ہاتھ بغلوں میں دبائے اور بنچ گھسیٹ کر آگ کے قریب لاتے ہوئے اس پر دھم سے بیٹھ گیا۔
اس نے بند گوبھی سے بھری دیگچی آگ پر سے اتاری اور اپنے شوہر کے آگے رکھ دی۔ اس نے ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا کاٹا اور چمچ کے ساتھ اپنے شوہر کو تھما دیا۔ کسان خاموشی سے کھانا کھانے میں جت گیا۔ کھانا ختم کرنے کے بعد اس نے اپنے لبادے کے بٹن کھولے، ٹانگیں پساریں اور پوچھا ’’کھانے کو کچھ اور ہے؟‘‘
عورت نے شوہر کو دوپہر کا بچا ہوا دلیہ دیا۔ اس نے ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور چمچ سے دلیہ کھانے لگا۔ فارغ ہو کر اس نے اپنی جیب میں سے ایک تھیلی نکالی اور تمباکو کے ساتھ ایک سگریٹ بنائی۔ اس نے سگریٹ سلگائی، آتش دان میں کچھ اور لکڑیاں پھینکیں اور آگ کے قریب ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے کمرے میں نگاہ دوڑائی اور پوچھا۔ ’’بوڑھا کہاں ہے؟‘‘
’’اسے کہاں ہونا چاہیے؟ سور خانے میں!‘‘
کسان نے سوالیہ نگاہوں سے اپنی بیوی کو دیکھا۔
’’میں نے سوچا بستر میں لیٹے لیٹے وہ سستی کیوں پھیلائے اور بستر کی چادریں گندی کرے؟ اگر اس نے مرنا ہی ہے تو وہاں جلدی مر سکے گا ...... کیا اس نے مجھے پھوٹی کوڑی بھی دی ہے؟ وہ میرے پاس آیا کس لیے ہے؟ کیا میں اس کے کفن دفن اور کھانے پینے پر خرچ کرنے کے لیے رہ گئی ہوں؟ اور اگر وہ اب بھی نہیں مرتا...... اور میں تمہیں بتا دوں کہ وہ بڑا سخت جان ہے ...... تو وہ ہمیں اس گھر اور گھاٹ سمیت ہڑپ کر جائے گا۔ اگر جولینا ہی کو سب کچھ ملنا ہے تو وہی اس کی دیکھ بھال بھی کرے...... میں کیوں یہ سب کچھ بھگتوں؟‘‘
’’کیا میرے اس باپ نے ......ہمیں دھوکا نہیں دیا؟ مجھے نہیں پروا ...... بوڑھا سازشی کہیں کا!‘‘
انتک نے سگریٹ کا دھواں اپنے معدے میں اتارا اور کمرے کے وسط میں تھوک دیا۔
’’اگر وہ ہمیں دھوکا نہ دیتا تو ہم اس موقع پر ......ایک منٹ رکنا ذرا ......ہماے پاس ......پانچ اور ...... سات ...... اور آدھا ...... کتنے ہوئے ...... پانچ اور سات......‘‘
’’ہاں ، ساڑھے بارہ میں نے پہلے ہی گن رکھے تھے۔ تب ہم ایک گھوڑا اور تین گائیں رکھ سکتے تھے ...... ہائے ...... کم بخت!‘‘
اس نے پھر زور سے تھوکا۔
عورت اٹھی، گود کی بچی کو بستر پر لٹایا، صندوق میں سے بوڑھے کی مالا والی پوٹلی نکالی اور شوہر کے ہاتھ میں دے دی۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘
’’ذرا دیکھو تو!‘‘
شوہر نے پوٹلی کھولی۔ اس کے چہرے پر حریصانہ تاثر پھیل گیا۔ وہ آگ کی جانب جھک گیا تاکہ پیسے چھپا سکے۔ اس کے بعد اس نے دوبارہ رقم گنی۔
’’کتنے ہیں؟‘‘ عورت نے پوچھا۔ اسے پیسوں کی قدر کا اندازہ نہیں تھا۔
’’چون روبل!‘‘
’’اوہ خدایا! اتنے زیادہ۔‘‘ اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ اس نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور پیسوں کی پوٹلی کو سہلانے لگی۔
’’یہ تمہارے ہاتھ کہاں سے لگ گئے؟‘‘
’’آہ ......میرے ہاتھ ...... کیسے؟ تمہیں یاد نہیں بوڑھےنے گزشتہ برس ہمیں بتایا تھا کہ اپنی تجہیز و تکفین کے لیے اس کے پاس خاطرخواہ پیسے ہیں۔‘‘
’’ہاں ......ہاں ...... اس نے کہا تھا۔‘‘
’’یہ اس نے اپنے گلے کی تسبیح کے ساتھ ہی رکھے تھے۔ میں نے یہ اس سے لے لیے۔ مقدس چیزوں کو سور باڑے جیسی گندی جگہ پر تو نہیں پڑے رہنا چاہیے! یہ بات گناہ ہے۔ میں نے کپڑے میں سے چاندی کو محسوس کر لیا اور بوڑھے کے گلے سے پھاڑ کر رقم اتار لی۔ یہ اب ہمارے ہیں۔ اس نے کون سا ہمارے ساتھ کم زیادتیاں کی ہیں؟‘‘
’’یہ خدائی سچ ہے۔ یہ پیسے اب ہمارے ہیں۔ چلو کچھ نہ کچھ تو آخرکار ہمارے پاس واپس آیا۔ انہیں بھی دوسرے پیسوں کے ساتھ رکھ دو۔ ان سے ہمارا کام چل سکتا ہے۔ ابھی کل ہی سمولوج نے مجھے بتایا کہ وہ مجھ سے ایک ہزار روبل ادھار لینا چاہتا ہے۔ اس کے بدلے میں ضمانت کے طور پر وہ اپنے کاشت شدہ پانچ ایکڑ کھیت ، جو جنگل کے قریب ہیں ، مجھے دے دے گا۔‘‘
’’کیا تمہارے پاس اتنے پیسے ہیں؟‘‘
’’میرا خیال ہے ہیں تو سہی!‘‘
’’کیا بہار آنےپر تم خود ان کھیتوں میں بیج بوؤ گے؟‘‘
’’شاید ...... اگر میرے پاس اتنے پیسے نہ بنے تو میں سورنی بیچ دوں گا۔ اگر اس کے بچے بھی بیچنا پڑے تو بیچ دوں گا۔ مجھے ہر صورت میں اسے پیسے ادھار دینے ہیں۔ اس میں قرض چکانے کی سکت نہیں۔‘‘
اس نے بات آگے بڑھائی۔ ’’مجھے پتا ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ ہم دونوں وکیل کے پاس جائیں گے اور اشٹام پر لکھوائیں گے کہ اگر اس نے پانچ برس کے اندر اندر قرض نہ چکایا تو زمین میری ہو جائے گی۔‘‘
’’کیا تم ایسا کر سکتے ہو؟‘‘
’’بالکل کر سکتا ہوں میں ایسا۔ تم نہیں جانتی ہو کہ دومن نے وجیاک کے کھیت کس طرح ہتھیا لیے تھے؟ چلو چھوڑو ......یہ لو...... یہ چاندی کے سکے تم رکھ لو۔ جو دل چاہے بنوا لینا۔ اگنات کہاں ہے؟‘‘
’’پتا نہیں، کہیں بھاگ گیا ہے۔ میں کیا کروں، گھر میں پانی کی ایک بوند بھی نہیں۔‘‘
ایک لفظ کہے بغیر کسان اٹھا، مویشیوں کو دیکھا، باہر جا کر پانی اور ایندھن لے آیا۔
(جاری ہے)