ولادی سلاوریموں

ولادی سلاوریموں

مرگ(٢)

    ترجمہ : خاقان ساجد

    دیگچی میں رات کے کھانے کے لیے سالن ابل رہا تھا۔ اگنات محتاط انداز سے کمرے میں داخل ہوا۔ کسی نے اس سے کچھ نہ کہا۔ سب کے سب خاموش تھے اور عجیب سی بے چینی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ بوڑھے آدمی کا کسی نے ذکر نہ کیا جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔

    انتک اپنے پانچ ایکڑوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ یہ پانچ ایکڑ اب اس کے ہو گئے ہیں۔ ایک پل کے لیے اس کے دماغ میں بوڑھے کا خیال آیا، لیکن فوراً ہی اس کا دھیان اس سورنی کی طرف چلا گیا جس کے بارے میں اس نے سوچ رکھا تھا کہ جیسے ہی وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانا بند کرے گی وہ اسے ٹھکانے لگادے گا۔ اس کی نگاہیں جب بھی بوڑھے کے خالی بستر پر پڑتیں، وہ تھوک دیتا جیسے کسی ناگوار خیال سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہو۔ وہ پریشان تھا۔ رات کا کھانا بھی اس نے ادھورا ہی چھو ڑدیا اور کھانا کھاتے ہی بستر پر سونے کے لیے   جا لیٹا۔ دیر تک وہ کروٹیں بدلتا رہا۔ آلو، بند گوبھی اور دلیہ ڈبل روٹی کھانے سے اسے بدہضمی کا احساس ہو رہا تھا، لیکن جلد ہی وہ پر سکون ہو گیا اور اسے نیند نے آلیا۔

    جب ہر سو خاموشی چھا گئی تو اشکووا نے آہستگی سے بغلی کمرے کا دروازہ کھولا جہاں پٹ سن کے گٹھے رکھے ہوئے تھے۔ ان گٹھوں کے نیچے سے ایک پوٹلی نکالی اور اس میں لپٹے ہوئے نوٹوں کو احتیاط سے باہر نکالا۔ اس نے اپنے نوٹ بھی ان پیسوں میں رکھ دیے ۔ اس نے پیسوں کو کئی بار سہلایا، پوٹلی کو کئی بار کھولا اور بند کیا اور اس وقت تک یہ عمل دہراتی رہی جب تک اس کا دل نہیں بھر گیا۔ اس کے بعد اس نے بتی بجھائی اور اپنے شوہر کے پہلو میں لیٹ گئی۔

    اسی دوران سور خانے میں پھینکا ہوا بوڑھا آدمی مر گیا۔ سور خانے میں شاخوں اور گھاس پھونس سے بنے تختوں کی اوٹ اسے موسم کی شدت اور ہوا کی سختی سے بچا نہ سکی۔ بے چارگی سے کپکپاتی ہوئی، بوڑھے آدمی کی داد، فریاد کسی نے نہ سنی۔ بند دروازے تک گھسٹ کر آتے اور دروازہ کھولنے کی کوشش میں اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی سعی کرتے اسے کسی نے نہ دیکھا۔ اس نے موت کو خود پر فتح پاتے محسوس کیا۔ یوں لگا موت ایڑیوں سے ہوتی ہوئی اس کی چھاتی تک آ پہنچی ہے۔ مو ت نے اسے سختی سے بھینچ لیا او رپکڑ کر بری طرح جھٹکے دیے۔ اس کے جبڑے بھینچ گئے اور بھنچتے چلے گئے، حتیٰ کہ وہ انہیں کھولنے اورمدد کے لیے چیخنے کے قابل نہ رہا۔ اس کی شریانیں اکڑنے لگیں حتیٰ کہ آہنی تاروں کی طرح ہو گئیں۔ کمزوری کے باوجود اس نے خود کو آگے کی طرف گھسیٹا، آخر دہلیز پر آ کر وہ ہمت ہار گیا۔ اس کے ہونٹوں پر جھاگ جم گیا تھا۔ اس احساس کے باعث کہ اسے سردی میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کی پھٹی پھٹی آنکھوں میں دہشت جم گئی تھی۔ ایک منجمد چیخ کی طرح درد کے تاثر نے اس کے چہرے کو بگاڑ دیا تھا۔ وہیں دروازے کی چوکھٹ پر وہ مرا پڑا تھا۔

    اگلی صبح اجالا ہونے سے پہلے انتک اور اس کی بیوی بیدار ہو گئے۔ انتک کے دماغ میں سب سے پہلا خیال یہ آیا کہ بوڑھے کا کیا بنا ہو گا!

    وہ بوڑھے کو دیکھنے گیا، لیکن سور خانے کا دروازہ نہ کھل سکا۔ اندر لاش نے دروازے کے پٹ کو کسی شہتیر کی طرح روک رکھا تھا۔ آخر کار بہت کوشش کے بعد وہ اتنا سا دروازہ کھول پایا کہ کھسک کر اندر جا سکے ......لیکن فوراً ہی وحشت زدہ ہو کر باہر نکل آیا۔ خوف سے اس کی حالت غیر ہو گئی۔ اس نے تیزی سے صحن عبور کیا اور گھر کے اندر چلا آیا۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اس کا جسم یوں کانپ رہا تھا جیسے زور کا بخار چڑھا ہو۔ وہ دروازے کے قریب کھڑا ہانپتا رہا۔ اس کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکل رہا تھا۔

    اس وقت اشکووا اپنی بچی ماگدا کو دعا سکھا رہی تھی۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے اپنے شوہر کو دیکھا۔

    ’’تمہارا حساب کیا جائے۔‘‘ وہ بے خیالی میں بدبدائی۔

    ’’تمہارا حساب ......‘‘ بچی نے دعا ادھوری چھوڑ دی۔

    ’’کیا جائے گا ......‘‘

    ’’کیا جائے گا ......‘‘ گھٹنوں پر جھکی بچی نے کسی بازگشت کی طرح دعا کے الفاظ دہرائے۔

    ’’کیا وہ مر گیا؟‘‘ عورت نے شوہر سے پوچھا، پھر بچی سے کہا۔ ’’زمین پر ......‘‘

    ’’ہاں، وہ دروازے کی اوٹ میں پڑا تھا۔‘‘ اس نے ہانپتے ہوئے کہا۔

    ’’جیسے کہ آسمان پر ......‘‘

    ’’لیکن ہم اسے وہاں نہیں چھوڑ سکے۔ لوگ کہیں گے کہ ہم نے جان چھڑانے کے لیے اسے وہاں پھینک دیا۔ ہم اسے وہاں نہیں......‘‘

    ’’تم کیا چاہتے ہو ؟ مجھے اس کے ساتھ کیا کرنا ہو گا؟‘‘

    ’’مجھے کیا پتا! تمہیں کچھ کرنا پڑے گا ...... ہم اسے یہاں لا سکتے ہیں۔‘‘ انتک نے مشورہ دیا۔

    ’’دیکھو ......اسے وہیں سڑنے دو۔ اسے یہاں لے آئیں؟ نہیں ...... اگر......‘‘

    ’’بے وقوف اسے دفنانا تو پڑے گا۔‘‘

    ’’لیکن ہمیں برائی اور شر سے بچا ...... تم یہ کیا آنکھیں مٹکا رہی ہو چڑیل؟ چلو دعا پڑھو ......ہمیں ...... شر...... سے بچا......‘‘

    ’’میں کفن دفن کے خرچے کے بارے میں کیوں سوچوں؟ قانونی طور پر تو یہ تومک کا فرض ہے۔‘‘ وہ شوہر سے مخاطب ہوئی۔ پھر بچی سے کہا:

    ’’آمین‘‘

    ’’آمین‘‘

    عورت نے بچی کے سینے پر کراس کا نشان بنایا، اپنی انگلیوں سے اس کی ناک صاف کی اور اپنے شوہر کے پاس گئی۔

    ’’ہمیں اسے لازماً یہاں لانا ہو گا۔‘‘ شوہر نے سرگوشی کی۔

    ’’گھر کے اندر ......یہاں؟‘‘

    ’’تو اور کہاں؟‘‘

    ’’گائے کے چھپر تلے! ہم بچھڑے کو باہر نکال کر اسے بنچ پر لٹا دیں گے۔ وہاں سیدھا   پڑا رہے گا ......چاہے تو ...... وہ ہے بھی تو ایسا ہی۔‘‘

    ’’ہمیں چاہیے کہ اسے یہاں لے آئیں۔‘‘ شوہر نے زور دے کر کہا۔

    ’’ٹھیک ہے۔ تو پھر اسے یہاں لے آؤ......‘‘

    ’’ٹھیک ہے ...... لیکن ......‘‘

    ’’احمق خر دماغ!‘‘ وہ غرائی۔

    ’’ابھی اندھیرا ہے۔‘‘ اس نے عذر پیش کیا۔

    ’’اگر تم دن چڑھنے کا انتظار کرو گے تو لوگ دیکھ لیں گے۔‘‘

    ’’آؤ، دونوں چلتے ہیں۔‘‘

    ’’نہیں تم اسے لے کر آؤ۔‘‘

    ’’تم آتی ہو یا نہیں بد ذات عورت!‘‘وہ اپنی بیوی پر برسا۔ ’’وہ تمہارا باپ ہے، میرا نہیں۔‘‘ وہ پیر پٹختا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔

    جب وہ سور خانے میں داخل ہوئے تو دہشت سے ان کے قدم زمین پر جم گئے۔ ایک خوفناک بو سے ان کا دم گھٹنے لگا جیسے لاش میں سے بخارات اٹھے ہوں۔ بوڑھا آدمی برف کی طرح وہاں منجمد پڑا تھا۔ اس کا آدھا دھڑ فرش پر جم گیا تھا۔دونوں نے زور لگا کر اسے فرش سے علیحدہ کیا اور دہلیز پر سے گھسیٹتے ہوئے صحن میں لے آئے۔

    اسے دیکھتے ہی اشکووا نے خوف سے بری طرح کانپنا شروع کر دیا۔ صبح کے ملگجے اجالے میں برف کی سفید چادر سے ڈھکا وہ بہت ڈراؤنا لگ رہا تھا۔ درد سے اس کا چہرہ بگڑ گیا تھا۔ آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں۔ زبان باہر لٹک رہی تھی اور اس میں بتیسی اس طرح پیوست تھی کہ خوف آتا تھا۔ اس جگہ پر نیلے نیلے داغ ابھرآئے تھے۔ وہ سر سے پاؤں تک گندگی میں لتھڑا ہوا تھا۔

    ’’پکڑو اسے۔‘‘ انتک نے جھکتے ہوئے سرگوشی کی۔ ’’یہ سردی سے کتنا خوفناک ہو گیا ہے!‘‘

    طلوع آفتاب سے پہلے کی یخ ہوا کے تھپیڑے ان کے چہروں پر پڑ رہے تھے۔ جھولتی شاخوں پر سے برف کڑکڑاتی ہوئی نیچے گر رہی تھی۔ سیاہ آسمان کے پس منظر میں یہاں وہاں اکا دکا ستارے ابھی تک ٹمٹما رہے تھے۔ گاؤں کی جانب سے ہوا کے دوش پر پانی کھینچنے کی آوازیں آرہی تھیں۔اور مرغ یوں بانگیں دے رہے تھے جیسے تبدیلی موسم کی نوید سنا رہے ہوں۔

    بوڑھے کو پیروں سے پکڑ کر اٹھانے سے پہلے اشکووا نے آنکھیں بند کر لیں اور ہاتھوں پر اپنا ایپرن لپیٹ لیا۔ بوڑھا بہت بھاری تھا۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اسے اٹھایا۔ جونہی انہوں نے بوڑھے کو بنچ پر لٹایا، اشکووا نے اپنے شوہر کی طرف ایک پھٹی ہوئی چادر پھینکی تاکہ وہ لاش ڈھانپ سکے اور گھر کی طرف بھاگ گئی۔

    بچے آلو چھیلنے میں مصروف تھے۔ وہ دروازے سے لگی انتظار کرتی رہی۔

    ’’ہو گیا ختم ......چلو اندر آجاؤ...... خدایا! تم نے کتنی دیر لگا دی۔‘‘

    ’’اسے غسل کرانے کے لیے ہمیں کسی کو بلانا پڑے گا۔‘‘ شوہر اندر آیا تو عورت نے اسے ناشتا دیتے ہوئے کہا۔

    ’’میں اس گونگے بہرے کو لے آؤں گا۔‘‘

    ’’آج کام پر مت جاؤ۔‘‘

    ’’جاؤں ......نہیں ...... نہیں میں ......‘‘

    اس کے بعد دونوں کے درمیان کوئی بات نہ ہوئی او ربغیر رغبت کے انہوں نے اپنا ناشتا ختم کر لیا۔ روزانہ کی طرح انہوں نے مل کر شوربے کا ایک بڑا پیالہ ختم کیا۔

    جب وہ صحن میں گئے تو تیز تیز قدم اٹھاتے آگے بڑھے۔ انہوں نے دوسری طرف   دیکھنے کے لیے سر گھمانے کی کوشش نہ کی۔ وہ پریشان تھے، لیکن اس کا سبب جاننے سے قاصر تھے۔ انہیں کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔ شاید یہ لاش کا ایک مبہم سا خوف تھا یا موت کی دہشت! جس نے انہیں ہلاکر رکھ دیا تھا اور وہ بالکل خاموش تھے۔

    دن چڑھا تو انتک گاؤں کے گونگے بہرے کو بلا لایا۔ گونگے بہرے نے لاش کو غسل دیا، کفن پہنایا اور باہر لٹا کر اس کے سرہانے ایک مقدس موم بتی جلا دی۔ اس کے بعد انتک پادری کو بوڑھے کی مو ت کی خبر دینے اور گاؤں کے سرپنچ کو یہ بتانے چل دیا کہ متوفی کے کفن و دفن کے اہتمام کی اس کی حیثیت نہیں۔

    ’’تومک ہی اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات برداشت کرے گا۔ اسی کو سارا پیسہ اور جائیداد ملی ہے۔‘‘

    جلد ہی بوڑھے کے مرنے کی خبر سارے گاؤں میں پھیل گئی۔ لوگ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں لاش دیکھنے جمع ہو گئے۔ وہ مناجات پڑھتے اور سر ہلاتے ہوئے بوڑھے کی مو ت کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔

    تیسرے روز، تدفین سے تھوڑی دیر قبل تومک کی بیوی آ پہنچی۔ گلی میں وہ اپنی بہن کے روبرو آگئی جو پانی کی بالٹی اٹھائے گائے کے باڑے کی طرف جا رہی تھی۔

    ’’یسوع مسیح رحم فرمائیں!‘‘ دروازہ کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ منمنائی۔

    ’’دیکھا ...... دیکھا ...... اب آگئی ہے یہ یہودا کی روح!‘‘ اشکووا نے بالٹی نیچے رکھ دی۔ ’’اب آگئی ہے ہماری جاسوسی کرنے ! آخر اس بوڑھے سے تم نے پیچھا چھڑا ہی لیا ناں؟ ہے ناں؟ اس نے سب کچھ تو تمہارے حوالے کر دیا ہے ...... پھر بھی تمہیں اپنی منحوس شکل لے کر یہاں آنے کی ہمت کیسے ہوئی؟ آوارہ کہیں کی! اب تم وہ چیتھڑے سمیٹنے آئی ہو جو وہ بوڑھا چھوڑ گیا ہے؟ بولو؟‘‘

    ’’میں نے شہر سے اسے صدری خرید کر دی تھی۔ وہ اسے پہن سکتا تھا ، لیکن بھیڑ کی کھال کا لبادہ مجھے واپس چاہیے۔ وہ میں نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے خریدا تھا۔‘‘ تومیکووا نے آہستگی سے کہا۔

    ’’واپس چاہیے؟ خارش زدہ کتیا، تمہیں وہ واپس چاہیے؟‘‘ اشکووا چیخی۔ ’’ٹھہرو ذرا، میں تمہیں واپس دیتی ہوں ...... ذرا دیکھو تو تمہیں کیا چیز ملتی ہے......‘‘ اس نے اردگرد کسی ایسی چیز کی تلاش میں نگاہیں دوڑائیں جو اس کا مقصد پورا کر سکے۔

    ’’لے جاؤ واپس! ہمت ہے تو لے جاؤ واپس ! تم نے اس بڈھے کی چاپلوسی کی اور نہ جانے کیا پٹی پڑھائی کہ اس کا دماغ چل گیا اور اس نے ہر چیز تمہیں سونپ دی ، میری حق تلفی کی اور پھر ......‘‘

    ’’سب کو پتا ہے کہ زمین ہم نے اس سے خریدی تھی۔ کئی گواہ ہیں اس بات کے ......‘‘

    ’’خریدی تھی؟ ذرا اسے دیکھو بڑی آئی خریدنے والی، تمہارا مطلب ہے کہ خدا کی جیتی جاگتی آنکھوں کے نیچے تمہیں جھوٹ بولتے ہوئے کوئی ڈر نہیں لگتا؟ خریدی تھی؟ دھوکے باز چور، کمینی، پہلے تم نے اس کے پیسے چرا لیے اور پھر ......کیا تم اسے سوروں والے برتن میں کھانا نہیں دیتی تھیں؟خدا گواہ ہے کہ اسے سوروں والی بالٹی میں سے آلو کھانا پڑے تھے۔ تم اسے گائے کے باڑے میں سلاتی تھیں کیونکہ تم کہتی تھیں کہ اس سے بدبو آتی ہے۔ جس سے کھانا تمہارے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔ پندرہ ایکڑ زمین ......اور اس طرح کی محتاج زندگی ......اتنی جائیداد کے بدلے اور تم اس کی پٹائی بھی کرتی تھی۔ تم سورنی، بندریا!‘‘

    ’’اپنی گندی زبان کو لگام دو، ورنہ میں اسے اس طرح بند کروں گی کہ ساری زندگی یاد رکھو گی بازاری عورت!‘‘

    ’’تو پھر آؤ ، سامنے آؤ بھکارن ، بد ذات!‘‘

    ’’میں بھکارن ہوں؟‘‘

    ’’ہاں، تم! تم گندی نالی میں سڑو گی۔ اگر تومک تم سے شادی نہ کرتا تو تمہاری لاش کیڑے کھاتے۔‘ ‘

    ’’میں بھکارن ہوں تو تم گندی مردار!‘‘

    دونوں ایک دوسرے پر لپکیں۔ انہوں نے ایک دوسرے کے بال پکڑ لیے اور تنگ گلی میں لڑنے لگیں۔ وہ کرخت آواز میں ایک دوسرے پر چلا رہی تھیں۔

    ’’تو آوارہ ، بدچلن، بازاری عورت! یہ لو ...... یہ ایک تمہارے لیے ...... اور یہ ایک میرے میرے پندرہ ایکڑ کے لیے اور یہ ایک ان تمام زیادتیوں کے لیے جو تم نے میرے ساتھ کیں، گندی کتیا!‘‘

    ’’خدا کے لیے بند کرو یہ لڑائی! چھوڑو، چھوڑو ایک دوسرے کو۔ یہ گناہ ہے اور باعث شرم بھی!‘‘ ہمسائے چلائے۔

    ’’مجھے جانے دو کوڑھی! چھوڑو مجھے جانے دو!‘‘

    ’’میں مار مار کر تیرا بھرکس نکال دوں گی۔ میں تمہارے ٹکڑے کر دوں گی، غلاظت!‘‘

    دونوں نیچے گر پڑیں۔ وہ ایک دوسرے کو اندھا دھند ٹھوکریں مار رہی تھیں۔ وہ بالٹی پر گر پڑیں اور لڑھکتی ہوئی گندے پانی میں لتھڑ گیں۔ آخر وہ غصے سے گنگ ہو گئیں، ان کے سانس پھول گئے۔ وہ ایک دوسرے کو پیٹ رہی تھیں۔ لوگ انہیں علیحدہ   کرنے میں ناکام ہو گئے تھے۔ بڑی مشکل سے انہوں نے دونوں کو جدا کیا۔ ان کے چہرے سرخ ہو گئے تھے اور ان پر خراشیں پڑ گئی تھیں۔ وہ غلاظت میں لتھڑ گئی تھیں اور بالکل چڑیلیں لگ رہی تھیں۔ ان کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا۔ وہ ایک دوسرے پر ایک بار پھر لپکیں مگر لوگوں نے انہیں دوبارہ علیحدہ کر دیا۔

    آخر کار اشکووا نے غصے اور تھکاوٹ سے وحشیانہ انداز میں چیخنا شروع کر دیا۔ اس نے دیوانوں کی طرح اپنے بال کھینچے اور واویلا کرنے لگی۔

    ’’اوہ یسوع مسیح! اوہ مقدس مریم! اس خبیث عورت کو دیکھو! ان ظالموں پر لعنت ...... اوہ ...... اوہ ......‘‘

    وہ دیوار کے ساتھ ٹھیک لگا کر روئے جا رہی تھی۔ تو میکووا گھر سے باہر چیخ چلا اور لعنت پھٹکار کر رہی تھی۔ اس نے زور زور سے اپنی ایڑیاں دروازے میں ماریں۔

    تماشائی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں کھڑے ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہوئے اپنے پیر برف میں مار رہے تھے۔ عورتیں دیوار پر لگے سرخ دھبوں کی طرح دکھائی دیتی تھیں۔ بدن کو چیر دینے والی سرد ہوا سے بچنے کے لیے انہوں نے اپنے گھٹنے سکوڑ رکھے تھے۔ وہ گاہے گاہے ایک دوسرے کے کان میں کھسر پھسر کرنے لگتیں اور چرچ کی طرف جانے والی سڑک پر نگاہیں جما دیتیں۔ درختوں کی ٹنڈ منڈ شاخوں کے عقب میں چرچ کی چوٹیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ ہر ایک دو منٹ بعد کوئی نہ کوئی لاش دیکھنے چلا آتا ، چنانچہ لوگوں کی آمد مسلسل جاری تھی۔ نیم وا دروازے میں سے موم بتیوں کے ننھے زرد شعلے دکھائی دے رہے تھے اور اس لرزتے اجالے میں تابوت میں لپٹے بوڑھے آدمی کی ایک ہلکی سی جھلک بھی دکھائی دے جاتی۔ ہوا میں سلگتی ہوئی اگربتی کی مہک پھیل رہی تھی۔ دعاؤں کی بھنبھناہٹ اور گونگے بہرے کی خرخراہٹ بھی سنائی   دے رہی تھی۔

    آخرکار پادری آ پہنچا۔ چیڑھ کا سفید تابوت اٹھایا گیا اور چھکڑے پر لاد دیا گیا۔ عورتوں نے روایتی گریہ زاری شروع کر دی اور مخصوص بین کرنے لگیں۔ اجتماع گاؤں کی لمبی لمبی گلیوں میں سے گزرتا ہوا قبرستان کی طرف بڑھنے لگا۔

    پادری نے مرحوم کی مغفرت کے لیے اولین الفاظ کہے۔ وہ اجتماع کے آگے آگے چل رہا تھا۔ اس نے اپنےلبادے کے اوپر   فر کا فرغل پہن رکھا تھا اور سر پر کالی چوکور ٹوپی اوڑھے ہوئے تھا۔ تیز ہوا سے اس کے فرغل کا کونا پھڑ پھڑا رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں سے لاطینی مناجات کے الفاظ اس طرح وقفے وقفے سے نکل رہے تھے جیسے وہ منجمد ہو گئے ہوں۔ وہ اکتاہٹ کا شکار، بیزار اور بے چین دکھائی دیتا تھا اور اس کی نگاہیں دور کسی نقطے پر بھٹک رہی تھیں۔ تیز ہوا تابوت کے غلاف کو اڑا رہی تھی جس پر مصور جنت اور دوزخ کی تصاویر باہم گڈمڈ ہو رہی تھیں اور آگے پیچھے پھڑپھڑا رہی تھیں، جیسے جھونپڑیوں کی قطاروں کو اپنا نظارہ کرانے کے لیے مضطرب ہوں۔ جھونپڑیوں کے آگے عورتیں سروں پر شالیں لیے جبکہ مرد ننگے سر باہم جڑے کھڑے تھے۔ جنازہ آگے بڑھا تو مردوزن احترام سے جھک گئے۔ انہوں نے اپنے اپنے سینوں پر صلیب کا نشان بنایا اور اپنی چھاتیاں پیٹنے لگے۔ جھاڑیوں کے عقب سے کتے بے تحاشا بھونک رہے تھے۔ ان میں سے کچھ سنگی دیواروں پر چڑھ گئے اور لمبی آواز میں رونے لگے۔ننھے منے متجسس بچوں نے بند کھڑکیوں کے پیچھے سے جھانک کر دیکھا۔ ان کے ساتھ کھڑے پوپلے منہ والے بوڑھوں کے چہرے بھی دکھائی دے رہے تھے۔ جن پر پڑی جھریاں پت جھڑ میں ہل چلائے کھیتوں کی طرح تھیں۔

    پادری کے پیچھے پیچھےلڑکوں کی ایک ٹولی دوڑ پڑی۔ ان لڑکوں نے سوتی پتلونیں اور پیتل کے بٹنوں والی نیلی جیکٹیں پہن رکھی تھیں۔ ان کے پیروں میں چوبی سینڈل تھے۔ وہ تابوت کے غلاف پر بنی جنت اور دوزخ کی تصاویر کو دیکھتے ہوئے اپنی باریک کپکپاتی آواز میں مناجات بھی گا رہے تھے۔

    اگنات سب سے آگے، ایک ہاتھ میں غلاف تھامے احساس تفاخر کے ساتھ بلند آواز میں گا رہا تھا۔ سردی اور گرمی سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا، لیکن وہ رکا نہیں جیسے یہ ظاہر کرنے کو بے تاب ہو کہ صرف اسے ہی مناجات گانے کا حق ہے کیونکہ یہ اس کا نانا ہے جسے قبرستان کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔

    جنازے کے شرکاء گاؤں پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ نیز ہوا انتک کے لحیم شحیم جثے سے ٹکرا رہی تھی جو سب سے اونچا دکھائی دیتا تھا۔ اس کے بال ہوا میں اڑ رہے تھے لیکن وہ تیز ہوا کو خاطر میں نہ لایا۔ اس کی پوری توجہ گھوڑوں اور تابوت کو سیدھا رکھنے پر تھی جو سڑک کے ہر گڑھے پر خطرناک انداز میں ایک طرف کو جھک جاتا تھا۔

    دونوں بہنیں تابوت کے بالکل پیچھے پیچھے چل رہی تھیں۔ وہ دعائیں بدبدا رہی تھیں اور کھا جانے والی نگاہوں سے ایک دوسری کو گھور بھی رہی تھیں۔

    ’’شو شو! گھر جاؤ! ..... فوراً جاؤ بدذات! ایک ماتم گسارنے پتھر اٹھانے کے لیے ہاتھ نیچے کیا۔ گاڑی کے نیچے آتی ہوئی کتیا نے یہ دیکھ کر اپنی دم ٹانگوں کے بیچ دبائی اور سڑک کنارے پتھروں کے ڈھیر کے پیچھے دبک گئی۔ جنازہ تھوڑا سا آگے بڑھا تو وہ پتھروں کے ڈھیر کے پیچھے سے نکل کر تیزی سے آئی اور گھوڑوں کے ساتھ لگ کر چلنے لگی۔ پھر اسے کسی نے نہ بھگایا۔

    لاطینی مناجات اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ عورتوں نے چیختی آوازوں میں پرانی مناجات گانا شروع کر دی:

    ’’وہ جو پروردگار کی پناہ میں رہتا ہے۔‘‘

    لیکن اب کے آواز دھیمی ہی رہی۔ تیزی سے بڑھتے ہوئے برفانی موسم نے گیت کی لے کو بلند نہ ہونے دیا۔ جھٹ پٹا چھا رہا تھا۔ تیز برفانی ہوا حد نظر سے   پھیلے ڈھلوان میدانوں سے برف کے بادل اڑائے لا رہی تھی۔ ان میدانوں میں یہاں اور وہاں ٹنڈ منڈ درخت کھڑے تھے۔ برفانی ہوا جنازے کے شرکاء پر کوڑے برسا رہی تھی۔ چاروں طرف پتھروں اور درختوں پر، اور سڑک کے دونوں اطراف برف کے بڑے بڑے ڈھیر لگنے شروع ہو گئے تھے۔

    موسم کی شدت کے سبب جنازے کے شرکاء جب بے چین ہو کر ارد گرد بڑھتی ہوئی برف کی سفید چادر کو دیکھتے تو بار بار ان کے گانے کا سلسلہ ٹوٹ جاتا۔ ہوا کے تھپیڑے جب برف کی اس چادر پر پڑتے تو کبھی وہ ساتھ ساتھ متحرک دکھائی دیتی اور کبھی ساحل سے ٹکرانے والی بڑی بڑی موجوں کی طرح ریزہ ریزہ ہوتی دکھائی دیتی اور ماتم گساروں کے برہنہ چہروں پر ہزاروں سوئیاں بن کر آ چبھتیں۔ موسم کی شدت میں اضافے کے پیش نظر کچھ لوگ تو آدھے راستے ہی سے لوٹ گئے۔جبکہ دوسرے اپنی رفتار تیز کرتے ہوئے بعجلت قبرستان کی طرف بڑھنے لگے۔ اب وہ تقریباً دوڑ رہے تھے۔ جب وہ پہنچے تو قبر تیار تھی۔ انہوں نے تیز تیز مناجات گائی۔ پادری نے تابوت پر مقدس پانی چھڑکا۔ مٹی اور برف کے منجمد ڈھیلے قبر میں لڑھکائے اور اپنے اپنے گھروں کو چل دیے۔

    تومک نے سب لوگوں کو اپنے گھر مدعو کیا تھا کیونکہ عزت مآب پادری نے اس سے کہا تھا کہ اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو یہ مذہبی رسم پبلک ہاؤس میں غیر مذہبی انداز میں انجام پذیر ہو گی۔ اس دعوت کے جواب میں انتک نے اس پر لعنت بھیجی۔ وہ چاروں بشمول اگنات اور کسان سمولوج سرائے کی جانب مڑ گئے۔ انہوں نے چار جام شراب کے پئے، سموسے کھائے اور رقم کے لین دین کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ کمرے کی گرمی اور شراب کی حرارت نے انتک کو ہوش سے بیگانہ کر دیا۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا گھر کی طرف اس حالت میں آرہا تھا کہ اس کی بیوی نے اسے مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔ قرض ملنے کی امید میں ایک اور جام چڑھانے کی غرض سے سمولوج سرائے میں رک گیا لیکن اگنات سر پر پاؤں رکھ کر گھر کی طرف بھاگا کیونکہ اسے بہت سردی لگ رہی تھی۔

    انتک کہہ رہا تھا:

    ’’دیکھو تو   ...... ماں پانچ ایکڑ میرے ہیں   ...... میرے ، سنا تم نے؟ میں خزاں میں ان کھیتوں میں گندم کا بیج ڈالوں گا   ......جو کاشت کروں گا   ...... اور بہار میں آلو اگاؤں گا   ...... میرے ہوئے   ...... سب میرے   ...... مجھے   ......خدا کا سہارا   ...... وہ کہتا ہے   ......‘‘

    انتک نے یکایک گیت گانا شروع کر دیا۔

    طوفان میں اضافہ ہو گیا تھا۔ تیز ہوا کی چنگھاڑ سماعت سے ٹکرا رہی تھی۔

    ’’خاموش ہو جاؤ! گر پڑو گے اور سب کچھ یہیں انجام کو پہنچ جائے گا۔‘‘

    ’’ ...... اس کے فرشتے   ...... نگرانی   ...... پر مامور ہیں ......‘‘

    وہ کہتے کہتے ایک دم رک گیا۔ تاریکی گہری ہوگئی تھی۔ دو فٹ کے فاصلے پر بھی کچھ دیکھنا دشوار ہو گیا تھا۔ طوفان زوروں پر تھا۔ ہو اکا شور عروج پر پہنچ چکا تھا۔ میاں بیوی کو یوں گمان ہو رہا تھا جیسے برف کے پہاڑ ان پر گر رہے ہیں۔ جب وہ تومک کی جھونپڑی کے پاس سے گزرے تو مرحوم کی آخری رسومات کی آوازیں ان کی سماعت سے ٹکرائیں مگر وہ آگے بڑھ گئے۔

    ’’یہ کتے، کمینے! یہ لٹیرے! تھوڑا انتظار کرو۔ میں تمہیں اپنے پانچ ایکڑ دکھاؤں گا ...... پھر میرے پاس دس ہو جائیں گے   ...... تب تم مجھ پر رعب نہیں جما سکو گے   ...... کتے کی نسل! ...... آہا   ...... میں محنت کروں گا   ...... آہ   ...... ماں؟   ...... کیا ہمیں یہ مل جائیں گے؟‘‘

    اس نے اپنی چھاتی پر مکا مارتے ہوئے مخمور دیدے گھمائے۔ وہ اسی طرح بڑبڑاتا رہا۔ جب وہ گھر پہنچے تو بیوی نے اسے بستر پر دھکیل دیا۔ جہاں وہ کسی مردے کی طرح چت پڑا رہا مگر سویا نہیں۔ کچھ دیر بعد وہ چلایا:

    ’’اگنات! احتیاط سے۔‘‘

    اس کا لڑکا ڈرتے ڈرے آگے بڑھا مبادا باپ لات نہ رسید کر دے۔

    ’’اگنات! کتے، مردار! تم اول درجے کے کسان بنو گے   ...... دو ٹکے کے پیشہ ور اور بھکاری نہیں   ...... سمجھے!‘‘

    اول فول بکتے ہوئے اس کا ہاتھ بستر سے نیچے ڈھلک گیا۔

    ’’پانچ ایکڑ میری ملکیت ہیں ...... میرے ہیں   ...... کم بخت بدیشی   ...... تیری ایسی تیسی   ......‘‘

    وہ بڑبڑاتا رہا۔ حتیٰ کہ اسے گہری نیند نے آلیا۔