عماد الدین نسیمی

عماد الدین نسیمی

نظم

    ترجمہ: انعام اللہ جرال

     

    میرے اندر آباد دو جہاں، پہلو بہ پہلو

    لیکن پھر بھی میرے قیام کے لیے جگہ تنگ

    جنت دوزخ میرے اندر قید و بند

    میں کیا ہوں یہ بیان کرنا دشوار

    فطرت سے میں ماخوذ، اس کا حصہ،

    جب تم میرے بارے میں باتیں کرتے ہو تو علیحدگی کا انحراف نہیں

    اندازے گمراہ کر دیتے ہیں، قیاس و قیافہ کچھ بھی نہیں مگر غلطی

    میرا زیادہ تر روپ، نقشہ اور سکون تم اپنی طرح کیوں نہیں سمجھتے

    جبکہ میری ایک صورت ہے، حکم ماننے والا اور روح بھی

    دنیا کے تمام خزانوں کی دولت ایسی نہیں جو میری ملکیت نہ ہو

    موتی، لعل و گوہر، انتہائی قیمتی ریشمی نمونے سب میرے ہیں

    بڑے، چمکدار، نایاب قیمتی پتھر میرے اندر پوشیدہ

    دولت کی اس قدر بھاری فصل میرے اندر کہ شمار نہیں

    آدمی میرا شریفانہ نام، میں سینائی پہاڑ ہوں

    یہ زندگی اور آخرت، یہ دنیا اور لا محدود آسماں یہ سب میرے ہیں

    میں ہی کرۂ ارضی ، میں ہی عالم ارواح اور میرا ہی یہ تصور

    ندی نالوں کے کناروں سے بہنے والا پانی یہ سب میرے ہیں

    یہ ستارے، یہ خاموش اجرام سماوی اور قسمت یہ سب میرے اعضاء ہیں

    کوئی چپ، کوئی زبان پوری سچائی کے ساتھ میرے خیالوں کی تصویر کشی نہیں کر سکتی

    میں وہ سنہرا سورج جس کی شان و شوکت کبھی زوال پذیر نہیں ہوتی

    میرا صرف لفظوں میں ذکر اذکار نہ کرو، میں یہ سب زنجیریں توڑ دوں گا

    میں بہت بھاری آدمی ہوں جس کی عزت و توقیر تم پر لازم ہے

    میں ایک ایسی سخت شیرینی ہوں جسے بچوں کے دانت بھی چبا نہیں سکتے

    میں توڑے دار بندوق ہوں جو سپاٹ روشنی کا شعلہ ہے

    میرے اس دعوے کو آگ کے یہ شعلے بھی بھسم نہیں کر سکتے

    میں عشق کا فوارہ ہوں، جو مٹی اور زندگی کا باعث ہے

    لیکن میں اس سے بھی کچھ اور ہوں، زندگی کے چار دنوں میں

    دونوں شباب اور بڑھاپا میں خود اور ان کی تمام دولت سے مرصع ہوں

    میرے خزانے اتنے بڑے اور وسیع ہیں کہ آئینے بھی چغلی نہیں کھاتے

    اگرچہ نسیمی شہرت ہے، اور شریفانہ اس کا نام لیکن

    پھر بھی اس کے اندر کا آدمی اس کی شہرت و دولت سے زیادہ معروف ہے