عماد الدین نسیمی

عماد الدین نسیمی

نظم

    ترجمہ: انعام اللہ جرال

     

    کیا ضرورت ہے مجھے تخت کی

    کیا ضرورت ہے مجھے تاج کی

    زمینوں اور قلعوں کی

    مجھے بتا اے محبت،

    کیا ضرورت ہے میرے سینے میں دھڑکنے والے دل کی

    تم اور میں جدا ہوں اگر

    مجھے بتا اے محبت،

    اضطراب و بے قراری کی ایسی آگ ہو تم

    جس کے پاس میں جل کر بھسم ہو جاتا ہوں

    مجھے بتا اے محبت،

    تم میرے زخموں کا مرہم ہو فرحت بخش،

    میں تیرے پہلو میں از سر نو زندہ ہو جاتا ہوں

    مجھے بتا اے محبت،

    محبت مسرت کا ایک انمول پتھر ......

    کوئی مسلمان اس سے انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا

    مجھے بتا اے محبت،

    ہمارے جینے کی کیا ضرورت ، اگر

    تم، میں، دونوں جدا ہوں، محبت؟

    مجھے بتا اے محبت،

    تمہاری محبت کے عہد و پیمان کے لیے

    میں اپنے خالق کے سامنے سربسجود

    ہو کر دعائیں مانگتا ہوں

    مجھے بتا اے محبت،

    لیکن اگر میرے خواب فضا میں ہی بھسم ہو جائیں

    تو میری دلی دعائیں مانگنا بے سود، محبت

    محبت میری مر چکی، اب رونا، سوگ منانا فضول

    او نسیمی!

    اگر محبت مر چکی ہے تو میں زندہ کیسے رہ سکتا ہوں،

    تو پھر آنسو ہیں بیکار، او نسیمی!