پیٹر گولڈس وردی

پیٹر گولڈس وردی

ایک نظم

    ترجمہ: طالب حسین اشرف

     

    چھما چھم بارش

    جس سے چند لمحوں میں

    نشیبی علاقے پھر جاتے ہیں

    اور

    گٹروں سے پانی باہر ابل کر کھیتوں، کھلیانوں اور گلی کوچوں کو جل تھل کر دیتا ہے

     

    ہم ایک کھلی کھڑکی میں کھڑے

    سوتے جاگتے، خالی الذھن اور خالی الشکم، بارش کی بے ہنگم آواز

    کے ساتھ اندھیرے کی آڑی ترچھی تارو پود کے بارے میں سوچ رہے ہیں

     

    ہمارے کان خاموش اندھیرے میں سننے کے لیے

    اور ہمارے ناک گھپ اندھیرے میں ماحول کو سونگھنے کے لیے کوشاں ہیں

    لیکن بارش ہے کہ

    چھما چھم

    آسمان سے زمین پہ برس رہی ہے

    اور زمین سے اٹھنے والی مٹی کی خوشبو نے ہمیں دوبارہ اپنے بازوؤں میں جکڑ لیا ہے

    کہ ہماری اس سے محبت بڑھتی چلی جا رہی ہے

    تم بچپنے کی بھولی بھالی باتیں یاد کرو

    جب ہم کاغذ کے ایک صفحہ کو   بار بار بند کرکے کھولتے اور پھر بند کر دیتے

    لیکن کتاب زیست

    جو کہ بہت ہی مختصر اور ضخیم ہے

    ورق ورق ہونے سے محفوظ ہے

    اور باغ کی خوشبو نے ایک پر اثر طاقت کی طرح اوڑھ لیا ہے

    اور ہم باغ حیات میں شبنم کے سیمیں قطروں کی عظمت اور حرمت

    کی تازگی محسوس کرتے ہیں

     

    پھر اچانک بارش کی ایک تیز بوچھاڑ زمین پر آتی ہے

    اور زمین کی پرت در پرت تہوں سے موعود ہونے والی ان دیکھی خوشبو

    میں ہم لوٹ پوٹ ہو کر سرشار ہو جاتے ہیں