ناظم حکمت

ناظم حکمت

بالکونی

    ترجمہ: ادیب سہیل

     

    کروٹ ورنا میں، میں بلقان ٹورسٹ کی بالکونی سے

    باہر دیکھ رہا ہوں:

    راستہ، درختوں کا سلسلہ

    اس سے آگے ریگ زار

    اس سے پرے آسمان اور سمندر ہو گا

    نہیں

    نہ سمندر ، نہ آسمان

    ریت سے پرے صرف روشنی

    روشنی کا نا مختتم تسلسل ......

    اور ہوا میں گلاب کی خوشبو

    جو قوت شامہ کو بھڑکاتی ہے

    کہیں گلاب نظر نہیں آتے

    مگر میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ وافر ہیں، اور سب کے سب سرخ

    پولش سیاح ہجوم کی صورت میں ساحل پر اترے ہوئے ہیں

    سنہری بالوں والے، گلابی اور نیم برہنہ

    ایک ابابیل سر پر ناچتا ہے!

    اس کے سر پر سیاہ اور سینہ سفید ہے

    وہ ذرا برابر بھونرے سے مشابہت نہیں رکھتا

    لیکن پھر بھی بھونرے ہی جیسا ہے

    پل میں نظر آتا ہے اور پل میں غائب

    جیسے ہی وہ غوطے لگاتا اور پرواز کرتا ہے

    اپنے نغمے میں سرشار ......

    ’’کاسک‘‘ ایک نیلے پیالے میں

    انہوں نے ’’پنیر ہائیڈ‘‘ ڈالا

    ایسا محسوس ہوا کہ میں استنبول میں ہوں

    انہوں نے ’’پنیر ہائیڈ‘‘ دیا

    تل کے ساتھ، نرم و گرم

    ورنا کے اس گرم دن میں تمام بڑے الفاظ سے الگ تھلگ

    بہت بیمار اور طویل جلاوطنی کے مارے کے لیے

    یہ خوشی بہت ہے کہ وہ زندہ ہے