انا اخمتووا

انا اخمتووا

شام

    ترجمہ: ادیب سہیل

     

    شال کے اندر میں نے ہاتھ باندھ رکھے تھے

    میں آج رات اتنی پژمردہ کیوں نظر آتی ہوں؟

    اس لیے کہ میں نے بے   مقصد غم کا زہریلا گھونٹ پلا دیا ہے

     

    کیا میں بھول سکتی ہوں؟

    وہ لڑکھڑاتا ہوا نکلا

    اس کے ہونٹ بھنچے ہوئے تھے

    میں دیوانہ وار فوراً سیڑھی سے نیچے کی طرف بھاگی

    اور گلی میں اس کا تعاقب کیا

    میں چیخی! ’’رکو، میں تو مذاق کر رہی تھی

    مجھے چھوڑ کے نہ جاؤ، میں مر جاؤں گی‘‘

    اور وہ !

    وہ سراسیمگی اور سرد مہری سے مسکرایا

    اور بولا ...... ’’ہوا کی رہ گزر میں مت کھڑی ہو‘‘